Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 51

اس فائر سے داور کا آدمی سامنے آیا جس سے ایک بار پھر داور بچ گیا تھا اور اس سے پہلے وہ دونوں جانب سے کوئی فائر کرتا ہوا نیں گولیوں کی آواز گونجی تھی ان دونوں نے سامنے روڈ پر موجود اس تیسری مخلوق کو دیکھا جو ناجانے کہاں سے ٹپک پڑی تھی پہلے آسمان کی جانب پھر سامنے ان کی جانب فائر کرنا شروع ہوئے تھے

“حفاظت کرو خود کی۔۔۔۔”
وجدان چلاتا ہوا پیچھے ہٹا تھا دوسری جانب سے داور کے آدمی بھی پیچھے ہٹے تھے
“سر کو کوور کرو۔۔۔۔”
محبوب وجدان کی جانب جاتا بولا تھا
“مجھے نہیں سب خود کی حفاظت کرو ۔۔۔”
اس نے محبوب کو پلر کے پیچھے ہونے کا اشارہ کرتے کہا اور خود بھی پلر کے پیچھے ہوتا سر نکالے روڈ کو دیکھنے لگا وہاں اسے داور کہیں نظر نہیں آیا تھا

“محبوب یہ کون لوگ ہیں۔۔۔۔؟”
اس نے غصے سے محبوب سے پوچھا
“معلوم نہیں سر۔۔۔”
اس نے پریشانی سے کہا کیونکہ اتنا اچھا موقع ان کے ہاتھ سے نکل رہا تھا وجدان نے سر نکالے اس ان لوگوں کو دیکھا لیکن ان کا سربراہ دیکھتے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھی

“ڈی ایس پی صاحب۔۔۔۔”
وہ بڑبڑایا تھا اس کی بڑبڑاہٹ محبوب نے سنی تو اسے بھی حیرت نے آن گھیرا تھا
“داور بھاگ رہا ہے پیچھا کرو اس کا۔۔۔۔”
ڈی ایس پی کی آواز گونجی تھی کیونکہ داور ہفراتفری کو دیکھتے بھاگنے کی کوشش میں تھا کیونکہ وجدان کے آدمی بھی اپنی حفاظت میں تھے وجدان بھی باہر نکلتا اس کا پیچھا کرنا چاہا لیکن اگلے ہی لمحے ڈی ایس پی آواز نے اس کے پیروں کو زنجیر باندھی تھی وہ غصہ ضبط کرتا رکا تھا اور مٹھیاں بھینچتے پلٹ کر قہر برساتی نظروں سے اسے دیکھا جس نے اس کا سارا پلین بیڑا گرک کر دیا تھا

“وجدان تم میرے ساتھ چلو۔۔۔۔۔”
اس نے اسے اشارہ کیا تھا اور پھر وجدان کے آدمیوں کو بھی آنے کا کہا
“لیکن سر وہ بھاگ جائے گا۔۔۔۔”
اس نے چباتے ہوئے کہا
“میرے آدمی پیچھے گئے ہیں کہیں نہیں جائے گا وہ تم چلو۔۔۔۔”
ڈی ایس پی کا ریلیکس انداز اس کے تن بدن میں آگ لگا رہا تھا وہ محض مٹھیاں بھینچ گیا تھا
“سنائی نہیں دیا چلو۔۔۔۔”
ڈی ایس پی صاحب وجدان کے آدمیوں کو ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ غصے سے بولا جنہوں نے وجدان کو دیکھا تھا

“میں بڑا افیسر ہوں میں نے کہا چلو تو کسی اور کی اجازت کے انتظار کی ضرورت نہیں۔۔۔۔”
وہ غصے سے بولا اس کو ایک آنکھ نہ بھایا تھا جو خود کے حکم پر انکار کر کے وجدان کی اجازت کے طلبگار دیکھ کر
وہ ابھی بھی وجدان کی اجازت کے منتظر تھے وجدان نے گہرا سانس بھرتے خود کے غصے کو اندر دھکیلنا چاہا اور سر اثبات میں ہلایا تھا
………………………………
تعبیر رات کے کھانے کا کہتی کمرے میں آئی تو زوہان کو یوں اداس سا بیڈ پر پایا تھا
“کیا ہوا زوہان۔۔۔۔؟”
وہ اس کو یوں اداس دیکھ کر پوچھنے لگی
“یار نائیٹ ڈیوٹی کا دل نہیں یا پھر تم بھی چلو نہ میں اکیلا کیا کرونگا تمہارے بنا یہ زیادتی ہے یار۔۔۔”
اس نے اپنی اداسی کی وجہ بتائی تو اس نے مسکراہٹ دبائی تھی
“جی نہیں میں تو نہیں آنے والی آپ کے ساتھ میری ڈیوٹی مارننگ میں ہے اسی لیے میرا تو رات کو مست ہو کر سونے کا ارادہ ہے۔۔۔۔”
وہ اس کے ساتھ بیٹھے بولی تو اس نے منہ بنایا تھا

“تم سے اچھا تو پھر وجدان ہی ہے میں اگر اسے یوں جانے کو کہتا تو وہ نیند سے زیادہ مجھے ترجیح دیتا اور ایک تم ہو شوہر کے لیے نیند نہیں قربان کر سکتی۔۔۔۔”
وہ اپنی روانگی میں بولتا یہ بھول گیا کہ تعبیر کے ہونٹوں کی مسکراہٹ جیسے کسی نے نوچ لی ہو اسے حقیقی طور پر وجدان سے نفرت ہوئی جو ان کی ہر بات میں پایا جاتا تھا اور اب وہ وجدان کو تعبیر سے زیادہ ترجیح دے رہا تھا

“کیا ہوا تم کیوں خاموش ہو گئی۔۔۔۔؟”
وہ اس کو خاموش پا کر اپنی شرٹ کے اوپری بٹن کھولتے پوچھنے لگا تو اس نے نفی میں سر ہلایا
“پھر بھی کیا ہوا۔۔۔؟”
اس کے دوبارہ پوچھنے پر وہ اس کی جانب مڑی تھی
“کیا ہماری ہر بات میں وجدان کا زکر ضروری ہے۔۔۔؟”
“کیوں کیا ہوا وہ بھائی ہے میرا جان سے زیادہ عزیز ہے مجھے اور تمہیں بھی اس کی عزت کرنی ہو گی۔۔۔۔”
وہ مسکرا کر بولا تعبیر نے دیکھا تھا اس کا لہجہ وجدان کے زکر پر بےشمار محبتوں سے بھرا ہوا تھا

“ہاں معلوم ہے مجھے لیکن ہماری ہر بات میں اس کا زکر کیا لازمی حصہ ہے۔۔۔؟”
“لازمی تو نہیں لیکن مجھے اچھا لگتا ہے اس کا زکر کرنا اور جہاں اس کے زکر کی ضرورت ہو وہی کرتا ہوں ورنہ تو ہماری پرائیوسی میں کوئی نہیں آسکتا۔۔۔۔”
وہ پہلے کندھے اچکائے پھر آخر میں اس کو قریب کر چکا تھا

“لیکن مجھے نہیں پسند۔۔۔۔”
وہ اس کو پیچھے کرتے بولی اس کی بات سنتے اسے حیرت ہوئی لیکن فورا اپنی حیرت کو قابو کیا تھا
“کیوں۔۔۔؟”
وہ حیرت کو چھپاتا ہنستے ہوئے بولا اسے لگا شاید تعبیر مزاق کر رہی ہے
“بس مجھے نہیں پسند اس کا زکر مجھے وجدان ہی نہیں پسند مجھے آپ کے ساتھ اس کا اٹھنا بیٹھنا ہنسی مزاق کچھ بھی نہیں پسند۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے بولتی اس کے دل کو ٹھیس پہنچا گئی تھی

“کیسی باتیں کر رہی ہو وہ بھائی ہے میرا دل ہے میرا جان سے زیادہ عزیز ہے مجھے۔۔۔۔”
وہ خود کو نارمل کئیے بولا تھا
“تو میں کیا ہوں۔۔۔۔؟وہ آج سب باتیں واضع کرنے کو تھی
“تم جان ہو میری۔۔۔۔”
وہ نرمی سے اس کی گال کو چھوتے بولا تھا
“میں جان ہوں اور وجدان سکندر جان سے زیادہ عزیز ہے تمہیں مطلب مجھ سے زیادہ۔۔۔”
وہ چباتے ہوئے خود کی جانب اشارہ کئیے بولی تھی

“ارے ایسا غلط کیوں سوچ رہی ہو میری جان۔۔۔”
وہ مصنوعی ہنسی ہنستے اس کے چہرے کو تھامے بوکا تھا
“میں سب سہی سوچ رہی ہوں اگر ہم دونوں میں سے کسی ایک کو چننا ہو تو کسے چنیں گے زوہان۔۔۔۔”
وہ اس کے ہاتھ چہرے سے ہٹائے بولتی زوہان کو اپنی جگہ ساکت کر گئی تھی زوہان گہرہ سانس بھرتا بیڈ سے اٹھا تھا

“بتائیں زوہان۔۔۔۔؟”
وہ اس کا ہاتھ تھامے بولی تھی
“معلوم نہیں۔۔۔”
اس نے اپنا ہاتھ نرمی سے چھڑوایا تھا
“مجھے معلوم ہے آپ وجدان کو ہی چنیں گے۔۔۔۔”
اس نے اس کے ہاتھ چھڑوانے پر کہا
“جب معلوم ہے تو اس سوال کا کیا مقصد تھا۔۔۔”
وہ اس کی جانب پلٹے ماتھے پر بل ڈالے بولا تھا
“میں بیوی ہوں آپ کی محبت ہوں آپ کی۔۔۔۔”
وہ نم انکھوں سے بولی

“وہ بھائی ہے میرا سب کچھ ہے میرا۔۔۔۔”
وہ بھی اسی کے انداز میں بولا تھا
“آپ کے بھائی نے تو کبھی اپ کے لیے اپنی بیوی کو نہیں چھوڑا۔۔۔۔”
وہ آنکھ کا کونا صاف کئیے بولی تھی
“اس کی بیوی نے کبھی ایسا بکواس ترین مطالبہ بھی نہیں کیا۔۔۔۔۔”
اس کے ماتھے کے بل گہرے ہوئے تھے

“وہ اپنی بیوی سے زیادہ مجھے چاہتا ہے یہ بات عالیاب اچھے سے جانتی ہے اور جانتی ہو وہ اس بات پر خوش ہے کہ وہ ہم دونوں بھائیوں کی محبت کے بیچ دراڑ کا زریعہ نہیں بنی وہ بچپن سے ساتھ ہے سب معلوم ہے اسے لیکن اس نے اج تک تمہارے جیسی بکواس نہیں کی۔۔۔۔”
اس کے دماغ کی رگیں پھٹنے کے قریب تھی تعبیر آنکھیں رگرتی اٹھی اور اس کے قریب اتی اس کو بازووں سے تھاما تھا

“میں محبت کرتی ہوں آپ سے۔۔۔۔”
وہ نم لہجے میں بولی تو اس نے سنجیدگی سے اس کی جانب دیکھا اظہار کیا بھی تو کب۔۔۔
“میں بھی کرتا ہوں تم سے محبت بےانتہا لیکن یوں خود کی محبت کو وجدان کی محبت سے کمپئیر مت کرو تمہارا مقام الگ ہے اور اس کا مقام الگ ہے وہ تمہاری جگہ نہیں لے سکتا نہ تم اس کی جگہ لے سکتی ہو۔۔۔”
وہ اس کا چہرہ تھامے محبت سے بولا تھا
“اس کا مقام الگ ہونے کے باوجود مجھ سے زیادہ ہے کہ آپ مجھے چھوڑ دیں گے لیکن اپنے بھائی کو نہیں۔۔۔۔۔”
وہ اپنے چہرے پر موجود اس کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھے بولی تو زوہان نے دو پل اسے دیکھا اور پھر اپنے ہاتھ ہٹاتا پیچھے ہوا اور الماری سے کپڑے نکالنے لگا وہ اس کو مکمل طور پر غصہ دلا چکی تھی
“زوہان۔۔۔۔”وہ اس کو خاموش دیکھ کر بولی تو وہ بنا جواب دئیے کپڑے لیتا واشروم میں گھس گیا اور پیچھے اس نے اپنا سر تھاما تھا
………………………………
وجدان محبوب ڈی ایس پی صاحب اور دو لوگ اور تھے جو اس وقت ایک روم میں موجود تھے
“سر اگر آپ یوں ایسے نہ آتے تو داور کی اب تک لاش آپ کے سامنے پیش ہوتی۔۔۔۔”
وجدان اپنے غصے کو قابو کئیے بولا تھا
“میں نے کہا تھا مشن سے پہلے مجھے بتانا۔۔۔۔”
وہ نارملی انداز میں بولا
“اپ نے ہر چیز میرے سپرد کی تھی یہ بات اپ نے دور دور تک نہیں کی تھی اور آپ کو داور کی موت سے مطلب تھا پھر یہ سب تماشا کیوں۔۔۔”
وہہ غصے سے غرا کر بولا(ہاں ڈی ایس پی نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا میں نے ہی لکھا تھا🙄)

“وجدان تمیز سے بات کرو۔۔۔”
وہ اس کے غرانے پر بولا
“سارا پلین ستیاناس کر دیا آپ نے ہماری جان بھی خطرے میں ڈال دی۔۔۔۔”
وہ تمیز کو ایک سائیڈ پر رکھتے بولا اس سے پہلے ڈی ایس پی کچھ کہتا ایک آدمی اندر داخل ہوا تھا
“سر سوری لیکن داور خان فرار ہو گیا۔۔۔”
وہ آدمی ڈی ایس پی سے بولا تو وجدان نے قہر برساتی نظروں سے ڈی ایس پی صاحب کی طرف دیکھا تھا

“دیکھیں ہو گیا فرار آپ کی عقلمندی کا نتیجہ یہ نکلا ہے۔۔۔”
وہ غصے سے بولا تو ڈی ایس پی صاحب کھڑا ہوا تھا
“اپنی حد میں رہو سمجھے۔۔۔۔”
اس نے طیش میں کہا
“یوں چلا کر غصہ کر کے آپ اپنی غلطی پر پردہ نہیں ڈال سکتے پتا نہیں کس نے ڈی ایس پی بنا دیا ہے۔۔۔”
وہ اس سے دگنا طیش میں بولا تھا
“بکواس بند کرو ورنہ سسپینڈ کر دوں گا۔۔۔”
وہ اپنی توہین پر سلگ اٹھا تھا

“کیا سسپینڈ ہاں۔۔۔؟بھاڑ میں جائے جاب کروا دو سسپینڈ ڈرتا نہیں۔۔.”
وہ ہاتھ ہلا کر کہتا رستے میں ائی ہر چیز کو ٹھوکر مارتا وہاں سے نکلا تھا اس کے پیچھے محبوب بھی نکلا تھا جبکہ ڈی ایس پی صاحب دانت کچاتا اس رستے کو دیکھنے لگا جہاں سے وجدان گیا تھا
………………………………
رات تقریبا سات بجے کا وقت تھا جب شافع روحا کے گھر کے سامنے کھڑا مسکراہٹ دبائے زہن میں بےشمار شیطانیت لائے اس کو کال ملا چکا تھا وہ جانتا تھا پہلی کال کسی صورت نہیں اٹھائی جائے گی جب تک پانچ سے کالز نہ کرئے وہ نہیں اٹھائے گی اور توقع کے مطابق اس نے نہیں اٹھائی تھی لیکن دوسری کال کرنے پر دوسری بیل پر اٹھا لی گئی تھی شاید وہ بھی جانتی تھی اگے ڈھیٹ بندہ ہے

“کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔؟”
قہ بجائے غصے سے ٹھنڈی آہ بھرتے بولی تھی
“تمہارے گھر کے باہر کھڑا ہوں جلدی سے آو۔۔۔۔”
“کیااا۔۔۔؟”
اس کی بات سنتے وہ چلا اٹھی تھی اور بیڈ سے اٹھی تھی
“کیوں واپس جاو دماغ خراب ہے تمہارا۔۔۔۔”
وہ غصے سے بولی تھی
“روحا جلدی سے آجاو ورنہ میں اجاوں گا سور یہ دھمکی نہیں کیونکہ میں بہت سنجیدہ ہوں ابھی۔۔۔”
اس نے اپنی ہنسی روکے سنجیدگی لانے کی بھرپور کوشش کرتے کہا اور روحا کو بھی اس کے لہجے سے لگا وہ بہت سیریس ہے اسی لیے فون بند کرتی چادر لیتی کمرے سے نکلی تھی لیکن شافع کو گالیوں سے نوازنا نہیں بھولی تھی وہ گھر سے باہر آئی تو سامنے شافع نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا

“کیا ہے تمہیں کیوں جان کے پیچھے پڑ گئے ہو۔۔۔۔؟”
وہ اس کے پاس آتی ماتھے پر بل ڈالے پوچھنے لگی تو اس نے اس کو دیکھا جو ریڈ لان کے سوٹ جس پر کچھ سلوٹیں تھی چادر سر پر اوڑھے جن سے لٹیں باہر جھول رہیں تھی اور میک اپ سے عاری چہرہ سیدھا اس کے دل میں اتر رہا تھا

“خوبصورت لگ رہی ہو بےبی۔۔۔۔”
اس نے لفظ “بےبی” آخر میں تھوڑا ٹھہر کر بولا تو اس نے آنکھیں بڑی کئیے اسے دیکھا تھا
“دماغ ٹھیک ہے تمہارا۔۔۔؟”
اس نے باہر نکلتی آوارہ لٹوں کو کان کے پیچھے اڑیستے ہوئے پوچھا

“پہلے ٹھیک تھا اور ٹھیک رکھنا بھی چاہتا تھا لیکن۔۔۔۔”
وہ اتنا بولتا رکا اور اس کا ہاتھ تھامے اپنے دل کے مقام پر رکھا
“اس کی دنیا اتھل پتھل ہو کر رہ گئی ہے دیوانی ہو گئی ہے تمہاری ہر چیز کی۔۔۔۔”
وہ بےبس سا اپنے جزبے اسے بتا گیا تھا وہ خود انجان تھا اتنی جلدی یہ سب کیسے ہو گیا لیکن اسے یہ سب بہت اچھا لگا تھا روحا کے دل نے رفتار پکڑی تھی لیکن وہ رفتار اس کے ہاتھ پکڑنے پر تھی اس نے جلدی سے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے نکالا تھا

“میرے دل میں تمہارے لیے کوئی جذبے نہیں نہ ہی کبھی آسکتے ہیں دوبارہ مجھے کال میسن نہ کرنا اور نہ یوں ملنے کو کہنا سمجھے اور ایک بات۔۔۔۔”
وہ جاتے جاتے پلٹی تھی
“ایسی بکواس بھی مت کرنا سمجھے۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر پلٹی لیکن اگلے ہی لمحے وہ اسے بازو سے کھینچ کر اپنی طرف کرتا گاڑی کے ساتھ لگائے دونوں طرف اپنے ہاتھ ٹکائے فرار کے سب راستے بند کر چکا تھا
اس کے اس عمل سے اس کے دل میں کچھ سال پہلے کا خوف لہرایا تھا اس نے سہمی سہمی نظروں سے اسے دیکھا تھا وہ اس کے خوف کو اچھے سے پہچان گیا تھا

“میری بات سنو میں تمہیں میسج بھی کرونگا کال بھی کرونگا اور۔۔۔۔”
وہ یہ کہتا رکا اور سر سے ڈھلکی چادر اس کے سر پر دی تھی اس کا دل شکار زدہ ہرنی کے بچے کی مانند دھڑک رہا تھا
“اور ایسی بکواس بھی کرونگا بار بار کرونگا اور تم سنو گی روحا بےبی۔۔۔”
وہ لفظ بےبی پر زور دیتے بولا تو وہ اس کی انکھوں میں دیکھنے لگا جس میں اسے فلوقت حوس نظر نہ ائی تھی آج کی آنکھیں اور چند سال پہلے اس کی آنکھیں مختلف تھیں اس کی آنکھوں میں حوس درندگی جب کہ اس کی آنکھوں میں عزت تھی

“تمہارا یوں ڈرنا مجھے ایک آنکھ نہیں بھایا پلیز دوبارہ ایسے مت ڈرنا میں جانور نہیں جو یوں تنہائی کا فائدہ اٹھاوں گا میں اچھا سا بندہ ہوں۔۔۔”
پہلے سنجیدگی سے کہتا آخر میں ہر بات کا خوف اس پر سے مٹانے کے لیے شرارت سے بولا تو اس نے آنکھیں گھمائیں تھی شافع نے دیکھا اس کے چہرے پر پڑتی چاند کی روشنی اس کی خوبصورتی کو مزید چار چاند لگا رہی تھی

“چاند کی روشنی تمہارے چہرے پر پڑتی بڑی خوبصورت لگ رہی ہے۔۔۔۔”
اس کی بات سنتے اس نے بےاختیار اپنے چہرے کو چھوا پھر جانا چاہا لیکن وہ اسے جانے نہیں دینا چاہتا تھا
“اتنی محنت کر کے یہاں آیا ہوں کم از کم اپنے ہاتھوں سے ایک کپ چائے ہی پلا دو۔۔۔”
وہ دو قدم پیچھے ہوتا بولا

“زہر نہ پلا دوں اس کے بارے کیا خیال ہے۔۔۔”
اس نے دانت کچائے کہا تو وہ ہنسا
“ویسے تو ان عاشقوں کی طرح کہہ سکتا ہوں کہ تمہارے ہاتھوں سے تو زہر بھی قبول لیکن میں شافع ہوں ان بکواس باتوں سے الجھن ہے اور ویسے بھی میں اتنی جلدی مرنا نہیں چاہتا تم سے شادی کر کے پندرہ بیس منے منیاں پیدہ کرنا چاہتا ہوں اور۔۔۔”

“بسسسس۔۔۔۔۔”
وہ جو اپنی ہی رفتار میں بول رہا تھا اس نے ہاتھ اٹھائے اسے روکا تھا
“بہت بولتے ہو تم۔۔۔”
اس نے نتھے پلائے کہا تو وہ پلک چھپکے اسے دیکھنے لگا پھر زور سے ہنسا تھا روحا نے اس کے ہنسنے پر اسے گھورا تھا

“ابھی تو میں بولتا ہی نہیں تمہیں پتا میرے اتنے بولنے کا فائدہ یہ ہے کہ میٹنگز کے دوران میں جتنا بھی بولوں میرا منہ نہیں تھکتا اور۔۔۔۔۔”
“شافع۔۔۔۔”
وہ اس کو دوبارہ شروع ہوتے دیکھ اس کا نام پکارتی چلا اٹھی تھی تو شافع نے بچوں کی طرح منہ کھولے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا تھا

“ہائے کتنا اچھا نام لیتی ہو تم میرا اس پر ایک شعر عرض ہے۔۔۔۔”
اس نے اتنا بولتے اپنا گلا کھنگارا تھا

“تم آپ کہتی ہو مجھے
بےوقوف میرا نام کیوں نہیں پکارتی”

وہ شعر کی ٹانگ توڑ کر مزید اسے زچ کر چکا تھا وہ غصے سے اس پر تین چار مکے برساتی اندر کی جانب بڑھ گئی تھی لیکن شافع کا قہقہ اسے ضرور سنائی دیا تھا شافع ہنستا ہوا بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا تھا

“سوری جون ایلیا صاحب۔۔۔”
ہنس کر کہتا اس خالی راہداری کو دیکھا اور خود بھی گاڑی میں بیٹھتا وہاں سے زن بھگا لے گیا تھا
………………………………