Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 49

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 49

راتوں رات، ویڈیو پورے انٹرنیٹ پہ وائرل ہو چکی تھی۔ جس میں دکھایا جا رہا تھا کہ کس طرح سے ایرسا، حکان ملک کے کافی میں وہ ڈرگز استعمال کر رہی ہے جو حکان کی بیماری کو دن بہ دن بڑھا رہی ہے۔
کانپتے ہاتھوں سے موبائل تھامے، ایرسا اس ویڈیو کو دیکھ رہی تھی۔ اس کا دل خوف سے کانپ رہا تھا اور اسے بچنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہ ابھی ابھی آفس پہنچی تھی اور جیسے ہی اپنا موبائل اوپن کیا تو ٹرینڈنگ پوسٹ یہی چل رہی تھی
ٹیبل پہ، کسی کی نازک مخروطی انگلیاں بجی تو ایرسا چونک کے اوپر دیکھنے لگی جہاں اکاسمہ کھڑی مسکراتی آنکھوں سے، اسے دیکھ رہی تھی۔ ایرسا بوکھلا کے اٹھنے لگی جب اکاسمہ نے اپنی انگلی اس کے کندھے پہ رکھ کے، اسے پھر سے بٹھا دیا۔ شہادت کی انگلی اس کی گردن سے کندھے پہ پھیرتی، وہ اس کی کرسی کے گرد گھوم کے، پھر سے اس کے سامنے آئی۔ ۔
” پتہ ہے ایرسا؟ سب سے زیادہ خطرناک انسان کون ہوتا ہے ؟؟ جو دوست کے روپ میں، تمہیں ڈسے۔ اور تم تو اتنی زیادہ خطرناک ہو کہ بہترین دوست کے روپ میں ڈستی رہی۔ ناگن بھی شاید اس قدر بدتر نہ ہو جس قدر تم نکلی۔ ”
” اکاسمہ یہ ۔۔۔ یہ فیک ہے، کوئی مجھے پھنسانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ”
وہ کہنے کی کوشش کرنے لگی جب اکاسمہ اس کے قریب جھک کے، اس کی آنکھوں کا خوف دیکھنے لگی۔
” تمہاری آنکھیں تو کچھ اور کہہ رہی ہے کہ تم اس وقت مجھ سے خوفزدہ ہو، بےحد خوفزدہ ۔۔۔ ڈر رہی ہو مجھ سے۔ ڈرنا بھی چاہئے تمہیں، کیونکہ میں بہت خطرناک ہوں، کیا تم دیکھنا چاہو گی ایرسا کمال ؟؟ کہ میں کتنی خطرناک ہوں ؟؟”
جس قدر معصومیت سے وہ ایرسا کو دیکھ رہی تھی، اس قدر، اس کی زبان سے ادا ہوتے الفاظ سفاک لگ رہے تھے کہ ایرسا کے لئے تھوک نگلنا مشکل ہو گیا جبکہ اس کا دل خوف سے کانپنے لگا۔
اچانک اکاسمہ، اس کے بال مٹھی میں جکڑ کے کھنچتے ہوئے، اسے گھسیٹنے لگی۔ پورا آفس ایرسا کی چیخوں سے گونجنے لگا۔
” بند کرو یہ چلانا، دائن، حریص عورت۔ میرے شوہر، اکاسمہ حکان ملک کے شوہر کو تم مارنے کی جرات بھی کیسے کر سکتی ہو؟؟ کیا تمہیں اپنے انجام کا خوف نہیں تھا۔ ”
اکاسمہ اسے بالوں سے کھنیچتی، آفس سے باہر لے گئی وہاں موجود سارے ورکرز، انہیں حیرت سے دیکھنے لگے جبکہ ان سب کے ساتھ ساتھ، خیام کا منہ بھی حیرت سے کھلا رہ گیا۔
” چھوڑو مجھے اکا۔۔۔۔ سمہ ۔۔۔ ہیلپ کرو ۔۔۔۔ یہ ۔۔۔ پاگل ہو گئی ہے ۔۔”
ایرسا چلانے لگی۔
” ہاں میں پاگل ہو گئی ہوں۔ میرے شوہر کو تم سرعام ختم کرنے کی کوشش کرو اور میں چپ چاپ تماشہ دیکھوں۔ you bloody bitch ”
اکاسمہ نے چیختے ہوئے، اسکے بال کھینچ کے، اسے دھکا دیا تھا۔ اس کے کئی بال اکاسمہ کے ہاتھ میں آ گئے تھے۔ ابھی وہ سنبھلی بھی نہیں تھی جب اکاسمہ نے اس کی گردن دبوچ لی۔
” تمہاری اتنی ہمت، کہ میں اپنے شوہر کا ساتھ دے رہی ہوں، اس کی بیماری ٹھیک ہونے میں اور تم میرے اسی شوہر کو پاگل بنانے کی کوشش بھی کرو ۔ جانتی نہیں ہو کہ میں جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتی اگر کوئی میرے شوہر کو نقصان پہنچانے کی بھی کوشش کرے ”
ایرسا کو اپنی سانس بند ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ خود کو اکاسمہ کی گرفت سے آزاد کرانے کی کوشش کرنے لگی لیکن بےسود۔
وہ شاید اکاسمہ کو گنتی میں نہیں لے رہی تھی لیکن اب اس کی طاقت دیکھ کے، وہ اس قدر خوفزدہ تھی کہ خود کو اس کی گرفت سے آزاد کرانے کی کوشش بھی نہیں کر پا رہی تھی ۔
” اکاسمہ۔۔۔ وہ مر جائے گی۔ چھوڑو ”
خیام نے قریب آ کے، اکاسمہ کی گرفت، ایرسا کی گردن پہ کم کرنے کی کوشش کی جبکہ اکاسمہ، ایرسا کو زور سے دھکا دیتی، اپنا ہاتھ اس کی گردن سے ہٹا چکی تھی لیکن ایک ٹانگ اس کی پیٹ پہ رسید کر چکی تھی کہ ایرسا منہ کے بل نیچے گر پڑی۔
خیام اسے ڈان کہتا تھا اور وہ واقع ڈان ہی تھی۔ اس نے بمشکل اکاسمہ کو پیچھے کھینچا۔
” لے کر جاؤ اسے ۔۔۔ ”
خیام نے وہاں موجود ورکر کو اشارہ کیا تو وہ تیزی سے آگے بڑھا اور درد سے بلبلاتی ایرسا کو، اٹھا کے، لاک اپ کی طرف لے جانے لگا۔ خیام لب بھینچے اسے دیکھنے لگا۔
” ریلیکس اکاسمہ، اب قانون اسے سزا دے گا ”
” دل کرتا ہے کہ اسے اپنے ہاتھوں سے ختم کر دوں۔ بلڈی بچ ”
اکاسمہ نے دانت پیستے کہا جبکہ خیام اپنی کنپٹی سہلانے لگا۔
” ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں یہ سب ہوتا رہا اور ہمیں خبر بھی نہ ہوئی ۔ ”
” چیونٹیوں کے مانند کیمرے لگا کے دیکھو تو سب پتہ چل جائے گا کہ کون کیا کر رہا ہے ؟”
اکاسمہ لب بھینچے کہتی، سر جھٹک گئی۔
” مجھے پہلے سے شک تھا کہ اس ایرسا میں کوئی گڑبڑ ضرور ہے لیکن میں یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اسقدر گھٹیا ہوگی کہ حکان کو ایسے ڈرگز دے گی جو اس کی بیماری کو مزید بڑھاوا دے۔ کیا وہ حکان کو پاگل بنانے کا ارادہ رکھتی تھی۔ سوچ سوچ کے دماغ ماؤف ہو رہا ہے ”
اکاسمہ کو اچانک تھکن کا احساس ہونے لگا۔ اپنا سر تھامے وہ گہرا سانس لیتی خیام کو دیکھنے لگی جب نظر پیچھے کھڑے حکان پہ پڑی۔
” حکان ۔۔۔ ”
وہ سر جھٹک کے حکان کے قریب گئی جبکہ خیام بھی مڑ کے حکان کو دیکھنے لگا۔
” تم اتنی صبح صبح مجھے چھوڑ کے افس آ گئی ویسے ”
اکاسمہ نے اپنی کنپٹی سہلائی۔
” ہاں وہ، میں نہیں چاہتی تھی کہ خون خرابہ دیکھ کے، تمہاری طبیعت ناساز ہو”
یہ کہہ کے وہ اپنے آفس کی طرف بڑھ گئی جبکہ حکان نہ سمجھنے والے انداز میں خیام کو دیکھنے لگا تو وہ کندھے اچکا کے، انجان بن گیا۔ حکان بھی مڑ کے، اکاسمہ کے آفس میں داخل ہوا۔ دروازہ بند کرتے وہ اکاسمہ کو کمر سے تھام کے، اسے اپنے قریب کر لیا کہ اس کی پیٹھ، حکان کے سینے سے ٹکرا گئی جبکہ حکان، اس کے کان کی لو پہ سرگوشی کرنے لگا۔
” آفس رومینس کا موڈ ہو رہا ہے میرا ”
” اچھا اور جو ڈاکٹر نے منع کیا ہے ۔۔۔ اس کا کیا مسٹر ۔۔۔۔ ح۔۔۔۔کان م۔۔۔۔۔لک ”
وہ بات مکمل ہی نہ کر سکی کہ حکان کے لب، اس کی گردن اور کندھے پہ گستاخی کرنے لگے تھے۔ اکاسمہ بمشکل سانس لیتی، اپنی بات مکمل کر پائی تھئ۔ الفاظ بکھر کے اس کی زبان سے ادا ہوئے تھے جبکہ اس مبہم لمس کو محسوس کرتی، وہ آنکھیں موند گئی۔
” ح ۔۔۔ کان۔۔۔ ”
” جان حکان !!!”
حکان جھٹکے سے اس کا رخ اپنی طرف موڑ چکا تھا۔
” میرے نیند میں ہونے کا، ناجائز فائدہ اٹھا کے، تم میرے بنا ہی آفس ا گئی۔ بتاؤ کیا سزا دوں تمہیں؟؟”
اکاسمہ اس کی بوجھل آنکھوں میں دیکھتی مسکرانے لگی۔
” شدت بھرا کوئی لمس چھوڑ دو کہ میرے تھک ماندہ روح کو سکون ملے۔”
وہ حکان کا کالر تھام کے، اس کی ٹائی سے کھیلنے لگی۔
” کوئی ایسا لمس بخش دو کہ اداس دل میں دھڑکنیں رقص کرنے لگ جائے۔ ”
حکان زیر لب مسکرانے لگا۔
” کوئی ایسا لمس بخش دو کہ مجھے یہ سکون مل سکے کہ میری آخری سانس تک تم میرے ہو۔ صرف میرے ”
اس کی آنکھیں نم ہونے لگی۔ وہ کیوں اس شخص سے بےپناہ محبت کرنے لگی تھی کہ وہ اپنی آنکھوں میں نمی محسوس کرنے لگی تھی اب ۔
” اکاسمہ ۔۔۔ ”
حکان حیران ہوا لیکن اکاسمہ نے اس کے لبوں پہ شہادت کی انگلی رکھ کے، اسے خاموش کرایا۔
” کوئی ۔۔۔۔ ایسا لمس ۔۔۔بخش دو کہ ۔۔۔۔۔ میں خود کو تم میں تحلیل ہوتا محسوس کروں حکان ملک ۔
کوئی ایسا لمس بخش دو کہ میرے وجود میں تمہاری دوریوں کا عجب سا سوگ پنہاں ہے۔۔
مجھے اپنے ہر لمس بخش دو، اس لمحے، حکان اس لمحے، میرے پژمردہ وجود کو، تمہاری چاہ ہو رہی ہے۔۔۔۔ کہ میں۔۔۔۔ ”
اس کے باقی الفاظ، حکان نے بےحد اچانک اپنے لبوں پہ چن لیے تھے کہ بےچین سانسیں ایکدوسرے میں گھلنے لگی۔ یہ لمس اس قدر شدت بھرا تھا کہ اکاسمہ کو واقع اپنے اداس دل میں دھڑکنوں کا رقص سا محسوس ہونے لگا ۔
اس نے حکان کی گردن میں اپنی بانہیں حائل کر دی جبکہ حکان اس کی نازک کمر کو تھام کے، اسے اٹھا کے، ٹیبل پہ بٹھا چکا تھا اور خود اس پہ جھکا سیراب ہو رہا تھا۔
چند لمحوں کے لئے، دونوں اپنی مدہوش سانسوں سمیت، ایکدوسرے کی آنکھوں میں دیکھنے لگے۔ اکاسمہ کو کچھ عجیب سا محسوس ہوا تبھی اس نے حکان کو روکنے کی کوشش کی۔
” حکان نہیں۔۔۔۔”
وہ کہنے والی تھی اور خود کو پیچھے کھینچنے والی تھی جب حکان نے پھر سے، اس کی سانسوں کو اپنی سانسوں سے قید کر لیا۔ اس بار شدت پہلے سے بھی زیادہ تھی۔
” اسے ۔۔۔ کہتے ہیں آفس رومینس ”
وہ اب اکاسمہ کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔
” تم ۔۔۔۔ ٹھیک ہو حکان ؟؟”
اکاسمہ کی آنکھوں میں تشویش تھی۔ ڈاکٹر واضح الفاظ میں، دونوں کو ایکدوسرے کے قریب ہونے سے منع کر چکا تھا لیکن نہ جانے اس لمحے کی قید میں جکڑ گئی تھی اکاسمہ کہ اسے بےپناہ حکان کے لمس کی طلب ہونے لگی شاید یہ حکان کی آنکھوں کا قصور تھا یا پھر اس مبہم لمس کا، جو حکان نے اس کی گردن اور کندھے پہ بکھیرے تھے۔ ۔
” ہاں میں ٹھیک ہوں ”
حکان نے زیر لب مسکراتے ہوئے، پیشانی اس کے کندھے پہ رکھی تھی۔ گہرا سانس لیتے، وہ مسکرانے لگا۔ ۔
” مسڈ یو اکاسمہ ”
اچانک دستک کے فورا بعد ہی، دروازہ کھلا اور ان دونوں کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملا تھا۔ سامنے والا حیرت اور شرمندگی سے دونوں کی بکھری بکھری حالت دیکھتا، آنکھوں پہ ہاتھ رکھ گیا۔
” س ۔۔۔ سوری سر، سوری میم ۔۔۔۔ ”
وہ تیزی سے باہر نکل کے دروازہ بند کر گئی۔
” اب پورے آفس میں ہنگامہ مچ جائے گا کہ ہم آفس میں رومینس کر رہے تھے۔ ”
اکادسمہ پریشان نظروں سے دروازے کو دیکھنے لگی جبکہ حکان نے اسے غور سے دیکھتے، اس کے لبوں کے کنارے پہ اپنا محبت بھرا لمس چھوڑا۔
” ہونے دو ہنگامہ۔ ہم روز کیا کریں گے آفس رومینس ”
آخر میں حکان نے آنکھ ونک کی ۔ اکاسمہ نے ہنستے ہوئے، اسکی گردن میں اپنے بازو حائل کر دیے جبکہ حکان نے اسے بانہوں میں بھر لیا۔

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

وجدان ملک آفس سے نکل کے، جیسے ہی گاڑی میں بیٹھا۔ اس سے پہلے کہ ڈرائیور گاڑی اسٹارٹ کرتا، پچھلی سیٹ کا دروازہ کھلا اور ایک شخص اندر آ کے بیٹھ گیا۔ اس کی ناک پہ سفید ماسک لگا ہوا تھا لیکن اس کی آنکھیں بےحد شناسا تھی۔ جیسے یہ آنکھیں اس نے کئی بار دیکھی ہو۔
وہ اپنی سرد آنکھوں سے وجدان ملک کو دیکھ رہا تھا ۔
” کون ہو تم ؟؟”
وجدان ملک ہڑبڑا کے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
” جانتے بھی ہو کہ میں کون ہوں؟؟ جانتے بھی ہو کہ کس کی گاڑی میں۔۔۔ ”
” چپ، بکواس بند کرو”
اس شخص کی سرد آواز ابھری، ساتھ ہی ریوالور بھی اس کی کنپٹی پہ رکھ دیا اور وجدان ملک کے الفاظ کا گلا گھونٹ گئی۔ وہ اب ہراساں سا، آنکھوں میں خوف لیے اسے دیکھ رہا تھا۔
” اکاسمہ کو تنگ کرنے سے باز آ جاؤ وجدان ملک ”
اور وجدان ملک کو، خوفزدہ ہونے کے باوجود، اچانک یاد آیا کہ اس کی آنکھیں اکاسمہ سے ملتی ہیں۔
” کون ہو تم ؟؟ کیا تم اکاسمہ کے بھائی ہو ؟؟”
” چپ رہو، زیادہ سوال کرنے کی صورت میں، اس ریوالور کی تمام گولیاں تمہاری اس گندی کھوپڑی میں اتار دوں گا ۔ بس یہ یاد رکھو کہ اکاسمہ کو تنگ نہیں کرنا اب، حکان ملک کو ہرٹ کرنے کی یا اس کی بیماری سے متعلق کچھ بھی غلط کرنے کا سوچا تو میں اگلی بار نہ سوال کروں گا اور نہ جواب مانگوں گا۔ بلکہ ریوالور کی تمام گولیاں تمہاری کھوپڑی میں اتار کے، اس کراچی شہر کو تمہاری گندگی سے نجات دلا دوں گا۔ آئی سمجھ ؟؟”
آخر میں وہ غرایا جبکہ وجدان ملک خوفزدہ انداز میں سر ہلانے لگا۔ تبھی وہ شخص ریوالور پینٹ میں رکھتا، گاڑی سے باہر نکل گیا ۔
” ج۔۔۔۔ جلدی چلو، پھر سے آ جائے گا ”
وجدان ملک نے تیزی سے خوفزدہ لہجے میں کہا۔
گاڑی آگے بڑھی تو ماسک کے پیچھے، کاووس شاہ کی آنکھیں مسکرانے لگی۔
یہ شخص بہت ذلیل اور کمینہ ہونے کے ساتھ ساتھ ڈرپوک بھی تھا۔ ایک گاڑی اس کے سامنے آ رکی اور ڈرائیور تیزی سے نکلتا، گاڑی کا پچھلا دروازہ کاووس شاہ کے لئے کھول کے، ادب سے کھڑا رہا۔
کاووس شاہ گاڑی میں بیٹھا تو ڈرائیور بھی اپنی سیٹ پہ بیٹھا اور گاڑی حرکت میں ائی۔
” کیا پروگریس ہے ؟؟”
کاووس اپنے ساتھ بیٹھے اسسٹنٹ سے سوال کرنے لگا۔
” عفان حیات ایک لڑکی کے ساتھ منگنی کر چکا یے جس کا نام عندلیب ہے اور وہ ایسڈ وکٹم بھی رہ چکی ہے ۔”
” کیا عفان نے اس پہ ایسڈ پھینکا ہے ؟؟”
کاووس شاہ کے سوال پہ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
” نہیں، جاوید نامی کسی آدمی نے پھینکا تھا۔ جس کا کیس میم اکاسمہ نے لڑا جبکہ اس کی ٹریٹمنٹ عفان حیات نے کی، وہیں عندلیب نے جاب اسٹارٹ کی، اس کے بعد ان کی منگنی ہوئی لیکن وہ حال ہی میں، رخسار فاروقی نام کی عورت کے ساتھ فزیکل ہے۔ دونوں آمنے سامنے والے اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں۔ رخسار فاروقی، وجدان ملک کی ایکس گرل فرینڈ ہے، وہ ازمائر شاہ کی ایکس وائف بھی رہ چکی ہے لیکن اس کے بھائی حسام شاہ کے ساتھ فزیکل ہونے کے بعد، اس نے اپنی جھوٹی موت کا ڈرامہ رچا کے، اپنے ہی شوہر ازمائر شاہ کو جیل بھجوا دیا۔ ایک بار پھر کئی عرصہ بعد، ازمائر شاہ کا کیس میم اکاسمہ نے لڑا اور وہ باہر آیا، اس نے رخسار فاروقی کو طلاق دی۔ وہ جیل چلی گئی لیکن جیل سے رہا ہو کے، آنے کے بعد، وہ مزید خطرناک بن چکی ہے کہ ازمائر شاہ کی ازدواجی زندگی کو برباد کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اب وہ عفان حیات کے ساتھ بھی تعلق میں ہیں۔”
اسسٹنٹ جمال خاموش ہوا تو کاووس شاہ نے ہنکارا بھرا ۔
” گندے کیڑے مکوڑے ایک ہی جگہ جمع ہوتے ہیں سارے۔ اکاسمہ کا خیال رکھو، اسے کوئی بھی نہ تنگ کرے اور نہ نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کرے”
جمال کے لبوں پہ مسکراہٹ ابھری۔
” میم اکاسمہ کو کوئی نقصان پہنچا ہی نہیں سکتا۔ آج صبح ہی اس نے ایرسا نام کی لڑکی کا وہ حشر کیا کہ پورا آفس انہیں دیکھ رہا تھا۔ ”
کاووس شاہ کے لبوں پہ نرم مسکراہٹ ابھری۔
” بہن کس کی ہے وہ ۔ پتہ چلا کیا کہ ایرسا کس کے لئے کام کر رہی تھی ؟؟”
“یس سر، جہاں تک میرے علم میں آئی ہے یہ بات، ایرسا کمال درپردہ عفان حیات کے لئے کام کرتی تھی ”
کاووس شاہ کی بھنویں سکڑ گئیں۔
” آج تو بڑی اہم خبریں ہیں تمہارے پاس۔ ”
” بس ثبوت ملنے اور اس عفان حیات کو پکڑنا رہتا ہے ”
جمال نے کہا جبکہ کاووس شاہ خاموش رہا۔ جمال کچھ لمحے کے لئے کاووس شاہ کے سنجیدہ خوبرو چہرے کو دیکھتا رہا اور پھر کہنے لگا۔
” سر، بتاتے کیوں نہیں ہیں آپ میم اکاسمہ کو، کہ آپ ہی ان کے سگے بھائی ہیں۔”
” ابھی نہیں۔۔۔ وقت آنے پہ بتاؤں گا۔ وقت آنے پہ، سب کھل جائے گا، دوست دشمن سب۔ ابھی بتا کے، میں اپنی فیملی کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا جمال۔ اگر ابھی بتا دوں گا تو عفان حیات کیا رہ جائے گا ؟؟ وہ دشمن تو ہے لیکن کھل کے سامنے نہیں آ رہا۔ اگر حقیقت کھل گئی تو سامنے آنے اور وار کرنے سے وہ نہیں ہچکچائے گا ”
کاووس شاہ کے چہرے پہ، سوچ کی لکیریں تھی جبکہ جمال ” ہممم ” کر کے خاموش رہا۔ جب کاووس شاہ کے موبائل پہ کال آنے لگی۔ جمال کی نظر پڑی تو زیر لب مسکرا پڑا۔
” لگتا ہے میم آپ کا ڈنر پہ ویٹ کر رہی ہے ”
کاووس شاہ کی گھوری پہ، جمال نے تیزی سے نظریں جھکا دی۔

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

” میں نے اتنا ٹیسٹی کھانا بنایا ہے امی، کہ آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ اکاسمہ کھانا بھی بنا سکتی ہے ”
اکاسمہ ہنستے ہوئے کہتی، کچن کی طرف بڑھ گئی۔
” ہاں یہ سب حکان نے ہی سکھایا ہوگا۔ میری نکمی بیٹی کو وہی سدھار سکتا ہے ”
ملکہ نے ہنستے ہوئے کہا جبکہ اکاسمہ منہ بسور کے انہیں دیکھنے لگی۔
” امی ۔۔۔۔ ابھی آئے گا تو خود ہی پوچھ لیجیے گا۔ میں حکان کے لئے بھی خود کھانا بناتی ہوں ”
وہ اترا کے کچن کی طرف بڑھ گئی جبکہ پاس موجود عفان لب بھینچے اکاسمہ کی پیٹھ کو گھور رہا تھا۔ ایک نظر مسکراتی ملکہ پہ ڈال کے وہ کچن کی طرف بڑھ گیا جبکہ ملکہ ٹی وی دیکھنے میں مگن تھی۔
آج ان کے گھر میں جیسے خوشی اتر آئی تھی۔ اکاسمہ شام سے یہاں آئی ہوئی تھی اور حکان نے کام ختم کر کے، ڈنر پہ آنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس لئے ملکہ بےحد خوش تھی۔
اکاسمہ کچن میں کھڑی برتن دھو رہی تھی ۔ عفان نے زیر لب مسکراتے اس کی پیٹھ کو گھورا۔
” حکان کی بیماری کیسی ہے ؟؟”
اچانک اس سوال پہ وہ چونک کے مڑی اور عفان کو حیران آنکھوں سے دیکھنے لگی۔
” میرا مطلب ہے کہ سنا تھا حکان کو کوئی بیماری ہے ۔۔
دو شخصیتوں کا شکار۔۔۔۔ نہیں یار سنا تھا بس ”
وہ اکاسمہ کی گھوری پہ گڑبڑا کے اپنی کنپٹی سہلانے لگا۔
” عفان تم میرے بھائی ہو۔ میرے شوہر کے بارے میں ایسی باتیں کیسے کر سکتے ہو ؟”
اکاسمہ کو واقع دکھ ہوا تھا۔ وہ عفان کو بےحد اچھا سمجھتی تھی۔ بےحد سمجھدار سمجھتی تھی لیکن اس کا بھائی ہو کے، وہ کیسے یہ کہہ سکتا ہے ۔
سر جھٹک کے وہ کچن سے باہر نکل گئی جبکہ عفان نے اپنی بےساختگی پہ ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ لیں۔ وہ لب بھینچے کنپٹی سہلاتا باہر آیا جہاں اکاسمہ، ملکہ کے ساتھ بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی لیکن اس کا ذہن الجھا ہوا تھا ۔
اس کی نظریں عفان پہ گئی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اس کے ذہن میں عجیب باتیں گونجنے لگی۔

کیا عفان ایسا بھی ہو سکتا ہے ؟؟

وہ جھرجھری لے کے رہ گئی۔
” ایم سوری اکاسمہ ۔ میرا مقصد تمہیں تنگ کرنا نہیں تھا”
” کیا ہوا ہے؟؟ میرے بچوں کے بیچ کوئی مسئلہ چل رہا ہے مجھے بتاؤ؟”
ملکہ دونوں کو دیکھنے لگی ۔
” وہ امی، میں نے اکاسمہ کو اس کے ہزبینڈ کے نام سے چھیڑنے کی کوشش کی لیکن اسے برا لگا ”
اکاسمہ اسے ناسمجھی سے دیکھنے لگی جبکہ عفان کندھے اچکا کے مسکرانے لگا۔ ۔
” اج کل کرائم سین اتنے دیکھنے کو مل رہے ہیں اور تم بھی تو کرائمز کے بیچ رہتی ہو ہمیشہ، سوچا تمہیں بھی ڈرا دوں۔ سوری یار میری پیاری سی بہن ”
عفان نے اپنے دونوں کان پکڑ لیے۔ اکاسمہ نے بھی مسکرا کے سر جھٹکا۔
” چلو اب مسئلہ بھی حل ہو گیا ”
ملکہ مسکرانے لگی۔ جبکہ عفان اکاسمہ کی طرف بڑھا۔
” چلو اکاسمہ سوری، اب ایسی بکواس نہیں کروں گا۔ ”
اکاسمہ اسے دیکھتی، عجیب احساسات کے زیر اثر اٹھنے لگی جب اچانک ڈور بیل بجی اور اکاسمہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی۔
” حکان آیا ہے ”
عفان لب بھینچے رک گیا تھا جبکہ اکاسمہ نے باہر جا کے دروازہ کھولا اور حکان کے گلے لگی۔ اسے اپنے اندر سکون سا پھیلتا محسوس ہوا جیسے گھٹن ختم ہونے لگی ہو۔ حکان نے اس کے نازک وجود کے گرد اپنی بانہیں حائل کر دی۔
” کیا ہوا ہے میری ڈان کو ؟؟”
اکاسمہ حیرانی سے سر اٹھا کے اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ ہنسنے لگا۔
” ارے تمہارے انداز ہی ڈان والے ہیں۔ گھروں میں گھس سے چیزیں توڑ دیتی ہو، آفس میں مجرم کی پٹائی کر دیتی ہو۔ کہاں تھی تم پہلے؟؟ ” ۔
” حکان ۔۔۔۔ ”
وہ ناراض سی اسے دیکھنے لگا جب حکان نے ہنستے ہوئے، اس کے گال پہ لب رکھے۔ پھر اکاسمہ کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” اتنی خوبصورت لگنے کی کوئی خاص وجہ؟؟”
اکاسمہ مسکرانے لگی جب حکان نے اس کے لبوں کے کنارے پہ لب رکھ کے، اپنا محبت بھرا لمس بخشا۔ جبکہ پیچھے کھڑا عفان قہر آلود نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ اکاسمہ نے حکان کی گردن میں بازو حائل کیے ہوئے تھے جبکہ حکان نے اس کی کمر کو مضبوطی سے بانہوں کے گھیرے میں تھاما ہوا تھا۔ دونوں ہی بےحد قریب تھے ایکدوسرے کے۔
” چلو امی ویٹ کر رہی ہے ”
اکاسمہ مسکرا کے مڑی اور نظر فاصلے پہ کھڑے عفان پہ پڑی۔ جس کی آنکھیں بےحد سرد تھی۔ ایک لمحے کے لئے اکاسمہ کے چہرے کا رنگ اڑا اور پھر نارمل ہو گیا۔
عفان مسکراتا ہوا قریب آیا اور حکان سے ملنے لگا
” کیسے ہو حکان، تمہارا ہی انتظار ہو رہا تھا۔ لیٹس گو ”
وہ حکان کو لیے آگے بڑھا جبکہ اکاسمہ الجھی آنکھوں میں چوکسی لیے اسے دیکھ رہی تھی۔
رات کے کھانے پہ، عفان ہمیشہ کی طرح نارمل انسان ہی لگ رہا تھا۔ بلکل ویسا ہی، جسے وہ ہمیشہ سے دیکھتی آئی تھی ۔ حکان کے ساتھ ہمیشہ کی طرح ہنستے ہوئے بات کر رہا تھا۔ اکاسمہ کو لگا کہ وہ کچھ زیادہ سوچ رہی تھی آج، عفان اس کا بھائی ہے۔
اور عفان ٹھیک کہہ رہا تھا کہ کرائم کیسز کی وجہ سے، مجھے ہر چیز کرائم ہی لگتا ہے۔ میرا ذہن شاید تھکا ہوا ہے۔
اپنا وہم سمجھ کے وہ سر جھٹک گئی لیکن ذہن اب بھی الجھا ہوا تھا۔ عفان نے کن انکھیوں سے اس کے جھکے سر کو دیکھا اور پھر گہرا سانس لیتا کھانے کی طرف متوجہ ہوا۔

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

تنہائی بےحد عجیب اور خوفناک احساس ہے۔ بالخصوص وہ تنہائی جو اپنوں کے بچھڑ جانے کے بعد محسوس ہو۔ ایک وقت تھا جب اس گھر میں ہنسی کی گونج تھی۔ ان کی اور ملکہ کی محبت تھی۔ ان کے بچوں کی چہچہاہٹ تھی اور اب !!!!

وہ چاروں طرف دیکھنے لگے۔ ان کی آنکھیں نم ہونے لگی۔ یہ گھر کس قدر خالی تھا۔ انہیں کون سے گناہوں کی سزا مل رہی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ وہ ماضی میں غلط راستوں پہ چل نکلے تھے لیکن پھر انہوں نے سب چھوڑ دیا تھا۔ وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ پھر اچانک یہ کیا ہو گیا تھا کہ سب جیسے ختم ہو گیا۔ بیوی الگ ہو گئی، بچے بکھر گئے، بیٹی جو ایک لمحے کے لئے بھی اپنے باپ کا دل دکھانے کی کوشش نہ کرتی، ایسے چھوڑ گئی کہ پیچھے مڑ کے دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔
وہ اچانک رونے لگے۔ وہ پھوٹ پھوٹ کے روتے ریے۔ رات کی تنہائی میں، وہ فرش پہ بیٹھے رو رہے تھے۔ اللہ سے فریاد کر رہے تھے ۔ اپنے گناہوں کی معافی طلب کر رہے تھے۔
اچانک سے کاووس شاہ نے آ کے، جیسے ان کی دنیا الٹ پلٹ کر دی تھی۔ وہ حیران رہ گئے۔ کاووس شاہ ان کی مکمل کاپی تھا۔ اس کی آنکھیں فیاض حیات اور اکاسمہ سے ملتی تھی۔ وہ ڈی این اے رپورٹ بھی لایا تھا لیکن ڈی این اے رپورٹ بھی اگر نہ ہوتی، تب بھی کوئی کاووس شاہ، ان کے قریب بیٹھا دیکھ لیں تو وہ سو فیصد یقین کرے گا کہ یہ دونوں باپ بیٹا ہے۔
بھیگی آنکھوں سے، انہوں نے سامنے رکھی سیلپنگ پلز کو غور سے دکھا، جو انہوں نے ٹیبل پہ رکھا تھا۔ ان کے پاس زندگی کی امید نہیں بچی تھئ۔ رشتے بچھڑ گئے تھے۔محبتیں کھو گئی تھی۔ ان کا تنکہ تنکہ کر کے بنایا ہوا محبت بھرا گھر بکھر گیا تھا۔ زندہ رہنے کا آسرا ہی نہیں بچا تھا ان کے پاس۔
کانپتے ہاتھ بڑھا کے، انہوں نے وہ بوتل تھامی ۔ اسے کھولتے ہوئے، ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے لیکن وہ لرزتے دل اور کانپتے ہاتھوں سے، وہ ٹیبلٹس اپنی ہتھیلی پہ لے کے، نم ہوتی آنکھوں سے بہت دیر تک گھورتے رہے ۔ ان کا دماغ جیسے مفلوج ہو چکا تھا ایسے جیسے وہ ختم ہو چکے ہو اور پھر ساری ٹیبلٹس انہوں نے منہ میں ڈال کر، پانی پی لیا۔
بہت دیر تک وہ سامنے دیوار کو گھورتے رہے۔ شاید اپنی موت کے منتظر تھے کہ کب سانسیں تھم جائے اور کچھ دیر بعد انہیں محسوس ہوا کہ جیسے انہیں بہت زیادہ نیند آ رہی ہے ۔۔۔ انہوں نے سر پیچھے صوفے پہ رکھا اور آنکھیں موند لیں۔

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *