No Download Link
Rate this Novel
Episode 49
زوہان نیچے سب سے اٹھتا چہرے پر دلکش مسکراہٹ سجائے کمرے میں جانے کو بےتاب تھا دل میں بہت کچھ سوچتے اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا سامنے کا منظر دیکھتے ان سب پر سیلاب پھر گیا تھا کیونکہ سامنے ہی تعبیر سادہ سے کاٹن کے سوٹ میں میک اپ سے عاری چہرہ لیے ریلیکس سی بیڈ پر لیٹنے کے انداز میں آنکھیں موندے بیٹھی تھی
“یہ کیا کیا تم نے۔۔۔۔؟”
وہ بامشکل خود کے غصے کو ضبط کئیے بولا تھا ھو اس کی حرکت سے ساتویں آسمان پر تھا اس کی غصے بھری آواز سنتے اس نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں تھی
“کک-کیا ہوا۔۔۔۔۔۔؟”
اس نے اس کے غصے سے سرخ چہرے کی جانب دیکھتے ہلکلا کر پوچھا تھا
“کس کی اجازت سے تم نے کپڑے تبدیل کئیے سور میک اپ اتارا ہے۔۔۔۔”
وہ ایک ایک لفظ چباتے بولی تو اسے اپنی غلطی کی سنگینی کا احساس ہوا تھا کیونکہ وہ اس کے ارادوں پر پانی بہانا چاہتی تھی لیکن اس نے یہ سوچا ہی نہ تھا وہ اس ودر غصہ ہو گا
“مم-مجھے الجھن۔۔۔۔”
“الجھن گئی بھاڑ میں کیا میں نے تم سے اپنی خواہش کا اظہار نہیں کیا تھا کہوں جان بوجھ کر یہ حرکت کی۔۔۔۔”
اس کی بات بیچ میں ٹوکتا وہ دھاڑا تھا تو اس نے چہرہ جھکائے سختی سے آنکھیں میچیں تھیں
“اٹھو ابھی۔۔۔”
وہ چہرے پر ہاتھ پھیرے خود کو کمپوز کرتے بولا تو اس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
“تیس منٹ ہیں تمہارے پاس اٹھو اور وہی کپڑے پہن کر میک کرو تیار ہو جاو میرے لیے ابھی اور اسی وقت اٹھو۔۔۔۔”
اس کی بات سنتے اس نے بےبسی سے زوہان کو دیکھا تھا اس کا کیا اس پر ہی الٹا پڑ جائے گا اس نے کبھی سوچا نہ تھا
“زوہان پلیز۔۔۔۔”
وہ منمنائی تھی
“دو سیکنڈ میں اگر نہ اٹھی تو میں خود آجاوں گا اور بنا تمہاری کسی مزاحمت کو خاطر میں لائے خود چینج کرواؤں گا بتا رہا ہوں اور یقیناً میری اس دھمکی کو تم ہلکے میں نہیں لو گی۔۔۔”
اس کا لہجہ دھمکیوں سے بھرپور تھا
مرتا کیا نا کرتا کہاوت کے زیر اثر وہ بیڈ سے اٹھی تھی اور الماری کی جانب کپڑے لینے کے کیے بڑھی تھی جب کہ زوہان واسکٹ اتار کر اسے گھوریوں کی زد میں رکھتے بیڈ پر بیٹھ گیا تھا وہ کپڑے لیتی واشروم میں گھسی تھی جب کہ دروازہ زور سے مارنا نا بھولی تھی زوہان کے لب مسکرا اٹھے تھے
“تیس منٹ سے ایک منٹ اوپر نہ ہو۔۔۔۔”
اس نے باہر سے ہانک لگائی اور خود بالکونی والی سائیڈ پر چلا گیا تھا
“بدتمیز زوہان گندی شکل والا۔۔۔۔”
وہ واشروم میں غصے سے کڑتی اس کو مختلف القابات سے نواز رہی تھی
………………………………
وجدان بیڈ پر لیٹا کب سے عالیاب کو چیزیں ادھر ادھر پٹختے دیکھ رہا تھا غصہ اس کے چہرے سے عیاں ہو رہا تھا
“کیا ہوا ہے زوجہ محترمہ۔۔۔۔”
وہ ایک بازو سر کے نیچے رکھتے بولا تو اس نے محض اس کو گھورنے پر اکتفا کیا اور واپس چیزیں پٹخنے لگی تھی اس نے ابھی تک اپنا حجاب بھی نہیں کھولا تھا
“ادھر آو مت کھولو حجاب میں خود اتاروں گا۔۔۔۔”
اس کو حجاب کی پنز اتارتے دیکھ وہ بولا تھا لیکن وہ ان سنی کرتی حجاب اتار چلی تھی
“عالیاب سنائی نہیں دے رہا۔۔۔۔”
اب کہ وہ سنجیدگی سے بولا تو اس نے نفی میں سر ہلایا اور جوڑا کھولا کہ اس کے خوبصورت بال اس کی پشت پر بکھر گئے تھے
وہ بیڈ سے اٹھتا اس سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہوا تھا
“کیا ہوا ہے کیوں ایسے کر رہی ہو پاس کیوں نہیں آئی میرے۔۔۔۔؟”
اس نے ماتھے پر بل ڈالے کہا
“روحا آپی کو پاس آنے کا کہیں جس کے منہ میں گلاب جامن ڈال رہے تھے۔۔۔”
غصے سے کہتی واشروم کی جانب مڑی تھی اس کی بات سنتے وجدان کے ماتھے کے بل غائب ہوئے تھے
“اچھا تو میڈم اس وجہ سے غصے میں ہے۔۔۔”
خود سے بڑبڑاتا اس سے پہلے وہ واشروم میں گھستی وجدان اسے بازو سے پکڑتا قریب کر چکا تھا
“خفا ہو گئی اس بات پر۔۔۔۔؟”
اس نے محبت سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا کہا
“اگر میں کسی اور کے منہ میں ایسے گلاب جامن ڈالتی پھروں تو آپ کو کیسا فیل ہو۔۔۔؟”
اس نے اپنے بالوں سے اس کی انگلیاں نکالنا چاہیں جس کی گرفت اس کی بات سنتے تھوڑا مضبوط ہوئی اور بالوں سے اس کا چہرہ اٹھائے اپنا چہرہ قریب کیا تھا
“تم ایسا کرو تو سہی زرا ایک دفعہ۔۔۔۔”
وہ آہستہ سے بولا
“آپ کو سن کر ایسا فیل ہو رہا ہے تو سوچیں مجھے کیسا فیل ہوا ہو گا بےشک وہ اب رشتے دار ہیں لیکن اس بات کی اجازت ہر گز نہیں دوں گی میں سمجھے آپ۔۔۔۔”
وہ اس کے سینے سے اس کا کڑتا مٹھیوں میں دبوچتے بولی
“مزاق کیا تھا بس۔۔۔۔”
اس نے اس کی آنکھوں میں مچلتی جلن کو دیکھتے اس کے بال سہلائے کہا تھا
“ایک بار ایسا مزاق میں بھی کرنا چاہوں گی۔۔۔۔”
“عالیاب۔۔۔۔۔”
وجدان نے تنبیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا جس کی آنکھیں نم تھیں
“سمائیل کرو۔۔۔۔”
“بات مت کریں۔۔۔”
اس نے خفگی سے منہ پھیرا تو وجدان نے اگے بڑھتے اس کو گلے سے لگایا تھا(رمضان کا احترام ہے ورنہ ڈیش ڈیش 🙈) وہ اس کے گلے سے لگی دل میں اٹھتے درد کو کم ہوتا محسوس کر رہی تھی سور وہ اس کی گردن میں منہ چھپائے ایک ہاتھ اس کی کمر کے گرد باندھے تو جب کہ دوسرے ہاتھ سے اس کے بالوں کو سنوار رہا تھا
………………………………
شافع بیڈ پر لیٹا موبائل میں آج ہی وجدان سے لیے روحا کے نمبر کے ہر ہندسے کو دیکھتا بار بار دہرا رہا تھا
“روحا بےبی۔۔۔۔”
شافع نے ہنستے ہوئے اس کا نمبر اس نام سے سیوو کیا اور آگے آنکھ مارنے والا ایموجی بھی لگایا تھا دل کیا اس کو کال ملا کر ڈسٹرب کرئے تھوڑا پھر سوچا ایک ہی دن میں اتنا ٹھرک پن کافی ہے لیکن دل رھا کہ شرارت پر آمادہ تھا
شافع نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے اس کو کال ملا چکا تھا دوسری جانب سے تیسری بیل پر اٹھا لیا گیا تھا
“ہیلو کون۔۔۔؟”
اس کی آواز سنتے اس نے گہرہ سانس لیا اور بار بار ماتھے پر گرتے بالوں کو جھٹکا دے کر پیچھے کرتے سر پیچھے بیڈ کی پشت سے ٹکایا تھا
“ہیلو کون بولو تو سہی بتاو کون۔۔۔۔؟”
اس کا یوں پوچھنا اس کے ہونٹوں پر تبسم پھیلا رہا تھا
“اگر بولنا نہیں تھا تو کال کیوں کی تھی….”
اب کہ غصے بھری آواز گونجی تھی
“کہ مبادا کہیں آپ میری آواز سنتے فون نہ کاٹ دیں اسی لیے منہ کو بند رکھنا مناسب سمجھا۔۔۔۔۔”
اس کی آواز سنتے وہ پہنچاننے کی کوشش کرنے لگی
“کون۔۔۔۔؟”
وہ ابھی بھی پہچان نہ سکی تو بولی تھی
“اس بندہ ناچیز کو شافع کہتے ہیں۔۔۔۔”
وہ ایک ادا سے بولا روحا نے اپنے دماغ پر زور ڈالا تو یاد آنے پر دانت کچائے تھے
“تم۔۔۔۔”
وہ ایک دم سے بیڈ سے اچھلی تھی
“ہاں معلوم ہے میں خوبصورت ہوں تم تو ایک ملاقات میں میری گرویدہ ہو گئی ہو۔۔۔۔”
وہ مسکراہٹ دبائے بولا
“شٹ اپ۔۔۔۔”
وہ پھر سے چلائی تھی
“شٹ کبھی بھی اپ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔”
“واٹ۔۔۔۔؟”
اس کی بےتکی سی بات پر وہ دوبارہ سے الجھی تھی
“دیکھیں یوں انگلش سے مجھے گھائل نہ کریں میری انگلش اتنی ہائی نہیں کہ میں بھی واپسی میں انگلش میں جواب دوں۔۔۔۔”
اس کی باتوں پر اس کا سر چکرا گیا تھا اس نے بےاختیار اپنا سر تھاما تھا
“کیونکہ میری انگلش اتنی اوٹ سٹینڈنگ آئی مین اپر لیول نہیں ہائی نہیں یار آپ بتائیے گا اسے اردو میں کیا کہتے ہیں۔۔۔۔؟”
اس نے اپنا لہجہ سنجیدہ بنانے کی کوشش کرتے کہا لیکن اگلی جانب سے کھڑک سے فون بند ہو گیا تھا جب کہ یوں فون بند ہونے پر شافع کا قہقہ گونجا تھا
“روحا حسن اوففف۔۔۔۔”
وہ موبائل بیڈ پر پھینکتا ہنستے ہوئے اوندھے منہ لیٹتے اسے تصور میں لاتے آنکھیں موند گیا تھا
………………………………
زوہان واپس کمرے میں آیا تو تعبیر شیشے کے سامنے کھڑی حجاب کر رہی تھی اس نے زیادہ ہیوی میک اپ نہ کیا تھا لیکن جتنا بھی کیا تھا اس کے حسن کو چار چاند لگا رہا تھا زوہان مسکراتا ہوا اس کے پیچھے گیا جس ںے خفگی سے اسے دیکھتے چہرہ موڑ لیا تھا
“بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔”
وہ اس کو پیچھے سے ہگ کرتے تھوڑی اس کے کندھے پر ٹکائے بولا تعبیر کو آنے والے لمحے کسی صورت خیر کے نہیں لگ رہے تھے
“حجاب کی کیا ضرورت تھی جاناں۔۔۔۔”
وہ دھیرے ڈے پنز اتارتے بولا
“آپ٫ آپ نے ہی کہا تھا۔۔۔۔”
وہ آنکھیں سختی سے بند کرتی بولی
“اتنی پابند میری ۔۔۔۔۔۔”
وہ ہولے سے ہنستے ہوئے بولا
اور پھر اگلے ہی لمحے وہ اسے باہوں میں بھرتا گود میں اٹھا چکا تھا اس نے سختی سے اسے شانوں سے دبوچا تھا اور کمرے سے باہر نکلا تھا
“زوہان کہاں لے کر جا رہے ہیں اتاریں کوئی دیکھ لے گا۔۔۔۔۔”
وہ آہستہ آواز میں اس کی گرفت میں مچلتے بولی تھی
“ششش خاموش کوئی نہیں دیکھے اگر دیکھے بھی تو فرق نہیں بیوی ہو میری۔۔۔”
وہ زینے اترتا اس کے شرمائے گھبرائے چہرے کو دیکھتے بولا تھا تو وہ خاموشی سے اردگرد دیکھنے لگی اس نے گاڑی کے قریب لاتے اسے نیچے اتارا تھا اور اس کے لیے دروازہ کھولا تو وہ تھوڑا ہچکچاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھی تھی جب کہ زوہان نے دوسری جانب آتے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تھی اور گاڑی گیٹ سے باہر کرتی روڈ پر دوڑا دی تھی
………………………………
داور شراب کے نشے میں چور بیٹھا ایک خبر کا منتظر تھا کہ اس کا آدمی دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا
“کیا ہوا کوئی خبر۔۔۔؟”
اس نے بےچینی سے پوچھا تو سر نے نفی میں سر ہلایا
“آہہہہہہہہ۔۔۔۔۔”
وہ چکاتا ٹیبل پر موجود سب شراب کی بوتلوں کو نیچے گرا چکا تھا
“تم کمبختوں سے ایک کام نہیں ہو سکا تم لوگ یہ نہ پتا لگا سکے کہ کاکا ذندہ ہے یا مر گیا۔۔۔۔”
وہ غصے سے چلایا تھا
“سر باقی آدمی مارے گئے تو کاکا بھی مارا گیا ہو گا۔۔۔۔”
وہ ہمت کرتا بولا تھا
“بکواس بند کرو اپنی۔۔۔۔”
وہ دھاڑا تھا
“اگر وجدان باقی سب کی لاش بھیج سکتا ہے تو کاکا کی کیوں نہیں بھیجی اگر اسے بھی مار دیا ہے تو کم عقل رہنا تم سب۔۔۔۔”
اس کا بس نہیں چل رہا تھا اس بندے کو شوٹ کر دے
“پتا کرو اگر وہ زندہ ہے تو سب راز سے واقف ہے ضرور وجدان اگلانے کی کوشش کر رہا ہو گا اگر زندہ ہے تو مار دو اسے اگر مر گیا ہے تو لاش چاہیے مجھے اس کی ورنہ مجھے سکون نہیں آئے گا۔۔۔۔”
وہ سر تھامے بولا تھا
“دفع ہو جاو اب کیوں کھڑے ہو یہاں۔۔۔”
اس کو یوں کھڑے دیکھ وہ منٹ کی رفتار سے وہاں سے غائب ہوا تھا اور پیچھے ہو روز کی طرح وجدان کو ہزار بدعائیں دینے لگا تھا
………………………………
زوہان نے اپنی مطلوبہ جگہ پر گاڑی روکتے باہر نکلا اور اس کی سائیڈ جا دروازہ کھولا تو وہ باہر نکلتی سامنے کے منظر کو مبہوث ہوتے دیکھنے لگی
سامنے سمندر کی بےقرار ہوتی لہریں اور ان کے برابر میں پورے آب و تاب سے چمکتا چاند جس کی روشنی ان لہروں پر پڑتی تو وہ مچل اٹھتی تھیں وہ چاند ایسے لگتا جیسے سمندر میں موجود ہو اور وہاں سے باہر کی دنیا کو روشنی بخش رہا ہو یہ قدرتی منظر اس کے دل کو مکمل طور پر بھا گیا تھا
“اس میں میرا کوئی کمال نہیں شاید اللہ بھی چاہتا تھا ہمارے دل مل جائیں اس کی طرف سے یہ تحفہ ہو۔۔۔۔”
اس کے پیچھے موجود زوہان نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کرتے اس کے کان کی لو کو چوما تھا اور تعبیر کو ایسے لگا جیسے سمندر کی لہریں اب اس کے دل میں ٹھاٹھیں مارنے لگ گئیں ہوں
“تعبیر آئی لو یو۔۔۔۔”
وہ اس کے ٹھنڈے ٹھار ہوتے ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیتے اس کی گردن پر اپنے لب رکھ چکا تھا
“زوہان۔۔۔۔”
اس کا نرم گرم لمس محسوس کرتے وہ بےقرار دھڑکنوں کے درمیان پکار گئی تھی
“میں چاہتا ہوں آج سب دوریاں ختم ہو جائیں صرف تم اور میں ہوں اور یہ داد دیتی رات۔۔۔”
اس کا رخ اپنی جانب کئیے اسے کے ماتھے پر لب رکھتے بولا تھا وہ آنکھیں بند کئیے اس کے لمس کو محسوس کرتی اپنے دل میں اتار رہی تھی اور اس کے سینے پر ہاتھ رکھے مزید اس کے قریب ہو گئی تھی سور وہ جابجا اپنا لمس اس کے چہرے پر چھوڑنے لگا تعبیر کی تیز ہوتی سانسیں اسے مزید بہکا رہیں تھی
“چلو میرے ساتھ۔۔۔۔”
وہ پیچھے ہوتا اپنے جذباتوں کو فلوقت تھوڑا قابو میں کرتے بولا تھا
“کہاں۔۔۔۔؟”
وہ اس کا بازو تھامے بولی تھی
“چلو سرپرائز۔۔۔۔”
وہ اس کے کان کے قریب پونک مارتے بولا تو وہ مسکرائی اور سمندر کے کنارے چلنے لگے تھے اور پھر وہ سامنے جگمگاتی روشنیوں کی جانب مڑ گئے تھے اور ایک فارم ہاوس کے اندر گئے تھے
“السلام و علیکم سر کل ایک بکنگ کروائی تھی زوہان مصطفی کے نام کی۔۔۔۔”
وہ وہاں موجود فارم ہاوس کے مالک سے پوچھنے لگا جس نے اسے راستہ بتایا تو وہ تعبیر کو لیتے اپنے مطلوبہ روم کی جانب گیا تھا وہ کمرے میں داخل ہوئے تو پورے کمرے میں اندھیرا تھا
“زوہان کہاں پر لائے۔۔۔۔”
ابھی وہ اتنا ہی بولی کہ زوہان نے لائٹر جلایا تھا لائٹر سے نکلنے والی آگ کو اس نے تعبیر کے چہرے کے تھوڑا قریب کرتے اس کا خوبصورت چہرہ دیکھا تھا
“ہماری رات خوبصورت بنانے لایا ہوں۔۔۔۔”
وہ یہ کہتا وہاں قطار میں موجود موم بتیوں کو جلانے لگا وہ جیسے جیسے موم بتیاں جلا رہا تھا کمرے میں روشنی پھیل رہی تھی وہ اس قطار میں جلتی ان موم بتیوں کو دیکھ رہی تھی وہ موم بتیاں جلاتا اس کے قریب ایا اور لائٹر دو اچھالا تھا
“میں چاہتا ہوں ان موم بتیوں سے نکلنے والی آگ کی ہر لپٹ ہماری محبت کی گواہ ہو جیسے جیسے یہ پگھلے گی ویسے ویسے میں تمہیں اپنی محبت اپنے لمس میں پگھلانا چاہتا ہوں۔۔۔”
وہ نرمی سے اس کے لبوں پر اپنا لمس چھوڑتے بولا تھا
“میں تمہیں اپنے لمس سے سکون بخشنا چاہتا ہوں دیکھنا چاہتا ہوں کتنی بےقرار محبت ہے میری۔۔۔”
وہ اسے نرمی سے اٹھاتے بیڈ پر لیٹاتے بولا تھا اور دوپٹہ اس کے تن سے جدا کر چکا تھا وہ تو موم بتیوں کے پگھلنے سے پہلے ہی اس کے رنگ میں پگھل چکی تھی زوہان خود کی قمیض اتارتا اس کی گردن پر جھکا تھا اور پھر دھیرے دھیرے وہ اس پر مکمل طور پر قابض ہو چکا تھا
جب کہ اس کی محبت میں وہ رشک کرتی خود کے اندر ایک سکون اترتا محسوس کر رہی تھی اور مکمل اس کو سپردگی دیتے خود کے قریب تر کر گئی تھی وہ بھی پگھلتی موم بتیوں سور گزرتی رات کی طرح اس پر اپنا سحر پھونک رہا تھا
………………………………
السلام و علیکم انجوائے کریں قسط اور کل نیو انٹری کا پوچھنا بھول گئی تو بتائیں کیسی لگی نیو انٹری❤️آج دل بہت دکھی اور اداس ہے پوری کوشش کی کہ قسط پر مکمل دھیاں دوں لیکن نا دے سکی پھر بھی بہترین الفاظ لکھنے کی کوشش کی ہے🙃🥀
