No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
دعا کی آنکھ اپنے حلق میں چبهتے کانٹوں کی وجہ سے کهلی تهی اس نے آنکهیں ملتے اپنی آنکهیں کهولیں لیکن اپنے گهر کی بجائے ایک انجان جگہ دیکھ کر اس کے چودہ طبق روشن ہوئے اور بےساختہ اس نے چینخ نکلی تهی لیکم بروقت کسی نے اپنا بهاری بهرکم ہاتھ اس کے منہ پر رکهتے اس کی چینخ کا گلا گهونٹا تها
“کیا کرتی ہو جانان سب سوئے ہوئے ہیں کسی کی نیند نہیں خراب کرنی چاہیے…”
کان میں ہوتی سرگوشی پر وہ مچلی تهی وہ جانتی تهی اس آواز کو لاکهوں کڑوڑوں میں بهی
“ہاتھ ہٹا رہا ہوں اگر چینخی تو اپنے انداز سے اس بار منہ بند کروں گا یقیناً تمہیں بہت شرم محسوس ہو گی پهر..”
وہ شرارت آمیز لہجے میں بولا تو اس نے گردن موڑے خونخوار نظروں سے اسے گهورا اس نے ایک آنکھ دبائی اور پهر ہاتھ ہٹایا تها
“سعد آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں…؟ آپ جانتے ہیں مجهے جہاز کے سفر سے ڈر لگتا ہے…”
وہ غصے سے اس کے سینے پر مکے برسائے بولی تو اس نے اس کی دونوں کلائیوں کو تهاما تها
“ﺍُﻑ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺣﺴﯿﻦ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﮯ ﺧﻤﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ
ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺗﮭﮏ ﮐﮯ ﭼُﻮﺭ ھﻮ ﺟﺎئے
ﺳﺎﻧﻮﻟﯽ ﺷﺎﻡ کہساﺭﻭﮞ ﮐﯽ”
اس کی کچی نیند سے جاگنے کی وجہ سے آنکهوں میں دوڑتی سرخی کی وجہ سے وہ محبت آمیز لہجے میں بولا تو اس نے شکایتی نظروں سے اس کی جانب دیکها
“میری جان تمہیں ہی جلدی تهی جانے کی کب سے تو شور مچایا ہوا گها میرے بهائی کی شادی ہے میں ابهی تک یہاں ہوں وغیرہ وغیرہ تو سوچا جلدی پہنچا دوں 4 5 گهنٹوں کی بات ہے پهر ہم کراچی ہونگے…”
اس کی بات پر دعا نے صبر کا گهونٹ بهرا اور اردگرد دیکها جہاں سب لوگ خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے تهے
“مجهے بہت خوف محسوس ہو رہا ہے سعد آئی ہیٹ یو آپ نے اچها نہیں کیا…”
وہ اس کو بازو سے تهامے قریب ہوتے خوف سے بولی سعد اس کے چہرے پر خوف کے لہراتے سائے بخوبی دیکھ سکتا تها
“اور ہاں بات مت کریں دور بهی رہنا بہت سخت خفا ہوں آپ نے میری نیند کا فائدہ اٹهایا…”
وہ مزید اس کے ساتھ چپکی تهی سعد نے مسکراہٹ دبائی
“خود قریب آکر مجهے دور رہنے کا کہہ رہی ہو ناانصافی ہے یہ مشکل ہو گی دوری…”
وہ اس کی گال پر انگلی پهیرتے بےباکی سے بولا خوف کے زیر اثر وہ اس کی بےباک بات نوٹ نہیں کر سکی تهی
“کچھ نہیں ہوتا دعا مت ڈرو میں ہوں نہ بس ایک گهنٹے کا سفر رہ گیا ہے….”
وہ مزید اس کو قریب کرتے بولا جو اب اس کے سینے میں منہ چهپائے سسکنے لگی تهی وہ اس کی کمر سہلاتا اس کو خاموش کروا رہا تها کہ اس کا فون رنگ ہوا وہ پوری اچهلی تهی
“ریلیکس میرا فون ہے…”
اس نے فون نکالتے کہا اور دوبارہ اس کا سر اپنے سینے سے لگایا تها
“ہاں گاڑی اور سامان مل گیا تها…؟
اس نے دعا کے سر پر پیار کرتے کہا
“اچها میں واپس آونگا تو مجهے وہ سب فائلز دے دینا دهیان سے رکهنا بہت اہم ہیں اسی لیے تمہارے حوالے کی ہیں…”
سعد نے دعا کی کهل آنکهوں پر ہاتھ رکهتے کہا اور پهر مزید ایک دو بات پر فون رکها تها
“سو جاو دعا….”
وہ اس کو کسی طرح سلانا چاہتا تها اس نے نفی میں سر ہلایا اور اس کے گرد سختی سے حصار باندها وہ بس ٹهنڈہ آہ بهر کر ہی رہ گیا تها
…………………………………
عالیاب کی رات کو شدید بهوک کے باعث آنکھ کهلی تهی مارچ شروع ہوا تها جس کے باعث رات ابهی بهی ٹهنڈی ہوتی تهی اس ک سردی میں اٹھ کر کچن میں جانے کا من نہیں تها لیکن بهوک تهی جیسے بس آخری سٹیج پر ہو وہ کبهی ایک سائیڈ ہوتی تو کبهی دوسری سائیڈ وہ رات سات بجے ہی سو گئی تهی جس وجہ سے اس نے کهانا بهی نہیں کهایا تها اسی لیے بهوک نے اس کو اس وقت ستایا تها اس نے اپنے ساتھ سوئی رباب کو دیکها جو مزے سے سو رہی تهی پهر کوفت سے اٹهی تهی اور چادر خود کے گرد لپیٹتے کچن کی راہ لی تهی
کچن میں پہنچتے اس نے فریج سے چاول نکالے تهے اور اوون میں رکهتے جمائیاں لیتی ان کے گرم ہونے کا انتظار کرنے لگی
وہ ابهی ان کے گرم ہونے کی منتظر ہی تهی کہ کسی نے پیچهے سے اس کے منہ پر ہاتھ رکها تها اس کی نینک بهک سے اڑهی تهی اور ڈر کی شدید لہر اس کے جسم میں دوڑی تهی لیکن جانی پہچانی خشبو سے اس کے ڈر میں کمی ہوئی تهی
“بہت تیز نہیں ہو گئی تم…”
وجدان کے سخت لہجے میں کی جانے والی سرگوشی سے اس نے تهوگ نگلا تها اس کی گرم سانسیں اس کو اپنے کان اور گردن پر محسوس ہوتیں اس کی سانسیں بڑها رہیں تهی وجدان نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا اور دونوں کندهوں پر رکهتے اس کے کان کے قریب پهونک ماری کہ اس نے سختی سے آنکهیں میچیں تهی
“اس احتشام کو تو شادی کے بعد دیکھ لوں گا لیکن تم سے ابهی نمٹنا ضروری ہے…”
وہ اس کے کندهوں پر گرفت سخت کرتے بولا کہ وہ کراہ اٹهی تهی
“سس-سکندر….”
وجدان نے اس کا چہرہ خود کی جانب کیا تها وہ دونوں ہاتھ شیلف پر رکهتا اس کے فرار کے سب راستے بند کیے تهے
“میرا دل کتنا بےتاب تها تم سے بات کرنے کو، میری آنکهیں کتنی پیاسی تهیں تمہارے دیدار کو، میری سانسیں کتنی بےقرار تهیں تم میں منتقل ہونے کو، تم سوچ نہیں سکتی کتنا مر رہا تها تمہاری ایک جهلک کو…”
وہ چہرہ اس کے چہرے کے قریب کیے اپنی بےقراری اپنی سانسوں کے واضع کر رہا تها جو حد درجہ تیز تهیں اس کی بےباک گفتگو سے جیسے اس کی زبان کو تالا لگ گیا ہو
“سس-سکندر پلیز…”
وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکهے پهولی سانس سے بولی
“ضد کر کے اشعار سنے میرے اور آخر میں بولی
توبہ؛اتنی گندی باتیں ایک کنواری لڑکی سے”
جذبات سے چور ہوتے لہجے میں شعر پڑهتا وہ اس کے دل کی دهڑکنیں مزید بڑها گیا تها
“دل کی دهڑکنیں کیوں تیز ہو رہی ہیں ابهی سے ہی ابهی تو حدیں پار کرنے میں وقت ہے توبہ تب تمہاری کیا حالت ہو گی…”
اس کی ذومعنی باتیں سنتی اس کو ایسے محسوس ہوا جیسے جسم میں جان باقی نہ رہی ہو
“اچها چهوڑو شادی سے پہلے ہی تمہاری حالت غیر نہیں کرنا چاہتا تم کہاں تاب لا سکو گی میری شدتوں کو میری تڑپ کو….”
وہ اس کو چهونا چاہتا تها لیکن وجدان کو ابهی خود پر قابو رکهنا تها اسی لیے جیکٹ سے ایک ڈبیا نکالی تهی
“یہ دو دن پہلے خریدی تهی لیکن کمبخت جو پہرے لگا رکهے ہیں ملنے پر مجهے ابهی بهی نیند نہیں آرہی تهی میں تمہیں یہ پہنانا چاہتا تها…”
وہ اس ڈبیا سے ایک خوبصورت نگ والی سمپل سی مگر قیمتی رنگ نکالتے بولا اور اس کا برف کی مانند ٹهنڈا پڑتا ہاتھ پکڑا اور اس کی انگلی میں پہنائی تهی وہ خاموشی سے سب کاروائی دیکھ رہی تهی اس میں ہمت نہ تهی وہ زباں سے دو لفظ اس کی تعریف میں بیاں کر سکے جو اس کو بہت پسند آئی تهی
“بڑا بےصبرہ ہو رہا ہوں بس یہ ایک ہفتہ جلدی سے گزر جائے دیکهاوں گا ایک جهلک اپنی شدتوں کی مجهے یقین ہے تم سے وہ بهی سہنا مشکل ہو گی…”
وہ اس کے ماتهے سے اپنا ماتها رگڑتے بولا اس کو یوں ساکت دیکھ کر مسکرایا اور اوون کو دوبارہ ٹائیم دیتا پیچهے ہوا
“میں جو بتا دوں ارادے تم
شرما ہی جاو گی تم
دهڑکنیں جو سنا دوں تم کو
گهبرا ہی جاو گی”
وہ بالوں میں ہاتھ پهیر کر گنگناتا اسی کو دیکهتا پیچهے کو قدم لیتا کچن سے نکل گیا اس نے پہلے خود کی دهڑکنیں ہموار کیں پهر رنگ پر انگلی پهیرتے مسکراتے لبوں سے لگائی تهی خود کی بےاختیار پر خود ہی شرما دی اور پهر اوون سے چاول نکالتی اپنے پیٹ کا علاج کرنے لگی
…………………………………
رات ساڑهے تین کے قریب وہ دونوں گهر پہنچے تهے لاونچ میں آتے دعا مصطفی کے کمرے کی جانب بهاگی لیکن بروقت سعد نے اس کو بازو سے دبوچا تها
“رات کے چار بجنے والے ہیں آدهی رات کو ان کی نیند ڈسٹرب کرو گی ہم بهی تهکے ہیں چلو سوتے ہیں کل صبح ناشتے وقت سب کو سرپرائز دیں گے…
وہ آہستہ آواز میں بولا تو اس نے بازو چهڑوانا چاہا لیکن سعد نے مزید قریب کیا تها
“سعد میں آپ سے بات نہیں کر رہی…”
وہ منہ پهلائے بولا
“لیکن میں تو کر رہا ہوں نہ…”
وہ مسکرا کر بولا
“مجهے امی بابا سے ملنا ہے چهوڑیں…”
وی اپنا نازو آزاد کروانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی
“ڈارلنگ اتنی رات اچهی بات نہیں صبح ملیں گے نہ…”
وہ کمر سے تهامے بولا تو اس نے اسے پیچهے دهکا دینا چاہا
“چهوڑیں کمرے میں جانا ہے…”
وہ گهورتے ہوئے بولی سعد نے اس کو دهیرے سے چهوڑا تو دعا نے اپنا پرس بهی نیچے پهینکا تها
“یہ بهی کمرے میں لائیں باقی سامان کے ساتھ. ..”
گهور کر کہتی سیڑهیوں کی جانب چلی گئی اس نے گہرہ سانس بهرا اور اس کا بیگ نیچے سے اٹهایا ان کے ساتھ ایک بیگ تها جس میں ضروری سامان تها ورنہ باقی وہ وہی چهوڑ کر آئے تهے وہ سامان اٹهاتا خود بهی سیڑهیوں کی جانب گیا تها
سعد نے کمرے میں لا کر سامان رکها اور سامنے دیکها جہاں دعا لیٹی اسی کو دیکھ کم گهور زیادہ رہی تهی سعد وہی سامان چهوڑتا اس کا پرس ٹیبل پر رکها اور بیڈ پر اس کے قریب لیٹا دعا دوسری جانب کهسکی تهی سعد نے اس کے پیٹ پر ہاتھ رکهتے قریب کرنا چاہا لیکن اس نے ہاتھ جهٹکا تها
“سونے دیں قریب بهی مت آئیے گا…”
اس کی بات پر اس نے منہ بنایا اپنی ایک ٹانگ اور ہاتھ اس کے اوپر رکها وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ کراہی تهی اور ہٹانے کی کوشش کرنے لگی
“سعد بهاری ہیں آپ…”
جب کسی صورت وہ ٹانگ اور ہاتھ نہ ہٹا سکی تو بےبسی سے بولی لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ بهی کچھ پل اس کو دیکهتی رہی پهر آنکهیں بند کر کے لیٹ گئی تهی
…………………………………
“السلام و علیکم….”
ملک ویلا میں سب ناشتے میں مصروف تهے کہ سعد اور دعا کے پرجوش سا سلام کرنے پر سب نے بےوقت آواز کی جانب دیکها سب خوشی سے اٹهے تهے انہیں امید نہ تهی صبح ناشتے کے دوران سعد اور دعا کی یوں آمد ہو گی
دعا اور سعد سب سے ملے تهے
“تم لوگ کب آئے خبر ہی نہیں ہو سکی…؟”
آبریش اپنی آنکهیں صاف کرتی دعا کی گال پر ہاتھ پهیرتے بولی
“رات چار بجے آئے تهے تقریباً. ..”
دعا کی بجائے سعد نے جواب دیا تها
“بهائی خبر ہی نہیں دی آپ نے…”
ذوہان نے کہا
“بس سرپرائز دینا چاہتے تهے…”
“میں خفا ہوں بهائی بہت دیر سے آئے ہیں آپ…”
وجدان دوبارہ ملتا خفگی سے بولا
“بس یار کام ہی زیادہ تها….”
اس نے تهوڑا شرمندگی سے کہا
“آو ناشتہ کرتے ہیں…”
شہرام نے ان دونوں سے بهی کہا تو پریہان ان کے لیے ناشتہ نکالنے لگی
…………………………………
اسلام و علیکم! کیسے ہیں سب…؟ سب ریڈرز پیچهلی قسط کو جہاں سٹاپ کیا اس وجہ سے بہت پریشان تهے کہ ناجانے سعد کیا کرنے والا ہے دعا کے ساتھ تو پڑھ لیں یہ کرنے والا تها ہاہاہاہا اور اگلی قسط لانگ ہو گی آگر رات میں نا آسکی تو کل ان شاءاللہ آئے گی
ایک اور بات میں وجدان کی شادی کو مکمل توجہ سے لکهنا چاہتی ہوں کیوں کہ میں نہیں چاہتی کوئی بهی ایسا سین جو پہلے سیزن میں مصطفی کی شادی میں لکها تها وجدان کی شادی میں لکهوں مکمل ڈفرنٹ لکهنا چاہتی ہوں جس کے لیے مجهے تهوڑا وقت درکار ہو گا کیوں کہ اگر سیم سیم لکھ دیا تو وہ مزہ نہیں رہے گا اور ان شاءاللہ ڈفرنٹ ملے گا
