No Download Link
Rate this Novel
Episode 52
وجدان غصے سے کھولتا گھر داخل ہوا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا داور کی جگہ ڈی ایس پی شوٹ کر دے اسے گھر سے برتنوں کی اور اس کے گھر والوں کی آوازیں آ رہیں تھی یقیناً وہ لوگ کھانا کھا رہے تھے اس نے ایک پل کھڑے ہوتے گہرے تین چار سانس لیے پھر آگے گیا تھا اور ایک نظر ان کو دیکھتا سیڑھیوں کی جانب مڑا تھا
“آو بیٹا کھانا کھا لو۔۔۔۔”
وہ جو ان سے آنکھ بچا کر جانا چاہتا تھا لیکن پریہان کی آواز پر رکا اور پلٹ کر ان کو دیکھا سب کھانا کھاتے اسے ہی دیکھ رہے تھے
“بھوک نہیں بس فریش ہونا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
اس نے تھکن زدہ لہجے میں کہا اس کی گندی مٹی آلود یونیفارم سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ وہ محنت والا کام کر کے آیا تھا
“دنگل کر کے آیا ہے سلطان فلم کا پارٹ ٹو بنانے کا ارادہ تو نہیں۔۔۔۔”
سعد نے ہنستے ہوئے کہا جہاں باقی ہنسے تھے وہاں وہ ہنس بھی نہ سکا تھا عالیاب بھی ہنستی ہوئی اپنی کرسی سے اٹھی اور اس کی جانب گئی تھی عالیاب جو اپنی جانب اتے دیکھ وہ وہی کھڑا تھا قہ اس جے ہاس ائی اور اس کی یونیفارم سے مٹی جھاڑنے لگی تھی
“اپ کا مشن مکمل ہوا کیا شکر خریت سے واپس آگئے۔۔۔۔”
وہ مسکرا کر بولی
“نہیں ہوا ان شاءاللہ ایک دن ہو جائے گا۔۔۔”
اس نے اس کا مسکراتا چہرہ دیکھتے کہا
“اسی میں ہی اللہ کی جانب سے بہتری ہو گی مایوس مت ہوئیے گا۔۔۔۔”
وہ اس کے چہرے پر غصہ دیکھ چکی تھی اسی لیے بولی تو اس نے اثبات میں سر ہلایا
“میں ہوں نہ آپ کا غصہ پریشانی ٹھیک کر دوں گی۔۔۔۔”
وہ اس کے سینے پر ہاتھ پھیرتے بولی تو وہ اس کی بات کا مطلب سمجھتے مسکرایا تھا جب کہ باقی سب کھانا کھاتے ان کو یوں باتیں کرتے دیکھ مسکرا رہے تھے آواز تو نہیں آ رہی تھی لیکن محبت ضرور نظر آ رہی تھی
“میں انتظار کر رہا ہوں تمہارا کمرے میں جلدی آجاو سکون چاہتا ہوں۔۔۔۔”
قہ اس کی گال پر انگوٹھا پھیرتے بولا
“کھانا کھائیں پہلے۔۔۔۔”
وہ اس کا بازو تھامے بولی تھی
“تم کمرے میں لے آنا ابھی فریش ہونے کی اشد ضرورت ہے۔۔۔۔”
اب کہ اس کا انگوٹھا اس کے ہونٹ پر سرایت کر گیا تھا عالیاب کی پیٹھ ان سب کی جانب تھی اسی لیے وجدان کی اس کے چہرے پر ہوتی حرکتیں وہ نہیں دیکھ سکتے تھے
“اچھا جائیں میں آ رہی ہوں۔۔۔”
مسکرا کر کہا تو وہ بھی مسکراتا سیڑھیوں کی جانب چلا گیا جب کہ وہ واپس آتی اس کے لیے کھانا نکالنے لگی تھی
………………………………
تعبیر پریشانی سے کمرے میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھی زوہان اس سے ناراض ہو گیا تھا اس نے کھانے کے دوران بھی اسے دیکھا تک نہیں تھا اور یہی بات اس کا دل چیر رہی تھی لیکن اتنا وقت گزر گیا وہ کمرے میں نہیں آیا تھا وہ اس چیز سے تنگ آتی کمرے سے نکلی ہی تھی کہ دوسری جانب سے وجدان بھی کمرے سے نکلا تھا
“تعبیر زوہان کمرے میں موجود ہے دراصل وہ کال نہیں اٹھا رہا شاید سائلنٹ پر ہے اس کا فون۔۔۔”
اس نے ناچاہتے ہوئے بھی تعبیر سے پوچھا اور وہ جو بھری بیٹھی تھی غصے سے اس کی جانب دیکھا تھا
“تم دور کیوں نہیں ہو جاتے زوہان سے تمہاری دوری ہمارے رشتے میں آنے والے غم ہر چیز کو دور کر دے گی۔۔۔”
وہ غصے سے بولی تو اس کی بات نے گویا وجدان کا دل نوچ لیا ہو
“دماغ خراب ہو گیا ہے کیسی باتیں کر رہی ہو۔۔۔”
وہ آہستہ آواز میں بولا کیونکہ وہ ابھی عالیاب کے پاس سے آیا تھا کیونکہ عالیاب اس کی پریشانی دور کرتے کرتے خود سو چکی تھی اسے زوہان سے کام تھا اسی لیے وہ اس سے ملنا چاہتا تھا
“دماغ ٹھیک ہے میرا آج اس نے مجھ پر تمہیں ترجیح دی اس نے کہا وہ مجھے تو چھوڑ سکتا ہے لیکن تمہیں نہیں۔۔۔۔”
اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ وجدان کو زوہان کی زندگی سے دور پھینک دے
“تم کیوں چاہتی ہو ایسا ہاں میں نے تمہاری زندگی میں دخل اندازی نہیں دی کیوں ہے تمہیں مجھ سے اتنی نفرت۔۔۔۔”
وہ دو قدم آگے بڑھتا آواز کو دھیمی رکھتا بولا
“کیونکہ آپ جیسا گھٹیا انسان میں نے دنیا میں نہیں دیکھا میں نہیں چاہتی وہ گھٹیا پن زوہان میں بھی آئے۔۔۔۔”
اس کی بات سنتے اس نے مٹھیاں بھینچی تھیں
“تعبیر اپنی لمٹ کراس کرنے کی کوشش مت کرو۔۔۔۔”
وہ قہر برساتی نظروں سے اسے دیکھتا بولا تھا
“اگر تم چاہتے ہو میں اور تمہارا بھائی ٹھیک رہیں تو چلے جاو ہماری زندگیوں سے اپنی بیوی ساتھ رہو زوہان کی زندگی سے دور۔۔۔”
اس سے پہلے وہ مزید بولتی اگلے ہی لمحے وجدان اس کا منہ دبوچ گیا تھا
“تمہیں بہن مانا اپنے بھائی اور تمہاری محبت کے لیے آخری حد تک لڑا تم تمہیں تو میں گالی دے کر تمہاری ان باتوں کا غصہ بھی نہیں نکال سکتا بہتر یہی ہے میرے اور میرے بھائی کی محبت میں دراڑ مت ڈالنا ورنہ انجام بھگت لینا۔۔۔۔”
اس نے ایک جھٹکے سے اس کا چہرہ چھوڑا تھا اور پلٹا تھا
“تو دیکھتی ہوں میں بھی کتنی محبت ہے تمہیں اپنے بھائی سے کیونکہ تمہارا بھائی میرے بنا نہیں رہ سکتا یہ تم اچھے سے جانتے ہو دیکھتے ہیں کیسے ازیت میں دیکھ سکتے ہو اسے۔۔۔۔”
اس کے الفاظوں نے اس کے قدموں میں زنجیر ڈالی تھی دل مانو کسی نے مٹھی میں جکڑا ہو سینے میں جیسے کسی نے خنجر پیوست کر دیا ہو
“میرے بھائی کو غم مت دینا ورنہ اللہ کے حکم سے تمہیں قبر بھی نصیب نہیں ہونے دوں گا۔۔۔”
وہ ایک قرب سے کہتا رکا نہیں تھا بلکہ واپس اپنے کمرے میں چلا گیا جب کہ وہ گہرے سانس لیتی اوپر کی طرف دیکھنے لگی تھی
………………………………
زوہان عشاء کی نماز سے مسجد میں بیٹھا رات دس بجے مسجد سے اٹھا تھا اور ٹوپی اتار کر جیب میں ڈالتا گھر کی راہ لی تھی کچن سے دو گلاس پانی انڈیلتا کمرے میں گیا تو سامنے تعبیر کو راہ تکتے دیکھ ایک پل کو ٹھٹھکا پھر اگنور کرتا ٹوپی نکال کر ٹیبل پر رکھی اور شرٹ کے بٹن کھولے تھے اس کا یوں اگنور کرنا تعبیر کے وجود کو چھلنی چھلنی کر گیا تھا
“زوہان۔۔۔”
وہ اٹھتی اس کی جانب بڑھی تھی
“تعبیر میری ڈیوٹی ہے مجھے جانا ہے۔۔۔”
وہ کوٹ نکالتے بولا تھا اور پھر دوسری شرٹ نکالی تھی وہ جانے سے پہلے فریش ہونا چاہتا تھا
“پلیز مت کرو مجھے ایسے اگنور۔۔۔”
وہ روتے ہوئے اس کے سامنے آئی تھی اس نے سنجیدگی سے اسے دیکھا اور پھر آگے بڑھتے اس کے انسووں صاف کئیے تھے
“خاموش ہو جاو۔۔۔”
سنجیدگی سے کہتا واپس پلٹا تھا
“زوہان پلیز ایسے مت کرو۔۔۔”
وہ پیچھے سے اس کو ہگ کرتے بولی تھی
“مجھے دیر ہو رہی ہے بہت زیادہ کل بات کریں گے اس بارے۔۔۔”
وہ اس کا حصار خود سے ہٹائے بولا تھا
“پلیز پلیز سوری لیکن مجھے نہیں برداشت وجدان تمہارے ساتھ۔۔۔”
وہ روتے ہوئے بولی
“تعبیر میرا آگے بہت خراب ہے مزید خراب مت کرنا شاباش جاو سو جاو مجھے ڈیوٹی پر جانا ہے۔۔۔”
اس نے گہرا سانس بھرتے کہا
“تم اس کے لیے اپنی بیوی کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو۔۔۔؟”
وہ اس کو دھکا دیتے بولی تو اس نے اگے بڑھتے اس کے ہاتھوں کو پکڑا تھا
“تم خود کر رہی ہو یہ سب تماشا تم خود اس چیز کو سر پر چڑھایا ہے یقین جانو میرے بھائی نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہم دونوں کو ملوانے میں اور تم احسان فراموش ہو کیا بگاڑا ہے اس نے تمہارا”
“آپ کو نہیں پتا اس نے کیا کیا ہے وہ ایک فریبی گھٹیا ۔۔۔۔۔۔”
“بسس تعبیر میرا دماغ شاٹ ہو گیا ہے اب کوئی بکواس نہیں ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا مزید کا تماشا کریت نہ کرو میرے گھر والوں نے میرے گھر کے ہر فرد نے تمہیں دل سے تسلیم کیا ہے سب کے برابر یا اس سے زیادہ محبت دی ہے کسی میں دراڑ مت ڈالنا وجدان بھی تمہاری دل سے عزت کرتا ہے میں محبت کرتا ہوں جب میری محبت میں کمی ہو تب کہنا اب مزید کوئی بکواس نہیں…”
تفصیل سے اسے کہتا چہرہ تھپتھپاتا واشروم میں گھس گیا تھا اور وہ آنسووں کو بےدردی سے رگڑتی بیڈ پر لیتی سر تک کمبل تان گئی تھی
………………………………
رات کے ناجانے کس پہر عالیاب کی آنکھ کھلی تو خود کی برابر کی جگہ کو خالی پاتے وہ اٹھی تھی پورا کمرہ خالی تھا اور لائٹ بھی جل رہی تھی لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ واشروم سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی اس نے ٹائیم دیکھا تو رات کا ایک بجا ہوا تھا وہ اٹھی اور واشروم کی طرف گئی تھی
“سکندر کیا ہوا ہے اس وقت۔۔۔۔؟”
اس نے پریشانی سے پوچھا اور وجدان جو کپڑوں سمیت شاور کے نیچے تقریباً ایک گھنٹے سے کھڑا تھا اس کی آواز سنتے منہ پر ہاتھ پھیرا تھا
“کچھ نہیں جان بس گرمی لگ رہی تھی۔۔۔۔”
اس نے اسے ٹالنا چاہا
“اے سی میں بھی گرمی۔۔۔۔”
اس نے کمرے کی ٹھنڈک محسوس کرتے کہا
“بس آ رہا ہوں تم سو جاو کیوں جاگ گئی ہو۔۔”
اس نے گیلے بالوں کو پیچھے کرتے کہا تھا
“دروازہ کھولیں زرا۔۔۔۔”
اس نے حکم دیا تو ایک سیکنڈ میں دروازے کا لاک کھلا تھا اور پھر پورا دروازہ عالیاب نے اسے دیکھا تو حیرت کا شدید ترین جھٹکا لگا
“سکندر کیا ہوا آپ کی آنکھیں۔۔۔۔”
قہ اس کی لال انگارہ سرخ آنکھوں کو دیکھتی آگے بڑھی اور اس کے چہرے کو چھوتی پریشانی سے پوچھنے لگی تھا
“کچھ نہیں۔۔۔۔وہ اس کو ہگ کرتے بولا تھا اس وقت وہ دونوں شاور کے نیچے کھڑے بھیگ رہے تھے
“پلیز میں بہت پریشان ہو رہی ہوں کچھ تو بتائیں۔۔۔۔۔”
وہ اس کو پیچھے کرتی پریشانی سے بولی تھی
“کچھ نہیں بس زرا سر درد تھا اسی لیے اب تم قریب ہو ہر چیز دور ہو جائے گی۔۔۔”
وہ اتنا کہتا بنا اسے بولنے کا موقع دیے اس کے الفاظوں کو دبا چکا تھا وہ پانی کے نیچے کھڑے ایک دوسرے کے لمس میں کھو سے گئے تھے وجدان اس کے لمس سے خود کے اندر تک سکون محسوس کر رہا تھا وہ اب اس کے لبوں سے ہٹتا اس کی گردن پر جھکا تھا اور پھر وہ جھکتا چلا گیا کہ اخر میں وہ شاور بند کرتا اس کے گیلے وجود کو سمیٹتے باہوں میں اٹھاتے واشروم سے نکل کر بیڈ پر لیٹایا اور لائٹس بند کرتا اس پر مکمل جھک چکا تھا تعبیر کی باتیں عالیاب کا لمس پاتے کہیں گم ہو گئیں تھی اسے ابھی سکون مل رہا تھا اس کی قربت سے عالیاب نے بھی اسے روکنے کی کوشش نہ کی تھی اور خود کو ایک بار پھر اس کے سپرد کر دیا تھا
………………………………
“چشمش میری چشماٹو۔۔۔۔”
سعد آفس کے لیے تیار ہوتا مسکراہٹ دبائے مسلسل دعا کو آوازیں دینے پر تھا
“چشمش او میری ڈبل بیٹری جلدی سے اوپر آئے۔۔۔۔”
سعد ٹائی باندھتا دروازے سے باہر جھانکتا بلند آواز میں بولا تھا اور نیچے جہاں سب اس کی آوازوں پر ہنس رہے تھے وہی اس نے اپنا سر تھاما تھا
سعد اسے آوازیں دینے میں مصروف تھا کہ اس کا فون رنگ ہوا دیکھا تو زوہان کا فون تھا جو کچھ دیر پہلے ہی ڈیوٹی سے واپس آتا نیچے ان سب کے ساتھ موجود تھا جہاں ناشتے کی تیاری ہو رہی تھی سعد نے ٹائی چھوڑے فون اٹھائے کان سے لگایا تھا
“ہاں ڈاکٹر صاحب بولو۔۔۔۔”
سعد نے فون اٹھاتے ہی جوش سے کہا اور دوسری جانب زوہان نے شرارت سے فون سپیکر پر کرتے والیم زیادہ کیا تھا
“بھائی آپ جن حسین ناموں سے میری بہن کو پکار رہے ہیں نہ باقی سب وہ نام سنتے لوٹ پوٹ ہو رہے ہیں اور اپ کی بیوی شرم سے اتنی دہری ہو گئی ہے جیسے۔۔۔۔۔”
وہ کہتا رکا اور دعا کو دیکھا جو کمر پر ہاتھ ٹکائے اسے گھور رہی تھی
“جیسے ببل کو چبانے کے بعد منہ سے نکال کر اس کو گول کیا جاتا ہے جیسے وہ دہری ہوتی اتنی دہری ہو گئی ہے۔۔۔۔”
اس کی بات سنتے سعد سمیت سب کا قہقہ گونجا اس سے پہلے دعا اگے بڑھتی زوہان کو مارتی وجدان اس کو پکڑ چکا تھا
“مطلب لال پیلی ہوگئی ہے میری ڈبل بیٹری اسے کہو کمرے میں آئے ساری شرم نکالتا ہوں۔۔۔۔”
وہ بھی فون سپیکر پر رکھتا ٹائی باندھتے بولا یہ جانے بنا کہ جیسے الفاظ وہ زبان سے ادا کر رہا ہے دوسری جانب بھی سپیکر پر ہونے کی وجہ سے سب سب رہے ہیں
اور دعا نے اپنے سر پر ہاتھ مارا تھا سور سب اپنی ہنسی روکنے کے چکر میں سرخ ہو رہے تھے
دعا اس سے پہلے بول کر اسے بتاتی کہ فون سپیکر پر ہے وجدان نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھتے اسے بولنے سے رکا تھا
“ویسے کیا ارادہ ہے اس کی شرم نکالنے کا۔۔۔۔؟”
اس نے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے کہا تو دعا وجدان کی گرفت میں مچلتی نفی میں سر ہلانے لگی
“یار کسی کو بتانا مت تو تو اب شادی شدہ ہے تجھ سے کیا چھپانا کس وس کی مار ہے تیری بہن۔۔۔۔”
اس کی بےباک بات سنتے دعا کی آنکھیں پھیلیں تھی اور سب روکنے کے باوجود زور سے ہنسے تھے
“یہ سب کیوں ہنس رہے ہیں خیر تو ہے۔۔۔”
وہ بالوں کو ہاتھ سے پکڑتا بولا تھا وجدان ہنستا ہوا پیچھے ہوا تو وجدان کو مکا مارتی زوہان کی جانب گئی
“سعد کے بچے فون اسپیکر پر تھا آپ کی یہ بےشرمی سے بھرپور باتیں سب سن رہے ہیں سب ماموں وغیرہ سب اور اپ کی زبان ہے جو بس چلی جا رہی ہے۔۔۔۔”
دعا کی بات سنتے اس کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے
“اوو تیری خیر زوہان کمینے دھوکے باز تو نے کالک مل دی میری منہ پر کہیں منہ دیکھانے قابل نہیں چھوڑا میری چشماٹو کے ہاتھ ناشتہ بھیج دو میں نیچے انا والا نہیں اب پردہ ہو گیا ہے مجھے۔۔۔۔”
وہ سر پر ہاتھ مارتے بولا تھا یہ سوچ کر ہی اسے بےتحاشا شرم محسوس ہو رہی تھی کہ وہ کس وس والی بات سب نے سنی تھی
“تو بیٹا جی کرنے سے پہلے سوچنا تھا نہ۔۔۔۔”
شہرام نے ہنستے ہوئے کہا
“سعد مجھ سے بات کرئیے گا۔۔۔۔”
دعا نے یہ کہتے زوہان سے فون لیتے کھٹک سے بند کیا تھا سب کی ہنسی کسی صورت ختم نہیں ہو رہی تھی جب کہ دوسری جانب فون بند ہونے پر وہ بنا بال سہی کئیے کمرے سے نکلا اور تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا نیچے ایا سب کی ذومعنی شرارت سے بھرپور نظریں دیکھتا سر کھجانے لگا اور اپنی چشماٹو کو دیکھا جو اس کو خونخوار نظروں سے گھور رہی تھی
“اور بھائی بتائیں کیا کہہ رہے تھے۔۔۔۔؟”
زوہان نے اس کے زخموں پر نمک چھڑکا تو سعد نے آگے بڑھتے اس کو گردن سے دبوچا تھا
“خبیث انسان سب تیرا کیا دھرا ہے بےغیرت۔۔۔”
“چھوٹیں میرے بھائی کو سب آپ کا قصور ہے ایسی باتیں کرتے شرم نہیں ائی اگر سپیکر پر نہ بھی ہوتا تو آپ کو شرم نہیں اتی میرے بھائی سے ایسی باتیں کرتے۔۔۔۔”
دعا خفا سی بولی تو وہ زوہان کو چھوڑتا بالکل سیدھا کھڑا ہوا تھا
“سیلیوٹ میجر دعا۔۔۔۔”
اس نے سیدھا ہوتے دعا کو سلوٹ مارا تو ایک بار پھر لاونچ قہقوں سے گونج اٹھا تھا جب کہ دعا نے سر تھاما تھا
“میجر دعا ہاہاہاہا۔۔۔۔”
وجدان نے ہنستے ہوئے اس کے بال کھینچے تو اس نے جواباً اس کے بھی بال کھینچے تھے یونہی ہنسی مزاق میں سب ناشتے کو بیٹھ گئے تھے
………………………………
