Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 60 Last

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 60 Last Episode

حکان اسے بانہوں میں اٹھائے، واشروم سے کمرے میں آیا تھا جبکہ اکاسمہ کو ہنسی ا رہی تھی۔
” حکان گر جاؤں گی “

حکان نے اسے بیڈ پہ بٹھایا اور خود اس پہ جھک گیا۔
” تمہیں میں گرنے دوں گا کیا ؟؟”
اکاسمہ نے اپنے لب دانتوں تلے دبائے اور اس کی آنکھوں میں دیکھا ۔
” نہیں”
اسکی گردن میں اپنی گداز بانہیں ڈال کے وہ مسکرا رہی تھی۔
” اچھا حیات من ”
اسے تنگ کرنے کے لئے، حکان نے، اس کی گردن پہ اپنی سانسیں چھوڑی اور وہ مسکراتی آنکھیں موند گئی۔ جب حکان کے موبائل پہ کال آنے لگی ۔ تو دونوں کو ہوش میں آنا پڑا۔
” ہیلو …. اوکی می پہنچ رہا ہوں ”
کال بند کر کے، وہ سنجیدہ چہرے کے ساتھ اکاسمہ کو دیکھنے لگا ۔
” عفان کو ہوش آیا ہے اور ….. تمہارا نام لے رہا ہے “

” وہ مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے ۔میں بھی چلوں گی ”
اکاسمہ بےچین ہو گئی ۔ کچھ بھی ہو، عفان اس کا بھائی رہا تھا سالوں سے ۔اس رات، اکاسمہ کے حصے کی گولیاں اس نے کھائی تھی اپنے جسم پہ۔ حکان خاموش رہا ۔ وہ اکاسمہ کو اس ٹراما سے بمشکل باہر لایا تھا اس لئے اسے منع نہ کر سکا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ حکان کے ساتھ، اس کے سہارے چلتی ہاسپٹل میں داخل ہوئی۔ تو وہاں موجود نرس، اس کے لئے وہیل چئیر کے کے آ گئی
” میں ٹھیک ہوں۔”
اکاسمہ کو جلدی تھی۔ حکان نے اسے بیٹھنے میں مدد دی۔
” تمہارے زخم ابھی بھی ٹھیک نہیں ہوئے اکاسمہ۔ میں رسک نہیں لے سکتا ”
اکاسمہ بنا کچھ کہے، وہیل چئیر پہ بیٹھ گئی اور حکان اسے لیے، ایلیویٹر کی طرف بڑھ گیا۔
پانچ منٹ بعد، دونوں عفان کے روم میں تھا۔ عفان اس قدر بھی ٹھیک نہیں تھا۔اس کا جسم پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ وہ بیتابی سے اکاسمہ کا منتظر تھا۔ عباس باہر ان کا منتظر کھڑا رہا جبکہ حکان، اکاسمہ کے ساتھ اندر کمرے میں تھا کہ اکاسمہ کو تنہا چھوڑنے کا رسک وہ کسی قیمت پہ بھی نہیں لے سکتا تھا۔
اکاسمہ کی آنکھیں بھر آئی لیکن وہ ضبط کرتی، عفان کو دیکھنے لگی جو ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا۔
” کیسی ہو اکاسمہ ؟”
اکاسمہ نے بمشکل سر اثبات میں ہلایا۔
” ایم ہیپی کہ تم ٹھیک ہو رہی ہو ۔ ایم سوری اس دن کے لئے، جب میں تمہیں وہاں لے گیا۔مجھے نہیں کہ میں کیسے ؟؟ کیسے وہاں تمہیں لے گیا ۔ تم میری بہن ہو اور میں کبھی بھی تمہیں نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن اس دن شاید ۔۔۔۔ میں ٹھیک نہیں تھا اکاسمہ ۔ میں کافی عرصے سے ٹھیک نہیں تھا۔ مجھے نہیں معلوم لیکن میں کبھی وہ عفان رہ ہی نہیں پایا جو کبھی ہوا کرتا تھا ”
وہ رونے لگا ۔
” میں زانی بن گیا۔عیاش بن گیا ۔ عندلیب سے بے وفائی کا مرتکب ہو گیا لیکن میں نے اسے قتل نہیں کیا ۔ بس بےوفا بن گیا ۔ وہ عورت میری ماں تھی۔ وہی زرناب درانی….. اس سے ملنے کے بعد،میں عفان نہیں رہا ۔تمہارا وہ ہینڈسم بھائی، جس پہ تم فخر کرتی تھی۔میں وہ نہیں رہا ۔ میں بدلتا گئی اور گناہوں کے دلدل میں دھنستا گیا۔ قاتل بن گیا۔ میں ۔۔۔۔۔نے عاریز خان کو قتل کر دیا…. حکان ملک کو ذہنی طور پہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی…. تم تک پہنچنے کا راستہ بنا میں زرناب درانی کے ذریعے… میں ….”
اس کی سانس اکھڑنے لگی اس لئے وہ خاموش ہو گیا اور سانس لینے کی کوشش کرنے لگا۔ اکاسمہ بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
“تو مجھے بچایا کیوں ؟؟”
عفان اسے دیکھنے لگا۔
” کفارہ ادا کرنا چاہتا تھا کیونکہ اس دلدل میں،میں تمہیں لے کے گیا تھا اس رات۔ ”
اکاسمہ رونے لگی ۔
” کیوں ؟؟ کیوں بن گئے ایسے عفان ؟؟ کیوں ؟؟ کاش نہ بنتے، کاش پہلے جیسے عفان ہی رہتے ، میرے بھائی۔”
عفان ہنسنے لگا ۔
” شیطان کی اولاد شیطان ہی ہوتی ہے۔ میری ماں جب شیطان تھی تو میں کیسے فرشتہ ہو سکتا ہوں اکاسمہ۔ “

” عندلیب زندہ ہے عفان … وہ پریگننٹ ہے۔ تمہارے بچے کی ماں بن رہی ہے وہ ”
اکاسمہ نے اچانک کہا اور عفان حیرت سے اسے دیکھنے لگا ۔
” میں سچ کہہ رہی ہوں ”
اکاسمہ نے آنسو صاف کرتے نرمی سے کہا۔
” میں گنہگار ہوں ۔ بہت گنہگار…. کیسے اللہ نے مجھے اس قابل سمجھا کہ مجھے …. باپ کا درجہ دلائے ۔ ”
وہ پھر سے رونے لگا جب اکاسمہ نے ہچکچاتے ہوئے، اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ وہ بھائی تھا اس کا۔خون کا رشتہ نہ سہی۔ وہ ساتھ بڑے ہوئے تھے۔ ان کے بیچ بہن بھائی کا رشتہ تھا۔ جسے کوئی ختم نہیں کر سکتا ۔
” میں شاید زندہ نہ رہوں۔ مر جاؤں یا مار دیا جاؤں … بس ایک ریکوئسٹ ہے کہ میرے بچے کو یہ مت بتانا کہ اس باپ ایک شیطان تھا ….پلیز ”
اکاسمہ کو پھر سے رونا آ گیا۔ وہ رونے لگی ۔ وہ حکان کو دیکھنے لگی۔ حکان نے آگے بڑھ کے، اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
” کچھ نہیں ہوگا۔ باہر گارڈز عفان کی حفاظت کے لئے ہیں ”
وہ اکاسمہ کو تسلی دینے لگا ۔
“ایک شیطان کو پناہ دے رہے ہو ۔یہ غلط ہے ”
عفان نے ہنستے ہوئے کہا۔
” میں زندہ رہنا بھی نہیں چاہتا۔ آج تک کوئی برائی کا خاتمہ کر سکا ہے ؟؟ نہیں … ہم صرف برائی کو کنٹرول کر سکتے ہیں لیکن اسے جڑ سے ختم نہیں کر سکتے اور ان کا بہت بڑا نیٹ ورک پھیلا ہوا ہے۔اگر کوئی ان کے کام کا نہ ہو تو اسے ختم کر دیا جاتا ہے ۔ انسان کی کیا اہمیت ۔۔۔۔۔اکاسمہ پرامس می…. میرے گناہوں کی سزا میرے بچے کو مت دینا پلیز…..”
اسکی سانس اکھڑنے لگی۔ وہ بمشکل سانس لے رہا تھا
” عفان، عفان ….. ڈا۔۔۔۔ڈاکٹر ”
لیکن عفان نے اس کے ہاتھ پہ دباؤ ڈال کے اسے روک دیا۔
” میں بس مرنا چاہتا ہوں ۔۔۔ اتنا ہی کہ مجھے معاف کردو، م۔۔۔میرےقبر کو۔ گمنام ہی رکھنا…… ورنہ ….. وہ لوگ میری قبر بھی کھود کے مجھے نکال لے گیں …. پلیز ا.. کا…..سمہ”
اسکی سانسیں دم توڑ گئی۔
” عفان ؟؟؟ عفان ؟؟؟ حکان یہ….. “

حکان نے اکاسمہ کو بانہوں میں بھر لیا ۔عجیب دنیا ہے یہ بھی۔ بزرگوں کے کرتوتوں کی سزا اولاد کو ملتی ہے۔

وجدان ملک، اس کا بیٹا حکان ملک، ایکزاکیوشنر، لائیر ۔۔۔ ملک کی خدمت کرنے والا لیکن اس کا باپ ایک کریمنل۔

شازم خان، دنیا کی نظر میں باعزت لیکن ایک ایسا کریمنل کہ سیاہ دنیا کے لوگوں کی روح کانپ جائے۔ اسکا بیٹا عاریز خان، ایک پراسیکیوٹر، باپ کے کیے کی سزا، اسے موت کی صورت ملی۔

فاروقی، ایک سیاستدان، اس کی بیٹی در مکنوں، ایک پولیس اہلکار ، ملک کی خدمت کرنے والی ایک ڈاکٹر ۔باپ کے کیے گناہ، اس کے منہ پہ تھپڑ کی طرح پڑے ۔

فیاض حیات ، اس کے کرتوتوں کی سزا ہر اولاد کو الگ سے ملی۔

یہاں سب کریمنل ہیں۔سیاہ دنیا کے سیاہ لوگ ۔بظاہر شریف، با اثر ، شرفاء کی فہرست میں ان کا نام پہلے آتا ہے لیکن اس سیاہ دنیا میں بھی ان کا نام جرائم میں پہلے آتا ہے۔

یہ دنیا ہے ہماری۔ پردہ پس پردہ، کیا کچھ ہوتا ہے کسی کو خبر نہیں ۔ برائیوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنا بےحد مشکل ہیں یہاں ۔ ہر سامنے آنے والے جرم کو روک کے،مجرم کو سزا تو دلائی جاتی ہے لیکن اس سے جرائم کا خاتمہ کبھی نہیں ہوتا۔
ڈارک ویب، وہ سمندر ہیں کہ جہاں لاکھوں کی تعداد میں جرائم ہوتے ہیں۔ان کو کوئی نہیں روک سکتا کیونکہ ان سب کا تعلق طاقت سے ہیں اور طاقتور کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔ اس سیاہ دنیا کا حکمران کون ہیں ؟؟ کوئی نہیں جانتا۔ لیکن ہر روز خبروں میں ہم دیکھتے ہیں کہ جوان مارے گئے۔ کڈنپ ہوئے ۔ لاش ملی ہے۔ قتل سر عام ہو رہے ہیں ۔ خودکشی ہو رہی ہے۔ شریف انسان کو پہچاننا مشکل سا امر ہو گیا ہے۔ کیونکہ شرافت کے لبادے میں ملبوس یہ شرفاء ، سفر اپنا لباس اتار دے تو ان کے سیاہ وجود سے گھن کرنے کے سوا ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ وہ طاقتور ہیں اور طاقتور نہ الفاظ سے ڈرتا ہے نہ گناہ کرنے سے۔ کیونکہ یہاں طاقتور سے سوال جواب کرنے والا کوئی نہیں ۔۔۔ !!!!

خط قرمز !!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *