Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

وقت تیزی سے بیت رہا تها اس کا کام ہے گزرنا وہ کسی کی وجہ سے کبهی نہیں رکتا یہاں تک کے جان سے عزیز لوگ اس دنیا سے چل بسے ہیں وقت تو اتنا بےرحم ہے کہ وہ کسی کے مرنے پر بهی نہیں رکتا
تقریباً دو ہفتے گزر گئے تهے سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تهے دعا نے اپنا پیپر بهی دے دیا تها سعد بهی وہاں کام کی وجہ سے زیادہ مصروف رہتا دعا کو زیادہ وقت نہ دے پاتا وہ بهی یہی چاہتا تها کہ وہ یہاں اس کے ساتھ تهوڑا اجسٹ ہو جائے
وجدان بهی اپنے کیسسز میں مکمل طور پر الجها ہوا تها جب کہ زوہان کی مست ڈیوٹی تهی اس کا کام اپنے روٹین سے ہی جا رہا تها جب کہ عالیاب اور پارس بهی اپنی سٹڈی میں مشغول تهے
…………………………………
“محبوب میری اسلامہ آباد کی ٹکٹس بک کرواو وہ کام میں کے لیے میں خود جانا چاہتا ہوں…”
وجدان فون پر بات کرتا پریہان کے کمرے کی جانب آیا اور دروازہ کهٹکهٹایا اجازت ملنے پر اندر داخل ہوا اور پریہان کے سر پر پیار کیا تها
“اوکے کل تک کروا دو…”
یہ کہتے اس نے فون رکها اور بیڈ پر بیٹها تها
“کہیں جا رہے ہو بیٹا….”
پریہان نے اس کے چہرے پر ہاتھ پهیرتے کہا تها
“جی اسلامہ آباد جا رہا ہوں ضروری کام ہے تین چار دن کے لیے یا شاید دو دن لگ جائیں آپ پلیز پیکنگ کر دیجئیے گا…”
اس نے تفصیل سے آگاہ کیا

“ہوٹل میں رہو گے…؟”
شہرام بهی بیڈ پر بیٹها تها اور اس سے پوچهنے لگا
“نہیں سعد بهائی نے کہا ہے میں ان کے فلیٹ میں ان کے ساتھ ہی رہ لوں جب جگہ موجود ہے تو ہوٹل میں کیوں رہنا….”
اس کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا
“سعد اور دعا کو اپنے اور عالیاب کے رشتے کا بتایا ہے کہ جلد ہی شادی کا پروگرام ہے…؟”
اب کہ پریہان نے پوچها
“نہیں میں نے سب کو منع کیا ہے کہ عالیاب دعا اور سعد بهائی کو نہ بتائیں میں نے سرپرائز دینا ہے…”
اس کی بات پر وہ دونوں مسکرائے تهے
“خاور انکل نہیں آئیں گے….؟”
اس نے کچھ یاد آنے پر پوچها
“بابا اور بهائی نے کہا ہے ان کا آنا مشکل ہے…”
پریہان نے افسردگی سے کہا وہ حماد صاحب کو بهی یاد کررہی تهی کیونکہ وہ وہاں اکثر بیمار رہتے تهے اور پهر وہ شادی کی باتیں کرنے لگے تهے
…………………………………
“عالیاب….”
سکندر نے ڈرائیونگ کرتے اس کو پکارا وہ جو باہر دیکھ رہی تهی اس کی جانب متوجہ ہوئی
“جی….”
“آج واپسی پر میں لینے نہیں آؤں گا اور آگے تین چار دن پهر نہ میں چهوڑنے جاوں گا نہ لینے…”
وہ مکمل توجہ سے سامنے دیکهتا بول رہا تها جہاں ہلکا پهلکا رش تها
“کیوں…؟”
وہ منہ بنائے بولی
“وہ تین چار دن کے لیے اسلامہ باد جا رہا ہوں….”
“کیوں اسلامہ باد کیوں…”
اس کی بےتابی دیکهتے وہ مسکرا اٹها تها
“کام ہے تهوڑا جلدی آوں گا اور ایک سرپرائز بهی ہو گا تمہارے لیے…”
وہ مسکرا کر بولا

“ٹهیک ہے پهر جب آجائیں گے تب بهی مجهے آپ کے ساتھ نہیں جانا یونی نہ ہی واپس آنا ہے…”
وہ منہ پهلائے بولی تو وہ کهل کر ہنسا
“دیکهتا ہوں کیسے نہیں جاتی میرے ساتھ….”
وہ اس کو تنگ کرتے بولا
“زبردستی کریں گے تو ماموں جان کو بتاوں گی…”
وہ دهمکی امیز لہجے میں بولی اس کی باتوں سے وجدان کے ہونٹوں سے مسکراہٹ جدا نہیں ہو رہی تهی
“بتاو زرا دیکھ لیں گے تمہارے ماموں جان کو بهی…”
وہ مزید زچ کرتے بولا تو وہ خفگی سے منہ پهلائے باہر دیکهنے لگی

“بات سنو زرا….”
اس نے پیار سے پکارا
“بات نہیں کررہی میں…”
وہ ویسے ہی منہ دوسری جانب کیے ناراضگی سے بولی
“ویسے یہ ناراضگی کی وجہ کیا ہے وہ تو بتاو….”
وہ اس کی یونیورسٹی کے سامنے جیپ روکے بولا تها تو وہ بهی سوچ میں پڑ گئی وہ ناراض کیوں ہوئی ہے
“اچها چهوڑو اچهے سے رخصت کرو پهر ہم کال پہ بات کریں گے ویسے بهی تین چار دن کی بات ہے…”
وہ اس کی جانب مکمل مڑتے بولا تو اا نے افسردگی سے اسے دیکها
“ایسے منہ بناو گی تو کیسے جا پاوں گا..”
وہ اس کی ناک دبائے بولا تها

“خیال سے جائیے گا پہنچ کر کال کردیجئیے گا کهانا وقت پر کهائیے گا کال کرتے رہیے گا…”
اس کے انداز پر اس کا قہقہ گونجا تها
“پوری بیویوں جیسا رخصت کر رہی ہو میں دیکھ رہا ہوں تم خود کو تیار کررہی ہو شادی کے لیے…”
اس کی بات پر وہ بهی ہنسی تهی وجدان نے آگے بڑھ کر اس کے ماتهے پر لب رکهے تهے وہ پیچهے ہوا اتنے میں پارس بهی گاڑی میں پہنچ گیا تها اور ان کے پاس آیا
“پارس عالیاب کا خیال رکهنا کوئی شکایت نہ ملے…”
وہ اس کے بال بگاڑتے بولا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا پهر دونوں یونیورسٹی چلے گئے تهے وجدان کی نظروں نے دور تک ان کا تعاقب کیا تها(میرا دل کیا یہاں پر دهماکہ کروادوں یونیورسٹی میں اور عالیاب میڈم کو ٹائیم سے ہی ناول سے نکال دوں ہاہاہاہاہا)
…………………………………
دعا سعد کے لیا کهانا بنانے میں مصروف تهی کیوں کہ دوپہر کهانا سعد گهر آکر ہی کهاتا تها اب وہ روٹی بنانے ہی والی تهی کہ باہر دروازہ کهٹکها تها دروازے کی کهٹک کے ساتھ اس کا دل بهی اتنے ہی زور سے دهڑکا تها یہاں انہیں کوئی نہیں جانتا تها اور سعد کے پاس چابی تهی وہ خود آسکتا تها

“یی-یہ کون ہو سکتا ہے…؟”
ابهی وہ سوچ ہی رہی تهی کہ ایک بار پهر سے دروازہ کهٹکها تها وہ ڈرتے ڈرتے دروازے کی جانب گئی تهی
“کک-کون…؟”
آواز لڑکهڑاہٹ سے بهرپور تهی
“دعا میری جان میں ہوں…”
“وجدان بهائی….”
خوشی کی لہر اس کے جسم میں دوڑی تهی اس نے جکدی سے دروازہ کهول اور فوراً اس کے سینے سے لگی تهی
“ارے ارے رو کیوں رہی ہو…؟”
وہ ایک دم سے گهبرایا تها
“دعا کیوں رو رہی کچھ ہوا ہے کیا…”
اس نے اپنا بیگ نیچے رکهتے اس کو کندهوں سے تهامتے پیچهے کرتے فکرمندی سے پوچها
“مم-میں آپ سب کو بہت یاد کرتی ہوں اسی لیے رو رہی آپ کو دیکھ کر…”
وہ سوں سوں کرتے بولی تو وجدان کی سانس بحال ہوئی
“پاگل…”
وہ اس کی گال محبت سے چومتے بولا
“آئیں اندر باہر ہی روک لیا…”
وہ یاد آنے پر شرمندگی سے سر پر ہاتھ مارتی بولی تو وہ مسخرا کر بیگ اٹهاتا اندر داخل ہوا

“سعد بهائی نہیں گهر…؟”
اس نے بیگ صوفے پر رکهتے اردگرد دیکهتے کہا
“نہیں وہ بس لنچ کے لیے آنے والے ہیں آپ کے لیے کهانا لگاوں…”
وہ بتاتی آخر میں پوچها تها
“ہاں یار بہت بهوک لگی ہے چار گهنٹے کی فلائیٹ نے دماغ خراب کر دیا…”
وہ گندی سے شکل بنائے بولا
“آپ منہ دهوئیں میں بس ابهی روٹی بنا کر لاتی ہوں…”
اس کی بات پر وہ کمرے میں گیا تها جب باہر آیا تو دعا کهانا ٹیبل پر لگانے لگی

“مجهے نہیں پتا تها آپ آنے والے ہیں ورنہ بہت اچها بنا لیتی ویسے تو کچھ خاص بنانا نہیں آتا پر جو آتا وہ سعد کے لیے بنا دیتی ہوں…”
وہ ٹیبل پر روٹیاں رکهتے بولی
“کوئی نہیں میری جان نمک مرچ بهی کهلا دو وہ بهی قبول ہے…”
وہ کرسی پر بیٹهتے بولا
“خبر کیوں نہیں کیا آپ نے مجهے افسوس ہو رہا کہ آپ یہیں کهائیں گے…”
وہ گوشت کا ڈونگا رکهتے بولی

“ارے تم آگئے….”
سعد جو دروازہ کهلا دیکھ کر حیران ہوا تها لیکن وجدان اور دعا کی آوازیں سن کر اس کی حیرت کم ہوئی تهی
“ابهی بس آیا ہوں کیسے ہیں آپ…؟”
وہ کرسی سے اٹھ کر گلے ملتا ہوا بولا
“آپ جانتے تهے بهائی آنے والے ہیں…؟”
دعا کی بات پر سعد نے سر کهجایا تها
“میں نے ہی منع کیا تها کہ دعا کو مت بتائیے گا سرپرائز دوں گا…”
وہ سعد کی مظلوم سی شکل دیکھ کر بولا تو وہ دونوں کو خفگی سے گهورتی برتن سہی کرنے لگی

“یہ لو…”
سعد نے ہاتھ میں موجود گجرے دعا کو تهمائے جس نے مسکرا کر تهام لیے تهے وہ روز اس کے لیے دوپہر میں گجرے اور رات میں آئسکریم لاتا تها
“آئیں کهانا کها لیں آپ بهی…”
“ہاں بس منہ دهو کر آتا ہوں تم دونوں شروع کرو…”
“آجائیں بهائی اکهٹے شروع کرتے…”
وجدان نے کرسی پر بیٹهتے پیچهے سے ہانک لگائی پهر سعد کے آنے پر ان تینوں نے ہلکی پهلکی باتوں کے دوران کهانا کهایا تها
…………………………………
“میرے پاس ایک گڈ نیوز ہے…”
دعا جو وجدان اور سعد کے لیے چائے کمرے میں لائی تهی اس کو دیکهتے وجدان بولا جو چائے رکهتے اس کی جانب متوجہ ہوئی
“کہیں شادی تو تہ نہیں ہو گئی…”
سعد چائے اٹهاتا شرارتا بولا وجدان نے منہ بنایا تها
“یار بهائی سارا سرپرائز خراب کر دیا…”
“واقع سچی….”
سعد چائے چهوڑتا خوشی سے بولا تو اس نے اثبات میں سر ہلای
“اگلے مہینے….”
وہ بهی خوشی سے بولا
“اوو واو مبارک…”
وہ اس کے گلے لگا تها

“اتنی بڑی بات اس عالیاب کی بچی نے نہیں بتائی اسے تو میں پوچهتی ہوں…”
وہ عالیاب کی غداری پر خفا ہوتی فون اٹهایا تها
“ارے نہیں اس کو بهی نہیں پتا…”
وہ جلدی سے بولا مبادا وہ کال ہی نہ کر دے
“مطلب…”
“مطلب میں چاہتا تها آپ دونوں اور عالیاب کو سرپرائز دوں یہاں سے جا کر اس کو یہ سرپرائز دوں گا…”
خوشی اس کے چہرے سے صاف جهلک رہی تهی

“ہمیں بلانے کا ارادہ ہے یا ہمیں تن تنہا سمجھ کر غداری کرنی ہے….”
سعد شرارت سے بولا تو وہ کهل کر ہنسا
“آپ کے بنا تو وجدان سکندر دلہا بن ہی نہیں سکتا…”
اس کی بات پر وہ دونوں مسکرائے
“بهائی جلدی سے عالیاب کو بتادیں پهر اس کو تنگ بهی تو کرنا ہے…”
وہ بیڈ پر بیٹهتے بولی تو وہ بهی مسکرایا اور چائے کا کپ اٹهایا تها
…………………………………
دعا صبح سے کچن میں سعد اور وجدان کے لیے اچها سا ناشتہ تیار کرنے میں مصروف تهی ساتھ یوٹیوب پر بےشمار ریسیپیز کهولیں ہوئیں تهیں
“توبہ اتنی مشکل اور نیچے لکها ہوتا ہے ایزی ریسیپی اگر یہ ایزی ہوتی ہے تو مشکل کون سی ہے بهاڑ میں جاو اس سے اچها میرے شوہر اور بهائی آملیٹ کها لیں گے…”
موبائل کو شیلف پر پٹختی بولی اور اینڈ پر آخر کار پهر آملیٹ بنانے پر آگئی تهی اور پیاز نکالتی ان خو کاٹنے لگی ساتھ میں آنکهوں سے نکلتے پانی کو بهی بار بار صاف کر رہی تهی

“ارے بیگم کیا ہوا…؟”
اس کو سوں سوں کرتے دیکھ اس نے فکرمندی سے پوچها لیکن سامنے پیازوں کو دیکھ کر اس کو سب سمجھ میں آیا
“لاو میں کاٹ دوں کیوں اپنی آنکهوں کو مشقت دے رہی ہو…”
وہ اس کے ہاتھ سے چهری لیتا محبت سے بولا
“نن-نہیں کاٹ لوں گی…”
وہ سرخ آنکهوں سے اس کی جانب دیکهتے بولی لیکن سعد چهری لے چکا تها اور پیاز کاٹنے لگا وہ بهی آنکهیں صاف کرتی انڈے نکالنے لگی تهی

“بهائی کہاں ہیں…؟”
اس نے آئل گرم کرتے کہا
“سویا ہوا ہے ابهی دیکھ کر آیا ہوں….”
“ان کے اٹهنے سے پہلے ناشتہ تیار کردوں گی..”
اس کی بات پر وہ ہولے سے مسکرایا
“اچها تو اپنے شوہر کی طرح بهائی کو بهی یہ آملیٹ ہی دو گی…”
اس نے مسکراہٹ دبائے کہا
“جی مجهے بهی برا لگا بهائی پہلی دفع ہمارے پاس یہاں آئے ہیں اور پہلے دن ہی ایسا ناشتہ مجهے کچھ اور بنانا ہی نہیں آتا یوٹیوب پر گندی گندی ریسیپیز ہیں…”
وہ افسردگی سے بولی
“ہم کون سا یہاں صدیوں سے رہ رہے ہیں..”
اس کی بات پر دعا نے منہ بنایا تها
“تم آملیٹ بناو میں بازار سے کچھ اور بهی کهانے کو لاتا ہوں.. “
اس کی بات پر اس نے خوشی سے اثبات میں سر ہلایا وہ تو بهول ہی گئی تهی بازار سے ناشتہ منگوا لیتے
…………………………………
شہر بیڈ پر بیٹها کب سے پریہان کو ایک جگہ ہی نظریں مرکوز کیے بیٹها دیکھ رہا تها جو ناجانے کن سوچوں میں گرک تهی
“کہاں گم ہو مسسز….؟”
بلآخر رہا نہ گیا تو وہ پوچھ بیٹها تها وہ چونکی تهی سور ناسمجهی سے اسے دیکه
“کہاں گم ہو….؟”
“کچھ نہیں بس ایسے ہی…”
وہ زبردستی مسکراتے بول
“ایسے ہی نہیں وجہ کچھ ہے بتاو…”
وہ اس کا ہاتھ تهامے بولا

“انسان کے رشتوں میں لاکھ تلخیاں آتی ہیں میں سوچتی ہوں کہیں ہمارے اور وجدان کے بیچ کو تلخیاں پیدا نہ ہوں کہیں، کہیں وہ ہمیں یہ نہ کہ دے وہ ہمارے اولاد نہیں، کہیں وہ ہم سے بات کرنا نہ چهوڑ دے…”
وہ پریشانی سے بولی وہ وجدان سے جس قدر محبت کرتی ہے یہ بات صرف شہرام ہی جانتا تها
“ایسی باتیں کیوں سوچتی ہو ہاں جان بوجھ کر خود کر پریشان کرتی ہو…”
وہ سنجیدگی سے بولا
“خود آتی ہیں میں کیا کروں…”
وہ نم آواز میں بولی

“خود کو بہت مصروف رکها کرو…”
اس نے مسکراہٹ دبائے کہا
“کیسے…؟”
اس نے ناسمجهی سے پوچها
“میرے ساتھ. ..”
شرارت سے بولتا خود کے قریب کر گیا تها
“شہرام بهلا یہ عمر ہے ایسی حرکتوں کی ہمارے بیٹے کی شادی ہونے والی ہے لیکن آپ میں رومینس ختم نہیں ہوا…”
اس کی بات پر اس نے نفی میں سر ہلایا
“میاں بیوی کے منہ میں دانت بهی باقی نہ رہیں تو ان کا رومینس تب بهی ختم نہیں ہوتا…”
اس کی بات پر محض وہ گهور ہی سکی

“جب میرے دانت ٹوٹ جائیں بوڑها ہوجاوں نہ تب بهی میں تمہیں کانپتے ہاتهوں سے کانپتے ہونٹوں سے رومینس کیا کروں گا….”
وہ ہنستے ہوئے بولا تو پریہان نے گهورا پهر دوسری جانب منہ کیے مسکرائی تهی
“آپ مجهے پچاس سال کے شہرام کم اور وہی جوانی کے شہرام زیادہ لگ رہے ہیں چهیچهورے…”
اس کی بات پر اس کا قہقہ بلند ہوا تها
“عمر بڑهی ہے دل تو بیگم کے ساتھ جوان ہی ہے نہ…”
وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے بولا تو وہ بهی ہنسی تهی اور شہرام صرف یہی چاہتا تها وہ ہنسے وہ اپنی پریشانی اور وہ تلخ باتیں بهول جائے جس کا جواب شہرام کے پاس بهی نہیں تها