Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

ملک ویلا کے سب افراد لاونچ میں بیٹهے شادی کی پلیننگ میں مصروف تهے تو کچھ آنکهیں ٹهنڈی کرنے میں مصروف تهے اور آنکهیں ٹهنڈی کرنے کا کام وجدان سکندر بخوبی سر انجام دے رہا تها
“میں نے خاور سے بهی بات کی ہے اسے کوئی اعتراض نہیں وہ کہتا ہے جیسے وجدان کی دلی خواہش وہ نکاح پہلے کرنے پر راضی ہے…”
شہرام نے وجدان کی خواہش وہاں موجود سب افراد کے گوش گزار کی تهی
“جمعہ کو رکهنے کا سوچ رہا ہوں پاک دن ہے پاک کام سر انجام ہو جائے پهر اگلے روز بارات ہو جائے گی تمہارا کیا خیال ہے وجدان..”
شہرام ان سب سے کہتا وجدان سے اخر میں پوچها جس نے اثبات میں سر ہلایا نظریں عالیاب پر مرکوز تهیں جو پارس کے ساتھ لگی ہوئی تهی شہرام نے اپنے اس ثبوت کو گهورا تها

“وجدان میں تم سے مخاطب ہوں…؟”
شہرام نے چباتے ہوئے کہا سب نے مسکراہٹ دبائی تهی وہ ریلیکس سا بیٹها مسلسل عالیاب کو دیکھ رہا تها عالیاب بهی ان کی جانب متوجہ ہوئی وجدان کو خود کو تکتا پا کر نروس ہوئی تهی

“جیسا مناسب لگے ڈیڈ…”
وہ ابهی بهی نظریں ہٹانے سے قاصر تها
“عالیاب بیٹا جاو یہاں سے…”
مصطفی نے مسکراہٹ دبائے کہا تو وجدان فورا سیدها ہوا
“نہیں نہیں بتائیں کیا بات ہے…”
وہ فوراً سیدها ہوتا شہرام سے مخاطب ہوا سب کا قہقہ گونجا تها شہرام نے اس ک خونخوار نظروں سے گهورا جب کہ عالیاب کا شرم سے سر جهک گیا تها وہ یہ تو جانتی تهی وجدان بہت بےباک ہے لیکن اتنا بےباک ہو گا اس کو اندازہ نہ تها وہ مزید کچھ بولتا کہ حارز کی پرجوش سی آواز میں سلام گونجا سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکهری اور خوشدلی سے سلام کا جواب دیا تها
حارز مصطفی شہرام رامز اور احتشام سے ملتا بیٹها تها جب کہ عذوبہ بهی عورتوں سے ملتی اور مردوں کو سلام کر کے بیٹهی تهی

“خالو جان رباب نہیں آئی…؟”
عالیاب نے رباب کو اندر داخل نہ ہوتے دیکھ اداسی سے پوچها
“نہیں بیٹا…”
اس نے مسکرا کر جواب دیا تو وہ اداسی سے منہ بنائے پارس کو دیکها جو اس سے زیادہ اداس لگ رہا تها اس کی شکل دیکهتے عالیاب کی ہنسی نکل گئی
“عالیاب ادهر آو بیٹا….”
عذوبہ کے بلانے پر وہ اٹهتی اس کے پاس بیٹهی تهی تهی عذوبہ نے اسے پیار کیا تها اور اس سے باتیں کرنے لگی

“خالہ جان خالو جان آپ پلیز رباب کو ایک ہفتہ دو ہفتے پہلے بهیج دیں…”
وہ یاد آنے پر عذوبہ کا بازو تهامے ضد کرتے بولی
“ارے اتنی جلدی کیوں…؟”
حارز نے مسکراہٹ دبائے کہا
“میری بیسٹ فرینڈ ہے کزن ہے میری شادی ہے تو اسے پہلے موجود ہونا چاہیے نہ…”
“ہاں بهئی اسے ہونا چاہیے موجود….”
عذوبہ اس کے گرد بازو حمائل کرتے بولی تو اس نے زور سے اثبات میں سر ہلایا
“ہاں جی ہم کون سا اپنی پیاری بیٹی کو انکار کر رہے ہیں جیسا وہ کہے ویسا کر لیں گے….”
حارز کی بات پر اس نے یاہووو کا نعرہ لگایا تها

“اچها شادی قریب ہے تو رواج کے مطابق وجدان عالیاب سے نہیں مل سکتا…”
ذوہان کی بات پر اس نے کها جانی والی نظروں سے دیکها تها
“ہاں ویلڈن سن(بیٹا) تم نے یاد کروا دیا…”
شہرام کی بات پر اس نے شرٹ کا کالر اٹهائے وجدان کو آنکھ ماری جو آنکھوں سے ہی اسے قتل کرنے کے در پر تها

“تو وجدان تم اب شادی تک عالیاب سے مل نہیں سکتے…”
رامز نے بهی شرارت سے کہا
“نہیں جی میں نہیں مانتا اس بات کو میں ملوں گا دیکهتا ہوں کون روکتا ہے…”
وہ دهڑلے سے بولا
“میں روکوں گا ڈونٹ وری گائز میں عالیاب اور بهائی کے بیچ کی دیوار بنوں گا…”
پارس ہاتھ اٹهائے بولا تها
“تم چهٹانکی بهر کے انسان تیری تو آیا بڑا دیوار بننے توڑ کے رکھ دوں گا دیوار…”
وہ دانت کچائے بولا تو اس نے ہاتھ نیچے کیا اس کو وجدان کے تیور اچهے نہیں لگے ایویں سسرالیوں کے سامنے شوخے بن کر اپنی عزت کا کچرہ کروانے کا کوئی ارادہ نہیں تها

“ٹهیک ہے بیٹا وجدان تمہارے سپرد تم نے ملنے نہیں دینا دونوں کو…”
شہرام نے پارس سے کہا
“سیریسلی…؟”
وجدان نے آئبروچکائے پارس کو دیکهتے پوچها جس نے مظلومیت سے شہرام کو دیکها سب کے چہرے مسکراہٹ سے بهرپور تهے
“یہ کچھ کہے تو تم نے مجهے بتانا ہے پارس میں دیکھ لوں کا اس ایس پی وجدان سکندر کو…”
شہرام کی بات پر وجدان کی بهی بےساختہ ہنسی نکلی تهی

“ابهی شادی میں دن ہیں ڈیڈ اتنا ظلم مت کریں…”
وہ مظلوم سی شکل بنائے بولا
“ہم اپنی عالی جان کا بیڑا گرک نہیں کرنا چاہتے…”
زوہان نے لقمہ دیا اس نے پهر سے گهورا تها
“تم تو اپنی بکواس بند ہی رکهو تمہارا حساب بعد میں لگاتا ہوں گندا کیڑا…”
اس کی سڑی سی بات پر زوہان سمیت سب کا قہقہ گونجا تها

“بس بهائی جب جب تم عالیاب سے ملو گے شادی کا ایک دن بڑها دیا جائے گا…”
ذوہان نے پهر شرارت سے کہا تو وہ صدمے سے اسے دیکهنے لگا
“ہاں یہ ڈن ہے ایسا ہی ہو گا…”
احتشام نے حامی بهری سب نے زوہان کی بات پر ہاں میں ہاں ملائی تهی

“بس لگ گیا پتا تم میرے بهائی ہو ہی نہیں سکتے اتنے ظالم تم میں ضرور یا تو جن ہے یا کسی ڈاکٹرنی کی روح…”
اب گڑبڑانے کی باری ذوہان کی تهی
“ارے جن کی روح تهی مجھ میں اب نکل گئی ہے ورنہ اتنا ظالم اپنے بهائی کے ساتھ کیسے ہو سکتا ہوں میری جان جتنا مرضی ملو عالیاب سے…”
وہ آنکهوں سے زبان بند رکهنے کا اشارہ کرتا بولا تو سب پهر سے ہنسے تهے
…………………………………
وجدان جب بهی عالیاب سے ملنے کی کوشش کرتا پارس دیوار بن کر بیچ میں کهڑا ہو جاتا اگر وجدان اس کا دماغ ٹهکانے لگانے کی کوشش کرتا تو وہ شہرام کو آواز دے دیتا وجدان کا بس نہیں چل رہا تها وہ پارس کو کہیں ڈوریمون کے گیجٹ سے غائب کر دے پر افسوس وہ ایسا نہیں کر سکتا تها

وجدان ابهی بهی ڈیوٹی سے گهر آیا تها کہ اس کو سیڑهیاں اترتی عالیاب نظر آئی جو فون پر یقیناً دعا سے بات کرنے میں مصروف تهے وجدان نے اردگرد اس منہوس اولاد کو دیکها یعنی پارس کو جو موجود نہ تها منہوس اولاد کا لقب بهی وجدان نے ہی اسے دیا تها عالیاب وجدان کو اپنی طرف آتا دیکھ اس نے فون کاٹا اور منہ پر دونوں ہاتھ رکهے تهے

“یار عالیاب…”
ابهی وہ اتنا ہی بولا تها اور مزید قریب جاتا کہ پارس ناجانے کہاں سے جن کی طرح بیچ میں حائل ہوا تها
“پارس اگر تم چاہتے ہو سلامت رہو تو جاو یہاں سے…”
وہ کڑے تیوروں سے بولا پارس نے تهوگ نگلا تها لیکن ہمت کرتے نفی میں سر ہلایا وجدان نے اسے گهورا تها
“سکندر ماموں جان نے کہا ہے آپ نہیں مل سکتے تو مت ملیں…”
وہ ڈوپٹے سے منہ ڈهکے بولی اور اوپر کی جانب بهاگی تهی
“عالیاب…”
وہ پیچهے جاتا کہ پارس دوبارہ بیچ میں آیا

“تم قتل ہو پارس…”
وہ کڑے تیوروں سے اس کی جانب بڑها
“مم-ماموں شہرام ماموں…”
اس کو اپنی جانب بڑهتا دیکھ وہ اونچی چلایا تها وجدان نے دانت کچائے اس کو دیکها تها سب اس کا ناجائز فائدہ اٹها رہے تهے
“دیکھ لوں گا سب کو ایک بار نکاح ہونے دو چن چن کر بدلے لوں گا پارس میاں تم سے بهی…”
منہ پر ہاتھ پهیر کر کہتا وہاں سے چلا گیا اس کا موڈ ٹوٹلی اوف ہو چکا تها وہ عالیاب کے لیے رنگ لایا تها لیکن اسے دینے کا موقع نہیں مل رہا تها وہ غصے سے خولتا گهر سے ہی نکل گیا
…………………………………
ذوہان اور وجدان شاپنگ مال میں شاپنگ کی غرض سے آئے ہوئے تهے اور مسلسل ایک سے دوسری چیز ریجیکٹ کرنے میں مصروف تهے
“یار ذوہان یہ دیکهو سعد بهائی کے لیے اچها لگے گا نہ…”
اس نے ذوہان کو مخاطب کرتے کہا ذوہان نے اس چاکلیٹ رنگ کے کڑتے کو دیکها جس کے گلے اور بازووں پر کڑہائی تهی
“ہاں بهائی بہت ہینڈسم لگیں گے…”
ذوہان مکمل جائزہ لینے کے بعد بولا تو وجدان نے تصویر کهینچتے سعد کو سینڈ کی تقریباً دو منٹ بعد ہی سعد کی وڈیو کال آگئی تهی

“یہ کس کا سوٹ ہے…؟”
وہ اس سے وڈیو کال پر پوچهنے لگا
“بهائی آپ کے کیے پسند آیا ہے دیکهیں فٹ ہو گا آپ کو…”
اس نے بیک کیمرہ سوٹ کی جانب کرتے کہا
“ہاں بالکل ٹهیک ہے…”
اس نے بهی مکمل جائزہ لیتے کہا
“چلیں ٹهیک ہے اور کب تک آئیں گے زیادہ دن نہیں رہ گئے…؟”
اس نے ذوہان کو سوٹ پیک کرنے کا کہتے سعد سے پوچها
“بس کچھ دن پهر تمہارے پاس ہونگے…”
اس نے مسکرا کر کہا اور کرسی سے اپنا کوٹ اٹهایا تها اس نے ابهی ایک میٹنگ اٹینڈ کرنی تهی اور پهر گهر جانا تها
مزید باتوں کے بعد کال کاٹ دی تهی سعد میٹنگ کے کیے چلا گیا تها جب کہ وجدان اور زوہان دوبارہ شاپنگ میں مصروف ہو گئے تهے اس کو تقریباً دو گهنٹے ہو گئے تهے شاپنگ کو اور صرف دو سوٹ خریدے تهے ان کی شاپنگ تو عورتوں سے بهی بری تهی
…………………………………

سعد رات تقریباً سات بجے گهر آیا تها وہ جب سے گهر آیا تها اسے دعا کا موڈ اوف لگ رہا تها کبهی وہ دروازہ زور سے بند کرتی تو کبهی کئی چیز پٹختی تو کبهی کوئی چیز
ابهی بهی وہ غصے سے اس کو گهورتی جا رہی تهی کہ پیر زور سے بیڈ کے کونے پر لگنے کی وجہ سے کراہ اٹهی تهی
“ارے بیگم کیا کرتی ہو یار کیا ہوا ہے جب سے آیا ہوں موڈ اوف ہے کبهی کوئی چیز پٹختی ہو تو کبهی کوئی چیز ابهی بهی دیکهو چوٹ لگوا لی…”
وہ فوراً آگے بڑهتا سنجیدگی سے بولا اور اس کے سرخ ہوتے پیر کو دیکها وہ آنکهوں میں نمی لیے اس کی جانب دیکهنے لگی

“کیا بات ہے بتاو…؟”
وہ اس کی گال سہلاتے پیار سے بولا اور وہ جو نم آنکهیں لیے بیٹهی تهی آنسووں کو روک نہ سکی تهی
“یار کیا بات ہے کیوں رو رہی ہو..؟”
وہ مزید قریب ہوتا اس کے آنسووں صاف کرتا پریشان سے بولا
“ایک ہفتہ رہ گی ہے بهائی کی شادی میں ہم ابهی تک یہاں ہیں…….”
وہ رونے کے درمیان بولی
“تو اصل وجہ یہ ہے…؟”
اس نے آئبرواچکائے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا اس نے گہرہ سانس لیا تها

“تو اس میں رونے والی کون سی بات ہے…؟”
“میرے بهائی کی شادی ہے اور میں ابهی تک یہاں ہوں مجهے تو جب تاریخ رکهی گئی تهی تبهی وہاں موجود ہونا چاہیے تها…”
وہ اس کے سینے پر مکا مارے خفگی سے بولی
“چلے جائیں گے…”
وہ اس کے بال کان کے پیچهے کرتا بولا
“کب جب ان کے بچے ہو جائیں گے…”
وہ تپ کر بولی تو وہ بےساختہ مسکرایا تها
“آئیڈیا برا نہیں…”
وہ اس کو مزید تپا گیا تها
“بات ہی مت کریں مجھ سے بهاڑ میں جائیں…”
وہ غصے سے اٹهتے ہوئے بولی لیکن سعد نے ہاتھ کهینچتے اس کو فوراً بیٹهایا تها

“شادی سے پہلے پہنچ جائیں گے کیوں روتی ہو اس بات سے….”
وہ اس کے بال سہی کرتے بولا
“شادی میں بهی رہنے دیں جانے کو فائدہ جب بهائی کی شادی ہونے کے باوجود مہمانوں کی طرح ٹائیم کے ٹائیم جانے کا…”
وہ مزید تپ کر بولی
“میری ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کام ہے مجهے یہاں چلے جائیں گے…”
وہ اب سنجیدگی سے بولا
“نہیں آتی سمجھ نہ ہی مجهے سمجهنا ہے…”
وہ اس کو پیچهے دهکا دیتے بولتی لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا تها اور بےتاثر نگاہوں سے اس کی جانب دیکهنے لگا

“دعا اب تمہارا ایک آنسووں نہ گرے اٹهو کهانا کهاو اور میڈسن لے کر سو جاو…”
وہ سخت لہجے میں بولا
“مجهے نہیں کهانا نہ کهانا اور نہ میڈسن…”
وہ اس کے لہجے کو اگنور کرتے بولی
“میں دوبارہ اپنی بات نہ دہراوں دعا اٹھ جاو ابهی اٹهو…”
اس کو ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ وہ آخر میں دهاڑا تها وہ دل و جان سے کانپتی اٹهی تهی اور ایک خفگی بهری نگاہ اس پر ڈالتی کمرے سے نکل گئی تهی سعد نے بالوں کو مٹهیوں میں جکڑے خود کو کمپوز کرنا چاہا تها
…………………………………
سعد نے بیڈ پر دعائیوں کے زیر اثر سوئی دعا کو دیکها اس نے سب ریڈی کر لیا تها سعد نے ٹائیم دیکها جہاں گهڑی بارہ بجا رہی تهی وہ اٹها اور دعا کو گود میں اٹهاتا باہر ایا تها اور احتیاط سے گاڑی میں بیٹهایا تها پهر گهر کو لاک کرتا خود بهی گاڑی میں بیٹها تها تقریباً آدهے گهنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد وہ ائیرپوٹ میں پہنچا تها اور ایک نظر سوتی دعا کو دیکهتے وہ گاڑی سے نکلا تها

“بہت تنگ کیا تم نے دعا سعد اب تمہاری باری ہے…”
شیطانیت سے مسکراتا فون نکالا تها اور کسی کو کال ملائی تهی
“ہاں گاڑی لے جاو جو چاہیے تها وہ بهی گاڑی میں موجود ہے میں کراچی جا رہا ہوں بهائی کی شادی ہے میرے…”
آگے سے کچھ کہا گیا تو اس نے کال بند کی اور گہری سانس لیتے گاڑی میں سوئی دعا کو دیکها اور پهر سے مسکرایا تها آنکهیں کسی شیطانیت کا پیغام دے رہیں تهی
…………………………………
دعا کی آنکھ اپنے حلق میں چبهتے کانٹوں کی وجہ سے کهلی تهی اس نے آنکهیں ملتے اپنی آنکهیں کهولیں لیکن اپنے گهر کی بجائے ایک انجان جگہ دیکھ کر اس کے چودہ طبق روشن ہوئے اور بےساختہ اس نے چینخ نکلی تهی
…………………………………
السلام و علیکم! کیسے ہیں سب..؟ کچھ سینز لکهنے والے رہ گئے ہیں وہ نیکسٹ قسط میں لکهوں گی اور وہ قسط کوشش ہے رات میں دوں ورنہ کل لازم آجائے گی میں پکا نہیں کہتی رات میں دوں گی لیکن رات نہیں تو کل آجائے گی اور وہ قسط شارٹ ہو گی اور اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں لائیک کمنٹ اینڈ شئیر بهی لازمی کریں شکریہ