No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
“آج رات تک مجهے نور پور محلہ کی وہ حسین لڑکی اپنے بستر پر چاہیے….”
داور خان اپنے سامنے بیٹهے اپنے وفادار اور اس کے کالے دهندهوں میں برابر کے ملوث کاکا کو کہا
“سرکار وہ لڑکی سیدهے سے نہیں آئے گی…”
“بلینک چیک اس کے سامنے رکهو وہ ایک رات کیا ہر رات غلامی کو حاضر ہوگی…”
اس نے شاطرانہ انداز میں کہا تو وہ بهئ مکرو ہنسی ہنسا تها
“اپنے لیے رستے میں کوئی حسینا ملے تو اس بهی اٹها کر لے آنا اکهٹے عیاشی کریں گے…”
داور خان ہنستے ہوئے بولا تو وہ بهی ہنسا کہ دروازہ کهٹکا دوار خان نے اجازت دی تو ایک لڑکا لگ بهگ پچس سال اس کی عمر ہوگی وہ اندر داخل ہوا
“سر آپکے حکم کے مطابق نئے ایس پی کی معلومات حاصل کرلی ہے….”
“خوب بتاو…”
وہ دلچسپی سے دیکهتے ہوئے بولا
“سر اس کو ہمیں سلاخوں کے پیچهے پہنچانے کو بهیجا گیا ہے وجدان سکندر اس کا نام ہے سب سے مزے کی بات وہ ریٹائرڈ ایس پی شہرام کا منہ بولا بیٹا ہے اس نے اپنی بہن سے لیا تها جب یہ پیدہ ہوا تها….”
اس کی معلومات پر کاکا اور داور خان کهل کر مسکرائے
“خرید لو اس کو بهی پچهلے ایس پی کی طرح….”
“سر وہ شہرام کا بیٹا ہے اتنا آسان ہوگا خریدنا….؟”
کاکا نے خدشہ ظاہر کیا
“دولت انسان سے کچھ بهی کروا سکتی ہے وہ شہرام کا بیٹا ہے شہرام نہیں ہے…”
اس کے الفاظ اسی کہ طرح مکرو تهے
“جاو جتنا مانگتا ہے دے دو….”
دوار نے اپنے آدمی کو ہاتھ سے اشارہ کرتے ساتھ جانے کا بهی حکم دیا تو وہ سرجهکاتا چلا گیا پیچهے وہ دونوں واپس ان حیسناوں کی گفتگو کرنے لگے تهے
…………………………………
سعد بالکنی میں کهڑا باہر آسمان پر موجود چاند اور اس کے گرد طواف کرتے تاروں کو دیکھ رہا تها زمین پر گرتی درختوں سے ٹکراتی روشن ایک بشر کو الجهن میں ڈال دیتی ہے کہ چاند زیادہ چمک دمک رہا ہے یا چاند کی خوبصورتی بیان کرتے تارے اپنی روشنی زیادہ بکهیر رہے ہیں
لیکن سعد اس الجهن سے دور بس اس کو تکے جا رہا تها ہلکی تهرتهرا دینے والی ہوائوں کو بهی وہ کسی خاطر میں نہ لاتے کهڑا ہوا تها
“تم مجھ سے اتنی ہی دور ہو دعا جتنا یہ چاند تاروں سے دور ہے لیکن دیکهنے والوں کو لگتا ہے جیسے وہ بہت قریب تر ہوں….”
وہ چاند کو دیکهتا ہولے سے بولا تها
“میں بهی دیکهنے میں قریب تو بہت ہوں پر درحقیقت میں ان تاروں سے بهی زیادہ فاصلہ رکهتا ہوں…”
خیالوں میں صرف دعا کا ہی عکس تها
“مجهے لگتا ہے تمہارا حقیقت جاننے کا وقت قریب ہے بس تمہاری کم عمری کا خیال ہے ورنہ میں چاہتا ہوں تمہارے سامنے سب کهل جائے تم ہر چیز سے آشنا ہو جاو…”
اس کے الفاظ مضبوط ظاہر ہوتے تهے
وہ انہی سوچوں میں گم تها کہ کوئی دروازہ کهٹکهٹا کر اندر داخل ہوا دروازے کی آواز سے وہ بهی گہرہ سانس لیتا کمرے میں آیا تو سامنے اپنی ماں کو دیکھ کر حیران ہوا اور ٹائیم دیکها جو گهڑی بارہ بجارہی تهیں
“سوئے نہیں بیٹا ابهی…”
وہ پریشانی سے بولیں
“بس تهوڑی دیر پہلے کام ختم کیا سونے ہی والا تها…”
وہ تهکن زدہ چہرے سے بولا
“کچھ تو ہے بیٹا آج کهانے پر بهی موجود نہ تهے…”
وہ اس کے چہرے پر ہاتھ پهیرتے ہوئے بولیں
“ارے کچھ نہیں امی جان بس آپ اپنی گود میں سر رکهنے دیں سب کچھ دور ہو جائے گا….”
وہ ان کو بیڈ پر بیٹهاتے ہوئے بولا اور خود بهی لیٹ کر اسکی گود میں سر رکهتے آنکهیں موندیں تهی وہ دهیرے دهیرے اس کے بالوں میں ہاتھ پهیرنے لگی نظریں اس کے چہرے پر مرکوز تهیں جو سنجیدہ سا آنکهیں بند کیے ہوئے تها
“امی جان مجهے شادی کرنی ہے….”
کچھ خاموشی کے بعد وہ بند آنکهوں سے ہی بولتا آبریش کو جهٹکا دے گیا تها
“کیا کہا…”
وہ حیرانگی سے بولیں تو وہ اٹھ کر بیٹها اور اس کی جانب دیکها
“مجهے شادی کرنی ہے…”
وہ اپنی بات پر زور دیتے ہوئے بولا
“لیکن بیٹا…”
وہ الجهن کا شکار ہوئی تهی
“دعا کو سب حقیقت سے آشکار کرنے کا وقت آگیا ہے امی…..”
وہ حددرجہ سنجیدگی سے بولا
“دماغ خراب تو نہیں ہوگیا سعد تمہارا…”
وہ غصے سے بولیں تهی
“امی جان میرے میں اور صبر نہیں پلیز مصطفی چاچو سے بات کریں…..”
وہ ان کے ہاتھ تهامے التجایہ انداز میں بولا تو وہ دو پل اس کا چہرہ دیکهنے لگیں جہاں صدیوں کی بےتابی نمایا تهی
“ہر چیز سے واقف ہو سعد پهر بهی ایسی باتیں…”
وہ بےبسی سے بولیں
“میری عمر ہوگئی ہے شادی کی میرے بس میں مزید صبر نہیں دعا میری ملکیت ہے امی تو چاچو جان کو بهی کیا اعتراض ہو سکتا….”
وہ الجهتے ہوئے بولا
“لیکن دعا کچھ بهی قبول نہیں کرئے گی وہ ناسمجھ ہے اور ابهی وہ وعدہ پورا کرنے کا وقت نہیں آیا….”
“میں اس کو سمجها لوں گا اور رہی بات اس وعدے کی تو میں کچھ نہیں جانتا آپ بات کرتی ہیں یا میں خود کروں بات اگر کوئی نہ مانا تو میں دعا کو لے جاوں گا….”
وہ کڑے لہجے میں بولتا اپنی ماں کو بےبس کرگیا تها
“سعد پلیز ہمیں مجبور مت کرو ابهی وقت ہے جہاں اتنا صبر کیا وہاں تهوڑا اور سہی بیٹا بات کو سمجهو….”
وہ اس کے چہرے کو محبت سے چهوتے ہوئے بولی
“آپ بهی سمجهیں میرے دل کا حال سمجهیں آپکی وہ کچھ لگتی بهائی کہ کر میرے زخموں پر نمک چهڑکتی ہے…”
“بیٹا پلیز میری خاطر پلیز میں نہیں چاہتی رشتوں میں دراڑ پڑے سعد بس کچھ وقت پهر دعا تمہاری ہے صرف…”
وہ نم آنکهوں سے منت بهرے انداز میں بولتی سعد کو مجبور کرگئیں تهی
“ٹهیک ہے چھ مہینے بس….”
وہ ضبط سے بولا پهر اپنی ماں کا بےبس چہرہ دیکهتے گہرہ سانس بهرا
“ٹهیک ہے ایک سال لیکن اس سے ایک دن زیادہ نہیں امی….
وہ تنبیہ انداز میں بولا تو اس نے اثبات میں سرہلایا تو سعد بهی اپنی ماں کا ماتها چومتے اس کو گلے لگایا تها
…………………………………
صبح تقریباً دس بجے کا وقت تها سب کام کاج والے ناشتہ کر چکے اور اب کچن میں دعا اور عالیاب اپنے لیے ناشتہ بنانے میں مگن تهیں ملازموں کو کچن سے نکالتے خود محنت(بیڑا گرک) کررہی تهیں
“یا خدا یہ کیا حشر ہے کچن کا….؟”
ذوہان جو ہوسپٹل کے لیے نگ سگ تیار کچن میں ناشتے کی غرض سے آیا تجا کچن کی حالت دیکھ کر اسکی چوکهٹ پر ہی رک گیا عالیاب اور دعا نے ذوہان کی آواز پر اس کی جانب دیکها پهر کچن کو دیکها جہاں کہیں آٹا گرا تها تو کہیں انڈے ٹوٹے پڑے تهے کوئی چیز کہاں بکهری تهی تو کوئی چیز کہاں
“ناشتہ بنا رہے ہیں بهائی آپ بهی اندر آئیں نہ….”
دعا نے مسکراتے ہوئے کہا
“یااللہ پناہ شیطان کے شر سے….”
وہ بڑبڑاتا کچن میں داخل ہوا
“یہ کیسا ناشتہ بن رہا ہے….”
اس کا تو سر ہی چکرا کر رہ گیا تها
“یہ ہم سپیشل ناشتہ بنا رہے ہیں آپ رکیے ذوہان بهائی ہم آپکو بهی ناشتہ دیتے ہیں….”
عالیاب منہ پر لگی کیچپ کو صاف کرتے ذوہان سے بولی تو وہ مسکرا دیا اور وہ شیلف کے ساتھ ٹیک لگا کر کهڑا ہوتا ان کو دیکهنے لگا جو ناشتہ سہی بنا رہی تهیں لیکن گند جان بوجھ کر ڈال رہی تهیں
“یونیورسٹی نہیں جانا تم دونوں نے….؟”
“نہیں بهائی دل نہیں تها اور پارس بهی نہیں گیا….”
دعا انڈہ مکس کرتے ہوئے بولی
“ذوہان بهائی اپکا جلاد بهائی چلا گیا ہے…..”
عالیاب چکن کے ریشے کرتے ہوئے بولی تو وہ ہنسا
“عالیاب کی بچی اگر وجدان نے سن لیا نہ تو خیر نہیں….”
وہ ہنستے ہوئے بولا اور وجدان جو کچن میں آرہا تها ذوہان کی بات سن کر وہی رکا
“ہونہہ جب دیکهو عالیاب یہ نہ کرو عالیاب وہ نہ کرو ایک دن کہیں گے عالیاب سانس نہ لو…”
وہ اس کی نقل اتارتے بولی جہاں دعا اور ذوہان نے قہقہ لگایا تها وہی وجدان کے ہونٹوں پر بهی مسکراہٹ پهیلی تهی
“ایک انہوں نے میرا نام ہی رکها تها نہ اس پر اتنا روعب جماتے ہیں آپ نام رکھ دیتے تو کم از کم ان کی گندی دهمکیوں سے تو بچ جاتی….”
وہ ذوہان کے سامنے اپنا رونا رو رہی تهی
“کتنا مزہ ہو عالی میری جان اگر وجدان یہ سب سن لے….”
وہ شرارت سے بولا تو وجدان نے دهیان عالیاب کی جانب کیا تها
“بهائی آپ میرے بهائی ہیں یا سکندر کے اللہ نہ کرئے وہ سنیں ورنہ پهر ہوگا عالیاب تمہیں ٹیوننگ کی ضرورت ہے…”
آخر میں پهر اس کی نقل اتاری تهی
“شہرام ماموں چلے گئے ہیں عالیاب بچانے کو کوئی نہیں اور وجدان بهی ابهی گهر موجود ہے….”
اس نے خطرے سے آگاہ کیا
“وہ جلاد ابهی گهر ہے اس کے لیے تو میں بالکل اپنے خوبصورت ہاتھوں سے ناشتہ نہیں بناوں گی…”
اس نے بال کان کے پیچهے کرتے شوخی سے کہا
“سچ میں….”
“ہاں سچ کہ….”
وہ جو اپنی دهن میں بولی تهی آواز پر غور کرتے اس کی زبان کو بریک لگی تهی اور آنکهیں سختی سے میچیں تهی
“اللہ بس ایک بار بچا لیں دوبارہ زبان کاٹ دوں گی اگر بولی تو….”
وہ منہ میں بڑبڑائی اور دروازے کی جانب دیکها جہاں وجدان سینے پر ہاتھ باندهے اسی کو گهور رہا تها اس کی نظروں سے گهبراتے وہ ذوہان کے پیچهے چهپی تهی اور اچکتے ہوئے اسکے کندهے سے آنکهیں نکالے وجدان کو دیکها
“ذوہان بهائی بچا لیں پکا گول گپے کهلاوں گی…”
اس کی گهبرائی آواز ذوہان کے کانوں میں گونجی تو اس کے لب مزید مسکرائے تهے دعا کی بهی ہنسی کی آواز عالیاب کے کانوں میں پڑی تهی
“میں نے کہا تها وجدان گهر ہے…”
“گهر کا کہا تها بهائی یہ نہیں کہا تها کچن کے آس پاس ہے…..”
وہ رونی شکل بنائے بولی
“عالیاب….”
اس کی غصے بهری آواز گونجی
“سوری سکندر یہ ذوہان بهائی نے کہا تها کہ ایسا ایسا بولو گی تو آئسکریم کهلاوں گا…..”
وہ سب الزام ذوہان پر دیتے ہوئے بولی جو اسکی چلاکی پر منہ کهولے اس کو دیکھ رہا تها عالیاب نے نظروں ہی نظروں میں منت کی تهی
“ٹیبل پر ناشتہ لگا دو….”
چبا کر کہتے وہ کچن سے چلا گیا تها تو عالیاب نے سوکھ کا سانس لیا اور ذوہان کو دیکها جس نے اس کی حالت دیکهتے ہنستے ہوئے اسکے بال بگاڑے تهے
…………………………………
وجدان جو رپورٹ بنانے میں مصروف تها کہ محبوب دروازہ کهٹکهٹاتا اندر داخل ہوا
“سر کاکا آیا ہے…”
اس نے تابعداری سے کہا
“کاکا آیا ہے تو فیڈر دے دو….”
وہ سنجیدگی سے بولا کاکا جو دروازہ کهول کر اندر داخل ہوا تها اس کی بات سن کر مٹهیاں بهینچ کر رہ گیا
“سر یہ ہے کاکا….”
محبوب نے مسکراہٹ دباتے کاکا کی جانب اشارہ کیا تو اس نے ہونٹوں کو گول کرتے کاکا کو دیکها
“اوپپس مسٹیک مجهے لگا شاید کسی کا بچہ آیا ہے اور وہ رو رہا ہے…”
وہ خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ بولا تو وہ ایک نظر وجدان کو دیکهتے کرسی پیچهے کرتا بیٹها تها
“تمہارا ٹرانسفر یہاں ہمارے خلاف ثبوت اکهٹے کرنے اور ہمیں پهانسی کے پهندے تک پہنچانے پر کیا گیا ہے نہ…”
وہ سنجیدگی سے بولا
“اچها تو تم داور کے آدمی ہو….”
وجدان سیدها ہو کر بیٹها تها
“تمہیں ہمارے ساتھ کام کرنا ہوگا اور اگر ہمارے خلاف جاو گے تو فیملی اور خود کی جان سے ہاتھ دهو بیٹهو گے…”
وہ صاف انداز میں دهمکی دیتے ہوئے بولا تو وجدان ایک ایک آئبرو اچکاتے اس کو دیکها
“کوئی خاص وجہ تم لوگوں کے ساتھ کام کرنے کی….؟”
“داور خان تمہیں بلینک چیک دینے کو تیار ہیں….”
اس نے بلینک چیک سامنے رکها وجدان نے سنجیدہ تاثرات سے اس بلینک چیک اور اس پر موجود داور کے سائن کو دیکها تها دل میں ایک آگ سی بهڑکی تهی لیکن ایک سوچ کے آتے اس کے لب بہت خوبصورتی سے مسکرائے تهے
“اسی چیز کا انتظار تها آئی لائیک اٹ…..”
اس نے بلینک چیک پر پینسل رکهتے ہوئے کہا تو کاکا بهی مسکرایا
“کاکا یار کاکا کہنا عجیب لگ رہا ہے کوئی اور نام نہیں تمہارا اچها چهوڑو نام میں کیا رکها ہے تو جو کہو گے ویسا ہی ہوگا فکر نہیں کرو….”
اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو کاکا مسکراتا ہوا اٹها اور اس کی جانب ہاتھ ملایا وجدان نے دو سیکنڈ اس کے بڑے ہوئے ہاتھ کو دیکها اور پهر کهڑے ہوکر اس کے ساتھ ہاتھ ملایا تها کاکا واپس جا چکا تها جبکہ وجدان نے گہرہ سانس لیتے پہلے اس چیک کو دیکها پهر محبوب کو دیکها جو خشمگین نظروں سے وجدان کو دیکھ رہا تها
“یہ چیک سنبهال کر رکهو…”
چیک کی جانب اشارہ کرتا وہ بهی وہاں سے نکلا تها
…………………………………
السلام و علیکم! دراصل قسط کو لانگ لکهنے کی کوشش کررہی ہوں بس آہستہ آہستہ لانگ کرونگی اور سب کپلز کے سینز ہر قسط میں لکهنے کی کوشش کروں گی
