Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 39

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 39

” تو کیسا لگ رہا ہے اج میرے ساتھ لنچ کرنا ؟؟”
حکان کے کہنے پہ، مسفرہ آج آفس سے، اکاسمہ کو لیے، یہاں ایک ریسٹورنٹ میں لنچ کرنے آئی تھی۔ اکاسمہ کو بھی اس کے ساتھ یہاں آ کے، باتیں کر کے، سکون مل رہا تھا۔ وہ مسکرانے لگی۔
” اچھا لگ رہا ہے، آپ سے باتیں کر کے سکون مل رہا ہے”
” کیونکہ میں ایک سائیکیٹرسٹ بھی ہوں، اسلئے شاید ۔۔۔ ”
مسفرہ نے ہنستے ہوئے بتایا تو اکاسمہ نے خوشگوار حیرت سے، اسے دیکھا تھا۔
” واؤ، یہ تو بہت اچھا ہے۔ ”
” بلکل، کوئی بھی مسئلہ ہو مجھ سے ڈسکس کر سکتی یو ۔ اسپیشلی حکان تنگ کرے، مجھے بتانا، مل کے اسے ہپناٹائز کریں گے ۔۔ ”
اکاسمہ اس کی بات پہ ہنس پڑی۔ مسفرہ بھی ہنستے ہوئے، اسے غور سے دیکھنے لگی۔
” میرے پاس اکثر پیشنٹس آتے ہیں تو ان کا یہی ہوتا ہے کہ کوئی ہارر مووی دیکھ لی یا کچھ غلط ہوتا دیکھ لیا تو وہ سانحہ ان کے دماغ کے ایک حصے کو ایسے مفلوج کر دیتا ہے کہ وہ اس حادثے کے زیر اثر رہتے ہیں اور اکثر انہیں رات کو خواب میں بھی پرابلمز ہوتی ہے ۔۔”
مسفرہ کھانا کھاتے ہوئے بتانے لگی جب اکاسمہ رک کے اسے دیکھنے لگی۔
” کیا پرابلمز ہوتی انہیں؟؟”
” اممم، کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ نیند نہیں آ پاتی انہیں، سو نہیں پاتے، کروٹیں بدلتے ہیں یا انہیں لگتا ہے کہ کوئی بار بار ان کا نام لے رہا ہے یا پھر نیند میں چلنے کی شکایت ”
مسفرہ عام سے انداز میں بتا رہی تھی۔ وہ کسی بھی صورت اس پہ یہ ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتی تھی کہ وہ اس سے متعلق بات کر رہی ہے۔ جبکہ اکاسمہ چونک گئی۔ وہ گہری سوچ میں ڈوبی پانی کا گلاس اٹھا کے پینے لگی اور پھر کچھ سوچتے ہوئے پوچھنے لگی۔
” تو ان کو کوئی میڈیسن دیتی ہو ؟؟ یا کچھ اور؟؟ ”
” نہیں، زیادہ تر یہ کوشش ہوتی ہے کہ انہیں میڈیسن نہ دی جائے بلکہ پیشنٹس کو relaxation and stress management تکنیکز دی جاتی ہے ۔۔ جس سے ان کی نیند نارمل ہو جاتی ہے اور وہ اپنے خوف پہ قابو پا لیتے ہیں۔۔۔ یہ بلکل ایسے ہیں کہ جیسے ایک انسان گر جائے اور اس کے پاؤں پہ نیل کا نشان بن جائے، کیونکہ اسے اندرونی چوٹ آئی ہوتی ہے تو bleeding نہیں ہوتی اور انسان کو نہیں پتہ چلتا کہ چوٹ آئی بھی ہے کہ نہیں لیکن جب اسکن پہ نیل پڑ جائے تو پتہ چل جاتا کہ اندرونی چوٹ آئی ہے اور اگر ہم خیال رکھے اسکن کے اس ایریا کا تو آہستہ آہستہ نیل معدوم پڑنے لگتا ہے ۔ بلکل ویسے ہی اس میں بھی ہوتا ہے ۔۔۔ آپ کے دماغ کا ایک حصہ، کسی سانحے کی وجہ سے نیل زدہ ہو گیا ہے لیکن آپ کو نہیں معلوم کیونکہ وہ اندرونی چوٹ ہے،بیرونی تو ہے نہیں کہ bleeding ہو اور پتہ چل سکے۔ آپ کی عجیب حرکتیں یہ بیان کرتی ہے کہ آپ کو کیا پرابلم ہے اور پھر آپ ان تکنیکس کو اپنا لیتے ہو جس سے آپ ٹھیک ہونے لگتے ہو۔ جیسے اسٹریس کو قابو کرنا، خود کو ریلیکس کرنا اور پھر آہستہ آہستہ آپ مکمل ٹھیک ہو جاتے ہو ”
اکاسمہ سوچ میں ڈوبی اسے دیکھ رہی تھی۔ جب مسفرہ نے بات ختم کی تو وہ چونک کے، اپنے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی۔
” گریٹ، یہ تو اچھی بات ہے پھر تو۔ ”
” اممم۔۔”
مسفرہ نے مزید کچھ نہیں کہا بلکہ خاموشی سے کھانا کھانے لگی جبکہ اکاسمہ گہرے سانس لیتی، خود کو ریلیکس کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ نظر اٹھا کے مسفرہ کو دیکھا اور پھر ہلکا سا مسکرا کے، اپنی پلیٹ کی طرف دیکھنے لگی۔

●●●●●●●●●●○○○○○○○○●●●●●●●●

” تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو ؟؟ عبدل ”
شبانہ اس جنگل میں چلتے چلتے تھک چکی تھی جیسے۔ عبدل اسے دیکھ کے مسکرانے لگا۔
” ارے اتنی جلدی تھک گئی تو؟؟ ”
” ن ۔۔ نہیں تو ، پر ہم یہاں کرنے کیا آئے ہیں؟”
شبانہ ادھر ادھر گھنے جنگل کو دیکھتی، آگے بڑھ رہی تھی جب عبدل نے اس کی کلائی جکڑ کے، اسے اپنے قریب کھینچا تھا، وہ عبدل کے سینے سے جا لگی تھی جبکہ عبدل اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” عشق ۔۔۔۔ تیری ماں کو لگتا ہے کہ میں نامرد ہوں تو آج یہاں اس جنگل میں، ہم اودھم مچائے گیں۔۔ تیری ماں کو نواسے نواسیوں کا انتظار ہوگا۔ ”
شبانہ نے شرماتے ہوئے رخ پھیر لیا۔
” عبدل تو بھی ناں۔ ”
” چل بیٹھ ادھر ”
شبانہ کو ایک بڑے پتھر پر بٹھا کے، وہ مسکراتے ہوئے پیچھے ہو گیا تھا جبکہ شبانہ سوالیہ آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
” کیا کرنے والا ہے تو عبدل؟؟”
وہ ہنستے ہوئے اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھی جو میوزک لگا کے، اسے اب آنکھ ونک کر کے دیکھنے لگا۔
” ناچے گا آج اپن تیرے لئے ”
اسکی نظر، شبانہ کے پیچھے، ابھرتے سانپ پہ گئی تو وہ شیطانی مسکراہٹ آنکھوں میں سجاتا، ناچنا شروع کر چکا تھا۔
” آج میں اتنا ناچے گا شبانہ کہ تجھے اپنے عشق کا یقین دلا کے رہے گا آج میں ”
” ارے رہنے دیے تو عبدل، مجھے یقین ہے تیری محبت پہ”
سانپ اسے ڈسنے ہی والا تھا جب وہ اٹھ کھڑی ہوئی،لیکن عبدل نے اسے پھر سے وہاں بٹھا دیا
” تو بیٹھ شبانہ، میں ناچتا چاہتا ہے تیرے لئے،تو بس مجھے دیکھ ”
شبانہ ہنستے ہوئے پھر سے بیٹھ گئی تھی۔ عبدل ناچتے ہوئے، سانپ کو دیکھ رہا تھا جو شبانہ کے سر سے، اس کے کندھے پہ رینگتا ہوا جھک رہا تھا۔ شبانہ کو اس قدر میں کر رکھا تھا عبدل نے، کہ وہ سانپ کے رینگنے کو محسوس ہی نہ کر پا رہی تھی اور بلکل اچانک اس کی گردن پہ، سانپ نے حملہ کیا تھا۔ عبدل جو تیزی سے دھڑکتے دل کے ساتھ، سانپ کی حرکات دیکھ رہا تھا۔ اچانک ہنسنے لگا جبکہ شبانہ درد سے تڑپ کے، ابھی سنبھلنے کے قابل بھی نہ ہوئی تھی جب پھر سے سانپ نے اسے ڈسا تھا اور وہ تڑپ کے، رینگتی ہوئی، اس بڑے پتھر سے نیچے گری تھی۔ اس کی بےیقین آنکھیں عبدل کو دیکھ رہی تھی جو اب ہنس رہا تھا۔
سانپ رینگتا ہوا، اس کی شرٹ کے پہلو سے نظر اتے، اسے پیٹ پہ گیا اور وہاں بھی ڈستا ہوا، وہ اس کی ٹانگوں سے ہوتا، اب جا رہا تھا۔

سانپ کا کام ڈسنا ہی ہوتا ہے اور بلکل ویسے ہی، کمینے انسان کا کام بھی ڈسنا ہوتا ہے۔

شبانہ کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا جبکہ اس کا جسم زمین پہ تڑپ رہا تھا۔ زہر بہت تیزی سے، اس کے پورے وجود میں پھیل رہا تھا اور اس کی آنکھیں ساکت ہونے لگی تھی۔

” سن لے پہلے،میں نامرد ہوں، میں ہی تجھے ہر رات نشہ دلا کے،تجھے ہر مرد کے حوالے کر دیتا کہ وہ تیرے اس جسم کے ساتھ جو کرنا چاہے، کر لیں۔ تو بھی مزے کرتی رہی اور ہر رات آیا ہر مرد بھی،تیرے مزے لوٹتا رہا، پر افسوس تجھے مزہ راس نہ آیا اور اپنی ماں اور اس وکیلنی کی باتوں میں آ کر،میرے خلاف کورٹ میں مقدمہ کر دیا۔ اب بھگت، اس بھیانک موت کو بھگت اب ۔۔ سالی، حرام زادی ۔۔۔ آخ تھو”

اس نے نفرت سے اسے دیکھتے ہوئے،اس پہ تھوکا تھا جبکہ وہ سن ہوتے دماغ کے ساتھ، اسکے الفاظ سن رہی تھی یہاں تک کہ، اس کی ناک اور منہ سے خون ابلنے لگا۔ اس نے اپنی ماں کی نہ سنی، اس وکیل کی نہ سنی اور سنی بھی تو کس کی ؟؟ شیطان کی۔۔۔ اور یوں وہی شیطان اسے بھیانک موت دے گیا۔
اس کی آنکھیں ساکت ہو چکی تھی۔ اس کا جسم اب سرد پڑ رہا تھا ۔ سانسیں تھم چکی تھی ۔ اب سکوت تھا، گہرا سکوت۔
آسمان پہ چیلوں کا بسیرا تھا۔ جیسے تازہ گوشت اور خون کی خوشبو وہ سونگھ چکے ہو۔ یہ گھنا جنگل، جہاں ہر طرف خطرناک جانوروں کا راج تھا۔ تو ان چیلوں کا کیا خبر نہ ہو پاتی جب کوئی طاقتور جانور، اپنے سے کمزور جانور کا شکار کرتے اور پھر یہی چیل تو اس کا بچا کھچا کھانے آتے تھے جیسے ابھی گھنے درختوں سے پار، آسمان پہ چیلوں کا جھمیلہ منڈلا رہا تھا۔

●●●●●●●●●○○○○○○○○●●●●●●●●●

وجدان ملک، ملک کے تین نامور سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھا کوئی کیس ڈسکس کر رہا تھا۔ ان کے بیچ فاروقی بھی موجود تھا جسے ملک کے تمام سیاستدانوں کے بیچ، سب سے بےرحم اور ذلیل سیاستدان سمجھا جاتا تھا۔ جب اچانک لات مار کے دروازہ کھولا گیا اور حکان ملک اندر داخل ہوا تھا۔ وہ چاروں چونک کے اسے دیکھنے لگے جبکہ وجدان ملک نے لب بھینچ لیے تھے۔
” آؤٹ ایوری ون ۔۔۔ آؤٹ ”
وہ چلایا تھا۔ وہ تینوں، وجدان ملک کو دیکھتے تیزی سے باہر نکلے تھے جبکہ وجدان ملک اپنی جگہ سے کھڑا ہو کے اب اپنے بیٹے کو دیکھ رہا تھا جو خونخوار نظریں لیے، اسے دیکھ رہا تھا۔
” کیا بات ہے حکان ؟؟ یہ کون سا طریقہ ہے اندر آنے کا ؟؟ شادی ہو گئی لیکن عقلمند نہیں ہوئے تم۔ مجھے حیرت ہے اکاسمہ پہ،کیسے برداشت کرتی ہوگی تمہیں۔۔۔۔ ”
” نام نہ لیں اپنی زبان سے اکاسمہ کا۔۔۔۔ ”
وہ دھاڑا تھا اور ساتھ ہی ایک پیکٹ اس کے منہ پہ پھینکا۔ وجدان اچنبھے اس پیکٹ کو اور پھر حکان کو دیکھنے لگا اور پھر بلکل اچانک ہنسنے لگا۔
” اوہ ۔۔۔۔ تو یہ اکاسمہ کو ملا ہی نہیں۔۔ ”
حکان ملک کو لگا جیسے اس کے دماغ کے مخصوص حصوں پہ کچوکے سے پڑ رہے ہو۔ مقابل کی ہنسی کس قدر خوفناک تھی کہ حکان کو ایک لمحے کے لئے محسوس ہوا جیسے اپنے حواس کھو بیٹھے گا اور آگے بڑھ کے، اس شخص کا حلیہ بگاڑ دے گا۔
” میں چاہتا تھا کہ تمہاری بیوی ہے، اسے پتہ ہونا چاہئے کہ تم درحقیقت کیا ہو اور کیا کر سکتے ہو۔ تمہاری بیماری کا پتہ ہونا چاہئے تمہاری بیوی کو ۔۔۔۔۔۔۔ ”
” شٹ آپ ”
حکان دھاڑا تھا اور تیزی سے آگے بڑھ کے، وجدان ملک کی گردن دبوچ لی تھی جبکہ وہ اب گھبرا گیا تھا اپنے بیٹے سے۔ اس کی تمام رپورٹس، اس نے اکاسمہ کو بھیجی تھی آج وجدان ملک نے لیکن وہ پیکٹ حکان کو مل گیا اور چونکہ وہ محتاط رہنے لگا تھا اکاسمہ کے لئے، تبھی اس نے وہ پیکٹ خود کھول کے دیکھا تھا اور اس پیکٹ میں اپنی تمام رپورٹس دیکھ کے، اس کے ہاتھ کانپنے لگے تھے۔ اس کا چہرہ سفید پڑ چکا تھا۔ جس حادثے کو بھلانے میں اور جس بیماری کو ختم کرنے میں، اسے سالہا سال لگے تھے۔ وہ سب ایک ایک کر کے، اس کی آنکھوں کے سامنے ناچنے لگے ۔
” اکاسمہ میری بیوی ہے، محبت کرتا ہوں میں اس سے، یقین کرتی ہے وہ مجھ پہ۔ کیسے یہ سب کر سکتے ہو تم وجدان ملک”
اسے اس وقت نفرت ہو رہی تھی اس شخص سے، جو اس کا باپ تھا لیکن نام کا باپ۔ درحقیقت وہ تو جیسے اپنے ہی بیٹے کا دشمن بن بیٹھا تھا۔
” چھوڑو مجھے پاگل، نفسیاتی۔۔۔۔ ”
وجدان نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی لیکن حکان کے ہاتھ کی گرفت، اس کی گردن پہ مزید سخت ہوئی اور وجدان ملک کھانسنے لگا۔
” مجھے لگا کہ سدھر چکا ہے میرا باپ۔ اپنے کیے پہ پچھتا رہا ہے تبھی اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہ رہا ہے لیکن افسوس میں پھر دھوکہ کھا گیا۔ میں کیسے بھول گیا کہ بچھو اور سانپ کبھی اپنی فطرت نہیں بدلتے۔ ایک ڈستا ہے تو دوسرا ڈنک مارتا ہے۔ اور وجدان ملک میں یہ دونوں خصوصیات موجود ہیں۔۔۔ ”
حکان ملک کی آواز بےحد سرد تھی، بےحد سرد کہ وجدان ملک کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑتی محسوس ہونے لگی۔
” میری بیوی سے دور رہو۔ اکاسمہ سے دور رہو ۔۔۔۔”
وہ لفظ چبا چبا کے، اس کے کان میں انڈیل رہا تھا ۔
” ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ تم میرے باپ ہو ”
غصے سے، اسے پیچھے دھکیلتا حکان پیچھے ہوا تھا۔ اس کی سرخ آنکھوں میں عجیب وحشت تھی۔ وجدان ملک اپنی گردن سہلاتا خوفزدہ نظروں سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہا تھا جس سے وہ غلط پنگہ لے چکا تھا۔ حکان نے غصے سے، ٹیبل پہ رکھی ساری چیزیں نیچے پھینک دی تھی۔ فائلز، گلاس، چائے کے برتن، پانی کے بوتل، سب زمین بوس ہوئے تھے۔
شور کی آواز سن کے، وجدان ملک کا اسسٹنٹ اندر آیا تھا لیکن وجدان ملک نے ہاتھ اٹھا کے، اسے کچھ کہنے سے روکا تھا۔ حکان دونوں پہ قہر بھری نظر ڈالتا، باہر نکل گیا جبکہ وجدان ملک، کے لبوں پہ اب مسکراہٹ رینگ گئی تھی۔
وہ جو حکان ملک کو اتنا عرصہ بعد خوش دیکھ رہا تھا، اس کی خوشی وہ اب برباد کر چکا تھا۔ اس کی کمزوری کو وہ چھو چکا تھا اور انتظار تھا اسے،کہ وہ کمزوری کب لاوا بن کے پھٹے گا اور اپنے ساتھ سب کو جلا کے بھسم کر دے گا۔
عجیب باپ تھا یہ بھی، جو اپنے ہی بیٹے سے نفرت کرتا تھا اور اس کا دشمن بن بیٹھا تھا۔

●●●●●●●●●○○○○○○○●●●●●●●●

اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے آج بہت دنوں بعد، اپنی یہ لاکڈ الماری کھولی تھی جہاں اس کے میڈیسنز رکھی ہوئی تھی۔
tricyclic antidepressants, monoamine oxidase inhibitors, beta blockers, clonidine, anticonvulsants, and benzodiazepines

یہ وہ دوائیاں تھیں جو حکان نے کافی دنوں سے چھوڑ رکھی تھی کیونکہ وہ زیادہ تر ایکسرسائز کے ذریعے خود کو مستحکم رکھنے کی کوشش کرتا تھا لیکن اب اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اسے پھر سے ان کی ضرورت پڑ رہی ہے ورنہ اس کا ڈس آرڈر شاید اتنا بڑھ جائے کہ وہ اکاسمہ ۔۔۔۔۔

اس سے آگے وہ سوچ ہی نہ سکا۔۔۔ اس کے کانپتے ہاتھ نے میڈیسن کو تھامنے کی کوشش کی تھی جب اچانک اس کے ہاتھ میڈیسن کا وہ پیک نیچے گر گیا۔
” کیا کر رہے ہو تم ؟؟”
اکاسمہ کی آواز پہ وہ چونک کے مڑا تھا ۔ اکاسمہ کی نظر اس کی سرخ آنکھوں سے ہوتے، اس کے قدموں پہ گئی تھی جہاں اس کے ہاتھ سے چھوٹ کے،میڈیسن کا وہ پیک گرا تھا۔ جسے حکان نے اپنے پاؤں سے بیڈ کے نیچے لے جانے کی کوشش کی تھی۔
” تم ٹھیک ہو حکان ؟؟”
وہ پریشان نظروں سے حکان کو دیکھ رہی تھی۔
” ہاں میں ٹھیک ہوں۔۔۔ میں بس ۔۔۔ ”
اکاسمہ نے جھک کے میڈیسن اٹھانے کی کوشش کی لیکن حکان نے تیزی سے روک دیا اور اس کے دونوں ہاتھ تھام کے مسکرانے کی کوشش کرنے لگا۔
” میں کر لوں گا۔ ”
اکاسمہ نے اس کے ہاتھوں کی لرزاہٹ واضح محسوس کی تھی ۔
” تم ٹھیک ہو حکان ؟؟ کیا ہوا ہے ؟؟ ”
بار بار سوال سے وہ پریشان ہو گیا تھا تبھی اس کے ہاتھ کی گرفت اکاسمہ کی کلائی پہ تھوڑی سخت ہوئی۔
” ہاں میں ٹھیک ہوں۔۔۔ ”
اکاسمہ چونکی تو حکان کو تیزی سے احساس ہوا تبھی اس نے تیزی سے اس کے دونوں ہاتھ چھوڑ دئیے۔
” ت ۔۔۔ تم جاؤ یہاں سے ۔۔۔ ”
اکاسمہ یونہی کھڑی رہی اور اسے دیکھنے لگی۔
” جاؤ یہاں سے اکاسمہ۔۔ ”
اس کی آواز نہ چاہتے ہوئے بھی بلند ہو گئی جبکہ اپنی کنپٹی کو سہلاتے وہ خود کو بار بار روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ اکاسمہ کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔
” جاؤ یہاں سے۔۔۔۔ ائی سیڈ جاؤ یہاں سے ”
وہ اپنی کنپٹی سہلاتا،بار بار خود پہ قابو پانے کی کوشش کرتا، کہہ رہا تھا۔ اکاسمہ تیزی سے مڑ کے، کمرے سے باہر نکلی تو حکان نیچے جھک کے،کانپتے ہاتھوں سے اپنی میڈیسن اٹھانے لگا۔ اکاسمہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی، اس نے بلند اواز میں بات کی تھی اور یہی اسے غصہ دلا رہی تھی۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اکاسمہ کو، اس کی ذات سے کوئی بھی نقصان پہنچے۔
تبھی اپنی میڈیسن لے کے، الماری لاک کر کے، وہ بیڈ پہ بیٹھ کے، دونوں ہاتھوں سے، اپنا سر تھام گیا۔

اسے وجدان ملک پہ غصہ آ رہا تھا ۔
اسے خود پہ غصہ آ رہا تھا ۔
اسے اپنے آپ پہ غصہ آ رہا تھا۔
اسے اپنے کانپتے ہاتھوں پہ غصہ آ رہا تھا۔
اسے ہر اس بات پہ غصہ آ رہا تھا جو اکاسمہ کو اس سے چھیننے کا باعث بنے۔

اس نے اپنی آنکھیں میچ لی تھی۔ اور خود کو کنٹرول کرنے لگا۔
” ایم اسٹرونگ۔۔۔ ایم اسٹرونگ ۔۔۔ مجھے کچھ نہیں ہو سکتا۔ میں اکاسمہ کو خود سے دور نہیں جانے دوں گا۔ کسی کو بھی ۔۔۔ یہ ۔۔۔۔ اجازت نہیں د۔۔۔ دوں گا کہ اسے مجھ سے چھین لے ۔۔۔ ایم اسٹرونگ ۔۔۔۔ ریلیکس حکان ۔۔۔ ہششش ریلیکس ۔۔۔ ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اکاسمہ پاؤں پہ پاؤں رکھے، اپنے موبائل میں کوئی ویڈیو دیکھ رہی تھی جب حکان پہ نظر پڑی جو کمرے سے باہر آ رہا تھا۔ وہ اب بہتر تھا۔ اس نے ہلکا سا مسکرانے کی کوشش کی جبکہ اکاسمہ نے تیوری چڑھا کے، آنکھیں گھما کے، پھر سے موبائل کو دیکھنا شروع کیا۔
” کافی بنانے لگا ہوں، پیو گی ؟؟”
اکاسمہ نے آبرو اچکا کے اسے دیکھا اور پھر ڈائننگ ٹیبل پہ نظر ڈال کے،پھر سے موبائل دیکھنے لگی۔ حکان کی نظر بھی ڈائننگ ٹیبل سے ہوتی، اکاسمہ پہ گئی۔
” مجھے بھی بھوک لگی ہے ۔۔۔ ”
منہ بنا کے اکاسمہ اسے نظرانداز کرتی، اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی لیکن اس کے قریب سے گزرتے ہوئے، بلکل اچانک حکان نے اس کا بازو تھام کے، اسے اپنے قریب کیا تھا کہ وہ بوکھلا کے، اس کے سینے سے جا لگی تھی۔
حکان دھڑکتے دل کے ساتھ، اسے اپنے بےحد قریب دیکھنے لگا۔ اسکے گرم سانسوں کی تپش، اکاسمہ کے چہرے کو چھو رہی تھی جس سے پل بھر کے لئے اکاسمہ کی دھڑکنیں بےترتیب ہوئی ۔ اس کی نظریں بھٹک کے، اکاسمہ کے لبوں پہ گئی ۔ وہ نظریں چرا کے ادھر ادھر دیکھتی، پیچھے ہونے کی کوشش کرنے لگی لیکن حکان کا اسے چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا شاید۔
” ہاتھ چھوڑو میرا ۔ ”
” نہ چھوڑنا چاہوں تو ؟؟”
حکان کی سرگوشی ابھری تھی جس نے اکاسمہ کے ریڑھ کی ہڈی میں سرسراہٹ سی پھیلائی تھی۔
” نہیں چاہتا کہ تمہارا ہاتھ چھوڑوں اکاسمہ ۔۔۔ کیا یہ ممکن ۔۔۔۔ آہ ”
سر میں شدید درد کی لہر نے، اسے پیچھے ہونے اور اکاسمہ کا بازو چھوڑنے پہ مجبور کیا تھا جبکہ لب بھینچے وہ اب اکاسمہ کے ہاتھ میں موجود، واس کو دیکھ رہا تھا جو نہ جانے کب اس نے سائیڈ ٹیبل سے اٹھا کے، اس کے سر پہ دے مارا تھا ۔
” مار ہی دو مجھے تم۔۔۔ ہو جاؤ بیوہ تم ۔۔۔ پڑھوا لو میرا فاتحہ تم”
اکاسمہ آنکھیں گھماتی، منہ بنا کے واس اپنی جگہ پہ رکھ چکی تھی جبکہ ساتھ ساتھ حکان کو گھور بھی رہی تھی۔
” بہت زیادہ شوق ہے تمہیں رومینٹک ہونے کا حکان ملک۔۔ تبھی ایک ڈوز دینا پڑتی ہے تمہیں ہوش میں لانے کے لئے ”
حکان نے لب بھینچ لیے تھے۔
” اگر میرے دماغ کی کوئی رگ پھٹ جاتی تو ؟؟ اگر میرے دماغ میں چوٹ آ جاتی تو ؟؟؟ ”
” دماغی مریض کو مزید کون سی چوٹ آ جانی ہے ”
اکاسمہ اسے گھور کے کہتی کندھے اچکا گئی جبکہ بلکل اچانک حکان مکمل خاموش ہو گیا تھا۔ وہ ساکت ہو چکا تھا اور لب بھینچے اب اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا۔
” کیا کہا تم نے ؟؟”
اس کی گہری آواز پہ اکاسمہ چونکی تھی اور رک کے حکان کو دیکھنے لگی جبکہ حکان لب بھینچ کے، سر جھٹک گیا۔ مقابل اکاسمہ کھڑی تھی۔ کوئی عام انسان نہیں تھی کہ جس پہ اسے غصہ آ جاتا۔
وہ تیزی سے پیچھے ہوا تھا۔
” کھانا کھا لیتا ہوں ”
ڈائننگ ٹیبل پہ بیٹھ کے وہ اپنے لئے کھانا نکالنے لگا۔ کھانا سرد ہو چکا تھا لیکن پھر بھی حکان بنا کسی ہچکچاہٹ کے، مزے سے کھانے میں مصروف تھا جبکہ اکاسمہ وہاں کھڑی، خاموشی سے حکان کو دیکھ رہی تھی۔ بےاختیار اس نے پیچھے کمرے کی طرف دیکھا تھا، جہاں کچھ دیر پہلے حکان میڈیسن لے رہا تھا۔ نظریں پھیر کے وہ پھر سے حکان کو دیکھنے لگی۔
لب کاٹتی، وہ گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ حکان اسے نظر انداز کر رہا تھا لیکن اس کے چہرے پہ اطمینان پھیلا ہوا تھا۔ جبکہ اس کی نظروں میں کچھ دیر پہلے کا حکان ابھرا تھا جس کی آنکھیں بےحد سرخی مائل ہو رہی تھی۔

●●●●●●●●●○○○○○○○●●●●●●●●●●

” جی آپ کو کس سے ملنا ہے ؟؟”
25 سال نوجوان، فیاض حیات کے سامنے کھڑا تھا۔ اس کی آنکھیں سبز مائل تھی جبکہ دبلے چہرے پہ ہلکی مسکان تھی۔ دبلے پتلے جسامت کا مالک، صاف ستھرا لڑکا تھا جو اس وقت گیٹ کے باہر کھڑا فیاض حیات کو دیکھ رہا تھا۔
” مجھے آپ سے ملنا ہے ”
اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
” جی بیٹا، آپ کون ہے اور کس سلسلے میں ملنا چاہتے ہیں مجھ سے ؟؟”
فیاض حیات اسے سر سے پاؤں تک دیکھتے سوال کر رہے تھے۔
” میرا نام کاووس شاہ ہے اور مجھے عدیل حیات کے مرڈر کیس کے سلسلے میں آپ سے ملنا تھا ۔ ”
فیاض حیات کے ہاتھ کانپ گئے جبکہ ان کے ماتھے پہ شکن نمودار ہوئے۔
” عدیل حیات کے مرڈر کا مجھ سے کیا تعلق ؟؟”
” وہ اپ کا حیاتیاتی بیٹا تھا تو اس طرح سے، اپ سے ہی اس کا تعلق بنتا ہے ”
کاووس شاہ مسکرا رہا تھا جبکہ فیاض حیات چہرے پہ ناگواری طاری کر کے، اندر کی خوفزدہ کیفیت کو چھپانے کی کوشش کرنے لگے۔
” میرا کوئی بیٹا عدیل حیات کے نام سے نہیں ہے،میرے صرف دو بیٹے ہیں عفان حیات اور بارز حیات۔ برائے مہربانی تشریف لے جائیے یہاں سے ”
فیاض حیات رخ پھیر کر جانے لگے جبکہ آنکھوں سے وہ باڈی گارڈ کو بھی اشارہ کر چکے تھے۔
” عدیل حیات نے سوسائیڈ سے پہلے یہی کہا تھا کہ اگر میری موت کی تحقیقات میں کسی بھی قسم کی پریشانی ہو تو آپ سے ملا جائے کیونکہ آپ کے پاس ہی وہ راز ملے گا جو صدیوں پہلے آپ دفن کر چکے ہیں ۔۔۔۔ ”
فیاض حیات کانپتے ہوئے مڑے تھے۔
” کیا بکواس کر رہے ہیں آپ؟”
” میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں فیاض صاحب۔ میں ایک بہترین detector ہوں اور میں اس کیس سے آپ کو باہر نکالنے میں مدد کروں گا بشرطیکہ آپ مجھے مدد کرنے دیں ”
فیاض حیات اسے سوالیہ آنکھوں سے دیکھنے لگے۔
” کیسا کیس ؟؟”
” یہی کہ عدیل حیات کے سوسائید کیس میں آپ ملوث نہیں ہے ”
وہ مسکرا رہا تھا۔
” میرا کسی بھی کیس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ”
” نیوز تو کچھ اور کہہ رہی ہے ”
وہ اپنا موبائل آن کر کے، اب فیاض حیات کو دکھا رہا تھا۔
” عدیل حیات کا دعوا ۔۔۔ وہ ایک سیریل کلر تھا جس نے ایک رات دس منزلہ بلڈنگ سے کود کے اپنی جان لے لی لیکن اس کا یہ دعوا کہ وہ فیاض حیات کے بیٹے ہیں اور یہ بھی دعوا ہے اس کا کہ اس کی موت کا ذمہ دار فیاض حیات ہی ہے۔کیا ایک سیریل کلر کی بات کو ہم اس قدر اہمیت دے سکتے ہیں؟؟ لیکن چونکہ ماضی میں فیاض حیات جج کے طور پہ، بہت بڑے عہدے پہ فائض تھے تو اس لئے ان کا عہدہ اب زیر سوال تو ضرور آئے گا ”
فیاض حیات نے لب بھینچ لیے تھے
” کیا چاہتے ہو مجھ سے تم سب ؟؟”
انہوں نے دانت پیستے کہا تھا۔ کاووس شاہ نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر مسکراتی نظروں سے فیاض حیات کو دیکھنے لگا۔
” پورے میڈیا کے سامنے مجھے اپنا بیٹا تسلیم کریں اور اپنی جائیداد میں مجھے بھی وارث کی حیثیت سے شریک کریں۔۔۔ ڈی این اے رپورٹ بھی میڈیا پہ اپلوڈ کر دیں۔۔۔ مجھے بھی وہ سارے حقوق چاہیئے جو آپ کے تمام تینوں بچوں کو حاصل ہے ۔ ”
” کون ہو تم ؟؟”
” آپ کی بھیانک حقیقت ۔۔۔ ”
یہ کہہ کے وہ مسکرایا تھا جبکہ فیاض حیات وہیں کانپ کے رہ گئے۔
” میں یہ ۔۔۔۔ ”
” ہششش، ”
کاووس شاہ نے ان کے ہونٹوں پہ اپنی شہادت کی انگلی رکھی تھی۔
” انکار کیسے کر سکتے ہیں آپ؟؟ جو مرا وہ کوئی نہیں تھا اور جو سامنے ہیں وہ حقیقت ہے ۔۔۔ اگر انکار کریں گے تو ماضی میں کیے، آپ کے تمام ظلم ایک ایک کر کے، میڈیا کے سامنے لانے میں بلکل نہیں ہچکچاوں گا۔ ”
اس نے آنکھ ونک کی تھی ۔
اس رات وہ باڈی، دس منزلہ عمارت سے نیچے ضرور گری تھی لیکن وہ ایک دھوکہ تھا۔ وہ عدیل حیات تھا، لیکن وہ کاووس شاہ نہیں تھا۔ عدیل حیات وہی سیریل کلر تھا جو ہر عورت کے خون سے رنگ چکا تھا جبکہ یہ کاووس شاہ تھا جو اس وقت اپنا حق مانگنے، اپنے باپ کے سامنے کھڑا تھا۔
” عدیل حیات اور اس جیسے بہت سے مہرے، صرف آپ تک رسائی کے لیے بنائے گئے تھے۔ آپ کو اس قدر خوفزدہ کرنے کے لئے بنائے گئے تھے کہ جب آپ کا حقیقی بیٹا، یعنی میں آپ کے سامنے آؤں تو آپ اس قدر دلدل میں دھنس چکے ہو کہ مجھے اپنانے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو آپ کے پاس ۔۔۔۔۔۔ میں وہ ماسٹر مائنڈ ہوں جو ان سب کے اوپر بیٹھا، ان پہ اپنے گیم کی تکنیک چلا رہا تھا۔ ”
فیاض حیات کانپنے لگے تھے ۔
” جو سیریل کلر آپ کا بیٹا ہونے کا عوا کر رہا تھا وہ مر چکا ہے اور جو سامنے ہیں وہ بس ایک ماسٹر مائنڈ ہے۔ آپ کا بائیولوجیکل بیٹا ۔۔۔۔ ”
کاووس شاہ مسکراتی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ وہ گنگ ہو کے رہ گئے تھے۔
” میرے اشاروں پہ چل رہا تھا وہ۔ جو جو اس نے کہا وہ اس کی زندگی سے متعلق تھا۔ جو کیا اس نے، وہ بھی اس کی زندگی سے متعلق تھا اور جو ہے میرے اور آپ کے بیچ، وہ ایک راز ہے، گہرا راز۔۔۔۔
میں۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔ میری ماں یعنی آپ کی وہ محبوبہ، جو بنا کسی رشتے کے، آپ کے بیڈ کی زینت بن چکی تھی۔ ”
فیاض حیات بمشکل اسے دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ نہ انکار کر پا رہے تھے نہ اقرار ۔۔۔۔
نہ آگے بڑھ پا رہے تھے نہ پیچھے ۔۔۔
ایک کے بعد ایک گڑھے میں وہ دھنس چکے تھے۔
کاووس شاہ اگر ان کے سامنے کھڑا، ان کا خون ہونے کا دعوا کر رہا ہے تو وہ کون تھا جو ان کی بیٹی کو اغوا کر چکا تھا۔ وہ جو سیریل کلر تھا، جس نے عورتوں کی جان لی تھی۔ جس نے بارز کو !!!

●●●●●●○○○○○○○●●●●●●●

کورٹ میں دونوں نے ایک ساتھ قدم رکھا تھا۔ اکاسمہ منہ بنا کے چل رہی تھی جبکہ حکان ملک کے لئے، اس کے قدم سے قدم ملا کے چلنا، جیسے کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔ وہ ایک ایک نظر اپنے ساتھ چلتی اکاسمہ پہ بھی ڈال رہا تھا۔ وہاں موجود لوگوں کی نظر میں، وہ دونوں بہترین کپل تھے جو ایکدوسرے کے لئے ہی بنائے گئے تھے۔ وہ دونوں آگے پیچھے ہی اکاسمہ کے آفس میں داخل ہوئے تھے جب اکاسمہ نے گھور کے اسے دیکھا۔
” میرا آفس ہے یہ ”
” ہاں جانتا ہوں ”
وہ پینٹ پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈال، ادھر ادھر ٹہلنے لگا۔
” تو ؟؟ جاؤ اپنے آفس میں ”
اکاسمہ نے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
” آج دل چاہ رہا ہے یہیں رہوں اور اپنے سارے کام بھی یہیں کر لوں”
حکان گہری نظروں سے اسے دیکھتا کہہ رہا تھا جبکہ اکاسمہ کا دل ڈوب کے ابھرا تھا اس کی نظروں کے حصار سے لیکن سر جھٹک کے ماتھے پہ بل ڈال دیے تھے۔
” کوئی ضرورت نہیں۔ گھر پہ برداشت کر لیتی ہوں، وہ بھی بہت ہے ”
” اتنا برا ہوں کیا میں ؟؟”
حکان کی آنکھوں میں حیرانی ابھری تھی جبکہ اکاسمہ منہ بنا کے، سر جھٹک کے، سیٹ پہ بیٹھ کے فائلز چیک کرنے لگی جبکہ حکان کی گہری نگاہیں اسے چیک کرنے میں مصروف تھی۔
” مجھے تاڑنے سے فرصت مل گئی ہو تو کام کرو اپنا ”
اسے دیکھے بنا، فائل پہ نظریں جمائے اکاسمہ نے کہا جبکہ وہ زیر لب مسکرانے لگا۔
” اپنی بیوی کو تاڑنے سے کہاں فرصت مل سکتی ہے مجھے ”
اکاسمہ نے آبرو اٹھا کے، اسے دیکھا جبکہ وہ اپنی شرٹ کے آستینوں کے بٹن کھولتا، انہیں فولڈ کرنے لگا۔ چونکہ وہ ہمیشہ جم جاتا تھا تبھی اس کے بازوؤں کی وینز ابھری ہوئی اور واضح تھی جو اس وقت اکاسمہ کو اپنی طرف متوجہ کر گئی تھی۔ لب بھینچے وہ کن انکھیوں سے اس کے ہاتھ کی پشت اور بازو پہ ابھری ہوئی وینز کی لکیریں دیکھ رہی تھی۔ جنہیں اس نے پہلے دھیان نہیں دیا تھا۔
حکان سے نظر ملنے پہ، اس نے چونک کے نظریں چرائی تھی۔
” آفس رومینس کے بارے میں سنا ہے کبھی؟؟”
حکان کے اچانک سوال پہ، اکاسمہ لب بھینچے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
” نہیں، میں سوچ رہا تھا کہ لو میرج والے کپل، ایک ہی آفس میں اگر کام کرتے ہو تو انہیں مواقع بھی بہت سے ملتے ہیں آفس رومینس ک۔۔۔۔۔”
” حکان ۔۔۔۔ ملک ”
اکاسمہ نے دانت پیسے تھے۔
” ہمارا تھوڑی لو میرج۔۔۔۔ don’t worry ”
حکان اپنی مسکراہٹ دباتا، ادھر ادھر دیکھنے لگا جبکہ اکاسمہ اسے گھور رہی تھی۔
” تم جتانا کیا چاہ رہے ہو ویسے حکان ؟؟”
” کچھ خاص نہیں۔۔۔ میں تو بس رات میں مووی میں دیکھ رہا تھا تو خیال آیا کہ ۔۔۔۔ ”
اسے نظروں کے حصار میں لیتے وہ رکا اور پھر وہ سر جھٹک گیا۔
” نہیں، کچھ نہیں ”
” تم سے نکاح صرف اس لیے ہوا میرا، کیونکہ میرے پاس کوئی اور آپشن نہیں تھا۔ اسے تم مجبوری کا نکاح کہہ سکتے ہو لیکن کسی خوش فہمی میں کبھی مت رہنا کہ ہمارے بیچ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ صرف عارضی نکاح ہے بس ۔۔۔ ”
اکاسمہ نے سرد لہجے میں کہا۔ حکان اسے گھور رہا تھا۔
” تمہیں کافی ایکسپرینس ہے عارضی نکاح کا۔ ”
” تم کہنا کیا چاہتے ہو ؟؟”
اکاسمہ کی آواز بلند ہوئی تھی جبکہ حکان صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا اور پھر قدم قدم چلتا، اس کے قریب آ رکا تھا۔ اس کی سیٹ کے ہینڈل پہ ہاتھ رکھ کے، وہ اکاسمہ کی طرف جھک کے، اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا
” تم شاید مجھے غصہ دلانا چاہتی ہو، شاید یہ مجھے بتانا چاہ رہی ہو کہ تم اج بھی عاریز کو نہیں بھول پائی یا شاید یہ کہ میں عاریز کی جگہ نہیں لے سکتا یا کچھ بھی ہو سکتا ہے تمہارے مائنڈ میں۔ تو لیٹ می ٹیل یو اکاسمہ حکان ملک، تم میری شرعی بیوی ہو۔ میں جب چاہوں، جیسے چاہوں، تم سے ہر بات کر سکتا ہوں، اور اسی آفس میں، اسی سیٹ پہ، اسی ٹیبل پہ تم سے آفس رومینس بھی کر سکتا ہوں۔۔۔ ”
اکاسمہ سانس روکے، اسے اپنے بےحد قریب دیکھ رہی تھی ۔ جب حکان ملک نے، اس کے چہرے پہ، اپنی پرحدت سانسیں پھونکی اور اکاسمہ حیات کو احساس ہوا بلکل اچانک کہ اسے، اس شخص کو چھیڑنا ہی نہیں چاہئے تھا۔
وہ اکاسمہ کو بنا ہاتھ لگائے ہی، اپنے لمس سے، اس کی دھڑکنیں دھڑکا گیا تھا۔
” تمہیں بنا ہاتھ لگائے ہی، تمہاری دھڑکنیں بےترتیب کر دی ہے تو سوچو جب اپنے لمس سے تمہیں مہکاوں گا تب شاید تم سانس لینا بھول جاؤ۔۔۔۔ مسز ”
وہ مدھم سرگوشی میں کہتا، اس کے کان کی لو پہ، اپنی مبہم سانسیں چھوڑتا، آنکھ ونک کرتا پیچھے ہوا تھا۔ زیر لب مسکراتا، اکاسمہ کی حالت سے محفوظ ہوتا، پینٹ پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈالے، قدم قدم پیچھے ہوتے، دروازے سے ٹیک لگا گیا جبکہ اکاسمہ لب بھینچے اسے گھور رہی تھی۔
وہ شخص پہلے ایسا نہیں تھا لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ، وہ یہ سوچنے پہ مجبور ہوتی جا رہی تھی کہ مقابل کھڑا یہ شخص، جو دنیا کا خطرناک ہیکر مانا جاتا ہے، جو ناقابل تخسیر وکیل مانا جاتا ہے۔
وہ اب شاید، اکاسمہ کو مکمل اپنی دسترس میں کرنے کا سوچ رہا ہے۔
اس نے تیزی سے نظریں چرائی تھی جب اس کے موبائل پہ کال آنے لگی۔ اس نے اچھنبے سے موبائل دیکھتے،کال ریسیو کی تھی۔
” ہیلو ”
” اکاسمہ مبارک ہو، تمہیں نئی رشتے داری ”
نہ جانے کون تھا جو اسے مبارکباد دے رہا تھا۔
” کیا بکواس ہے ؟؟ کون ہو تم ؟؟”
” فیاض حیات کا بڑا بیٹا اور ان کی جائیداد کا چوتھا وارث ۔۔۔۔ کاووس شاہ ”
اکاسمہ کی پریشان نظر بلکل اچانک حکان پہ جا کے رکی تھی۔
□□□□□□□□□■■■■■■■■□□□□□□□□

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *