Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 58

گولی کی آواز پر داور نے حیرت سے اپنی گن کو دیکھا جس میں سے اس نے گولی چلائی ہی نہیں تھی تو چلی کہاں سے تھی پھر نظر دروازے پر پڑی جہاں وہ شخصیت پولیس یونیفارم میں ملبوس ہاتھ میں گن سے فائر کرنے کے بعد ہاتھ ہوا میں ہی رکھے اپنی تمام تر وجاہت اس عمر میں بھی سمیٹے پوری شان و شوکت سے کھڑا تھا

“کون ہو تم۔۔۔۔؟”
داور نے غصے سے کہا تھا
“ریٹائرڈ ایس پی شہرام ملک۔۔۔۔”
اس کی روعب دار آواز پر داور نے خوف سے اسے دیکھا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہاں آرمی انٹر ہوتی چاروں سو پھیلتی ان کو گھیر چکی تھی اور اس سے پہلے وہ سمجھتے کوئی کاروائی کرتے وہ ان پر گن تان چکے تھے شہرام کے بھاری بوٹوں کی آواز گونجی تھی وہ دھیرے دھیرے ان کی جانب آرہا تھا اور وجدان سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہوا اور اپنی شریک حیات اور عالیاب کو دیکھا جن آنکھوں میں آنسووں نے شہرام نے مسکرا کر انہیں دیکھا تھا اور آنکھوں سے تسلی دی تھی پھر ایک کٹیلی نگاہ وجدان پر ڈالی جو سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا

“تمہیں اس کی سزہ بھگتنی ہو گی وجدان سکندر میں نے کہا تھا میری نظریں تم پر ہی ہیں۔۔۔۔”
وہ وجدان کے قریب ہوتا غرا کر بولا تو اس نے نگاہیں چرائیں تھی اس سے پہلے وجدان کوئی جواب دیتا وہاں چینخ گونجی تھی وہ اس کی جانب متوجہ ہوئے جہاں داور خان نے پریہان کو بازو سے پکڑتے اس کی کنپٹی پر گن تانی تھی شہرام نے ہونٹ بھینچتے غصیلی نظروں سے اسے دیکھا تھا

“میں مار دوں اگر تم دونوں میں سے کوئی اگے آیا تو دونوں کو مار دوں گا۔۔۔۔”
وہ شہرام کو اگے بڑھتے دیکھ بولا تھا اور خوف سے قدم پیچھے لیے تھے اور عالیاب کو دیکھا جو اس کے دوسرے آدمی کی قید میں تھی

“ہاتھ میں گن اور میری بیوی ہونے کے باوجود خوف سے پسینے چھوٹ رہے ہیں اور قدم خود با خود پیچھے جا رہے ہیں تمہیں چاہیے سینہ تان کر شہرام ملک کا سامنا کرو یوں میدان میں پیچھے ہٹنا ایک غیرت مند دہشت گرد کو زیب نہیں دیتا”
وہ اس کی جانب قدم لیتے بولا تھا اور پھر جہاں عالیاب موجود تھی وہاں فاصلے پر رکتے مسکرا کر عالیاب کو دیکھا جو روتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی

“بچے پریشان نہیں ہونا تمہارا ماموں ہے نہ یہ ٹکے ٹکے کے لوگ ہمار کچھ نہیں بیگاڑ سکتے یہ بچوں سے مقابلہ کر کے خوش ہوتے ہیں انہیں زرا خوش ہونے دو۔۔۔۔۔”
وہ اخر میں لفظ بچہ بولتے وجدان کی جانب دیکھا جس نے اپنے باپ کی بات سنتے محض صبر کے گھونٹ بھرے تھے

“بہت سن لی تیرے اور تیرے بیٹے کی ڈائیلوگ بازی کام تمام۔۔۔۔”
اس نے ٹریگر دبایا تھا لیکن اس کی گن سے گولی نکلنے سے پہلے کسی نے اس کی پسلی میں گولی ماری تھی کہ داور کے ہاتھ سے گن چھوٹتے پریہان کا بازو بھی چھوٹا تھا اور پلٹتے ہوئے گولی مارنے والی شخصیت کو دیکھا تھا پریہان اس کے قریب سے بھاگتی شہرام کے سینے لگی تھی اگلی گولی شہرام کی گن سے نکلتی عالیاب کے پیچھے موجود شخص کا بھیجا اڑا گئی تھی اور شہرام نے عالیاب کو پکڑا تھا

“تت-تم غدار۔۔۔۔”
داور اس آدمی کو دیکھتے ٹوٹے الفاظ میں بولا اور نیچے گرا تھا اس آدمی نے داور کا وجود گولیوں سے چھلنی کرنے کے بعد وجدان کی جانب دیکھ کر سر اثبات میں ہلایا اور پھر شہرام کو دیکھتے سیلیوٹ کیا تھا اس کے سیلیوٹ پر وجدان کا دماغ تیزی سے کام کیا تھا مطلب وہ جاسوس اس کا نہیں اس کے باپ کا تھا اور وہ جاسوس اور کوئی نہیں وہی شخص تھا جس سے اسلامہ آباد میں وجدان نے کلب میں ملاقات کی تھی مطلب وہ اس کو اپنے ساتھ ملانے سے پہلے ہی یہاں شہرام کے لیے کام کرتا تھا
وہاں گولیوں کا شور شروع ہوا تھا ارمی نے چن اور وہ شخص جسے دیکھتے وجدان کو حیرت ہوئی تھی وہ اس سے پہلے موقع پاتا بھاگتا وجدان اسے دبوچ چکا تھا

“ڈی ایس پی تیری طرف تو بہت حساب باقی تھے اب بتاو کیسا لگا یہ شو…؟ شو کا ہیرو چینج ہو گیا لیکن ہوپ سو کہ مزہ آیا ہو گا باقی کا شو اوپر جا کر دیکھنا۔۔۔۔”
وجدان بولتا اس کو کوئی موقع دیے بنا اس کی گردن میں گولیاں اتار چکا تھا اور پھر اپنے باپ کو دیکھا جو سینے پر ہاتھ باندھے وجدان کو دیکھ رہا تھا وجدان نے شہرام سے نظر ہوتے پیچھے اپنی ماں اور بیوی کو دیکھا تو بےتابی سے ان کی جانب بڑھا تھا

لیکن اس سے پہلے وہ ان تک جاتا شہرام اس کو بازو سے پکڑتا وہی روک چکا تھا
“تمہارا فلحال کوئی حق نہیں کہ تم اپنی بیوی اور میری بیوی سے ملو پہلے گھر جانے کے بعد مجھ سے روم میں ملو تم سے عرصہ ہوا ملا نہیں اس کے بعد دیکھیں گے تمہیں کس سے ملنا ہے کس سے نہیں..”
اس نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا وہ جانتا تھا وجدان اس وقت تڑپ رہا تھا ان سے ملنے کو

“ڈیڈ پلیز۔۔۔۔”
اس نے بےبسی سے کہا
“ڈونٹ کال میں ڈیڈ ائی ایم ایس پی شہرام ملک اور رولز رولز ہوتے ہیں سب پر لاگو ہوتے ہیں ایس پی وجدان سکندر۔۔۔۔”
اس کی بات پر وہ خاموش ہوا اور حسرت بھری نظروں سے دونوں کو دیکھتا پیچھے ہوا تھا

“جوانو۔۔۔۔۔۔”
شہرام کی روعب دار آواز گونجی تھی
“یس سر۔۔۔۔”
سب نے یکجا ہو کر کہا تھا
“ویل ڈن اینڈ تھینکس اللہ تم سب کو ہر محاذ پر سرخرو کرے اور کبھی شکست نہ ہو کامیابی تمہارے زرے زرے پر ہو جہاں سے گزرو ہر قدم پر کامیابی تمہارے قدم چھونے کو بےتاب ہو اللہ حفاظت کرے۔۔۔”
“شکریہ سر۔۔۔”
پھر سے بلند آواز گونجی تھی اور پھر قطار بناتے وہاں سے گئے تھے
“تم دونوں میرے ساتھ چلو۔۔۔”
وہ پریہان اور عالیاب کی جانب آتے مسکرا کر بولا تھا
“لیکن وجدان۔۔۔۔؟”
پریہان نے پریشانی سے پوچھا جو ان کو دیکھ رہا تھا اب فون بجنے پر فون کان سے لگایا تھا
“آجائے گا تم دونوں میرے ساتھ چلو گھر چھوڑتا ہوں گھر میں کسی کو خبر نہیں پریشان ہونگے سب۔۔۔۔”
وہ عالیاب کے بال ٹھیک کرتا پریہان سے بولا تھا اور پھر ان کو ساتھ لیے وہاں سے چلا گیا تھا جب کہ شہرام کو محبوب سے یہ خبر ملی تھی کہ وہ وہاں موجود سب لوگوں کو مار چکے ہیں جواباً اس نے بھی ساری صورتحال بتائی تھی
………………………………
وجدان رات بارہ بجے گھر آیا تو گھر میں مکمل خاموشی تھی اس نے گہرا سانس لیتے دروازہ کھٹکھٹایا تھا اجازت ملنے پر وہ دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا جہاں صرف شہرام موجود تھا وہ قدم قدم کیتا شہرام کی جانب گیا تھا اور دو قدم کے فاصلے پر کھڑا ہوا تھا

“ڈیڈ آپ کو کوئی بات۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ مزید بولتا شہرام کے بھاری برکم ہاتھ نے اس کے الفاظوں کا دم توڑا تھا اس کے تھپڑ سے باقی کے الفاظ اس کے منہ میں رہ گئے تھے وجدان منہ پر ہاتھ رکھے شہرام کو دیکھنے لگا تھا
“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی عالیاب اور پریہان کی جان خطرے میں ڈالنے کی انہیں اپنے پلین میں شامل کرتے اغواہ کروانے کی۔۔۔۔”
وہ غصے سے بولا تھا

“ڈیڈ میں۔۔۔”
“کیا تم ہاں کیا تم۔۔۔۔؟”
آخر میں وہ چلایا تو وجدان نے آنکھیں سختی سے میچیں تھی
“تمہیں پتا بھی ہے تمہاری اس غلطی سے عالیاب پریہان یہاں تک کہ تمہاری جان بھی جا سکتی تھی اور اوپر سے ہیرو پنتی دیکھانے کے لیے اکیلے چلے گئے دماغ نام کی چیز ہے تم میں وجدان۔۔۔۔”
وہ غصے سے اس پر چلا رہا تھا اور وہ خاموشی سے اپنی عزت افزائی سن رہا تھا

“اگر میں نہ اتا تو کیا ہو جاتا کچھ خبر ہے اور یہ خبر ہے کہ تمہاری بیوی پریگننٹ تھی لیکن نہیں دماغ ختم ہو گیا ہے تم میں یا سارا بیچ کھایا ہے۔۔۔۔”
شہرام کی باتوں سے وجدان کو غصہ آرہا تھا لیکن وہ محض ضبط کر رہا تھا کیونکہ اس کا باپ سہی کہہ رہا تھا

“تمہیں مجھ تک پہنچنے کے لیے بہت وقت درکار ہو گا وجدان تم بچے ہو کیونکہ تمہاری یہ حرکت تمہارے بچے ہونے کا ثبوت دے رہی ہے اور یوں کہنا مناسب ہو گا تم مجھ تک کبھی نہیں پہنچ سکتے جاب چھوڑ دو یہ بچوں کا کھیل نہیں۔۔۔”
اس نے کہتے ساتھ اپنا ماتھا مسلا تھا
“میں بچہ نہیں ہوں ڈیڈ۔۔۔”
اس نے بار بار خود کو بچہ کہنا پر چبا کر کہا تھا

“اوہہہ دادا جی کہہ دوں یہ ٹھیک رہے گا یا یوں کہوں کہ تمہاری بہت عمر ہو گئی ہے کہ سٹیا گئے ہو۔۔۔۔۔”
اس کی بات پر وجدان نے دانت پیسے تھے
“ڈیڈ مجھے غصہ آ رہا ہے۔۔۔۔”
وہ اپنے لفظوں پر زور دیے بولا تھا تو شہرام کے ماتھے پر بل پڑے تھے
“غصہ آ رہا ہے تو میں کیا کروں دو لگاوں گا کان کے نیچے سارا غصہ ہوا ہو جائے گا ایا بڑا غصہ آ رہا ہے ڈیڈ۔۔۔۔”
آخر میں وجدان کی نکل اتاری تو اس نے منہ بنایا تھا

“دفعہ ہو جاو اپنے کمرے دماغ خراب کیا ہوا ہے تم نے۔۔۔۔”
شہرام نے غصے سے بولتا دوسری جانب مڑا تو تو اس نے اپنے باپ کی پشت کو دیکھا
“نہیں جانا مجھے یہی بیٹھا ہوں میں تھپڑ مار لیا اچھی خاصی عزت افزائی کر دی اور اینڈ پر کہہ رہے ہیں کہ دفعہ ہو جاوں میں۔۔۔۔”
وہ ہٹ دھرمی سے بولتا صوفے ہر آلتی پالتی مار کر بیٹھا تھا اس کی ہٹ دھر پر شہرام کے ماتھے پر بل پڑے تھے

“وجدان۔۔۔۔”
اس نے تنبیہ انداز میں اسے پکارا تھا
“یار ڈیڈ کیا آپ سے کبھی غلطی نہیں ہوئی اب ہو گئی غلطی کر دیں معاف۔۔۔۔”
اس کی بات پر اسے وہ وقت یاد آیا جب اس نے ان لڑکیوں کے درمیان پریہان کو بھیجا تھا تو اس نے مسکراہٹ دبائی تھی
“تو مطلب اب تم بچکانہ آئی مین وڈکانہ(بزرگوں والے کام) حرکتیں کرو اور تمہیں روکا بھی نہ جائے۔۔۔”
اس نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا تھا

” میں تو کچھ بھی نہیں بولا کرارے ہاتھ کا تھپڑ مارا پھر رکھ رکھ کے بےعزتی کی اب کیا بچے کی جان لینی ہے کیا۔۔۔”
وہ مظلومیت سے بولا تھا
“ابھی تو تم کہہ رہے تھے تمہیں بچہ نہ کہوں۔۔۔”
وہ مسکرا دبانے کے باوجود مسکرا گیا تھا تو وجدان نے سر کھجایا تھا اور کھڑا ہوا تھا
“اچھا میں دوبارہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرونگا پکا۔۔۔۔۔”
“دوبارہ حرکت کرنے کا سوچا بھی تو کسی قابل نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔”
وہ اس کی جانب بڑھتے بولا اور اس کو گلے سے لگایا تھا

“تم جانتے ہو مجھے جب پتا چلا میرے اس آدمی نے بتایا میں کتنا پریشان ہو گیا تھا کہ کہیں پریہان عالیاب اور تمہیں کچھ نہ ہو جائے کہیں تمہاری جان کو نقصان نہ ہو جائے۔۔۔۔”
وہ محبت اور پریشانی کے ملے جلے تاثرات سے اس کا ماتھا چومتے بولا اور تفکر کے اثار چہرے ہر سجائے اس کی گال چھوئی تھی جہاں تھپڑ مارا تھا وجدان اس کی محبت پر مسکرا اٹھا تھا

“میں تم لوگوں کو نہیں کھو سکتا میری جان ایسا دوبارہ نے کرنا۔۔۔۔”
وہ اس کی گال تھپتھپائے بولا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا
“اب کمرے میں جاو عالیاب اکیلی تھی تو پریہان وہاں چلی گئی تھی میری بیگم کو بھیج دو یار عمر جتنی بھی ہو گزارا تو نہیں نہ ہوتا۔۔۔”
اس نے آخر میں شرارت سے کہا تو وہ ہنسا تھا پھر اثبات میں سر ہلانے کے بعد کمرے سے نکلا تھا اور سیڑھیوں کی جانب گیا سیڑھیوں پر ابھی قدم رکھا ہی تھا کہ سامنے سے زوہان مسکراتا ہوا سیب کا بائیٹ لیتا نیچے اترتا اسے دیکھ رہا تھا

“سنا ہے عین وقت ہر ماموں جان پہنچ گئے اور سنا ہے ابھی تم ان کے کمرے میں تھے اور آگے کی کہانی سننا چاہتا ہوں۔۔۔”
اس نے دل جلانے والی مسکراہٹ سے کہا تو وجدان نے گھورا تھا
“تیری بیوی کے کمرے سے آ رہا ہوں مامی جان اور عالی سے ساری بات سن کر آیا ہوں اور یہ بھی کہ ماموں نے تمہیں ملنے نہیں دیا۔۔۔”
اس نے بظاہر افسوس سے کہا لیکن آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی

“تو بھائی کم بیغیرت زیادہ لگ رہا ہے۔۔۔۔”
وہ اس کے پاس سے گزرتا ہوا بولا اور دھیرے دھیرے سیڑھیاں چڑھنے لگا تھا
زوہان بھی ہنستا ہوا اس کے پیچھے چڑھنے لگا
“بتاو نہ وجدان سکندر سوری ایس پی وجدان سکندر۔۔۔۔۔”
وہ اس کا مزاق بنا رہا تھا
“دفعہ ہو جاو اپنے کمرے میں صبح بتا دوں گا ابھی زرا ملنے دو مجھے ان سے۔۔۔”
وہ اس کے ہاتھ سے سیب کھینچ کر دو بائیٹس لیتے بولتا واپس سیب تھمائے کمرے میں چلا گیا تو وہ بھی ہنستا ہوا اپنے کمرے میں گیا تھا
………………………………
السلام و علیکم کیسی لگی قسط۔۔۔۔؟ وقت نہیں ملا زیادہ لکھنے کا لیکن پھر بھی جتنی اکثر لکھتی اتنی ککھ دی ہے دوپہر کی قسط میں کہا تھا کہ چار اقساط باقی ہیں لیکن یہ قسط نکال کر ابھی چار مزید ہیں کیونکہ کچھ سینز باقی ہیں اور تقریباً سب کا تکا ہی ٹھیک تھا❤️خوش رہی آباد رہیں