The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 31
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 31
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 31
سمندر کنارے شام اتر رہی تھی جبکہ وہیں ایک کنارے پہ اکاسمہ، بارز کے ساتھ بیٹھی، سامنے پانی کے لہروں کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ان گنت سوچوں کی گہری لکیریں تھیں جبکہ بارز لب کاٹتے، کبھی اپنی بہن کو دیکھتا، تو کبھی پانی کی لہروں کو۔ اپنی بہن کی بربادی میں اس کا بھی ہاتھ تھا ہر طرح سے اور یہ وہ اچھی طرح سے جانتا تھا لیکن اس میں ہمت نہیں تھی کچھ کہنے کی۔
” عاریز سے جب پہلی بار سامنا ہوا تھا تو اس شخص سے۔۔۔۔۔ لڑتے ہوئے کبھی یہ نہیں سوچا تھا میں نے کہ یوں۔۔۔۔۔ ”
اکاسمہ کھوئے کھوئے انداز میں کہنے لگی جبکہ بارز کا دل گہری کھائی میں ڈوب کے ابھرا تھا۔ جب اکاسمہ نے اس کی طرف دیکھنا شروع کیا ۔
” کہ وہ یوں ہمیشہ کے لئے ساتھ چھوڑ جائے گا۔ ”
لب کاٹتے بارز نے تیزی سے نظریں چرائی تھی۔ وہ جانتا تھا اس خونی قاتل کو، اس سیریل کلر، اس وحشی درندے کو، لیکن !!!!
” ویسے تمہیں یاد ہے بارز، بچپن میں جب بھی کسی سے بچنا ہوتا تو تم میرے پاس آ کے چھپ جاتے تھے؟؟ ”
اکاسمہ کی آنکھیں ہلکا ہلکا مسکرا رہی تھی۔ بارز اب اسے دیکھ رہا تھا۔
” اور میں بھی اپنے چھوٹے بھائی کو سب سے چھپا کے یہ کہتی، بارز کہاں ہے؟؟ کسی نے دیکھا ہے بارز کو ؟؟ میری چاکلیٹ کھا گیا ہے وہ ۔۔۔ ”
وہ ہلکا سا ہنسنے لگی لیکن اس کی آنکھوں میں نمی ٹھہری ہوئی تھی۔
” کاش ہم پھر سے اس بچپن میں چلے جائیں۔ سب پہلے پوائنٹ سے اسٹارٹ ہو تو ۔۔۔۔۔ جو کوتاہیاں اب ہوئی ہے مجھ سے، ان سب کو سدھارنے کا موقع مل جائے۔ ہے ناں بارز ؟؟”
” ہمممم، ہاں ، ہاں ”
بارز پھر سے نظریں چرا گیا۔ وہ کیا بتاتا اب کہ وہ chip اس نے لگائی تھی ان کے گھر پہ، لاؤنج کی ٹیبل کے نیچے ۔ وہ کیا بتاتا کہ ساری انفارمیشن تو اس نے دی تھی اپنی بہن کے متعلق اس شخص کو۔ وہی بےغیرت بن گیا تھا اپنی کچھ ویڈیوز کو ڈیلیٹ کروانے کے لئے، وہی دشمن بن گیا تھا اپنے ہی گھر کا، اپنی بہن کی بربادی کا۔
” میں، میں تمہیں ایک گیم دکھاؤں ”
بارز تیزی سے بات بدلتا، اکاسمہ کو دیکھتا، اپنا موبائل نکالنے لگا۔ یہی موقع تھا جس کا اکاسمہ انتظار کر رہی تھی۔ کن انکھیوں سے وہ دیکھنے لگی جب بارز اپنے موبائل اسکرین پہ پاسورڈ ڈالنے لگا اور تیز حافظہ ہونے کی وجہ سے، اس نے وہ اپنے دماغ مین محفوظ کر لیا تھا جبکہ بارز اسے ایک گیم دکھا رہا تھا۔
” یہ میں بنا رہا ہوں، ابھی کمپلیٹ نہیں ہوا لیکن اس پہ کام کر رہا ہوں میں۔ ”
اکاسمہ وہ گیم دیکھنے لگی جو ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی لیکن بننے کے مراحل میں ہونے کے باوجود، وہ اس گیم کو سمجھ پا رہی تھی۔ اس نے تیزی سے نظریں اٹھا کے بارز کو دیکھا تھا جو مسکراتے ہوئے، موبائل اسکرین کو دیکھ رہا تھا جبکہ اکاسمہ کو آج کا وہ حادثہ یاد آیا جب وہ بھکاری، وہ سرد آنکھوں والا بھکاری کون تھا ؟؟ جو اسے ہوشدار کر رہا تھا اور ابھی ۔۔۔۔۔ یہ گیم؟؟؟
” کس نے سکھایا گیم بنانا آپ کو بارز ؟؟”
وہ پھر سے موبائل اسکرین کو دیکھتی سوال کر رہی تھی۔
” میرے ٹیچر نے ۔”
” کیا نام ہے ان کا؟؟”
اس نے تیزی سے لرزتے دل کے ساتھ سوال کیا تھا۔
” عدیل حیات ہے ان کا نام ”
بارز نے کہہ کے، موبائل اسکرین آف کر دی تھی جبکہ اکاسمہ کا پورا وجود کانپ گیا تھا۔
“عدیل ۔۔۔۔۔ حیات ”
” یونیورسٹی میں ہوتے ہیں تمہارے ؟؟”
اکاسمہ پھر سے سوال کر رہی تھی۔
” ہاں، بہت زیادہ اچھے ہیں میرے سر، بہت نرم مزاج، اس قدر fascinating کہ مت پوچھئیے، ۔۔۔۔ ”
وہ نہ جانے اور بھی کیا کچھ کہہ رہا تھا لیکن اکاسمہ لب بھینچے سامنے پانی کے لہروں کو گھور رہی تھی۔
جبکہ ان دونوں سے فاصلے پہ بیٹھا، حکان ملک اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ اس لڑکی کے لئے، دن رات کا چین کھو بیٹھا تھا۔دماغ کی سوچیں مسلسل وہیں ہوتی، جہاں اکاسمہ ہوتی۔ اس لڑکی کی حفاظت کرنا جیسے اس کا فرض بن گیا تھا لیکن یہ لڑکی، آہ!! ہر اس جگہ پہنچی ہوتی بلکہ اکیلی، جہاں اس کی جان کو خطرہ زیادہ ہوتا۔ کیوں؟؟ آخر کیوں اپنی ہی دشمن بن بیٹھی تھی یہ۔
《《《《《《《《》》》》》》》》》
فیاض حیات، بلیک فلش ہاتھ میں لیے اسٹڈی میں آئے تھے۔ انہیں کچھ دیر پہلے پارسل آیا تھا اور جب انہوں نے پیکٹ کھول کے دیکھا تو ایک فلش اور ساتھ میں ایک نوٹ تھا۔
” پلیز سر، ضرور چیک کریں۔ ”
تبھی وہ اسٹڈی میں آئے تھے اور اب لیپ ٹاپ میں، وہ فلش ڈال کے، لیپ ٹاپ اسکرین کو دیکھنے لگے۔ بارز کی تصویر ابھری تھی، اکاسمہ، عفان، ملکہ اور پھر ان کی اپنی تصویر۔ ان کے روزمرہ کی کچھ ویڈیوز۔
بارز کے یونیورسٹی کی، اس کی اپنے دوستوں کے ساتھ ریسٹورنٹ میں خچھ ویڈیوز۔
عفان کا ہاسپٹل، گاڑی سے اترنے کی اور ہاسپٹل کے اندر کی کچھ شارٹ ویڈیوز۔
اکاسمہ کی کچھ ویڈیوز، وہ کہاں جا رہی ہے، کیا کر رہی ہے، اس کے آفس اور اس کے گھر کی۔ اس کے اور عاریز کی ۔
ملکہ کی اور پھر اس کی۔ اور بیک گراؤنڈ میں وہ اب کہہ رہا تھا۔
” تمہارے اپنے، تمہارے پیارے، ایک ایک کر کے تمہاری آنکھوں کے سامنے ختم ہوتے رہے گیں۔ تمہارے ارد گرد وہ جال بن چکا ہوں میں کہ تم چاہ کے بھی خود کو باہر نہیں نکال سکوں گیں۔۔ مار لو ہاتھ پاؤں، لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیاض حیات سب کی موت ایک ایک کر کے، تمہیں دکھا دوں گا اور پھر مل کے جشن منائیں گے ہم 12 جون کا۔۔۔۔ میں، تم اور تمہارے اپنوں بھیانک موت کا جشن ۔۔۔ سوچو کیا ہوا ہوگا 12 جون کو کئی سال پہلے ”
اور اب لیپ ٹاپ پہ بلیک اسکرین نظر آ رہی تھی۔ اب سکوت تھا۔ فیاض حیات بھی ساکت تھا لیکن ان کے اندر طوفان برپا تھا، شور برپا تھا، خزاں رسیدہ پتوں کے کھرچنے کا شور اور گہرا اندھیرا!!!!
جس کے آگے اسے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا ۔ کیا کیا تھا انہوں نے کئی سال پہلے ؟؟ کیا ہوا تھا کئی سال پہلے ؟؟ کون ہے یہ؟؟ جو ان کا اور ان کی اولاد کا دشمن بن بیٹھا ہے؟؟ کون ؟؟؟
《《《《《《《《《》》》》》》》》》
صبح کی مدھم روشنی پھیل رہی تھی ۔ ہر طرف خاموشی کا راج تھا لیکن درختوں پہ موجود، پرندوں اور چڑیوں کی چہچہانے کی آوازیں مسلسل بڑھ رہی تھی۔ ہلکی ہلکی چلتی ہوا کو تنفس کرنا کس قدر خوشگوار سا لگ رہا تھا۔ اکاسمہ نم آنکھوں کے ساتھ، مٹی کے ڈھیر کو دیکھ رہی تھی جس کے نیچے وہ شخص، جو اس کی روح میں بسیرا کر چکا تھا، جو اس کا محرم ہوتے ہوئے بھی، اسے تنہا چھوڑ گیا تھا۔ بےحد خاموشی، بنا الوداع کیے، وہ کیسے گیا تھا کہ وہ نہ خاموشی کو سن سکی، نہ الوداع کے وہ الفاظ سن سکی اور نہ ہی ۔۔۔۔۔
اس نے سسکی سی لی تھی۔ ابھی وہ سورہ یاسین پڑھ رہی تھی۔ سکون تھا، لیکن پڑھ چکنے کے بعد، اب جیسے بےچینی اس کے وجود کو کاٹ کھانے ڈور رہی تھی۔ کس قدر مشکل تھا اس شخص کے بنا زندگی بسر کرنا بھی۔
” میں اس قاتل تک پہنچ جاؤں گی عاریز۔ انتقام لے سکوں گی اس سے۔ لیکن کس قدر مشکل ہے اس درندے تک پہنچنا، یہ کوئی مجھ سے آ کے پوچھے۔ کبھی بارز کا پیچھا کرتی ہوں تو کبھی انٹرنیٹ پہ سرچ کرنے بیٹھ جاتی ہوں۔ کورٹ بھی نہیں گئی ابھی تک، جانتے ہو کیوں؟؟ کیونکہ ۔۔۔۔۔”
وہ سسکی لیتی، خود کو رونے سے بمشکل روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
” وہاں۔۔۔۔ تم نہیں ہو عاریز !!!”
وہ دیر تک وہاں بیٹھی باتیں کرتی رہی جیسے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہ رہی ہو اور جب اسے محسوس ہوا کہ دل کا بوجھ ہلکا ہو چکا ہے تو وہ آخری بار، اس مٹی پہ ہاتھ پھیرتی، اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور گہرا سانس لیتی وہ جیسے ہی مڑی، قریب ہی اس بڑے درخت کے نیچے حکان کو کھڑے پایا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اکاسمہ سے نظر ملتے ہی، اس نے تیزی ہاتھ اٹھا کے، اسے گڈ مارننگ کہا جبکہ اکاسمہ کے چہرے پہ سردمہری چھا گئی ۔ وہ لب بھینچے حکان ملک کو دیکھنے لگی۔
” سوچا آپ سے مل لوں میم ”
حکان ملک قریب آتے، کہنے لگا۔ چادر کے ہالے میں موجود، اکاسمہ کا صاف ستھرا چہرہ، صبح کی اس پہلی کرن کے ساتھ، کس قدر خوبصورت لگ رہا تھا یہ کوئی حکان ملک سے پوچھتا تو وہ دل کا ہاتھ بیان کر دیتا لفظوں میں۔
” آپ یہاں کیا کر رہے ہیں حکان ؟؟”
” میں؟؟!!”
حکان ملک اپنی کنپٹی سہلاتا ادھر ادھر دیکھنے لگا اور پھر نظریں اکاسمہ پہ ٹھہری تھی۔
” جھوٹ نہیں کہوں گا۔ آپ کی حفاظت کے لئے یہاں ہوں”
” لیکن مجھے آپ کے حفاظت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ”
یہ کہہ کے، اکاسمہ آگے بڑھی جبکہ حکان ملک کی بےبس نظروں نے، اسے اپنے قریب سے گزرتے ہوئے دیکھا تھا۔
” لیکن مجھے ہے اکاسمہ ”
اکاسمہ نے چونک کے اسے دیکھا تھا جبکہ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
” میم ۔۔۔۔ ”
اکاسمہ پھر بھی رکی رہی اور اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ کنفیوز ہوتا دو قدم پیچھے ہوا تھا۔
” تھینک یو ”
حکان ملک چونک کے اسے دیکھنے لگا وہ دو نم آنکھیں اسے دیکھ رہی تھی۔
” ہر قدم پہ ساتھ نبھانے کے لئے ۔ ”
اس نے ہلکا سا مسکرانے کی کوشش کرتے کہا جبکہ حکان کچھ بول نہیں سکا۔ وہ تو بس ان دو اداس آنکھوں کی نمی میں کھو گیا تھا۔
” کیوں کر رہے ہو یہ سب؟”
” کیا کر رہا ہوں میں اکاسمہ ؟؟ ”
لہجہ کھویا کھویا سا تھا اور پھر جلدی سے چونک کے نظریں چرا گیا۔
” میرا مطلب ہے میم اکاسمہ ”
” میرے سوال کے جواب میں اپنا سوال مت کیا کرو حکان۔ تم اچھی طرح سے جانتے ہو کہ میں کیا پوچھ رہی ہوں ”
اکاسمہ کے سپاٹ لہجے پہ، حکان لب بھینچ گیا، نظریں ادھر ادھر دیکھنے لگی اور پھر وہ پیڑوں پہ چہچہاتی چڑیوں کو دیکھنے لگا۔
” آپ کے گھر، آپ کے افس، آپ کی گاڑی میں chip لگی ہوئی تھی، آپ کے موبائل کو ہیک کر لیا گیا تھا جس کے ذریعے وہ قاتل ہر اس جگہ پہنچ جاتا جہاں آپ ہوتی۔ تو؟؟؟ ان سب کے بعد کیا کوئی سوال بچتا ہے ؟؟ میری جگہ کوئی بھی ہوتا، آپ کی ہیلپ ضرور کرتا میم اکاسمہ۔ میں تو بس ایک ذریعہ تھا جو آپ کی ہیلپ کے لئے بھیجا گیا تھا۔ ”
اکاسمہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی جبکہ حکان اسے دیکھنے سے گریز کر رہا تھا۔ پھر سر جھٹک کے وہ آگے بڑھی تھی کہ اسے بارز کے یونیورسٹی جانا تھا اور اسے دیر ہو رہی تھی۔ حکان بنا کچھ کہے اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ گاڑی تک کے پہنچ کے دونوں رکے تھے۔ اکاسمہ نے مڑ کے اسے دیکھا تھا تو حکان پھر سے نظریں چرا گیا۔
” آپ کا شکریہ حکان، جو آج تک میری مدد کی لیکن پلیز اب آپ یہ سب نہ کریں۔ مجھے اپنی حفاظت کرنا خود سیکھنا ہے، آپ کے رحم و کرم پہ، میں اپنی پوری زندگی نہیں گزار سکتی۔ اس لیے مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔ فاصلہ رکھئیے ”
حکان بنا کچھ کہے، اسے سپاٹ نظروں سے دیکھنے لگا جبکہ اکاسمہ لب بھینچے رخ پھیر کے، گاڑی کا دروازہ کھول کے بیٹھ گئی اور گاڑی اسٹارٹ کرنے لگی۔ اب وہ اس شخص کو نہیں دیکھ رہی تھی۔ اسے اب اس شخص کی طرف نہیں دیکھنا تھا کیونکہ جب تک حکان اس کے ساتھ ساتھ ہوتا، وہ کبھی بھی قاتل تک نہ پہنچ پاتی اور وہ بےحد ارام سے، محتاط انداز میں اس قاتل کے قریب پہنچنا چاہتی تھی ۔ گاڑی آگے بڑھ گئی تھی جبکہ حکان لب بھینچے گاڑی کو لمحہ لمحہ دور ہوتا دیکھ رہا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے ۔اسے پرواہ نہیں تھی کہ اکاسمہ اس کے بارے میں کیا سوچتی ہے؟ یا کیا کہتی ہے؟؟ اسے اکاسمہ کی حفاظت کرنی تھی اور آخری سانس تک کرنی تھی۔ چاہے وہ قاتل مر بھی جائے، اس نے ان سب کے بعد بھی، خود سے اکاسمہ کی حفاظت کرنے کا عہد کیا تھا۔
《《《《《《《》》》》》》》
” مجھے مسفرہ کے سلسلے میں آپ سے ملنا تھا تو میں اس لیے آیا ہوں آپ کے پاس میم”
ازمائر نے بےحد احترام کے ساتھ تمہید باندھی تھی جبکہ اس کے آخری لفظ ” میم ” کہنے پہ، شائزہ نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔
” میرا مطلب ہے کہ اپنے اور مسفرہ ۔۔۔۔ ”
وہ بات ادھوری چھوڑ کے، اب کچھ فاصلے پہ بیٹھے حکان ملک کی طرف دیکھا جو مسکرانے کی کوشش کرتے، شائزہ کو دیکھنے لگا۔
” یس میم، ازمائر شاہ بہت اچھا انسان ہے، میرا دوست ہے، آپ بھابھی سے پوچھ لیں، وہ بھی 100 پرسنٹ گارنٹی دیں گی ان کے کیریکٹر کی۔ ”
” بھا۔۔۔۔۔ بی ”
ازمائر نے دانت ہیستے اسے دیکھا تھا جبکہ وہ چونک اپنا ماتھا شہادت کی انگلی سے سہلانے لگا۔
” ڈاکٹر مسفرہ، آئی مین ٹو سے ۔۔۔”
” یس میم بلکل ۔۔۔ ”
شائزہ باری باری دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔
” ایسا لگ رہا ہے جیسے تم دونوں اسکول کی پرنسپل سے ملنے آئے ہو، یہ میم میم کیا ہوتا ہے ؟؟ آنٹی بولو ”
” میرا مطلب آنٹی ”
دونوں کی زبان سے ساتھ میں نکلا تھا اور پھر رک کے ایکدوسرے کو دیکھنے لگیں۔
” آنٹی میرا دوست، آپ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہے ”
حکان ملک نے بلکل اچانک کہا تھا جبکہ ازمائر شاہ کا دل اپنا ماتھا پیٹنے ہو چاہا۔
” ن ۔۔۔ نہیں میرا مطلب ہے کہ ہم نہیں یعنی میں، اپنے دوست کا پروپوزل لے کے آئے ہیں، آپ کی بیٹی مسفرہ کے لئے۔ ایکسیپٹ کر لیں گی پلیز ؟؟”
ازمائر گہرا سانس لے کے رہ گیا جبکہ شائزہ پہلے حیران ہوئی اور پھر مسکراتی نظروں سے ان دونوں کو دیکھنے لگی۔ ٹیبل پہ انہوں نے آتے ساتھ ہی، پھولوں کا بوکے اور چاکلیٹس کا خوبصورت سا پیک رکھ دیا تھا جس کا مطلب ان کی نظر میں یہ تھا کہ رشتہ پکا کر کے، منہ میٹھا کر لیں گے ۔
اور پھر وہاں سے باہر آ کے، گاڑی تک پہنچتے پہنچتے، ازمائر شاہ نے اس کی جو درگت بنائی تھی وہ ناقابل بیان ہی تھا جبکہ حکان ہنس رہا تھا۔
” میرا کوئی پروپوزل لے جانے کا کوئی آفس نہیں ہے کہ جہاں سے میں نے ٹریننگ لے رکھی ہو، ایسے ہی بولا جاتا ہے ”
” تو انہوں نے کچھ کہا کیوں نہیں؟؟”
ازمائر گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا
” ہاں تو ان کی بیٹی، اتنی بھی بوجھ نہیں ان پہ، کہ چٹ منگنی پٹ بیاہ کر دیں۔۔۔ حوصلہ رکھ بھائی، سوچ کے جواب دیں گی وہ ”
حکان نے کندھے اچکاتے، اپنے موبائل کو چیک کرتے کہا تھا۔ جہاں وہ اکاسمہ کی لوکیشن دیکھ رہا تھا کہ کہاں اور کس حال میں ہے۔
” اگر نہیں بول دیا تو؟؟”
ازمائر کے سوال پہ وہ چونکا تھا۔
“ہہ؟؟ تو بھابی کے ساتھ بھاگ کے کورٹ میرج کر لینا، میں ہیلپ کر دوں گا ”
” ابے سالے!!”
حکان ہنسنے لگا۔
” بیٹھو گاڑی میں بھائی۔ مجھے اپنے بہت سے کام کرنے ہیں۔ چل !!”
وہ ڈرائیونگ سیٹ پہ آ کے بیٹھا جبکہ ازمائر بھی گاڑی کا دروازہ کھول کے، فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ گیا۔
《《《《《《《《》》》》》》
یونیورسٹی میں قدم رکھتے ہی وہ چاروں طرف دیکھنے لگی۔ اسے عدیل حیات کو ڈھونڈنا تھا، اسے دیکھنا تھا کہ آخر وہ ہے کون ؟؟ جو بارز، اس پہ اتنا اعتماد کرنے لگا ہے اور اس اعتماد کا فائدہ اٹھا کے، وہ گیم بنانے میں اس کی مدد کر رہا ہے۔ جس کا مطلب بےحد واضح تھا، بےحد واضح۔ وہ سوچ کے ہی جھرجھری لینے لگی۔
لڑکے لڑکیاں، خود میں مگن، ادھر ادھر چل رہے تھے۔کوئی کینٹین جا رہا تھا، کوئی گپ شپ لگا رہا تھا،کوئی کتابیں اٹھائے سرگردان تھا تو کوئی کلاس کی طرف جا رہا تھا۔ اسے خود سے کچھ فاصلے پہ، ایک نوجوان نظر ایا، جو بےحد وجیہہ ہونے کے ساتھ ساتھ، سلیقہ مند بھی لگتا تھا۔ اسکی ڈریسنگ بےحد اعلی تھی۔ چاکلیٹ براؤن پینٹ، کریم کلر کی شرٹ میں ملبوس، آنکھوں پہ گلاسز رکھے، شرٹ کی آستین فولڈ کیے، وہ کچھ سوچتا ہوا، موبائل میں مصروف تھا۔
” ایکسکیوز می ؟؟”
اکاسمہ کے مخاطب کرنے پہ، وہ نظر اٹھا کے اسے دیکھنے لگا۔
“یس ؟؟”
بات کرنے کا انداز بھی بےحد مودبانہ تھا۔
” مجھے پروفیسر عدیل حیات سے ملنا تھا ”
اکاسمہ کے سوال پہ، اس نے موبائل پینٹ پاکٹ میں رکھ دیا اور مکمل اس کی طرف متوجہ ہوا۔
” جی میں ہی ہوں، کہیے ؟”
اکاسمہ کی آنکھوں میں حیرت ابھر کے معدوم ہوئی تھی۔ وہ لب بھینچے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو کہیں سے بھی قاتل نہیں لگ رہا تھا۔ کہیں اسے غلط فہمی تو نہیں ہو رہی۔
” کیوں ملنا تھا آپ کو مجھ سے ؟؟ مس ؟؟”
وہ پھر سے کہہ رہا تھا جبکہ اکاسمہ ادھر ادھر دیکھتی، پھر سے اسے دیکھنے لگی۔ آنکھوں میں حیرانی بھی تھی لیکن سوالیہ نشان بھی تھا۔ عدیل حیات ؟؟؟
” عدیل حیات؟؟”
” جی میں وہی ہوں، جسے آپ ڈھونڈ رہی ہے ”
وہ اب زیر لب مسکرا رہا تھا ۔
” کیوں ملنا تھا ؟؟”
اکاسمہ نے خود میں ہمت مجتمع کی۔ لرزتے دل کو تھپکی دے کے، وہ اب براہ راست اس شخص کی آنکھوں میں، آنکھیں ڈال کے کھڑی تھی۔
” پوچھنا چاہتی تھی کہ کیسے قتل کرتے ہیں انسانوں کا آپ ”
” ایکسکیوز می ؟؟”
اس شخص کی آنکھیں مسکرا کیوں رہی تھی؟؟ حیرانی کیوں نہیں ابھری تھی اس کے سوال پہ۔
” سوال کی سمجھ نہیں آئی؟؟ یا سوال کو سمجھنا نہیں چاہ رہے؟”
اکاسمہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ، اسے دیکھ رہی تھی جبکہ وہ زیر لب مسکرا رہا تھا۔
” حیرت ہے، آپ کو حیرانی بھی نہیں ہو رہی میرے سوال پہ، لگتا ہے تیر صحیح نشانے پہ لگا ہے ”
اکاسمہ کی بات پہ، پینٹ پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈال کے، وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا اور پھر تھوڑا سا اکاسمہ کے قریب ہو کے، اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
‘ تیر صحیح نشانے پہ لگا ہے اکاسمہ ”
ساتھ ہی آنکھ ونک کی تھی اس نے۔ جبکہ اکاسمہ کو لگا جیسے اس کا دل گہری کھائی میں گرا ہو۔ دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی جبکہ گال تپنے سے لگے تھے۔
” ارے واہ، دل کی دھڑکن یہاں تک سنائی دے رہی ہے مجھے تو تمہاری اکاسمہ حیات ”
اکاسمہ خاموشی سے لب بھینچ گئی۔
” عاریز خان کو میں نے قتل کیا ہے، بارز کو بھی غلط راستے پہ، میں ہی لایا ہوں، تم پہ بار بار حملے بھی میں نے کروائے ہیں، فیاض حیات کو جانتا ہوں میں، اس سے پرامس کر چکا ہوں کہ ایک ایک کر کے، تم سب کو ہینڈل کر لوں گا میں، بلکل ویسے ہی، جیسے کہ کراچی کی حسین عورتوں کی حسین قربت پا کے، انہیں انجام تک پہنچاتا ہوں، تم بھی کچھ کم نہیں ہو ویسے ”
وہ اکاسمہ کے سراپے کو نظر بھر کے دیکھنے لگا جبکہ اکاسمہ نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا جب وہ روک گیا۔
” نو، نو ۔۔۔ بلکل بھی نہیں۔ کچھ بھی کرنے سے پہلے، میں تمہیں ایک مشورہ دیتا ہوں کہ یہ معاملات بعد کے لئے رکھ لیتے ہیں۔ یہاں میری وجہ سے تمہاری ریپوٹیشن خراب ہو جائے گی۔ اب کیا فائدہ تمہارے چیخنے کا، میرا منہ نوچنے کا۔ یہاں کا ہر اسٹوڈنٹ مجھے پسند کرتا ہے، میری سنتا ہے، وہ کہتے ہیں ناں، ٹریپ کر چکا ہوں ان سب کو، مسمرائز کر چکا ہوں ان سب کو، تو یہ تمہیں گھاس نہیں ڈالے گیں۔ میرا ریکارڈ بھی صاف ہے تو تمہاری کہاں سنے گیں۔ بعد کے لئے رکھ لیتے ہیں معاملات ”
وہ زیر لب مسکراتا اب اکاسمہ کے سرد چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ جس کا وجود مسلسل زلزلے کی زد میں تھا، جس کے دل میں غم و غصے کا طوفان اٹھ رہا تھا لیکن وہ خاموش رہی ۔
” آج رات، آٹھ بجے، کلفٹن ”
وہ کہتے ساتھ ہی پیچھے ہوا تھا اور پھر مڑ کے، کلاس روم کی طرف جانے لگا جبکہ اکاسمہ قدم قدم اسے خود سے دور جاتا دیکھ رہی تھی۔ وہ اس وقت کچھ نہیں کر پا رہی تھی لیکن اسے رات کا انتظار تھا۔ اسے ہر حال میں وہاں پہنچنا تھا۔ کیونکہ وہ انتقام تھی، اسے انتقام لینا تھا اس شخص سے۔ وہ تیزی سے مڑ کے، لمبے ڈگ بھرتی، وہاں سے جا رہی تھی۔ گیٹ تک پہنچ کے،باہر نکل کے، گاڑی تک پہنچنے میں، اس نے سوچ لیا تھا سب کہ اسے کیا کرنا ہے۔ !!!
《《《《《《《《》》》》》》》
