Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

        

ایک ہفتہ گزر گیا تها دعا کو ہوسپٹل سے گهر شفٹ کر دیا گیا تها طبعیت میں بهی وہ آگے سے بہتر تهی سب اس کا بہت خیال رکھ رہے تهے دعا بهی ضرورت کے مطابق بول رہی تهی ناچاہتے ہوئے بهی وہ سعد کا انتظار کررہہ تهی لیکن سعد اس سے ملا نہ تها بلکہ دور سے ہی دیکھ لیتا صبح سب کے اٹهنے سے پہلے گهر سے چلا جاتا اور رات سونے کے بعد گهر واپس آتا تها رامز اس سے بات تک نہیں کررہا تها سعد نے مکمل خاوشی اختیار کرلی تهی
…………………………………
رات تقریباً گیارہ بجے کا وقت تها جب سعد گهر آیا اور دل کے ہاتهوں مجبور ہوتے اس نے دعا کو آج اس کے کمرے میں دیکهنے کا ارادہ کیا تها اسی لیے دل کی خواہش پر لبیک کہتے وہ دعا کے کمرے کی جانب گیا تها آہستہ سے درواہ کهولتے وہ اندر داخل ہوا تو دعا دوائیوں کے زیر اثر سو رہہ تهی دشمن جاں کو ایسے دیکهتے اسکے دل پر ٹهنڈک پڑی تهی آنکهوں کو سکون پہنچا تها
بنا قدموں کی آواز پیدا کیے وہ اس کے پاس گیا اور دهیرے سے بیڈ پر بیٹهتا اس کو دیکهنے لگا لیمپ کی ہلکی روشنے اس کے خوبصورت چہرے پر پڑتی الگ ہی خوبصورتی بکهر رہی تهی
سعد نے ہاتھ بڑهاتے اس چہرے پر بکهری کچھ لٹوں انگلیوں کی پوروں سے پیچهے کیا تها

“میری جان میری عزیز تر بیوی…”
وہ دهیرے سے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا ہولے سے بڑبڑایا اس کی آواز اس قدر کم تهی کہ شاید وہ خود بهی سن پا رہا تها
“میں تمہیں اب اپنے پاس دیکهنا چاہتا ہوں بہت صبر کر لیا اب اپنا حق لینا چاہتا ہوں تمہیں بہت خوش رکهوں گا ہر خوشی دونگا دوبارہ کبهی آنسووں نہیں آنے دوں گا…”
وہ اپنے ہونٹوں کا لمس اس کے ہاتھ پر چهوڑتے بولا تها پهر آگے کو جهک کر اس کے ماتهے پر اپنے لب رکهے بےاختیاری میں ناچاہتے ہوئے بهی آنکھ سے آنسووں اسکے ماتهے پر گرئے تهے وہ فوراً پیچهے ہوا لیکن چہرے پر نرم گرم لمس کے ساتھ آنسووں گرنے پر وہ کسمسائی اور آنکھ کهلی تهی نظر سامنے سعد پر پڑی جو اسی کو دیکھ رہا تها سب سمجھ آنے پر وہ فوراً اٹهی تهی

“آپ آپ یہاں….؟”
اس کی سانس اچانک تیز ہوئی تهی اس کو سمجھ نہ آئے وہ کیا کہے
“میں نہیں رہ سکا مزید اور آگیا تمہیں دیکهنے….”
اسکے لہجے سے بےبسی واضع جهلک رہی تهی
“کیوں آئے ہیں یہ دیکهنے کس حال میں ہوں میں زندہ بهی ہوں یا نہیں…؟”
وہ تلخی سے بولی آنکهیں بهی نم ہوئیں تهی
“میری جان….”
وہ تڑپ ہی اٹها تها
“میں بہت پیار کرتا ہوں دعا تم سے بےانتہا نہیں رہ سکتا تمہارے بنا….”
وہ بهاری ہوتے لہجے کے ساتھ بولا جیسے خود کے آنسووں بهی ضبط کررہا ہوم

“پیار نہیں آپ کو ہمدردی ہے ایسی لڑکی سے جو آپ کے قابل نہیں جس کے ساتھ ایک مرد نے…”
دعا کی آواز بهر آئی تهی
“شششش دعا میری محبت کو ہمدردی کا نام کیوں دے رہی ہو کیا نظر نہیں آرہا مررہا ہوں میں…”
وہ مزید قریب ہوتا اسکو کندهوں سے تهامے بولا
“آپ صرف بابا امی سب سے کیا وعدہ پورا کررہے ہیں…”
وہ اسکا ہاتھ کندهوں سے ہٹائے بولی تهی

“نہیں دعا ایسا نہیں ہے سعد رامز دل و جان سے دعا کو چاہتا ہے تم نہیں جانتی تمہارے بنا کیا حالت ہوئی ہے میری میں مرجاوں گا…”
اس کی آنکهیں بهی نم ہوئیں تهی دعا نے نظریں پهیری تهی
“دعا…”
اس نے اسکا چہرہ اپنی جانب کیے پکارا تها تو اس نے اس کی جانب دیکها

“دعا آئی لو یو…”
دعا کی آنکهوں سے آنسووں پهسلے تهے
“دعا آئی لو یو، آئی لو یو دعا، لو یو، لو یو، بہت لو یو، آئی لو یو، آئی لو یو دعا….”
وہ تیزی سے بولتا اسکے ہاتھ پر سر ٹکائے رو دیا تها دعا کی بهی ہچکی بندهی تهی اس میں اتنی ہمت نہ تهی اس کو خاموش کروا سکے یا اس کا سر اپنے ہاتهوں سے ہٹا سکے وہ ہچکیوں کے ساتھ اس کے ہاتھ پر سر ٹکائے رو رہا تها وہ شاید بہت دنوں کا تهکا اپنی تهکن اتار رہا تها اپنا بهاری دل ہلکا کررہا تها ویسے بهی وہ اس کی زندگی کی ساتهی تهی ہر دکھ درد اسی کے ساتھ بانٹنا تها
…………………………………
وجدان جو آج کام کی وجہ سے تهکن سے چور تها اور خواب خرگوش کے مزے لے رہا تها کہ مسلسل فون کی ہوتی بیل سے وہ چ ہرے پر اکتاہٹ بهرے تاثرات سجائے سیدها ہوا اور بند آنکهوں سے ہی ہاتھ بیڈ پر مارتے فون اٹهایا تها اور بنا دیکهے یس کرتے کان سے لگایا تها
“ہیلو…”
نیند سے ڈوبی آوا گونجی تهی دوسری جانب سے مکمل خاموشی چهائی تهی اس نے فون کان سے ہٹائے ایک آنکھ کهولے فون کو دیکها لیکن عالیاب کا نمبر جگمگاتے دیکھ ساری نیند بهگ سے اڑی تهی

“کیا ہوا عالیاب میری جان…؟”
وہ پریشانی سے بولا تها اس نے سامنے ٹائیم دیکها جو گهڑی گیارہ بجا رہی تهی
“سوری…”
اسکی شرمندہ سی آواز گونجی یقیناً وہ اس کی نیند خراب کرنے پر شرمندہ تهی
“ارے سوری کیوں بول رہی بتاو میری جان کیا بات ہے ابهی جاگ رہی ہو…”
اسکی پریشان سے آواز عالیاب کو مزید شرمندہ کررہی تهی
“میں اداس ہو رہی تهی اور مجهے لگا آپ جاگ رہے ہونگے….”
“کیوں اداس ہو میں آجاوں ابهی….”
وہ کمبل خود سے پرے کرتے بولا
“نن-نہیں…”
وہ جلدی سے بولی
“اصل بات کیا ہے بتاو نہ یار پریشان ہو رہا ہوں میں…”
وہ داڑهی پر زور زور سے ہاتھ پهیرتے بولا تها

“آپ گارڈن میں آجائیں مم-میں وہاں ملتی ہوں…”
اس نے کہتے بنا اس کی بات سنے فون کاٹا وجدان نے موبائل بیڈ پر رکها اور اٹها تها اور شرٹ پہنتے شال خود پر اوڑهتے کمرے سے نکلا تها
وہ گارڈن میں گیا تو عالیاب بینچ پر بیٹهی تهی اسکی پشت سکندر کی جانب تهی

“کیا ہوا تها بتاو….؟”
وہ اس کے پاس بیٹهتے ہوئے بولا تو اس نے سکندر کی جانب دیکها جو اس پر سے اب شال سہی کررہا تها
“میرا دل گهبرا رہا تها بہت…”
وہ اداسی سے بولی
“کیوں…؟”
اس نے اس کے کندهوں سے چادر اٹهاتے سر پر دی تهی اور اچهے سے کوور کیا کہ سردی نہ لگے
“پتا نہیں اور سوری مجهے لگا آپ جاگ رہے ہیں اسی لیے کال کیا…”
وہ اسکی جانب مڑتی شرمندگی سے چہرہ جهکائے بولی
“تم نے مجهے یاد کیا چاہے اس پہر ہی مجهے بہت سکون ملا نیند جائے بهاڑ میں تم سے ضروری نہیں نیند….”
وہ اس کے برف کی مانند ٹهنڈے ہاتهوں کو اپنے گرم ہاتهوں میں لیتا بولا تها

“اب بتاو کیا بات ہے کیوں جاگ رہی تهی اس وقت تک کیونکہ جہاں تک میرا خیال ہے عالیاب میری جان تو نیند کی بہت شوقین ہے…”
“میں آپ کو کیسے بتاوں سمجھ میں نہیں آرہا…”
وہ آخر میں لب کچائے بولنے لگی
“سن رہا ہوں میں جہاں سے سمجھ آرہا وہی سے بتا دو…”
وہ مزید اس کے قریب بیٹهتے ہوئے بولا

“آپ ہر وقت میرے زہن میں رہتے ہیں مطلب آپکی باتیں سوچتی ہوں آپکی ڈانٹ میرا دل کرتا آپ سے باتیں کروں مجهے بےچینی ہوتی ہے نیند نہیں آتی مجهے سمجھ میں نہیں آرہا آپ سمجھ رہے ہیں نہ…؟”
وہ ٹوٹے پهوٹے الفاظ بولتی آخر میں اس سے پوچهنے لگی جو مکمل توجہ سے اسی کی جانب دیکھ رہا تها اس کے پوچهنے پر سکندر نے اثبات میں سر ہلایا تها

“اور بتاو…”
اس کو خاموشی سے سر جهکائے دیکھ اس نے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلایا تو اس نے تهوڑی سے پکڑ کر اسکا چہرہ اٹهایا تها
“میں سب سمجھ رہا ہوں ہر بات بتاو…”
وہ انگوٹهے کی مدد سے اسکی گال سہلاتے بولا تها
“اچهے لگتے ہیں آپ مجهے تهوڑے سے…”
اس کے آخر میں تهوڑے سے کہنے پر وہ ہنسا تها
“بات کروں ڈیڈ سے شادی کی…”
اس نے شرارت سے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلایا
“کیوں…؟”
“پہلے گهر میں سب ٹهیک ہو جائے اور…”
وہ ہاتھ آپس میں ملتی رکی تهی
“اور….؟”
“اور پتا نہیں…”
وہ سیدهی ہو کر بیٹهی تهی وجدان بهی خاموشی سے اسکی جانب دیکهنے لگا وہ جانتا تها عالیاب کو سمجھ نہیں وہ کیا بولے اور وہ بهی اسے اپنے جذبات سمجهنے کا موقع دینا چاہتا تها اس کو شہرام کی کہیں بات یاد آئی تو ہولے سے مسکرایا اور خود بهی سیدها ہو کر بیٹها تها

“میں بڑی ہوگئی ہوں سکندر….”
وہ سامنے آسمان پر ستاروں کے گهیروں میں چمکتا دمکتا مکمل چاند دیکهتے ہوئے بولی تو سکندر نے گردن موڑ کر اسکی جانب دیکها اور پهر خود بهی چاند کو تکنے لگا
“میری لیے میری وہی چهوٹی چوہیا موٹی چڑیل ہو…”
اس نے چاند کو تکتے شرارت سے کہا تو وہ ہنسی تهی
“اب یہی آپکا مقدر ہوگی ان شاءاللہ یہ چهوٹی چوہیا موٹی چڑیل ہی…”
وہ اسکے کندهے پر سر ٹکائے بولی تهی وجدان نے کوئی جواب نہ دیا اور ویسے ہی اس چاند کو تکتا رہا

“عالی….”
کچھ پل گزرنے کے بعد اس نے کچھ سوچتے ہوئے اس کا نام پکارا تها لیکن کوئی جواب نہ ملنے پر اس نے گردن موڑ کر اسکی جانب دیکها جو گہرے گہرے سانس لیتی نیند میں مکمل ڈوب چکی تهی چاند کی روشنی اسکے چہرے پر پڑتی اسکی معصومیت کے ہر رنگ کو بکهیر رہی تهی
وجدان نے اس کا سر اٹهاتے پیچهے بینچ سے ٹکایا اور اٹھ کر خود کی شال سہی کرتے اسے دیکهنے لگا اس کا دل نہ کیا کہ وہ اس کے چہرے سے نظریں ہٹا سکے پر اس کا سر بینچ سے ڈهلکتا دیکھ وہ آگے ہوا اور جهک کر اسے گود میں اٹهایا تها

“آئی لو یو میرے دل….”
اس کو ویسے ہی گود میں لیے اندر کی جانب قدم بڑهائے وہ تو شکر تها رات کا اس پہر تها سب سوئے ہوئے تهے اور اگر دن کا وقت بهی ہوتا تو وجدان سکندر اس عمل سے نہ گهبراتا لیکن کچھ شرم حیا اس میں باقی تهی اور وہ عالیاب کو بهی کسی کے سامنے شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تها
عالیاب کے کمرے میں پہنچتے اس نے اسکو بیڈ پر لیٹایا اور پیروں کو جوتی کی قید سے آزاد کیا تها پهر اس پر اچهے سے کمبل اوڑهتے اس کی شال بهی اتاری تهی اور سر پر پیار کرتے مسکرایا اور گہرہ سانس بهرتے لائٹس بند کرتے کمرے سے نکل گیا تها اب اس کو نیند تو آنی نہیں تهی البتہ وہ یہ جانتا تها ساری رات عالیاب کے ڈهکے چهپے الفاظوں میں اظہار محبت اسکے کانوں میں گونجنے تهے
…………………………………
ظہر کی نماز کہ ادائیگی کے بعد سب گهر والے اس وقت لاونچ میں موجود تهے یہاں تک کہ پارس اور عالیاب بهی موجود تهے سعد اپنے سامنے پریہان کے ساتھ بیٹهی دعا کو دیکھ رہا تها جو چہرہ جهکائے بیٹهی تهی وہ نہیں جانتا تها رات کو کی جانے والی باتوں نے دعا پر کیا اثر کیا تها ابهی وہ زہن میں جو سوچے بیٹها تها وہ یہ بهی نہیں جانتا تها اس حوالے سے دعا کا کیا ردعمل ہونا تها لیکن وہ دعا کو ہر حال میں چاہتا تها
“عالیاب ہمیں یہاں کیوں بلایا ہے…؟”
پارس نے تقریباً عالیاب کے کان میں گهستے ہوئے کہا جس نے کندهے اچکائے پارس نے منہ بناتے سامنے دیکها جہاں وجدان اسی کو گهور رہا تها اور نظروں ہی نظروں میں تمیز سے بیٹهنے کا اشارہ کیا تها وہ بهی منہ پر انگلی رکهے خاموشی سے بیٹها تها

“کیا بات تهی جو ہم سب کو بلایا ہے سعد اپنے اس خوبصورت منہ سے بول کر ہمارے کانوں کو شرف بخشیں میربانی ہوگی…..”
رامز کی طرف سے ملنے والے طنز کے تیر پر وہ محض چہرہ ہی جهکا گیا وہ جانتا تها اس کا باپ اب بهی اس سے خفا ہے مصطفی نے خفا نظروں سے رامز کو دیکها تو وہ خاموش ہوا
“کیا بات ہے بیٹا بتاو…؟”
مصطفی نے پیار سے پوچها تها

“چاچو آپ جانتے ہیں پرسوں اسلامہ باد روانہ ہونا ہے اور وہاں تقریباً دو مہینے کا سٹے ہے….”
اس نے بولتے ہوئے دعا کو دیکها جو ابهی بهی چہرہ جهکائے بیٹهی تهی اور بهی باقی سب کو دیکها جو اسی کی جانب متوجہ تهے
“میں دعا کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں یہ سمجھ لیں رخصتی…..”
اس کی بات پر دعا نے ایک جهٹکے سے سر اٹهائے اسکو دیکها تها
“ہوش میں ہو سعد…”
رامز کا بس نہیں چل رہا تها اسکو کہیں غائب کردے جو ابهی بهی رخصتی کی بات پر اٹکا تها

“بهائی ایک بار سعد کی بات سن لیں….”
شہرام نے رامز کو غصہ ہوتے دیکھ کہا اور سعد کو بولنے کا اشارہ کیا
“کبهی نہ کبهی تو رخصتی کرنی ہے نہ نکاح میں ہے وہ میرے تو میں چاہتا ہوں پرسوں آپ رخصتی سمجھ کر ہی میرے ساتھ دعا کو اسلامہ باد بهیج دیں…”
اس نے بولتے ہوئے دعا کو دیکها جو نم آنکهوں سے اسی کو دیکھ رہی تهی

“تمہاری امانت ہے ہم جانتے ہیں…”
احتشام نے رامز کے تاثرات دیکهتے ہوئے کہا جو محض تو خاموش تها پر خون خول رہا تها
“رامز بس کردو ناراضگی….”
مصطفی نے رامز کو دیکهتے ہوئے کہا
“ہمیں اس نے اسکی ایک غلطی نے کس حال تک پہنچایا مصطفی خود کو دیکهو کچھ عرصے میں خود کی حالت دیکهو….”
وہ ضبط کرتے ہوئے بولا
“کبهی نہ کبهی تو سامنے آنا ہی تها نہ بهائی سب اور اللہ کی مرضی اسی میں شامل تهی….”
شہرام نے بهی سمجهانا چاہا

“مجهے کیا اعتراض ہو سکتا لیکن دعا اگر سعد کا ساتھ نہیں چاہتی تو کوئی زبردستی نہیں کرئے گا…”
رامز نے دعا کی جانب دیکهتے کہا تو سب نے دعا کی جانب دیکها جس کی آنکهوں سے آنسووں پهسلے تهے اور نفی میں سر ہلاتی وہاں سے اٹھ کر باہر بهاگی تهی
“میں دیکهتا ہوں…”
وجدان اٹهتے ہوئے بولا اور سعد کو آنکهوں سے اشارہ کرتا لاونچ سے نکلا تها

وجدان دعا کے کمرے میں گیا تو وہ بیڈ پر گهٹنوں میں سر دیے رو رہی تهی
“میری جان میری پیاری بہن…”
وہ اس کے پاس بیٹهتے بولا اور اس کا سر اٹهایا اس نے سر اٹهاتے نم آنکهوں سے وجدان کو دیکها تها
“بهائی میں نہیں جان چاہتی…”
وہ روتے ہوئے بولی
“کیوں کیا وجہ ہے بتاو اپنے بهائی کو…؟”
وہ اسکے آنسووں صاف کرتے پیار سے بولا
“آپ جانتے ہیں میرے ساتھ کیا ہوا ہے…”
وہ ہچکی بهرتے بولی
“وہ ماضی تها میری جان اس ماضی کے بدلے اپنے مستقبل کو مت خراب کرو سعد بهائی جیسا ہمسفر تمہیں کبهی نہیں ملے گا….”
“بهائی کچھ ماضی نہیں بهولے جا سکتے میرے ساتھ ریپ….”
وہ اتنا ہی بولی تهی کہ وجدان نے اسکا سر سینے سے لگایا تها
“تمہارا اس میں کیا قصور میری جان سعد بهائی سب جانے ہیں پهر بهی وہ تمہارے لیے مررہے ہیں میں نے دیکها ہے ان کو تمہارے لیے تڑپتے…”
“ہمدردی ہر صرف وہ ایک ایسی لڑکی ساتھ کیسے زندگی گزار سکتے ہیں…”
“جنکو محبت ہو تو محبوب چاہے معذور بهی ہو تو زندگی گزار لیتے ہیں اب مزید مت کچھ غلط سوچو…”
اس نے اسکو پیچهے کرتے ہوئے کہا تو اس نے چہرہ جهکایا

“اچها بهائی پر تو یقین ہے نہ…؟”
اسکے پوچهنے پر اس نے زوروشور سے اثبات میں سر ہلایا
“بهائی کی بات مان کر سعد بهائی کے ساتھ چلی جاو اگر ان دو مہینوں میں تمہیں لگے کہ سعد بهائی تمہارے لائیک نہیں تو مجهے بتانا میں تمہارے ساتھ ہونگا تم جو چاہو گی صرف وہی ہوگا صرف ایک بار ایک بار بهائی پر یقین کر کے چلی جاو….”
اس نے محبت سے سمجهاتے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا
“چلو شاباش آو میرے ساتھ سب پریشان ہیں اور بڑے ابو بهی سعد بهائی سے خفا ہیں سب کو خوشی دو آو…”
وہ اٹهتے ہوئے بولا تو وہ بهی بولی تهی وجدان نے دوپٹہ سر پر درست کیا اور اسکے گرد بازو حمائل کرتے کمرے سے نکلے تهے
وہ اسے لیے لاونچ میں آیا تو سب کی نظریں دعا پر مرکوز تهیں خاص کر سعد کی
دعا نے وجدان کی جانب دیکها جس نے اثبات میں سر ہلایا تها

“بب-بابا میں ان کے ساتھ جج-جانے کو تیار ہوں….”
اس نے کہتے سعد کو دیکها جو حیرت سے اسی کو دیکھ رہا تها پهر خوشی سے مسکراتے ساتھ بیٹهے زوہان کے گلے لگا تها وجدان کے اشارے پر دعا رامز کی جانب گئی تهی اور اس کے پاس بیٹهی
“بڑے ابو سعد کو معاف کردیں….”
اس نے اسکے پاس بیٹهتے نم آنکهوں سے اسکا ہاتھ تهامے کہا تها
“اگر تم خوش تو میں بهی خوش سعد سے زیادہ تم ضروری ہو میری بیٹی…”
وہ اسکے ماتهے پر لب رکهتے بولا اور سعد کو دیکها جو اسی کو دیکھ رہا تها اور پهر دعا کے سر پر پیار کرنے لگا تها
…………………………………
“سر کچھ دن پہلے جو آپکو فائل دی تهی کیا وہ دیکهی آپ نے…”
محبوب نے وجدان سے پوچها جو ایک فائل دیکھ رہا تها
“کونسی….؟”
اس نے فائل دیکهتے ہی پوچها
“سر داور خان کی…”
اس نے بتایا تو اس نے چہرہ اٹهائے نفی میں سر ہلایا گهر کی ٹینشنز کی وجہ سے وہ کام پر دهیان نہیں دے سکا تها ڈیوٹی پر بهی کم ہی آتا تها
“رات کو جاتئ وقت سب فائلز دے دینا مجهے میں دیکھ لونگا…”
اپنے سامنے موجود فائل بهی اکتاہٹ سے بند کرتے بولا تو وہ فائل اٹهاتا باہر نکل گیا وجدان بهی فون نکالتا اس میں مصروف ہو گیا تها اور وٹس ایپ کهولتے پن پر موجود عالیاب کی چیٹ کهولتے دیکها جسکا لاسٹ سین ایک گهنٹے پہلے کا تها اس کو ہارٹ ایموجی بهیجتے باقی میسجز دیکهنے لگا کہ دروازہ کهوک کر کوئی اندر داخل ہوا اس نے دیکها تو سعد تها

“ارے بهائی آپ…”
موبائل رکهتے خوشگوار حیرت سے بولتا کهڑا ہوا تها اس کے کهڑے ہوتے ہی سعد نے اس کو گلے سے لگایا تها
“بہت شکریہ وجدان گهر میں، میں اسکا شکریہ ادا نہ کر سکا….”
وہ پیچهے ہوتے اسکے کندهے پر ہاتھ رکهے بولا تها
“شرمندہ مت کریں بیٹهیں…”
مسکرا کر کہتے بیٹهنے کا اشار کیا تو وہ کرسی پر بیٹها وجدان بهی سامنے والی کرسی پر بیٹها تها

“پهر تیار ہیں پرسوں جانے کے لیے…”
اسکی بات پر سعد خوشی سے مسکرایا تها اور اثبات میں سر ہلایا
“بهائی میں جانتا ہوں دعا کو آپ بہت خوش رکهیں گے وہ بهی آپ سے بہت محبت کرنے لگے گی اسی یقین پر میں نے اس سے وعدہ کیا ہے کہ اگر دو مہینوں میں اسکو لگے وہ آپکے ساتھ خوش نہیں تو اسکے ہر فیصلے میں ساتھ دونگا چاہے علیحدگی کا کیوں نہ ہو….”
اس نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکهتے کہا
“میں شکایت کا موقع نہیں دونگا میرے بهائی تمہارا مان رکهوں گا…”
اس نے اپنا دوسرا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکهتے کہا تو وہ بهی مسکرایا تها اور پهر ادهر ادهر کی باتیں کرنے لگے