Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 42

اس نے ہمت کرتے اپنے لب وا کیے تهے
“قق-قبول ہے….”
وہ مشکل سے یہ الفاظ ادا کر سکی تهی مولوی صاحب نے دوبارہ سے کلمات ادا کرنا شروع کیے تهے
“قبول ہے…”
مولوی صاحب کے کلمات مکمل ادا ہونے سے پہلے “قبول ہے” کی آواز گونجی تهی یہ آواز تعبیر کی نہیں بلکہ ایک مردانہ آواز تهی سب نے اس آواز کی سمت دیکها تها جہاں وجدان سکندر پولیس یونیفارم میں چہرے پر دلکش مسکراہٹ سجائے تمام تر وجاہت سمیٹے کهڑا تها اس کو دیکهتے روحا تعبیر سمیت سب کو شاک لگا تها روحا ہوش میں آتی اس کی جانب گئی تهی

“وجدان تم یہاں کیا کر رہے ہو….؟”
وہ اس کے قریب جاتی اردگرد مہمانوں سے بهرے حال کو دیکهتے بولی تهی
“روحا بےبی صبر رکهو ابهی معلوم ہو جائے گا…”
وہ بهی آہستہ آواز میں بولا تها
“وجدان سکندر….
تعبیر کے ساتھ کهڑی اس کی امی بڑبڑائی تهی
“یہ سب کیا ہو رہا ہے کیوں آئے ہو تم لوگ…؟”
لڑکے کا باپ بولا تها
“تیرے بیٹے کو اصل سسرال میں لے جانے کے لیے…”
وہ مسکراتا اس سے بولا تها اور ایک نظر تعبیر کو دیکها جو نم آنکهوں سے اسے دیکھ رہی تهی اور ساری کہانی سمجهنے کی کوشش کر رہی تهی

“تو اگر آپ لوگوں کی شادی بیاہ ہو گیا ہو تو اجازت دیں میں پهولوں کے ہار کی ہتهکڑی آپ کے بیٹے کو پہنا کر پولیس سٹیشن آئی مین اس کے اصل سسرال لے جانا چاہتا ہوں وہاں اس کا پرچوش استقبال کرنے کے کیے میری ٹیم تیار ہے….”
وہ بالوں میں ہاتھ پهیر کر بولتا سب پر آسمان گرا گیا تها

“وجدان یہ تم کیا کہہ رہے ہو…؟”
حسن صاحب غصے سے بولے تهے
“حسن صاحب آپ کا داماد آئی مین داماد تو میرا بهائی بنے گا….”
وہ آخر میں منہ میں بڑبڑایا تها جو صرف روحا ہی سن سکی تهی
“تو میں کہہ رہا تها کہ آپ کا نہ ہونے والا داماد ہمارے ملک کے ناسور داور خان کا خاص آدمی اور سمگلر ہے…”
اس کی مزید جهٹکے زدہ بات پر سب نے بےوقت اس کی جانب دیکها جو ماتهے پر چهایا پسینہ صاف کر رہا تها

“تم نے میرے بیٹے پر ایسا الزام لگانے کی جرات بهی کیسے کی….”
اس کا باپ طیش میں آتے بولا تها
“اور بیٹے کے سگے مجهے اریسٹ آرڈرز ملے ہیں ورنہ مجهے کیا ضرورت پڑی ہے کسی کی زاتی زندگی میں دخل اندازی کی کیوں روحا….؟”
اس کے باپ کو کہتے آخر میں روحا سے تصدیق چاہی جو خود سب سمجهنے سے قاصر تهی

“تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ میرا بیٹا سمگلر ہے..”
“تم جوابدہ نہیں یہ اریسٹ وارنٹ ہے اب مزید دماغ نہیں پکانا میرا…”
وہ اریسٹ وارنٹ ہاتھ میں پکڑے ہاتھ اوپر کرتے بولا تها سب کی نظریں اس وارنٹ کی جانب اٹهی تهیں
“اریسٹ ہم….”
وجدان نے اپنے ساتهیوں کو اشارہ کیا وہ پولیس آفیسر اس لڑکے کی جانب بڑهے اس سے پہلے وہ بهاگتا اس کو چارو جانب سے گهیر لیا گیا تها
“فرار کے سب راستے بند ہیں خود کو بنا مزاحمت کے حوالے کر دو ورنہ مجهے اپنے طور طریقے سے بهی لے جانا آتا ہے….”
وجدان نے اپنا موبائل نکالتے نارملی انداز میں کہا تها
“میرے بیٹے نے کچھ نہیں کیا اسے چهوڑ دو…”
اس کا باپ اپنے بیٹے کو گرفتار ہوتے دیکھ تڑپ اٹها تها سب تماشائی کی صورت میں اس تماشے کو دیکھ رہی تهی جب کہ تعبیر ساکت سی کهڑی اپنے سامنے ہوتی اس کاروائی کو دیکھ رہی تهی

“جو بیچ میں بیٹے کا سگا یا داماد کا سگا آئے اسے بهی اریسٹ کر لو…”
اس نے آخر میں حسن صاحب کو دیکهتے ہوئے کہا جو اپنی بیٹی کی قسمت پر بےبسی کی تصویر بنے کهڑا تها
اور بنا اس لڑکے کی فیملی کے شور شرابے کو خاطر میں لائے اس کو اریسٹ کر لیا گیا تها
“مجهے کام ہے وہاں کا کام تم سنبهال لو…”
اس نے محبوب کی جانب ہوتے راضدرانہ انداز میں کہا جس نے اس کا حکم سنتے اثبات میں سر ہلایا تها

“وجدان یہ تم نے کیا کیا…؟”
روحا کی آواز اسے اپنے اردگرد سنائی دی تهی
“تمہاری بہن کو اس سمگلر سے بچایا ہے اور سب سے اہم میرا بهائی میں اسے یوں نہیں دیکھ سکتا…”
اس نے موبائل پر ایک میسج ٹائپ کیا تها اور اس سے کہا
“میری بیٹی کو تماشا بنا دیا ہے تم نے سب کے سامنے ایک بار پهر تم میری دوسری بیٹی کے بهی اجڑنے کا باعث بنے ہو…”
حسن صاحب اس کے پاس آتے لوگوں کو سرگوشیاں کرتے دیکھ بولے تو وجدان نے روحا کی جانب شکوہ کناں نظروں سے دیکها جس نے نگاہیں چرائیں تهی جیسے کہہ رہا ہو کہ میں آج بهی تمہارا مجرم کہلاتا ہوں

“تو کیا آپ برداشت کر لیتے آپ کی بیٹی کو وہ سمگلر بیچ ڈالتا اس نے اسی طرح بہت سی لڑکیوں کو پیار کا جهانسا دیتے بهاری رقم سے بیچا ہے کیا وہ برداشت کر لیتے…”
وہ بلند آواز میں بولا جس سے تعبیر سمیت سب کے کان سائیں سائیں کرنے لگے تهے سرگوشیان مزید ہوئیں تهی

“تو میں کیا کروں میری پہلی بیٹی کے ساتھ جو ہوا اس کے ذمہ دار تم ہو اور اب دوسری کا غم میں کیسے برداشت کروں گا….”
وہ نم آنکهوں سے بولے تهے
“یہ لوگوں کی سرگوشیاں دیکھ رہے ہو یہ میری بیٹی کی بهلائی نہیں بلکہ اس کی قسمت پر ہیں اب شاید ہی بنا کسی طعنے سے اس سے شادی کرئے میں کیسے برداشت کرونگا وجدان تم بتاو تمہیں تو بیٹا بنایا تها میں نے…”
اس کی بات سنتے وہ خاموشی سے سامنے آنسووں بہاتی تعبیر کو دیکهنے لگا تها
…………………………………
ذوہان اپنے تیز سے تیز تر ہوتے بخار کے باوجود برف جتنے ٹهنڈے پانی سے نہاتا باتھ روم سے نکلا تها اس کا جسم منہ حد درجہ سرخ ہو چکا تها جس سے اس کے بخار کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا تها اس نے موبائل اٹهایا جس پر وجدان کا میسج تها اس نے وہ میسج اوپن کیا تها
“پانچ منٹ کے اندر تعبیر کے گهر پہنچو…”
یہ میسج پڑهتے اسے حیرت کا بدترین جهٹکا لگا تها

“سب خریت کیا ہوا ہے…؟”
اس نے میسج ٹائپ کرتے سینڈ کیا اور جلدی سے شرٹ نکالتے پہنی تهی دوبارہ موبائل اٹهایا لیکن وہاں وجدان کا جواب موصول نہیں ہوا تها
“کیا کر رہے ہو وجدان…؟”
وہ خود سے بڑبڑاتا چابیاں اور والٹ بهی اٹهاتا کمرے سے نکلا تها
…………………………………
“میں نے بهی آپ کو باپ کی حیثیت دی تهی اور تعبیر میری بہنوں جیسی ہے میں اسے یوں لوگوں کے بیچ باتوں کے لیے نہیں چهوڑوں گا میں جانتا ہوں وہ مجھ سے سخت نفرت کرتی ہے کیونکہ وہ حقیقت سے واقف نہیں وہ کیا آپ بهی نہیں واقف لیکن مجهے اس سے نفرت نہیں کیونکہ….”
وہ کہتے رکا اور ایک نظر دوبارہ تعبیر پر ڈالی جو اسی کو دیکھ رہی تهی

“کیونکہ یہ میرے بهائی ذوہان مصطفی کی محبت ہے…”
اس کی بات سنتے تعبیر نے آنکهیں سختی سے میچیں تهی جب کہ باقی سب پر بمب گرئے تهے
“یی-یہ تم کیا کہہ رہے ہو…؟”
حسن صاحب کو اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا تها
“میرا بهائی اس سے بےپناہ محبت کرتا ہے اور میں چاہتا ہوں اس کی شادی ابهی اور اسی وقت اس سے ہو جائے…”
تعبیر کے ساتھ ساتھ سب نے حیرت زدہ چہروں سے اسے دیکها تها
“تت-تم یہ…”
حسن صاحب کو سمجھ نہ آیا تها وہ کیا بولے

“لوگوں کا کام ہے باتیں بنانا اپنی دیگ میں کسی نے دیکهنا نہیں اور لوگوں کی دیگوں میں موجود چاول بهی گننے یہ حساب ہے ان کا…”
اس کی مثال سنتے روحا نے مسکراہٹ دبائی تهی جب کہ وہاں موجود مہمانوں نے اس کو گهورا تها
“میرا بهائی اس چیز سے واقف نہیں میں نے اسے بلایا ہے لیکن اسے کچھ نہیں بتایا وہ پانچ منٹ میں پہنچتا ہو گا اور امید ہے باقی سب بهی زبانوں کو لگام لگاتے میرے بهائی اور حسن صاحب کی بیٹی کا نکاح ہونے دیں مہربانی اور سب کهانا ضرور کهائیے گا مفت کا مال تو ویسے بهی نہیں چهوڑتے…”
وہ باتوں باتوں میں سب کی عزت افزائی کر گیا تها حسن صاحب نے جهرجهری سی لی تهی

“لیکن یہ سب ایسے وہ لڑکا کون ہے اس کے والدین…”
“وہ لڑکا ڈاکٹر ہے تعبیر اچهے سے جانتی ہے اور میرا بهائی ہے اس کا بیک گروانڈ بتانے کے لیے آپ مجهے جانتے ہیں یہی کافی اور اہم ہے…”
وہ حسن صاحب کی بات بیچ میں کاٹتے بولا تها کہ اتنے میں ذوہان الجها سا اور بےشمار سوال دل میں بسائے اندر داخل ہوا تها
“وجدان…”
اس نے اپنے سامنے کهڑے وجدان کو پکارا جس کی پشت اس کی جانب تهی اور پهر اس کی اگلی نظر اپنے سامنے موجود تعبیر پر گئی جو دلہن کے جوڑے میں ملبوس نم آنکهوں سے اسی کو دیکھ رہی تهی

“تم آگئے…”
اس کی نظروں کا تسلسل وجدان کے اس کے پاس آنے سے ٹوٹا تها
“یہ سب کیا ہو رہا ہے…؟
اس نے سوالیہ نظروں سے پوچها تو وجدان نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا تها
“حسن صاحب یہ ہے میرا بهائی یقیناً آپ کو تعبیر اور اس کے ابهی ہونے والے نکاح سے کوئی اعتراض نہیں ہو گا…”
اس کے ایسے بولنے پر زوہان نے ایک جهٹکے سے اسے دیکها
“ایک بار میں پهر تم پر یقین کرتے اپنی دوسری بیٹی بهی تکہاری سپرد کرتا ہوں مجهے منظور ہے اگر میری بیٹی ہاں کر دے تو…
اس نے کہتے ساتھ تعبیر سے پوچها سب کی نظریں تعبیر پر تهیں جس نے آنسووں صاف کرتے دهیرے سے اثبات میں سر ہلاتے چہرہ جهکایا تها زوہان ابهی بهی سب سمجهنے سے قاصر تها وہ ماوف ہوتے دماغ کے ساتھ وہاں ہوتی ان کاروائیوں کو دیکھ رہا تها کب نکاح ہوا کب کچھ پلوں کے لیے ان کو ساتھ بٹهایا کسی نے کیا دعا دی وجدان نے اس کو گلے لگتے کیا کہا اسے کچھ پتا نہیں تها اس کا دماغ مکمل طور پر بند ہو چکا تها اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تهی

تعبیر نے اپنے ساتھ بیٹهے زوہان کو دیکها جو چہرہ جهکائے نظریں ایک جگہ پر ٹکائے ہوئے تها
“میں دوسری بار تمہاری احسان مند ہو گئی ہو وجدان…”
روحا اس کے پاس کهڑی سامنے موجود زوہان اور تعبیر کو دیکهتے بولی
“نہ تو میں نے پہلے تم پر احسان کیا تها نہ اب پہلے تم میری دوست تهی اور دوستوں پر احسان نہیں ہوتا، اور اب یہ میرے بهائی کی محبت زندگی خوشیوں کا سوال تها اور میں اپنے بهائی کی خوشیوں کے لیے بےشک اس پر پورا نثار ہو جاوں…”
وہ مسکرا کر بولا وہ ہزار بار اللہ کا شکر ادا کر چکا تها جس نے اس کی لاج رکهی تهی جس نے اس کے بهائی کی محبت کی عزت رکهی تهی

“اب ہمیں جانا ہو گا حسن صاحب…”
وہ حسن کے پاس آتے بولا تها جس نے نم آنکهوں سے اثبات میں سر ہلایا تها اور پهر رخصتی بهی ہو گئی لیکن زوہان ابهی تک ماوف دماغ سے ہر کاروائی دیکهتا ضرور لیکن سمجهنے سے قاصر تها
“تم دونوں ایک گاڑی میں جاو میں اپنی گاڑی میں آتا ہوں…”
وجدان زوہان سے دوبارہ گلے ملتے بولا جس نے اثبات میں سر ہلایا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹها تها جب کہ اس کے ساتھ تعبیر بیٹهی تهی اور وجدان اپنی گاڑی میں بیٹها تها پهر دونوں گاڑیاں آگے پیچهے وہاں سے نکلیں تهی ان کو تقریباً تین بج گئے تهے وہاں سے نکلتے نکلتے
اب وجدان کا دماغ تیزی سے چل رہا تها کہ گهر والوں کو کیسے سنبهالنا ہے

“یہ دونوں بهائی ایسے ہی پاگل تهے ایک دوسرے کی محبت میں، ہمہ وقت کچھ بهی کر گزرنے کو تیار تهے ایک دوسرے کے لیے”
…………………………………
زوہان خاموشی سے ڈرائیونگ کر رہا تها اس نے تعبیر کو ایک نظر اٹها کر بهی نہیں دیکها تها جب کہ تعبیر دل سے ڈری ہاتھ ملتی کبهی اسے دیکهتی کبهی باہر دیکهتی خاموشی سے آنسووں بہا دیتی تهی ذوہان بظاہر تو اس سے انجان مگر پوری نظر رکهے ہوئے تها وہ ابهی خود سمجهنے سے قاصر تها تعبیر کو کیا تسلی دیتا قسمت نے دونوں کی زندگی میں کیا پلٹی ماری تهی وہ دونوں حیران تهے اور ابهی اسے وجدان سے یہ جاننا تها کہ اس نے ایسا کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے
…………………………………
اس نے گیٹ کے باہر ہارن بجایا تو چوکیدار جو دروازہ کهولنے آیا تها زوہان کے ساتھ دلہن کے جوڑے میں لڑکی دیکهتے اسے حیر کا جهٹکا لگا تها اس کی حیرت کو اگنور کرتے اس نے گاڑی اندر داخل کی تهی پیچهے وجدان بهی اپنی جیپ اندر لایا تها زوہان گاڑی روکتا گاڑی سے نکلا تها جب کہ تعبیر کنفیوز سے گاڑی میں ہی بیٹهی تهی

“باہر آجائیں اندر چلتے ہیں…”
اس کو باہر نہ آتے دیکھ وہ سنجیدگی سے بولا تو اس نے نظریں اٹهائے اسے دیکها جو اسی کی جانب سنجیدگی سے دیکھ رہا تها اتنے وقت میں یہ پہلی بات تهی جو زوہان نے اس سے کی تهی وہ لہنگا سنبهالتی گاڑی سے نکلی تهی اتنے میں وجدان بهی ان کی جانب آیا تها
“کیا کرنے والے ہو تم اب…؟”
زوہان نے وجدان سے پوچها تها
“سب لاونچ میں بیٹهے ہیں میں نے عالیاب سے پوچها ہے وہی جا کر سب کو حقیقت سے آگاہ کروں گا…”
اس کی بات سنتے دونوں نے بےوقت وجدان کی جانب دیکها تها
“تکہارے اوپر والا دماغ کہیں ہوا میں گم تو نہیں ہو گیا وجدان…”
اس نے آئبرو اچکائے کہا تو وہ بالوں میں ہاتھ پهیرتے مسکرایا تها اور آنکھ دباتا اندر کی جانب بڑھ گیا تها اس نے گہرہ سانس لیتا کنفیوز سی تعبیر کو دیکها تها

“چلیں…”
اس سے کہتا خود بهی اندر کی جانب قدم بڑهائے تهے وہ بهی لہنگا سنبهالتی اس کے پیچهے آنے لگی تهی
“السلام و علیکم ایوری ون…”
وجدان نے لاونچ میں داخل ہوتے پرجوش انداز میں کہا تو ان سب نے مسکراتے ہوئے سلام کا جواب دیا لیکن سب کی مسکراہٹ زوہان کے پیچهے موجود اس دلہن بنی لڑکی کو دیکهتے تهمی تهی
…………………………………
السلام و علیکم! کیسے ہیں سب…؟ سب نے بہت تکا بازی لگائی کمنٹس میں بهی انباکس میں بهی لیکن لیکن “نرمین” سسٹر کے علاوہ کسی کا تکا ٹهیک نہیں لگا ان کا اندازہ بهی آدها ٹهیک تها کہ وہ لڑکا وہی سمگلر ہو گا جس کی تصویر محبوب نے دیکهائی تهی
اور جو کہہ رہے تهے روحا وجدان کا پلین ہے تو ایسا کچھ نہیں اور نہ ہی دوسری جانب زوہان نکاح کے لیے موجود تها خیر انجوائے کریں شکریہ تکا بازی کا