No Download Link
Rate this Novel
Episode 57
وجدان داور خان کے قتل کی ہر پلیننگ کر چکا تھا اور وہ اپنے وفدار پولیس آفیسرز اپنے ساتھ لیتا آج اس کا انتم سنسکار کرنے جانا تھا یہ جانے بنا کہ سب اس پر بہت بھاری پڑنے والا ہے وہ اپنے ہی ہاتھوں سے دو عزیز تر جانوں کو ان کے حوالے کر چکا تھا
وجدان گھر آیا تو وقت دیکھا جہاں ساڑھے چار ہوئے تھے وہ پریہان کے کمرے میں گیا جو خالی تھا یہ سوچتے وہ کچن کی جانب آیا کہ شاید وہ کچن میں ہو لیکن کچن میں بھی پریہان موجود نہ تھی
“موم کہاں ہیں۔۔۔۔۔؟”
وجدان نے ملازمہ سے پوچھا تھا
“وہ تو عالیاب بی بی کے ساتھ ہوسپٹل گئی ہیں۔۔۔”
اس نے تابعداری سے بتایا
“ہوسپٹل کیون سب خیریت تھی۔۔۔۔؟”
“جی وہ عالیاب بی بی کی طبعیت خراب تھی تو بڑی بیگم جی انہیں ہوسپٹل لے گئیں۔۔۔۔”
اس کی بات پر وہ چونکا تھا
“طبعیت خراب تھی کیا ہوا اسے دوپہر تک تو میں ٹھیک چھوڑ کر گیا تھا۔۔۔۔”
بےچینی اس کے لفظ لفظ سے عیاں تھی
“معلوم نہیں صاحب جی۔۔۔۔”
وہ چہرہ جھکائے بولی تو وہ پریشانی سے کچن سے نکلا تھا
“عالیاب تم یہ کیا ہو گیا پتا نہیں اس کی طبعیت کیسی ہو گی اور موم بھی تھی ساتھ۔۔۔۔”
وہ پریشانی سے بےربط جملے ادا کر رہا تھا اور فون نکالے کال ملانا چاہی لیکن دونوں کا نمبر بند تھا اسے ڈھیروں پریشانی نے آن گھیرا تھا
“کیا ہوا برو۔۔۔۔؟”
زوہان جو تعبیر کے لیے جوس کا کہنے نیچے آیا تھا وجدان کو یوں پریشانی سے بار بار کال ملاتے دیکھ پوچھنے لگا
اس سے پہلے وجدان کچھ بولتا اس کا موبائل رنگ ہوا تھا اس نے نمبر دیکھا جو ان ناون تھا اس نے فون اٹھاتے کان سے لگایا تھا دوسری جانب سے ہنسنے کی آواز سنتے وہ سب سمجھتا غصے سے ہونٹ بھینچ گیا تھا
“کیسا لگا سرپرائز۔۔۔۔۔؟”
داور کی ہنستی آواز نے اس کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا تھا
“تم ابھی بچے ہو وجدان سکندر اب شاباش میری بات دھیان سے سنو تمہاری بیوی اور تمہاری ماں میرے پاس ہیں دونوں ہی خوبصورتی میں اپنی مثال ہیں لیکن میں تمہیں ایک موقع دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
وہ ہونٹ بھینچے اس کی بات سن رہا تھا
“ایک جگہ تیری بیوی ہے اور ایک جگہ تیری ماں اب تم خود ڈیسائیڈ کرو تمہیں کس جگہ جانا ہے اور اگر تو اپنے ساتھ کسی کو لایا تو تو دوسری جگہ موجود تیری ماں ہو یا بیوی اس کو اس دنیا سے آوٹ جر دیا جائے گا اب سوچ سمجھ کر فیصلہ کر لے میں تجھے تین لوکیشنز سینڈ کرتا ہوں دو لوکیشنز پر وہ موجود ہیں اب سہی فیصلہ کرنا تیرا کام ہے۔۔۔”
یہ کہتے وہ فون فورا سے کاٹ چکا تھا وجدان کی آنکھوں میں مرچی لگ رہی تھی اس نے اپنی مٹھیاں پھینچی تھیں
“کیا ہوا برو کس کا فون تھا کوئی پریشانی کی بات ہے۔۔۔۔؟”
زوہان نے اس کا پریشان زدہ چہرہ دیکھتے فکرمندی سے پوچھا تھا
“داور خان نے موم اور عالیاب کو اغواہ کر لیا ہے۔۔۔۔”
وجدان کی بات پر زوہان کے سر پر ساتوں آسمان گرے تھے
“عالیاب اور مامی جان خطرے میں ہیں وجدان ہمیں کچھ کرنا چاہیے جلدی سے۔۔۔۔۔”
وہ اس کو ایک جگہ ساکت دیکھ اسے ہلاتے بولا تھا جس کی رگیں غصے سے تن گئیں تھی
“زوہان گھر میں کسی کو اس بارے علم نہ ہو میں داور خان کو زمین میں زندہ گاڑ دوں گا۔۔۔”
وہ ایک ایک لفظ چباتے بولا جیسے دانتوں میں داور خان ہو
“وجدان ماموں جان کو بتانا ہو گا اگر انہیں پتا چلا اور دنیا ہلا دیں گے۔۔۔۔”
اس نے شہرام کا غصہ یاد کرتے کہا تھا
“نہیں میں سب خود سنبھال لوں گا ڈیڈ کو اس کا علم نہ ہو میں ان کے علم سے پہلے انہیں لے آوں گا۔۔۔۔”
وہ اپنے دماغ کے ہر حصے کو چلاتے ہوئے بولا تھا
“تمہیں لگتا ہے ان سے چھپا رہے گا پانچ بجنے والے ہیں رات تک سب کو علم ہو جائے گا وجدان۔۔۔۔”
“تمہیں کرنا ہو گا زوہان فکر مت کرو رات تک میں انہیں لے آوں گا۔۔۔۔”
وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے بولا تھا
“میں ساتھ جاوں گا تمہیں اکیلے موت کے منہ میں نہیں دھکیل سکتا۔۔۔”
وہ جو جانے لگا تھا زوہان نے اس کو بازو سے پکڑا تھا
“نہیں میرے بھائی تم یہاں سنبھالو باقی اللہ کے سپرد۔۔۔۔”
وہ اس کو سمجھاتے ہوئے بولا
“اپنا خیال رکھنا اور عالیاب اور مامی جان کو جلدی لے انا اس سے پہلے ماموں جان کا قہر نازل ہو۔۔”
وہ اس کے گلے لگتے بولا تھا اور پھر وہ اس سے دور ہوتا وہاں سے جلدی سے نکلتا محبوب کو فون ملایا تھا اور سب صورتحال بتاتے یہ کہا کہ اپنے جاسوس سے پوچھے کہ وہ لوگ کہاں ہیں
………………………………
عالیاب اور پریہان کو ہوش آیا تو خود کو کرسی پر بندھا ہوا پایا تھا
“مامی جان ہہ-ہم کہاں ہیں ۔۔۔؟”
عالیاب نے روتے ہوئے پریہان سے پوچھا تھا
“ششش میری جان رونا نہیں اللہ سے دعا کہ وہ ہماری مدد کرے رونے سے کچھ نہیں ہو گا الٹا نقصان ہو گا دعائیں کرو اللہ سے دیکھنا وہ ضرور مدد کرے گا۔۔۔۔۔”
پریہان نے پیار سے پچکارتے ہوئے کہا تھا تو اس نے سوں سوں کرتے سر اثبات میں ہلایا تھا
پریہان کو پچس سال پہلے کا وہ واقع یاد آیا تھا وہ ہر چیز کسی فلم کی مانند اس کے سامنے چلنے لگی تھی اور اسے خوف محسوس ہوا کہ کہیں وہ عالیاب کے ساتھ نہ ہو جائے جو اس کے ساتھ ہوا تھا اس نے شدت سے دعا کی تھی کہ اس کی جان لے لے لیکن عالیاب اور اس کے بیٹے سے وہ خوشی نہ چھینی جائے جس سے یہ اور شہرام آج تک محروم ہیں کیونکہ اس محرومی کی ازیت سے وہ بخوبی واقف تھی
………………………………
“محبوب کیا بتایا ہے اس نے۔۔۔۔؟”
وجدان محبوب سے ملتا سب سے پہلا یہی سوال کیا تھا
“سر بری خبر ہر ہمارے جاسوس کو اس بارے نہیں معلوم اسے دوسرے کام کے لیے دوسری جگہ بھیج دیا گیا ہے وہ بہت کوشش کر رہا ہے لیکن اس کو بھی یہی کہا گیا ہے کہ ان تین جگہوں پر اتنے بندے بھیجیں جائیں کہ وہاں سے کوئی بھی زندہ نہ نکل سکے۔۔۔۔”
اس نے اس جاسوس کی بتائی بات بتائی تھی وجدان کا خون کس قدر خول رہا تھا وہ اس کے دماغ کی ابھرتی نسیں واضع کر رہیں تھی
“سس-سر آپ کو چاہیے ٹھنڈے پانے سے منہ دھوئیں ورنہ اپ کا غصہ آپ کے لیے نقصان کا۔۔۔۔”
“محبوب میں ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا میرا غصہ ان پر قہر بن کر ٹوٹے گا۔۔۔۔”
وہ اس کی بات بیچ میں ٹوکتے ہوئے بولا تھا
“سر کیا کرنا ہے اب ہمیں۔۔۔۔؟”
“آدھے آدمی لو ایک طرف جاو باقی کے آدھے دوسری طرف اور میں تیسری طرف جاوں گا اکیلا۔۔۔۔”
اس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تھا
“سس-سر نہیں میں آپ کو اکیلے نہیں جانے دوں گا۔۔۔۔۔”
وہ کیسے اپنے سر کو یوں خطرے میں ڈال سکتا تھا
“کیا تم نے سنا نہیں اس نے کیا کہا ہے اگر ہم تینوں وقت میں اکھٹے جائیں گے تب ہی ہم ان کو بچا پائیں گے اگر ان کو شرا بھی بھنک پڑی تو میری بیوی اور میری موم کی جان خطرے میں جا سکتی ہے۔۔۔۔۔”
اس نے غصے سے کہا تھا
“لیکن سر آپ اکیلے گئے تو وہ بھی جان خطرے میں ڈال دیں گے۔۔۔۔۔”
“معلوم ہے مجھے جس طرف میں جاوں گا جاسوس سے کہو اسی طرف وہ بھی آئے اگر وہاں عالیاب یا موم ہوئیں تو وہ ان کو بھاگنے میں مدد کرے گا اور میں خود کی حفاظت کر لوں گا۔۔۔۔”
اس کی بات پر ناچاہتے ہوئے بھی محبوب نے اثبات میں سر ہلایا تھا اور پھر بیس منٹ میں وہ اپنی اپنی جگہ روانہ ہو گئے تھے
ان کا مشن سخت تھا اور وجدان نے شدت سے خواہش کی تھی کہ ڈی ایس پی مر جائے جس کی وجہ سے اس دن داور زندہ رہ گیا لیکن کہیں اس کی بھی غلطی تھی جس کا اسے اب شدت سے احساس تھا
………………………………
زوہان پریشانی سے کمرے میں ادھر ادھر ٹہل رہا تھا اور تعبیر بھی پریشان سی بار بار اسے تسلی دیتی کہ وہ پریشان نہ ہو
“تعبیر ماموں جان پوچھیں گے تو میں کیا کہوں گا پلیز اس سے پہلے وجدان سہی سلامت ان کو لے آئے ورنہ۔۔۔۔۔”
وہ جس قدر پریشان تھا اور فکرمند تھا وہ تعبیر بخوبی سمجھتی تھی تعبیر خود بھی بہت پریشان تھی
“آپ سہی کہہ رہے ہیں زوہان اللہ کرے وجدان عالیاب اور مامی جان کو لے ائے ناجانے وہ کس حال میں ہونگی اور عالیاب کی طبعیت بھی اچھی نہیں تھی۔۔۔۔”
وہ نم انکھوں سے بولتی سر کو تھام گئی تھی
“زوہان بیٹھ جائیں یوں حل نہیں نکلے گا۔۔۔۔”
وہ اس کو چکر کاٹتے دیکھ بولی تو وہ بیڈ پر بیٹھتا اپنا سر ہاتھوں میں گرا گیا تھا
“تعبیر میرا سر پھٹ رہا ہے۔۔۔۔”
وہ سر کو مسلتا ہوا بولا تو تعبیر نے اسے پانی کا گلاس تھمایا تھا جس سے اس نے دو تین گھونٹ بھرتے واپس کر دیا تھا اور پھر تعبیر نے اس کا سر دبانا شروع کیا تھا انہوں نے گھر میں کسی کو نہیں بتایا تھا نہ وہ کسی اور کو پریشان کرنا چاہتے تھے
………………………………
روحا گھر سے ضروری کام کا کہتی ایک ریسٹورنٹ میں آئی تھی جہاں شافع پہلے سے اس کا منتظر تھا
“بولو کیا مسئلہ ہے کیوں بلایا ہے۔۔۔۔؟”
وہ بیٹھتے ساتھ غصے سے بولی تھی
“تمہارے ناک پر ہر وقت غصہ کیوں رہتا ہے۔۔۔۔؟”
وہ اس کو یوں غصہ کرتے دیکھ مسکرا کر پوچھنے لگا تھا
“تم سے کچھ پوچھا ہے میں نے۔۔۔؟”
وہ ماتھے ہر بل ڈالے پوچھنے لگی تھی
“میں تم سے اتنا کچھ پوچھتا ہوں کیا تم نے کبھی ان کا جواب دیا ہے۔۔۔۔”
پھر سے اس کا الٹا جواب سنتے اسے لگا اس نے یہاں اکر غلطی کر دی ہے
“شافع۔۔۔۔”
اس نے چبا کر اس کا نام ادا کیا تھا
“اتنے پیار سے میرا نام لو گی تو کس کمبخت کا دل کرئے گا کہ وہ بولے اس کا تو بس یہی دل کرئے وہ اپنا نام سنتا رہے۔۔۔۔”
وہ دونوں ہاتھوں کی کہنیاں ٹیبل پر ٹکائے ہاتھوں کا پیالا بنائے اس میں منہ ٹکائے بولا تو اس نے اپنے سر پر ہاتھ مارا تھا
“پلیز اپنی فضولیات کو سائیڈ پر رکھتے جو بات کرنی ہے وہ کرو ورنہ میں جا رہی ہوں تمہارے کیے وقت نہیں میرے پاس۔۔۔۔”
اس نے ناگواریت سے کہا اپنی اتنی توہین پر بھی وہ مسکرا اٹھا محبت میں ایسا ہی تو ہوتا ہے محبوب کچھ بھی برا کہہ دے لیکن چہرے پر اس کی کسی بات کا کوئی شکن تک نہیں اتا
“جو بات کرنا چاہتا ہوں وہ سنو گی تو وہ بھی فضول ہی لگے گی۔۔۔۔”
وہ مسکرائے بولا تھا
“تو جب پتا ہے تو کیوں بلایا ہے۔۔۔۔؟”
اس نے کندھے اچکائے پوچھا تو وہ اس کا چہرہ دیکھنے لگا جہاں بیزاریت نہ تھی لیکن دیکھانے کی کوشش کی جا رہی تھی
“محبت کرنے لگا ہوں تم سے۔۔۔۔”
ان الفاظوں پر اس نے ایک جھٹکے سے اسے دیکھا تھا “اچھا پھر۔۔۔۔؟”
اس نے اس کی بات جو ہوا نیں اڑایا تھا
“رشتہ بھیجنا چاہتا ہوں شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔”
“اچھا مان لیا اور کچھ۔۔۔۔”
شافع نے اس کی بات سنتے سنجیدگی سے اسے دیکھا تھا
“میں سیریس کہہ رہا ہوں۔۔۔۔”
اس کی سنجیدگی اس کے چہرے سے عیاں تھی
“ہر کوئی ایسے ہی کرتا ہے جس نے فریب دینا ہو کبھی اس کی سنجیدگی دیکھی ہے ایسے لگتا ہے جیسے اس سے زیادہ کوئی آپ کے لیے سیریس ہی نہ ہو سو یہ ان دھوکوں میں اب نہیں آتی میں۔۔۔”
وہ بھی اس سے زیادہ سنجیدگی سے بولی تھی
“ٹھیک ہے میری سنجیدگی تمہیں تم ہی علم ہو گی جب تمہارے گھر رشتہ ائے گا اور ہاں انکار کی گنجائخ باقی نہ رہے۔۔۔”
وہ جرسی سے اٹھتے ہوئے بولا اور اس کے پاس سے گزرنے لگا تھا
“تم میرے بارے میں جانتے ہی کیا ہو میرا ماضی جانو گے تو یہ بڑی بڑی باتیں نہیں کرو گے۔۔۔؟”
اس کی بات پر وہ رکا تھا
“سب جانتا ہوں میں تمہارا ماضی ابراہیم کو ہر چیز کو مزید کچھ جاننا باقی ہو تو مجھے وہ نہیں جاننا مجھے تم سے محبت ہوئی ہے تمہارے ماضی سے نہیں۔۔۔۔”
وہ بنا اس کی طرف دیکھ کر بولتا اسے حیرت کے سمندر میں غوطہ زن چھوڑتا وہاں سے چلا گیا تھا پیچھے پل میں اس کی آنکھیں بھیگیں تھی اس نے دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے گہرا سانس لیتے اسے پرسکون کرنا چاہا تھا
………………………………
وجدان اس مطلوبہ ٹھکانے پر پہنچا جہاں مکمل خاموشی تھی اسے لگا شاید وہ اس غلط ٹھکانے پر آگیا ہے وہ کھنڈر نما جگہ جہاں مکمل خاموشی تھی اس کے بوٹوں کی آواز ارتعاش پیدا کر رہی تھی
“آپ ائے ہیں اکیلے ہمارے اس کھنڈر گھر میں
زرا رکیے ہم آپ کی امی اور بیوی کو بلاتے ہیں”
شعر کی آواز پر وہ پلٹا تو سامنے داور خان کو پاتے اس کا خون لاوے کی مانند ابلنے لگا تھا
“تم نے میری بات کو اتنا سیریس لے لیا سوچا نہ تھا سچ میں اکیلے آئے ہو۔۔۔۔”
وہ اردگرد دیکھتے ہوئے بولا
“تو میں نے پھر ایویں اتنے آدمی بلا لیے چلو ان کو کہہ دیتا یوں لڈو کھیلو تم لوگ بچہ اکیلا آیا ہے۔۔۔”
وہ آخر میں مسکرایا تھا تو وجدان بھی مسکرایا
“کمال ہے داور خان میں اتنے غصے میں تھا تمہارے اس شاعرانہ موڈ اور دوستاںہ انداز نے مجھے مسکرانے ہر مجبور کر دیا۔۔۔۔”
اس کی بات پر اس کو وجدان کی دماغی حالت پر شبہ ہوا تھا
“لڈو تو کھیلیں گے تیری ہر گیٹھی کو میری اکیلی گیٹھی نے نہ مارا تو نام بدل دینا میرا نہیں اپنا۔۔۔۔”
وجدان دل جلانے والی مسکراہٹ سے بولتا اس کی مسکراہٹ نوچ گیا تھا
“بھول مت تیری بیوی اور ماں میرے قبضے میں ہیں یہ نہ ہو ان کو اڑانے میں٫ میں ایک پل کی بھی دیری نہ لگاوں۔۔۔۔”
وہ غصے سے بولا تو وجدان غصہ ہونے کے باوجود اپنی مسکراہٹ کو برقرار رکھے ہوئے تھا داور کے اشارے پر چاروں سو سے اس کے آدمی نکلے تھے وجدان نے چیتے کی نگاہ سے ہر ایک کو دیکھا تھا اس کے پاس صرف دو گن تھیں ایک میں چھے اور دوسری میں ہاتھ گولیاں تھی جب کہ داور کے آدمی بیس پچس کے قریب تھے جن کی ہر بندوق میں اٹھ آٹھ گولیاں تھی اس نے سر کھجاتے ٹھنڈہ آہ بھری تھی
“دہشت چیک کر داور خان میری اتنا خوف میرا کہ میرے اکیلے کے لیے فوجیں بلائی ہیں تم نے۔۔۔”
وہ اب داڑھی کھجائے بےخوفی سے بولا تھا تو داور خان نے دانت پیسے تھے
اور پھر اس نے اپنے ایک آدمی کو اشارہ کیا تھا اور پھر دو منٹ بعد ہی چیخنے کی آوازیں آنے لگیں تھی اس نے سامنے دیکھا جہاں اس کی بیوی اور موم دونوں تھیں اس کے دل میں ٹھنڈک پڑی تھی مطلب وہ اسے اور اس کے آدمیوں کو گمراہ کرنا چاہتا تھا باقی آدمیوں کو دوسری جگہ بھیجتے وہ اسے اکیلا یہاں بلانا چاہتا تھا
“وجدان۔۔۔۔”
پریہان نے وجدان کو دیکھتے پکارا تھا جو ان دونوں کو ہی دیکھ رہا تھا
“سکندر سکندر ہمیں چھڑوائیں۔۔۔۔”
عالیاب ایک ادمی کی گرفت سے اپنا بازو آزاد کروانے کی کوشش کرتے روتے ہوئے بولی تھی اس کو روتے دیکھ اس کا دل بری طرح کٹ گیا تھا
“داور خان ان دونوں کو جانے دے میں یہاں ہوں حساب برابر کر لیتے ہیں۔۔۔۔”
وہ ان دونوں کو دیکھتے داور سے بولا تھا
“میرے حساب تیرے پورے خاندان کو دفنا کر پورے ہونگے۔۔۔۔۔”
“تجھے کتے کی موت ماروں گا کہ سب کے لیے عبرت بنے گا تو۔۔۔”
اس نے غصے سے غرا کر کہا تھا
“اوئے ایس ہی۔۔۔۔”
داور نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا تھا
“ایک چوائس دیتا ہوں تجھے تو مارنا ہی مارنا ہے لیکن ان دونوں میں سے تو کسے بچائے گا ایک کی جان بخشنے کا دل ہے میرا تو خود چوز کر کسے چھوڑوں بیوی چاہیے یا ماں۔۔۔۔؟”
“دونوں کو چھوڑ دے مجھے مار دے۔۔۔۔۔۔”
وہ ان دونوں کو دیکھتے ہوئے بولا جو رو رہیں تھی
“نہیں ان دونوں میں سے ایک۔۔۔۔”
اس نے نفی میں سر ہلاتے کہا
“مم-مجھے مار دو اسے جانے دو۔۔۔۔”
پریہان جلدی سے بولی تھی
“نن-نہیں مامی جان۔۔۔۔”
جہا وجدان تڑپا تھا وہی عالیاب نے تڑپ کر نفی میں سر ہلایا تھا
“آخری فیصلہ۔۔۔۔”
اس نے پریہان سے ایسے پوچھا جیسے کو شو ہو اور اس میں قرعہ اندازی ہو رہی ہو
“ہاں میرے پاس ایک سرپرائز ہے وجدان تیرے لیے۔۔۔۔”
کچھ یاد آنے پر وہ گن کی نوک سے کنپٹی پر خارش کئیے بولا تو وجدان نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا
“تیری بیوی ماں بننے والی ہے۔۔۔۔”
وجدان پر یہ خبر بجلی بن کر گری تھی اس نے عالیاب کو دیکھا جو رو رہی تھی اور پھر داور خان کو
“نہیں یقین تو یہ رپورٹس ہوسپٹل اسی لیے گئیں تھی دیکھ کو بےشک۔۔۔”
وہ رپورٹس اس کے آگے پھینکتے ہوئے بولا تو اس نے زمین پر گری رپورٹس کو دیکھا پھر عالیاب اور پریہان کو جنہوں نے سر اثبات میں ہلایا تھا وجدان کو لگا وہ بےبسی کی انتہا پر ہو اسے لگا زمین اس کے نیچے سے دھیرے دھیرے سرک رہی ہو سارے امتحان جیسے آج ہی شروع ہوئے ہوں
“داور میری بیوی اور میری موم کو جانے دے۔۔۔۔”
وہ ہونٹ بھینچ گیا تھا
“تو کیا تیرے بچے کو مار دیں تم نے اس کے جانے کا زکر ہی نہیں کیا۔۔۔۔”
اس کی بات ہر وہ تڑپ اٹھا تھا لیکن وہ کسی صورت داور کے سامنے اپنی تڑپ نہیں دیکھانا چاہتا تھا
“اچھا ایک اور بات میں آنکھ بند کرتا ہوں دونوں میں سے جسے گولی لگی وہ مر جائے گی دوسری کی جان بخش دیں گے کیا خیال ہے۔۔۔۔”
“اور میں کھلی آنکھوں سے تیرا بھیجا اڑا دوں گا داور خان اگر انہیں خراش بھی آئی تو۔۔۔۔”
اس نے چلا کر کہا تھا
“آواز نیچی ورنہ۔۔۔۔”
اس نے ان پر گن تانتے ہوئے کہا
“داور خان نہیں۔۔۔۔”
اس نے گن نکالتے اس کی جانب کئیے کہا تو سب کی بندوقوں کا رخ وجدان کی جانب ہوا تھا
“بےوقوف مت بننا وجدان ورنہ اپنی بےوقوفی سے دوسری کی بھی جان جائے گی۔۔۔”
اس نے وارن کیا تھا تو وجدان نے قہر برساتی نظروں سے داور کو دیکھا
“شو تو بہت اچھا چل رہا ہے۔۔۔۔”
جانی پہچانی آواز پر وہ پلٹا تو سامنے موجود شخصیت کو دیکھتے اس کی آنکھوں کو لگا شاید یہ دھوکا ہو اسے لگا شاید اس کی آنکھیں غلط دیکھ رہی ہوں اس نے نفی میں سر ہلایا تھا اور دوسری جانب گولی چلی تھی اور ساتھ دل خراش چینخ بھی گونجی تھی وہی وجدان اس گولی کے ساتھ مکمل ساکت ہوا تھا اور قدم لڑکھڑا گئے تھے
………………………………
