Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

وجدان ڈرائیونگ کرتا ساتھ محبوب سے محو گفتگو تها کہ اچانک اسکی نظر سامنے موجود وجود پر پڑی تو بےاختیار گاڑی روکی تهی اور ماتهے پر بل ڈالے سامنے دیکهنے لگا پہچان کے آتے ہی ماتهے کے بل ختم ہو گئے تهے اور اسکی جگہ حیرانی نے لے لی تهی
“محبوب بعد میں بات کرتے ہیں…”
جلدی سے سیٹ بیلٹ کهولتا محبوب سے بولا اور بنا اسکی سنے فون بند کیا تها اور جلدی سے گاڑی سے اترتا اسکی جانب گیا
“روحا….”
وجدان اسکے پاس پہنچتے بازو سے پکڑ کر اسکا رخ اپنی جانب کرتے بولا تها وہ جو کافی عرصے بعد آج باہر نکلی تهی وجدان کو دیکھ کر اسکے چودہ طبق روشن ہوئے تهے اسکا منہ کچھ قدرے چادر سے ڈهکا ہوا تها لیکن وہ پهر بهی اسے پہچان گیا تها

“روحا تمہیں کہاں نہیں ڈهونڈها میں نے کیوں فون میسجز کے جواب نہیں دے رہی تهی ایک عرصے سے تمہاری تلاش میں تها….”
وہ بنا رکے بولا جا رہا تها اور وہ دم سادهے اسکے پریشان چہرے کو دیکھ رہی تهی
“وجدان…”
وہ صرف اتنا ہی پکار سکی تهی
“بب-بازو چهوڑو سب دیکھ رہے ہیں…”
وہ اردگرد دیکهتے بکهلائی سی بولی
“روحا میرے ساتھ چلو…”
وہ اسکا بازو اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے بولا
“مجهے نہیں جانا وجدان سکندر کہیں بهی تمہارے ساتھ….”
وہ اپنا بازو چهڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی لیکن اسنے ایک نہ سنی اور اسکو گاڑی میں بیٹهاتے خود بهی بیٹهتے گاڑی لاک کی تهی

“کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ ہاں….؟”
جب دروازہ نہ کهلا تو وہ تنگ آکر بولی
“کیسی ہو…؟”
“جس انسان کے ساتھ زندگی گزارنے کا تصور کیا جائے اسکے بنا جب جینا پڑے تو انسان کیسے ہو سکتا ہے خود بتاو تم….”
وہ تلخ لہجے میں بولی
“جو ہوا اچها ہوا تها میں تمہارے ساتھ غلط نہیں کر سکتا تها…..”
“غلط کرنے کے بعد کہ رہے ہو غلط نہیں کرسکتے تهے….؟”
وہ خفگی بهرے لہجے میں بولی
“میں تمہیں ان درندوں کے حوالے تمہیں نوچنے کے لیے نہیں چهوڑ سکتا تها مجهے میرے کیے پر زرہ پچهتاوا نہیں…”
وہ ضبط کرتے ہوئے تو اس نے زخمی نظروں سے اسکی جانب دیکها
“ایسے مت دیکهو میری طرف….”
وہ اسکو مسلسل خود کو تکتا پاکر گهورتے ہوئے بولا

“میں جانتی جو تم نے کیا وہ بہت ٹهیک تها لیکن ایک بار خود کو میری جگہ پر رکهنا اور سوچنا اگر تم سے کوئی عالیاب کو چهین لے تو تمہیں کیسا محسوس ہو…”
وہ استہزایہ ہنستے ہوئے بولی تو وجدان کے دل میں ٹهیس اٹهی تهی روحا اسکے ہاتھ سے ریموٹ لیتے گاڑی ان لاک کرتے گاڑی سے نکلی تهی وہ خاموشی سے اسکی پشت کو تکنے لگا اور ایک گہری سوچ میں مبتلا ہوا تها اسکی سوچوں کا تسلسل فون پر ڈی ایس پی صاحب کی ہوتی رنگ نے توڑا ایک نظر بجتے فون کو دیکهتے اسنے گاڑی سٹارٹ کی تهی وہ تقریباً دو سال بعد روحا کو دیکھ رہا تها وہ پہلے سے مرجهائی ہوئی تهی زرد رنگت آنکهوں کے گرد حلقے سب گواہی دے رہے تهے
…………………………………
“ایک ہفتے بعد”
ملک ویلا میں سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تهے وجدان بهی اپنی ڈیوٹی میں اس قدر مصروف تها کہ صبح جلدی جاتا اور رات دیر گئے تک آتا تها اس بار تو سنڈے کو بهی اون ڈیوٹی تها ذوہان اور تعبیر کے درمیان بهی سوائے کام کے مزید گفتگو نہ ہوئی تهی سعد بهی گهر کم دیکهائی دیتا عالیاب دعا اور پارس کے اگزامز شروع ہو چکے تهے
…………………………………
عالیاب نے تقریباً دو دن لگا کر سکندر کے لیے ایک خوبصورت تحفہ خریدا تها وہ موبائل کے بدلے اس کو ایک نفیس تحفہ دینا چاہتی تهی جو دو دن کی انتهک محنت کے بعد اسکو پسند آیا تها رات کے کهانے کے بعد وہ خوشی سے تحفہ اٹهائے اسکے کمرے کی جانب قدم بڑهائے تهے
وہ کمرے میں داخل ہوئی کمرہ خالی تها اسنے اردگرد نگاہ دوڑائی تهی
“کهانے کے وقت تو سکندر موجود تهے…”
خود سے بڑبڑائی کہ اسکو واشروم سے پانی شاور چلنے کی آواز آئی
“واشروم میں ہیں…”
خود سے بڑبڑاتی تحفہ بیڈ پر رکها اور ٹیبل پر موجود کپ میں چائے دیکهی جو آدهی پی ہوئی تهی اور آدها کپ باقی تها وہ کپ اٹهائے بیڈ پر بیٹھ کر چائے پینے لگی چائے ختم ہونے کے بعد اسنے کپ واپس رکها اور جمائی لیتی بیٹهے بیٹهے ہی لیٹی تهی چهت کو تکتے وجدان کے انتظار میں کب اسکی آنکھ لگی اسکو علم بهی نہ ہوا

وجدان نہانے کے بعد تولیے سے بال رگڑتا باہر نکلا تو بیڈ پر سوئی عالیاب کو دیکھ کر وہ چونکا پهر نظر اسکے ساتھ پڑے گفت پر گئی تولیا صوفے پر پهینکتے آگے بڑھ کر اس نے گفٹ اٹهایا اور اوپر موجود کارڈ پڑا تها

“اتنا اچها موبائل دینے کے بدلے یہ ایک گفت وہ بهی میری پاکٹ منی سے….”
اسکے الفاظ پڑتے اسکے لب بےساختہ مسکرائے اور عالیاب کو دیکها جو ایک ہاتھ پیٹ پر رکهے اور دوسرا بیڈ پر رکهے مزے سے سورہی تهی اسنے وہ گفت کهولے بنا ٹیبل پر رکها اور اپنے کپ دیکها جو کهالی تها وہ مزید مسکرایا تها اور ہولے سے بیڈ پر بیٹهتا کہنی کے بل جهکے اسکے خوبصورت چہرے کو دیکهنے لگا

•° اس سے بڑھ کر اور _
کتنا تُجھے قریب لاؤں…..❤
​•° تُجھے دل♡ میں رکھ کر بھی _
میرا دل نہیں بھرتا……………..❤❤

ہولے سے شعر پڑتے اسکے چہرے کو چهونا چاہا اور ہاتھ بڑهایا لیکن ہاتھ کی مٹهی بنائے واپس پیچهے کیا تها اور اٹها تها تکیہ سہی کرتے اس پر اسکا سر رکها اور جهک کر اسکی شوز اتارتے پیر اوپر کرتے اس پر کمبل اوڑا تها اور کهڑے ہوکر اس کو دیکهنے لگا
“امتحان لیتی ہو ہر چیز کا…”
زہن میں سوچتے اپنی شرٹ اٹهائی اور پہننے کے بعد ایک نظر اس کو دیکهتا ایک فائل اٹهاتا کمرے سے نکل گیا
…………………………………
وجدان لائبریری کا دروازہ کهول کر اندر داخل ہوا تو سامنے شہرام کرسی پر بیٹها ایک کتاب کا مطالیہ کررہا تها وجدان سلام کرتا آگے آیا تها جسکا جواب شہرام نے مسکرا کر دیا وجدان بهی شہرام کے سامنے کرسی کهینچتے بیٹھ گیا تها

“کیسے ہو کام کیسا جا رہا ہے…؟”
شیرام نے چائے کا گهونٹ بهرتے ہوئے کہا اور وجدان کی جانب بڑهایا جس نے بنا دیری کیے تهاما تها
“ہر چیز بیسٹ جارہی آپکی دعائیں ہیں…”
وہ چائے کا گهونٹ بهرتے ہوئے بولا اور چائے کا مگ واپس ٹیبل پر رکها
“عالیاب بتا رہی تهی تم نے اس کو موبائل لے کر دیا ہے….”
“جی ڈیڈ اسکا ٹوٹ گیا تها…”
وہ اسکا اس وقت کا رویا رویا چہرہ یاد کرتے مسکراتے ہوئے بولا
“مطلب وہ تمہاری طرف راغب ہورہی ہے…”
“ایک بار شادی ہو جائے ڈیڈ پهر وہ مکمل راغب ہو جائے گی….”
“وہ شادی کو راضی ہوگی…؟”
اس نے کتاب بند کرتے ہوئے کہا
“ڈیڈ اسکو راضی ہونا ہوگا…”
وہ ایک جنونی انداز میں بولا

“میں تمہیں زبردستی کرنے نہیں دوں گا…”
اسنے اسکا لہجہ نوٹ کرتے ہوئے کہا
“میں جانتا ہوں…”
اسنے کہتے چہرہ جهکایا اور اپنے ہاتهوں کو دیکهنے لگا
“جو طریقہ تم نے آزمایا ہے ایس پی وجدان سکندر وہ طریقہ اچها نہیں اس سے وہ تم سے دور ہوگی تمہارے قریب نہیں…..”
شہرام کی بات پر اسنے چونک کر دیکها
“کیا مطلب…؟”
اسنے مسکراہٹ دبائے نظریں گهمائیں تهی
“میں کسی چیز سے بےخبر نہیں ریٹائر ہوا ہوں نظریں ابهی بهی چیتے سے تیز ہیں…”
اپنے باپ کی بات پر وہ مسکرایا

“اگر تم اس پر غصہ یا ڈانٹنے کی بجائے محبت سے پیش آئے تو وہ تمہاری طرف خود با خود کهینچی چلی جائے گی فون کی مثال ہی لے لو جب سے تم نے فون دیا ہے وہ تمہاری تعریفیں کرتی نہیں تهک رہی اور اب کہ رہی تهی کہ اگر گهومنے گئے تو سکندر کو بهی لے جائیں گے….”
وہ آخر میں ہنستے ہوئے بولا تو وجدان بهی ہنسا تها

“میں بهی تمہاری موم کی محبت میں ٹوٹلی پاگل تها شاید تم سے زیادہ اور میں بهی ڈرا دهمکا کر اسکو خود کے قریب کرنا چاہتا خود سے محبت کرنا چاہتا تها لیکن وہ اتنی ہی مجھ سے دور ہونے لگی….”
وہ اتنا کہ کر رکا اور وجدان کو دیکها جو مکمل غور سے اسکی باتیں سن رہا تها

“پهر میں اس سے محبت سے پیش آتا اسکو ڈانٹتا نہ، نہ ہی غصہ کرتا صرف اپنی محبت ظاہر کرتا اور وہ میری محبت میں خود قید ہونے لگی وہ مجھ سے نہیں میری محبت سے محبت کرنے لگی….”
پریہان اور اپنی داستان بتاتے کس قدر اسکے چہرے کے خوبصورت رنگ تهے وہ وجدان بخوبی دیکھ سکتا تها

“اگر میری بات مانو تو اسکو محبت کرنے پر مجبور مت کرو بس اپنی محبت نچهاور کرو دیکهنا وہ خود تمہارے قریب ہونے لگے گی اور تم سے شادی کو بهی خود راضی ہوگی…”
اسنے اسکے بالوں میں ہاتھ پهیرتے ہوئے کہا تو وہ مسکرایا تها
“چلو میں جاتا ہوں تم بهی چلو آرام کرلو…”
وہ اسکا چہرہ تهپتهپائے بولا
“میں ابهی نہیں بعد میں جاوں گا…”
کچھ دیر مزید باتیں کرنے کے بعد شہرام بولا تها
“کیوں ساڑهے بارہ ہونے والے ہیں اور اگر کام ہے تو کمرے میں جاکر ریلکس ہو کر کرو یہاں سردی ہو رہی ہے….”
“وہ دراصل ڈیڈ….”
اسنے سر کهجایا تها تو اس نے ناسمجهی سے دیکها

“کمرے میں عالیاب ہے….”
“مطلب وہ تمہارے کمرے میں کیا کررہی ہے…؟”
اسنے حیرت سے پوچها
“وہ کسی کام سے آئی تهی لیکن میں واشروم میں تها تو وہ میرے نکلنے سے پہلے سو گئی اسکی نیند خراب کرنا مناسب نہ سمجها تو میں اس پر کمبل دیتے کمرے سے آگیا یہاں…”
وہ تهوڑا سرخ ہوتے بتا رہا تها تو اسکا چہرہ دیکهتے شہرام ہنسا تها یقیناً وہ شرمندہ ہو رہا تها

“اب کہاں سوگے…؟”
اسنے اٹهتے ہوئے کہا
“ذوہان کے کمرے میں چلا جاوں گا کچھ دیر میں…”
اسنے مسکرا کر کہا تو وہ جهک کر اسکا ماتها چومتے لائبریری سے چلا گیا تو پیچهے وہ چہرے پر ہاتھ پهیرتے فائل کهولی تهی اور پهر پانچ منٹ فائل دیکهنے کے بعد بند کی تهی
“اتنی فائل نہیں دیکهی جتنہ جمائیاں آگئی ہیں…”
وہ ایک اور جمائی لیتے بڑبڑایا اور اٹها تها
…………………………………
وجدان نے ذوہان کے کمرے کا دروازہ کهولا تو پورا کمرہ اندهیرے میں ڈوبا ہوا تها دروازہ بند کرتے وہ آگے گیا اور لیمپ چلاتے بیڈ پر اوندهے منہ لیٹے ذوہان کو دیکها جو مکمل بیڈ پر پهیل کر لیٹا تها اسنے لب دانتوں تلے دبایا تها یقیناً وہ اب اسکی نیند حرام کرنے کے در پر تها
وجدان بیڈ پر تهوڑی سی جگہ پر بیٹها اور پیر سے اسکی ٹانگ کو مارتے پیچهے کیا ذوہان کو درد محسوس ہوتے آنکهیں کهولی اور نظریں ڈائیرکٹ وجدان کے چہرے سے ٹکرائیں تهی

“کیا مسئلہ ہے اس وقت…؟”
وہ نیند میں ڈوبی آواز میں بولا تها
“بہت لیٹ گئے بیڈ پر اتنا پهیل کر اب زرا تهوڑا ادهر ہو جاو سنا ہے مجهے…”
وہ اسکو ایک اور ٹانگ مارتے ہوئے بولا تو اسنے گهورا اور سیدها ہوا تها
“کیوں تمہارے کمرے کو کیا تکلیف ہے….؟”
وہ اسکو بیڈ پر لیٹتے دیکھ بولا
“اکهٹے سونے سے پیار بڑتا ہے برو تمہیں نہیں پتا کیا…”
وہ کہنی کے بل اٹهتا اسکی جانب چہرہ کیے بولا تو اسنے آنکهیں ملی اور دوسری طرف منہ کر کے لیٹا تها

“ڈاکٹر ذوہان سوگئے ہو…؟”
“یار سورہا ہوں….”
اسکی نیند میں ڈوبی آقاز گونجی
“سویا انسان کیسے بول سکتا ہے…؟”
اسنے مسکراہٹ دبائے کہا
“یار وجدان مجهے صبح فجر میں جانا ہے سونے دے یار….”
وہ منت بهرے انداز میں بولا یقیناً وہ اسکی نیند کا بهرپور فائدہ اٹها رہا تها
“اچها میرے جگر سوجاو…”
وہ اس پر زور سے ٹانگ اور ہاتھ رکهتے بولا
“اوو بهینس کی ٹانگ…”
ایک دم سے وزن پڑنے پر درد سے بلبلاتے یک دم اسکے منہ سے نکلا وجدان ہنسا تها
“مطلب نہیں سونے دو گے…؟”
وہ گردن موڑے مظلوم سی شکل بنائے بولا
“یار پیار بڑها رہا ہوں تم سوجاو…”
وہ مزید اسکے قریب ہوتے ہوئے بولا
“ٹهرکی انسان…”
وہ ہولے سے بڑبڑایا وجدان نے بهی مسکرا کر آنکهیں موندیں تهی
…………………………………
ذوہان مریض کو لگانے کے لیے ڈرپ تیار کررہا تها جب تعبیر نے اسکے سامنے لاکر ڈرپس رکهی تهیں ذوہان نے اسکی جانب دیکها جو چہرہ جهکائے اپنے کام میں مصروف تهی اسکے لب مسکرائے لیکن مسکراہٹ فورا غائب ہوئی تهی
“کیسی ہو….؟”
ناچاہتے ہوئے بهی دل کے ہاتهوں مجبور ہوکر وہ پوچھ بیٹها تها تیزی سے چلتئ تعبیر کے ہاتھ رکے تهے اس نے اس کی جانب دیکها اور پهر مریض کو دیکها جو دوایوں کے زیر اثر بےہوش تها روم میں صرف یہی دونوں تهے یا بےہوش مریض..

“کیوں آپ کو اس سے مطلب….؟”
وہ دوبارہ کام میں مصروف ہوتی بولی
“میں کوئی مطلب رکهنا بهی نہیں چاہتا آپ سے، میں آپ کے ساتھ ہر تعلق مطلب کے بغیر رکهنا چاہتا ہوں…”
وہ مریض کو ڈرپ لگاتے بولا تو تعبیر نے ان سنی کیا تها
“بہت اچهی لگتی ہیں آپ مجهے اللہ کی قسم…”
وہ ڈرپ لگانے کے بعد سینے پر ہاتھ باندهے بولا
“بالکل ویسے جیسے تمہارے بهائی نے کی تهی…”
وہ بڑبڑاتی دروازے کی جانب لگی ذوہان اسکی بڑبڑاہٹ بخوبی سن چکا تها

“کیا مطلب ہے آپکا….؟”
وہ اسکی فیلنگز تباہ کر چکی تهی
“جو بهی ہو آپ اپنے کام سے کام رکهیں….”
وہ غصے سے بولی اور جانے لگی کہ ذوہان نے بازو سے کهینچ کر سامنے کرتے خود کے قریب کیا کہ اسکو اپنے چہرے پر ذوہان کی سانسیں محسوس ہو رہی تهیں
“میرے بهائی کا ذکر کہاں سے آیا…؟”
وہ چباتے ہوئے بولا
“کیوں آپ کے بهائی نے اپنا کارنامہ آپکو نہیں بتایا ہوا یا جان کر انجان بنتے ہیں…”
وہ بازو آزار کروانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی

“کیا کیا میرے بهائی نے ہاں…؟”
“آپ کے بهائی نے بڑی آسانی سے کسی کی زندگی برباد کر دی کیا آپ نہیں واقف اس سے یا اپنے بهائی کے پیار میں اندهے اس کے ہر جرم کا ساتھ دیا اور خود بهی اسی کے جیسے دهوکے باز…”
“شٹ اپ….”
وہ دهاڑا تها کہ وہ دو قدم پیچهے ہوئی آنکھوں میں وحشت اتری تهی

“مجهے تم نے حوس پرست دهوکے باز کہا لیکن میں نے کچھ نہیں کہا لیکن اگر میرے بهائی کے بارے میں ایک لفظ بهی مزید کہا تو باخدا قسم اپنی محبت کو سائیڈ پر کئیے تمہاری جان لینے میں ایک پل کی دیری نہیں لگاوں گا…”
وہ ایک ایک لفظ چباتے ہوئے بولا تو وہ قہر آلود نظروں سے اس کی جانب دیکهنے لگی

“بہت معصوم سمجهتے ہو ذوہان مصطفی اپنے اس دهوکے باز بهائی کو ہاں تو پوچهنا اس سے روحا حسن کون تهی سب حقیقت سب معصومیت واضع ہو جائے گی…”
وہ بهی غصے سے بولی تو ذوہان کا دل کیا اسکا قتل کردے جو اسکے جان سے پیارے بهائی کے بارے میں خرافات بک رہی تهی

“اپنی حد میں رہو مس تعبیر حسن میرے بهائی بارے سوچ سمجھ کر بولو وہ ایس پی وجدان سکندر ہے ایس پی شہرام ملک کا بیٹا دهوکے بازی خون میں شامل نہیں…”
وہ ایک غرور سے بولا
“پوچهو اپنے بهائی سے یہ غرور خاک میں مل جائے گا اور اتنا بولو جتنا بعد میں نظریں ملانے کے قابل رہو…”
استہزایہ ہنسی ہنستے کہتی روم سے نکلی پیچهے وہ مٹهیاں بهینچتا ضبط کے گهونٹ بهر کر رہ گیا
“تعبیر حسن میری محبت کا ناجائز فائدہ اٹها رہی ہو لیکن مجهے میرے بهائی سے ضروری کچھ نہیں اس پر ہزار ایسی محبتیں قربان…”
غصے سے خود سے بڑبڑاتا مریض کی جانب گیا تها