No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
“ڈاکٹر تعبیر کیا میں آسکتا ہوں….؟”
ذوہان نے ہولے سے روم کا دروازہ کهٹکهٹاتے باہر سے ہی ہانک لگائی تهی لیکن جب ایک منٹ جواب نہ آیا تو اس نے دروازہ کهولا اور اندر داخل ہوا لیکن اندر کا منظر دیکھ کر وہ مبہوث رہ گیا
سامنے تعبیر کرسی پر بیٹهے بیٹهے ہی سوئی ہوئی تهی سر کرسی کی پشت سے ٹکائے جو ہلکا سا نیچے ڈهلک رہا تها اور کمرے میں ہیٹ ہونے کی وجہ سے حجاب میں موجود چہرہ سرخ ہو رہا تها وہ یک ٹک تعبیر کو دیکهے جا رہا تها
“❤میں نے تو یوں ہی دیکھا تھا دیدار شوق کی خاطر…
تم دل میں اتر جاؤ گے کبھی سوچا نہ تھا❤”
“ماشاءاللہ…..”
بےاختیار اس کے منہ سے نکلا اور نظروں کا زاویہ بدلہ جو مشکل تها نظریں بار بار بهٹک کر اس کے خوبصورت چہرے پر جا رہی تهیں بےقابو ہوتے دل پر ہاتھ رکهتے وہ پلٹا تها لیکن جلدی میں دروازے کے پاس موجود ٹیبل سے ٹکرایا اور ہاتھ لگنے کی وجہ سے ٹیبل پر موجود واس نیچے گرا تها
شور برپا ہونے کی وجہ سے تعبیر کی آنکھ کهلی تهی ذوہان نے بهی فورا پلٹ کر تعبیر کو دیکها دونوں کی نظریں ملی تهیں تعبیر فورا سیدهی ہو کر بیٹهی
“ڈڈ-ڈاکٹر ذوہان….”
وہ شرمندہ سی ہکلائی تهی اور اس کی شرمندگی دیکھ کر ذوہان دوگنا شرمندگی میں ڈوبا تها اور دل میں اس واس کو گالیاں دیں تهیں بهلا کیا ضرورت تهی گرنے کی
“سوری ڈکاٹر تعبیر آپ سوئی ہوئی تهی تو میں بس جارہا تها معزرت بہت زیادہ…..”
وہ نظریں چراتے ہوئے بولا
“کوئی کام تها…؟”
“فارصل ڈاکٹر فیصل نے کہا تها آج رات آپ ریسٹ کر لیں ویسے بهی آپ کل سے یہاں موجود ہیں اب سے رات کی ڈیوٹی ڈاکٹر راحت کریں گے….”
شرمندگی میں گڑتے جیسے اس سے بات بنی وہ بول گیا جو کچھ حد تک تعبیر کو سمجھ آگئی تهی اسی لیے اثبات میں سر ہلایا اور اٹهتے ہوئے کرسی سے اپنا کوٹ اٹهایا تها
“اگر آپ اجازت دیں تو میں چهوڑ سکتا ہوں ویسے بهی کس کے ساتھ جائیں گی اب….”
وہ اس کو سامان اٹهاتے دیکھ بولا تها تعبیر سوچ میں پڑ گئی تهی
“آپ کے پرس میں سپرے ہے زرا سا مجھ سے خطرہ محسوس ہو بنا جهجهک وہ استعمال کر لیجیے گا….”
اس کو سوچ میں دیکھ کر وہ بولا تو اس نے سختی سے آنکهیں میچ کر کهولیں اور اثبات میں سر ہلایا اور پهر دونوں روم سے باہر نکلے تهے
…………………………………
“عالیاب کی بچی بس کردو رونا….”
پارس اس کو مسلسل شہرام کے سینے سے لگے روتے دیکھ کر بولا
“وجدان کی ہمت بهی کیسے ہوئی آپ سے یہ سب کہنے کی میں اس کو زندہ نہیں چهوڑوں گا میری بیٹی کو کب سے رولائے جا رہا ہے….”
شہرام محبت سے اس کا سر سہلائے بولا
“نہیں مارئیے گا مت….”
وہ سر اٹهائے معصومیت سے بولتی سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکهیر گئی تهی جبکہ شہرام نے مسکراہٹ دبائی
“یہ چڑیل کو کیا ہوا ہے اور السلام و علیکم….؟”
ذوہان شہرام کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولا جہاں سے سب کے بولنے کی آواز آرہی تهیں تو وہ وہی آگیا
“بهائی ہونا کیا ہے وجدان بهائی نے پهر اس کی ٹیوننگ کی ہے….”
پارس میرب کی گود میں سر رکهتے ہوئے بولا
“مطلب میں جاتا ہوں…”
وہ دروازے کی جانب مڑتے ہوئے بولا
“واپس آجاو عالیاب کی شرٹ ہے سب کے سامنے وجدان کی درگت بنے….”
احتشام نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ عالیاب کو گهورتے ہوئے آبریش کے ساتھ بیٹھ گیا
…………………………………
“تیری یاداں سہارے میں جی تے لواں گی
اے زہر جدائی دا پی تے لواں گی
اک غم تسی دیتا سو غم آپ پالے
میں کیتا سی اپنا سب تیرے حوالے”
وجدان جیکٹ کندهے پر لٹکائے گانا گنگناتے ہوئے گهر میں داخل ہوا تها ایک ہاتھ سے بالوں میں ہاتھ پهیرتا جبکہ دوسرے سے چابی انگلی میں گهماتا وہ بہت ڈیشنگ لگ رہا تها کہ سامنے سے ایک ملازمہ اس کے پاس آئی
“صاحب جی شہرام صاحب نے کہا ہے جب گهر آئیں تو سیدها ان کے کمرے میں آئیں….”
“کیوں خریت…..؟”
اس کو حیرت ہوئی تهی
“معلوم نہیں صاحب جی بس شہرام صاحب نے یہی کہا تها….”
وہ تابعداری سے بولی تهی تو وجدان ایک نظر اس کو دیکهے شہرام کے کمرے کی جانب قدم بڑهائے تهے
کمرے میں داخل ہوتے اس نے ایک منٹ کمرے کی چوکهٹ پر رک کر سب کو دیکها پهر شہرام کے سینے سے لگی عالیاب کو دیکهتے اس کو سب کہانی سمجھ آئی تهی وجدان ہونٹوں سے سیٹی مارتے سر سے کیپ اتارتے احتشام کے سر پر رکهی اور اسی کے ساتھ صوفے پر بیٹها تها
“خیر تو ہے سب یہاں اکهٹے ہیں کہیں میری شادی تو نہیں فکس کررہے….”
وہ عالیاب پر نظریں مرکوز کرتے ہوئے بولا
“بیٹا شادی تو نہیں البتہ قتل ہونے والا ہے تمہارا عالیاب کی طرف سے شکایت آئی ہے تمہارے خلاف…”
احتشام نے اس کے بال بگاڑتے ہوئے کہا
“اووہوو سچی عالیاب سکندر….”
اس نے سر ترچها کئیے عالیاب سے پوچها وہ جو ایک آنکھ نکالے سکندر کو دیکھ رہی تهی فورا پورا منہ شہرام کے سینے میں چهپا گئی
“وجدان اس حرکت کا کیا مقصد ہے…؟”
شیرام نے غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا
” ڈیڈ تو کیا اپنی لاڈلی سے نہیں پوچها کہ اس کی کیا خطا تهی….”
وہ نارملی انداز میں بولا
“اس نے جو بهی کیا تم کون ہوتے اس کو سزہ دینے والا…..”
شہرام کے غصے بهری آواز سن کر جہاں عالیاب نے تهوگ نگلا تها وہی وجدان ایک ہاتھ گردن پر ٹکائے سنجیدگی سے شہرام کو دیکهنے لگا
“آپ یہ چاہتے ہیں میں اس کے سامنے اقرار کروں کے میں کون ہوتا ہوں….”
وہ بهی اب سنجیدہ تها
“ایسا کوئی رشتہ نہیں تمہارا اس سے جو تم اتنا پریقین ہو…..”
شہرام نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا
“مجبور کررہے کہ ایسا رشتہ بنا ڈالوں….”
سب ان دونوں کی گفتگو خاموشی سے سن رہے تهے
“سیریسلی….؟”
شہرام نے آئبرو اچکاتے ہوئے کہا تو اس نے نگاہیں پهیری تهیں
یہ بات تو وہ بهی بخوبی جانتا تها اپنے باپ کی مرضی کے بنا وہ عالیاب کو حاصل نہیں کرسکتا اگر بلفرض اس سے زبردستی نکاح کر بهی لے اور چهپا بهی دے لیکن اسکا باپ کسی طرح ڈھونڈه کر اسے اس سے بہت دور کردے گا اور وجدان کو شہرام کے سامنے بهیک مانگنے پر مجبور کردے گا وہ جتنا بهی تیز دماغ پهرتیلا ہو لیکن اپنے باپ کے دماغ کا مقابلہ زرا مشکل تها
“ماموں انہیں کہیں سوری بولیں….”
عالیاب شہرام سے سرگوشانہ انداز میں بولی جو سب نے بخوبی سنی اور سب کے منہ پر مسکراہٹ بکهیر گئی
“وجدان سوری بولو عالیاب سے….”
“کیوں کس خوشی میں اگر آپ سمجهتے ہیں جو میں نے کیا اس پر میں شرمندہ ہوں تو بهول ہے آپ کی مجهے زرا شرمندگی نہیں اپنے کئیے پہ اس کو مزید ٹیوننگ کی ضرورت ہے….”
وہ وارن نظروں سے عالیاب کو دیکهتے ہوئے بولا
“سوری بولیں سکندر….”
عالیاب نے گهورتے ہوئے کہا وجدان مسکرایا تها تو مطلب وہ اس کے باپ کی موجودگی کا فائدہ اٹهاتے شیرنی بنی پهرتی تهی
“نہ بولوں تو…”
اس نے خوبصورت مسکراہٹ سے کہا تو وہ گهورنے لگی
“یار وجدان بول دو تم سب تو ویلے ہو کچھ لوگ ڈیوٹی سے تهکے ہارے بهی آتے ہیں ترس کهاو یار…..”
وہ مظلوم بهری شکل بناتے بولا تو سب کو قہقے لگانے پر مجبور کر گیا
“قسمے پچهتانے پر مجبور کردیا کہ کیوں میں اپنے کمرے کی بجائے یہاں آگیا….”
وہ آبریش کے کندهے پر سر رکهتے ہوئے بولا
“وجدان بول دو سوری بیٹا….”
پریہان نے آنکهوں میں محبت کا جہاں سموتے ہوئے کہا تو وہ اپنی ماں کو دیکھ کر مسکرایا
“صرف اپنی موم کی خاطر بول رہا ہوں اور بار بار نہیں بولوں گا….”
وہ صوفے سے اٹهتے ہوئے بولا اور بیڈ پر نیچے پیروں کے بل تهوڑا اونچا ہو کر بیٹهتا عالیاب کو دیکها جو دم سادهے سانس روکے اس کو دیکھ رہی تهی
“سوری….”
وہ محبت سے بولا
“کان پکڑ کر بولیں سکندر…..”
اس نے مزید فرمائش کی
“سوری….”
وہ اس کے کان پکڑتے ہوئے بولا تو وہ کهلکهلائی تهی سب ہنسے تهے وجدان بهی مسکراتا ہوا اٹها اور اس کے سر پر ہاتھ پهیرا تها
“شکر الحمدللہ ہمیں جو سولی پر لٹکایا تها اس سے رہائی ملی….”
ذوہان اٹهتے ہوئے بولا سب پهر سے ہنسے تهے واقع ہی اس کی شکل سے لگ رہا تها وہ کس قدر تهکا ہوا ہے
“چلیں ہم کهانا لگاتے ہیں….”
زرش اٹهتے ہوئے بولی تو میرب پریہان اور آبریش بهی اس کے ساتھ کمرے سے نکل گئیں تهی جبکہ دعا عالیاب اور سکندر بهی چلے گئے تهے اب کمرے میں صرف احتشام رامز مصطفی اور شہرام تهے جو اپنی باتوں میں مگن ہوگئے تهے
…………………………………
پریہان رات کے کهانے کے بعد سب کام کرواتے کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے شہرام بیڈ پر لیٹا کوئی میگزین پڑھ رہا تها شہرام نے پریہان کو دیکهتے میگزین رکها اور ایک ہاتھ کهولتے اس کو اپنے قریب بلایا وہ بنا دیری کیے اس کے پاس آئی اور اس کے سینے پر سر رکھ کر بیٹهی تهی
پچس سال بعد بهی اس کی خوبصورتی میں زرا فرق نہ آیا تها شہرام کی محبت نے اس کو دن بادن نکهارا تها لیکن ایک روگ تها اس کو جو اس کے ساتھ چمٹ کیا تها اتنے سال گزرنے کے بعد بهی وہ اس روگ اس اذیت سے باہر نہ نکل سکی تهی
پریہان سوچوں کی دنیا سے تب باہر نکلی جب شہرام کا لمس اس کو اپنی گردن پر محسوس ہوا
“کیا بات ہے کن سوچوں میں کهوئی ہوئی ہو…؟”
وہ اس کی کمر سہلاتے ہوئے بولا تو اس نے نفی میں سرہلایا
“میں کب سے دیکھ رہا ہوں کهانے کے دوران بهی تم چپ چپ تهی وجدان نے کوئی بات کی ہے کیا….؟”
اسکی بات پر اس نے دوبارہ نفی میں سرہلایا
“شہرام اتنے سال گزر گئے لیکن میں نے اپنے پیٹ سے پیدہ کئیے بچے کی خوشی محسوس نہیں کی….”
وہ روندهی آواز میں بولتی شہرام کو ٹهٹهکا گئی
“کیسی باتیں کررہی ہو پری وجدان ہمارا بیٹا ہے….”
وہ اس کو کندهوں سے تهامتے اپنے سامنے کرتے ہوئے بولا
“میں نے اسے جنم نہیں دیا بےشک وہ مجهے میری جان سے زیادہ عزیز ہے اور وہ مجھ سے بےتحاشہ محبت کرتا ہے لیکن آپ سمجھ رہے ہیں نہ میں کیا کہ رہی ہوں…؟”
وہ بولتے بولتے رکی اور اس سے اپنی بات کے سمجھ آجانے کا پوچهنے لگی
شہرام نے بنا کچھ کہے اس کا سر اپنے سینے سے لگایا تها اور اس کے بال سہلانے لگا وہ اسکے سینے سے لگی سسکتی رہی مہینے میں ایک دو بار ایسا ضرور ہوتا تها جب وہ اپنی اذیت کا شہرام کو بتا کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتی تهی
وشما کے دیے ستم کا بدلہ وہ آج تک چکا رہی تهی لیکن وہ اس کا گلا کسی سے نہیں کرتی تهی اور عالیاب کو بهی ماں بن کر سنبهالا تها کبهی اسے یہ احساس نہیں دلایا کہ وشما کی وجہ سے وہ خود ماں جیسی نعمت سے محروم ہوگئی تهی
…………………………………
وجدان بیڈ پر اپنے گرد بہت سی فائلز پهیلا کر بیٹها تها جبکہ ہاتھ میں پکڑی فائل کو بہت غور سے دیکھ رہا تها کہ ذوہان دروازہ کهولتا اندر داخل ہوا وجدان کو اسے دیکھ کر حیرت نہ ہوئی وہ اکثر کسی بهی وقت آجایا کرتا تها اگر وجدان سو بهی رہا ہو تو اس کو جگا کر چلا جایا کرتا تها
“اس وقت برو کیا کررہے ہو یہاں…؟”
وجدان فائل کو دیکهتے ہوئے بولا ذوہان نے ٹائیم دیکها کهڑی گیارہ کا ہندسہ عبور کرگئی تهی
“مجهے نیند نہیں آرہی تهی….”
وہ فائلز پیچهے کرتا لیٹتے ہوئے بولا
“بےحیا انسان یہ کام کی فائلز ہیں جن کو بےقدری سے پیچهے کررہے ہو….”
وہ فائلز کو دوبارہ سہی کرتے ہوئے ذوہان سے بولا
“یار بات کرنی ہے تم سے بعد میں کام کر لینا….”
وہ اس کی جانب کروٹ لیتے ہوئے بولا تو ناچاہتے ہوئے بهی اس نے فائلز سائیڈ پر کی اور ذوہان کی جانب منہ کرتے لیٹا تها
“ہاں جی بکو…”
وہ ایک بازو سر کے نیچے رکهتے ہوئے بولا جبکہ دوسرے ہاتھ سے داڑهی کهجا رہا تها
“یار مجهے بہت زیادہ محبت ہوگئی ہے…”
وہ بےچارگی سے بولا تو نے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبایا
“تو….؟”
“تو یہ بات وہ نہیں سمجهتی….؟”
اس نے معصومیت سے کہا
“اب اس بات پر یقین کیا جاسکتا ہے کہ تم سچ کہ رہے ہو کیونکہ جیسے تمہاری شکل ہے تعبیر کو تم پسند بهی نہیں آسکتے….”
اس کی بات پر ذوہان نے حیرت سے اس کی جانب دیکها
“تمہیں کیسے پتا اس کا نام تعبیر ہے…”
وہ کہنی کے بل اٹهتے ہوئے بولا تو وجدان نے بامشکل مسکراہٹ روکی تهی
“پولیس والا ہوں ہر جانب چیتے جیسے نگاہ رکهتا ہوں…”
وہ بهی اٹهتے ہوئے بولا
“مطلب تم میرے پر نظر رکهے ہوئے تهے…
وہ سیدها ہو کر بیٹهتے حیرانگی سے بولا تو اس نے کندهے اچکائ
“بس پتا ہونا چاہیے چار منٹ چهوٹا بهائی کوئی کارنامہ سرانجام تو نہیں دے رہا….
اس نے شرارت سے کہا
“پائے ویسے ایک نمبر کے بیغیرت گئے ہو…”
اس نے گهورتے ہوئے کہا تو وہ زور سے ہنسا تها
“اچها چهوڑو برو بتاو کیا کروں…؟”
وہ دوبارہ مظلومیت پر آیا تها
“تم پوری ٹرائے کرو میں تعبیر سے بات کرکے سمجهاوں گا کہ ذوہان کی بات پر یقین کبهی مت کرنا…”
وہ جو سنجیدگی سے اس کی بات سن رہا تها آخری بات سن کر خونخوار نظروں سے گهورا تها
“تم بهائی ہو یا دشمن بهاڑ میں جاو…
وہ غصے سے کہتا اٹهتے ہوئے بولا تو وجدان نے قہقہ لگایا اور اس کا ہاتھ پکڑا
“اچها مزاق کررہا تها بیٹهو…”
وہ اس کو بیٹهاتے ہوئے بولا تو وہ خفگی سے منہ پهلائے بیٹها تها
“یار مان جائے گی اتنا بےصبرہ نہیں ہونا چاہیے انسان کو ابهی تجھ سے چار منٹ بڑا بهائی کوارا بیٹها ہے…”
وہ گردن اکڑائے بولا
“چار منٹ بڑا بهائی جہنم میں دفعہ ہو جائے….”
وہ اٹهتے ہوئے بولا اور تکیہ اٹهاتے اس کو مارا تها اور ایک گهورتی نگاہ ہنستے ہوئے وجدان پر ڈالتے کمرے سے نکل گیا پیچهے وہ کچھ دیر ذوہان کو سوچ کر ہنستا رہا پهر نفی میں سر ہلاتے فائلز دیکهنے لگا
