Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 21

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 21

آنکھ کھلی تو نظر بےساختہ گھڑی پہ گئی۔ صبح کے چھ بج چکے تھے تو مطلب وہ اتنا کم سویا تھا۔ بمشکل ہی شاید 3 گھنٹے۔ وہ سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔ اس کے موبائل پہ میسج ٹون بجا اور وہ چونک کے خوفزدہ نظروں سے موبائل کو دیکھنے لگا۔ پچھلے کچھ دنوں سے، اسے عجیب میسجز آ رہے تھے۔ اس کا بینک اکاؤنٹ ہیک ہو چکا تھا۔ اس کا بزنس خسارے میں جا رہا تھا۔ اس کا ذہنی توازن بگڑ رہا تھا ۔ کوئی تھا، جس کی نظر تھی اس پہ۔ میسج ٹون دوبارہ بجی تھی اور اس نے کانوں پہ ہاتھ رکھ کے، آنکھیں بند کر لی ۔
” بس کر دو، بس کر دو ۔کون ہو تم ؟؟ کون ہو تم ”
وہ چیخ رہا تھا ۔ جب اس کا موبائل خود ہی کام کرنے لگا۔ عجیب ٹون ٹون کا شور برپا ہو چکا تھا پورے کمرے میں اور حسام شاہ خوفزدہ نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔
” ویلکم بیک ٹو دا ہیل حسام شاہ ”
موبائل سے بھاری اواز گونجی تھی۔
” your time starts now …
کیا تم نہیں جانتے کہ تم مکمل میری دسترس میں ہو جو مجھے اگنور کر رہے ہو؟؟ میرے میسجز نہیں سنو گے تو میں خود تمہیں سناؤں گا کیونکہ تم پہ میں قابض ہو چکا ہوں حسام شاہ۔ ”
حسام کسی ہارے جواری کی طرح ڈھے گیا تھا۔
” قفس کیا ہوتی ہے ؟؟ جانتے ہو ؟؟ زندان ؟؟ خط قرمز؟؟؟ خط قرمز اسے کہتے ہیں جسے کراس کرنے کی اجازت نہ ہو۔ جو بارڈر لائن ہو اور بےحد خطرناک بارڈر لائن۔ ممنوعہ لائن اور تم نے وہی ممنوعہ لائن کراس کر دی ۔۔۔ تو اب سزا بنتی ہے ناں تمہاری۔
بھائی کی بیوی سے ناجائز تعلقات۔۔ اسے زندہ دفن کرنے اور بھائی کو جیل بھجوانے کا سبب ۔۔ بھائی کی جائیداد پہ قابض ہونے والا غاسب۔۔۔ امممم کیا لگتا ہے موت بھی تم سے پناہ مانگے اوہ سوری، شیطان بھی تم سے پناہ مانگے حسام شاہ۔ لیکن مقابل تمہارے ملٹی ٹیلنٹڈ انسان موجود ہے، اور اس ملٹی ٹیلنٹڈ انسان کے قبضے میں جب کوئی جسم آ جائے تو سمجھو وہ اس کی روح تک کھینچ کے پھینک دیتا ہے تو بس جسم تو میرے قبضے میں ہیں۔۔۔ اب روح کے نکلنے کی تیاری کرو حسام شاہ ”
وہ اب ہنس رہا تھا جبکہ حسام سدھ بدھ ہی کھو چکا تھا۔ ماضی کے سارے لمحے اس کی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی مانند چل رہے تھے۔ وہ اور رخسار تھے جو اپنی جنسی خواہشات کی تسکین کے لئے، ایکدوسرے میں مگن تھے۔ بیڈ پہ پڑے دو برہنہ وجود تھے۔ ایک بھائی کی عزت لوٹ رہا تھا تو دوسرا وجود اپنے شوہر کی عزت نیلام کر رہی تھی۔

‘ مار دو ازمائر کو۔۔۔۔ اسے نکلنا ہوگا ہماری زندگیوں سے، میرے کاروبار سے۔ میری جائیداد سے۔ یہ سب میرا ہے ‘

‘ اسے جیل بھیجنا ہوگا اور عمر قید کی سزا ہوگی۔ ‘

‘ کون نکالے گا اسے باہر؟؟’

ہنسنے کی آوازیں تھی، قہقہے تھے، اس کے قہقہے تھے اور اب؟؟؟ وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگا۔ اس کے قہقہے اب نہیں رہے تھے، اب تو اسے رونا تھا۔ پھوٹ پھوٹ کے رونا تھا۔ اس نے جھک کے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کے، زور سے دیوار پہ ماری تھی جو دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو کے، وہیں گرا تھا جبکہ کمپیوٹر کی آنکھ سے دیکھنے والا وہ شخص، سرد آنکھوں میں نفرت اور انتقام کی آگ لیے، اب مسکرا رہا تھا۔ حسام شاہ کو تڑپتا دیکھ کے، ازمائر شاہ پرسکون ہو رہا تھا ۔
” Your game is over Hassam Shah, it’s my turn now “

《《《《《《《《》》》》》》》

” گڈ مارننگ ۔۔”
عاریز ٹاول لپیٹے، واشروم سے باہر آیا تو اکاسمہ کی مسکراتی نگاہوں نے، اسے سر تا پیر دیکھا تھا۔ گیلے بال ماتھے پہ بکھرے ہوئے تھے جبکہ پانی کی ننھی بوندیں، اس کے کندھے سے پھسل رہی تھی۔ اکاسمہ نے ایک شوخ سی سیٹی مارتے، اسے آنکھ ونک کی تھی جبکہ عاریز ہنسنے لگا۔
” گڈ مارننگ مائی ڈئیر وائف، جو بےحد ظالم خاتون ہے۔ جسے اپنے ہزبینڈ کے جذبات کی کوئی فکر نہیں ہے اور دور دور سے ہی مزے لے کے، منہ بنا لیتی ہے ”
اکاسمہ کو ہنسی آئی تھی۔
” اممممم شکایتیں ہو رہی ہے تو کوئی کیس بھی فائل کیا ؟؟”
عاریز چلتے ہوئے، اس کے قریب آیا تھا۔
” ارادہ رکھتا ہوں ”
اکاسمہ نے نظر بھر کے، اس کے ماتھے پہ بکھرے گیلے بالوں کو دیکھا تھا اور پھر ہاتھ کی انگلیوں سے، اس کے بالوں کی نمی کو محسوس کیا۔ ۔
” تو کرو فائل کوئی بھی کیس ”
عاریز نے آبرو اچکا کے اسے مسکراتی نگاہوں سے دیکھا تھا۔
” اجازت دے رہی ہے ملکہ ڈان ”
اکاسمہ نے لب دانتوں تلے دبائے تھے۔ شہادت کی انگلی عاریز کے کندھے سے سینے پہ پھیرتے، وہ نظر اٹھا کے عاریز کو دیکھنے لگی۔
” ایبز بھی ہیں تمہارے۔۔۔ واؤ ، اصلی ہے ؟؟”
عاریز زیر لب مسکراتا اسے گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اسے کھو دینے کا خیال ہی کتنا جان لیوا تھا عاریز کے لئے ہمیشہ سے۔ اکاسمہ کی کمر کو تھامتے، عاریز اسے خود سے لگا گیا تھا اور اب دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے، اس کے بال سنوارنے لگا۔
” according to case 7065231,
یہ پرازیکیوٹر تم پہ کیس فائل کرتا ہے جس کے مطابق یہ پرازیکیوٹر تمہارے حسن کو خراج تحسین پیش کرنے کا مدعا بیان کرنا چاہتا ہے ”
اکاسمہ مسکراتی آنکھوں سے دیکھتی، مزید اس کے قریب ہوئی تھی کہ اس کی سانسیں، عاریز کے لبوں پہ پڑ رہی تھی جبکہ ان گرم سانسوں کی تپش، عاریز کو مدہوش سا کر رہی تھی۔
” Accepted Mr Prosecutor… ”
عاریز کی انگلیاں، اکاسمہ کی پشت پہ رینگ رہی تھی جو اکاسمہ کے وجود میں عجب سر سا بکھیر رہی تھی اور تبھی وہ آنکھیں موند گئی تھی۔ لبوں کا لمس محسوس ہوا تو سانسیں بھی مدھم پڑنے لگی اور بنا مزید تاخیر کے، عاریز اس لمس کو خود میں مقید کرتا، سانسوں کو ایکدوسرے میں الجھانے لگا۔ پرفسوں سا ماحول بن چکا تھا لیکن لمحے بھی نہ بیتے تھے کہ دروازے پہ ہوتی بیل نے یہ طلسم توڑا تھا اور دونوں کی الجھی سانسیں تھمی تھی۔ مسلسل ہوتی بیل حواس پہ چھائے غنودگی میں خلل ڈالنے لگی۔ تسلسل ٹوٹا اور سانسیں الجھنے کا عمل بھی رک گیا۔ پرفسوں ماحول کا اثر زائل ہوا تو دونوں ایکدوسرے کو دیکھنے لگے لیکن مسلسل بجتی بیل کا ہوش جیسے اب آیا تھا دونوں کو۔
” م ۔۔۔ میں دیکھ ۔۔۔۔ تی ہوں ”
یہ کہہ کے وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلی تھی جبکہ عاریز کے لب ہلکا سا مسکرائے تھے لیکن مسلسل بجتی بیل نے اس کا ذہن الجھایا تھا اور تبھی وہ جلدی جلدی ڈریس آپ ہونے لگا ۔
” بارز، تم اس وقت ؟؟”
دروازہ کھلنے پہ بارز کو دیکھ کے وہ چونکی تھی۔
” اتنی صبح صبح، سب ٹھیک تو ہے ؟؟ آؤ۔۔۔ تم ٹھیک ہو ؟؟”
وہ پریشانی سے بارز کو دیکھ رہی تھی جو اندر آ تو چکا تھا لیکن چہرے پہ اضطراب تھا اور پریشان نظروں سے وہ چاروں طرف دیکھ رہا تھا ۔
” بارز ؟؟”
اکاسمہ کے دوبارہ پکارنے پہ، وہ چونکا تھا اور مسکرانے کی کوشش کرتا اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔
” میں ٹھیک ہوں، تم سے ملنا آیا ہوں۔ کالج جا رہا تھا تو ”
اکاسمہ مسکرانے لگی۔
” یہ تو بہت اچھی بات ہے، آؤ بیٹھو، ناشتہ کیا تم نے ”
عاریز بھی آ چکا تھا۔
” اسلام علیکم عاریز بھائی ”
وہ عاریز کو دیکھ کے مسکرانے لگا۔
” وعلیکم السلام۔ کیسے ہو بارز ۔۔۔ آؤ بیٹھو یہاں ”
بارز اس کے اشارہ کرنے پہ، صوفے پہ جا کے بیٹھ گیا۔
” میں ناشتہ بناتی ہوں”
عاریز نے مسکرا کے سر اثبات میں ہلایا تھا۔ وہ کچن کی طرف گئی تو عاریز، پاس بیٹھے بارز کو دیکھنے لگا جو اضطرابی انداز میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔
” کالج جا رہے ہو؟؟”
بارز چونک کے مسکرانے لگا۔
” جی، تو سوچا آپ دونوں سے بھی مل لوں اور تھینک یو بھی بول دوں۔ آپ دونوں نے میرے لئے اتنا کچھ کیا ”
” ارے اچھا کیا جو تم آئے، مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ پھر سے تمہاری لائف نارمل ہو رہی ہے ”
بارز یہ بھی نہ کہہ سکا کہ ایک چنگل سے نکل کے، وہ پھر سے اسی چنگل میں پھنس رہا ہے۔ جو اس بار اس کی اور اکاسمہ کی زندگی سے متعلق ہے۔ موبائل پہ کال آنے لگی تو عاریز کال سننے چلا گیا اور بارز تیزی سے ادھر ادھر نظریں دوڑاتا، جیب سے وہ چپ نکالنے لگا جو اس رات حکان نے اسے دی تھی۔ چاروں طرف دیکھنے کے بعد اطمینان کر چکا تو وہ چپ ہاتھ میں لیے، اسے ٹیبل کے نیچے لگانے کا سوچنے لگا جب اچانک اکاسمہ کی آواز پہ وہ بوکھلایا تھا اور اسی بوکھلاہٹ میں چپ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کے نیچے گری تھی۔
” شٹ ”
لب بھینچے وہ اب کارپٹ پہ نظریں دوڑا رہا تھا لیکن نہ جانے چپ کہاں غائب ہو گئی تھی۔ وہ نیچے بیٹھ کے، کارپٹ پہ ہاتھ پھیرتے، چپ ڈھونڈ رہا تھا اب اور پھر اس کے ہاتھ چپ لگ ہی گئی ۔
” بارز نیچے کیوں بیٹھے ہو تم ”
اکاسمہ کی آواز آئی اور اس نے تیزی سے ہاتھ میں لیا چپ، میز کے نیچے چپکایا تھا اور پھر مسکراتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھنے لگا
” پین گر گیا تھا، وہ ڈھونڈ رہا تھا ۔”
” اوہ اچھا میں دیتی ہوں پین تمہیں۔۔۔ ایک منٹ ”
اکاسمہ مڑ کے جانے لگی ۔
” ارے نہیں نہیں، مل گیا پین مجھے۔ اچھا میں چلتا ہوں ”
بارز کی آواز پہ، اس کے قدم رکے تھے۔
” ناشتہ کر کے جاؤ ”
” نہیں، ناشتہ نہیں، میں کر کے آیا ہوں۔ بس آپ کو اور عاریز بھائی کو تھینکس کہنے آیا تھا۔ ”
بارز نے مسکراتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی نظر نیچے گئی شاید یہ کنفرم تھا اسے، کہ چپ اپنی جگہ پہ فٹ ہو چکا ہے یا نہیں۔ گہرا سانس لیتے وہ مسکرا کے اکاسمہ دیکھنے لگا۔
” میں چلتا ہوں اب ”
یہ کہہ کے وہ تیزی سے، دروازے کی طرف بڑھا تھا۔
” اچھا رکو ”
اکاسمہ کی آواز پہ وہ رکا تھا ۔ دل کی دھڑکن بھی خوف سے کانپی تھی لیکن بہرحال وہ بھاگ تو نہیں سکتا تھا یہاں سے۔ تبھی مڑ کے اکاسمہ کو دیکھنے لگا جب اکاسمہ نے قریب آ کے، نرمی سے، اسے گلے لگایا۔
” ہمیشہ ایسے ہی رہنا۔ کالج جایا کرو، اچھے دوستوں کے ساتھ رہو اور دل لگا کے اسٹڈیز کرو۔ تمہیں پائلٹ بننا ہے ناں ”
اکاسمہ اب اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی جو مسکرا کے اثبات میں سر ہلا رہا تھا اور پھر تیزی سے باہر نکل گیا ۔ وہاں دم گھٹنے لگا تھا اس کا۔ سینے کو مسلتے، وہ خود کو جیسے گھسیٹ رہا تھا۔ یہ کیا کرنے جا رہا تھا وہ اپنی بہن کے ساتھ؟؟ وہی بہن جو اس سے بےحد پیار کرتی ہے، اس کے ہر برے عمل کے بدلے میں، اس نے ہمیشہ محبت دی اسے، اس کا دھیان رکھا اور وہ ؟؟؟
اس نے مڑ کے، اپنے پیچھے اس گھر کو دیکھا تھا جہاں نہ جانے، اج کے بعد کیا ہونے جا رہا تھا؟؟ اس کی بہن کے ساتھ کیا ہونے والا تھا ؟؟ وہ چپ۔۔۔ کس حد تک خطرناک تھا؟؟ وہ نہیں جانتا تھا۔

‘ موت کا فرشتہ راستہ بھول گیا تھا تو اب موت کا خطرہ بھی ٹل چکا ہے اور موت کا فرشتہ بھی اپنی راہ بدل چکا ہے بس جان بخشی کے بدلے میں، تمہیں یہ کرنا ہوگا ۔ ‘

اس کے کانوں میں حکان کی باتیں گونجنے لگی۔ سب دھندلانے لگا تو تیزی سے رخ مڑ کے، وہ تیز تیز قدم اٹھاتا یہاں سے جانے لگا کہ وہ منجدھار میں پھنس چکا یے۔ وہ نہ ادھر جا سکتا ہے اور نہ ادھر۔وہ بس دھنستا جا رہا ہے اور انجام کیا ہوگا ؟؟ وہ بےخبر ہے ابھی !!!

《《《《《《《》》》》》》》

کال پہ کال کر رہی تھی لیکن ازمائر شاہ کال ریسیو نہیں کر رہا تھا اخر تھک کے، اس نے موبائل سائیڈ پہ پھینک دیا۔ کہاں تھا یہ آزمائر شاہ؟؟ کال کیوں نہیں اٹھا رہا تھا؟؟ سوچوں کا تسلسل نہ جانے کہاں سے، کہاں جا رہا تھا اور اس آخری سوچ سے، جیسے اس کا پورا وجود کانپ اٹھا تھا ۔ وہ تیزی سے اپنا بیگ اور موبائل اٹھا کے، باہر کی طرف بھاگی تھی کہ اسے جلد سے جلد، ازمائر شاہ کے گھر پہنچنا تھا۔ گاڑی جتنی تیز رفتار سے دوڑا سکتی تھی، وہ دوڑا رہی تھی۔ اسے جلد سے جلد وہاں پہنچنا تھا لیکن بیل بجانے پہ، جس طرح سے ازمائر نے منہ پہ ہاتھ رکھے جمائی لیتے دروازہ کھولا تھا۔ مسفرہ حیرت سے، اسے دیکھنے لگی۔
” ارے مسفرہ تم ”
” کال کیوں نہیں اٹھا رہے میری ؟؟”
مسفرہ اسے دیکھتی، بلکل اچانک پوچھنے لگی۔
” کال ؟؟ تم نے کال کی ہے مجھے مسفرہ ؟؟”
ازمائر کی آنکھوں اور لہجے میں حیرانی تھی جبکہ مسفرہ نے لب بھینچ لیے تھے۔
” اچھا اندر آؤ پلیز ”
ازمائر اسے راستہ دیتا سائیڈ پہ ہو گیا تھا۔ وہ اندر آئی تو دروازہ بند کرتا ازمائر بھی آگے بڑھ کے، اپنا موبائل چیک کرنے لگا جہاں 20 کے قریب مسڈ کالز تھی مسفرہ کی۔ اس نے چور نظروں سے مسفرہ کو دیکھا اور سر کھجانے لگا۔
” سوری، سائلنٹ پہ تھا موبائل اور میں سو رہا تھا ۔ ”
” کوئی تمہیں قتل کرنا چاہتا ہے ”
موبائل ٹیبل پہ رکھتے، ازمائر کے ہاتھ ٹھٹھکے تھے اور وہ چونک کے مسفرہ کو دیکھنے لگا
” اور مجھے بھی۔ ”
مسفرہ نے دوبارہ سے کہا تھا جب ازمائر تیزی سے اس کے قریب آیا ۔
” کب ؟؟ کون ؟؟ کس نے کہا یہ سب تم سے ؟؟ تم ٹھیک تو ہو ؟؟ ”
وہ جانچتی پریشان نظروں سے، مسفرہ کو دیکھتا سوال کرنے لگا۔
” سیریل کلر بتا رہا تھا خود کو۔ ”
مسفرہ نے آہستگی سے جواب دیا تھا۔
” کیوں؟؟ اور تم اکیلی کیوں آتی جاتی رہتی ہو؟؟ پتہ بھی ہے کراچی کے حالات کا، کب کیا ہو جائے اور آج کل تو کچھ زیادہ ہی بگڑ رہے ہیں حالات ”
ازمائر اس کے لئے پریشانی کا اظہار کرنے لگا۔
” میں ٹھیک ہوں، میں نہیں ڈرتی کسی بھی حالات سے۔ مجھے تو تمہاری فکر ہو رہی تھی اور جب کال ریسیو نہیں کر رہے تھے تب زیادہ ڈر محسوس ہوا کہ ۔۔۔”
وہ بات ادھوری چھوڑ کے، لب کاٹنے لگی۔
” میرے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے مسفرہ، مجھے کچھ نہیں ہو ۔۔۔م ”
اپنی بات کی سنگینی کا احساس اسے جلد ہو گیا تھا کہ مسفرہ لب بھینچے اسے دیکھنے لگی تھی۔
” م ۔۔ میرا مطلب تھا مسفرہ کہ کوئی مجھے کیوں قتل کرنا چاہے گا۔ ایسا کچھ نہیں ہے تم پریشان ہو رہی ہو خوامخواہ میں۔ ”
” صحیح کہہ رہے ہو میں کیوں پریشان ہو رہی ہوں تمہارے لئے۔۔ بلکل صحیح کہا۔ اس نے مجھے منع کیا ہے کہ تم سے نہ ملوں ورنہ ماری جاؤں گی، قتل کر دی جاؤں گی اور تم بھی قتل کر دیے جاؤ گے اور میں ہر خطرہ مول کے، تمہیں یہاں دیکھنے آئی ہوں اور تم ۔۔۔ مجھے کہہ رہے ہو کہ مجھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ازمائر شاہ ۔۔۔۔ صحیح کہہ رہے ہو ”
مسفرہ کو دکھ نے آ گھیرا تھا۔ دل ڈوبنے سا لگا تھا ازمائر شاہ کے الفاظ پہ اور تبھی وہ رخ موڑ کے وہاں سے جانے کا سوچنے لگی جب ازمائر شاہ نے تیزی سے آگے بڑھ کے، اس کا بازو تھام کے، اسے روکا تھا۔
” مسفرہ ایم سوری ۔۔۔ پلیز ایسے مت جاؤ ”
مسفرہ رک کے اسے غصیلی اور شکایت بھری آنکھوں سے دیکھنے لگی۔
” ایم سوری مسفرہ، سوری پلیز۔ میرا مطلب ہرگز تمہیں ہرٹ کرنا نہیں تھا ۔ میں تو یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ میری زندگی کے قیمتی سال ویسے بھی تو برباد ہو ہی چکے ہیں تو اب کیا فرق پڑتا ہے کہ کون کیا کرنے والا ہے میرے ساتھ ۔ تمہیں ہرٹ کرنا میرا مقصد ہرگز نہیں تھا۔ پلیز مسفرہ رک جاؤ، مت جاؤ ایسے ”
مسفرہ رک کے لب بھینچ گئی تھی کہ رخسار کو سزا ہونے کے باوجود بھی، اسے ہر لمحہ یہی دیکھ رہتا کہ وہ عورت کیسے اس شخص کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے۔
” ویسے اچھا لگا، تمہارا یوں میرے لئے پریشان ہونا ”
مسفرہ چونک کے، اس کی شرارت بھری آنکھوں میں دیکھنے لگی اور پھر ہلکا سا مسکرا کے، وہ ادھر ادھر دیکھتی، پھر سے اسے دیکھنے لگی۔
” میں چائے بنا دوں دونوں کے لئے، سر میں درد ہو رہا ہے بہت ”
“یوں کرو ناشتہ بنا دو۔ ”
ازمائر نے اپنے ہاتھ میں موجود، اس کی کلائی کو اپنی طرف کھینچا تھا اور مسفرہ بوکھلا کے، اس کے قریب ہوئی تھی کہ اس کے سینے سے لگتے لگتے بچی تھی۔
” اتنی صبح صرف چائے کون پیتا ہے ۔”
اس کی گہری نگاہوں کے تسلسل سے سرخ پڑتی، مسفرہ نظریں چرا گئی۔
” تم فریش ہو جاؤ۔۔۔ ”
” امممم ، شیور ”
ازمائر اس کا ہاتھ نرمی سے چھوڑ چکا تھا جبکہ مسفرہ زیر لب مسکراتی، اسے دیکھتی کچن کی طرف بڑھی تھی کہ ازمائر شاہ کی گہری نگاہوں کا تسلسل اسے اب بوکھلا رہا تھا۔ اسے سب اچھا لگ رہا تھا لیکن دل کی دھڑکنیں شور برپا کر رہی تھی جن سے گھبرا کے، اس نے کچن میں ہی پناہ لینا مناسب سمجھا تھا۔

《《《《《《《《》》》》》》》》

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *