No Download Link
Rate this Novel
Episode 41
وجدان پولیس سٹیشن میں بیٹها اپنے پلین کو ایک بار دماغ میں دوبارہ سے ترتیب دے رہا تها کہ محبوب دروازہ کهٹکهٹاتا اندر داخل ہوا تها
“سر ہر چیز میں اپنے حساب سے چیک کر چکا ہوں…”
“بارات کی ٹائیمنگ کیا ہے…؟”
وہ کان کهجائے بولا تها
“سر بارہ بجے…”
وہ تابعداری سے بولا
“یہ پاکستان ہے مزاق مزاق میں تین بج جائیں گے…”
وہ انگڑائی لیتے بولا تو محبوب نے دانت دیکهائے تهے
“سر آپ کا اگلا حکم…؟”
“ہم وقت پر ہی جائیں گے اپنے بهائی کے معاملے میں، میں پاکستانی ٹائیمنگ پر یقین نہیں کر سکتا…”
اس نے موبائل پر ٹائیم دیکهتے کہا جہاں گهڑی گیارہ کا ہندسہ عبور کرنے والی تهی
“یااللہ پلیز ہر چیز پلین کے حساب سے کر دینا مجهے ذوہان کے سامنے یوں شرمندہ نہ کرنا اور یہ شرمندگی میرے مولا ساری زندگی پچهتاوے کا باعث بن جائے گی پلیز میرے مولا میرے بهائی کی محبت کو اس سے دور مت کرنا میرے اللہ میں اپنے بهائی کی محبت کے لیے کوئی بهی قربانی دینے کو تیار ہوں اپنی جان تک بهی…”
وہ کرسی کی پشت سے سر ٹکائے آنکهیں موندیں اللہ کے حضور دعاگو تها
…………………………………
ذوہان صبح فجر کی نماز کے بعد سویا تها اور اس نے سونے کے لیے سلیپنگ پل کا استعمال کیا تها اب اس کی آنکھ کهلی تو ٹائیم دیکهتا بیڈ سے نیچے پیر لٹکائے بیٹها تها
“یاللہ جان لے لیتا یہ وقت بہت درد ناک ہے…”
اس کے جسم کا زرہ زرہ درد کی شدت سے بهرا ہوا تها اس میں ہلنے تک کی ہمت باقی نہ رہی تهی اور بیڈ سے اٹها بنا منہ ہاتھ دهوئے کمرے سے نکلتا وجدان کے کمرے کی جانب قدم برهائے تهے دروازہ کهٹکهٹاتا کمرے میں داخل ہوا تو عالیاب کتابوں میں سر دیے بیٹهی تهی ذوہان کو دیکهتے وہ مسکرانے لگی تهی
“وجدان کہاں ہے…؟”
اس نے اردگرد دیکهتے کہا
“وہ تو آج بهی ڈیوٹی پر چلے گئے آپ بیٹهیں نہ بهائی…
وہ بیڈ سے اٹهتے بولی تو اس نے نفی میں سر ہلایا اور واپس مڑا تها
“ذوہان بهائی….”
عالیاب کے پکارنے پر وہ پلٹا اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکها تها عالیاب بیڈ سے اٹهتی اس کے پاس آئی تهی اور تهوڑے فاصلے پر کهڑی ہوئی تهی
“آپ کو کوئی پریشانی ہے بهائی…؟
اس کے پوچهنے پر اس نے نفی میں سر ہلایا تها
“آپ چهپا رہے ہیں آپ کی حالت سب بیان کرتی ہے….”
وہ اس کی اجڑی حالت دیکهتے بولی تو اس نے نگاہیں چرائی تهیں
“بهائی محبت کا معاملہ ہے…؟”
اس نے ایک خدشے کے تحت پوچها تها اس کے یوں پوچهنے پر ذوہان نے ایک جهٹکے سے اسے دیکها وہ چاہنے کے باوجود بهی نفی میں سر نہ ہلا پایا تها
“آپ ماموں مامی سے بات کریں تاکہ وہ آپ کے رشتے…”
“نن-نہیں….”
اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ذوہان فٹ سے بولا تها
“تم وعدہ کرو اس بات کا زکر کسی سے نہیں کرو گی یہاں تک کہ دعا پارس رباب سے بهی نہیں بهائی کا راز رکهو گی…”
وہ اپنا ہاتھ بڑهائے بولا تها جسے کچھ سوچنے کے بعد عاکیاب نے تهاما تها اور مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا تها پهر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالتی اس کو بازو سے پکڑا تها اور اس کے ساتھ سر ٹکایا تها
“بهائی آپ جلدی سے خود بات کریں ہم بهی دیکهنا چاہتے ہیں وہ خوش نصیب جس سے آپ کو محبت ہے مجهے بہت خوشی ہوئی لیکن اپنی حالت ایسے مت بنائیں ماموں مامی کو بتائیں وہ بہت خوش ہونگے آپ کی بات ضرور مانیں گے..”
وہ اپنی ہی رو میں بول رہی تهی یہ جانے بنا کے ذوہان کی اس حالت کی وجہ کیا ہے
“اس کا نکاح ہے آج…”
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ بولا تو عالیاب نے ایک جهٹکے سے سر اٹهائے اس کو دیکها جس کے چہرے پر قرب ہو تکلیف ہی تکلیف تهی
“بب-بهائی…”
اس کے الفاظ ٹوٹے تهے تو وہ خود کی قسمت پر مسکرایا تها
“خیال رکهو اور کسی سے زکر مت کرنا…”
وہ اس کے سر پر پیار کرتا بولا اور کمرے سے نکلا تها عالیاب فورا پیچهے جاتی دروازے سے ذوہان کی پشت کو دیکها جو اب سیڑهیوں کی جانب جا رہا تها اس کی آنکهیں ذوہان کی تکلیف میں نم ہوئی تهی اسے یاد آیا کے کیسے وہ تکلیف سے دو چار ہوئی تهی جب وجدان کی باتیں سنی تهی بےشک وہ سب اس کے کام کا حصہ تها لیکن پهر بهی اسے درد ہوا تها اور ذوہان کی محبت تو آج نکاح میں جاتی کسی اور کی ہو رہی تهی
…………………………………
ذوہان نیچے آیا تو اس کا سامنا پریہان سے ہوا جس کے دیکهنے پر اس نے سلام کیا تها اس کو یوں دیکهتے پریہان اس کی جانب آئی تهی
“کیا ہوا میری جان بجهے بجهے لگ رہے ہو طبعیت تو ٹهیک ہے نہ…”
وہ اس کا ماتها چهوتے بولی اور ماتها چهوتے ہی اسے چار سو چالیس واٹ کا جهٹکا لگا تها اس نے ماتهے سے ہاتھ ہٹائے گردن اور پهر کلائی سے پکڑ کر چیک کیا تها وہ بخار کی شدت سے تپ رہا تها بخار کے باعث اس کا چہرہ بهی نہایت سرخ ہو رہا تها
“ذوہان تمہیں بہت بخار ہے…”
وہ پریشانی سے بولی تهی
“مامی جان بس تهکاوٹ کی وجہ سے ہے کچھ نہیں ہو جائے گا ٹهیک…”
اس نے ٹالنا چاہا تها
“ایسے کیسے ٹهیک ہو جائے گا میں ڈرائیور سے کہتی ہوں ڈاکٹر…”
وہ کہتے کہتے رکی تهی
“ذوہان تم خود ڈاکٹر ہو خیال کرنا چاہیے میڈسن لی ہے کچھ کهایا…؟”
اس کی پریشانی دیکهتے ذوہان کو بہت افسوس ہوا تها جو یوں سب کو پریشانی میں مبتلا کر رہا تها
“کها لوں گا آپ پریشان نہ ہوں…”
وہ مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے بولا تها
“چلو ناشتہ دیتی ہوں….”
وہ اس کا ہاتھ تهامے کچن کی چانب مڑی تهی لیکن ذوہان کو وہاں سے نہ ہلتے دیکھ وہ دقبارہ پلٹی اور اسے دیکها تها
“میں نے منہ بهی نہیں دهویا آپ پریشان نہ ہوں میں پکا ناشتہ کر کے میڈسن لوں گا…”
اس بار وہ بامشکل مسکرایا تها
“پکا…؟”
اس نے تصدیق چاہی تهی
“ہاں جی مامی جان پکا….”
اس نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکهتے کہا تها
“اچها جاو ریسٹ کرو…”
وہ اس کے ماتهے پر پیار کرتے بولی تو وہ واپس سیڑهیوں کی جانب مڑا تها جب کہ پریہان کچن کی جانب مڑ گئی تهی
…………………………………
تعبیر کمرے میں اکیلی بیٹهی بہت سی سوچوں کو خود پر حاوی کیے ہوئے تهی کہ اس کا موبائل رنگ ہوا تها اس نے دیکها جہاں ذوہان کا نام جگمگا رہا تها اس کی آنکهیں نمکین پانی سے بهر گئیں تهی اس نے کانپتے ہاتهوں سے فون اٹهایا اور کان سے لگایا تها
دوسری جانب مکمل خاموشی تهی اور پهر دو منٹ بعد سسکیوں کی آواز گونجنے لگی ذوہان کی سسکیاں اس کے کانوں میں پگهلا ہوا سیسہ انڈیل رہیں تهی اس کا دل پهٹنے کو قریب تها بےاختیار اس کا چہرہ بهی آنسووں سے تر ہونے لگا تها
“تعبیر میں مر رہا ہوں بہت…”
کچھ دیر رونے کے بعد وہ بولا تها
“تعبیر میری محبت کے ساتھ یوں ستم مت کرو..”
اس کی سسکیاں سنتی اس کی ہچکی بندهی تهی
“پپ-پلیز ذوہان…”
وہ روتے ہوئے بولی
“تعبیر میں مر جاوں گا آپ کے بنا بہت محبت کرتا ہوں آپ سے یوں ستم مت کریں…”
“بہت دیر ہو گئی اب کچھ ہی لمحوں میں میرے نام کے ساتھ کسی اور کا نام جڑنے والا ہے…”
وہ آنسووں صاف کیے بولی تهی
“کیوں کیا آپ نے ایسا کیا میری محبت ایک لمحے کو بهی سچی نہ لگی تهی کیوں کیا یہ ستم کیا آپ کو مجھ سے محبت نہیں تهی…؟”
اس کی سانسیں تیز ہوئیں تهی بار بار آنسووں صاف کرنے کے بعد بهی اس کا چہرہ آنسووں سے بهر جات
“میں کبهی معاف نہیں کرونگا یہ ستم…”
اس کے الفاظوں پر وہ زاروقطار رونے لگی اور فون کاٹتے بیڈ پر پهینکا تها اور ہچکیوں کے ساتھ رونے لگی تهی
…………………………………
سعد بیڈ پر لیٹا اپنے قریب سوئی دعا کے بالوں کو کبهی چہرے پر نرمی سے پهیلاتا تو کبهی ہٹا دیا وہ اگزامز قریب ہونے کی وجہ سے رات دیر سے سوئی تهی اور سنڈے ہونے کی وجہ سے ناشتہ کرنے کے بعد دوبارہ سو گئی تهی اور سعد کب سے اٹها کبهی کوئی کام کرتا تو کبهی کوئی، اور وہ اس قدر بور ہو رہا تها کہ ٹائیم پاس کے لیے دو بار نہا چکا تها
“یار دعا بارہ بجنے والے ہیں بہت ہو گیا اب اٹھ جاو…”
وہ اکتا کر بولا اور اس کو جهنجهوڑا تها کہ وہ ہڑبڑا کر اٹهی تهی
“سعد پلیز رات تین بج گیے تهے بہت زبردست نیند آرہی ہے سونے دیں…”
وہ اس کی جانب کروٹ لیتے بولی تهی
“اور میں جو صبح سے مکهیاں مار رہا ہوں وہ..”
وہ منہ بنائے بولا تها
“کتنی مکهیاں مار لی ہیں آپ نے…”
وہ بند آنکهوں سے ہی بولی تو سعد نے گهورا تها اور پهر جهکتے اس کی گال پر اس قدر زور سے کاٹا کہ وہ چلا اٹهی تهی اور فوراً اٹهتی گال پر ہاتھ رکهے اسے کها جانے والی نظروں سے گهورنے لگی جو اب لب دانتوں میں دبائے اسے فرصت سے دیکھ رہا تها
“سعد آئی ہیٹ آہہہہ…”
اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتی دوسری گال پر کاٹے جانے پر وہ پهر سے چینخی تهی اور نم آنکهوں سے اسے دیکهنے لگی جو ہنس رہا تها اس کو یوں ہنستے دیکھ وہ رونے لگی تهی کیونکہ اس کو اپنی گال پر شدید درد کا احساس ہو رہا تها وہ اس کے سامنے بیٹها اس کے آنسووں صاف کرتے ہنسنے سے باز نہ آیا تها دعا نے اس کا ہاتھ جهٹکا تها
“خود صاف کر لوں گی جائیں یہاں سے….”
وہ آنسووں صاف کرتے سوں سوں کرتے بولی تهی
“تم روتی بہت اچهی لگ رہی ہو کہ دل کر رہا دوبارہ رلا دوں…
وہ اس کی ناک کو دانتوں سے دبائے بولا اس سے پہلے وہ دوبارہ چیختی سعد نے اس کی چینخ کا گلا گهونٹا تها دعا اس کے سینے پر مکے برسانے لگی تهی سعد پیچهے ہونے کے بعد اپنا نطلا ہونٹ دانتوں سے دبائے اسے دیکهنے لگا جو مکمل لال ہو چکی تهی جیسے سارا خون چہرے پر نچڑ آیا ہو وہ غصے سے بیڈ سے اتری تهی اس کی یوں شکل دیکهتے وہ پهر سے ہنسا تها
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی زرش دروازہ کهتکهٹانے کے پانچ سیکنڈ بعد اندر داخل ہوئی تهی
“کیا ہوا یوں چینخوں کی آواز آرہی تهی اور تمہارے چہرے کو کیا ہوا ہے…؟”
زرش نے پریشانی سے پوچهتے آخر میں دعا کا سرخ چہرہ دیکهتے پوچها تها
“کچھ نہیں چهپکلی تهی دعا ڈر گئی اس سے…”
اس نے مسکراہٹ دبائے کہا تها
“لیکن دعا تو ڈرتی نہیں چهپکلی سے…”
“بس آج ڈر گئی…”
اس کو اپنی ہنسی کنٹرول کرنا دنیا کا مشکل ترین کام لگا تها
“چہرے کو کیا ہوا کچھ کاٹا ہے کیا..؟”
“جی بڑی امی ایک زہریلے کیڑے نے کاٹا ہے…”
اس نے چباتے ہوئے سعد کو دیکهتے کہا
“کونسا تها ڈاکٹر کو دیکها دیتی نقصان نہ ہو کہیں…”
وہ پریشانی سے اس کے چہرے کو چهوتے ہوئے بولی تهی
“فکر مت کریں اس کیڑے کی میں چٹنی بنا دوں گی…”
وہ دانت کچائے بولی جیسے دانتوں میں سعد ہو جب کہ سعد اس کی باتوں سے مسکراتا اسے دیکھ رہا تها
“اچها خیال سے اور تم بهی خیال رکها کرو…”
وہ اس کو پیار کرتے بولی جب کہ آخر میں سعد کو ہدایت دی جس نے اثبات میں سر ہلایا تها تو وہ کمرے سے نکل گئی تهی
“اووہوو زہریلا کیڑا، واہ جی چٹنی بناو گی…”
وہ هیڈ سے اٹهتا بولا اس سے پہلے وہ اسے دبوچتا دعا واشروم کی جانب بهاگتی اس میں بند ہو گئی تهی لیکن سعد کا قہقہ اسے ضرور سنائی دیا تها دعا اس کا قہقہ سنتے مسکرا دی تهی
…………………………………
تعبیر دلہن کے جوڑے میں سجی آج کسی اور کے نام ہونے جا رہی تهی اس کا دل پهٹنے کو تها اس کو بار بار صرف ذوہان کا خیال ستا رہا تها لیکن وہ کہاوت تو بہت مشہور ہے نہ کہ “اب پچهتائے کیا ہوت جب چڑیا چگ گئی کهیت” روحا اسے نیچے نکاح کے لیے لے جانے آئی تهی وہ مردہ قدموں سے اس کے ساتھ جا رہی تهی روحا نے کل سے اس سے ایک لفظ بات نہیں کی تهی اور پهر اسے نیچے لانے کے بعد بٹهایا گیا تها اس کے اور کے دلہے کے درمیان ایک جالی دار پردہ حائل تها اس نے ایک نظر اٹها کر اپنے ہونے والے شوہر کو جالی کے پردے سے دیکهنا تک گوارا نہیں کیا تها جیسے جیسے وقت قریب آرہا تها تعبیر کو لگا جیسے اس کی جان نکلنے والی ہو وہ مشکل سے سانس لے رہی تهی
روحا اس کے پاس بیٹهی اس کا دوپٹہ ٹهیک کرنے لگی تهی اس کو یوں گم سم بیٹهے دیکھ اس کی آنکهیں نم ہوئیں تهی
“میں تمہیں کبهی اس کے لیے معاف نہیں کرونگی تعبیر…”
وہ دوپٹا سیٹ کرتے بولی تو تعبیر نے اپنی نم آنکهوں سے اس کی جانب دیکها
“میں بهی خود کو کبهی معاف نہیں کر پاونگی…”
اس نے بهی بهیگے لہجے میں کہا اتنے میں مولوی صاحب آکر بیٹهے تهے
مولوی اس کے ہونے والے شوہر کی جانب نکاح کے الفاظ دہرا رہا تها اس کے قبول کرنے پر اسے لگا جیسے اس کا سانس بند ہو جائے گا مولوی صاحب اب تعبیر کی جانب مڑا تها مولوی صاحب نے پہلی بار کلمات ادا کیے تهے
ان کلمات کو سنتے اس نے سختی سے آنکهیں میچیں تهی آنسووں اس کی آنکهوں سے پهسلے تهے
“تعبیر میں مر جاوں گا آپ کے بنا بہت محبت کرتا ہوں آپ سے یوں ستم مت کریں…”
ذوہان کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے تو آنسووں لڑیوں کی مانند اس کی آنکهوں سے نکلے تهے
“اب فائدہ نہیں امی بابا سب منتظر ہیں بولو…”
روحا کی نم آواز اس کے کانوں میں گونجی تهی اس نے ہمت کرتے اپنے لب وا کیے تهے
“قق-قبول ہے….”
