Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

“ذوہان تمہیں کچھ اس حوالے سے کہتا نہیں کیا…..؟”
پریہان آبریش کے سامنے بیٹهتے ہوئے بولی
“میں پوچهتی ہوں کوئی لڑکی پسند ہے تو بتاو آگے سے کہتا ہے وقت آئے گا تو بتا دوں گا…”
آبریش نے گہرہ سانس بهرتے ہوئے کہا
“وجدان مجهے کہتا ہے میری عالیاب کے ساتھ جتنی جلدی ہو جائے شادی کردو….”
“شہرام سے نہیں کہتا…¿”
اس نے مسکراتے ہوئے چائے کا کپ اٹهایا
“میرے کندهے پر بندوق رکھ کر چلاتا ہے بہت تیز ہے…”
پریہان بهی ہنسی تهی
“عالیاب مانے گی…..؟”
“اگر عالیاب نہ مانی تو شہرام کسی صورت وجدان کو نہیں دے گا اور وجدان عالیاب کے بنا پیچهے نہیں ہٹے گا میں چاہتی ہوں شہرام اور وجدان کے بیچ تلخیاں پیدہ نہ ہوں….”
اس نے اصل بات واضع کی تهی
“اچها پری پریشان مت ہو وجدان بچہ نہیں ہے….”
اس نے تسلی دینا چاہی تو وہ بهی خاموش ہوتے چائے پینے لگی
تقریباً دس منٹ کے بعد وجدان ہڑبڑی میں آبریش کے کمرے میں داخل ہوا تها
“موم مجهے ایک دن کے لیے کہی جانا ہے ایک دن کے حساب سے تهوڑا سا سامان پیک کردیں….”
سلام کرتا وہ پریہان سے بولا تها تو وہ مسکراتے ہوئے اٹهی تهی
“ڈیڈ کہاں ہیں…؟”
وہ آبریش کو پیار کرتا پریہان کے ساتھ باہر نکلتے ہوئے بولا
“حارز کے ساتھ کام تها کوئی وہاں گئے ہیں….”
اس نے بهی اسکے ساتھ چلتے ہوئے جواب دیا تو اس نے سمجهتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا
…………………………………
“سعد خیر تو ہے آجکل کن خیالوں میں گم رہتے ہو…؟”
مصطفی جو کب سے سعد کو سوچوں میں مبتلا دیکھ رہا تها آخر رہا نہ گیا تو پوچھ بیٹها تها رامز نے پہلے مصطفی اور پهر سعد کو دیکها آبریش رامز سے سعد کا مطالبہ بیان کر چکی تهی
“نہیں تو چاچو…”
وہ سیدها ہو کر بیٹهتا بامشکل مسکراتے ہوئے بولا
“کوئی بات ہے تو بتاو اپنے چاچو کو….”
رامز نے سنجیدگی سے کہا تو سعد نے اس کی جانب سنجیدہ نظروں سے دیکها
“سیریسلی….؟”
وہ تهوڑی پر انگلی ٹکائے رامز سے استفارہ کرنے لگا
“کوئی بتائے گا تم دونوں کس متعلق بات کررہے ہو…؟”
مصطفی نے ان دونوں کی جانب دیکهتے ہوئے کہا

“چاچو اگر آپ اجازت دیں آج رات کا ڈنر میں دعا کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں اگر آپکو کوئی اعتراض نہ ہو تو…”
اس کی بات پر مصطفی دو پل سوچ میں ڈوبا تها
“ٹهیک ہے اگر وہ راضی ہو تو لے جاو…”
“اوکے میں چلتا ہوں ایک کلائینٹ سے ملنا ہے…”
سعد اجازت ملتے ہی اپنا کوٹ اٹهاتے ہوئے بولا اور کیبن سے نکل گیا
“تم دونوں کے بیچ کوئی تلخ کلامی ہوئی ہے…..”
“ارے نہیں یار تمہیں پتا ہماری تلخ کلامی نہیں ہوتی بس تهکن سے اس کا موڈ ایسا ہوگا…”
اس نے مسکرا کر کہا اور مصطفی کو ایک فائل تهمائی جس نے گہرہ سانس بهرتے فائل پکڑی تهی رامز کو بهی علم تها کہ وہ اس کی بودی سی دلیل سے مطمئن نہیں ہوا تها
…………………………………
ذوہان راہداری سے گزرتا فون پر کسی دوست سے محووگفتگو تها
“مجهے ہوسپٹل سے چهٹی مشکل ہے لیکن میں کوشش کروں گا کہ اپنے یار کی شادی میں حاضر ہو سکوں…”
“ففٹی پرسنٹ ہاں کررہا ہوں…”
آگے سے کچھ کہا گیا جس پر ذوہان ہنستے ہوئے بولا
“اوکے اللہ حافظ….”
سامنے سے تعبیر کو آتے دیکھ کر اس نے فون بند کیا تها

“یہ آپ نے بهیجا ہے….؟”
تعبیر نے اس کے پاس آتے کارڈ اس کے سامنے لہراتے ہوئے کہا جسکو نا سمجهی سے ذوہان نے تهاما تها
“آپ میرے دل کا ٹکڑا ہے ڈاکٹر تعبیر میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں ڈاکٹر ذوہان….”
اس کارڈ پر لکهے الفاظ پڑهتے آخر میں اپنا نام بهی پڑها تها اور پهر تعبیر کو دیکها جو غصے سے سرخ ہوتی اس کو دیکھ رہی تهی

“یہ میں نے نہیں رکها آپ کو کہاں سے ملا…؟”
“یہ مجهے میرے کیبن میں میرے ٹیبل سے ملا اگر آپ نے نہیں رکها تو یہ نام یہ تحریر کردہ الفاظ کس نے لکهے ہیں….”
وہ چباتے ہوئے بولی
“یہ گهٹیا حرکت میں نے نہیں کی ڈاکٹر ذوہان اتنا بذدل نہیں ہے جو ہوگا وہ صاف کہے گا نہ کہ یہ بچوں جیسی حرکتیں کرئے گا….”
ذوہان بهی ماتهے پر بل ڈالے بولا تها اور کارڈ زمین پر پهینکا تها

“تو پهر یہ حرکت کس نے کی ہے ہاں..؟”
وہ تقریب چلائی تهی کہ پاس سے گزرتے دو لوگ متوجہ ہوئے لیکن واپس اپنا کام کرتے گزر گئے تهے
“آہستہ بولیں میں جنگل میں نہیں بیٹها جو چلا رہی ہیں اور جب میں نے کہا یہ بکواس حرکت میں نے نہیں کی تو مطلب میں نے نہیں کی….”
وہ اس کے قریب ہوتے غرا کر بولا
تعبیر کی نظریں اسکی نیلی لہو اگلتی نظروں سے ٹکرائیں تو بےساختہ نظریں جهکا گئی تهی

“ڈاکٹر ذوہان ایمرجنسی ایکسیڈنٹ کیس ہے جلدی کریں…”
ایک جونئیر ڈاکٹر ذوہان کے پاس آتے ہوئے بولا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا
“سر حالت بہت بری ہے بچنا مشکل نظر آتا ہے…”
اس نے مزید کہا
“ڈاکٹر تعبیر اپریشن کی تیاری کریں جلدی ہری اپ…”
تعبیر سے کہتا اس ڈاکٹر کے ساتھ اس ایمرجنسی کیس کی جانب بهاگا تها پیچهے وہ خود کو نارمل کرتی اپریشن ٹهیٹهر میں گئی تهی
…………………………………
سعد جو کهڑا ایک کلائینٹ سے گفتگو میں مصروف تها کہ فون پر ہوتی رنگ نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا تها اس نے فون دیکها جہاں دعا کالنگ لکها آرہا تها
“اوکے احمد زار میں آپ کو باقی ڈیٹیل بعد میں دیتا ہوں…”
مسکرا کر کہتے فون اٹهاتے دوسری جانب گیا تها
“آپ نے بابا سے کہا ہے کہ رات ڈنر آپ میرے ساتھ باہر کرنا چاہتے ہیں…”
اس کی غصے بهری آواز اسپیکر سے گونجی
“پہلی بات سلام کرنا ثواب کا کام ہے دوسری بات یقیناً تمہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا…”
وہ ایک کرسی پر بیٹهتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں بولا دوسری جانب خاموشی ہوئی یقیناً وہ سلام والی بات سے شرمندہ ہوئی تهی

“مجهے نہیں جانا آپ کے ساتھ اس دن آپ نے مجهے بلاوجہ ڈانٹا تها….”
وہ خفگی سے بولی تو سعد کے لب بهی مسکرائے
“ٹهیک ہے مت جاو زبردستی لے جاوں گا…”
اس کو لہجہ سخت دیکهانے کو وہ بولا تها
“بابا نے کہا ہے کوئی زبردستی نہیں جانے کو سمجهے آپ….”
“دعا رات کا ڈنر میرے ساتھ ہے مطلب میرے ساتھ مزید چوں چراں کی ضرورت نہیں…..”
وہ گہرہ سانس بهرتے ہوئے بولا

“خفا ہوں میں منایا بهی نہیں تها آپ نے میں نہیں جاوں گی پهر ڈانٹیں گے…”
“منانے کے لیے ہی لےجا رہا ہوں ڈئیر کزن….”
سعد داڑهی کهجائے بولا
“اچها سوچوں گی….”
اتنا کہتے کهٹک سے فون بند کیا تو سعد مسکراتا وہاں سے اٹها اور اپنے کیبن کی جانب قدم بڑهائے تهے
…………………………………
“سر سب تیاری مکمل ہے آپ میں اور تین بهروسہ مند آدمی تیار ہیں….”
وجدان جو ہوٹل میں پہنچ کر ابهی واشروم نہانے کی غرض سے جا رہا تها کہ محبوب نے آکر خبر دی
“ٹهیک ہے رات تیار رہنا جو کہا ہے سیم پلین کے حساب سے ہوگا کسی بهی بےقصور انسان کی جان کو خطرہ نہ ہو…”
وہ شرٹ کے بٹن کهولتے ہوئے بولا
“اور سر آپ کے حکم پر پانچ دن بعد آپکا اگلا ٹارگٹ آپ کو مل جائے گا…”
“ٹهیک ہے کهانا وغیرہ کها کر ریسٹ کرلو رات کا کام زرا سخت ہے….”
بیگ سے اپنا سوٹ نکالتے محبوب سے بولا تو وہ اثبات میں سر ہلاتے کمرے سے نکل گیا
…………………………………
رات تقریباً ایک بجے کا وقت تها چاروں سو خاموشی تهی پانچ لوگ جو اپنا چہرہ ڈهانپے بنا آواز کئیے سڑک پر چل رہے تهے ان کی گاڑیاں ان کے ٹارگٹ سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر تهیں کتوں کے بهونکنے کی آوازیں ان کو ہر سو سے سنائی دے رہی تهیں
ان پانچوں نے ایک پلر کے پیچهے چهپ کر اپنے ٹارگٹ کی جانب دیکها وہاں صرف ایک آدمی کهڑا تها جو گارڈ کی ڈیوٹی سنبهالے ہوئے تها ان کا سربراہ اپنے آدمیوں کو اشارہ کرتا وہاں رکنے کا کہا اور اگے گیا تها اور پیچهے سے اس گارڈ کو منہ سے دبوچا تها اور پهر گردن پر وار کرتے بےہوش کیا تها اس شخص نے اپنے آدمیوں کو اشارہ کیا تو وہ آگے آئے تهے

“اس بےہوش آدمی کو کہی بانده دو اور اردگرد کا جائزہ لو ہری اپ….”
وجدان نے ان میں سے دو لوگوں سے کہا تقریباً پانچ منٹ بعد وہ دونوں آدمی آئے تهے
“سر ایریا صاف ہے کوئی نہیں اندر بهی، فیکٹری پوری خالی ہے….”
اس کی بات پر وجدان کے لب مسکرائے اور ان چاروں کو اشارہ کیا تو وہ پیٹرول کی ٹینکی اٹهائے اس فیکٹری کے اردگرد پهینکنے لگے مکمل طور پر پیٹرول سے کوور کرنے کے بعد وہ اس کے پاس آئے تهے اور کام ہوجانے کا سائن دیا

وجدان نے جیب سے سیگرٹ نکالتے لبوں میں دبایا اور اس کو سلگایا تها دو لمبے کش لینے کے بعد دهواں ہوا میں چهوڑا اور وہ سلگا ہوا سیگرٹ تهوڑا فاصلے پر کهڑے ہوتے اس پیٹرول پر پهینکا تها دو سیکنڈ میں آگ بهڑکی تهی
وہ پانچوں لوگ فاصلے پر کهڑے ہوتے اس آگ میں جهلستی فیکٹری کو دیکهنے لگے وجدان پلر کے ساتھ ٹیک لگائے سینے پر ہاتھ باندهے کهڑا تها جبکہ وہ چار آدمی وجدان سے دس فٹ کے فاصلے پر کهڑے تهے

“تمہاری زندگی کی بربادی آج سے ایس پی وجدان سکندر شروع کرتا ہے آج سے تم دیکهو گے برباد ہونا کسے کہتے ہیں….”
ان بهڑکتے ہوئے شعلوں کو دیکهتے وجدان بڑبڑایا تها
“یہ اس کے بدلے جو تم نے مجهے خریدنا چاہا تم نے مجهے معمولی سمجها تم ابهی وجدان سکندر سے واقف نہیں….”
اپنا نام لیتے ناجانے کیوں اس کے لب مسکرائے تهے

“سکندر کی عالی اس وقت کیا کررہی ہوگی…”
وہ مسکراتے ہوئے خود سے بڑبڑایا اور فون نکالا تها جہاں کهڑی ایک کا ہندسہ کب کا عبور کر چکی تهی یہ جانتے ہوئے بهی کہ وہ اس وقت سو رہی ہوگی اس نے فون ملایا تها
چار بیل جانے کے بعد فون اٹها لیا گیا تها اور نیند میں ڈوبا “ہیلو” گونجا تها

“عالی سو رہی تهی….؟”
اس نے نچلا ہونٹ دانتوں میں دباتے ہوئے کہا
“نہیں اس وقت میں کهیتی باڑی کررہی تهیں….”
ٹائیم دیکهتے وہ غصے سے بولی تهی
“اووہہ مطلب شکر نیند خراب نہیں کی….”
اس کی مسکراتی آواز اس کے کانوں میں گونجی تو عالیاب نے فون کو گهورا تها
“سکندر میں سورہی تهی آپ نے میری اتنی میٹهی نیند برباد کی ہے…”
“اور جو تم میری ہر رات نیند برباد کرتی وہ کیا ہے…؟”
جذبات سے عاری آواز گونجی تهی جو کہ عالیاب کے اوپر سے گزری تهی
“سکندر مجهے سونا ہے…”
وہ جمائی لیتے ہوئے بولی تو سکندر مسکرایا
“اچها سو جاو یہ تو پوچهنا نہیں کہ سکندر کیوں جاگ رہا ہے اس وقت….”
وہ یہ جانتے ہوئے بهی کہ عالیاب نہیں سمجهے گی زمین کو دیکهتے گلا کر بیٹها تها دوسری جانب سے خاموشی ہوئی تهی یقیناً وہ سو چکی تهی اس نے گہرہ سانس لیتے فون بند کیا اور آسمان کی جانب دیکها
“اللہ اسکو مجهے دے دے….”
خود سے بڑبڑاتا آدمیوں سے اشارہ کیا اور وہاں سے روانہ ہوئے تهے
…………………………………
“زہے نصیب اس وقت جاگ رہی ہو…..؟”
مصطفی کہ آنکھ کهلی تو آبریش کو سونے کی بجائے بیٹهے پایا تو آنکهیں زور سے بند کرتا اٹها تها
“کیا ہوا سب خریت تو ہے…؟”
وہ بیٹھ کر اس کے کندهے پر سر رکهتے آنکهیں بند کرتے ہوئے بولا
“مجهے بہت سی باتیں سونے نہیں دیتی مصطفی….”
اس نے اس کے سر کو دیکهتے ہوئے کہا
“مثلاً کیسی باتیں….”
وہ اس کا ہاتھ اسکی گود سے اٹهاتے بولا البتہ پوزیشن ویسے ہی تهی
“دعا….”
دعا کے نام پر وہ سیدها ہوا تها نیند بهی ایک دم سے اڑ گئی تهی
“کیا دعا…؟”
“دعا سب حقیقت جانے کی اسکا ریکشن کیا ہوگا وہ سب قبول کرئے گی ہماری بات سمجهے گی ایسی بہت سی باتیں…..”
وہ نم آنکهوں سے بولی
“جب وقت آئے گا جان مصطفی سب سنبهال لوں گا تم فکر نہیں کرو جو دعا کے ساتھ ہوا وہ سب ایکسپٹ کرنا مشکل ہے لیکن ہم سب ہیں نہ سب سنبهال لیں گے ….”
وہ اس کا ہاتھ لبوں سے لگاتے ہوئے بولا

“اور سعد….؟”
اس نے اسکی جانب دیکهتے ہوئے پوچها تو وہ بهی چہرہ جهکا گیا
“سعد اپنی مرضی کا مالک ہے آخر میں جیسا اس کا فیصلہ ہو ہمیں منظور ہے وہ اپنی زندگی کا خود مالک ہے…..”
وہ گہرہ سانس لیتے ہوئے بولا
“مصطفی سب سنبهال لیجیے گا ورنہ قیامت برپا ہو جائے گی سب بکهر جائے گا سب ٹوٹ جائے گا بکهر جائے گا مصطفی میں شروع دن سے اس آنے والے دن کے لیے ڈر رہی ہوں مجهے نیند نہیں آتی مصطفی….”
وہ سسکیاں لیتے ہوئے بولتی مصطفی کی آنکهیں نم کر گئی تهی مصطفی نے اس کا سر سینے سے لگایا تها اور اس کی بنیائن مٹهی میں جکڑے سسک رہی تهی نیند اب ان سے کوسوں دور ہو گئی تهی آبریش کی سسکیوں کو سنتے اس کی باتوں کو سنتے مصطفی کی سوچیں بهی کہیں گم ہو گئیں تهی
…………………………………
“السلام و علیکم بریکنگ نیوز داور خان کی شراب کی فیکٹری جو پچهلے دو دنوں سے بند تهی رات کسی انہونی کے باعث آگ میں جهلس کر راکھ ہوگئی جی ہم بتاتے چلیں داور خان کی فیکٹری آگ میں جهلس گئی ناجانے یہ کسی کی سوچی سمجهی سازش ہے یا کوئی قدرت کا حادثہ اس سے سب بےخبر ہیں مزید خبریں جانے کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیں جیو نیوز سے آپکا نمائندہ علی اکبر….”
دیوار پر ٹنگی بڑی ایل ای ڈی پر نیوز اینکر اپنی زبان کے جوہر دیکهاتا رات کا ہوا واقع بیان کررہا تها

داور خان جو صبح ہی اس خبر کو سنتے پاگل ہو رہا تها اب اس ایل ای ڈی پر اس کی بربادی کی خبری سنائے جانے پر وہ غصے سے آگ بگولا ہوتا گلدان اٹها کر اس پر دے مارا تها ایل ای دی چکنا چور ہو گئی تهی
“کاکا پتا کرو یہ کس نے کیا ہے کون ایسی جرات کرسکتا ہے کس کی ایسی ہمت….”
وہ کاکا کا گریبان پکڑتے ہوئے چلایا تها
“سر ہم کوشش…”
“کوشش میری جوتی کس کی ہمت ہوئی آج تک کسی نے ایسی جرات نہ کی تهی…”
وہ اس کی بات بیچ میں کاٹ کر بولا اور اس کو پیچهے دهکا دیتے اپنے بال مٹهیوں میں جکڑے تهے اس کو بہت سے کڑوڑوں کا نقصان ہوا تها کچھ ہی گهنٹوں میں کڑوڑوں کی ڈیلز کینسل ہوگئیں تهی
…………………………………
“وجدان کہاں پر ہے….؟”
صبح ناشتے میں وجدان کے علاوہ سب کو موجود پاکر شہرام نے پوچها تها
“وہ ایک کام سے گیا ہے کہتا رات تک آجاوں گا…..”
پریہان پراٹها عالیاب کی پلیٹ میں رکهتے ہوئے بولی
“مجهے آیا تها آدهی رات کو فون نیند خراب کیا میری…”
وہ منہ بناتے بولی تو سب نے اسکی جانب دیکها
“کیا کہ رہا تها…؟”
ذوہان نے دعا کی پلیٹ سے انڈا اٹهاتے ہوئے پوچها
“کہتے سو تو نہیں رہی تهی عالیاب اب بندہ پوچهے رات ایک دو بجے فون کریں گے تو انسان سو ہی رہا ہوگا حد ہے زرا عقل نہیں ماموں آپکے بیٹے میں….”
پہلے ذوہان کو جواب دیتے آخر میں شہرام سے منہ بنا کر بولتی سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکهیر گئی تهی
…………………………………