Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

تقریباً ایک گهنٹے کی مسافت کے بعد وہ لوگ اپنی مطلوبہ جگہ پر موجود تهے
“یار وجدان یہ کونسی جگہ ہے…؟
سعد نے اردگرد دیکهتے کہا جہاں لوگ بہت کم تهے
“یہ تو مجهے نشئی کا اڈا لگ رہا ہے….”
ذوہان نے بهی اپنا لقمہ دیا تو اس نے گهورا تها اور گاڑی سے نیچے اترا باقی سب بهی نیچے اترے تهے
“سکندر آپ نے تو کہا تها سرپرائز ہے تو یہ سرپرائز ہے..”
وہ بدمزہ ہوتی اردگرد دیکهتے بولی
“وہ محاورہ تو سنا ہوگا ڈونٹ جج آبک بائے اٹس کوور..”
اس نے گہرہ سانس لیتے کہا تها جو اپنے تکے ہی لگا رہے تهے وہ چابی انگلی میں گهماتا چلنے لگا تها باقی سب بهی اسکے پیچهے چلنے لگے

“یار عالیاب مجهے لگتا ہے تمہارا برتهڈے ہی دیتهڈے بنانا چاہتے ہیں بهائی دیکهو سنسان جگہ ہے…”
پارس نے اسکے کان میں تقریباً گهستے ہوئے کہا جس نے پارس کو کہنی ماری تهی اسکی بات ذوہان بخوبی سن چکا تها
“مجهے بهی ایسا لگتا ہے عالیاب سکندر کے ارادے نیک نہیں کیا پتا گفت میں وہ جنات سے ملا دے تمہیں…”
ذوہان نے مسکراہٹ دبائے کہا وہ جانتے تهے عالیاب کی بهوتوں سے جان جاتی ہے اس نے خوف سے ذوہان کو دیکها جس کے چہرے پر سنجیدگی تهی عالیاب انکے بیچ سے گزرتی سعد کے پاس گئی اور اسکا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا پیچهے ان دونوں نے اپنی ہنسی روکی تهی

“کیا ہوا…؟”
سعد نے اسکو یوں خوفزدہ دیکها تو پوچها جس کے ہاتھ بهی ٹهنڈے پڑ رہے تهے
“ذوہان بهائی اور پارس کہ رہے ہیں کہ سکندر جنات کے پاس لے کر جا رہے ہیں…”
اس نے خوف سے کہا جہاں دعا کی ہنسی نکلی وہاں سعد نے ذوہان اور پارس کو گهورا جو ہنس رہے تهے
“بکواس کررہے ہیں..”
اس نے عالیاب کے کندھے کے گرد بازو حمائل کرتے کہا اور سامنے دیکها جہاں سکندر اب وہاں موجود چهوٹا لیکن باہر سے ہی نفاست زدہ گهر کو کهول رہا تها
وہ سب سکندر کے پیچهے اندر داخل ہوئے جہاں فل اندهیرا تها

“سعد بب-بهائی لگتا ہے یہ لوگ سچ کہ رہے تهے…”
وہ مکمل اندهیرا دیکهتے سعد کے بازو کے ساتھ چپکتے ہوئے بولی اس سے پہلے وہ کچھ کہتا بولتا ایک دم سے باری باری کرتے سب لائیٹس جلیں تهی اتنی روشنی پر وہ لوگ آنکهیں بند کرنے پر مجبور ہو گئے تهے اور جب آنکهیں کهولیں تو پلک چهپکنا بهول گئے تهے
پورا گهر روشنی سے نہا گیا تها جگہ جگہ بالونز لگے تهے اور نیچے بهی بالونز سے فرش بهرا پڑا تها سامنے ایک ٹیبل جس پر گلاب کی پتیاں اور ان پر سجا کیک تها اور اس کے پیچهے خوبصورتی سے عالیاب سکندر لکها ہوا تها اوپر سے چهت سے بهی ہلکی ہلکی گلاب کی پتیاں گر رہی تهیں بےساختہ سب کے منہ سے “واو” نکلا تها
سکندر عالیاب کا ہاتھ پکڑتے درمیان میں لایا کہ گلاب کی پتیوں کی بمباری ہوئی تهی اور مصنوعی سنو بهی دهیرے دهیرے ان پر گرنے لگی تهی وجدان ان لوگوں کو بهی درمیان میں لایا تها پهر وجدان کی خواہش پر ایک بار پهر عالیاب نے کیک کاٹا تها اور اس بار وجدان کی گهوری کی وجہ سے پارس بیچارہ عالیاب کو کیک نہ لگا سکا تها

“چلو ڈانس کرتے ہیں میں میوزک لگاتا ہوں…”
وجدان سونگ سلیکٹ کرتے ہوئے بولا
“بهائی ہم سنگل ہیں…”
ذوہان نے منہ بناتے کہا
“تیری محبوبہ ہے نہ پارس گلابو…”
اس نے ہنس کر کہتے کہا اور دوبارہ سونگ دیکهنے لگا
ذوہان نے پلٹ کر پارس کو دیکها جس نے منہ میں شرما کر چیکٹ کی زپ ڈالی تهی سب اسکی حرکت پر ہنسے تهے
“یہ چول محبوبہ بہت ٹهرکی لگ رہی…
اس نے سر کهجاتے کہا

“میں شرما رہا تها بهائی…”
“تیری شرماہٹ میں بهی ٹهرک پن جهلک رہا ہے…”
اس نے شرارت سے کہا تو اس نے آنکهیں گهمائیں تهی
“پارس کم از کم بهائی تو مت کہو محبوبہ ہو تم اسکی…”
سعد بهی شرارت سے بولا
“شرم آرہی مجهے تو ذوہان جی آپ سے…”
وہ دونوں ہاتھ منہ پر رکهتے بولا تو ان سب کے قہقے بےساختہ تهے
“چلو لگ گیا میوزک…”
اس نے موبائل پر سونگ لگا کر ووفرز کے ساتھ کونیکٹک کرتے موبائل ٹیبل پر رکها تها دهیمی آواز میں چلتے میوزک پر وجدان عالیاب اور دعا اور سعد دهیرے دهیرے ناچ رہے تهے جبکہ ذوہان اور پارس ناچنے کی توہین کررہے تهے

“مسسز تیار ہو رات کو جانے کے لیے…”
سعد دعا کو گهما کر قریب کرتے بولتا شوخ لہجے میں بولا
“اب مجبوری ہے میں بهائی اور گهر والوں کو انکار نہیں کر سکی…”
اسکے کندهوں پر ہاتھ رکهے چباتے ہوئے بولی
“یہ مجبوری کہیں زندگی کا روگ ہی نہ بن جائے…”
اسکی بات پر وہ کچھ پل اسکی آنکهیں میں دیکهتی رہی اور پهر نظریں جهکا گئی اور اس سے پہلے وہ کچھ بولتی دهڑم کی آواز پر دیکها جہاں پارس زمین بوس تها وجدان دعا سعد اور عالیاب حیرت سے پارس کو دیکهنے لگے

“گائیز یو کیری اون میں اپنے ہونے والے سرتاج کے قدم دیکهنا چاہتی تهی آئی مین چاہتا تها…”
وہ کمر پر ہاتھ رکهتے اٹها تووہ ہنستے دوبارہ ڈانس کرنے لگے
“لگی تو نہیں میری محبوبہ…”
ذوہان نے ہنستے ہوئے کہا اور ایک نظر وجدان اور عالیاب کو دیکها جو دهیرے دهیرے باتیں کررہے تهے ذوہان نے پارس کو تیزی سے کهینچتے پیچهے دهکا دیا کہ وہ عالیاب اور وجدان میں لگا تها عالیاب اور وجدان گرتے گرتے بچے تهے البتہ پارس دوبارہ گر گیا تها

“سوری بگ برو میری محبوبہ زرا ایسی ہی ہے…”
اس نے آنکھ دباتے کہا تو وجدان نے گهورا جو اس کا سب مزہ خراب کر چکا تها
“بهائی رحم کهاو میں نہیں ناچنا بهائی کے ساتھ….”
پارس نے نیچے بیٹهے ہی رونی شکل بنا کر کہا تو وہ سب ہنسے تهے
“چلو بس کرتے کهانا کهاتے ہیں کهانے کا انتظام بهی کیا ہے پهر نکلنا بهی ہے گهر کے لیے…”
وجدان میوزک بند کرتے بولا تها اور پهر سب دوسری سائیڈ کهانا کهانے چلے گئے کهانا کهانے کے بعد ان کا ارادہ واپس گهر جانے کا تها
…………………………………
“تم سچ میں اس رشتے سے خوش ہو تعیبر…؟”
تعبیر کے آج سسرال آئے تهے ان کے جانے کے بعد روحا تعبیر کے کمرے میں بیٹهی اس سے پوچھ رہی تهی
“ہاں بالکل میں خوش نظر نہیں آتی کیا…؟”
وہ گود میں تکیہ رکهے زبردستی مسکرائے بولی
“تمہاری مسکراہٹ تمہاری آنکهوں کا ساتھ نہیں دیتی…”
اسکی بات پر اسکی مسکراہٹ سمٹی تهی
“میں خوش ہوں آپی…”
وہ نظریں چراتے ہوئے بولی

“میں جانتی ہوں تم خوش نہیں تو کیوں کررہی ایسے…”
وہ الجهی تهی
“میں آپکے جیسی غلطی نہیں دہرانا چاہتی میں کسی کے لیے بهی وہ غلطی دوبارہ نہیں کرنا چاہتی میں امی پاپا کے فیصلے سے خوش ہوں…”
اسکی بات پر روحا سختی سے آنکهیں میچتی چہرہ جهکا گئی
“مجهے نیند آرہی ہے آپی…”
تعبیر آنکهوں میں آئی نمی کو چهپانے کی کوشش کرتے بیڈ پر لیٹی اور کمبل اوپر تک تانا تها روحا بهی آنسووں پیتی کمرے سے نکل گئی تو سہی ہی تو کہ رہی تهی ماضی میں کی جانے والی غلطی کوئی چهوٹی تو نہ تهی جس کا خمازیہ بهی اس نے بهگتا تها
…………………………………
“بهائی ہم دونوں جانتے ہیں دعا آپ کے ساتھ سب سے زیادہ خوش رہ سکتی ہے…”
وجدان سعد کے گلے لگتے بولا اور پهر زوہان بهی گلے لگا تها اور پهر پیچهے ہوتا گاڑی پر چڑھ کر بیٹها تها
“وہ میری بیوی ہے میری محبت بهی شاید اسے سمجهے میں وقت لگے…”
سعد سینے پر ہاتھ باندهے بولا
“فکر مت کریں وہ سب سمجھ جائے گی…”
وجدان نے جیکٹ کی زپ بند کی تهی وہ تیوں باہر سعد کی گاڑی کے پاس کهڑے دعا کا انتظار کررہے تهے جو اندر سب سے مل رہی تهی کچھ ہی دیر میں دعا آتی دیکهائی دی تهی دعا وجدان سے ملی پهر ذوہان گاڑی سے اترا اور اس کو ملتے سر پر پیار کیا تها
“خوش رہنا…”
ذوہان اسکے ماتهے پر لب رکهتے بولا اور پهر اس کے لیے دروازہ کهولا تها
دعا کے بیٹهتے ہی سعد دوبارہ ان سے ملا اور پهر گاڑی میں بیٹهتا ملک ویلا سے نکلا تها پیچهے وہ دونوں بهی گاڑی کے اوجهل ہوتے اندر چلے گئے تهے
…………………………………
دعا مسلسل خاموش تهی گاڑی میں صرف اس کی ہولے ہولے سے رونے کی آواز آرہی تهی سعد وقفے وقفے سے اس پر نظر ڈال رہا تها
“دعا ہم کونسا ہمیشہ کے لیے جا رہے ہیں واپس اسی گهر میں آنا ہے ایسے رو کر تکلیف تو مت دو یار..”
وہ بےچینی سے بولا
“تو کیوں لے کر آئے اگر زیادہ تکلیف ہو رہی رونے سے…”
وہ اسکی طرف دیکهتے آنکهیں رگڑتے غصے سے بولی اسکی بات سنتے سعد نے ایک نظر روڈ کو دیکها جو سردی کے باعث سورج ڈهلتے ہی رش کم ہو گیا تها روڈ کو دیکهتے دوبارہ دعا کو دیکها

“بیوی ہو میری حق ہے جب چاہوں رخصتی لے سکتا جب چاہوں جو بهی کر سکتا جہاں چاہوں کے جاسکتا ہوں اس میں رونے کا کوئی جواز نہیں ایک گهننٹہ ہونے والا لیکن تمہارے آنسووں نہیں تهمے طبیعت خراب ہوجائے گی سمجھ نہیں آتا…”
وہ چباتے ہوئے بولا چہرہ حد درجہ سنجیدہ تها دعا نے خفگی سے اسکی جانب دیکها
“بات مت کریں…”
وہ خفگی سے کہتی باہر دیکهنے لگی

“سنو…”
اس نے دوبارہ پکارا
“میں بات نہیں کرنا چاہتی سعد…”
وہ دوسری جانب منہ کیے ہی بولی تهی
“میں تم سے بات نہیں کررہا گاڑی میں موجود جنات سے بات کررہا ہوں سنو پیارے جنات میری بیوی بات نہیں کرنا چاہتی برائے مہربانی اپنی معشوقاوں سے بات کرنے کی اجازت دے دیں تاکہ یہ کٹهن سفر کٹ جائے….”
وہ مسکراہٹ دبائے بولا تو اس نے دوبارہ پلٹ کر اس کو دیکها اسکی شکل دیکهتے سعد کی ہنسی نکلی تهی
“اچها سوری مزاق کررہا ریلیکس ہو جاو…”
وہ اسکی مسلسل خفگی بهری نظریں خود پر جمی دیکھ دوبارہ ہنستے ہوئے بولا تو وہ سر پشت سے ٹکاتی آنکهیں موند گئی تهی
…………………………………
“محبوب کل میرے آنے سے پہلے چوری کی فائل ریڈی رکهنا کل اس کا معاملہ بهی حل کرنا ہے…”
وجدان شرٹ اتارتا بولا اور موبائل بیڈ سے اٹهاتے سپیکر اوف کرتے کان کے ساتھ لگایا تها
“اچها محبوب کل بات کرتے کاکا کی کال آرہی زرا اب ان کی بکواس سن لوں..”
اس نے کان سے ہٹائے بیچ میں آتی کاکا کی کال دیکهتے ہنستے ہوئے محبوب سے کہا جس نے ہنس کر فون رکها تها وجدان بیڈ پر لیٹا اپنے بجتے فون کو دیکهنے لگا جو اب بج بج کر بند ہو گیا تها اس نے اٹهانے کی زحمت بهی نہ کی تهی دوسری بار بجنے پر بهی اس نے نہ اٹهایا تها جب تیسری بار بجا تو اس نے مسکراہٹ دبائے فون اٹهاتے کان سے لگایا تها

“فون کیوں نہیں اٹها رہے تهے…؟”
“ویسے دل نہیں تها…”
اس کے نارملی انداز میں کہنے پر کاکا کو آگ لگ گئی تهی
“اچها جلدی بولو تم کوئی میری محبوبہ نہیں جس کی خاموشی سننے کے لیے میں ساری رات فون کان سے لگائے رکهوں گا کیونکہ مجهے ابهی ضروری کام سے سونا ہے….”
اس کو خاموش دیکھ کر اس نے شرارت سے کہا
“داور سر ملنا چاہتے ہیں تم سے…”
اس نے دانت کچائے کہا

“ملنا کسے ہے…؟ داور کو مجهے نہیں سو اسے ملنے آنا ہوگا کیونکہ کام اسے ہے مجهے نہیں…”
“داور سر نے تم سے ضروری بات کرنی ہے..”
وہ چباتے ہوئے بولا جیسے دانتوں بیچ وجدان کو کچل رہا ہو کیونکہ وہ اس کو غصہ دلانے میں کوئی کسر نہیں چهوڑتا تها
“اب کون سی ضروری بات فیکٹری کو آگ لگانے والے تو پکڑوا دیے اب کیا مسئلہ ہے..”
اس نے کوفت سے کہا

“تمہارے فائدے کی بات ہے…”
“اپنا نفع مقصان اچهے سے جانتا ہوں میرا فائدہ کس میں ہے میں یہ بهی جانتا ہوں مجهے تمہارے سر سے فائدہ لینے میں کوئی دلچسپی نہیں…..”
وہ سنجیدگی سے بولا
“تم آرہے ہو یا نہیں…؟”
“نہیں…”
اس نے یک لفظی جواب دیا اور دوسری جانب سے فون کهڑک سے بند ہوا تها وجدان نے مسکراتے ہوئے فون کو دیکها پهر کمبل سر تک تانتے جلد ہی نیند کی وادیوں میں گم ہو گیا تها
…………………………………
رات تقریباً ایک بجے کا وقت تها جب دعا کی ہولے سے آنکھ کهلی اس نے سر گهمائے سعد کو دیکها جو ابهی بهی ڈرائیونگ میں مصروف تها
“سعد آپ تهکے نہیں….؟”
وہ تقریباً 6 گهنٹوں سے سفر کر رہے تهے وہ تو سو گئی تهی لیکن سعد مسلسل ڈرائیونگ کر رہا تها
“تمہیں اس سے کیا تهکوں یا نہیں تم سو جاو میں یہ سوچ کر ڈرائیونگ کر رہا ہوں کہ آج بهی اکیلا سفر میں ہوں…”
اس کی خفگی بهری آواز گونجی تو اس نے شرمندگی سے سر جهکایا سعد نے ایک نظر اسے دیکها پهر پیچهے سے ایک شاپر اٹها اور اس کو دیا جس میں کهانے کہ اشیاء موجود تهیں

“کها لو میں نے رستے میں خریدا تها…”
اس نے نظریں سامنے مرکوز کرتے ہیں کہا دعا نے سینڈوچ نکالا تها اور اس کو کهول کر کهانے لگی پهر کچھ خیال آنے پر سعد کی جانب بڑهایا سعد نے حیرت سے پہلے دیکها پهر حیرت کو چهپاتے اس سے بائٹ لی تهی
“کتنا سفر ہے ابهی…؟”
اس نے جوس نکالتے کہا
“سفر تو بہت ہے ابهی لیکن آدهے گهنٹے میں ہم ایک ہوٹل تک پہنچ جائیں گے وہاں کچھ ریسٹ کریں گے اور صبح ناشتے بعد دوبارہ سفر کریں گے…”
اس نے سنسنان سڑک پر نظر دوڑاتے کہا جہاں مشکل سے ایک دو گاڑیاں تهیں اس کی بات سنتے وہ خاموشی سے کهانے لگی سب کا ارادہ تها کہ جہاز میں سفر کر لیں جلدی پہنچ سکتے تهے لیکن دعا کو ڈر لگتا تها اسی لیے سعد نے منع کر دیا

تقریباً آدهے گهنٹے بعد وہ لوگ ہوٹل کے سامنے موجود تهے سارا سامان گاڑی میں ہی رکهے گاڑی لاک کرتے وہ دونوں اندر بڑه گئے تهے اور چابی لیتے اپنے روم کی جانب چلے گئے تهے کیونکہ وجدان پہلے ہی بکنگ کروا چکا تها
وہ دونوں روم میں پہنچے تو دعا روم کے دروازے میں کهڑی روم دیکهنے لگی وہ بہت کنفیوز تهی وہ کیسے سعد کے ساتھ ایک روم میں ایک بیڈ پر سو سکتی تهی بےشک نکاح ہوا تها لیکن کسی بهی لڑکی کے لیے مشکل ہوتا ہے سعد اس کو ہاتھ ملتا کنفیوز سا دیکھ رہا تها وہ اس کی جهجهک سمجھ سکتا تها

“تم بیڈ پر آرام سے سو جاو میں بهی بہت تهکا ہوں سو جاوں گا ڈرنے کہ ضرورت نہیں فلحال تهکن کی وجہ سے کچھ غلط ارادہ نہیں میرا اسی لیے ریلیکس ہو کر سو جاو..”
وہ بیڈ پر ایک سائیڈ پر لیٹتے بولا اس کی ذومعنی بعد سنتے وہ سرخ چہرہ لیے بیڈ کی دوسری جانب لیٹی تهی اور ایک نظر اس کو دیکهتے دوسری طرف منہ کیا تها سعد اس کی پشت کو دیکها پانچ منٹ میں ہی نیند میں گرک ہو گی تها

کمرے میں چهائی تاریکی اوپر سے سونے کی وجہ سے سعد کی بهاری سانسیں اس کو سونے نہیں دے رہیں تهی وہ اس کا دل بے چین کر رہی تهیں جو عجیب سا دهڑک رہا تها اس نے بےبسی سے پلٹ کر سعد کو دیکها پهر موبائل اٹهاتے ہینڈ فری لگائی تهی تا کہ وہ اپنے دل کی عجیب ہوتی کیفیت سے نکل سکے
…………………………………
صبح ناشتے کے بعد وہ دونوں دوبارہ روانہ ہوئے تهے اور ظہر سے کچھ دیر بعد وہ لوگ سعد کے فلیٹ کے سامنے موجود تهے سعد نے گارڈ سے کہ کر سامان اندر رکهوایا تها
دعا فلیٹ کا مکمل جائزہ لے رہی تهی جو چهوٹا مگر بہت خوبصورت تها ہر چیز نفاست سے رکهی ہوئی تهی

“دعا جاو فریش ہو جاو میں کهانا بهیجتا ہوں وہ کها کر ریسٹ کر لو ہم رات میں بات کریں گے مجهے کام ہے تهوڑا…”
دعا نے اس کی بات سن کر منہ بنایا جو کہ موبائل میں مصروف ہونے کی وجہ سے سعد نہ دیکھ سکا
“اوکے…”
اوکے کہتی وہ کمرے کی جانب چل دی
“انہوں نے تو آتے ساتھ اکیلا چهوڑ دیا انہوں نے خیال رکهنا ہے میرا…”
کمرے میں آتے حجاب کهولتے خود سے بڑبڑائی اور کپڑے نکالتے واشروم میں گهس گئی تهی