No Download Link
Rate this Novel
Episode 47
وجدان ڈی ایس پی صاحب کے گھر میں موجود ڈرائینگ روم میں اکیلا بیٹھا اپنا موبائل دیکھ رہا تھا اور ساتھ ڈی ایس پی صاحب کا انتظار کر رہا تھا
“سوری فار ویٹ ینگ مین۔۔۔۔”
ڈی ایس پی صاحب اندر داخل ہوتے بولا اس کے ساتھ ایک اور آدمی تھا
“اٹس اوکے سر۔۔۔”
وجدان کھڑے ہNoوتے اس آدمی کو جانچتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا تھا
ڈی ایس پی کے بیٹھنے پر وجدان بھی بیٹھا تھا اور وہ آدمی بھی
“تمہیں معلوم ہے تمہیں یہاں بلانے کی خاص وجہ کیا ہے۔۔۔۔۔؟”
سرونٹ کے چائے پیش کرنے کے بعد ڈی ایس پی وجدان سے بولا تھا جس نے نفی میں سر ہلایا تھا
“ان کانٹر کرنا ہے کسی کا۔۔۔”
اس کی بات پر وجدان نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا
“کس کا۔۔۔؟”
“داور خان کا۔۔۔۔”
ڈی ایس پی تھوڑا آگے ہوتے راضدرانہ انداز میں بولا تو وجدان ایک دم سے چونکا تھا ماتھے پر نمودار ہوتیں لکیریں غائب ہوئیں تھی اور ایسے دیکھا جیسے وہ اس کی بات کا مطلب سمجھ رہا ہو
“جو میں نے سنا کیا سہی سنا۔۔۔؟”
اس نے تصدیق کرنا چاہی تو اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا وجدان کے لب ہولے سے کھلے تھے اور زہن میں ہزار سوچوں نے ڈیرا جمایا تھا پھر ڈی ایس پی کی جانب متوجہ ہوا جو ابھی بھی بول رہا تھا
“میں بہت تنگ آ گیا ہوں داور خان سے بہت بےگناہوں کی جان لی ہے اس نے یہ کام مجھے پہلے کر دینا چاہیے تھا لیکن افسوس میں نے کیوں نہیں کیا۔۔۔۔”
اس کو حقیقتا بہت افسوس تھا
“لیکن سر یہ ہمارے رولز کے خلاف ہے بنا کورٹ کے آرڈرز کے ہم یہ نہیں کر سکتے۔۔۔”
وہ تیسرا آدمی پریشانی سے بولا تھا
“ایس پی وجدان سکندر نے رولز فالو ہی کون سا کئیے ہیں جو اب کرئے گا۔۔۔۔”
اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو وجدان بھی مسکرایا تھا وہ شاید اسی موقع کے انتظار میں تھا
“لیکن سر۔۔۔۔”
وہ تیسرا شخص ابھی بھی الجھا ہوا تھا
“تمہاری پریشانی کو میں اچھے سے سمجھتا ہوں شفیق داور خان کا ایک دشمن تو نہیں ہزاروں اس کی جان کے در پے ہیں جتنا اس نے زلیل کیا ہوا ہے ہزاروں بہانے بنائے جا سکتے ہیں کہ کیسے مرا یہ وہ وغیرہ کم از کم ایک ملک کے ناسور سے تو جان چھوٹے گی جو جرموں کی جڑ ہے سب یہی چاہتے ہیں کورٹ عدالت کو کیا مسئلہ ہو گا۔۔۔”
اس کے لہجے میں نفرت ہی نفرت تھی
“وجدان سکندر آپ کو کوئی اعتراض۔۔۔؟”
ڈی ایس پی ںے اب وجدان سے پوچھا جو مسکرایا تھا
“فکر مت کریں مجھے اس چیز کا بےصبری سے انتظار تھا اگر آپ اجازت نہ بھی دیتے میں پھر بھی اس کا بخوبی حل نکال لیتا۔۔۔۔”
وہ آنکھوں میں ایک الگ سی چمک لئیے بولا تھا تو ڈی ایس پی بھی مسکرایا
“یہ راز ہم تینوں کے بیچ کا ہے کوئی چوتھا اس سے واقف نہیں اور یہ راز راز ہی رہے گا ان شاءاللہ۔۔۔”
ڈی ایس پی صاحب نے چائے کا کپ اٹھاتے کہا تو ان دونوں نے بھی اپنا سر اثبات میں ہلایا تھا
………………………………
گھر میں تعبیر اور زوہان کے ولیمے کی تیاریاں زوروشور سے شروع ہو گئیں تھیں ابھی بھی سب عورتیں ایک سائیڈ پر بیٹھیں کپڑے دیکھ رہیں تھی جو انہوں نے سب سے بڑے مال سے منگوائے تھے
اور مرد حضرات ایک جانب بیٹھے اپنی خوش گپیوں نیں مصروف تھے زوہان کے ولیمے کی خوشی میں سب کم ہی اپنی کام پر جاتے تھے سوائے وجدان کے وہاں سب موجود تھے وجدان بھی اپنے کمرے میں فریش ہونے گیا تھا
“بابا میری ایک خواہش ہے۔۔۔۔؟”
زوہان گہرا سانس بھرتے کچھ بلند آواز میں بولا کہ وہاں موجود عورتیں بھی اس کی جانب متوجہ ہوئیں تھی وجدان جو گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرتا لاونچ میں داخل ہوا تھا وہ بھی اس کی بات سنتے اس کی جانب متوجہ ہوا تھا
“ہاں بیٹا بولو کیا بات ہے۔۔۔۔؟”
مصطفی نے مسکرا کر پوچھا تھا
“میں چاہتا ہوں میرا ولیمہ ڈفرنٹ سٹائل میں ہو کچھ ڈفرنٹ ہو۔۔۔۔”
اس نے اپنے دل کی خواہش ظاہر کرنا چاہی تھی
“کیسے ڈفرنٹ۔۔۔۔؟”
سب ناسمجھی سے اسے دیکھ رہے تھے تو وہ دھیرے دھیرے اپنے دل میں جاگی اس حسرت اس خواہش کو بتانے لگا تھا جس کو سنتے سب نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا پھر مسکرا اٹھے تھے
“کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں۔۔۔۔؟”
اس نے سب کو خاموش پا کر پوچھا تھا
“نہیں اس میں ہمیں کون سا اعتراض ہو سکتا جیسا ہمارا بیٹا چاہے۔۔۔”
مصطفی محبت سے زوہان کو دیکھتے بولا جس کے دل میں ان کی بات سنتے ایک سکون سا اتر گیا تھا
“کتنی سپورٹوو ہے زوہان کی فیملی۔۔۔۔۔”
تعبیر نے ان کو دیکھتے سوچا پھر نظر وجدان پر گئی جو زوہان کی گردن دبوچے ہوئے تھا
“تم مجھے ان کی فیملی کا حصہ ہی نہیں لگتے دھوکے باز…..”
وہ خود سے بڑبڑاتی اپنے سامنے موجود ان کپڑوں کو دیکھنے لگی جو ایک سے بڑھ کر ایک تھے
………………………………
رات تقریبا ایک بجے کا وقت تھا جب وجدان دھیرے سے عالیاب کا سر سینے سے ہٹائے تکیے پر رکھتا بیڈ سے اٹھا تھا اور سائیڈ لیمپ جلاتے الماری کی جانب گیا تھا اور اس میں سے یونیفام نکال کر پہنتے ہڈی بھی نکالی تھی اور ساتھ ایک نظر بیڈ پر سوئی عالیاب پر بھی ڈال لیتا تھا
وہ جو احتیاط سے سب کام کر رہا تھا کہ عالیاب کہیں جاگ نہ جائے لیکن قسمت بری کہ عالیاب کو دیکھتے اس کا دھیان نہ رہا اور ٹیبل سے ٹھوکر لگنے پر خود کو گرنے سے بچانے اس نے ٹیبل پر ہاتھ رکھے لیکن دوسرا ہاتھ اس کانپ کے ٹیبل پر موجود گلاس سے لگا اور وہ شیشے کا گلاس زمین پر گرتا چکنا چور ہو گیا تھا شور کے برپا ہوتے ہی عالیاب کی نیند میں خلل پیدا ہوا اور وہ آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگی جو گہرا سانس لیے اسے دیکھ رہا تھا
“کہاں جا رہے ہیں سکندر۔۔۔۔؟”
وہ بیڈ پر بیٹھتے بالوں جو پیچھے کرتی بولی تھی
“کام ہے تھوڑا بہت ضروری۔۔۔۔”
اس نے ہڈی پہنتے کہا تھا
“کیا کام وہ بھی اس وقت۔۔۔”
وہ گھڑی پر نگاہ دوڑاتے بولی تھی
“ہاں اہم کام اس وقت ہی ہوتے ہیں۔۔۔”
وہ مسکراتے بولا تھا
“مجھے کیوں نہیں بتایا کہ آپ نے ایسے جانا ہے اور اب چوروں کی طرح خاموشی سے جا رہے ہیں ۔۔”
اس نے خفگی سے کہا تھا
“سوچا تھا تمہارے جاگنے سے پہلے فجر تک آجاوں گا اور ایسے تمہیں اس وقت بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا۔۔۔۔”
وہ اس کے پاس آتے بولا جو خفگی سے منہ پھلائے اسے دیکھ رہی تھی
“مت جائیں اب مجھے نیند نہیں آئے گی۔۔۔۔”
اس جے قریب بیٹھنے پر وہ بولی تھی
“اسی لیے نہیں جگانا چاہتا تھا تمہیں اب دیکھو سویا نہیں جائے گا۔۔۔”
وہ اس کی گال پر دھیرے سے لب رکھتے بولا تھا
“مت جائیں اس وقت کل چلے جائیں مجھے خوف محسوس ہو رہا ہے۔۔۔۔”
وہ اس کا ایک ہاتھ تھامے بولی تھی
“بہت ضروری ہے ورنہ کس کمبخت کا دل کرتا ہے رات کے اس رومینٹک پہر میں اس قدر خوبصورت بیوی کو چھوڑ کر جائے۔۔۔۔”
وہ نرمی سے اس کے لبوں پر لمس چھوڑتے بولا تھا تو اس نے افسردگی سے اسے دیکھا
“تم سو جاو فجر تک تمہارا شوہر تمہارے پاس ہو گا اور جب تم اٹھو گی خود کو اس کی باہوں میں پاو گی۔۔۔۔”
وہ اس کے مزید قریب ہوتے بولا تھا اس سے پہلے وہ مزید کچھ بولتی وہ اس پر جھک چکا تھا اور چہرے اور گردن پر اپنا لمس چھوڑتا فورا سے کھڑا ہوتا بے لگام جذباتوں کو لگام ڈالنا چاہا تھا
“لو یو بائے خیال رکھنا۔۔۔”
دوبارہ سے جھکتا سر پر پیار کیا اور مسکرا کر چہرہ تھپتھپایا تو وہ بھی مسکرائی تھی وجدان ایک آخری نگاہ اس پر ڈالتے کمرے سے نکل گیا تھا
………………………………
“محبوب صرف تم اور میں آگے جائیں گے باقی پیچھے رہتے باہر کے ایریے میں ہونے والی گڑبڑ کو سنبھالیں گے۔۔۔۔”
اس نے گن چیک کرتے کہا
“سر سب نے کلب میں لوکیشن سیٹ کر لی ہے آپ فکر نہ کریں۔۔۔۔”
اس کی بات پر وہ اثبات میں سر ہلاتا ہڈی سے چہرہ کوور کیے ان کلب کی جانب بڑھ گئے تھے
کلب میں ہر جانب میوزک ناچ گانا تھا لڑکیاں لڑکے ایک دوسرے کی باہوں میں کوئی ہوش نہ تھا وہ ناگواریت سے ان سب کو دیکھا سیڑھیوں کی جانب گیا تھا
“سر کاکا یہاں موجود نہیں وہ دوسری بلڈنگ میں موجود ہے۔۔۔۔”
محبوب نے پیچھے سے اتے کہا تو اس نے دوسری جانب جو مڑتی سیڑھیوں کی جانب قدم بڑھائے تھے
“کون سا کمرہ ہے۔۔۔۔؟”
اس نے دوسری بلڈنگ میں موجود تین کمروں کو دیکھتے پوچھا تھا
“روم نمبر سیون لکھا ہوا ہے سر اس پر۔۔۔”
اس کی بات سنتے وجدان نے رومز کے دروازوں پر دیکھا جن میں سے آخری دروازے پر “روم سیون” لکھا ہوا تھا وجدان نے دروازے کے قریب ہوتے وہاں موجود سوراخ سے اندر جھانکا نہاں صرف چار لوگ نظر آ رہے تھے
“اندر صرف چار لوگ ہیں یقینا ان کے آدمی باہر کلب میں موجود ہونگے سب کو الرٹ کا سائرن دے دو۔۔۔۔”
اس نے دروازے پر نظر گاڑے محبوب سے کہا اور ہڈی سے اچھے سے چہرہ کوور کئیے دروازہ ناک کیا تھا
وہ لوگ جو اندر بیٹھے اہم ڈیل کر رہے تھے دروازہ ناک ہونے کی آواز پر حیرت سے دروازے کی جانب متوجہ ہوئے تھے
کاکا کے حکم پر ان میں سے ایک گن سنبھالتا دروازے کی جانب آیا تھا اور دھیرے سے دروازہ کھولا
“کون ہے تو۔۔۔؟”
اس نے ہڈی سے کوور وجدان کو دیکھتے پوچھا تھا جس کے صرف ہونٹ واضع تھے
“کاکا سے کہو میں آیا ہوں وہ مجھے جانتا ہے۔۔۔۔”
اس کی بات پر وہ حیرت سے کاکا کی جانب پلٹا جو خود پریشانی سے اس کی بات سن جر کھڑا ہوا تھا
“کاکا تو جانتا۔۔۔۔”
ابھی وہ اتنا ہی بولا تھا کہ گولی کی آواز گونجتے وجدان کی بندوق سے نکلی گولی اس کے آر پار ہو گئی تھی وہ سب جو اس اچانک ہوئی کاروائی کو سمجھتے اس سے پہلے کاکا کے علاوہ وہاں موجود باقی دو لوگوں کو بھی وہ اپنا نشانہ بنا چکے تھے کاکا نے پھرتی سے اپنی گن اٹھائی اور وجدان ہر تانی اس سے پہلے وہ چلایا وجدان کی گولی اس کی گن جو لگتے دور جا گری تھی وہ گن اٹھانے کے لیے آگے بڑھا لیکن وجدان پہلے ہی اسے دبوچ چکا تھا اور اسے نیچے گراتا اس کے سینے پر اپنا بوٹ رکھا تھا
“کون ہے تو۔۔۔؟”
موت کو سامنے دیکھتے وہ ایک دم سے چلا اٹھا تھا باہر گولیوں کا شور شروع کو چکا تھا یقینا سب الرٹ یو چکے تھے کوئی ایسا سائرن تھا جس نے کاکا کے آدمیوں کو الرٹ کیا تھا کاکا نے باہر اٹھتے شور کو سنتے دوبارہ وجدان کو دیکھا
“کون ہو تم۔۔۔؟”
اس نے دوبارہ پوچھنے پر وجدان نے اپنے سر سے ہڈی ہٹائی تھی وجدان کو دیکھنے اس کی آنکھیں ابلنے کو تھیں وہ آنکھیں پھاڑے وجدان کو دیکھنے لگا جو ہونٹوں پر دل جلانے والی مسکراہٹ لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا
“تت-تم تم یہاں کیسے پہنچے تمہیں کیسے پتا ہم یہاں ہونگے یہاں پہنچنا۔۔۔۔۔”
وہ حیرتوں کے سمندر میں غوطہ زن ہوتے بولا تھا
“اگر تم لوگوں نے جاسوس چھوڑے ہوئے ہیں تو میں بھی پولیس والا ہوں میرے بھی کچھ جاسوس تم لوگوں کے درمیان موجود ہیں۔۔۔۔”
اس نے تھوڑا جھکتے کہا تھا
“امپوسیبل اس ڈیل کے بارے میں صرف چند خاص لوگوں کو پتا تھا وہ بھی بھروسے مند لوگ تت-تمہارے جاسوس کیسے۔۔۔۔؟”
وہ خوف سے بولا تھا
“میرا جاسوس جانتا ہے کون ہے سب سے خاص۔۔۔۔”
وہ راضدرانہ انداز میں بولتا اس کا نام بتا گیا تھا اس کا نام سنتے وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگا تھا اسے یقین نہ آیا تھا
“اور جانتا ہے میں نے تجھے کیوں بتایا ہے کیونکہ آج تیری زندگی کا آخری دن ہے تیرا قصہ تمام۔۔۔”
وہ اس پر گن تانے بولتا ٹریگر دبایا تھا
“نن-نہیں وجدان نہیں مم-میں کسی کو کچھ نہیں بتاوں گا میری جان بخش دے میں۔۔۔۔”
ابھی وہ مزید بولتا کہ وجدان نے حقارت سے اسے دیکھتے گولی اس کے سینے پر مارتے اس کے الفاظوں کا دم توڑ دیا تھا اور پھر اپنی گن میں موجود تین گولیاں اس کے سینے میں اتارنے کے بعد دوسری گن نکالتے اس کی چھ گولیوں سے بھی اس کا وجود چھلنی چھلنی کر دیا تھا اس کی سانسیں باقی نہ رہیں تھی وجدان کے دل میں ایک اطمینان سا اتر گیا تھا
“محبوب اس کی ڈیڈ باڈی داود کو بھجواتے اس کو اچھے سے وارن کر دینا۔۔۔۔”
اس نے گن محبوب کو پکڑاتے کہا اور کمرے سے نکلا باہر مکمل سناٹا چھا گیا تھا سوائے اسے کے آدمیوں اور داور کے آدمیوں کی لاشوں کے علاوہ کچھ نہ تھا میوزک تک نہ تھا اس کے آدمیوں میں سے صرف دو لوگ زخمی ہوئے تھے جن کے علاج کا محبوب سے کہتے سب کو چلنے کا اشارہ کیا تھا اور محبوب سب کیمروں کو پہلے ہی اپنا نشانہ بنا چکا تھا کوئی فوٹیج کچھ باقی نہ تھا ویسے بھی وہ خود ایک پولیس آفیسر تھا ایسا کوئی سین ہوتا بھی تو وہ سنبھال لیتا
………………………………
زوہان کی صبح آنکھ کھلی تو نظر اپنے پہلووں میں لیٹی اپنی متائے جاں پر گئی جو گہری نیند میں بھاری سانسیں لیتی سو رہی تھی اس نے ہاتھ بڑھاتے نرمی سے اس کی گال کو چھوا تھا
“کب ختم ہوں گے یہ سب فاصلے کب میں تمہیں اپنی ںے قراریاں بے چینیاں بتا سکوں گا کب تم میرے لمس کی شدت محسوس کر پاو گی کب تم مجھے اپنا لمس بخشو گی یا یہ سب صرف خواہشات ہی رہ جائیں گی۔۔۔۔”
وہ اس کی گال کو انگلیوں کی پوروں سے چھوتے بڑبڑا رہا تھا اور پھر جب خود پر اختیار نہ رہا تو کمر پر ہاتھ ٹکاتے اس قریب کھینچ گیا تھا وہ نیند میں خود کو یوں کھینچے جانے پر ہڑبڑا اٹھی تھی اور خود کو یوں قریب پاتے اس کی آنکھیں پھیلیں تھی
“دن نیں قریب نہیں آتی اب کیسے باہوں میں موجود ہو۔۔۔۔”
اس نے شرارت سے کہا
“میں تو نہیں آپ خود۔۔۔۔”
وہ اس کے الزام پر منہ کھولے اسے دیکھنے لگی پھر ہوش میں آتی ٹوٹے الفاظوں سے بولی تھی
“کیا میں خود۔۔۔۔”
وہ مزید چہرہ اس کے قریب کرتے بولا تھا
“آپ پلیز ایسے مت کریں لمٹ میں۔۔۔۔”
وہ اس کو پیچھے کرنے کی کوشش کرتے بولی
“ابھی لمٹ کراس ہی کب کی ہے جو لمٹس میں رہنے کو کہہ رہی ہو۔۔۔۔”
وہ اس کو نیچے کرتا خود اوپر ہوتا اس پر جھکا تھا
“زوہان پلیز یہ سب کے لیے میں تیار۔۔۔۔”
وہ اس کو ٹالتے ہوئے بولی
“کچھ دن میں ولیمہ ہے تب تک بخش رہا ہوں ولیمے کی رات امید مت رکھنا کہ میں اپنے جذباتوں پر قفل باندھوں گا۔۔۔۔”
وہ چبا کر بولتے حسین ترین گستاخی کرتا بیڈ سے اٹھا تھا اور وہ بند آنکھوں سے اپنے ہونٹوں پر موجود اس کے لمس کو محسوس کرتی گھبرا گئی تھی
“زوہان آپ ایسا کچھ نہیں کر سکتے۔۔۔۔؟”
وہ ہوش میں آتے بولی تو وہ مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے شرٹ کے بٹن کھولنے لگا اس کو یوں بٹن کھولتے دیکھ وہ گڑبڑا اٹھی تھی
“زز-زوہان۔۔۔۔”
اس کو سارے بٹن کھولتے دیکھ وہ محض اتنا ہی بول سکی زوہان بنا اس کی کوئی آواز سنے صرف اسے دیکھے اپنی شرٹ اتار چکا تھا
بلیک بنائن میں واضع ہوتا اس کا گورا کسرتی سینہ اس کے ہوش گنوانے کو کافی تھا وہ تیز سانسوں سے اس کے خوبصورت سینے کو دیکھنے لگی
“کیا ہوا اختیار گم ہو رہا ہے۔۔۔۔؟”
وہ اس کو شرارت سے کہتا بلیک بھی اتار چکا تھا پہلے اس کی شرارت زدہ آواز اور پھر اس کے عمل سے وہ مزید شرمندہ ہوتی چہرہ پھیرتی آنکھیں سختی سے موند گئی تھی
زوہان اس کی جانب قدم لیتا اس پر جھکا تھا خود کے قریب اس کی خوشبو محسوس کرتے اس نے اس کی جانب دیکھا جو اس پر جھکا اسے اپنی آنکھوں میں قید کر رہا تھا اور وہ بھی اس کی جذبے لٹاتی آنکھوں میں کھوتی اس کے سینے پر اپنے ہاتھ رکھ چکی تھی زوہان نے اپنے سینے پر اس کے موجود ہاتھ دیکھے تو دلکشی سے مسکرایا
“ایسے مت کرو جانان پھر مجھے ہی الزام دو گی۔۔۔۔”
وہ ایک ہاتھ بیڈ کی پشت سے ٹکائے جب کہ دوسرا ہاتھ اپنے سینے پر رکھے اس کے ہاتھ پر رکھا تھا
“آپ جان بوجھ کر ایسا کر رہے ہیں نہ۔۔۔۔؟”
وہ خود پر اس کی سانسیں محسوس کرتے بولی تو اس نے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر مسکراہٹ دبائے نفی میں سر ہلایا تھا
“صرف ایک بات کا جواب چاہتا ہوں۔۔۔۔”
وہ اس کے ہاتھ پر دباو ڈالے اس کی نظروں میں اپنی نظریں گاڑے بولا تھا
“کیا بات۔۔۔۔”
اس کی سانسیں اتنی تیز ہو رہیں تھی کہ زوہان اس کی سانسیں اپنے اندر اترتا ہوا محسوس کر رہا تھا
“کیا محبت کرتی ہو مجھ سے۔۔۔۔؟”
اس کے سوال پر وہ ہوش کی دنیا میں لوٹی اور اپنی بےاختیاری پر وہ خود کو کوستی اپنا ہاتھ اس کے سینے سے ہٹانا چاہا لیکن وہ زوہان کی گرفت میں تھا
“پلیز زوہان مجھے تنگ مت کریں جان چھوڑ دیں میری۔۔۔۔”
وہ رو دینے کو تھی اور بےبسی کی تصویر بنے زوہان کو دیکھنے لگی
“اچھا۔۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے محض اتنا بولتا اس کا ہاتھ چھوڑتا پیچھے ہوا اور الماری سے اپنے کپڑے نکالتا واشروم میں گھس گیا تھا وہ اس کی فیلنگز کو بری طری تباہ کر چکی تھی
………………………………
