Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 44

اپنے چہرے پر گرم سانسیں محسوس کرتے وہ نیند سے بیدار ہوئی تھی پھر جیسے ہی آنکھیں کھولیں نظریں سیدھا خود پر جھکے زوہان کی نیلی آنکھوں سے ٹکرائیں تھی وہ یک ٹک ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھنے لگے تھے

تعبیر اس کی لال انگارہ آنکھوں کی تاب نہ لا سکی تو فورا نظریں جھکا گئی پھر ہوش میں آتی اس کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے پیچھے کرنا چاہا تھا وہ جو مکمل اس کے نقش میں کھویا ہوا تھا ہوش میں آیا اور اپنی بےخودی پر شرمندہ ہوتا پیچھے ہوا تھا اس کے پیچھے ہوتے ہی وہ بھی اٹھ کر بیٹھی تھی

“آپ نے کپڑے تبدیل نہیں کیے۔۔۔؟”
وہ کھڑا ہوتے بولا پھر اپنے ہی کیے سوال پر سر کھجانے لگا تھا
“دعا یا عالیاب میں سے جن کے کپڑوں سے گزارہ ہو جائے بتا دو لا دیتا ہوں پھر رات تک یا کل تک امی سے کہہ دوں کا کپڑے آجائیں گے۔۔۔۔”
وہ اردگرد دیکھتے ہوئے بولا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا زوہان نے اسے دیکھا جو نظریں جھکائے بیٹھی تھی

“کچھ کہنا نہیں چاہو گی۔۔۔۔؟”
اس کے سوال پر اس نے نگاہیں اٹھائے اس کو دیکھا تھا جو بنا پلک جھپکائے اب اسے ہی دیکھ رہا تھا
“میں کیا کہوں سمجھ نہیں آرہا۔۔۔”
وہ پھر سے نظریں جھا گئی تھی
“سمجھ یا یقین نہیں آرہا کہ قسمت نے ایک سیکنڈ میں کایا پلٹتے تمہیں تعبیر زوہان مصطفی بنا دیا ہے۔۔۔۔”
وہ اس سے تھوڑا فاصلے پر بیٹھے بولا تھا

“کر سکتے ہیں آپ طنز۔۔۔۔۔”
وہ شکوہ کناں نظروں سے دیکھتے بولی تو اس نے گہرا سانس بھرا تھا
“میں نے حقیقت کہا ہے تم طنز سمجھو یا جو بھی تمہاری مرضی۔۔۔۔”
وہ سیدھا ہوتے بولا تھا اور چہرے جھکائے اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگا تھا تعبیر کو بہت زیادہ رونا آنے لگا تھا اور بہت روکنے کے باوجود بھی آنسووں نے اس کی گالوں کو بھیگونا شروع کر دیا تھا اس نے سسکی دبانے کے لیے منہ پر ہاتھ رکھا لیکن سسکی دبائے نہ دبی تھی
اس کی سسکی سنتے زوہان نے چہرہ اٹھائے ماتھے پر بل ڈالے اسے دیکھا تھا

“ایسے مت دیکھیں میری طرف٫ اگر ایسے ہی دیکھنا ہے تو دیکھیں ہی مت۔۔۔”
وہ آنسووں صاف کرتے اس کو یوں تکتا پا کر بولی اس کی بات سنتے اس کے ماتھے پر موجود بل غائب ہوئے تھے لیکن گھورنا نہیں چھوڑا تھا
“سمجھ میں نہیں آرہا زوہان۔۔۔۔؟”
اس کو نظریں ہٹاتے نہ دیکھ وہ پھر سے بولی

“بیوی ہو میری دیکھنے کا حق ہے مجھے شکر مناو ابھی صرف دیکھ رہا ہوں ورنہ حقوق تو بہت ہیں جو لے سکتا ہوں….”
اس کی زومعنی بات سنتے وہ پل میں سرخ ہوئی تھی اور پلکوں کی باڑ گراتے اپنے ہونٹوں کو تھوڑا سا کھولا تھا زوہان کی نظریں اس کے ہلکے سے کھلے ہونٹوں پر گئی لیکن فورا نگاہیں پھیرتا جذباتوں کو لگام ڈالنے لگا جو کسی بے لگام گھوڑے کی طرح ادھم مچائے ہوئے تھے

“تعبیر۔۔۔”
کچھ توقف کے بعد زوہان نے اس کی جانب دیکھتے اس کو پکارا تو اس نے پلکوں کی باڑ اٹھائے اسے دیکھا تھا
“کیا تمہیں مجھ سے محبت نہیں۔۔۔؟”
اس کے اس اچانک سوال پر اس کی بیٹ مس ہوئی تھی سانسوں کی رفتار تیز ہوئی تھی زوہان اس کی تیز ہوتی سانسوں کو بخوبی محسوس کر سکتا تھا وہ اس سے نظریں چرائے خاموش تھی

اس سے پہلے زوہان دوبارہ کچھ بولتا دروازہ کھٹکھا تھا زوہان گہرہ سانس لیتے اٹھا اور دروازہ کھولا تو ملازمہ تھی
“چھوٹے صاحب یہ کھانا اور بیگم صاحبہ کے لیے ایک سوٹ ہے پہننے کو اور بڑے صاحب نے کہا ہے رات کے کھانے میں آپ دونوں آئیں نیچے۔۔۔”
اس نے وہ سوٹ اور کھانا اس کی جانب بڑھائے کہا جسے زوہان نے سر ہلاتے تھاما تھا اور پھر دروازہ بند کرتا اس کی جانب آیا کھانا اس کے سامنے رکھتے اس ڈریس کو بھی سائیڈ پر رکھا تھا

“کپڑے چینج کر لو پھر کھانا کھا لینا یا پھر کھانا کھا کر چینج کر لو جیسے مرضی ایزی ہو جاو میں ںاہر ہوں۔۔۔۔”
وہ ٹرے میں موجود کھانے کو دیکھتے بولا تھا اور اس کے پاس سے جانے لگا کہ تعبیر نے بے اختیاری میں اس کا ہاتھ تھاما اس کے ہاتھ تھامنے پر زوہان کو چار سو چالیس واٹ کا جھٹکا لگا تھا اور ایک جھٹکے سے پلٹ کر اسے دیکھا تھا جھٹکا تو تعبیر کو بھی لگا اس کا ہاتھ پکڑتے لگا تھا جو بہت تیز مچ رہا تھا

وہ فورا بیڈ سے اٹھی اور دوسرے ہاتھ سے اس کے انگارے کی مانند تپتے ماتھے کو چھوا تھا پھر اس کی آنکھوں میں دیکھا جو بخار کی وجہ سے لال انگارہ ہوئی ہوئیں تھی چہرہ بھی بخار کی شدت سے خون اگل رہا تھا

“آپ کو بخار ہے زوہان۔۔۔”
وہ پریشانی سے بولی
“ہلکا سا ہے ختم ہو جائے گا۔۔۔۔”
اس نے اس کے ہاتھ میں موجود اپنے ہاتھ کو دیکھتے کہا زوہان نے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش نہ کی تھی بلکہ اس کا برف کی مانند ٹھنڈا ہاتھ اسے دل کے ساتھ ساتھ جسم میں بھی سکون بخش رہا تھا

“یہاں بیٹھیں میں چیک کرتی ہوں۔۔۔”
وہ اسے بیڈ پر بیٹھنے کا کہتی اس کا بیگ ڈھونڈھنے لگی جس میں اسے ضرورت کی چیز مل جانی تھی
“فرسٹ ایڈ باکس یا وہ آپ کا بیگ کہاں ہے۔۔۔؟”
جب اسے نظر نہ آیا تو وہ اسے پوچھنے لگی تھی
“فرسٹ ایڈ باکس واشروم میں اور وہ بیگ الماری میں لاسٹ میں موجود ہے۔۔۔”
اس نے اس کو بتایا تو وہ الماری کھولتی نیچے سے بیگ نکالا اور اس کے ہاس آتی تھرما میٹر نکالتی اس کا بخار چیک کرنے کے کیے تھرما میٹر زوہان کو پکڑایا جسے اس نے خاموشی سے تھاما تھا

پھر وہ بخار کے لیے میڈسن دیکھنے لگی تھی میڈسن ملنے کے بعد اس نے اس سے تھرما میٹر لیا اور وہ دیکھتے ہی اس کی آنکھیں ابلنے کو تھیں
” اتنا بخار اور آپ کہہ رہے ہیں یہ معمولی سا ہے زوہان۔۔۔۔”
وہ آنکھیں پھاڑے تھرما میٹر دیکھتے اسے بولی

“مرض کی دعا آگئی ہے اب یہ بخار کی شدت میرے لیے معنی نہیں رکھتی۔۔۔”
اس نے شدت سے بھر پور نگاہیں اس پر گاڑتے ہوئے کہا جو اپنے دھڑکتے دل کے ساتھ کھڑی میڈسن سائیڈ پر رکھنے لگی

“پہلے کچھ کھا لیں پھر یہ میڈسن لے لیجئیے گا۔۔۔”
وہ گھبراتے ہوئے بولی اور اپنا بھاری برکم لہنگا سنبھالتی واشروم جانے کے لیے مڑی لیکن زوہان نے اس کی کوشش ناکام بناتے اس کو بازو سے پکڑ کر کھینچا کہ وہ اپنے حلق سے برامد ہوتی چینخ کے ساتھ اس کے گود میں بیٹھی تھی تعبیر کی ہشت زوہان کے سینے سے لگی تھی اس کا دل پانچ سو کی سپیڈ سے دھڑکتا سینہ توڑے باہر نکلنے کو تھا

تعبیر کی جان پر تب بنی جب زوہان کا ہاتھ اس کی کمر سے ہوتا پیٹ پر آیا تھا اور کان کے قریب سے اس کا دوپٹہ پیچھے کو سرکا تھا

“اتنی پرواہ کیوں کر رہی ہو۔۔۔؟”
وہ سرگوشانہ انداز میں اس کے کان کے قریب بولا تو بخار کی وجہ سے اس کی بہت گرم سانسیں اپنے کان اور گردن پر محسوس کرتی اپنی آنکھیں سختی سے میچ گئی تھی

“بولو جان من خاموش مت رہو۔۔۔۔”
اس نے اس کے پیٹ پر دباو ڈالتے کہا تھا
“شش-شوہر ہیں اب آپ میرے آپ کی صحت٫ صحت بہت ضروری ہے۔۔۔”
وہ تیز سانسوں کے درمیان بولی تھی
“وہی شوہر جسے تم ناپسند کرتی ہو۔۔۔۔”
اس کے تلخی سے کہے الفاظوں پر وہ تڑپ اٹھی تھی

“میں نے کب کہا میں آپ کو ناپسند کرتی ہو۔۔۔”
وہ جلدی بازی نیں بول گئی تھی پر خود کی بات سمجھتے اس نے خود کو کوستے پھر سے سختی سے آنکھیں موندیں تھی زوہان کے لب مسکرائے تھے

“تو کیا نکاح کے چند گھنٹوں بعد ہی تمہیں محبت نے گھیر لیا ہے۔۔۔”
اب کہ وہ بولا تو زوہان کے لبوں کا لمس اسے اپنے کان پر محسوس ہوا تو اس نے اپنے پیٹ پر رکھے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے بے اختیاری میں اپنے ناخن گاڑے تھے زوہان کے ہونٹوں پر پھر سے تبسم پھیلا تھا

“کپڑے تبدیل کر لو پھر دونوں کھانا کھائیں گے اور پھر۔۔۔۔۔۔”
وہ بات ادھوری چھوڑ گیا تھا
“اور پھر۔۔۔؟”
اس نے آنکھیں کھولتے فٹ سے پوچھا تھا
“پھر جو ہو گا وہ بتانے والا نہیں کرنے والا ہے۔۔۔۔۔”
وہ مسکرا کر بولتا اس کے کان کے قریب پھونک ماری تو وہ اس کی بےباک بات پر شرم سے پانی پانی ہو گئی تھی زوہان کی گرفت ڈھیلی ہوئی تو وہ موقع پاتے فورا اٹھی تھی اور کپڑے اٹھائے بنا اسے دیکھے واشروم کی جانب گھسی تھی زوہان دلکشی سے مسکراتا اپنے درد سے پھٹتے سر کو تھاما تھا اور گہرے سانس لیتا جزباتوں کے امڈتے طوفان کو اندر دھکیلا تھا
………………………………
“داور سر۔۔۔۔”
کاکا داور کے پاس آتے اس کو پکارا جو گارڈن میں بیٹھا چائے سے لطف اندوز ہو رہا تھا
“ہممم۔۔۔”
“وہ٫ وہ ہمارا آدمی پکڑا گیا جس نے لڑکیاں سپلائے کرنی تھیں اور ڈرگز بھی۔۔۔۔”
اس کی بات سنتے داور نے ایک جھٹکے سے اسے دیکھا تھا
“کیسے۔۔۔؟”
“سر یہ کام ایک ہی انسان کر سکتا ہے۔۔۔”
وہ نظریں جھکائے بولا اور سب بتانے لگا۔۔۔
“ہمارا وہ آدمی وجدان نے کہاں رکھا ہے۔۔۔۔؟”
ساری بات سننے کے بعد اس نے ماتھا مسلتے پوچھا تھا
“سر ہمارے آدمی کی اطلاع کے مطابق وہ اسے تھانے نہیں لے کر گیا۔۔۔”
“پھر کہاں کے کر گیا ہے۔۔۔؟کیا ہمارے آدمیوں نے ان کا پیچھا نہیں کیا۔۔۔۔؟”
اس نے پریشانی سے کہا
“سر کیا تھا پیچھا لیکن انہوں نے پتا نہیں کیسے چکھما دے دیا۔۔۔۔”
وہ شرمندگی سے بولا تھا
“کبھی خوشی کی خبر دی ہے تم نے جب دیکھو بکواس کرتے ہو دفع ہو جاو ورنہ تمہیں گولی سے اڑا کر چیل کووں کے آگے ڈال دوں گا دفع ہو جاو۔۔۔”
وہ غصے سے دھاڑا تھا تو کاکا پل میں چراغ کے جن کی طرح غائب ہوا تھا جب کہ داور کا خون خول رہا تھا اپنی شکست پر٫ اور دل کر رہا تھا وجدان کو شوٹ کر دے جس نے اس کی اچھی بھلی زندگی کا ستیا ناس کر دیا تھا
………………………………
رات کے کھانے میں مختلف قسم کی پکوان بنائی گئیں تھی اور ان پکوان سے ٹیبل کو بہت خوبصورت طریقے سے سجایا گیا تھا اور ٹیبل پر موجود زوہان اور تعبیر کا انتظار کر رہے تھے جنہوں نے زیادہ انتظار کروانا مناسب نہ سمجھا اور کچھ دیر بعد ہی آتے دیکھائی دیے تھے

وہ یہاں موجود زوہان اور وجدان کے علاوہ کسی کو اچھے سے نہیں جانتی تھی عالیاب نے خوشدلی سے سب کا تعارف کروایا تھا جس پر وہ ہولے سے مسکرائی تھی
“چلیں بیٹھیں کھانا کھاتے ہیں۔۔۔”
شہرام نے کہا تو سب کرسیاں گھسیٹتے بیٹھنے لگے تھے

وجدان زوہان کے ساتھ موجود اپنی سیٹ پر بیٹھنے لگا لیکن تعبیر کو دیکھتے وہاں سے پیچھے ہٹا اور اس کے لیے جگہ چھوڑتا عالیاب کی دوسری جانب بیٹھا تھا تعبیر چہرہ جھکائے اس کرسی پر بیٹھی تو اس کے بیٹھتے ہی زوہان اس کے برابر والی کرسی پر بیٹھا تھا
وجدان کے دل کو ناجانے کیوں کچھ ہوا تھا زوہان کے ساتھ والی جگہ چھوڑتے ہوئے لیکن وہ ہونٹ بھینچ گیا تھا کیونکہ اب وہ اس کا بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ کسی کا شوہر بھی تھا اب اس پر وجدان سے زیادہ اس کی بیوی کا حق تھا جس کو تسلیم کرتے وجدان کو تھوڑا وقت لگنا تھا لیکن وہ خود کو یہ بات سمجھا چکا تھا

“زوہان اگر تم مناسب سمجھو تو کل ہم تعبیر بیٹی کی فیملی سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔”
مصطفی نے کھانے کے دوران بات کا آغاز کیا تو وہ ان کی بات پر گڑبڑایا اور وجدان کو دیکھا جس نے مسکراہٹ دبائی تھی

“اس کی طرف کیا دیکھ رہے ہو کیا تعبیر کی فیملی سے بھی یہی ملوائے۔۔۔۔”
شہرام نے اس کو وجدان کی جانب دیکھتے دیکھا تو بولا تھا
“وہ دراصل میں کسی کو نہیں جانتا تعبیر کے علاوہ شاید وجدان سب کو جانتا ہے۔۔۔”
وہ شرمندگی سے بولا تو سب نے اسے گھوریوں سے نوازا تھا جس سے اس نے منہ بنایا تھا

“شاباش بیٹا یہی امید تھی۔۔۔”
رامز اپنی ہنسی کنٹرول کرتے بولا تو اس نے سر کھجایا تھا
“وجدان تم شرافت کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کو ہمارے ملنے کے بارے میں آگاہ کرو گے۔۔۔”
شیران نے وجدان کی شرارتی نگاہ دیکھتے چباتے ہوئے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا

“اگر آپ کہیں تو مم-میں فون کر دوں گی۔۔۔”
اتنے وقت میں تعبیر نے اپنی خاموشی کو اب توڑا تھا اور گھبراتے ہوئے بولی تھی
“ہاں یہ ٹھیک ہے بیٹا آپ خود پوچھ لو ان سے۔۔۔”
مصطفی مسکرا کر بولا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا زوہان نے اپنے ساتھ بیٹھی اپنی شریک حیات کو دیکھا جو گھبرائی ہوئی تھی زوہان نے نیچے سے اس کا ہاتھ تھاما تھا اس کے ہاتھ تھامنے پر اس نے ایک جھٹکے سے ڈر اٹھایا اور باقی سب کو دیکھا جو اپنی باتیں کر رہے تھے

“گھبراو مت میری فیملی بہت اچھی ہے تمہیں بیٹیوں جیسے ہی رکھیں گے۔۔۔”
وہ اس کے کان کے قریب جھکتے بولا اور ہاتھ پر دباو ڈالا تو اس نے اپنا ہاتھ آزاد کروانا چاہا تھا اس کو یوں آزاد کرواتے دیکھ زوہان نے خود اس کا ہاتھ چھوڑا تھا اور شہرام کی جانب متوجہ ہوئے ھو سب سے مخاطب تھا

“شادی جیسے بھی ہوئی ہو لیکن ولیمہ بہت دھوم دھام سے کرنا ہے اس میں سب رشتے داور روست سب سے ہماری پیاری بہو کا تعارف کروائیں گے ایک بار ان کے پیرنٹس سے مل لیں پھر ولیمے کا نیک کام بھی سر انجام دے دیں گے۔۔”
وہ مسکرا کر تعبیر کو دیکھتے بولا جو خود بھی مسکرائی تھی اور پھر سب کھانا کھانے میں مصروف ہو گئے تھے
………………………………