Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 48

“وہ احساس ہی خوش کن ہوتا ہے جب صبح سویر آنکھ کھولتے ساتھ سب سے پہلا منظر جو دیکھنے کو ملے وہ اپنی محبت کو پہلووں میں دیکھنا ہو ایک بےتحاشہ خوبصورت مسکراہٹ آپ کے چہرے پر احاطہ کر لیتی ہے اور خواہش ہوتی ہے ایسی صبح کبھی ختم نہ ہو”

زوہان اپنے پہلووں میں لیٹی اپنی محبوبہ کو دیکھتے مسکراتے رب کا شکر ادا کرتا اور دل کمبخت تھا کہ چھیڑ خانی کو اتر رہا تھا لیکن اس نے دل میں جاگنے والی سب چھیڑ خانیوں شرارتوں کو ایک سائیڈ پر اکھٹا کیا تھا جو کہ بہت مشکل تھا لیکن یہ دلاسا دئیے کہ یہ چھیڑ خانیاں یہ شرارتیں رات٫ آج کی آنے والی حسین رات میں کام آنی تھیں

“جانم اٹھ جاو یار آج ہمارا ولیمہ ہے۔۔۔۔”
وہ الٹا لیٹا اس کی پرف چہرہ کئیے ہاتھ بڑھا کر اس کی گال کو چھوتے بولا تھا
“ڈاکٹر تعبیر انجیکشن دوں یا اٹھ رہی ہیں۔۔۔؟”
اس کو ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ وہ شرارت سے بولا تھا
“اور وہ انجیکشن مریضوں والا تو بالکل نہیں ہو گا۔۔۔۔۔۔”
وہ خمار زدہ نظروں نیں شرارت کی رمق لیے اس کے قریب ہوتے بولا تھا وہ جو اس کا سامنا کرنے کے ارادے میں نہ تھی اور سونے کا ارادہ رکھتی تھی اس کی زومعنی بات سنتے پھٹ سے آنکھیں کھول گئی تھی

“زوہان آپ دن با دن فری نہیں ہو رہے۔۔۔؟”
وہ کڑے تیوروں سے بولی تھی تو اس ںے نفی میں سر ہلایا
“ابھی فری ہی کہاں ہوا ہوں رات میں بتاو گا فری ہونا کسے کہتے ہیں۔۔۔۔”
وہ پیچھے ہوتا بیڈ پر بیٹھتے بولا تھا
“کیا مطلب ۔۔؟”
وہ بھی اٹھ کر بیٹھی تھی
“سارے مطلب ابھی سمجھا دئیے تو ولیمے میں منہ چھپاتی پھرو گی۔۔۔۔”
وہ مسکراہٹ دبائے بیڈ سے اٹھا تھا تعبیر نے دانت کچائے تھے
“رات میں کسی قسم کی چھچھوری حرکت کے بارے میں سوچئیے گا بھی مت۔۔۔۔”
وہ دانتوں کو پیستے ہوئے بولی تھی

“ہسبنڈ وائف کے بیچ ہونے والا پیار چھیچھورا پن تو نہیں گنا جاتا یہ تو ثواب کا کام ہے تم نہیں چاہتی تمہیں بےتحاشہ ثواب ملے۔۔۔”
اس کے شرارت آمیز لہجے پر اس نے پہلو بدلا تھا اور پھر خود بھی بیڈ سے اٹھی تھی
“دیکھتی ہوں کیسے میری مرضی کے بنا مجھے چھوتے ہیں۔۔۔”
وہ بڑبڑائی تھی اس کی بڑبڑاہٹ زوہان بخوبی سن چکا تھا
“چھو تو میں تمہیں چکا ہوں بس اب تو۔۔۔۔”
وہ اس کی گھوریوں پر بات ادھوری چھوڑتا لب دانتوں تلے دبا گیا تھا اور وہ اس کو گھوریوں سے نوازتی واشروم میں گھس گئی تھی جب کہ زوہان نے آنکھیں گھمائیں تھی کیونکہ وہ اسے باتوں میں لگاتی خود پہلے واشروم گھس گئی تھی
………………………………
گھر میں زیادہ سجاوٹ نہ کی گئی تھی لیکن جتنی سجاوٹ کی گئی تھی وہ ملک ویلا کی شان کو مزید چار چاند لگا رہی تھی وہ ہلکی پھلکی سی مناسب سجاوٹ بھی بےتحاشہ خوبصورت لگ رہی تھی
لاونچ میں عورتوں کا انتظام کیا گیا تھا جب کہ گارڈن میں مردوں کا انتظام تھا گارڈن کے دوسرے ایریے میں خاص لوگوں کا انتظام تھا جو زوہان کی٫ کی جانے والی خواہش کا حصہ تھی

گھر عورتوں کا تھیم پیچ اور گولڈن کلر کا تھا جس پر گولڈں ہی حجاب کیا گیا تھا جب کہ تعبیر کا بھی یہی کلر تھا لیکن اس کا ڈریس باقی عورتوں کی نسبت تھوڑا بھاری تھی
جب کہ مردوں کا بھی لائٹ براون کاٹن میں شلوار قمیض اور اس پر ڈارک براون واسکٹ تھی یہ سب انہوں نے مل کر ڈیسائیڈ کیا تھا اور سب زوہان کی مرضی سے ہو رہا تھا
………………………………
وجدان نگ سگ سا تیار بیڈ پر بیٹھا کسی گہری سوچ میں گم تھا جب عالیاب چوڑیاں پہنتی کمرے میں داخل ہوئی اس کے گم سم کی وجہ وہ اچھے سے جانتی تھی اسی لیے ساری چوڑیاں واپس اتاری اس کے پاس بیٹھی اور اس کے سامنے چوڑیاں بڑھائیں تھی اس نے اپنے سامنے بڑھی چوڑیوں کو دیکھا اور پھر عالیاب کو جو تمام تر حسن سمیٹے ااس کے سامنے بیٹھی تھی اس نے مسکرا کر چوڑیاں تھامتے اس کے ماتھے پر لب رکھے اور پھر وہ دھیرے دھیرے چوڑیاں پہنانے لگا تھا

“زوہان بھائی کو سوچ رہے تھے۔۔۔۔؟”
اس کی بات سنتے اس کے چوڑیاں پہناتے ہاتھ رکے تھے
“زندگی کتنی تبدیل ہو گئی ہے چند ہی دنوں میں۔۔۔۔”
وہ اس کے ہاتھ میں دھیرے دھیرے چوڑیاں پہناتے بولا تھا
“کچھ نہیں بدلا کیوں آپ ایسے سوچ رہے ہیں۔۔۔؟”
اس نے اس کو انہی سوچوں سے نکالنا چاہا تھا
“وہ وقت یاد ہے جب ہم ہر فنکشن پر اکھٹے تیار ہوا کرتے تھے اور میری شادی کے بعد بھی میں تیار ہو کر اس کے پاس چلا جاتا تھا۔۔۔”
اس کا لہجہ تکلیف دہ تھا

“اب دیکھو میں تیار ہو کر اپنے کمرے میں بیٹھا ہوں۔۔۔۔”
اس نے اس کے گورے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے کہا تھا اور زوہان جو اس کے کمرے میں آ رہا تھا کہ اس کی بات سنتے قدم وہی دروازے پر رکے تھے دروازہ تھوڑا سا کھلا ہونے کی وجہ سے باہر آواز واضع آ رہی تھی

“پہلے بےدھڑک بنا کسی روک ٹوک کے میں اس کے کمرے میں جاتا لیکن دیکھو جب سے شادی ہوئی بےشک ایک ہفتہ ہی ہوا میں اس کے کمرے میں نہیں گیا جانتی ہو کیوں۔۔۔۔؟”
اس نے بولتے آخر میں عالیاب کی طرف دیکھتے پوچھا جس نے نفی میں سر ہلایا تھا
“کیونکہ اب اس کی زندگی میں٫ میں اکیلا نہیں اب اس کے کمرے میں جانے کے لیے مجھے اجازت درکار ہو گی جو کہ میرے لیے تکلیف دہ ہو گی۔۔۔”
اس کی آواز بھاری ہو رہی تھی اور دروازے کے باہر کھڑے زوہان کے کانوں میں اس کے الفاظ لاوا انڈیل رہے تھے اس نے گہرہ لمبا سانس لیتے اس تکلیف کو کم کرنا چاہا جو اس کی بات سے اس کے دل میں اٹھی تھی

“پلیز پریشان نہ ہوں یوں خود پر ایسی باتیں سوار نہ کریں۔۔۔۔”
عالیاب آگے بڑھتی اس کے گلے سے لگی تھی اور باہر زوہان نے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھتے اس پر گرفت مضبوط کی تھی آنکھوں میں نمکین پانی آیا تھا لیکن فورا صاف کر گیا تھا اور وہی سے واپسی کو قدم بڑھا لیے تھے اس نیں ہمت نہ تھی وہ وجدان کے کمرے میں جا پاتا

“ناجانے کس کمبخت نے لکھ دیا کے مرد کو درد نہیں ہوتا ناجانے کس نے یہ مرد کے آنسووں پر پہرہ لگا دیا وہ بےچارہ تو اسی وجہ سے کھل کر رو بھی نہیں سکتا اپنا درد بھی بیاں نہیں کر سکتا”
………………………………
نیچے ہر قسم کی تیاریاں مکمل تھیں مختلف قسم کے کھانے بھی بنوائے گئے تھے زوہان سعد کے ساتھ کھڑا کچھ گفتگو کر رہا تھا جب وجدان نیچے آیا زوہان کو دیکھتے وہ زبردستی مسکرایا اور اسے پاس آتے گلے لگا تھا

“مبارک برو ولیمے کی۔۔۔۔”
وہ اس کے گلے لگے محبت سے بولا
“تیری جگہ اس دنیا میں موجود کوئی بھی نہیں لے سکتا تعبیر بھی نہیں اپنے دل سے سب شک و شبہات نکال دو یا پھر میں اپنے طریقے سے نکال دوں گا…”
وہ اس کے کان کے قریب بولتا پیچھے ہوا اور مسکراہٹ چہرے پر سجائے اس کے حیران زدہ چہرے کو دیکھا وہ دونوں اکیلے تھے کیونکہ سعد شہرام کے بلانے پر اس جانب چلا گیا تھا

“وہ۔۔۔۔”
اسے سمجھ نہ آیا وہ کیا بولے
“میں اس دنیا میں امی بابا تعبیر ان سب سے زیادہ تمہیں چاہتا ہوں میرے بھائی پھر دہرا رہا ہوں پوری دنیا ایک طرف اور وجدان سکندر ایک طرف اور میں دنیا چھوڑ کر وجدان سکندر کو چنوں گا صرف اس بات کو اپنے زہن میں رکھ بس۔۔۔”
وہ اس کے دونوں شانوں پر اپنے ہاتھ ٹکائے بولا تھا تو اس نے چہرہ جھکایا تھا

“اگر میرے کمرے میں تمہیں ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے تو ایک میسج کر دیا کرو سب چھوڑ کر تیرا بھائی حاضر ہو گا۔۔۔”
اس نے سختی سے آنکھیں میچیں مطلب وہ سب سن چکا تھا اس کو یوں آنکھیں میچتے دیکھ اس نے آگے بڑھتے اسے گلے سے لگایا تھا
“آئی لو یو پلیز غلط سوچ کر خود کو تکلیف مت دے میری محبوبہ۔۔۔”
پہلے سنجیدگی اور پھر آخر میں شرارت سے کہا تو وہ اس سے الگ ہوتا نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا اٹھا تھا
“چلو چلتے ہیں بابا بلا رہے ہیں۔۔۔”
وجدان اس کے بالوں کو سہی کرتے بولا پھر اس جانب چلے گئے جہاں مصطفی ان کو بلا رہا تھا
………………………………
“مجھے زوہان کی یہ فرمائش بہت پسند آئی ہے۔۔۔۔؟”
آبریش سامنے نیچے بچھے کالین پر بیٹھی عورتوں کو دیکھتے بولی تھی جو قرآن پاک پڑھ رہیں تھی
“تم سہی کہہ رہی ہو آبر ایسا خیال کبھی زہن میں نہیں آیا اگر آیا ہوتا تو شاید باقی سب پر بھی ایسے ہی ارینجمنٹ کرتے۔۔۔۔”
وہ عالیاب کو ان عورتوں کے ساتھ بیٹھتے دیکھ بولی جو سلام کرتی ٹیبل سے ایک سپارہ اٹھا چکی تھی
“خیر اس میں اللہ کی کوئی رضا ہو گی وہ جو بھی کرتا ہے بہتر کرتا ہے۔۔۔”
زرش نے کہا اور پھر تینوں خود بھی ان عورتوں کے پاس چلی گئیں تھی پورا لاونچ عورتوں سے بھرا تھا لیکن پھر بھی مزید جگہ موجود تھی کہ مزید عورتیں بیٹھ جائیں عورتوں کی سائیڈ پردہ لگایا گیا تھا جب کہ دوسری سائیڈ پر ٹیبلز لگائے گئے تھے اور سامنے زوہان اور تعبیر کے لیے سٹیج بنایا گیا تھا تعبیر جو ابھی تیار ہو رہی تھی اسی لیے دونوں وہاں نہیں آئے تھے
………………………………
زوہان سمیت گھر کے سب مرد گارڈن میں موجود تھے اور دوسروں خاندان والوں سے خوش گپیوں نیں مصروف تھے
“زوہان تم نے اتنا بڑا سرپرائز دیا ہے میرے پاس بھی ایک سرپرائز ہے جو بہت جلد پہنچنے والا ہے۔۔۔”
حارز نے کہا تو اس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا شہرام کے علاوہ باقی سب نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا
“کون سا سرپرائز چاچو۔۔۔۔؟”
زوہان کی بجائے سعد بولا تھا
“لگ جائے گا پتا۔۔۔”
اس نے مسکراہٹ دبائے کہا تو انہوں نے اثبات میں سر ہلایا تھا

“بابا جو لوگ میں ںے کہے تھے وہ آگئے ہیں۔۔۔؟”
زوہان کو خیال آنے پر اس نے مصطفی سے پوچھا تھا
“ہاں چلو دیکھ کو ان کو۔۔۔۔”
وہ اس کو ساتھ لیے گارڈن کی دوسری سائیڈ پر آیا تھا زوہان وجدان سعد اور مصطفی وہ چاروں اس جانب آئے تھے اور سامنے کا منظر پہلے حیرت اور پھر مسکراہٹ بکھیر گیا تھا اس کی آنکھوں میں چمک سی جاگی تھی

“تمہاری فرمائش کے مطابق اتنے بڑے کراچی کے سبھی اولڈ ہوم میں بہترین کھانا جو گھر کے مہمانوں کے لیے ہے وہ بھیجوا چکے ہیں اور یہ قریبی ہولڈ ہوم سے لائے گئے بزرگ ہیں۔۔۔۔”
مصطفی نے نم آنکھوں سے اس کو تفصیل بتائی اور سامنے موجود ان بزرگ کو دیکھا جو ٹیبل کرسیاں چھوڑے نیچے آمنے سامنے قطار بنا کر بیٹھے تھے کبھی کوئی بات کر لیتے تھے ان میں سے زیادہ کپلز تھے جن کا گزارا اپس میں ہو جاتا تھا لیکن کچھ تن تنہا تھے جنہوں نے اولڈ ہوم کو ہی اپنا فھر بنا لیا تھا اور شاید وہی ان کا گھر تھا

“بچے اتنے ظالم کیسے ہو سکتے ہیں بابا وہ کیسے ان والدین کو اولڈ ہوم چھوڑ سکتے ہیں جنہوں نے ان کے پیدا ہونے سے لے کر جب تک وہ اپنے پیروں پر کھڑے نہ ہو جائیں اپنے سینے سے لگایا۔۔۔۔”
وجدان افسوس سے ان کو بولا جن میں سے کچھ افسردگی سے مسکرا رہے تھے

“جو آج ان کے بچوں نے کیا کل ان کے بچے بھی وہی کریں گے تب انہیں احساس ہو گا کہ ان کے والدین کتنی ازیت سے اولڈ ہاوس میں رہ رہے ہیں۔۔۔۔”
سعد بھی بولا تھا
“میں ان سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
زوہان نے مصطفی سے کہا
“ہاں ضرور ہم نے بلایا ہے ہم نہیں ملیں گے تو کون ملیں گے ۔۔۔”
مصطفی نے اس کا کندھا تھپتھپایا پھر وہ چاروں ان کی جانب چلے گئے ان کو دیکھتے وہ سب کھڑے ہوئے تھے

“ارے بیٹھے رہیں۔۔۔۔”
وجدان جلدی سے بولا تو وہ سب مسکرائے تھے
“بہت بہت شکریہ آپ کا۔۔۔۔”
ان میں سے ایک ادمی بولا جو لگ بھگ پچاس یا اس سے زیادہ ہو گا اور پھر وہ ان سے باتوں میں مصروف ہو گئے تھے
“بھیا آپ کے سسرال والے اگئے ہیں اور مامی جان کہہ رہی ہیں دلہن بھی تیار ہے اور عورتوں نے بھی اپنا کام مکمل کر لیا ہے۔۔۔”
پارس ان کے پاس اتا زوہان سے ایک ہی سانس میں بول گیا پھر آخر میں گہرا سانس لیا تھا
“سانس تو لے لے۔۔۔”
سعد نے مسکرا کر کہا

“یہ بھی بھتیجا ہے میرا۔۔۔”
مصطفی نے ان لوگوں سے اس کا تعارف کروایا وہ لوگ لگ بھگ پچاس ساٹھ کے قریب ہونگے
“جی یہ تو جب سے ائے ہیں کافی بار اچکا ہے۔۔۔”
ان میں سے ایک محبت سے اسے دیکھتے ہوئے بولا
“چلو چلتے ہیں خیال رکھیں اور یہ ٹیبل کرسیاں اپ سب کے لیے ہی ہیں۔۔۔”
مصطفی بولا تو انہوں نے اثبات میں سر ہلایا اور وہ سب بھی اندر کی جانب چلے گئے تھے
………………………………
زوہان کمرے میں آیا تو تعبیر بیڈ پر بیٹھی جوتی پہن رہی تھی دروازہ کھلنے پر اس نے زوہان کو دیکھا دونوں کی نظروں نے آپس میں تکرار کی تھی اور اس تکرار نیں تعبیر کی نظریں ہارتے ہوئے جھک گئیں تھی

“اگر کوئی پوچھے حسن کہاں تمام ہوا تو میں بنا کسی بات کے تمہارا زکر کروں۔۔۔۔”
وہ اس کے قریب اتے بولا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا اس کا بڑھا ہوا ہاتھ دیکھتے وہ سوچ میں پڑی تھی
“تھام کو یقین جانو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔”
وہ اس کو سوچ کی گہرائیوں میں مبتلا ہوتے دیکھ بولا تو اس نے ہچکچاتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا تھا

“امی لوگ آگئے ہیں۔۔۔؟”
اس نے کھڑے ہوتے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا
“آپ سچ میں اچھے ہیں۔۔۔۔۔”
وہ اس کے سامنے کھڑی پوچھنے لگی تھی
“پوچھ رہی ہو یا بتا رہی ہو۔۔۔۔؟”
“اپ جو مرضی سمجھ لیں۔۔۔”
اس نے کندھے اچکائے تو زوہان نے آنکھیں گھمائیں تھی
“مجال ہے جو دو پل تعریف کر دو اپنے شوہر کی لیکن آج رات مکمل تعریفوں کا ارادہ ہے۔۔۔”
وہ اس کے حجاب پر سائیڈ سے انگلی پھیرتے بولا تھا
“لل-لیکن۔۔۔”
وہ گڑبڑائی تھی
“نہیں ابھی لو یو مت بولنا رات کے لیے سب جزبات بچا جر رکھو۔۔۔”
وہ اس کی بات بیچ میں ٹوکتے ہوئے بولا تو اس نے گھورا تھا
“چلیں اگر آپ کی باتیں ختم ہو گئیں ہو تو۔۔۔”
اس نے چباتے ہوئے کہا
“دل کر رہا ہے تمہیں اٹھا کر لے جاوں۔۔۔”
وہ اس کے قریب ہوتے کمر پر ہاتھ رکھتے بولا تو وہ فورا پیچھے ہوئی
“دل پر سیلاب بہائیں اور چلیں ۔۔”
اور بنا اس کی سنے دروازے کی جانب قدم بڑھائے تھے

“شوہر کو تو لیتی جاو اکیلا چھوڑو گی تو ڈر جائے۔۔۔۔”
اس نے شرارت سے کہا تو تعبیر نے نفی میں سر ہلایا تھا اور پھر اس کے ساتھ چلتی زینے اترنے لگی تھی
وہ دونوں نیچے آئے تو دو کیمرہ مین جو ان کی مووی کے ساتھ پکس بھی بنا رہے تھے وہاں موجود سب نے رشک بھری نظروں سے اس چوڑی کو دیکھا تھا
سب خاموشی سے بنا کسی میوزک کے سٹیج کی جانب آتی اس جوڑی کو دیکھ رہے تھے

“بہت بہت مبارک ہو زوہان مصطفی۔۔۔۔”
وہاں ایک بلند آواز گونجی تھی اور سب نے اس آواز کی سمت دیکھا تھا ملک ویلا کے افراد میں سے حارز اور شہرام کے علاوہ سب نے حیرت سے اس شخصیت کو دیکھا تھا پھر ایک دم سے سب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی

“شافع۔۔۔۔”
سب سے پہلے وہاں وجدان کی اواز گونجی تھی شافع بلیک شلوار قمیض جس کے کف فولڈ کئیے کالی ہی داڑھی اور خوبصورت کالی انکھوں پر گوگلز کا پہرہ لگائے بڑی شان سے کھڑا مسکرا رہا تھا اور پھر ملک ویلا کے سب لوگ اس کی جانب گئے تھے جو مسکراتے ہوئے ان کو دیکھ رہا تھا
زوہان بھی تعبیر کا ہاتھ تھامتے اس جانب گیا تھا کیمرہ مین بھی اس منظر کو بخوبی قید کر رہے تھے جہاں سب اس سے باری باری مل رہے تھے

“شافع تم کب بتایا نہیں اتنا بڑا سرپرائز۔۔۔۔”
سعد اس کے گلے لگتا خوشی سے بولا
“بس میں نے بابا سے کہا تھا کسی کو بتائیے گا مت زوہان کو اس کے ولیمے پر سرپرائز دوں گا۔۔۔”
وہ بھی جوش سے بولا
“میرے جگر۔۔۔۔”
وجدان اس کے گلے لگتے بولا تھا

“اگر تیرا جگر ہے تو میرا گردہ ہے ہائے میرے گردے۔۔۔”
زوہان وجدان کو پیچھے کرتا شرارت سے بولا تو وہاں قہقے گونج اٹھے تھے آخر پورے تین سال بعد وہ اسے اپنے دوست کو دیکھ رہے تھے
“بھائی لو یو۔۔۔۔”
رباب کے ساتھ ساتھ عالیاب اور دعا بھی اسے چمٹی تھیں

“پتا نہیں ہمیں کب موقع ملے گا اپنے بچے سے ملنے کو۔۔۔۔”
مصطفی نے ہنستے ہوئے کہا تو سب پھر سے ہنس دیے تھے
“شافع میٹ مائے وائف تعبیر زوہان۔۔۔۔”
اس نے تعبیر کا تعارف کروایا جس نے سلام کیا تھا جس کا جواب شافع نے مسکراتے ہوئے دینے کے بعد بہت سی دعائیں دی تھیں
چلو چلیں۔۔۔۔”
پریہان نے کہا تو سب سٹیج کی جانب چل دئیے جہاں تعبیر کی فیملی تھی ان سب سے ملنے کے بعد دونوں کو بیٹھا دیا گیا تھا
………………………………
“میری شادی میں تم نہیں آئے میں بہت ناراض ہوں۔۔۔۔۔”
وجدان نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا
“کوئی نہیں دوسری کر لو شادی لڑکیوں کی کون سا کمی ہے تمہیں۔۔۔۔۔”
اس نے آنکھ دبائے کہا تھا
“تمہاری جو کزن ہے نہ اس نے دل میں ایسے ڈیرے جمائے ہیں کہ بس کیا کہوں کسی اور کو دیکھنے کا دل بھی نہیں کرتا خواں کسی اور سے شادی کروں یہ غداری ہو گی میری محبت کے ساتھ۔۔۔”
اس نے سامنے تعبیر کے ساتھ بیٹھی عالیاب کو دیکھتے ہوئے کہا
“تم سب شادی شدہ ہو گئے ہو میں جو تم دونوں سے ایک سال بڑا ہوں ابھی تک کنوارہ پھر رہا کوئی حل نکالو نہ یار۔۔۔”
اس نے داڑھی پر ہاتھ پھیرتے کہا

“دیکھ لو کوئی پسند آجائے تو۔۔۔”
اس نے سنجیدگی سے کہا تو شافع نے اس کو دیکھا جو شکل سے سنجیدہ لگ رہا تھا
“وہ سامنے لڑکی دیکھو جو زوہان کے ساتھ بیٹھی ہے۔۔۔۔”
اس نے زوہان کے ساتھ بیٹھی روحا کی جانب اشارہ کیا تو اس نے اسے دیکھا جو لائیٹ پنک فراک میں کھلے بالوں کے ساتھ میک اپ کئیے بہت خوبصورت لگ رہی تھی

“ہاں کیا ہوا اس کو۔۔۔؟”
اس نے ناسمجھی سے پوچھا
“اس کے بارے کیا خیال ہے۔۔۔؟”
اس کے اس طرح کہنے پر شافع نے ایک جھٹکے سے اسے دیکھا جو ابھی بھی سامنے دیکھ رہا تھا
“سیریس ہو یا مزاق بنا رہے۔۔۔؟”
اسے لگا شاید وہ مزاق کر رہا ہے
“آئی ایم ٹو مچ سیریس برو۔۔۔۔”
اس کے سنجیدگی سے کہنے پر اس نے سامنے دوبارہ روحا کو دیکھا جو کسی بات پر ہنس رہی تھی اور تعبیر کو مخاطب کرتی زوہان کے بارے کچھ کہہ رہی تھی

“نام کیا ہے اس کا۔۔۔؟”
اس نے اس پر نظریں مرکوز کئیے کہا
“روحا حسن۔۔۔۔”
اس کا نام سنتے اس پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ گئے تھے
“روحا یہ وہی روحا۔۔۔۔”
اس نے بات ادھوری چھوڑی تو وجدان نے سر اثبات نیں ہلایا تھا
“یہ تمہارے ساتھ ٹھیک ہو گئی ہے کیا۔۔۔۔؟”
“پرانے گہرے زخم کبھی بھولا نہیں کرتے شاید اسے بھی نہ بھولیں لیکن میں جانتا ہوں تم بہت اچھے بندے ہو تم اس کی مدد جر سکتے ہو اور یہ بھی جانتا ہوں اج تک کوئی لڑکی تیری زندگی میں نہیں ائی۔۔۔۔”
اس نے اس کی جانب دیکھتے کہا

“لیکن یہ مت سمجھنا کوئی زبردستی کر رہا ہوں اگر ایسا نہیں چاہتے تو کوئی زبردستی۔۔۔”
“قبول ہے مجھے۔۔۔۔”
سہ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے بولا تھا
“خوبصورت ہے اچھی بھی لگ رہی یقیناً اچھی بیوی ثابت ہو گی۔۔۔۔”
اس نے مسکرا کر کہا
“تھوڑا مشکل کام ہو گا۔۔۔۔”
اس نے خبردار کیا تھا
“دل کو اچھی لگی ہے اس کے پاسٹ جاننے کے باوجود قبول ہے مجھے۔۔۔۔”
اس نے انکھوں سے اس کا مکمل جائزہ لیتے کہا

“بس کر نامحرم ہے تیرے لیے۔۔۔۔”
وجدان نے اس کی انکھوں پر ہاتھ رکھتے شرارت سے کہا جسے فوراً شافع نے ہٹایا تھا
“اب تو محرم بن کر ہی رہے گی اگر مجھے پتا ہوتا روحا یہ ہے اور ابھی بھی تمہارے ساتھ کنیکشن ہے تو پہلے ہی پاکستان آجاتا۔۔۔”
“اب زیادہ فری نہ ہو یا نہ ہو وہ تیرے خوبصورت چہرے کا نقشہ بگاڑ دے۔۔۔۔”
اس نے ہنستے ہوئے کہا

“نقشہ تو بگڑے گا لیکن شادی بعد اہممم اگے خود سمجھ جا۔۔۔۔”
اس نے آنکھ دبائے کہا تو وجدان نے اس کے مکا جڑا تھا اور پھر دونوں ہنستے ہوئے سٹیج کی جانب چلے گئے
………………………………
“میں دیکھ رہا ہوں دعا۔۔۔۔”
سعد دعا کے پیچھے کھڑا ہوتا اس کے کان کے قریب جھکتے بولا تھا
“تو دیکھیں نہ ثواب کا کام ہے بیوی کو محبت سے دیکھنا۔۔۔۔”
اس نے مسکراہٹ دبائے کہا تھا تو سعد نے گھورا
“میں دیکھ رہا ہوں کہ جب گھر میں کوئی فنکشن ہوتا تم مجھے بھول جاتی ہو یہ سوچے بنا کہ رات کو میری ہی قید میں ہو گی….”
اس نے چباتے ہوئے کہا

“تو کیا سب کے سامنے رومینس شروع کر دیں۔۔۔”
“اکیلے میں تو کیا جا سکتا ہے نہ۔۔۔۔”
اس نے پیچھے سے تھوڑا قریب ہوتے اس کی کمر پر ہاتھ رکھا تو وہ اچھلی تھی
“کیا ہوا بیٹا۔۔۔۔”
اس کے یوں اچھلنے پر ساتھ کھڑی میرب نے پوچھا تو اس نے فوراً نفی میں سر ہلایا پھر کہنی سعد کے پیٹ میں ماری تھی

“چڑیل رات ابھی باقی ہے سب حساب برابر نہ کئیے تو نام بدل دینا۔۔۔۔”
اس نے دھمکی دی تھی
“ہائے ان حسابوں کا تو شدت سے انتظار ہے۔۔۔”
وہ شرارت سے بولتی بنا اس کی سنے فوراً میرب جے قریب ہوتے اسے پیچھے سے ہگ کیا پھر سعد کو دیکھتے آنکھ دبائی جو کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
………………………………
“روحا کی بچی۔۔۔۔”
وجدان اس کے ساتھ کھڑے ہوتے اسے پکارا تھا تو وہ منہ کھولے اسے دیکھنے لگی اس کے یوں منہ کھولنے پر وجدان کے ہاتھ میں موجود آدھا کھایا گلاب جامن اس کے منہ میں ٹھونسا پھر ہنسا تو وہ بےچاری نہ سہی سے نگل سکتی نہ نکال سکتی اسی لیے اس کو گھوریوں سے نوازتے بامشکل اس کو نگلنے لگی تھی
اور یہ منظر کسی نے دیکھتے اپنے دانت کچائے تھے لیکن فلحال صبر کا مظاہرہ کیا تھا

“کچن والی سائیڈ پہ آو بات کرنی ہے۔۔۔۔۔”
” کیا بات۔۔۔۔؟”
اس نے ناسمجھی سے پوچھا
“وہاں آو گی تو بتاوں گا۔۔۔۔”
اس نے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلاتی تعبیر کی بات سننے لگی تھی
“بھائی تیرا کام کر دیا ہے۔۔۔۔”
اب وجدان شافع کی جانب ہوتے راضدرانہ انداز میں بولا تو وہ مسکرایا تھا
“سامنے جا کہ رائیٹ میں کچن ہے اب دفع ہو جا میں نگرانی کرتا ہوں کہ تیری بات ختم ہونے سے پہلے کوئی نہ ائے۔۔۔”
اس کی بات سنتے اس نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ سٹیج سے اتر گیا تھا

“بس کچھ چیزیں ہیں جن کو ٹھیک کرنا چاہتا ہوں اللہ جی ساتھ دئیے گا۔۔۔۔”
وہ من ہی من میں مخاطب ہوا تھا
………………………………
وہ کچن کی سائیڈ پر کھڑی وجدان کا انتظار کر رہی تھی جب کہ شافع پلر سے ٹیک لگائے اسے دیکھ رہا تھا جس نے ابھی تک اسے دیکھا نہ تھا
“السلام و علیکم۔۔۔۔”
وہ ویسے ہی ٹیک لگائے بولا تو روحا نے پلٹ کر حیرانگی سے اسے دیکھا اور سلام کا جواب دیتی واپس سیدھا منہ کر لیا تھا
“وجدان نہیں آئے گا۔۔۔۔”
اس کی بات پر وہ دوبارہ پلٹی اور ناسمجھی سے دیکھا

“مطلب۔۔۔۔؟”
“مطلب اسے ایک ضروری کام آ گیا تھا۔۔۔۔”
اس نے روحا کی جانب قدم بڑھاتے کہا کالی آنکھوں میں پہلی نظر کی پسندیدگی ابھری تھی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا وہ پہلی نظر میں ہی اس سے محبت کر بیٹھا تھا لیکن کوئی اور بھی تو اس کی لائف میں نہ تھی تو روحا بھی تو اچھی لڑکی ہی تھی روحا اس کی بات سن کر جانے کو پلٹی تھی

“ارے سنیں تو روحا۔۔۔”
اپنا نام سنتے وہ پھر سے حیرت میں ڈوب گئی تھی
“وجدان سے پوچھا تھا آپ کا نام۔۔۔”
اس کی انکھوں میں پیدا ہوتے بہت سے سوالوں میں سے ایک سوال کا جواب دیا تھا اور اس سے دو قدم کے فاصلے پر کھڑا ہوا تھا زوہان نے تعبیر کو بتایا تھا کہ یہ اس کا کزن ہے بہت قریبی جو کہ روحا نے بھی سنا تھا ویسے بھی وہ اس کی انٹری دیکھ چکی تھی

“آپ کافی خوبصورت لگ رہی ہیں۔۔۔”
کیا ٹھرک پن چھار رہا یے شافع۔۔۔۔وہ اس سے کہتا آخر میں زہن میں سوچا تھا
“لیکن آپ کافی بدصورت لگ رہے ہیں۔۔۔۔”
اس نے اسی کے انداز میں کہا

“بدصورتی تو ہماری خاصیت ہے۔۔۔”
اس نے قمیض کے نا ہونے والے کالر کو جھاڑتے کہا
“واٹ۔۔۔۔؟”
اس نے خوبصورتی تو سنا تھا لیکن بدصورتی سنتے وہ انکھیں چھوٹی کئیے اسے دیکھنے لگی جو مسلسل مسکرا رہا تھا وہ پھر سے جانے کو پلٹی تھی

“ارے آپ کو تو لائیٹ سے بھی زیادہ جلدی ہے جانے کی۔۔۔۔”
وہ اس کے سامنے آتے بولا وہ بروقت رکی لیکن ٹکر ہو جاتی روحا کو سمجھ نہ آئی وہ اسے کیا کہے اس کی بےتکی باتوں پر

“پاکستان میں لائیٹ بہت جاتی ہے نہ تو اس سے میچ کیا ہے۔۔۔”
اس کو خاموش دیکھ کر اس نے خود ہی وضاحت کی تھی
“کیا مسئلہ ہے اپ کو۔۔۔۔؟”
وہ گہرا سانس بھرتے آخر ہار مان گئی تھی
“ویسے تو وہ ٹیپکل جملہ بولنا چاہیے کہ محبت کا مسئلہ ہو لیکن چونکہ محبت کا مسئلہ ہے ہی نہیں تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔”
وہ اس کی بنا سر پیر کی باتوں ہر الجھی تھی

“اچھا اگر نہیں سمجھ آ رہیں میری باتیں تو تسلی سے بیٹھ کر سمجھا دیتا ہو۔۔۔”
وہ جان بوجھ کر اسے الجھانے کو ایسی باتیں کر رہا رگا اسے یوں الجھتا دیکھ اسے ہنسی آ رہی تھی
“کیا اپ مجھے جانتے ہیں جو یوں فری ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔”
اس نے گھورتے ہوئے کہا

“جی ائی نو یو آر روحا حسن دا سسٹر اوف تعبیر حسن آئی مین تعبیر زوہان اینڈ دی سالی اوف زوہان مصطفی اینڈ دی۔۔۔۔”
“سٹاپ اٹ۔۔۔”
وہ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے چلائی تھی اس کے یوں چلانے پر وہ اپنی بات چھوڑے سینے پر ہاتھ باندھے مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگا

“پاگل ہیں آپ۔۔؟”
اس نے غصے سے کہا
“ابھی تک تو نہیں لیکن ہونا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
اس نے اب کہ سنجیدگی سے کہا تھا
“وجدان کو اپ کی اس حرکت کا بتاتی ہوں۔۔۔”
وہ غصے سے بولتی پلٹی تھی
“سوری بٹ جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید نہیں بلکہ آپ کے دل میں قید ہونا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
اس کی پیچھے سے بات سنتی پیر پٹختی وہاں سے چلی گئی تھی جب کہ اس نے اردگرد دیکھا جہاں کھانے کا دورا شروع تھا
………………………………