Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 53

وجدان گھر ہی موجود تھا اس کو ایک مہینے کے لیے جاب سے بےدخل کر دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ پہلے مینرز تمیز سیکھی جائے جس کے جواب میں اس نے کہا تھا ایک سال کے لیے بےخل کرو یا دس سال کے لیے وہ جیسا ہے ویسا ہی رہے گا اور ویسے بھی وجدان کو اس کی زرا فکر نہ تھی بلکہ وہ خوش تھا کہ گھر ٹائیم سپینڈ کر لے اور سوچ رہا تھا عالیاب کو لے کر کہیں گھومنے چلا جائے

وجدان چائے کا کپ کچن سے لیتا روم میں آیا اور بالکنی میں کھڑا ہوتا باہر کی تازہ ہوا کو گہرہ سانس لیتا اندر کھینچنے لگا کہ نظر سامنے درخت کے نیچے گھاس پر بیٹھے زوہان پر گئی جو بیٹھا ناجانے کون سی سوچوں میں گم تھا تعبیر ڈیوٹی کے لیے جا چکی تھی شاید اسی لیے وہ اکیلا یہاں بیٹھا تھا

“زوہان کو کیا ہوا یہ ایسے کیوں بیٹھا ہے۔۔۔؟”
وہ خود سے بڑبڑایا تھا اور واپس روم میں ایا اس جا ارادہ گارڈن میں جانے کا تھا
“لیکن اگر تعبیر کو معلوم ہوا کہ میں پھر سے زوہان کے ساتھ تھا تو کہیں وہ زوہان کو ہرٹ نہ کر دے۔۔۔۔”
وجدان کے زہن میں اچانک اس کی باتیں آئیں تھی اسے یہ فرق تو نہیں تھا کہ تعبیر کیا کہتی کیا سوچتی لیکن اسے یہ ضرور فرق تھا کہ کہیں وہ اس کی وجہ سے اس کے بھائی کا دل نہ دکھا دے یہی سب سوچتے اس نے آنکھیں موندتے منہ سے ہوا خارج کی تھی
پھر وجدان کو اپنا رویہ بھی یاد ایا تو ڈھیروں شرمندگی نے آن گھیرا تھا جو بھی اسے یوں اس کا منہ نہیں دبوچنا چاہیے تھا لیکن یہ سوچ کر اس نے اپنی شرمندگی مٹانی چاہی کہ اس کے الفاظ بھی برداشت سے باہر تھے

“جاوں یا نہ جاوں کہیں وہ بہت زیادہ پریشان نہ ہو۔۔تعبیر بھی تو نہیں جس سے پریشانی شئیر کر سکے لیکن کہیں تعبیر اوف۔۔۔۔۔”
وہ خود سے سوچتا کمر پر ہاتھ ٹکائے زمین کو دیکھا تھا

“بھاڑ میں جائے تعبیر میرا بھائی تکلیف میں ہو گا تو میں کیسے پیچھے رہ سکتا ہوں وہ پہلے ایسے کبھی نہیں ہوا ضرور ابھی کوئی پریشانی ہو گی۔۔۔۔”
یہ خود سے بڑبڑا کر آخر فیصلہ کرتا روم سے نکلا تھا

نیچے گارڈن میں آیا تو زوہان ویسے ہی بیٹھا تھا وجدان دھیرے سے اس کے پاس بیٹھا تھا
“کیا ہوا ہیرو۔۔۔۔؟”
اس نے یوں اداس پریشان بیٹھنے کی وجہ پوچھی تھی وہ ایک دم سے چونکا اور اس کو دیکھا وہ جو گھاس کو دیکھتے ناجانے کون سی رسرچ کر رہا تھا کہ اس کی موجودگی کا احساس نہ ہو سکا

“کیا ہوا زوہان۔۔۔۔؟”
اس نے اس کو بازو سے ہلاتے ہوئے کہا
“وجدان ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔؟اس نے گہرا سانس بھرتے کہا تو وہ اس کی جانب مکمل متوجہ ہوا
“غلط مت سمجھنا لیکن اگر کبھی عالیاب تجھے عالیاب میں سے اور مجھ میں سے کسی ایک کو چننے کو کہے تو تم کسے چنو گے۔۔۔۔”
یہ شاید تعبیر کی باتوں کا اثر تھا کہ وہ زندگی میں پہلی بار اپنے بھائی کی محبت پر شک کرتا یہ پوچھ بیٹھا تھا جس نے وجدان کی روح تک گھائل کر دی تھی

“کیا ایسا تعبیر نے تم سے کہا ہے۔۔۔؟”
اس کی بات پر اس نے نظریں چرائیں تھی
“تم وہ کرو جو تعبیر کہتی ہے تم خوش رہو میرے لیے یہی کافی ہے۔۔۔۔”
وہ ضبط کی انتہا پر بولتا اس کی طرف دیکھنے سے گریز کر رہا تھا زوہان اس کی بات سنتے سختی سے آنکھیں میچتے انکھوں میں درد بنتے آنسووں کو روکا تھا

“وجدان۔۔۔۔۔”
وہ اس کی جانب پلٹا تھا
“میری فکر مت کر تو میرا بھائی تھا بھائی ہے بھائی رہے گا کوئی چیز ہمیں الگ نہیں کر سکتی موت کے علاوہ جو بھی ہو جائے تو مجھے ہمیشہ اپنے ساتھ پائے کا ہر مشکل ہر مصیبت میں۔۔۔۔”
وجدان جانتا تھا زوہان بےبس ہو چکا تھا وہ نہیں جانتا تھا کیا کرے اور وجدان نے دل پر پہاڑ سے بھی بڑا پتھر رکھتے اس سے کہا تھا تو وہ سامنے دیکھنے لگا

“مجھے ایک مہینہ چھٹیاں ہیں عالیاب کے اگزامز ختم ہوتے ہی میں عالیاب کو لے کر یہاں سے چلا جاوں گا ایک مہینے کے لیے تب تک تعبیر بھی ٹھیک ہو جائے گی اور ہم بھی ہنی مون منا آئیں گے۔۔۔”
اس نے اپنی پلیننگ بتائی تھی
“وہ تم سے اس قدر نفرت کیوں کرتی ہے۔۔۔؟”
اس نے زہن میں اٹھتا سوال کیا تھا
“پتا نہیں وجہ معلوم ہوتی تو شاید اس کو کلئیر کر دیتا۔۔۔۔”
اس نے کندھے اچکائے تھے اور اس سے پہلے زوہان کچھ بولتا آبریش کی آواز ان کے کانوں میں پڑی تھی دونوں بنا ایک دوسرے سے مزید بات کئیے خاموشی سے اٹھ گئے تھے
………………………………
تعبیر کے علاوہ سب لوگ لاونچ میں بیٹھے چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے سعد بھی کچھ دیر پہلے ہی گھر آیا تھا جب کہ عالیاب پارس اور دعا بھی یونیورسٹی سے کچھ دیر پہلے گھر آئے تھے

“عالیاب وجدان ابھی بتا رہا تھا کہ جب تک چھٹیاں ہیں اسے گھومنے جاو گے تم لوگ۔۔۔۔”
پریہان نے اسے چائے کا کپ تھامتے ہوئے کہا
“سچی سکندر۔۔۔؟”
وہ خوشی سے اچھلی تھی
“ہاں جب تمہارے اگزامز ختم ہو جائیں باہر کہیں جائیں گے گھومنے۔۔۔۔”
وہ چائے کا کپ ٹیبل سے اٹھائے بولا تو وہ مسکراتی چائے پینے لگی

“تو ایسا کرو سب گھوم آو تم لوگ اب شادی شدہ ہو۔۔۔۔۔”
شہرام نے تجویز پیش کی تھی
“میں تو سنگل ہوں نہ مجھے اکیلا مت چھوڑئیے گا یہ اولڈ پارٹی میں۔۔۔۔”
پارس منہ بنائے بولا تو سب مسکرا اٹھے
“نہیں ماموں جان میرا اور تعبیر کا ابھی پوسیبل نہیں۔۔۔۔۔”
زوہان نے وجدان کو دیکھتے ہوئے کہا جو خاموشی سے چائے پی رہا تھا
“ہاں جی اور میرا بجی ابھی ناممکن ہے تھوڑا بزنس کا کام چل رہا ہے اس کے بعد ان شاءاللہ دیکھیں گے۔۔۔۔”
سعد نے دعا کا ہاتھ تھامے کہا تو انہوں نے اثبات میں سر ہلایا تھا

“السلام و علیکم۔۔۔۔”
تعبیر ڈیوٹی سے سیدھا لاونچ سے آوازیں آتے دیکھ وہی آ گئی تھی اور سب کو مشترکہ سلام کرتی زوہان کو دیکھا تھا جو وجدان کے ساتھ بیٹھا تھا
“آو بیٹا چائے دیتی ہوں۔۔۔۔”
پریہان نے پیار سے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا وجدان نے نامحسوس انداز میں زوہان سے فاصلہ بنایا جس کو صرف زوہان اور تعبیر کی محسوس کر سکے تھے اور پھر جلدی سے چائے پیتا اٹھ کھڑا ہوا تھا

“کہاں جا رہے ہیں سکندر۔۔۔۔؟”
اس کو اٹھتے دیکھ عالیاب نے پوچھا تھا
“تھوڑا کام سا اگیا ہے۔۔۔۔”
زبردستی مسکرا کر کہتا لاونچ سے نکلا تھا تعبیر بھی فریش ہونے کا کہتی لاونچ سے نکلی تھی اور وجدان کے پاس گئی جو اس کے آواز دینے پر رکا تھا

“شاید تم نے میری بات کو سنجیدہ لے لیا ہے۔۔۔”
وہ دل جلا دینے والی مسکراہٹ سے بولی
“ایک بات کہوں تعبیر۔۔۔۔”
اس نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا تو اس نے آئبرواچکائے اسے دیکھا

“جب تمہیں پہلی بار دیکھا تھا نہ واللہ تم بہت معصوم لگی تھی میں نے کبھی نہیں سوچا تھا تم ایسی ہو گی یقین جانو مجھے لگا میرے بھائی کا انتخاب بہت اچھا ہے میرے بھائی کے لیے تم سے بیسٹ اس دنیا میں اور کوئی نہیں ہو سکتی لیکن تم۔۔۔۔۔”
وہ قرب سے کہتا رکا تھا جب کہ اس کی بات سنتے اس کی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی

“تمہیں پہچاننے میں شاید غلطی ہوئی تم معصوم نہیں ہو تمہارا چہرہ صرف معصوم ہو تم نہیں اور ہاں کل کے لیے شرمندہ ہوں ائی ایم سوری اس کے لیے۔۔۔۔”
وہ اتنا کہتا پلٹا تھا

“اور تم نے جو کیا۔۔؟ کیا وہ شیطانیت نہیں کیا تم معصوم چہرے کے پیچھے ایک شیطان نہیں۔۔۔”
اس کے الفاظ اس کو رکنے پر مجبور کر گئے تھے اس نے پلٹتے ہوئے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا
“میں نے کیا کیا ہے بتاو۔۔۔۔؟”
“سب جانتی ہوں میں تم درندے نے جو روحا آپی کے ساتھ۔۔۔۔”
بولتے بولتے اس کے گلے میں آنسووں کا پھندا پھنسا تھا اس کو اب ساری کہانی مکمل سمجھ میں آئی تھی

“مطلب تم صرف اس لیے مجھے میرے بھائی سے دور کرنا چاہتی ہو۔۔۔۔”
“ہاں جیسے تم نے میری آپی کو اس کی زندگی کی خوشیوں سے دور کر دیا ویسے تمہیں کرنا چاہتی ہوں آپی تمہیں بےشک معاف کرے لیکن میں نہیں کرونگی میں نے تڑپتے دیکھا ہے اپنی آپی کو اب تم تڑپو گے تو تمہیں بھی احساس ہو گا۔…”
اس نے بےدردی سے آنسووں صاف کئیے کہا تھا

“افسوس تم پر تعبیر بنا تم سچائی جانے اس گھٹیا سوچ کے ساتھ یہ شیطانیت کر رہی ہو۔۔۔”
اس نے افسوس سے کہا
“یہی سچائی ہے آپی کی تڑپ دیکھی ہے میں نے اور امی جان نے سب بتایا ہے کہ کیسے تم درندہ صفت انسان ہو گھٹیا ہو اور ناجانے کہیں عالیاب کی زندگی بھی برباد۔۔۔”

“بسسسس ایک لفظ مزید نہیں میں تمہاری جان لے لوں گا یا شاید جتنی تم بکواس کرتی ہو لے چکا ہوتا لیکن تم میرے بھائی کی محبت ہو اور مجھے میرے بھائی سے بہت ہے اس کی خوشی کے لیے میں اپنی توہین برداشت کرتا ہوں ورنہ مجھے ایک پل نہیں لگے گا تمہاری زبان گدی سے کھینچنے میں۔۔۔”
وہ اتنے بےشمار الزامات پر تڑپ ہی تو اٹھا تھا

“سب سچائی معلوم ہو گی پچھتاو گی تعبیر زوہان مصطفی۔۔۔۔”
وہ اتنا کہتا موبائل نکالتا وہاں سے نکل گیا تھا جب کہ موبائل پر روحا کے نام ایک میسج بھیجا تھا اور تعبیر بھی سیڑھیوں کی جانب چلی گئی تھی
………………………………
وجدان ریسٹورنٹ میں بیٹھا روحا کا انتظار کر رہا تھا جب تقریباً انتظار کے پانچ منٹ بعد ہی وہ آ گئی تھی
“ہاں بولو کیا ہوا یوں اچانک کیوں بلایا ہے۔۔۔۔؟”
وہ اس کے سامنے کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی تھی
“تعبیر کو تم نے بتایا ہے۔۔۔۔؟”
“کیا۔۔۔؟”
اس نے ناسمجھی سے پوچھا
“ہمارے ماضی کے بارے میں۔۔۔۔”
وہ ایک دم سے ٹھٹھکی تھی
“نہیں میں نے اسے کچھ نہیں بتایا البتہ وہ اکثر زکر کرتی ہے لیکن۔۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رکی تھی
“کیا لیکن۔۔۔؟ کیا زکر کرتی ہے۔۔۔۔؟”
“مجھے نہیں معلوم لیکن میں نے اسے کچھ نہیں بتایا کیوں کیا ہوا ہے۔۔۔۔؟”
اس نے اس کی جانب دیکھتے پوچھا تھا
“کیا تم نہیں جانتی وہ مجھے ناپسند کرتی ہے۔۔۔؟”
“جانتی ہوں۔۔۔”
اس نے اثبات میں سر ہلائے کہا
“پھر تو یہ بھی پتا ہو گا کہ وہ کیوں ناپسند کرتی ہے۔۔۔۔”
اس نے دانت پیستے ہوئے کہا

“وہ صرف اتنا جانتی ہو گی کہ ماضی سے کوئی تعلق ہے تمہارا میری اس حالت شاید ایسا کچھ۔۔۔”
اس نے کندھے اچکائے کہا تو وجدان نے قہر برساتی نظروں سے اسے دیکھا تھا
“کتنی نارملی انداز میں یہ کہہ رہی ہو تم جیسے۔۔۔۔”
وہ پل کو رک گیا تھا
“تم نہیں جانتی وہ کیا کرتی پھر رہی ہے۔۔۔”
وہ دوبارہ سے بولی
“مطلب۔۔۔۔”
وہ اس کہ بات کا مطلب سمجھ نہ سکی تو وجدان نے اسے مختصر سا بتایا جس پر وہ سر تھام کر رہ گئی تھی

“اووو گاڈ۔۔۔۔”
روحا کے سر میں ٹھیس سی اٹھی تھی
“میں بات کرونگی وجدان اس سے اور امی سے بھی اس بارے پوچھوں گی۔۔۔۔”
اس نے سر سے ہاتھ ہٹاتے کہا
“ہاں بالکل بات کرو اور یہ بات اچھے سے سمجھا دینا کہ ہماری ہنستی کھیلتی فیملی میں کسی قسم کی دراڑ ڈالنے کی کوشش نہ کرے سمجھا دینا اسے ورنہ مجھے بخوبی سمجھانا آتا ہے۔۔۔”
وہ یہ کہتا اٹھا اور انکھوں پر گوگلز لگاتا وہاں سے چلا گیا تھا جب کہ روحا پھر سے سر تھام کر رہ گئی تھی اور پھر تعبیر کو رات گھر بلایا تھا یہ کہہ کر کے وہ اس سے اداس ہو گئی ہے تو زوہان سے اجازت لیتی رات جو آجائے
………………………………
تعبیر کپڑے ہینگر پر لٹاتی ساتھ زوہان کو دیکھ رہی تھی جو کسی مریض کی رپورٹ چیک کر رہا تھا
“زوہان رات کو ڈیوٹی پر جاتے وقت مجھے گھر چھوڑ دیں گے۔۔۔۔”
اس نے بات کا آغاز کیا تھا
“کیوں۔۔۔؟”
اس نے سر اٹھائے اسے پوچھا تھا
“آپی نے کہا ہے کہتی ہیں امی بھی بہت اداس ہے تو زوہان سے اجازت لے کر ایک رات کے لیے آجاو اور پھر کل ڈیوٹی سے واپس سیدھا ادھر آجاوں گی ۔۔۔”
اس نے تفصیل سے بتایا تھا

“ضرورت نہیں رات رکنے کی جب میں ساتھ ہونگا اکھٹے رک جائیں گے میں کل اپنی ڈیوٹی کے بعد تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں گھر پر اسی لیے رہنے دو۔۔۔”
وہ واپس وہ رپورٹس دیکھتے بولا تو وہ خاموش ہو گئی اور کپڑے الماری میں لٹکانے لگی زوہان نے اس کے خاموش چہرے کو دیکھا تو وہ رپورٹ بیڈ پر رکھی تھی

“تعبیر ادھر آو۔۔۔۔”
اس نے ہاتھ پھیلائے اسے بلایا تو وہ کپڑے چھوڑتی اس کے پاس آئی تھی
“ایسا کرتا ہوں رات کو جاتے ہوئے چھوڑ دونگا صبح ڈیوٹی سے واپسی پر تمہیں وہاں سے پک کر لونگا ناشتہ تمہارے ساتھ کرنا چاہتا ہوں پھر میں خود ہی تمہیں ہوسپٹل چھوڑ آوں گا۔۔۔”
وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے بولا تو اس نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا تو وہ بھی مسکرایا تھا اور دھیرے سے اس کی دونوں گال کو لبوں سے چھوتے نرمی سے اس کے لبوں کو بھی چھوا تھا اور پھر اس کی گردن میں منہ چھپائے اس کی خوشبو اپنے اندر تک اتارنے لگا تھا
………………………………