Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

وجدان محبوب کی جانب سے سینڈ کی جانے والی لوکیشن پر پہنچا تها وہ ایک شاپنگ مال تها اب وہ محبوب سے مال کے اندر موجود اس جگہ کا پوچھ رہا تها جہاں کوئی اس کا منتظر تها وہ اپنی مطلوبہ جگہ پر پہنچا تو سامنے ہی اسے جینز شرٹ کهلے بالوں میں ملبوس ایک لڑکی اردگرد نگاہ دوڑاتی نظر آئی تهی وہ بالوں میں ہاتھ پهیرتا اس کے سامنے بیٹها تها وہ لڑکی پہلے اپنے سامنے کسی کو دیکهتی چونکی تهی لیکن وجدان کو دیکهتے وہ ریلیکس ہوئی تهی

“کیسے ہو وجدان…؟”
وہ مسکرا کر بولی
“آئی ایم گڈ منشا…”
وہ زبردستی مسکراہٹ چہرے پر سجائے بولا تها
“بتاو کس لیے بلایا ہے….؟”
منشا مکمل اس کی جانب متوجہ ہوتے بولی تهی
“میں تمہارے گهر جانا چاہتا ہوں…”
اس کی بات پر وہ چونکی تهی
“کیوں…؟”
“شادی کی بات کرنے…”
اب کہ وہ پهر سے زبردستی مسکراتے بولا
“لل-لیکن تمہاری فیملی نہیں آئے گی کیا…؟”
وہ لب کچائے الجهن کا شکار ہوئی
“شادی میں نے کرنی ہے گهر والوں نے نہیں…”
وہ دانت پیستے بولا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا تها اور وجدان نے چائے کا آرڈر دیتے اس کے تاثرات دیکهنے لگا تها
…………………………………
“تم لوگوں کی شاپنگ ہو گئی ہو تو چلیں…؟”
پارس ہاتھ میں موجود شاپنگ بیگز کا امبار دیکهتے بولا
“ہاں لیکن رستے میں اچها سا لنچ بهی کریں گے بهوک لگ رہی ہے…”
عالیاب ایک اور بیگ اس کو تهماتے بولی تهی
“نوکر سمجها ہوا ہے توبہ میرے باپ احشام ملک کی بهی اگر میں تم لوگوں کے ساتھ دوبارہ آیا تو کمبختوں نے ایک شرٹ بهی سہی سے خریدنے نہیں دی وہی پینڈووں والی پیلی اورنج اٹها کے لے دی ہے….”
وہ گهورتے بولا عالیاب کهل کر ہنسی لیکن دعا کو ایک سنجیدگی سے کهڑا دیکھ اس کی ہنسی کو بریک لگی اس نے پارس سے اشارے میں پوچها جس نے کندهے اچکائے تهے

“اوئے دعا کہاں کهو گئی….؟”
وہ اس کا کندها ہلاتے بولی تو وہ ہوش میں آئی
“ہاں…”
اور نا سمجهی سے اسے دیکها
“سعد بهائی نظر آگئے کیا جو یوں کهو گئی ہو….”
پارس نے شرارت سے کہا تو عالیاب پهر سے ہنسی
“سعد تو نہیں لیکن مجهے وہ وجدان بهائی لگ رہے ہیں…”
اس نے سامنے اشارہ کرتے کہا تو ان دونوں نے اس کے اشارے کی سمت دیکها تو وجدان کو دیکهتے مسکراہٹ کہیں کهو سی گئی تهی اور ایک لڑکی ساتھ بیٹهے دیکھ کر ان کو حیرت کا جهٹکا لگا تها

“ہیں تو وجدان بهائی لیکن یہ لڑکی کون ہے اور ان خے کپڑے بهی تبدیل ہو گئے ہیں..؟”
پارس حیرت سے بولا عالیاب کا دماغ ایک پل میں خراب ہو گیا تها اصل مرچی اس کی آنکهوں میں تب لگی جب اس لڑکی نے وجدان کے ہاتھ پر ہاتھ رکها تها
“ان کو تو میں بتاتی ہوں…”
وہ غصے سے چباتے ہوئے بولی اور اس جانب گئی وہ دونوں پریشانی سے اس کے پیچهے گئے تهے

“وجدان تم صرف مجھ سے پیار کرتے ہو نہ…؟”
منشا نے یقین دہانی چاہی تهی
“ہاں بالکل صرف تم سے پیار کرتا ہوں منشا…”
وہ دل پر پتهر رکهے بولا تها عالیاب جو ان کے قریب پہنچ گئی تهی وجدان کی بات سنتے اس کا دل جیسے کسی نے خنجر سے زخمی کر دیا ہو
“سکندر یہ کیا ہو رہا ہے…؟”
وہ غصے سے لیکن آہستہ بولی تهی اور وجدان جو منشا سے بات کر رہا تها عالیاب کی آواز سنتے اس نے ایک جهٹکے سے پلٹ کر عالیاب کو دیکها جس کی آنکهوں میں غصے کے ساتھ نمی بهی تهی

“تم کون ہو……؟”
ممشا نے وجدان سے پوچها تها
“تم سے بات نہیں کی اپنی بکواس بند رکهو…”
وہ شعلہ بار نظروں سے اس کو دیکهتے بولی تهی
“گهر جاو….”
وجدان کهڑے ہوتے چباتے ہوئے آہستہ سے بولا تها
“کیوں جاوں گهر کون ہے یہ جس کے ہاتهوں میں آپکا ہاتھ ہے اور محبت کا اظہار کر رہے ہیں…”
اس کی آواز بهرائی تهی لیکن وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تهی اسی لیے لہجے کو مضبوط بنایا تها
“گهر بات کرتے ہیں جاو…؟”
وہ بازو سے پکڑ کر قریب کرتا اس کے کان میں جهکتا بولا جو کہ اس کے ساتھ کهڑے دعا اور پارس بهی سن نہ سکے تهے اس نے اپنا بازو اس سے آزاد کروایا تها اور زخمی نظروں سے اسے دیکها تها

“سکندر کون ہے یہ….؟”
اب کے اس کی آواز سے لگا تها وہ ابهی رو دے گی
“تم کون ہو ہاں….؟”
منشا ان کی سائیڈ جاتی وجدان کے قریب کهڑی ہوتی عالیاب کو مزید آگ لگا گئی تهی عالیاب غصے سے اسے پیچهے وجدان سے دور دهکا دیتی اس کی گال پر اپنے ہاتھ کی چهاپ چهوڑ گئی تهی جہاں باقی سب متوجہ ہوئے تهے وہی سعد اور پارس کے ساتھ ساتھ وجدان بهی حیرت سے عالیاب کو دیکهنے لگی

“دور رہو سمجهی…”
اب کہ وہ چلائی تهی اس کے چلانے پر وجدان ہوش میں آیا اور اس کو بازو سے دبوچتا وہاں سے لے گیا تها
“چڑیل کہیں گی….”
دعا اس کو دیکهتے بولی جو اب غصے سے ان دونوں کو گهورنے لگی تهی پارس اور دعا اس کو زبان چڑهاتے ان کے پیچهے گئے تهے جب کہ منشا غصے سے ان کی پشت کو گهورنے لگی اور اردگرد کے لوگوں کو دیکها جو مزاق اڑاتی نظروں سے اسے دیکھ رہے تهے وہ غصہ پیتی بیگ اٹهاتی وہاں سے نو دو گیارہ ہوئی تهی
…………………………………
“سکندر ہاتھ چهوڑیں میرا سمجهے آپ…”
وہ بهپری ہوئی شیرنی کی مانند اس کی گرفت سے اپنا بازو آزاد کروانے کی کوشش کرتے ساتھ چلا بهی رہی تهی وجدان بنا اس کی چوں چراں سنے ایک سائیڈ پر لایا اور اس کو اتنی زور سے دیوار کے ساتھ لگایا کہ اس کو اپنا جسم اپنی جگہ سے دوسری جگہ شفٹ ہوتا محسوس ہوا تها اس نے کراہتے ہوئے وجدان کو دیکها جو غصے سے اسے ہی دیکھ رہا تها

“یہ کیا حرکت تهی ہاں کیوں مارا تهپڑ کیوں میری بات نہیں سنی جب کہا کہ گهر جا کر بات کرتے ہیں کیوں…؟”
پہلے غرا کر کہتے آخر میں دهاڑا تو وہ اس کی دهاڑ سنتی اچهلی تهی لیکن مضبوط بنی رہی
“کیوں تهے آپ اس کے ساتھ ہاں کیوں میری باتوں کا جواب نہیں دیا کیوں بتائیں کیوں…”
وہ آگے بڑهتی اس کو گریبان سے پکڑتی غصے سے اسی کے انداز میں بولی تو وجدان نے پہلے اردگرد دیکها جہاں کوئی بهی ان کی جانب متوجہ نہ تها ویسے بهی لوگ کم تهے اور پهر اپنی گرئے شرٹ کو دیکها جو اس کی مٹهیوں میں تهی

“میں پابند نہیں ہوں میں جب چاہوں جواب دوں گا….”
وہ اپنی شرٹ آزاد کرواتے اس کی کلائیوں کو گرفت میں لیتے بولتا اس کو مزید آگ لگا گیا تها
“تو ٹهیک ہے میں بهی آپ کے آرڈر کی پابند نہیں تهی کہ آپ نے کہا جاو اور میں چلی جاتی…”
اس نے اس کی آنکهوں میں دیکهتے ایک ایک لفظ چبا کر کہتے اس کو طیش ہی دلا دیا تها
“تم صرف میری پابند ہو جو چاہوں گا وہی ہو گا عالیاب سکندر ہو تم….”
وہ اس کی کلائیوں پر گرفت سخت کرتے بولا

“اگر میں پابند ہوں تو آپ بهی میری ہر بات کے پابند ہیں اس چڑیل کے پابند نہیں اور سہی کہا آپ نے عالیاب سکندر ہوں میں وجدان سکندر کی بیوی جسے اپنا حق وصول کرنا اچهے سے آتا ہے اور اگر اس کا شوہر اس کی تابعداری چهوڑ کر کسی دوسری عورت کے سامنے محبت کی پتنگے چڑہائے گا تو وہ پہلے اسے پهر اس عورت کو اوقات یاد دلانا جانتی ہے…..”
اس کے سخت الفاظ وجدان کے غصے کو ہوا دے گئے تهے اس کا دل کیا اس کا منہ توڑ دے جو اول فول بک رہی تهی اس کا دل صرف دل ہی کر سکا کیونکہ وہ مزید ڈرامہ کریٹ نہیں کرنا چاہتا تها نہ ہی اپنے غصے کی زد میں اسے نقصان پہنچانا چاہتا تها

“عالیاب مجهے مزید طیش مت دلاو سمجهی….”
وہ اس کے بازو کو مڑوڑتے بولا کہ اس بار درد سے اس کی آنکھیں نم ہوئیں تهی
“آپ اس عورت کے ساتھ کیوں تهے کیوں کہا آپ نے کہ آپ صرف اسی سے محبت کرتے ہیں….”
وہ درد میں ہی ایک ہاتھ اس کے سینے پر رکهتی نم آنکهوں سے بولتی اس کے غصے کو پل میں غائب کر چکی تهی اس نے آرام سے اس کا بازو چهوڑتے اس پر اپنے لب رکهے اور پهر اس کے ماتهے پر جهکنے لگا کہ وہ فوراً پیچهے ہوئی تهی وجدان نے اپنے لب بهینچے تهے

“پارس دعا….”
وہ عالیاب سے دو قدم کے فاصلے پر کهڑے ہوتا ان دونوں کو پکارا تو وہ چراغ کے جن کی طرح حاضر ہوئے تهے
“گهر جاو تینوں بیس منٹ میں گهر پہنچو ورنہ خیر نہیں اور گهر میں کسی کو خبر ہوئی تو تینوں کو ایسی سزہ دوں گا یاد رکهو گے اور تم….”
پہلے ان سے کہتا آخر میں عالیاب کی جانب مڑا جس کی آنکهوں میں شکوہ خفگی غصہ ناجانے کیا کیا تها
“تم سے گهر آکر بات کروں گا جاو اب….”
لہجہ حد درجہ سنجیدہ تها تو وہ ایک زخمی نگاہ اس پر ڈالتی وہاں سے چلی گئی تهی وجدان نے پیچهے اپنا ماتها مسئلہ تها کہ کہیں اس کا پلین خراب نہ ہو گیا ہو
…………………………………
منشا گاڑی کے پاس کهڑی اپنی توہین پر مسلسل کڑ رہی تهی کہ وجدان کو سامنے سے آتے دیکھ اس نے منہ پهیرا تها اور وجدان کا دل کیا اس کا بهی منہ توڑ دے سب کا منہ توڑ دے پوری دنیا کا منہ توڑ دے
“ناراض ہو….؟”
اس کے فارملی انداز پر پوچهنے پر اس نے غصے سے دیکها تها
“نہیں بہت خوش ہوں اس چهٹانک بهر کی لڑکی نے سب کے سامنے تمہارے ہوتے میری عزت کا جنازہ نکال دیا خوش تو ہونگی ہی…”
وہ تقریباً چلائی تهی وجدان نے ناگواری سے پہلے اس کے عالیاب کے بارے استعمال کیے ورڈ پر اور پهر اس کے چلانے پر اسے دیکها تها

“اتنی بڑی بات نہیں ہوئی جتنا تم ریلکٹ کر رہی ہو…”
“کیا مطلب بڑی بات نہیں بتاو کون تهی وہ…؟”
وہ آگے ہوتی اس کا گریبان پکڑتے بولی جس کو بےدردی سے وجدان نے چهڑوایا تها
“دوبارہ یہاں تک پہنچنے سے پہلے سو بار سوچنا یہاں پر پہنچنا صرف ایک انسان کا حق ہے بس اور رہی بات اس لڑکی کی تو اس سے غلطی ہو گئی ایکسکیوز کر چکی ہے وہ بهول جاو اسے اور اس تهپڑ کو….”
وجدان ایک ایک لفظ چباتے ہوئے بولا

“اتنی آسانی سے کیسے بهول جاوں اور اس نے مجھ سے ایکسکیوز نہیں کیا پهر اسے اس کے ایکسکیوز کا جواب دیتی جس نے غلطی میں میری عزت کا جنازہ نکال دیا…”
وہ اپنا ہاتھ اس کے بهاری بهرک ہاتھ سے چهڑواتے بولی تهی وجدان کے ماتهے پر بل پڑے تهے
“مجھ سے معافی مانگ لی تم سے مانگی ایک بات اب بهول جاو صرف وجدان سکندر کو سوچو وہ کون تهی چهوڑو اسے….”
وہ لہجہ نارمل کرنے کی کوشش کرتے بولا تو وہ خاموشی سے اسے دیکهنے لگی جو شکن آلود ماتهے سے اسے ہی دیکھ رہا تها

“میری محبت میں اتنا نہیں کر سکتی کیا..؟میں تو اپنے گهر والوں کو چهوڑنے کو تیار ہوں تمہاری محبت میں اور تم میرے لیے اس ایک تهپڑ کو نہیں بهول سکتی…”
منشا کو یوں لگا جیسے اس کا لہجہ اس کے لیے محبت برسا رہا ہو اس کا غصہ پل میں ہوا تها اس نے مسکرا کر اس کے ہاتھ تهامے تهے
“تمہارے لیے سب…”
“پرامس تم اداس نہیں ہو گی اس کے لیے ورنہ میرا موڈ خراب رہے گا….”
وہ اپنا ہاتھ چهڑواتے بولا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا
“پرامس شکایت نہیں دوں گی کہ اپ سیٹ ہوں یا سیڈ ہوں تم بس کبهی مت چهوڑنا مجهے….”
وہ آنکهوں سے ٹپکٹی محبت اس پر برساتت بولی تو وجدان بهی مسکرایا تها اس کی محبت میں نہیں بلکہ اس کے جال میں پهنسنے پر اور ادهر منشا اس کی محبت میں مکمل پاگل ہو چکی تهی اور وجدان یہی چاہتا تها
…………………………………
عالیاب نے راستے میں سوائے آنسووں بہانے کے کوئی کام نہ کیا تها وجدان نے دعا ک میسج کیا تها کہ رستے میں اس سے کسی قسم کی بات نہ کریں جس پر عمل کرتے پارس اور دعا نے اس سے بات نہ کی تهی بس وقفے وقفے سے اسے دیکهتے گهر پہنچتے ہی عالیاب بنا ان کی جانب دیکهے سیدها اپنے کمرے میں گئی تهی اور دروازہ زور سے بند کرتی بیڈ پر بیٹهی پهر سے آنسووں بہانے لگی تهی

“آئی ہیٹ یو سکندر….”
وہ روتے ہوئے خود سے بڑبڑائی تهی
“وجدان تم صرف مجھ سے پیار کرتے ہو نہ…؟
ہاں بالکل صرف تم سے پیار کرتا ہوں منشا…”
ان الفاظوں کے زہن میں آتے ہی عالیاب اور بلند آواز میں رونے لگی تهی اور چیزیں ادهر ادهر پهینکنے لگی تهی اس نے ٹائیم دیکها جو گهڑی چار کے قریب تهی وہ بیڈ پر اوندهے منہ گرتی آنسووں بہانے لگی تهی
…………………………………
دعا شیشے کے سامنے بیٹهی غائب دماغی سے سلجهے بالوں میں برش پهیر رہی تهی اس کا دماغ بالوں کی جانب تو بالکل بهی نہیں تها وہ اس قدر کهوئی ہوئی تهی کہ سعد کے کمرے میں داخل ہونے کا بهی علم نہ ہو سکا اور وہ بهی اس کی غائب دماغی نوٹ کرتا ساتھ کوٹ اتارا شوز اتارے اور پهر شرٹ کے بٹن کهولتا سلیپر پہنتا اس کے پیچهے کهڑا ہوا اور اس کے کندهوں پر ہاتھ رکها کہ وہ ایک دم سے چونکی تهی شیشے میں سعد کو دیکها جو سوالیہ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تها

“آپ کب آئے….؟”
وہ برش رکهتئ بولی
“جب تم کهوئی ہوئی تهی اتنا کهوئی تهی کہ شوہر کب کمرے میں آیا کوٹ شوز وغیرہ اتارے اور تمہیں پتا بهی نہیں چلا…”
وہ شکوہ کر بیٹها تو وہ شرمندہ ہوتی کهڑی ہوئی تهی
“سوری دهیان نہیں رہا…”
وہ اس کے سینے سے سر ٹکائے بولی
“کہاں تها دهیان…”
وہ اس کے سر پر تهوڑی ٹکائے اس کی کمر سہلاتے بولا
“کہیں نہیں چهوڑیں کهانا لاوں…”
وہ سر اٹهائے اس کے گلے میں باہیں ڈالتے بولی تو اس نے اثبات میں سر ہلاتے اس کی گال چومی تهی اور پیچهے ہوتا بیڈ پر بیٹها تها

“پہلے کپڑے نکال دو پهر کهانا لے آنا تب تک فریش ہو جاوں…”
وہ اس کو دروازے کی جانب جاتا دیکھ بولا تو اس نے سر ہاں میں ہلاتے الماری سے اس کے کپڑے نکالے اور اس کے پاس آئی تهی اور بیڈ پر کپڑے رکهتے اس کے پاس کهڑی ہوتی بالوں میں ہاتھ پهیرنے لگی سعد بهی آنکهیں بند کیے اس کے ہاتهوں کی جنبش بالوں میں محسوس کرنے لگا پهر کمر سے کهینچتے قریب کیا اور بیٹهے بیٹهے ہی ہگ کیا اور سر پیٹ سے تهوڑا اوپر ٹکایا تها وہ کام کی وجہ سے بہت زیادہ تهک جاتا تها یہ بات دعا بهی جانتی تهی اور وہ اپنی توجہ سے اس کی تهکن اتارنا چاہتی تهی
…………………………………
وجدان رات تقریباً دس بجے گهر آیا سب لوگ تقریباً اپنے کمروں میں آرام کے لیے جا چکے تهے وہ بهی کهانے کا ارادہ ترک کرتا اپنے کمرے کی جانب آگیا اس کے دیری سے آنے کی وجہ یہی تهی کہ وہ آرام سے عالیاب سے بات کر سکے ورنہ دن کے وقت وہ کوئی ڈرامہ کریٹ نہیں کرنا چاہتا تها وہ کمرے میں گیا تو عالیاب بیڈ پر آنکهیں موندیں لیٹی کمبل سینے تک تانا ہوا تها وجدان اپنے کمرے لیے واشروم میں گهس گیا اور دس منٹ بعد فریش ہو کر نکلتا گیلے بالوں کو تولیے سے رگڑنے لگا تها

“مل گئی اس لڑکی سے فرصت….”
عالیاب کی آواز پر تولیے سے بالوں کو رگڑتے اس کے ہاتھ رکے اور پهر گہرہ سانس لیتا اس نے تولیہ صوفے پر پهینکا اور اس کی جانب پلٹا جو سوجهی آنکهوں سے اسے ہی دیکھ رہی تهی اسے افسوس نے آن گهیرا تها
“یہ کیا حالت بنا لی ہے ہاں…”
وہ اس کے پاس بیٹهتا بولا اور اس کے چہرے کو چهوا جانا جس کو اس نے فوراً جهٹکا تها
“دور رہیں…”
اس کی آواز حد درجہ بهاری تهی

“تم مجهے چاہ کر بهی دور نہیں کر سکتی بیوی ہو تم میری…”
وہ اس کے چہرے کے قریب جهکتا چبا کر بولا
“تو کیا وہ بهی بیوی ہے جس کے قریب آپ بهٹک رہے تهے…”
اس کے طنز کا تیر اس کے دل کو چهلنی کر گیا تها
“میری محبت صرف اور صرف تم ہو میرا عشق میرا دل میرا سب کچھ صرف تم ہو جاناں….”
وہ محبت سے انگوٹها کبهی اس کی گال تو کبهی ہونٹ پر پهیرتے بولا
“یہ بات آپ نے اس لڑکی سے بهی کہی تهی…”
اس کی بات سنتے وہ پیچهے ہوا تها اور بیڈ سے اٹها تها
“آج کی رات خوبصورت کرتے ہیں جاناں چهوڑو ان باتوں کو….”
وہ اپنے سینے پر موجود وائٹ بنیائن بهی اتارتے بولا
“میرے قریب بهی مت آئیے گا ورنہ میں، میں جود کو نقصان پہنچاوں گی…”
وہ بیڈ سے اٹهتے غصے سے اردگرد متلاشی نظروں سے دیکهتے بولی اس کی بات پر وجدان کے ماتهے پر بل پڑے تهے
“دماغ مت خراب کرو عالیاب…”
وہ ماتهے پر ان گنت بل ڈالے بولا
“سیدهے سے کہیں میری قربت مجھ سے من بهر گیا ہے…”
وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکهے اس کو پیچهے دهکا دیتی بولی وہ بےبس محسوس کر رہی تهی اور وجدان نے سختی سے ہونٹ بهینچے غلط الفاظ کی ادائیگی سے خود کو باز رکها تها

“بات سنو…”
اس نے صبر کرتے اس کو بازو سے پکڑنا چاہا لیکن وہ فوراً پیچهے ہوئی
“میرا اس سے کوئی تعلق نہیں میری جان میرا سب کچھ صرف میری عالیاب ہے…”
وہ اب کہ بار بہت محبت سے بولا تو اس نے شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکها جیسے کہ رہی ہو جو میں نے دیکها اور سنا وہ کیا تها
“کوئی اور کہتا تو مرنا پسند کرتی لیکن یقین نہ کرتی لیکن آپ کے وہ الفاظ آپ کے منہ سے خود سنے آپ سوچ نہیں سکتے ان الفاظوں نے مجهے کس قدر ازیت پہنچائی کاش موت آجاتی…”
اس کی بات پر وہ تڑپ اٹها اور بےبسی سے اسے دیکها جو اسے سننا نہیں چاہتی تهی

“آئی لو یو…
وہ اس کی باتوں پر بهاری پتهر رکهتے اسے بازو سے کهینچ کر گلے لگاتا بولا کہ وہ بن پانی کے مچهلی کی مانند مچلنے لگی تهی
“آئی ہیٹ یو سکندر چهوڑیں زہر لگ رہا ہے مجهے آپ کا لمس اور قربت…”
اس کے زہر آلود الفاظ سنتے وہ ایک جهٹکے سے پیچهے ہوا اور ایسے دیکها جیسے کہ رہا ہو مت آزماو میرا صبر بہت پچهتاو گی عالیاب نے نظریں چرائیں تهی
“میں ماموں سے بات کروں گی سب بتاوں گی انہیں اور کہوں گی مجهے بابا پاس بهیج دیں مجهے نہیں رہنا آپ کے ساتھ میں آپ سے علیحدگی. ..”

“شٹ اپ عالیاب …”
عالیاب کی بات مکمل ہونے سے پہلے وجدان دهاڑا تها
“کیوں رہوں خاموش بتاوں گی میں آپ دوغلے انسان کا کہ کیسے آپ دهوکا دے رہے ہیں کیسے آپ میرے ہوتے کسی اور کے قریب ہیں کیسے ایک حرام تعلق….”
“عالیاب بس کرو میں مزید صبر نہیں کر سکتا…”
اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے وہ تنبیہ انداز میں پهر سے بولا تها جو ضبط کی انتہا پر تها
“یہ سب میری ڈیوٹی کا حصہ ہے جاناں…”
وہ بےبسی سے بولا

“بیوی کے ہوتے کسی اور کے قریب ڈیوٹی کا حصہ ہے ماموں نے تو کبهی ایسی ڈیوٹی نہیں کی آپ مجهے گمراہ نہیں کر سکتے میں ماموں کو بتاوں گی کہ آپ نے میرے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا…”
آخر میں آنسووں کا پهندا اس کے گلے میں اٹکا تها تو وجدان نے منہ پر ہاتھ پهیرتے خود کو کمپوز کیا تها
“کوئی کهلواڑ نہیں کیا ایک بار بات تو سنو…”
وہ اب آہستہ تهکے سے انداز میں بولا
“کچھ نہیں سننا مجهے جا رہی ہوں میں ماموں پاس ان کو آپ کو دوغلا چہرہ دیکهانے دهوکے باز ہیں آپ بتاوں گی اور کہوں گی کہ طلاق کے پیپرز…”

“عالیاب….”
وہ غصے سے دهاڑا اور اس کا ہاتھ اٹها تها جو اس نے ہوا میں ہی روکا اور اس کی مٹهی بنائے قہر برساتی نظروں سے عالیاب کو دیکها جو اس کے عمل سے سہم گئی تهی اس نے آگے بڑهتے اس کو منہ سے دبوچا تها
“بکواس بند کر لو اب اپنی اتنی بات نہیں جتنا ڈرامہ کریٹ کر دیا ہے اب اگر ایک لفظ بهی نکلا تو تمہاری یہی جان نکال کر یہی دفنا دوں گا…”
وہ ایک ایک لفظ چباتے بولا وجدان اس کی آنکهوں میں خوف کے سائے بخوبی دیکھ سکتا تها وجدان اس کو ایک جهٹکے سے چهوڑتا دروازے کی جانب مڑا تها

“کچھ بهی کر لیں میں آپ جیسے انسان کے ساتھ نہیں رہوں گی دهوکے باز ہیں طلاق لے کر….”
اور اگلے ہی لمحے وجدان واپس اس کی جانب مڑا اور اس کا اس کے منہ پر پڑنے والا بهاری برکم ہاتھ اس کے لفظوں کو بریک لگا گیا تها
…………………………………