No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
وجدان پورا گهر چهان مار چکا تها لیکن اسے اپنا مطلوبہ بندہ کہی بهی نظر نہ آیا تها دعا کے بتانے پر وہ چهت پر گیا تو سامنے اس ذوہان سینے پر ہاتھ باندهے چاند کو مسلسل تکنے میں مصروف تها
“یار ذوہان پورا گهر چهان مار لیا اور تم یہاں ہو….”
وہ اس کے پاس جاتے خفا سا بولا لیکن اس نے سامنے چمکتے چودھویں کے چاند سے نظر نہ ہٹائی تهی جیسے اس سے اہم کوئی اور کام ہو ہی نہ
“مصروف لوگ….”
وہ بهی اس کے پاس جاتے اسی کی طرح ہاتھ سینے پر باندهے سامنے چاند کو دیکهتے بول
“انیس دن بعد تعبیر کی شادی ہے….”
اس کی بات پر وہ چونکا تها اور ایک جهٹکے سے اس کی جانب دیکها جو ابهی تک چاند کو ہی دیکھ رہا تها
“تت-تم سیریس ہو…؟
اسے جیسے اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا ہو
“کوئی مزاق میں بهی اپنی محبت کو کسی اور کے حوالے کرنے کا ذکر نہیں کرتا…”
وہ بهاری ہوتے لہجے کے ساتھ تلخی سے بولا تها
“وجدان….”
وہ تهکے سے لہجے میں اس کو پکارتا اس کی جانب مڑا جو ابهی تک شاک میں تها
“بهائی میں مر جاوں گا اگر وہ کسی اور کی دسترس میں چلی گئی تو…”
وہ نم آنکهوں سے بولتا اس کے گلے لگا تها اور بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا تها
“ذذ-ذوہان پلیز مت رو…”
وہ اس کو یوں بچوں کی طرح روتے دیکھ کر تڑپ اٹها تها
“وجدان میں بےانتہا محبت کرتا ہوں اسے کہو مت ٹهکرائے میری محبت مت کرئے میرے ساتھ یہ ستم وجدان میں مر جاوں گا…”
وہ رونے کے دوران ہی بولا تها اور وجدان کے بس میں ہوتا وہ تعبیر کو ختم کر دیتا جس نے اس کے بهائی کی یہ حالت بنا دی تهی
“ذوہان میرے بهائی وہ صرف تیری ہے…..”
وہ اس کو خود سے الگ کرتے خود کے غصے پر قابو پاتے بولا تو اس نے چہرہ جهکائے خود کی آنکهیں صاف کیں تهی
“اس کی شادی صرف تم سے ہی ہو گی…”
“تم کیا کرنے والے ہو وجدان میں اس کی عزت پر زرا آنچ نہیں چاہتا ورنہ بہت راستے ہیں اسے خود سے قریب کرنے کے لیکن میں اسے مزید خود سے بدزن نہیں کرنا چاہتا میرے لہے اس کی عزت پہلے ہے…”
وہ جانتا تها اپنے بهائی کو وہ اس کے لیے جان دے بهی سکتا تها اور لے بهی سکتا تها اور وہ جانتا تها وہ تعبیر کو اسکی بنانے کے لیے ہر حد سے گزر سکتا تها لیکن وہ ایسا نہیں چاہتا تها
“دل تو میرا اس کی تباہی کو ہے جس کی وجہ سے تمہاری آنکهیں اشک بار ہوئی ہیں لیکن تم سے میری محبت کے صدقے اس کو معاف کیا…”
وہ اس کی بات پر افسردگی سے مسکرایا تها اور گہرہ سانس بهرا
“وجدان وہ کیسے میری ہو گی…؟”
“تم بس سجدے پہ سجدہ دو اللہ کی مدد سے باقی میں دیکھ لونگا…”
وہ بالوں میں ہاتھ پهیرتے بول
“مجهے تو بتاو…”
وہ الجها تها تو اس نے بالوں میں پهیرتے ہاتھ کو روکے اس کو دیکها
“پتا تو مجهے بهی نہیں لیکن وجدان سکندر وعدہ کرتا ہے کہ وہ صرف تیری ہے…”
اس نے کندهے اچکائے کہا
“لیکن تمہیں میری ایک بات ماننی ہوگی…”
وہ کچھ سوچتے بولا تو اس نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکها تها
“تعبیر حسن کو مکمل اگنور کرنا ہو گا اس کو اب تم دوبارہ اپنی محبت کا یقین نہیں دلاو گے اظہار نہیں کرو گے کیونکہ میں اس کو بارہا تمہاری توہین کہ اجازت ہر گز نہیں دوں گا….”
اس کی بات سنتے اس نے سانس اندر کو کهینچا تها کام بہت مشکل تها لیکن اثبات میں سر ہلایا تو وجدان آگے بڑھ کر اس کے گلے سے لگا تها
“ذوہان دوبارہ تمہاری آنکهیں نم نہ ہوں ورنہ میں سب تہس نہس کر دوں گا تعبیر سمیت…”
وہ اس کے گلے لگا بولا تو وہ ہولے سے اس کی بات پر مسکرایا تها
…………………………………
تعبیر بیڈ پر بکهری اپنی شادی کی شاپنگ دیکھ رہی تهی اور پهر روحا کو دیکها جو آج کی کی جانے والی شاپنگ اس کے سامنے رکھ رہی تهی
“آپی مجهے سونا ہے اسے ہٹا دیں….”
وہ اکتا کر سامنے موجود ڈریس پیچهے کرتے بولی
“کیوں تعبیر لڑکیوں کو تو بہت شوق ہوتا ہے اپنی شادی کی تیاریاں دیکهنے اس کی شاپنگ ڈریسنگ دیکهنے کا اور تم اختا رہی ہو……”
وہ طنز کرتے بولی
“میں تهکی ہوئی ہوں پلیز…”
وہ تهکے سے انداز میں بولی
“یہ بےبسی تهکان کے باعث نہیں وجہ مختلف ہے…”
“کیا وجہ ہو سکتی ہے…؟”
وہ روحا کو سوالیہ نظروں سے دیکھتے بولی
“وجہ واضع ہے…”
وہ اس کے سامنے سے چیزیں سمیٹتے ہوئے بولی
“نہیں واضع بتائیں مجهے…”
وہ بضد ہوئی
“وجہ ذوہان مصطفی ہے…”
توقع کے عین مطابق اس نے کہا تها
“ذوہان مصطفی ذوہان مصطفی میں تهک گئی ہوں اس کی وجہ سے آپ کے طنز سنتے…”
وہ غصے سے بولی
“تعبیر چاہنے والوں کا ملنا بہت معجزہ ہے اور ذوہان مصطفی تمہارے لیے کسی معجزے سے کم نہیں ہے…”
اسے ترس آرہا تها ذوہان پر جو اس کی بہن کی محبت میں پاگل تها
“میری شادی میں دن ہی کتنے رہ گئے ہیں اور آپ ایسی باتیں کررہی ہیں میری شادی ہونے والی ہے…”
“شادی ہونے والی ہے ہوئی نہیں ابهی بهی وقت ہے مت ٹهکراو ذوہان مصطفی کو بہت پچهتاو گی…”
“آپ کو محبت سے کیا حاصل ہوا ہاں اجڑ گئی ہے آپ کی زندگی کیا حالت ہو گئی آپ کی اس وجدان سکندر کی وجہ سے میں کیسے یقین کرلوں ذوہان پر ہاں میں کیسے ایک نیا دکھ امی بابا کو دے دوں وہ ابهی تک آپ کے غم کے زیر اثر ہیں میں کیسے انہیں ایک نیا غم دے دوں کیسے انہیں مار دوں….”
وہ نم آنکھوں سے بولی اور روحا کی آنکهوں سے آنسووں پهسلے تهے
“وجدان سکندر کی وجہ سے ذوہان کے لیے اتنی بدگمانی اچهی نہیں تمہارا قصہ مجھ سے مختلف ہے بہت مختلف مرد کی محبت اگر سچی ہو تو اسے ٹهکرانہ خود کے لیے زندگی بهر کے غموں کا سامان کرنا ہے ذوہان کی محبت کی سچائی ڈهنڈهورا پیٹتی ہے اور میری محبت….”
وہ آخر میں وہ خود پر طنزیہ ہنسی تهی
“میری محبت تو صرف میری طرف سے تهی محبت اگر صرف عورت کی طرف سے ہو تو بہت کمزور ہوتی ہے جانتی ہو کمزور کیسے….؟”
وہ پل کو ٹهہرتی تعبیر کی جانب دیکها جو نم آنکهوں سے اسے ہی دیکھ رہی تهی
“عورت مرد کی طرح اسے حاصل نہیں کر سکتی عورت اپنی محبت کے لیے گهر والوں سے نہیں لڑ سکتی عورت جهک جاتی ہے کبهی پگڑیوں کی لاج رکهتے کبهی باپ بهائی کی عزت رکهتے کبهی ان کا مان رکهتے لیکن مرد کے لیے باپ کی پگڑیوں کی لاج رکهنا ضروری نہیں ہوتا وہ لڑ سکتے ہیں ان کی محبت سچی ہو تو وہ اس کے حاصل کے لیے آخری حد تک جا سکتے ہیں لیکن عورت کا کیا ہے وہ تو پہلی حد میں ہی ہار جاتی ہے سب لی لاج رکهتے رکهتے…”
وہ جس قرب سے بول رہی تهی وہی جانتی تهی پهر ایک نظر تعبیر کو دیکهتی وہاں سے چلی گئی تهی وہ جانتی تهی وہ مزید یہاں رکی تو بات کہاں کی کہاں تک پہنچ جانی ہے
…………………………………
“دعا تمہیں پتا ہے ہم نے تمہیں کتنا مس کیا شکر ہے اللہ اللہ کر کے یہ پندرہ بیس دن نکل گئے ہیں…”
عالیاب دعا کے آگے پاستا اور کولڈرنک رکهتے بولی
“میں نے بهی بہت مس کیا سچی…”
وہ کولڈرنک کا گلاس اٹهائے بولی تهی
“ہاں شکر ہے اب مجهے اکیلے نہیں جانا پڑے گا…”
پارس پاستے کا ایک باول اٹهائے بولا تها
“کیوں تمہاری منگیتر شریف نہیں ہوتی تهی کیا…؟”
دعا نے حیرت سے پوچها عالیاب نے اپنی ہنسخ چهپائی جب کہ پارس کا منہ کی جانب جاتا چمچ وہی رکا تها اور اس کو گهورا
“ہونہہ منگیتر…”
ہنکار بهرتے اس نے منہ بهی پاستے سے بهرا تها تو دعا نے عالیاب کی جانب دیکها
“وہ بهی صرف دو دن گئی تهی کبهی میری طرف آجاتی پهر کچھ دن وہ اپنے چچا گهر رہنے گئی تهی اور یہ بےچارہ اکیلا یونیورسٹی میں مکهیاں مارتا تها کلاس تو اس نے لینی نہیں ہوتی تهی اس نے وہاں مکهیوں کے پر گننا شروع کر دیے…”
وہ تفصیلا بولی تهی
“بڑی زیادتی ہوئی پهر تو میرے بهائی کے ساتھ…..”
دعا ہنستے بولی
“کلاس لے لیتا تها کبهی میں…”
وہ جو منہ پاستے سے بهرے ہونے کی وجہ سے بول نہیں پایا تها اب اپنے حق کو بولا تو وہ دونوں ہنس دیں اور خود بهی پاستا کهانے لگیں تهی
…………………………………
وجدان کے کہنے پر ذوہان اب دل پر بڑا سا پتهر نہیں پہاڑ رکهے تعبیر کو اگنور کرنے کی پوری کوشش کر رہا تها اور وہ دیکھ رہا تها اس کے اگنور کرنے کی وجہ سے تعبیر کی بےچینی
ذوہان ابهی بهی کینٹین میں بیٹها شدید سر درد کے باعث چائے پی رہا تها لیکن سر درد تها گویا انتقام پر اترا ہو اس نے کنٹین کے دروازے کی جانب دیکها جہاں تعبیر چہرے سے ماسک اتارے ایک لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ اندر داخل ہوئی تهی اس کو دیکهتے ہی ذوہان کو لگا گویا اس کا سر درد کہیں بهاڑ میں گیا چلا ہو لیکن تعبیر کی نظر پڑتے ہی اس نے نظرقں کا زاویہ ایسے بدلا گویا غلطی سے اس پر پڑ گئی ہو تعبیر کا دل بری طرح دکها تها
ذوہان چائے پینے کے بعد کینٹین سے نکلا کیونکہ وہ جانتا تها کہ تعبیر سے نظریں ہٹانا مشکل ہو گیا تها وہ جیسے ہی کنٹین سے نکلی تعبیر کچھ سوچتی اس کے پیچهے گئی تهی
“ڈاکٹر ذوہان….”
تعبیر کے منہ سے اپنے نام کی پکار سنتے اس کے قدموں کو زنجیر نے جکڑا تها وہ سختی سے آنکهیں میچ کر کهولتا خود کو نارمل کرتا اس کی جانب پلٹا اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکها تها اس کی سوال زدہ نظروں سے وہ گڑبڑائی اور دهیرے دهیرے قدم اٹهاتی اس کے پاس آنے لگی اس کے یر قدم کے ساتھ ذوہان کے دل کی دهڑکنوں میں بهی اضافہ ہو رہا تها وہ اس نے کچھ فاصلے پر رکی اور اپنے ہاتھ ملنے لگی جیسے الفاظ تلاش کر رہی ہو
“وہ…..”
اس کے الفاظوں کو پهر سے بریک لگی تهی کیونکہ ذوہان مسلسل اپنی نظریں اس پر گاڑے اس کے روکنے کی وجہ جاننے کا منتظر تها تعبیر کو لگا اس نے یوں ذوہان کو روک کر غلطی کی ہو
“وہ مم-مجهے آج جلدی گهر جانا ہے پلیز آپ میرے پیشنٹ دیکھ لیں گے…”
اس سے جو بات بنی وہ بولی گئی اور ذوہان کو دیکها جس نے اس کی بات سنتے گہرہ سانس بهرتے اثبات میں سر ہلایا تها
“اور کچھ…..؟”
ذوہان کے پوچهنے پر اس نے پہلے اثبات میں سر ہلایا اور پهر فورا نفی میں سر ہلاتے چہرہ جهکا گئی تهی
“کیا چاہتی ہیں اب آپ مجھ سے…؟ آپ چاہتی تهیں میں آپ کی شادی میں یا آپ کی راہ میں رکاوٹ نہ بنوں تو اب کیوں کر رہی ہیں ایسے ضبط آزمانہ چاہتی ہیں میرا…”
اس کا لہجہ نارملی لیکن سنجیدہ تها
“مم-میں تو صرف یہی کہنا چاہتی تهی…”
وہ گڑبڑائی تهی
“اس ہاسپٹل میں بہت سے ڈاکٹرز ہیں تو پهر میں ہی کیوں حالانکہ آپ کو مجھ سے نفرت ہے…”
آخری الفاظوں میں چهپا کرب تعبیر کا دل چهلنی کر گیا تها
“تعبیر میں بچہ نہیں ہوں میری خاموشی کو ہوا دے کر خود کے لیے مشکل مت پیدا کریں ورنہ آپ کے لیے اچها نہیں ہو گا…”
ذوہان اپنی سناتے بنا اس کی سنے وہاں سے چلا گیا تها اور پیچهے تعبیر نے خود کو ہزار گالیوں سے نوازا کہ کیوں اس نے ذوہان کو روکنے کی غلطی کی
“بدتمیز کہیں کا ویسے سہی تو کہ رہا تها یہی تو چاہتی تهی میں…”
خود سے بڑبڑاتی اپنی آنکهیں رگڑیں تهی اور پهر اس راہداری کو دیکها جہاں سے ذوہان گیا تها
“بهاڑ میں جاو خود دیکھ لوں گی اپنے پیشنٹ…”
غصے سے چباتی واپس کنٹین میں چلی گئی تهی
…………………………………
عالیاب وجدان کی شرٹ کے بٹن بند کرتی بار بار اس کی جانب دیکھ رہی تهی جو اس کے بار بار دیکهنے پر آنکهیں چهوٹی کر کے دیکهتا تها
“کیا کہنا چاہتی ہو…؟”
بالآخر رہا نہ گیا تو وجدان نے پوچھ لیا تها
“اگر بات مانیں گے تو بتاوں گی…”
وہ آخری بٹن بند کرتے بولی تو وجدان نے شیشے میں خود کو یونیفارم میں ملبوس دیکها تها
“حکم کریں جانان…”
وہ بالوں کو سیٹ کرتے بولا
“کیا میں آج دعا اور پارس کے ساتھ شاپنگ کے لیے چلی جاوں….؟”
اس کی بات سنتے بال سیٹ کرتے وجدان کے ہاتھ رکے اور اس کی جانب پلٹا تها
“پلیز انکار مت کرئیے گا کل سے ویسے بهی یونیورسٹی جانا ہے…”
وہ ایک ہاتھ اس کے سینے جبکہ دوسرا اس کی داڑهی پر پهیرتے بولی تهی
“دهیان سے جانا پهر….”
وہ مسکرا کر بولتا باری باری اس کی دونوں گال کو چوما تها وہ اس سے پہلے اس سے دور ہوتی وجدان اس کی کمر پر ہاتھ رکهتا مزید قریب کر گیا اور اپنی گستاخیاں جاری رکهیں تهی
وجدان کے پیچهے ہوتے ہی اس نے شیشے میں اپنے چہرے کو دیکها جہاں اس کی لپسٹک مکمل خراب ہو چکی تهی اس نے وجدان کو گهورا جو اپنے ہونٹ پر ہلکی سی لگی لپسٹک کو اب ٹشو پیپر کی مدد سے صاف کر رہا تها
“کیا ہوا…؟”
وہ خود کو مسلسل خود کو گهورتا پا کر مسکراہٹ دبائے بولا اور اس کی جانب دیکها جو ابهی بهی گهورنے میں مصروف تهی
“اچها یہاں سے رہ گئی لپسٹک لاو ہٹا دوں اس میں خفا کیوں ہو رہی ہو…”
وہ بولتا ہوا اس کو پکڑنا چاہا لیکن وہ فوراً پیچهے ہوئی اور مزید گهورنے لگی جب کہ اس کی گهوریوں کی پرواہ کیے بنا ایک آنکھ دباتا اس ک بهاگنے کا موقع دیے بغیر دوبارہ قابو کر چکا تها بنا اس کی چینخوں کی پرواہ کیے وجدان اپنے کام میں مشغول تها
…………………………………
“دعا دعا جلدی نکلو مجهے دیر ہو رہی ہے…”
سعد واشروم کے دروازے کے سامنے کهڑا ٹائی باندهتے بول رہا تها کہ دعا بالوں کو تولیے سے رگڑتی واشروم سے نکلتی سیدها اس سے ٹکرائی تهی کیونکہ وہ دروازے کے بالکل سامنے ہی کهڑا تها
“سعد آپ بهی نہ….”
وہ اپنا ماتها رگڑتے بولی جبکہ سعد ٹائی مکمل طور پر باندهتا اس کے ماتهے پر اپنے لب رکهے تهے اور تولیہ اس کے بالوں سے ہٹاتے صوفے پر اچهالا تها اور اس کے بالوں کو جهٹکا دیا کہ بالوں سے نکلتی پانی کی بوندیں دور تک گریں تهی
“سعد دیر نہیں ہو رہی آپ کو…”
وہ پیچهے ہوتی صوفے سے تولیہ اٹهاتے بولی تهی
“ابهی تو آٹھ بجے ہیں اور کہاں میں نے نو تک جانا ہے…”
وہ اپنی بندهی ٹائی کو دوبارہ اتارتے بولا جو بار بار ٹائیم پاس کے لیے باندهتا اور کهولتا تها
“تو کیوں کہ رہے تهے کہ دیر ہو رہی ہے….”
وہ بیڈ کے پاس جاتی خفگی سے بولی تهی
“کیونکہ ایک گهنٹہ تمہارے ساتھ گزارنا تها نہ…”
وہ اس کو اپنے ساتھ لیتا بیڈ پر گرا وہ جو اس حملے سے بےخبر تهی چینخ اٹهی تهی اور اس کی چینخ کا گلا سعد نے بخوبی روکا تها
“سعد نہانے نہیں دیا آپ نے مجهے اچهے سے آپ کی آوازیں توبہ…”
اس کے پیچهے ہوتے ہی وہ خفگی سے بولی
“اچها دوبارہ نہا لیتے ہیں اس میں کون سی بڑی بات ہے…”
وہ کہنی کے بل اٹهتا اس کے گیلے چہر پر چپکے بال پیچهے کرتا محبت سے بولا
“چهوڑیں اب…”
وہ آنکهیں گهماتے بولی تهی
“جانا ہے آج تم نے شاپنگ کے لیے…..”
وہ اچانک یاد آنے پوچھ بیٹها تو اس نے زوروشور سے اثبات میں سر ہلایا تها
“اچها دهیان سے جانا…”
وہ اس کی ناک کے ساتھ ناک رگڑتے بولا اور پهر دونوں باتوں میں مصروف ہو گئے کیونکہ ابهی ایک گهنٹہ باقی تها جو اس نے دعا کے ساتھ گزارنا تها
…………………………………
