Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

ملک ویلا میں سب ناشتے کی ٹیبل پر موجود ناشتے سے لطف اندوز ہو رہے تهے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تهے
“وجدان تم لوگ ہنی مون پر کہاں جاو گے…؟”
سعد نے بریڈ پر جیم لگاتے وجدان سے پوچها
“نکل جائیں گے مریخ کی سیر کے لیے…”
عالیاب جو سعد کی بات سے شرمائی تهی لیکن وجدان کی بات سنتے اس کی شرماہٹ کہیں دفن ہوئی تهی اور وہ وجدان کو کڑی نظروں سے گهورنے لگی اس کی بات سنتے سب کی ہنسی چهوٹی تهی
“اچهی ریسرچیں کر کے ہی لوٹو گے وہاں سے…….”
“ہاں بالکل ثبوت کے طور پر پانچ سات سیمپل بهی لائیں گے…”
اس نے آنکھ دباتے کہا سب نے اس کی بات کا مطلب سمجهتے مسکراہٹ دبائی وہی عالیاب نے اس کے پیر پر پیر مارا لیکن وجدان کو خاصا فرق نہ پڑا تها

“بکواس ہو گئی ہو تو بتاو کہاں جا رہے ہو…؟”
ذوہان نے اس کے ہاتھ سے جیم لگا بریڈ پکڑتے کہا
“سوچ رہا ہوں سعد بهائی ساتھ اکهٹے ہی جائیں زیادہ مزہ آئے گا….”
اس نے دوسرا بریڈ اٹهاتے کہا
“تم نے واپس جانا ہے اسلامہ باد….؟”
رامز نے اس سے پوچها تها
“جی دس پندرہ دن مزید لگیں گے…”
اس نے دعا کو دیکهتے کہا جو اس کی بات سننے کے بعد دوبارہ ناشتہ کرنے لگی تهی سب دعا کے ردعمل کے منتظر تهے لیکن اس نے نارملی بیہیوو کرتے سب کو یقین دلایا کہ سعد اس کے لیے بہترین انتخاب ثابت ہوا تها

“دعا ہم آج نکلیں گے….؟”
“اتنی جلدی کیوں…؟”
دعا کی بجائے زرش بولی تهی
“امی جان کام پینڈنگ پر ہے ضروری ہے جانا….”
“سعد کل چلیں گے ابهی کل تو شادی ہوئی ہے بهائی کی….”
وہ منمناتی سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکهیر گئی تهی
“اچها کل چلیں گے…”
اس نے جوس کا گلاس بهرتے کہا

“عالیاب یونیورسٹی کب سے جوائن کرو گی….”
اب کہ پارس نے پوچها تها
“میں نے نہیں جانا ابهی جب دعا آئے گی تب جاوں گی…”
اس نے برا سا منہ بناتے کہا
“عالی میری جان یونیورسٹی ہمارے پاپا کی نہیں ایک ہفتے میں جانا شروع کرو…”
اس کی بات پر اس کا منہ مزید بگڑا تها
“ماموں جان مجهے نہیں جانا ابهی نئی نئی شادی ہوئی ہے….”
گهوم گهما کر وہ شہرام پر آئی تهی
“اب تمہارا شوہر ہے اب تو ماموں جان کی جان چهوڑتے شوہر سے کہا کرو…..”
وجدان چباتے بولتا سب کو قہقہ لگانے پر مجبور کر گیا تها
“شوہر تو ظالم ہے زبردستی کرتا ماموں جان میری بات مانیں گے مجهے پتا ہے…”
اس کی بات پر اس نے خفگی سے دیکها تها لیکن یہاں پرواہ کسے تهے وہ شہرام سے یونیورسٹی نہ جانے کی حامی بهروا بهی چکی تهی جبکہ پارس کے چهٹیاں کرنے کی بات کو کسی خاطر میں نہ لائے تهے اور کل سے ہی پارس کو یونیورسٹی جانے کی ہدایت مل چکی تهی
…………………………………
“لال لال کڑتی پہ گورا سا بدن
پیروں میں پازیباں کی ہوئی چهن..”
ذوہان جو تعبیر کو سرخ جوڑے میں دیکهتے اپنے دهیان میں گنگناتا اندر داخل ہوا تها لیکن دوسری جانب انجیکشن بهرتے سنئیر ڈاکٹر کو دیکهتے اس کا گانا بیچ میں ہی سٹاپ ہوا تها اور دوسری جانب جہاں تعبیر نے دانت پیسے وہی اس ڈاکٹر نے خشمگین نظروں سے ذوہان کو دیکها تها

“خیر تو ہے ڈاکٹر ذوہان کونسی کڑتی میں جهلکتے گورے بدن دیکھ لیے ہیں آپ نے…؟”
اس کی بات پر اس کی ہنسی نکلتے نکلتے بچی تهی
“کچھ نہیں سر بس بهائی کی شادی ہوئی ہے نہ تو وہی خوشی میں پتا نہیں کیا کیا بول جاتا ہوں…”
وہ جو منہ میں آیا وہ بول گیا تها
“شادی بهائی کی ہوئی ہے خوشی آپ کو چڑی ہوئی ہے….”
اس نے ایک آئبرواچکائے کہا

“وہی تو کہا سر پتا نہیں کیا کیا بول جاتا ہوں ابهی بهی پتا نہیں کیا بول گیا ہوں….”
وہ سر کهجائے بولتا خود ک کوس رہا تها کہ کیوں ایک نظر پورے روم میں نہیں ڈالی
“زرا زبان کو قابو میں رکهیں نہ اکثر زبان سے نکلے الفاظ جوتیاں پڑوا سکتی ہیں…”
اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو ذوہان نے آنکهیں گهمائیں اور تعبیر کو دیکها جو ایسے کهڑی تهی جیسے روم میں موجود ہی نہ ہو
“ارے سر باتوں میں لگا دیا میں یہ بتانے آیا تها کہ تهرڈ فلور میں روم نمبر 7 میں ایک پیشمنٹ ہے زرا اس کو دیکھ لیں وہ میری سمجھ سے باہر ہے…”
وہ کسی طرح اس کو یہاں سے بهیجنا چاہتا تها اس نے اثبات میں سر ہلایا اور روم سے نکلا تها اس کے جاتے ہی ذوہان نے بهرپور انگڑائی لی تهی اور سیٹی ماری تهی تعبیر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور اس کی جانب پلٹی تو وہ سینے پر ہاتھ باندهے کهڑا اسے ہی دیکھ رہا تها

“آپ سمجهتے کیا ہیں خود کو…؟”
وہ غصے سے بولی
“ڈاکٹر ذوہان مصطفی سمجهتا ہوں…”
وہ کندهے اچکائے نارملی انداز میں بولا
“میرے منہ مت لگا کریں…”
“میں پہلے بهی اس بات کی وضاحت دے چکا ہوں بهول گئی ہیں تو دوبارہ دے سکتا ہوں…”
وہ ترکی بہ ترکی بولا
“آپ چاہتے کیا ہیں مجھ سے…؟”
وہ جهنجهلا کر بولی
“ہر ہیروئن کا کامن ڈائلاگ اور ہر ہیرو کا آگے سے جواب کہ تمہیں چاہتا ہوں….”
اس کی بات پر تعبیر کو سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا کہے

“آپ پلیز مجهے تنگ مت کیا کریں…”
وہ بےبسی سے بولی
“تنگ کرنے کا حق صرف مجهے ہے یہ اجازت تو میں ہمارے بچوں کو بهی نہ دوں کہ وہ آپ کو تنگ کریں…”
وہ آج اس کو تنگ کرنے کے فل موڈ میں تها
“پلیز ذوہان…”
وہ رونے والی ہو گئی تهی
“جی میری جان…”
وہ اس کے پاس آتے دو قدم کے فاصلے پر بولا
“حد میں رہیں زبان سنبهالیں یہ جان والی بکواس دوبارہ مت کرئیے گا…”
وہ غصے سے بولی

“حد جانتا ہوں اور جو جان ہیں انہیں جان کہنے میں میری نظر میں کوئی قباحت نہیں…”
وہ بےدهڑک بولا لیکن اگلے ہی لمحے تعبیر کا ہاتھ اٹها تها اور اس کی گال پر اپنی چهاپ چهوڑ گیا تها ذوہان منہ پر ہاتھ رکهے مسکرایا اور بالوں کو جهٹکا دے کر ماتهے سے پیچهے کرتے اس کو دیکها

“محبوب کی باتیں تو پهول کا گماں لگتا ہے
ہائے ان کا تهپڑ بهی کیا کمال لگتا ہے”

وہ اس کی آنکهوں میں اپنی نیلی آنکهیں گاڑتا دهیرے سے شعر پڑهتا اسکو اپنے سحر میں جکڑ گیا تها ذوہان نے اس کی جانب قدم بڑهائے تو وہ قدم پیچهے لینے لگی کہ اس کو اپنے پشت کے پیچهے دیوار محسوس ہوئی ذوہان اس سے دو قدم کے فاصلے پر کهڑا ہوتا ایک ہاتھ دیوار پر ٹکاتے اس کی سرمے سے سجی آنکهوں میں دیکهنے لگا

“آپ جانتے ہیں میرا رشتہ ہو چکا ہے….”
وہ اس کی آنکهوں میں ہی دیکهتے پهولی سانس سے بولی
“رشتہ ہوا ہے شادی تو ذوہان مصطفی سے ہی ہو گی وہ ابهی ہر بات مزاق میں لے جاتا ہے لیکن یاد رکهنا وہ تمہیں کسی قمیت پر خود سے دور نہیں کرئے گا…”
اس کی باتیں اس پر جادو کرتی تهیں
“مت خراب کریں میری عزت…”
اس کی آنکهیں نم ہوئیں تهی اس کی بات سنتے ذوہان پل کو خاموش ہوا تها
“اپنی عزت بهی بهلا کوئی خراب کرتا ہے…”
وہ کچھ توقف کے بعد بولا تها

“میں آپ سے پیار نہیں کرتی…”
وہ دل پر پتهر رکهتے بولی
“میں آپ کو مجبور بهی نہیں کر رہا….”
وہ تعبیر کی آنکهوں میں برپا خود کی محبت کے طوفان کو دیکهتے بولا
“کر رہے ہیں مجبور…”
اس کی آنکهیں نمکین پانی کی وجہ سے دهندهلائیں تهی
“نہیں کوئی زبردستی نہیں کر رہا صرف اتنا چاہتا ہوں کہ میری محبت کو سمجهیں آپ…”
وہ پل میں تم تو پل میں آپ پر آرہا تها
“میں نہیں سمجهنا چاہتی میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں آپ سے دور میرا دم گهٹ رہا ہے…”
وہ تیز سانس لیتے بولی تو ذوہان دو سیکنڈ اس کو دیکهنے کے بعد پیچهے ہوا اور اس کو جانے کا راستہ دیا وہ بهی شاید اسی کے انتظار میں تهی وہ وہاں سے بهاگی تهی شاید وہ اس کے سامنے رو کر اپنی محبت کا اقرار نہیں کروانا چاہتی تهی
…………………………………
“سعد آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے میں آپ سے بات نہیں کروں گی کٹی ہو گئی ہماری….”
وہ اپنی تین انگلیاں اور انگوٹها فولڈ کرتے چهوٹی انگلی اس کی جانب بڑهاتے بولی سعد نے مسکرا کر اپنی بهی چهوٹی انگلی اس کے ساتھ ملائی تهی
“مطلب سچی کٹی…؟”
اس نے اپنی انگلی سے اس کو انگلی ملاتے دیکھ حیرت سے کہا اس نے اثبات میں سر ہلایا
“نہیں مجهے نہیں کرنی ہیٹ یو…”
وہ اپنی انگلی کهینچتی آگے ہوتے اس کے سینے پر ہاتھ رکهتی دباو ڈالتے بولی
“خود ہی تو کہا تم نے…”
“تو یہ بات مان رہے ہیں لیکن دوسری کیوں نہیں مان رہے مجهے نہیں جانا جہاز میں…”
وہ گندی شکل بنائے بولی

“دیکهتا ہوں کیسے نہیں جاتی جائے گا تو تمہارا پاپا بهی….”
وہ اپنے سینے پر رکهے اس کے ہاتھ کو کهینچتے بولا تو وہ اس کے اوپر آگری تهی
“ہاں سچی پاپا کو لے جائیں…”
وہ شرارت سے اس کے اوپر سے اٹهتے ہوئے بولی
“چهوٹے ابو ساتھ رومینس تهوڑی نہ کر سکتا ہوں…”
وہ شوخ لہجے میں بولا
“تو آپ مجهے رومینس کے لیے ساتھ لے کر جا رہے ہیں…”
وہ حیرانگی سے بولی تو اس نے مسکراہٹ دبائے اثبات میں سر ہلایا

“اب تو پکا پکا بات نہیں کرنی….”
وہ اب خود اس کے ہاتھ کی چهوٹی انگلی میں اپنی انگلی پهنسائے بدمزہ ہوتے بولی تو سعد ہنسا تها
“اب سمجھ آئی چار شادیوں کی اجازت کیوں ہے کیونکہ اگر ایک اپنے در سے نکال دے تو دوسرا در تو موجود ہو…”
اس کی بات پر وہ منہ کهولے اسے دیکهنے لگی
“سعد میں ٹانگیں توڑ دوں گی آپ میرے ہیں بس کسی ساتھ شئیر نہیں کروں گی اگر میں نکالوں گی تو آپ واپس میرے پاس ہیں آئیں گے کسی اور ڈائن پاس نہیں…”
وہ گهٹنوں کے بل بیڈ پر کهڑی ہوتی لڑاکا عورتوں کی طرح بولی تو وہ پهر سے ہنسا اور اپنا بازو پهیلایا تو وہ خفگی سے دیکهتی اس کے بازو پر سر رکهے لیٹی تهی

“لو یو میری جند جان…”
وہ اس کے ماتهے پر لب رکهتے بولا تو وہ بهی اس کے گرد بازو پهیلائے سر اس کے سر سے جوڑا تها اور آنکهیں موندی تهیں
…………………………………
وجدان شیشے کے سامنے کهڑا اپنی یونیفارم پہنتا ساتھ شیشے سے بیڈ پر بیٹهی عالیاب کو دیکھ رہا تها جو ہاتهوں کا پیالا بنائے اس میں اپنا چہرہ ٹکائے اسے ہی دیکھ رہی تهی
“کیا دیکھ رہی ہو…؟”
وہ شرٹ کے بٹن بند کرتا اس کی جانب مڑا تها اور اس سے پوچها
آپ آج کیوں جا رہے ہیں…؟”
وہ اداسی سے بول
“کام ہے جانان رات تک آجاوں گا…”
وہ گهٹنوں کے بل نیچے بیٹهتا اس کے گهٹنوں پر ہاتھ رکهتا بولا
“کل ہی تو شادی ہوئی ہے اور آج کام…”
وہ منہ بنائے سائیڈ سے اس کا کالر سہی کرتے بولی
“ارجنٹ ہے ورنہ عالیاب جانو کو کبهی چهوڑ کر نہ جاتا…”
وہ پیار سے بولا
“اچها اداس نہیں ہو بتاو آتے ہوئے کیا کیا لاوں کهانے کو…”
وہ اس کی اداسی دور کرنے کی کوشش کرتے بولا

“لیز، کوکو مو، چاکلیٹز، کینڈی بسکٹ….”
اور وہ ایسے ہی انگلیوں پر بہت سی چیزیں گنوانے لگی اور وجدان اس کی زیادہ فرمائشوں کو سنتا موبائل نکالتا اس میں نوٹ کرنے لگا
“بس…؟”
اس کو خاموش ہوتے دیکھ اس نے پوچها تو اس نے اثبات میں سر ہلایا
“اچها جانان چلتا ہوں رات میں جلدی آجاوں گا…”
وہ اس کی گال کو چٹا چٹ چومتے بولا تو اس کی داڑهی کی چبهن محسوس کرتے وہ مسکرائی اور پهر اس کے اٹهتے ہی خود بهی اٹهی تهی اور اس کے ساتھ ہی روم سے نکلی تهی
…………………………………
“سر آپ ایسے کیوں کر رہے ہیں….؟”
وجدان کو پولیس سٹیشن کے سامنے کهڑا تها جب محبوب بولا تها
“کیونکہ یہ ضروری ہے…”
اس نے نظر سامنے روڈ پر مرکوز کیے کہا
“کیوں سر…؟”
“کیونکہ وہ جانتے ہیں ان کی تباہی کے پیچهے ایس پی وجدان سکندر کا پورا پورا ہاتھ ہے…”
اس کی بات پر محبوب کو حیرت ہوئی
“وہ کیسے جانتے ہیں سر….؟”
“اس کو میں نے خود سے کمزور نہیں سمجها اسے اس کالی دنیا میں میری عمر سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے تو تم سمجهتے ہو وہ کسی کی باتوں پر بهی یقین کر لے گا وہ جو اس کا خاص وفادار کاکا ہے نہ اسے تو اس پر بهی یقین نہیں…”
اس کی بات پر وہ چونکا

“یس سر سمجھ گیا…”
“مجهے پتا ہے کچھ نہیں سمجهے خیر چلو…
وہ اس کے پاس سے گزرتے بولا تو اس نے دانت دیکهائے اور اس کے پیچهے گیا تها
…………………………………
“تم لوگ یہی رکو میں دیکهتا ہوں…”
وجدان اپنے ساتھ موجود تین آدمیوں کو وہی رکنے کا کہتا اپنے سامنے موجود اس تنگ گلی کو دیکها تها
“لیکن سر…”
“محبوب سمجھ نہیں آرہا تم لوگ پیچهے سے آنا تاکہ کوئی مسئلہ ہو تو سنبهل جائے میں ریڈ سگنل دوں گا تب آنا تم لوگ…”
وہ غصے سے بولا اور گلی کے اندر داخل ہوتے بنا آواز پیدا کیے چلنے لگا اور تقریباً پانچ منٹ بعد وہ ایک گهر کے سامنے رکا لیکن گهر سے کسی قسم کی آواز سنائی نہیں دے رہی تهی اس نے پلٹ کر گلی کے کونے میں دیکهنا چاہا لیکن وہ دور ہونے کے باعث سہی نظر نہیں آرہا تها
اس نے اللہ کا نام لیتے دروازہ کهولا لیکن اندر دیکهتے اسے حیرت ہوئی کیونکہ وہاں کچھ نہیں تها کوئی نہیں تها اس ک حیرت نے آن گهیرا تها کہ خود کے پیچهے بوٹوں کی آواز محسوس ہوئی تو پیچهے کهڑے لوگوں کو دیکھ کر اس نے جبڑے بهینچے تهے

“اووو تو پنچهی آخر کار جال میں پهنس گیا….”
کاکا نے مسکراہٹ دبائے کہا تو اس نے اپنا دماغ چیتے کی تیزی سے چلانا شروع کیا تها اور ہاتھ میں موجود گن پر گرفت سخت کی تهی
“بہت چهپے رستم بن گئے آخر کار ہو ہی گیا سامنا دشمن کی حیثیت سے…”
اس کی بات سنتے وجدان مسکرا اٹها تها
“تم سمجهتے ہو تم لوگوں نے مجهے ڈهونڈها کہ تم لوگوں کی تباہی کے پیچهے میرا ہاتھ ہے تو بهول ہے تمہاری…”
وہ مسکراتے ہوئے بولا
“کیا مطلب…؟”
وہ الجها تها

“وہ واچ میں نے خود چهوڑی تهی اور ہاں وہ گن بهی…”
وہ کنپٹی پر خارش کرتے بولا تو کاکا نے گهورا تها حالنکہ وجدان سے یہ سب غلطی سے ہوا تها لیکن وہ وجدان ہی کیا جو کسی کے سامنے خود کو کسی سے کم تر ظاہر ہونے دے یا یہ ظاہر کروائے کہ کوئی اسے ہرا سکتا ہے
“اس سے اس کی گن لے لو….”
کاکا نے اپ نے ایک آدمی سے کہا تو وہ وجدان کی جانب بڑها وجدان نے ماتهے پر بل ڈالے اس کو دیکها وہ آدمی وجدان کی جانب بڑها اور جیسے ہی آگے ہوا وجدان نے اپنا گن والا ہاتھ اس کے منہ پر مارا کہ وہ دور ہوا تها اور وجدان گن لوڈ کرتا ان کی جانب تانی تهی

“میری مرضی کے بنا تم لوگ گن لے لو گے بهول ہے تمہاری تم لوگ تو میری جان بهی میری مرضی کے بنا نہیں لے سکتے….”
وہ چباتے ہوئے بولا اور اس شخص کو دیکها جو دورا کهڑا ناک سے نکلتا خود صاف کر رہا تها اور اس سے پہلے وجدان ہاتھ میں موجود سگنل پر بٹن دباتا کہ گولی چلی تهی اور اس کی گن پر لگی گن کے ساتھ ساتھ الرٹ کا سگنل بهی اس کے ہاتھ سے زمین پر گرا تها وہ مٹهیاں بهینچے انہیں دیکهنے لگا

“تمیارا کام تمام…”
کاکا نے گن کوڈ کرتے اس پر تانتے ہوئے کہا اور اگلے ہی لمحے گولی کی آوا چلی تهی تهی اور گہرہ سکوت چها گیا