No Download Link
Rate this Novel
Episode 50
ہر چیز پھر سے معمول پر آ گئی تھی وجدان بھی اپنے مشن کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہا تھا سعد بھی واپس اپنے بزنس میں مصروف ہو گیا تھا جب کہ زوہان اور تعبیر نے ہاسپٹل جانا شروع کر دیا تھا وہاں موجود ڈاکٹرز ان کی شادی سے واقف نہ تھے عالیاب پارس اور دعا کے اگزامز بھی قریب تھے جس وجہ سے وہ پڑھائی پر مکمل توجہ دے رہے تھے جب کہ شافع بھی اپنے کام پر دھیان دیتا لیکن اس مصروف روٹین میں بھی وہ روحا کو تنگ کرنے کے لیے ٹائیم نکال لیتا تھا کبھی تو وہ کال اٹھا کر کھری کھری سنا دیتی جس پر وہ مسکراتا یا الٹے جواب دے دیتا تو کبھی وہ سرے سے ہی فون نہ اٹھاتی تو شافع خالی میسجز کی بمباری کر دیتا
………………………………
تعبیر کی ڈیوٹی کا وقت ختم ہو گیا تھا اسی لیے وہ روم میں ریلیکس ہو کر بیٹھی تھی کیونکہ زوہان کی ڈیوٹی ختم ہونے میں ابھی وقت تھا وہ جو ریلیکس ہو کر بیٹھی تھی کہ زوہان ڈھڑم سے دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا تھا تعبیر ںے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولی اور اسے دیکھتی سیدھی ہوئی تھی
“بےبی ایک کپ چائے پلا دو اپنے ہاتھوں سے بنا کر۔۔۔۔۔”
وہ تھکا سا بولا تھا
“اچھا اپنے روم میں جائیں میں وہاں بنا کر لاتی بھیجتی ہوں۔۔۔۔”
وہ کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی تھی
“کیوں یہاں کیا ہے اور خود دو گی مجھے کسی اور کے ہاتھ نہیں۔۔۔۔”
“لیکن زوہان یہاں کوئی نہیں جانتا کہ ہم دونوں میرڈ ہیں کوئی ساتھ ایسے دیکھے گا کتنی باتے بنائے گا۔۔۔۔”
وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی تو اس نے اگے بڑھتے اس کی بات کو سرے سے اگنور کرتے کمر سے تھام کر قریب کیا تھا اس کے اس عمل سے وہ بار بار دروازے کو دیکھتی مچلنے لگی تھی
“لیکن مجھے تو تمہارے ہاتھوں سے چائے بلکہ تمہارے ہونٹوں۔۔۔۔”
“بسسس۔۔۔۔”
وہ جو اس کے لبوں پر فوکس کئیے بول رہا تھا کہ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے اس نے ٹوکا تھا اور اپنے گرد سے اس کے ہاتھ ہٹانے کی کوشش کرنے لگی
“شرم کریں لحاظ کریں جائیں یہاں سے کوئی بھی آ سکتا ہے ۔۔”
وہ کسی صورت اس کے خطرناک ہوتے ارادوں کو ٹالنا چاہتی تھی
“تو آتا رہے بیوی ہو تم میری بلکہ اچھا ہے سب کو بتانا نہیں پڑے گا خود معلوم ہو جائے گا پھر تو کھلے عام بھی رومینس کریں گے۔۔۔۔”
وہ ہونٹ اس کی گال سے مس کرتا بولا اور اس سے پہلے وہ مزید مزاحمت میں کچھ بولتی وہ اس کے لفظوں کو قید کر چکا تھا دو تین مکے اس پر برسانے کے بعد آخر میں اس کے گلے میں باہیں ڈالتی ہار مان گئی تھی زوہان پیچھے ہوتا مسکرا کر اس کے ماتھے پر پیار کرتے اس کو سینے سے لگایا تھا وہ بھی اس کے سینے سے لگی اس کے گرد بازو حمائل کرتی آنکھیں موند گئی تھی وہ بھی اس کی باہوں میں سکون چاہتی تھی
“کتنا سکون ہے نہ زوہان۔۔۔۔۔۔”
وہ اس کے سینے سے لگی بولی تو وہ مسکرایا اور مزید خود میں بھینچ گیا تھا
“چائے ملے گی یا تمہاری قربت پر ہی گزارا کرنا پڑے۔۔۔۔۔”
پانچ منٹ گزرنے کے بعد بھی جب دونوں ایسے ایک دوسرے کی باہوں میں کھڑے رہے تو زوہان نے شرارت سے کہا تھا
“ایسے ہی گزارا کر لیں یا ایسا کریں میرے لیے بھی چائے بنا دیں۔۔۔۔”
وہ اس سے دور ہٹے بنا بولی
“بڑی تیز نہیں ہو گئی ایک منٹ میں تیزی نکال دوں گا پھر خود دور بھاگتی پھرو گی۔۔۔۔”
وہ اس کی کمر پر گرفت مضبوط تر کرتے بولا کہ وہ ایک دم سے اچھلی تھی اور دور ہوئی
“جائیں بناتی ہوں چائے بدتمیز۔۔۔۔”
وہ گھورتے کہتی روم سے نکلی تھی زوہان نے ہنس کر ٹیبل سے اس کا موبائل کوٹ اور ہینڈ بیگ اٹھاتے خود بھی اس کے روم سے نکلا تھا
………………………………
“مجھے امید نہیں تھی تعبیر اتنی جلدی ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔۔”
زوہان نے اپنے ساتھ بیٹھے وجدان سے کہا جو ٹی وی پر چینل چینج کرتا اس سے بھی بات کر رہا تھا
“جب محبت مخلص ملے گی تو دل تو خود با خود ہی موم کا ہو جائے گا۔۔۔۔”
اس نے مسکرا کر کہا
“کون سے ناولز پڑھنا شروع کر دئیے ہیں اتنے اچھے ڈائلوگز۔۔۔۔”
اس نے شرارت سے کہا تھا تو اس نے نیچے سے اس کو پیر مارا تھا
“یہ جنانیوں(عورتوں) والے کام میں نہیں کرتا۔۔۔۔”
اس نے دوبارہ ٹی وی پر چینلز آگے پیچھے کرتے کہا
“تو کون سا کسی جنانی(عورت) سے کم ہے۔۔۔”
زوہان نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارتے کہا تو اس نے گھورا تھا
“زوہان میرے ہاتھوں مر نہ جانا۔۔۔۔”
اس نے اس کو وارن کیا الٹا اس نے آنکھ ماری تھی
“بکواس ہر چیز۔۔۔”
وجدان ٹی وی بند کرتا انگڑائی لیتے بولا تھا
اب کہ زوہان نے ٹی وی چلایا تو وجدان نے ریمورٹ کھینچتے بند کیا تھا
“بل پاپا جی نے نہیں دینا بجلی مت ضائع کر۔۔۔۔”
زوہان اس کی بات سنتے منہ کھولے اسے دیکھنے لگا تھا
“سیریسلی بغیرت وجدان سکندر۔۔۔۔”
اس نے واپس کھینچتے ٹی وی چلایا تھا
“تجھے کمانا نہیں نہ پڑتا اسی لیے تجھے پتا نہیں کیسے خون پسینہ ایک کر کے پیسہ کمایا جاتا ہے اس بار بل تو ادا کرئے گا ہورے گھر کا پھر تجھے اندازہ ہو گا فضول کی بجلی ضائع نہیں کرنی چاہیے اور۔۔۔۔۔”
وجدان جو ابھی افسوس سے بول ہی رہا تھا کہ زوہان نے کھڑک سے ٹی وی بند کیا تھا
“یہ کے کنجوس انسان کر دیا بند اب زیادہ باپ نہ بن۔۔۔۔”
اس نے سڑ کر کہا تو وجدان نے ہنستے ہوئے اس جی گردن دبوچی تھی
“یار چائے کی طلب ہو رہی ہے۔۔۔۔”
وجدان نے اسے چھوڑتے ہوئے کہا اور اٹھا تھا
“اب زوجہ محترمہ کو ڈھونڈھنا پڑے گا۔۔۔۔”
وہ اٹھ کر ایک اور انگڑائی لئیے بولا تھا تو زوہان نے جمائی لیتے اسے گھورا جو مکمل طور پر سستی پھلا رہا تھا وجدان نے زوہان کے بال کھینچے تھے اور اس سے پہلے زوہان اسے دبوچتا وہ باہر بھاگ چکا تھا پیچھے زوہان نے مسکرا کر ٹی وی اون کیا تھا
………………………………
وجدان کچن میں گیا تو وہاں صرف تعبیر موجود تھی جب سے وہ اس گھر میں آئی تھی ان دونوں کے بیچ سلام تک کی بات نہیں ہوئی تھی نہ تعبیر نے کرنا چاہی تھی نہ وجدان نے کی تھی اس کی نظر میں اس کا بھائی خوش تھا یہی کافی تھا
وجدان نے گلا کھنگارا تو وہ پلٹی تھی اور وجدان کو دیکھتے دوبارہ اپنا کام کرنے لگی
“میری زوجہ آئی مین عالیاب کا پتا ہے کہاں ہے۔۔۔؟”
اس نے گہرہ سانس لیتے اس سے پوچھا تھا
“وہ دعا اور پارس گارڈن میں موجود سعد بھائی سے کچھ سمجھ رہے ہیں اگزامز ہیں ان کے۔۔۔۔”
اس نے مختصر سا بتایا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا اور تعبیر کو دیکھا جو چائے بنا رہی تھی
“ااا مائنڈ نہ کرو تو ایک کپ چائے مل جائے گا مجھے بھی۔۔۔۔”
وہ شاید اپنے اور اس کے تعلقات بہتر کرنا چاہتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا تعبیر اسے پسند نہیں کرتی اور وہ ان دونوں کے خراب تعلقات کی وجہ سے اپنے بھائی کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا ورنہ اسے چائے کی اتنی طلب بھی نہ تھی کہ وہ اس سے یوں مانگتا
“نہیں۔۔۔۔۔”
اس نے بنا کسی لحاظ کے یک لفظی جواب دیتے چائے کپ میں انڈیلنے لگی تھی اور وجدان جانتا تھا ان کا مزاق نہیں جو یوں مزاق میں کہتی اور خود کی توہین پر ہونٹ بھینچے اثبات میں سر ہلاتا کچن سے نکل گیا تھا اور واپس لاونچ میں زوہان کے ساتھ جا کر بیٹھ گیا
“کیا ہوا چائے نہیں پی۔۔۔۔؟”
اس نے وجدان سے پوچھا تھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا
“کیوں۔۔۔۔؟”
“عالیاب اگزامز کی تیاری کر رہی تھی مناسب نہیں سمجھا ڈسٹرب کرنا۔۔۔۔”
اس نے خود کو نارمل کرتے کہا
“تو تعبیر سے کہہ دیتے وہ بنا دیتی۔۔۔۔”
“ارے نہیں اتنی بھی طلب نہیں اس کو کیوں تکلف دینا۔۔۔۔”
اس نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجائے کہا تھا
“اس میں تکلف کی کیا بات ہے۔۔۔”
ابھی اس سے پہلے وجدان کوئی جواب دیتا تعبیر چائے کا کپ تھامتی اندر داخل ہوئی اور وجدان کو دیکھتے تیوری چڑھائے کپ وجدان کو دیا تھا
“کیا اور چائے نہیں ہے۔۔۔۔۔؟”
زوہان نے کپ تھامتے اس سے پوچھا
“نہیں میں ان سب کو دے آئی ہوں۔۔۔”
اس نے بہانا بنایا وہ جانتی تھی زوہان کیوں پوچھ رہا ہے
“اچھا یہ لے مجھے اتنی ضرورت نہیں تو چائے پی لے۔۔۔۔”
زوہان نے کپ اس کی جانب بڑھائے کہا تھا
“لیکن آپ کے لیے بنائی ہے۔۔۔۔”
اس سے پہلے وجدان انکار کرتا تعبیر فٹافٹ بولی تھی
“مجھے اتنی ضرورت نہیں تم پی لو میں جانتا ہوں تمہیں اشد ضرورت ہے۔۔۔۔”
اس ںے تعبیر سے کہتا وجدان سے بولا تھا جس نے ایک نظر تعبیر کو دیکھا جو زوہان کی بات سنتے دانت کچا رہی تھی
“نہیں تم پیو مجھے کام ہے میں ملازمہ سے کہہ دیتا ہوں اتنی ملازمائیں کس کام آئیں گی۔۔۔”
وہ اس کے بال بگاڑتا اٹھا تھا
“تھوڑی سی۔۔۔۔”
اس کے اسرار پر وجدان نے کپ تھامتے دو گھونٹ بھرے اور واپس اسے تھما کر دل میں اٹھتی تکلیف کو قابو کرتے لاونچ سے نکل گیا تھا اسے یہ زرا دکھ نہیں تھا تعبیر کا اس کے ساتھ رویہ کیسا ہے لیکن وہ زوہان کی وجہ سے پریشان تھا اور پریشان تھا کہ کہیں وہ اس سے دور نہ ہو جائے کہیں وہ ان دونوں کی وجہ سے ٹینشن میں نہ آجائے
………………………………
دعا سعد پارس اور عالیاب گارڈن میں بیٹھے چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے ساتھ ہی وہ تینوں سود سے کچھ سمجھ نہ انے پر سمجھ لیتے جب کہ سعد بھی آفس کا ورک کر رہا تھا
“بھائی میں جاتی ہوں میرے شوہر کا میسج آیا ہے۔۔۔۔۔”
عالیاب فون پر وجدان کا میسج دیکھتے بولی جس پر سعد اور پارس مسکرائے جب کہ دعا نے اسے کہنی مارتے چھیڑا تھا جس پر وہ شرمیلی مسکراہٹ سے بکس سمیٹنے لگی تھی سعد دعا کی اس حرکت کو دیکھتے مزید مسکرایا تھا
“میں بھی تھک گیا ہوں بس۔۔۔۔”
پارس بھی اپنی کتابیں اٹھاتا بولا اور پھر دونوں باتیں کرتے گارڈن سے نکلے تھے
“تم کہاں تمہارا شوہر یہی ہے۔۔۔۔”
دعا کو کتابیں سمیٹتے دیکھ اس نے اس کا ہاتھ تھامے کہا تھا
“سعد میرے اگزامز ہیں مجھے تنگ نہیں کرنا۔۔۔۔”
اس نے مصنوعی سنجیدگی چہرے پر سجائے کہا تھا
“کروں گا تنگ کیا کر لو گی۔۔۔۔”
وہ اس کی کتابیں پیچھے کرتا بولا اور خود بھی اگے ہوا تھا
“سعد پلیز۔۔۔”
وہ اپنی گردن کی جانب بڑھتا اس کا ہاتھ دیکھتے آنکھیں دکھائے بولی تھی
“پلیز دعا سعد۔۔۔۔”
وہ گردن پر ہاتھ رکھتا قریب کر چکا تھا اور پھر دعا بھی مزید اگے کو کھسکتی اس کے بےحد قریب ہو گئی تھی اور اس کی گردن میں باہیں ڈالے اس کے جھکنے سے پہلے خود چہرہ اٹھائے ہمت کر گئی تھی اس کی اس ہمت پر سعد کے اندر تک سرور پھیل گیا تھا کچھ لمحوں بعد وہ پیچھے ہوئی اور آنکھیں بند کئیے ہی سانس لینے لگی سعد نے اس کے چہرے پر موجود حیا کے رنگ دیکھتے انگوٹھے کی مدد سے اس کی گال سہلائی تھی دعا نے دھیرے سے آنکھیں کھولتے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں جذباتوں کا ایک جہاں آباد تھا سعد اس پر جھکنے لگا کہ اس نے اس کے ہونٹوں ہر ہاتھ رکھا تھا اور گارڈن کے داخلی دروازے کو دیکھا
“کوئی آجائے گا سعد۔۔۔”
اس نے پریشانی سے کہا
“آنے دو۔۔۔۔”
وہ اس کا نازک ہاتھ اس اپنے ہونٹوں سے ہٹائے بولا تو اس کو فرار کی آخری راہ اس کا سینہ لگا تھا جس میں وہ اپنا منہ چھپا گئی تھی
“مجھے سے بھاگنے کے لیے میرا ہی سینہ واہ جگہ اچھی ہے۔۔۔۔”
وہ بھی اس کے گرد حصار باندھے بولا پھر ایک ہاتھ اپنے گرفت میں لیتے اس کی پشت پر انگوٹھا پھیرنے لگا تھا
“میرے ہاتھ وائٹ ہی آپ سے۔۔۔”
وہ اس کے ہاتھ میں موجود اپنا ہاتھ دیکھتی شرارت سے بولی تو سعد نے بھی دیکھا جس کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں گورا لگ تھا تھا
“ہاں تو مرد کا رنگ سانولا ہی ہوتا ہے زیادہ اور تم کون سا باہر زیادہ کام کرتی ہو جو رنگ ڈل پڑے گا۔۔۔۔”
وہ اس کی انگلیوں کو پکڑتا بولا تھا
“تو آپ کون سا باہر دیہاڑی کرتے ہیں ہو تے تسی وی اے سی وچ رہنے والے۔۔۔”
وہ اخر میں پنجابی میں بولی تھی
“اتنی آوٹ سٹینڈنگ پنجابی کون سیکھاتا ہے تمہیں۔۔۔۔”
وہ اس کو پنجابی اور اردو کی ٹانگ توڑتے دیکھ بولا
“احتشام چاچو اور وجدان بھائی کبھی سیکھاتے لیکن زیادہ احتشام چاچو۔۔۔۔”
وہ جھٹ سے بولی تو وہ مسکرایا
“اچھا جان من۔۔۔۔”
وہ اس کو سینے میں بھینچتا بولا تھا تو وہ بھی پرسکون سی آنکھوں کو بند کر گئی تھی
………………………………
وجدان یونیفارم پہنتا نگ سگ سا تیار بیٹھا عالیاب کو دیکھ رہا تھا جو اس کے لیے کھانا لائی تھی
“کھانے کی ضرورت نہیں بات سنو۔۔۔۔”
اس کو ٹیبل پر کھانا رکھتے دیکھ وہ اٹھا تھا اور اس کے پاس آیا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی
“بہت اہم کام کے لیے جا رہا ہوں ہم پولیس والے ہیں فوجیوں کے بعد ہمارے جو مشنز ہوتے ہیں اس میں زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا۔۔۔”
وہ اس کا چہرہ تھانے بولا تھا
“ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔۔۔۔؟”
اس کے دل میں عجیب سا وہم جاگا تھا
“کچھ نہیں بس ایک مشن پر ہی جا رہا ہوں دعا کرنا میرے لیے وہ مشن بہت ضروری ہے اس سے پہلے میری جان نہ جائے اور شاید میں رات کو گھر نہ آوں تم آرام سے سو جانا۔۔۔”
وہ وقت دیکھتے بولا جہاں گھڑی چار بجا رہی تھی
“کیوں نہیں آئیں گے اور اگر آپ نہیں ہونگے یوں باہر ہونگے وہ بھی مشن پر تو میں کیسے سکون سے سو سکتی ہو ۔۔۔”
وہ افسردگی سے آنکھوں میں نمی لائے بولی تھی
“اوئے رونا نہیں ورنہ یہ نہ ہو کہ شوہر کا مشن مکمل ہونے سے پہلے وہ دوسری دنیا کی ٹکٹ کاٹ لے۔۔۔۔”
اس نے شرارت سے کہا تھا
“وجدان۔۔۔۔۔”
اس نے چلاتے ہوئے اس کے سینے پر مکے برسائے تھے اور وہ جو نہیں رونے والی تھی رو پڑی تھی وجدان نے ہنستے ہوئے اسے گلے سے لگایا تھا اور سر پر پیار کرنے لگا پھر اس کو خاموش کرواتا کھانا کھایا اور اس سے خود کو سکون بخشتا(سمجھ جاو کیسے) کمرے سے نکلا تھا اور پھر پریہان سے دعا لیتا گھر سے اس اہم مقصد کے لیے نکل گیا تھا
………………………………
وجدان اپنی ٹیم کے ساتھ آج داور خان کے خاتمے کو موجود تھا ان کے جاسوس کے مطابق وہ بہت سی سیکیورٹی کے ساتھ بائے روڈ اسلامہ آباد جانے والا تھا اور یہی موقع ان کے لیے بہترین تھا اور راستے میں روڈ کے گرد موجود کچے بہت سے گھر جو ابھی زیر تعمیر تھے ان کے باہر داور خان کے انتظار میں تھے
“سر ہمارے آدمی چاروں سو پھیل گئے ہیں وہ یہاں سے کسی صورت نہیں نکل سکتا۔۔۔۔”
محبوب وجدان کے پاس اتے بولا جو موبائل میں عالیاب کی تصویر کو زوم کئیے ہوئے تھا اس کے بولنے پر اس نے اثبات میں سر ہلایا اور موبائل کو جیب میں ڈالا تھا
“سر وہ آدمی زیادہ ہونگے۔۔۔۔”
اس نے مزید بتایا
“ہم اپنا ایمان اں سے زیادہ مضبوط رکھیں گے ان شاءاللہ۔۔۔۔۔”
اس کی بات پر وہ مسکرایا اور فون کی جانب متوجہ ہوا جو اب بجنا شروع ہوا تھا محبوب نے فون اٹھاتے سنا تھا آگے سے کچھ کہا گیا تو اس نے فون کاٹا تھا
“سر دس منٹ میں داور کی گاڑیاں یہاں سے گزرنے والی ہیں۔۔۔۔”
اس نے وجدان کو بتایا تھا
“کتنی گاڑیا ہیں۔۔۔؟”
“سر داور کی گاڑی کو نکال کر آٹھ گاڑیاں ہیں اور درمیان والی گاڑی اس کی ہے۔۔۔۔”
اس نے تفصیل سے بتایا تھا اور پھر وجدان کے اشارے پر اس نے سب کو ہائی الرٹ دیا تھا
وجدان پلر سے ٹیک لگاتا اپنی دونوں گن لوڈ کر چکا تھا
“آج صرف ٹھوکنا ہے۔۔۔۔۔۔”
وہ گاڑیوں سے ہارن کی آتی آواز کو قریب سنتا بولا تھا سب مکمل الرٹ ہو چکے تھے
“روڈ خالی ہے نہ کوئی اور بندہ تو نہیں۔۔۔۔؟”
وجدان نے ایک بار پھر سے تسلی چاہی
“نہیں سر پورا روڈ خالی کروا لیا تھا میں نے مکمل تسلی کی ہے خود۔۔۔۔”
دور سے آتی کالی گاڑیوں کو دیکھتے وہ نشانہ باندھتا بولا تھا
“داور کی گاڑی کو نشانہ بنانا ہے۔۔۔۔”
وہ نشانہ باندھتے بولا تھا اور چار گاڑیوں کے بعد پانچویں گاڑی کے قریب آتے ہی وجدان اس کے ٹائر کو نشانہ بناتا دو فائر کر چکا تھا
“چررررر….”
کی آواز سے جہاں باقی گاڑیاں رکی تھی وہی داور کک گاڑی سنبھلتے نہ ہوئے درخت سے ٹکرائی تھی لیکن وہ ٹکرانا زیادہ نقصان دہ نہ تھا
وجدان کے اشارے پر وہاں گولیوں کی برسات شروع ہو گئی تھی وجدان جانتا تھا گاڑی میں موجود سب لوگ تو نہیں نارے جائیں گے لیکن وہ انہیں سنبھلنے کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا سب گاڑیوں کے ٹائر اڑا دئیے گئے تھے تاکہ وہ فرار نہ ہو سکیں
پانچ منٹ تک گولیوں کی موسلادھار بارش کے بعد وہاں گہرا سکوت چھا گیا تھا وجدان کے اشارے پر اب سب نے خود کو محفوظ کرنا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اب دوسری جانب سے گولیاں اپنے عروج پر ہونگی وہ سوچ کے مطابق دوسری جانب سے بھی گولیاں چلنا شروع ہو گئیں تھی گولیوں کی آواز سے لگتا تھا اب زیادہ آدمی موجود نہیں داور نے اور باقی آدمیوں نے نکلنے کی کوشش نہ کی تھی کیونکہ وہ جانتے تھے ان کو چاروں جانب سے گھیر لیا گیا تھا دونوں اطراف کے لوگ اپنے دفاع کے لیے گن کا استعمال کرتے وہاں گولیوں کا شور برپا کر رہے تھے
ایک بار پھر سے وہاں خاموشی چھا گئی تھی یقیناً سب اپنی گنز کو دوبارہ بھر رہے تھے
“داور خان تمہارا کھیل ختم ہوا خود کو سلنڈر کر کے باہر نکل آو مجھے تمہیں مارنے کا وارنٹ مل چکا ہے مزید مزاحمت کر کے اپنے آدمیوں کی زندگیاں یوں داو پر مت لگاو۔۔۔۔۔”
وجدان بلند آواز میں بولا تھا اس کی آواز وہاں دیواروں سے بجتی اس خاموشی میں چاروں سو گونجی تھی
“میں دوبارہ نہیں دہراوں گا میرا دماغ مت خراب کرو داور خان۔۔۔۔”
دوسری جانب سے دوبارہ سے تین فائر ہوتے دیکھ اب کہ وہ وارن انداز میں بولا تھا پانچ سیکنڈ تک کوئی حرکت نہ ہوئی تھی تھی
“پانچ گنوں کا اگر نہ نکلے تو اپنی موت اس گاڑی میں ہی لکھ لینا۔۔۔۔۔”
وہ چبا کر بولتا سب کو گن تیار رکھنے کا اشارہ کرتا کاونٹنگ شروع کر چکا تھا
“فائو فار تھری۔۔۔۔”
وہ پل کو رکا تھا
“ٹو۔۔۔۔۔”
اس نے گن لوڈ کی تھی اور اس سے پہلے وہ ون کہتا داور کی گاڑی کا دروازہ کھلا اس کے ساتھ ہی باقی گاڑیوں کے دروازے کھلتے سب باہر ان کے سامنے کھڑے ہوئے تھے ان کے درمیان داور خان گن تانے کھڑا تھا ٹھیک ان کے سامنے ہی وجدان سور اس کے آدمی تھے کچھ ادمی پیچھے چھپے ہوئے تھے جن کی خبر داور خان کو نہ تھی بحرحال خبر تو اسے کسی چیز کی بھی نہیں تھی
“وجدان تم ایسا کر کے یہ سوچ رہے ہو کہ مجھے مار دو گے تو بھول ہے تمہاری۔۔۔۔”
وہ لوڈ گن ہاتھ میں تھامے ان کی جانب کئیے بولا تو وجدان مسکرایا
“اگر تیری موت آج اللہ نے لکھی ہے تو بخدا قسم آج تیرا وہ ہندی میں کہتے ہیں کیا کہتے ہیں محبوب۔۔۔۔۔”
اس نے وہ لفظ زہن میں نہ آنے پر محبوب سے پوچھا
“انتم سنسکار۔۔۔۔”
اس سے پہلے محبوب سمجھ کر کوئی جواب دیتا داور کا آدمی جلدی سے بولا تھا جہاں داور اور ان کے آدمیوں نے اسے گھورا تھا وہی وجدان مسکرایا تھا
“ہاں آج تیرا انتم سنسکار کرتے تیری چتا کو آگ لگا دینی ہے۔۔۔۔”
اتنا سا جملہ بولتے اس نے گہرا سانس لیا
“داد تو دو داور خان اتنی مشکل سے یہ ڈائیلوگ یاد کیا تھا۔۔۔۔”
اس نے تپا دینے والے لہجے میں کہا تو داور نے دانت کچائے تھے
“یہاں تیرے ڈائیلوگ سننے کے لیے نہیں کھڑے ہم وجدان سکندر۔۔۔۔”
داور چںاتے ہوئے بولا
“لیکن میرے ادمی تو میرے ڈائیلوگ سننے کو کھڑے ہیں کیوں بےبیز۔۔۔۔”
اس نے داور سے کہتے اخر میں اپنے آدمیوں کو دیکھا جنہوں نے ہنستے اثبات میں سر ہلایا تھا
“میرے ہی نہیں تمہارے ادمی بھی خوب انجوائے کر رہے ہیں دیکھو بتیسی بند نہیں ہو رہی ان کی۔۔۔۔”
اس کی بات سنتے جہاں داور نے قہر برساتی نظروں سے اپنے آدمیوں کو دیکھا تھا وہی وہ گڑبڑا اٹھے تھے کیونکہ ایسا بالکل نہیں تھا
اور اگلے ہی لمحے وجدان نے لوڈ گن سے داور کا نشانہ بناتے اس سے فائر کر دیا تھا گولی کی آواز سے رہی سہی کسر بھی نکل گئی تھی
………………………………
السلام و علیکم کیسے ہیں سب۔۔۔؟ کیسی لگی قسط۔۔۔۔۔؟ تو کیا داور مر جائے گا اگلی قسط میں۔۔۔۔۔؟ اور ان شاءاللہ عید تک ناول ختم ہو جائے گا مجھے معلوم ہے ناراض ہوتے ہیں قسط کی دیری پر 😔لیکن خیر ناراض نہ ہوا کریں ان شاءاللہ بہت جلد خوش کر دوں گی ساری ناراضگی دور کر دوں گی بہت سے سرپرائز دے کر❤️😅تب تک انجوائے کریں شکریہ
