Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39

وجدان کمرے میں داخل ہوا تو نظر سامنے بیڈ پر موجود متاعِ جاں پر پڑی تهی دهیڑوں افسوس نے اسے پهر سے آن گهیرا تها اس کی سسکیاں اسے دروازے تک سنائی دے رہیں تهی وجدان دروازہ بند کرتا بیڈ کے قریب آیا تها دروازہ بند کرنے کی آواز سے وہ پلٹی نہ تهی کیونکہ وہ جانتی تهی اس وقت کمرے میں کون ہو سکتا ہے

“جانم…”
وجدان محبت سے پکارتا اس کے پیچهے لیٹا اور کہنی کے بل تهوڑا اٹهتے اس کے پیٹ سے ایک ہاتھ گزارہ تها اور جهک کر اس کی کنپٹی پر اپنے لب رکهے تهے کہ وہ سسکتے ہوئے پلٹی اور اس کے سینے میں منہ چهپائے زاروقطار رونے لگی وجدان دهیرے سے اس کی پشت سہلانے لگا تها اور ساتھ وقفے وقفے سے جهک کر اس کے سر پر پیار کر رہا تها جب کہ وہ سختی سے اس کی شرٹ کو دبوچے رونے میں مصروف تهی

“مجهے لگتا ہے اتنا کافی ہے اب خاموش ہو جاو…”
وہ اس کو پچکارتے ہوئے بولا اب وہ مسلسل رونے کی وجہ سے گہرے سانس لینے لگی تهی وجدان سنجیدگی سے اسے دیکهتا اس کی پشت پر دهیرے دهیرے ہاتھ پهیر رہا تها
“آئی ہہ-ہیٹ یو…”
وہ ہچکیوں کے درمیان بولی تهی
“بٹ آئی لو یو ٹو…”
وہ اس کی گال پر جهکتے ہوئے بولا اور پهر پیچهے ہوتا اس کے سرخ چہرے کو دیکها

“وجدان میں آپ سے بات نہیں کرونگی…”
وہ رونے کے دوران بولی اور خود کو سکندر کی بجائے وجدان سے پکارے جانے پر وہ ٹهٹهکا تها
“اب اتنا ظلم تو مت کرو جاناں…”
“آپ میرے سکندر نہیں اب سے وجدان ہیں…”
وہ آنسووں کو بےدردی سے رگڑتے بولی تو وجدان نے اس کے ہاتهوں کو تهاما تها
“اچها جیسے چاہو پکارو لیکن خود کو تکلیف مت دو…”
وہ پیار سے اس کو بہلاتے ہوئے بولا

“مجهے آپ کے ساتھ نہیں رہنا…”
وہ روتے ہوئے اپنی ہرنی جیسی آنکهوں سے اس کے چیتے جیسی آنکهوں میں دیکهتے ہوئے بولی تو اس نے کچھ پل اس کو دیکها تها
“کیوں…؟”
“آپ اس لڑکی سے پیار کرتے ہیں….”
بار بار آنسووں کی وجہ سے اس کی آنکهیں دهندهلا رہیں تهی
“مجهے وضاحت کا موقع تو دو…”
وہ بےبسی سے بولا تو وہ سوں سوں کرتی اسے دیکهنے لگی
“اپنے سکندر پر یقین نہیں..”
اس کی سنجیدگی ہنوز برقرار تهی عالیاب نے نگاہیں چرائیں تهی
“جو سوال ہے سب کا جواب دوں گا بس یوں نگاہیں نہ چراو….”
وہ جهکتے اس کی ناک سے ناک مس کرتے بولا تو اس نے ایک ہاتھ اس کے سینے پر رکهے اور دوسرا ہاتھ اس کے بازو پر رکهتے دباو کیا کہ درد کی شدید لہر سے وہ کراہ اٹها عالیاب نے فوراً ہاتھ اٹهایا تها اور پریشانی سے اسے دیکها وہ تو بهول گئی تهی کہ اس کا بازو زخمی ہے
“سس-سوری….”
وہ پریشانی سے لب کچائے بولی تهی تو وہ مسکرایا

“ہسبنڈ وائف میں ایسے سوری نہیں ہوتی سانسیں اتاری جاتی ہیں سانسوں میں، حال بےحال کیا جاتا ہے جذباتوں میں، بےخبر ہونا پڑتا ہے دنیاوی چیزوں سے اور بس روح میں سما جانا ہوتا ہے…”
وہ اپنی نیلی آنکهیں اس کی گهبرائی سی آنکهوں میں گاڑتے ہوئے بولا
“نن-نہیں….”
وہ اس کے ارادوں سے گڑبڑائی تهی
“مجهے ناراض مت کرو اللہ ناراض ہو گا اور کتنی غلط بات ہے نہ شوہر کو یوں روکنا چلو نہ وہ شب تازہ کرتے ہیں جس میں ہمارے صرف سانسیں بکهریں تهی…”
وہ دوپٹہ اس سے الگ کرتے بولا تو وہ اسے پیچهے کرتے اٹهی تهی
“سس-سکندر….”
وہ تیز ہوتی سانسوں سے بولی تو پیچهے تکیے پر سر رکهے لیٹا وجدان اس کے منہ سے سکندر لفظ سنتا مسکرا اٹها تها اور ہاتھ بڑها کر اسے کهینچتے ہوئے خود پر گرایا تها خود کے سینے پر اور اس کے چہرے پر بکهرے بالوں کو اس نے نرمی سے پیچهے کیا اور اس کے رونے اور شرم سے سرخ چہرے کو وارفتگی سے تکنے لگا تها

“آئی ایم سوری ہر چیز کے لیے سوری ایک بار معاف کر دو بس…”
وہ اسے خود پر جهکائے اس کے کان میں سرگوشانہ انداز میں بولا تها تو اس نے پلکوں کی باڑ اٹهائے اس کی جذبے لٹاتی آنکهوں میں دیکها تها
“تهپڑ مارا تها مجهے…
اس کی آنکهیں پهر سے نمکین پانی سے بهرنے لگیں تهی
“تمہاری بات اچهی نہیں تهی تمہارا مطالبہ میرے جنون کو ہوا دینے کو کافی تها تمہاری وہ بات میرے دل کو چیر گئی تهی مجھے ضبط کے باوجود خود پر اختیار نہ رہا تها….”
وہ اسے نیچے کرتا خود اوپر ہوتے بولا اور اس کے گلے میں موجود لاکٹ پر اس نے انگلی پهیری تهی پهر سیدها لیٹتے اس کا سر اپنے بازو پر رکها اور اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا تها وہ اس کی پناہوں میں لرزتے ہوئے آنکهیں موند گئی تهی جبکہ اس کے جسم کی لرزش وہ بخوبی محسوس کر سکتا تها
…………………………………
دعا سعد کے کیبن میں کهڑی باری باری چیزوں کو چهوتی چیک کر رہی تهی کہ سعد کیبن میں داخل ہوا تها
“سعد آپ مجهے اس بورنگ جگہ پر کیوں لائے ہیں…؟”
وہ منہ بنائے بولی تهی
“تم تو چند منٹس میں ہی بور ہو گئی اور میں روز یہاں آتا ہوں تو سوچو میں تمہارے بنا کتنا بور ہوتا ہونگا…”
وہ کوٹ اتارتے مسکرا کر بولا تها
“اچها تو آپ تو کام کرتے ہونگے میں تو ویلی ہوں نہ…”
“ویلی کہاں میں یہی ہوں دونوں انجوائے کرتے ہیں…”
وہ اس کی کمر کرلے گرد دونوں ہاتھ رکهتے اس کو مسکرا کر دیکهتے بولا کہ وہ آنکهیں گهماتی اس کو پیچهے کرنے لگی

“دور رہیں گهر نہیں یہ…
وہ اس سے فاصلے پر کهڑے ہوتے بولی
“فکر مت کرو بابا اور چهوٹے بابا کے علاوہ کوئی نہیں آئے گا اجازت بغیر…”
وہ اس کو ہاتھ سے پکڑ کر دوبارہ کهینچتے ہوئے بولا تها لیکن وہ دوبارہ فاصلپ بنا گئی تو سعد نے منہ بنایا تها
“اچها کیا کهاو گی…”
وہ اس کا ہاتھ پکڑتا اپنی سربراہی کرسی پر بیٹهاتے بولا تها اور خود اسے کے سامنے ٹیبل پر بیٹهتا اس کی کرسی کو دهیرے دهیرے جهلانے لگا تها

“جو یہاں سب سے مزے کا ہے وہ کهلا دیں…”
وہ مزے سے بولی تهی
“تو پهر تمہارے لیے تو سب سے مزے کا میں ہی ہوں کها لو تم مجهے ہی…”
وہ اس کرسی کی دونوں باہنیوں پر ہاتھ رکهے آگت کو جهکتے بولا تها
“میں حرام گوشت نہیں کهاتی…”
وہ شرارت سے بولی تهی
“شوہر ہوں حلال ہوں جیسے بهی ہوں اب…”
وہ کرسی کو مزید قریب کهینچتے بولا
“حلال ہوں یا جو بهی گوشت حرام ہی ہے خاص کر آپ جیسا بہت چربی والا یکککک….”
وہ اس کو جان بوجھ کر چڑہانے کے لیے آخر میں گندہ سا منہ بنا گئی تو سعد منہ کهولے اسے دیکهنے لگا اور خود کو دیکها تها
“یار دعا…”
اس نے صدمے سے بولا ہی نہیں گیا جب کہ وہ کهلکهلا کر ہنسی تهی اور اس کی دونوں گال کهینچی تو وہ خفگی سے اسے دیکهنے لگی

“زیادہ ہنسی آرہی ہے…”
اس کو مسلس ہنستے دیکھ کر وہ کرسی اور قریب کهینچتا اس پر جهکتے ہوئے بولا تو وہ ہنسی روکے اسے دیکهنے لگی “آج سے آپ کو سعد نہیں بلکہ زیادہ چربی والا انسان کہوں گی….”
وہ پهر شرارت سے باز نہ آئی تهی تو اس نے اس کی گال پر دانت گاڑے کہ وہ چینخ اٹهی تهی

“آرام سے بیگم میرا آفس ہے گهر نہیں ایسے چینخوں گی تو باہر سب کا تجسس کے مارے برا حال ہو گا اور وہ کیا سمجهیں گے کہ باس اپنی بیوی پر کون سے ظلم ڈها رہا ہے جو یوں چینخوں کی آوازیں آرہی…”
اب کہ شرارت کی باری سعد کی تهی دعا گال پر ہاتھ رکهے اسے گهورنے لگی اور اس کے بالوں کو کهینچا تها اور اس پہلے وہ مزید کچھ کرتی سعد اس کی دوسری گال پر بهی دانت گاڑ چکا تها اور اس بار اس کی چینخ کا گلا اس نے اپنے بهاری برکم ہاتھ سے روکا تها وہ اس کے سینے پر مکے برسائے احتجاج کرنے لگا جب کہ سعد اس کی حالت پر زوروشور سے ہنس رہا تها اور اس سے پہلے وہ مزید جهکتا کیبن کا دروازہ ناک ہوا تها دونوں اس دروازے کی جانب متوجہ ہوئے تهے

“یس کم ان…”
سعد نے ٹیبل سے اتر کر فاصلے پر کهڑے ہوتے اجازت دی تهی کہ ایک فی میل ورکر اندر داخل ہوئی تهی
“سر آپ کی میٹنگز کا شیڈول آج صرف ایک ہی میٹنگ ہے وہ بهی روالپنڈی سے سر وقاص کے ساتھ….”
وہ ایک فائل اس کو بڑهاتے تفصیلاً بولی تهی
“میٹنگ کینسل نہیں ہو سکتی…؟”
وہ فائل کهولتے ہوئے بولا
“نہیں سر یہ میٹنگ بہت اہم ہے اس فائل میں سب موجود ہے….”
وہ ایک نظر دعا کو دیکهتے سعد سے بولی جو مزے سے کرسی پر جهولتی بڑی فرصت سے ان دونوں کی گفتگو سن رہی تهی سعد نے اثبات میں سر ہلایا
“اوکے اور جو کل کہا تها وہ میل کر دیں میں چیک کر لوں گا…”
مزید تین چار ہدایات سنتے وہ جا چکی تهی

“کتنی لڑکیاں ہیں کمپنی میں…؟”
اس ورکر کے جاتے ہی وہ خالص بیویوں کے روپ میں آتے ہوئے بولی تو سعد نے چونک کر فائل سے سر اٹهائے اسے دیکها پهر مسکراہٹ دبائی تهی
“بہت سی لڑکیاں….”
وہ فائل کا آخری صفحہ دیکهتے ہوئے بولا
“آپ کے انڈر کتنی لڑکیاں ہیں…؟”
اس کی بات سنتے اس نے فائل ٹیبل پر رکهی اور کی جانب آتے اس پر جهکا تها
“اپنے انڈر تو میں ایک ہی لڑکی رکهنا چاہتا ہوں اگر وہ قابو میں آجائے تو….”
سعد نے اس کے ناک کو نرمی سے لبوں سے چهوتے کہا تو اس نے اس کے سینے پر ہاتھ رکهتے پیچهے کیا تها
“بات مت بدلیں بتائیں….”
“ہمارے بیچ دوسروں کا کیا کام میری جان…”
وہ اب اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تهامے لبوں سے لگا گیا تها
“بتائیں سعد…”
وہ بضد ہوئی
“بہت لڑکیاں ہیں…”
اس نے اس کی ضد پر کہا تها

“میں بهی آنا چاہتی ہوں…”
وہ اس کی بات سنتے بےچینی سے بولی تهی
“پوری کمپنی ہی تمہاری ہے جب چاہو آجاو…”
وہ کرسی کی باہنی پر بیٹهتے اس کی گال کو انگلیوں کی پوروں سے چهوا تها
“میں یہاں کام کرونگی جیسے یہ لڑکیاں کرتی ہیں آپ کے انڈر…”
وہ ابهی بهی بےچین تهی وہ جو اس کے لبوں کو فوکس کیے وہاں جهکنے والا تها اس کی بات سنتے ناسمجهی سے اسے دیکهنے لگا
“یہ بات کیوں کہی جانم…؟”
وہ اس کا پریشان بےچین چہرہ دیکھ سکتا تها

“مجهے اچها نہیں لگا اس نے آپ سے ایسے بات کی…”
وہ جیلسی سے بولی تو سعد نے اپنی مسکراہٹ دبائی
“میں تو صرف تم سے بات کرنا چاہتا ہوں نہ ان کی فکر تم مت کرو….”
وہ مزید اسے بولنے کا موقع دیے اس پر جهک گیا تها دعا نے کندهے سے اس کی شرٹ کو دبوچا تها دعا کا ایک ہاتھ اس کی گردن تک گیا تها اور پهر کالر کو مضبوط گرفت میں لیا تها جب حال بےحال ہونے لگا تو وہ اسے پیچهے دهکیلنے لگی تهی وہ پیچهے ہوتا اس دیکهنے لگا جو آنکهیں بند کیے گہرے سانس لے رہی تهی اس سے پہلے وہ دوبارہ جهکتا اسے باہر مصطفی کی آواز سنائی دی جو کسی ورکر سے گفتگو کر رہا تها سعد فورا کرسی سے اٹها اور مسکراتے ہوئے دعا کو دیکها جو اس کو گهورتے اپنا سانس بحال کر رہی تهی اور پهر خود بهی کرسی سے اٹهی تهی

مصطفی کیبن میں آیا اور دعا کو دیکهتے مسکرایا تها جواباً وہ بهی مسکرا دی اور اس کے گلے لگی تهی
“آج تو کڑہ پہرہ ہے سعد تم پر…”
اس نے سعد کو چهیڑا تو وہ مسکرایا ته
“بس بڑے ابو ہیڈ کواٹر بیٹها ہے آج تو آفس میں اللہ خیر کرئے….”
وہ بهی شرارت سے بولا تو دعا کهلکهلائی تهی
“اچها میں گهر جاتا ہوں مجهے ایک دوست سے پهر ملنے جانا ہے اور میں دعا کا پوچهنے آیا تها کہ میرے ساتھ گهر جانا ہے یا سعد ساتھ آجاو گی…”
اس نے سعد سے کہتے آخر میں دعا سے پوچها

“میرے ساتھ آجائے گی بڑے ابو…”
دعا نے بولنے کے لیے لب کهولے ہی تهے کہ سعد بول اٹها تها دعا نے اسے گهورا وہ جانتی تهی اسے چین نہیں لینے دے گا
“اچها خیال رکهنا…”
دعا کو پیار کرتا کیبن سے نکل گیا تها
“اب تو عزت لوٹنے کا مزہ آئے گا…”
وہ ایک آنکھ دبائے بولا تو اس نے اس کی بےباک بات سنتے اس کے سینے پر مکے برسائے تهے وہ ہنسا تها اور اس کو قریب کرتے گلے لگایا تها جب کہ دعا بهی مسکرائی تهی اور اس کے گرد حصار باندها تها
…………………………………
ذوہان ڈاکٹرز کے میٹنگ روم میں اکیلا بیٹها اپنے دل کے درد کو کم کرنے کے لیے سیگرٹ پهونک رہا تها یہ لائف میں شاید تیسری بار سیگرٹ پی رہا تها فرسٹ ٹائیم جب پیا تو کهانسی سے برا حال تها جس پر وجدان اس پر بہت ہنسا تها دوسری بار بهی اس نے شوق میں وجدان سے کهینچ کر پی تهی جب کہ اب تیسری بار وہ درد دل کے واسطے پی رہا تها

آج سب ڈاکٹرز کی میٹنگ تهی جس میں ڈیوٹیز چینج ہونی تهی اور وہ وقت سے پہلے یہاں موجود اپنا تو نہیں خیر وجدان کا فیورٹ مشغلہ سر انجام دے رہا تها
تعبیر جو میٹنگ کے لیے روم میں آئی تهی لیکن ڈوہان کو یوں سربراہی کرسی پر بیٹهے سیگرٹ پیتے دیکھ اس کے دل میں درد کی شدید لہر دوڑی تهی اور اصل درد اس کے دل کو تب چیر گیا جب ذوہان نے ایک نظر اسے دیکهتے چہرہ موڑا تها اور لمبا کش لیتے دهواں ہوا میں چهوڑا تها

“ذذ-ذوہان یہ آپ کیا کر رہے ہیں….؟”
وہ اپنی لڑکهڑاتی آواز سے بولی تهی
“خود کو برباد….”
دل جلا دینے والی مسکراہٹ لبوں پر سجائے وہ بولا تو اس نے نم ہوتی آنکهوں سے اسے دیکها جو وہ سیگرٹ دور ڈسٹبین کی جانب اچهالے نئی سیگرٹ سلگا گیا تها
“مت کرو ایسے…؟”
اس کے نم لہجے پر ذوہان نے سنجیدگی سے اس کی جانب دیکه
“کیوں…؟”
اس نے بڑی فرصت سے اس کے چہرے کے اتار چڑهاو دیکهتے سوال دغا تها
“مجهے تکلیف ہو رہی ہے…”
وہ اپنی تکلیف چهپا نہ سکی تهی

“کیوں ہو رہی ہے کس بنا پر ہو رہی ہے کیونکہ نہ تو تمہیں مجھ سے ہمدردی ہے اور نہ ہی محبت…”
محبت کے نام پر اس نے ایک جهٹکے سے اسے دیکها پهر سنبهلی تهی
“انسانیت کے ناطے درد ہو رہا ہے…”
اس کی بات سنتے وہ استہزایہ ہنسا تها
“انسانیت، ہونہہہ سنبهالو اسے یہ انسانیت کسی اور کے سامنے دیکهانا مجهے ضرورت نہیں…”
وہ ایک گہرہ کش لیتے بولا تها اور تعبیر کی سسکی پر وہ محض ہونٹ بهینچ گیا اور اس کی جانب دیکهنے سے گریز کیا تها جانتا تها اگر اس کی جانب دیکها تو وہ مزید خود کو برباد کر لے گا وہ اپنی سسکیاں دباتی روم سے نکلی تهی جب کہ زوہان نے بند ہوتئ دروازے کو دیکها تها

“کیوں نہیں اظہار کرتی کہ محبت ہے…”
وہ بےبس سا بولا تها اور اس سیگرٹ کو بهی غصے سے دور اچهالا تها اور نئی سیگرٹ سلگائے ایک لمبا کش لیتے بالوں کو جهٹکا دے کر چہرہ اوپر اٹهائے ہوا میں اس کا دهواں چهوڑا تها
…………………………………
شہرام ٹی وی لاونچ میں صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹها بہت وقت کے بعد سیگرٹ پی رہا تها ساتھ سامنے ٹی وی پر چلتے میچ سے لطف اندوز ہو رہا تها
“یہ کیا جوانوں والے کام کر رہے ہو….”
مصطفی جو لاونچ سے ٹی وی آواز سنتے ادهر ہی آگیا تها کہ اس کو سیگرٹ پیتے دیکھ وہ شرارت سے اس کے پاس گیا اور سیگرٹ اس کی انگلیوں سے کهینچتے بولا تها اور خود لبوں سے لگائے اس کے سامنے بیٹها تها
“تو میں جوان نہیں کیا…؟”
اس نے خود کو دیکهتے کہا تها

“بوڑهی گهوڑی لال لگام وہ حساب ہے یہ تم جیسے بوڑهوں کا کام نہیں یہ کام مجھ جیسے جوان اور ہینڈسم کو سرانجام دینے دو…”
وہ دهواں ہوا میں چهوڑتا شرارت سے بولا تو اس نے گهورا تها جو خود کو جوان اور اسے بوڑها آئی میں بوڑهی گهوڑی سے تشبیہ دے رہا تها
“جوان اور ہینڈسم تو دیکهو مجھ سے زیادہ تمہارے سفید بال ہیں…”
اس کے خفگی سے کہنے پر وہ قہقہ لگا گیا تها

“پریہان کو بتاتا ہوں کہ تم نے سیگرٹ پی ہے یقیناً تمہارے بالوں کی سفیدی وہ خوب بڑها دے گی…”
وہ شرارت سے باز نہ آرہا تها
“مسٹر مصطفی آبریش تمہیں گنجا کرنے سے بالکل باز نہیں آئے گی جو چار بال سر پر رہ گئے ہیں نہ باقی وہ بهی نہیں رہیں گے….”
وہ شرارت پر اترا تها
“میری بیگم قابو میں ہی میرے تم فکر مت کرو…”
وہ سیگرٹ ایشل ٹرے میں مسلتے بولا تها

“ہاں بتاتا ہوں میں آبریش سے کہ مصطفی کہہ رہا تها آبریش قابو میں ہے میرے ایک حکم پر پیر میں بنا جوتی اور سر پر بنا ڈوپٹے کے کسی جن کی طرح میری خدمت میں حاضر ہو جائے گی یقیناً وہ اپنے بهائی کی بات پر یقین کرئے گی…”
شہرام کی بات سنتے پہلے مصطفی منہ کهولے اسے دیکهنے لگا اور پهر ہنسا تها

“بڑے کمینے ہو مجھ سے زیادہ بوڑهے ہونے کے غم کا بدلہ اب تم ایسے لو گے پورے سالے والا کردار اس عمر میں ادا کرئے گا……”
وہ ہنستے ہوئے بولا تو شہرام بهی ہنسا تها
“اچها وجدان سے بات ہوئی…”
وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا تو شہرام نے ٹی وی بند کرتے اثبات میں سر ہلایا
“تم سچ میں عالیاب کو بهیج دیتے…؟”
اس نے کب سے جاگتے سوال کو کر ڈالا تها
“نہیں میں صرف وجدان کو اس کی غلطی کا احساس دلانا چاہتا تها اور اگر دوبارہ اس نے ایسی گهٹیہ حرکت کی تو پهر اس بارے سوچوں گا…”
وہ اب سنجیدگی سے بولا تها

“مجهے پچس سال بعد اپنے سامنے وہی شہرام نظر آیا جو پچس سال پہلے پریہان کے لیے سیم ایسے ہی دهمکیاں دے رہا تها ایسے ہی بےبس ہوا تها جب وہ تم سے دور ہو رہی تهی مجهے لگا جیسے تاریخ ماضی کو سامنے لا رہی ہو وجدان میں مجهے تم نظر آئے وہ تم پر گیا ہے جنونیت میں محبت میں ضد میں….”
وہ مسکرا کر اس پرانے وقت کو یاد کرتے بولا تها
“میں چاہتا ہوں ماضی اتنا ہی سامنے آئے تو کافی ہے بہت سے دیکهے جانے والے برے دن آج بهی سوچنے پر میرا دل جهنجهوڑ کر رکھ دیتے ہیں…”
اس نے ایک خدشے کے تحت کہا
“ان شاءاللہ ہمارے بچے وہ برے دن کبهی نہیں دیکهیں گے جن سے ہم گزرے تهے…”
مصطفی گہرہ سانس بهرتے بولا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا تها