No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
وجدان چہرے پر رومال باندهے کب سے ایک پلر کے ساتھ ٹیک لگائے کهڑا تها وہ یقیناً اپنے شکار کا منتظر تها ساتھ اردگرد نگاہ بهی دوڑا رہا تها جہاں بہت سے لوگ تهے اس نے اپنے امڈنے والی جمائیوں کو روکا تها
“یار نیند تم مت آنا پلیز…”
اس نے اپنی آنکهیں خارش کیں تهی اور خود سے بڑبڑایا تها کہ سامنے سے آتے ایک شخص کو دیکھ کر وہ فوراً الرٹ ہوا تها وجدان نے مکمل نظریں اس شخص پر گاڑیں تهی اور پاکٹ سے چوئینگم نکالتے رومال تهوڑا نیچے کرتے منہ میں ڈالی تهی پهر رومال اوپر کیا تها اور پهر اس شخص کا پیچها کرنے لگا وہ شخص اردگرد چور نظروں سے دیکهتا اپنی منزل کی جانب گامزن تها
وہ شخص ایک کلب میں داخل ہوا جہاں رش نہ تها کیوں کہ دن کا سماں تها کلب میں رات کے وقت بہت رش جب کے دن میں اکثر ویران ہی ہوتا وجدان بهی پیچهے کلب میں داخل ہوا تها قہ شجص سیڑهیاں چڑهتا اوپر گیا اور ایک روم کے سامنے موجود گارڈ کو ایک کارڈ دیکهایا جس نے اندر جانے کی اجازت دی تهی وجدان نے اندر جانا چاہا لیکن اس نے روک دیا تها
“سر کارڈ دیکهائیں…”
“اووہہ سوری یار کارڈ گهر رہ گیا…”
وہ اپنی پاکٹس میں ہاتھ مار کر چیک کرتا افسوس سے بولا جیسے بہت افسوس ہوا ہو
“سوری سر کارڈ کے بنا اجازت نہیں…”
اس گارڈ نے مسکرا کر کہا تو وجدان نے منہ بنایا تها
“میرا یہاں آنا جانا رہتا ہے یار سب کو پتا ہے میرا…”
وہ کسی طرح اندر جانا چاہتا تها
“سوری سر جو بهی ہو جب تک مینجر اجازت نہیں دیں گے کارڈ کے بنا آپ نہیں جا سکتے ورنہ کارڈ دیکها کر چلے جائیں….”
اس کی بات سنتے وجدان نے سر میں خارش کی تهی
“کوئی نرمی نہیں ہو سکتی…”
اس کی بات پر وہ گارڈ ہنسا تها
“سوری سر میری جاب کا سوال ہے…”
وہ شرمندہ سا بولا تو وجدان نے گہرہ سانس بهرا
“یار ایک راز کی بات بتاتا ہوں کسی کو بتاو گے تو نہیں…”
وہ اردگرد دیکهتا آگے کو ہوتا راضدرانہ انداز میں بولا
“مجهے تم ایماندار لگتے ہو میں ایس پی وجدان سکندر ہوں یہ جو ابهی اندر گیا ہے نہ یہ بندہ میرے بڑے کام کا ہے تم چاہو تو تمہاری مدد سے ہم بہت سے لوگوں کی جان بچا سکتے ہیں….”
اس کی بات سن کر وہ الجهن کا شکار ہوا
“میری ڈیوٹی جا سکتی ہے میں غریب بندہ ہوں سر…”
وہ بےبسی سے بولا
“میری بات سنو یہ میرا نمبر لو اگر ڈیوٹی سے نکالے جاو تو مجهے فون میسج کرنا پرامس تم کو اس سے اچهی جاب دوں گا یقین رکهو…”
اس نے جیب سے کارڈ نکالتے اس کی جانب بڑهایا وہ کشمکش کا شکار ہوا تها پهر کچھ سوچتے کارڈ تهام لیا اور مسکرا کر دروازے سے پیچهے ہوا تها
“گریٹ مین…”
وہ اس کا کندها تهپتهپاتا بولا اور اندر داخل ہوا اندر کا تو منظر ہی الگ تها وہ ایک کمرے کم ایک بہت بڑا حال نما تها جس میں سب لوگ شراب نوشی میں مصروف تهے اس نے اپنے مطلوبہ آدمی کو دیکها اور رومال سیٹ کیا تها اور کچھ فاصلے پر کهڑا ہوا وہ آدمی دوسرے آدمی سے محوگفتگو تها
اس آدمی کے اٹهتے ہی وجدان اس کے پاس بیٹها
“کون ہو تم…؟”
اس نے شراب انڈیلتے پوچها
“کام چاہتا ہوں میں…”
اس کی بات پر وہ تلخی سے ہنسا
“کیسا کام چاہتے ہو…؟”
اس نے شراب کو لبوں کے قریب لے جاتے کہا جسے وجدان نے فوراً تهاما تها
“جو کام تم کرتے ہو وہی کام میں کرنا چاہتا ہوں…”
شراب کا گلاس لیتے واپس ٹیبل پر رکهتے بولا
“میں مجبور ہوں کیا تمہیں بهی میری طرح مجبور کیا گیا ہے….؟”
وہ حیران ہوا
“میرے پاس تمہارے لیے ایک آفر ہے…”
“میں تمہاری آفر کیوں ماننے لگا کون ہو تم…؟”
وہ آدمی کرختگی سے بولا
“یوں سمجهو اللہ نے تمہاری نجات کے لیے وسیلا بنایا ہے مجهے…”
وجدان تهوڑا آگے ہوتا آہستگی سے بولا تو اس نے حیران نظروں سے اسے دیکها
“تم کیا جانتے ہو میرے بارے میں…؟”
اس کی بات پر رومال کے پیچهے چهپے اس کے ہونٹ مسکرائے تهے
“سب جانتا ہوں اس لیے ایک آفر دیتا ہوں یقیناً فائدہ مند ثابت ہو گی…”
اس کی بات پر اس آدمی نے ناسمجهی سے اسے دیکها اور پهر وجدان کی آفر پر وہ پرسوچ نظروں سے اسے دیکھنے لگا جو اب اردگرد دیکھ رہا تها
…………………………………
دعا کب سے سعد کو دیکھ رہی تهی جو بیڈ پر آنکهیں موندے لیٹا تها وہ اس سے کچھ کہنا چاہتی تهی لیکن کیسے کہے سمجھ نہیں آرہا تها
“کیا کہنا ہے دعا…؟”
وہ آنکهیں موندے ہی بولا تو وہ گڑبڑائی تهی
“نن-نہیں…”
وہ نظریں چرائے بولی
“بتاو کیا بات ہے سن رہا ہوں…؟”
وہ اب آنکهیں کهولے اس کی جانب دیکهے بولا
“وہ مم-میں میرا مطلب ہے بهائی کی شادی ہے اگلے مہینے مم-میں بهائی کے ساتھ چلی جاوں بہت سے کام ہوں گے اور….”
“کس خوشی میں…؟”
وہ جو ابهی بول رہی تهی سعد ایک جهٹکے سے اٹھ کر بیٹهتا کڑے تیوروں سے بولا
“سعد میرے بهائی کی شادی ہے…”
وہ منہ بنائے بولی
“تو تم نے کون سا اس کے کپڑے سلائی کرنے ہیں اور ویسے بهی شادی اگلے مہینے ہے میں اکیلا یہاں کیا کروں گا میری جان ویسے بهی کونسا ہمیشہ کے لیے ہم نے یہاں رہنا ہے اگر تم ہو گی تو یہ وقت کا پتا بهی نہیں چلے گا…”
اس کی بات پر اس نے منہ بنایا اور کمرے ست باہر گئی لیکن دو منٹ میں ہی ہڑبڑا کر واپس آئی تهی
“کیا ہوا….؟”
وہ اس کو ہڑبڑاہٹ میں دیکھ کر پریشانی سے بولا
“وہ بب-باہر کوئی عورت ہے…”
اس نے ڈرتے کہا تو سعد اٹها اور باہر گیا جہاں ایک عورت تهی
“ارے آپ آگئیں ہیں…”
“آپ جانتے ان کو…؟”
دعا سعد کے پیچهے کهڑی سرگوشانہ انداز میں بولی
“میری جان یہ کهانا بنانے صفائی کروانے میں تمہاری مدد کرئے گی تم زیادہ کچھ مت کرتا بس ان سے پوچھ پوچھ کر میرے لیے کهانا بنانا باقی یہ خود کر لیں گی صفائی برتن ہر چیز تم سٹڈی پر فوکس کرو اور مجھ پر…”
آخری بات اس نے آہستہ سے کہی تو اس نے اثبات میں سر ہلایا
“جائیں آپ کچن میں…”
سعد کی بات پر وہ کچن میں چلی گئی تهی
“تمہیں کام کروانے کے لیے تو نہیں لایا میں یہاں…”
وہ اس کی جانب مڑتا دونوں کندهوں پر اپنے بازو رکهتے بولا تو اس نے چہرہ جهکایا
“سس-سعد…”
“خبردار میرا رومینٹک موڈ خراب کیا تو….”
اس کو کندهوں سے بازو ہٹاتے دیکھ وہ جلدی سے بولا تو وہ ہنسی تهی
“میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں دعا قسم سے…”
وہ اس کے سر کے ساتھ سر ٹکاتے بولا
“تم بهی کرو مجهے پیار میں اتنا برا نہیں…”
وہ آہستگی سے بولا
“ہاں آپ بہت اچهے ہیں…”
اس نے صرف دل میں سوچا زبان سے وہ خاموش تهی
…………………………………
پارس عالیاب کو مزے سے ٹی وی لاونچ میں بیٹها دیکھ اس کی جانب گیا جو مزے سے ٹی وی دیکھ رہی تهی ساتھ میکرونی سے لطف اندوز ہو رہی تهی اس کے زہن میں ایک شرارت سوجهی اور ہنسی کنٹرول کرتے معصوم سی شکل بنائے اس کے پاس بیٹها
“کیا ہوا دکهی لگ رہے ہو….؟”
وہ ایک نظر اسے دیکهتے بولی اور دوبارہ ٹی وی پر نظریں مرکوز کیں
“تمہارے لیے دکهی ہوں…”
وہ افسردگی سے بولا
“میرے لیے کیوں…؟”
وہ حیرت سے بولی
“میں کیا سب جانتے ہیں تم وجدان بهائی کو پسند کرتی ہو…”
اس کی بات پر اس کی شرمندگی سے پلکیں جهکی تهیں
“تو اس میں دکهی کیوں…؟”
“بهائی بهی محبت کرتے ہیں لیکن ماموں نے وجدان بهائی کو صاف تمہارے رشتے سے انکار کر دیا ہے…”
اس کی بات سے میکرونی کا باول اس کے ہاتھ سے چهوٹتے چهوٹتے بچا تها
“کک-کیوں…؟”
اس کا دل پل میں گهبرایا تها
“پتا نہیں یہ بات تو ماموں کو پتا ایسا کیوں کیا لیکن پری پهوپهو نے بهی منانا چاہا پر شہرام ماموں نہیں مانے اور حیرت کی بات وجدان بهائی نے بهی مزید کوئی بات نہیں کہی اب دیکهو وہ اسلامہ باد میں ہیں…”
وہ افسردگی سے بولتا عالیاب کی آنکهیں نم کر گیا تها اس نے میکرونی کا باول ٹی وی پر رکها جس کو پارس اٹهاتا کهانے لگا تها
“اب کیا ہو گا پارس…؟”
وہ نم آنکهوں سے بولی
“پتا نہیں وجدان بهائی چاہتے تو ایسا ہو سکتا تها لیکن دیکهو ماموں کے انکار پر وہ کچھ نہیں بولے اور اسلامہ باد چلے گئے….”
وہ اس کو باتوں میں لگاتا دهڑا دهڑا کهانے میں مصروف تها عالیاب کی آنکهیں برسنے کو بےتاب تهیں وہ اس کے پاس سے اٹهتی وہاں سے بهاگی تهی یقیناً وہ اب کمرے میں سمندر بہانے والی تهی
“پاگل جب سنو گی تو پتا ہے تم مجهے زندہ دفنا دو گی…”
خود سے ہنستا دوبارہ کهانے میں مشغول ہو گیا تها
…………………………………
“ﺗﻢ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺗــــــــــ ﮐﺮﺗـــﮯ ﮨﻮ ﻣـــﯿﮟ ﺟﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﺭ ﺩﻭﮞ تم ﭘﺮ❤🥰
ﻣﺠﮭــــــــﮯ ﻋﺸـــــــﻖ تم ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ””❤
اپنے پیچهے شعر کی آواز سنتے تعبیر کے قدم رکے تهے اور پلٹی جہاں زوہان منہ پر ماسک چڑهائے کهڑا تها آنکهوں سے معلوم ہوتا تها جیسے ہونٹ مسکرا رہے ہوں تعبیر نے اپنے اطراف میں دیکها جہاں لوگ تهے تعبیر اس کو بازو سے پکڑتی کمرے میں لائی جہاں مریض بیڈ پر بےہوش تها تعبیر نے قہر برساتی نظروں سے اسے دیکها
“مست نظروں سے اللہ بچائے”
اتنا گنگناتے گال پر ہاتھ ٹکائے سوچ میں ڈوبا تها
“اچها چهوڑو بهول گیا گانا…”
وہ ماسک اتارے بولا
“کیا چاہتے ہیں ڈاکٹر زوہان کیوں میری زندگی اجیرن بنائی ہوئی ہے…”
وہ غصے سے بولی
“اجیرن نہیں میں تمہاری زندگی پهولوں سے بهر دینا چاہتا ہوں…..”
وہ معصویت سے بولا
“کیا چاہتے ہیں آپ ہاں میں یہ ہوسپٹل چهوڑ دوں غصہ آتا ہے مجهے آپ کی حرکتوں سے پلیز جان چهوڑ دیں میری اللہ کا واسطہ ہے….”
وہ اس کا گریبان پکڑتی پہلے چلائی پهر بےبسی سے بولی
“میں محبت کرتا ہوں آپ سے…”
“حوس ہو سکتی محبت…”
“تعبیر….”
وہ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے تنبیہ نظروں سے بولا تو اس نے اس کو دهکا دیا تها اور روم سے نکل گئی
“ایک نمبر کا ڈهیٹ ہوں میں نہیں دوسرے نمبر پر ڈهیٹ وجدان سے بڑا کوئی ڈهیٹ نہیں ہو سکتا….”
بالوں ہاتھ پهیر کر خود سے بڑبڑاتا وہ بهی روم سے نکلا تها
…………………………………
عالیاب نے کچھ دیر رونے کے بعد اپنے آنسووں صاف کیے اور وجدان کو فون ملایا تها وجدان جو ابهی گهر میں داخل ہوا تها عالیاب کا نام فون پر جگمگاتا دیکھ وہ فریش ہوا تها
“بهائی کهانا کهائیں گے…؟”
دعا کی آواز پر وہ اس کی جانب متوجہ ہوا
“کچھ دیر میں کهاتا ہوں تهوڑا فریش ہو جاوں…”
مسکرا کر اس کے بالوں پر ہاتھ پهیرا تو وہ بهی مسکرائی فون بج بج کر بند ہو گیا تها دوبارہ فون رنگ ہونے پر وہ یس کر کے کان سے لگاتا روم میں گیا تها
“اسلام و علیکم جان سکندر کیسی ہو…؟”
بیڈ پر گرنے انداز میں لیٹتا پرجوش سا بولا لیکن آگے سے سسکنے کی آواز سنتے اس کی خوشی ہوا ہوئی تهی
“کیا ہوا رو کیوں رہی ہو کسی نے کچھ کہا ہے…؟”
وہ اب کہ پریشانی سے بولا تها
“آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے…”
وہ سوں سوں کرتے بولی
“ارے کس کمبخت نے ایسا کہہ دیا تم سے کہ وجدان سکندر عالیاب سکندر سے محبت نہیں کرتا…”
وہ ابهی بهی مزاق کے موڈ میں تها
“تو کیوں خاموش ہیں….؟”
“کس بات پر خاموش…”
وہ ایک کان کے ساتھ فون لگائے جبکہ دوسرے میں خارش کرتا بولا
“ماموں جان نے انکار کیا رشتے کو تو کیوں آپ خاموش ہو گئے شادی نہیں کرنا چاہتے آپ…”
اس کے رونے میں کمی نہ آئی تهی
“ارے یہ کب ہوا ڈیڈ نے کب انکار کر دیا…”
وہ حیرانگی سے بولا
“معصوم مت بنیں آپ جان چهڑوانا چاہتے تهے مجھ سے…”
وہ تڑخ کر بولی
“معصوم تو ہوں میں لیکن فلحال اس کو چهوڑو یہ بتاو ایسا کس نے کہا تمہیں…؟”
وہ ابهی بهی الجها ہوا تها
“پارس نے…..”
وہ ناک رگڑتے بولی تو اس نے دانت پیسے تهے
“یااللہ ایک قتل فرض کردیں مجھ پر اشد ضرورت ہے مجهے…”
وہ پارس کا تصور کرتا خود سے بڑبڑایا تها
“کیا کہا آپ نے…؟”
“بکواس کر رہا ہے پارس تم بهی کس عقل سے پیدل انسان کی باتوں میں آگئی ہو…”
اس نے خود کو کنٹرول کرتے کہا
“پارس نے آپ کا راز ظاہر کیا اس لیے کہ رہے اسے وہ بهائی ہے میرا کچھ مت کہیں اسے…”
وہ اس کی حمایت میں بولی تو وہ کان سے فون ہٹائے منہ کهولے فون کو دیکهنے لگا پهر کان سے فون لگایا تها
“مجھ پر یقین نہیں کیا…؟”
“یقین ہے لیکن آپ نے ماموں کے انکار پر راضی کیوں نہیں کیا ماموں کو…”
وہ خفگی سے بول
“ارے یار چوہیا ڈیڈ نے انکار نہیں کیا راضی ہیں وہ اگلے مہینے ہماری شادی کرنے والے ہیں میں سرپرائز دینا چاہتا تها تمہارے فیس کے ایکسپتشنز دیکهنا چاہتا تها پر اس ڈیش انسان نے سب خراب کیا…”
وجدان غصے سے دانت پیستے ہوئے بولا
“سچی ہمارے لیے راضی ہیں ماموں…”
وہ ہوش میں آتی ایک دم سے اچهلی تهی
“ہاں جی…”
اس نے منہ بنائے کہا
“تو کیا پارس جهوٹ بول رہا تها…؟”
وہ معصوم سی شکل بنائے بولی
“نہیں میں جهوٹ بول رہا ہوں…”
وہ تپ کر بولا تها
“اچها اچها غصہ مت ہوں اس پارس کو میں سبق سیکهاتی ہوں….”
وہ پارس کے جهوٹ پر برہم ہوتی بولی
“رہنے دو تم سب خراب کیا تم نے بہت اچها سرپرائز دینے والا تها پر بس اب بات مت کرو تم بهی….”
وہ بگڑے موڈ کے ساتھ بولا
“مجهے کیا پتا تها پارس جهوٹ بول رہا آپ اب سرپرائز دے دیں…”
وہ آخر میں خوشی سے بولی
“خفا ہو گیا ہوں میں بات مت کرو مجھ سے اس پارس کو تو میں دیکھ لوں گا میری طرف سے وارن کردینا…”
یہ کہتے بنا اس کی سنے فون کاٹا تها اور فون بیڈ پر پهینکا عالیاب نے رونی شکل بنائے فون کو دیکها پهر پارس کی خبر لینے اس کے کمرے کی جانب چل دی
