The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 27
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 27
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 27
“کیا یہ پاسیبل ہے میم اکاسمہ، کہ آپ عاریز خان سے فاصلہ رکھیں پلیز ”
وہ جو کورٹ سے ابھی ابھی باہر نکلی تھی جب تیزی سے، قریب آتا حکان ملک، اس کے ساتھ چلتے ہوئے کہنے لگا ۔ اکاسمہ رک کے اسے گھورنے لگی۔
” وہاٹ؟”
” پلیز مجھے ایسے نہیں گھورے، سب دیکھ رہے ہیں ہمیں ”
اکاسمہ لب بھینچے سامنے دیکھتے ہوئے چلنے لگی۔
” اس سب بکواس کا مقصد ؟؟”
” عاریز خان جو نظر آتا ہے، ویسا ہے نہیں ، پلیز مت رکنا، چلتی رہے ”
اکاسمہ پھر سے رکنے والی تھی جب حکان نے اسے منع کر دیا۔
” آپ کو کوئی واچ کر رہا ہے اکاسمہ، آپ کو، آپ کی ہر ایکٹیوٹی کو ایون جب آپ سو رہی ہوتی ہے تب بھی کوئی آپ کو واچ کر رہا ہے۔ آپ کو ہیک کر دیا گیا ہے مکمل ”
اکاسمہ کا دل ڈوب کے ابھرا تھا لیکن وہ رکی نہیں، ماؤف ذہن کے ساتھ چلتی رہی۔ حکان بھی سامنے دیکھتا چل رہا تھا۔
‘ تمہاری کچھ تصویریں ہیں میرے پاس ‘
کوئی آواز اس کے ذہن میں گونجی تھی لیکن وہ سر جھٹک گئی۔
” عاریز خان سے فاصلہ رکھئیے اکاسمہ پلیز۔ اسے اپنے قریب مت آنے دیں۔ آپ کی سیفٹی کے لئے کہہ رہا ہوں ”
حکان پھر سے کہہ رہا تھا جبکہ اکاسمہ بنا اسے جواب دیے اپنے آفس میں داخل ہوئی تھی اور دروازہ بھی زور سے بند کر دیا تھا۔ اپنے ڈوبتے دل پہ، اس نے اپنا کانپتا ہاتھ رکھ کے، خود کو ہمت دلانے کی کوشش کرتی، وہ کرسی پہ ڈھے گئی تھی۔
” آپ کو ہیک کر لیا گیا ہے مکمل “
اس کے کانوں میں آواز گونجی اور وہ تیزی سے اپنا موبائل دیکھنے لگی۔ اسے بھی اپنا موبائل، بارز کے موبائل جیسا محسوس ہونے لگا جس پہ اس نے پہلے غور نہیں کیا تھا۔ اسے کچھ میسجز ریسیو ہوئے تھے۔ جنہیں وہ کھول کے دیکھنے لگی اور اس کا دل کانپ اٹھا۔ اس کی آنکھیں جیسے پتلیوں سے باہر نکلنے لگی۔ ہر تصویر کو دیکھنے کے بعد، اسے اپنا ذہن بھاری ہوتا محسوس ہونے لگتا۔
اس کی ہر تصویر تھی۔ شاور لیتے ہوئے، ڈریس چینج کرتے ہوئے، سوتے ہوئے، کچن میں کام کرتے ہوئے، روڈ پہ چلتے ہوئے اور یہ ؟؟؟؟ ویڈیو؟؟؟ اس کی ایسی ویڈیو، جو اس نے کبھی بنائی نہیں ہے تو کیسے ؟؟؟
اسے کال آ رہی تھی لیکن وہ اس قدر خوفزدہ ہو چکی تھی کہ موبائل ہی اس نے ٹیبل پہ پھینک دیا اور اس کی اسکرین پہ آتے کال کو دیکھنے لگی۔ ہر بار مختلف نمبر سے کال آ رہی تھی اور پھر میسج آیا تھا۔ وائس میسج !!!
جسے وہ اوپن کر کے سننے لگی۔
” مجھے سن رہی ہو ناں، اکاسمہ۔۔۔۔ تم تو بےحد حسین ہو، بس اب صرف تمہیں چھو کے محسوس کرنا رہتا ہے باقی تو تم پہ دسترس پا چکا ہوں میں۔ اگر میرے قریب آنے سے کتراؤ گی، مجھ سے دور بھاگو گی تو ایک ایک کر کے، میں تمہاری ہر تصویر اور ویڈیو ڈارک ویب پہ اپلوڈ کر دوں گا تمہارے مکمل ایڈریس کے ساتھ۔ اور پھر تم مشہور ہو جاؤ گی
Lawyer Akasma Aarez Khan, leaked videos with all fun ”
اس نے اپنے منہ پہ دونوں ہاتھ جمائے تھے تا کہ اپنی آواز کا گلا گھونٹ سکے۔ وہ بھیگی خوفزدہ آنکھوں سے اب بند دروازے کو دیکھنے لگی۔ اس کے ذہن میں حکان کی باتیں گونجنے لگی۔ اسے بہادری سے کام لینا تھا اس وقت۔ وہ کوئی عام ڈرپوک لڑکی نہیں تھی، وہ نڈر تھی، ایک بہادر وکیل۔ اس نے موبائل اٹھایا اور کمرے سے باہر نکل کے، ادھر ادھر دیکھتی، آگے بڑھ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں حکان ملک کو ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ ہیکر ہے، کیونکہ وہ پہلے بھی اس کی مدد کر چکا ہے اور اب بھی مدد کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔
کورٹ کی عمارت سے باہر نکل کے، وہ سیڑھیاں اترنے لگی۔ اسے حکان ملک نظر آ گیا تھا جو اپنی گاڑی میں بیٹھ رہا تھا۔ اسے حکان تک پہنچنا تھا۔ اسے اپنی مشکل بتانی تھی جب بلکل اچانک اس کے بازو پہ کسی کی مضبوط گرفت نے اسے آگے بڑھنے سے روک لیا۔ عاریز خان سوالیہ نظروں سے، اسے دیکھ رہا تھا جبکہ وہ دہل سی گئی۔ آنکھیں خوف سے پھیلنے لگی لیکن دوسرے ہی لمحے عاریز خان نے اسے خود سے لگایا تھا۔ اور اس کے بال نرمی سے سہلانے لگا ۔
” ایم سوری اکاسمہ، میں بہت برا بن گیا تھا، اب نہیں ہوگا ایسا۔ ”
اس سے لگی اکاسمہ، آہستگی سے موبائل، جینز پاکٹ میں ڈال چکی تھی۔ اس کی نظروں نے، حکان ملک کی گاڑی کا تعاقب کیا جہاں حکان ملک لب بھینچے، اسے دیکھ رہا تھا۔ ہاتھ پیچھے لے جا کے، اس نے اپنی انگلیوں سے ” Help ” کا اشارہ دیا تھا۔ حکان کی آنکھوں میں حیرت آئی تھی جب عاریز نے اکاسمہ کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر لیا۔
” معاف کر چکی ہو ؟؟”
وہ آنکھیں کیوں بےحد عجیب تھی۔ پہلے کیوں ایسی آنکھیں نہیں تھی عاریز کی اور اب اس قدر عجیب ؟؟ اس نے ہلکا سا مسکرا کے، سر اثبات میں ہلایا تھا۔ ۔
‘ عاریز خان سے فاصلہ رکھئیے اکاسمہ ‘
حکان کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے تھے۔
” گھر چلتے ہیں، آج کی رات میں اور تم ہونگیں، کتنا عرصہ ہو گیا ہے، ایکدوسرے کے قریب آئے ہوئے، میں تو یہ تک بھول گیا ہوں کہ تم بیڈ پہ کتنی ایکٹیو ہو “
اس نے گستاخی بھری سرگوشی کی تھی جبکہ اکاسمہ نے حیران آنکھوں سے اسے دیکھا تھا۔
‘ عاریز خان سے فاصلہ رکھئیے، اکاسمہ ‘
پھر سے آواز آئی تھی۔ وہ بمشکل مسکرائی تھی جبکہ عاریز خان اس کی کمر کے گرد، بازو حائل کیے، آگے بڑھا تھا۔ اکاسمہ نے چلتے ہوئے بھی، حکان کی گاڑی دیکھ لی تھی جو ابھی تک کھڑی تھی اور حکان اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ ان آنکھوں میں بےچینی سی نظر آئی تھی حکان کو اور تبھی وہ کال ملانے لگا۔ جسے عاریز خان ریسیو کر چکا تھا۔ unknown نمبر سے کال تھی۔
” ہیلو ”
” ہیلو سر، سر ۔۔۔ پلیز جلدی پہنچے، میری وائف کا مرڈر ہو چکا ہے، وہ بہت بری حالت میں ہے، پلیز سر ۔۔۔ ”
اس نے روتے ہوئے بھرپور ایکٹنگ کی اور کال ڈسکنیکٹ کر کے، وہ خیام کو کال کرنے لگا۔
” کیا بات ہے عاریز ؟؟”
عاریز کو اپنی کنپٹی سہلاتے دیکھ کے، اکاسمہ نے سوال کیا تو وہ چونک کے کندھے اچکا گیا۔
” کوئی مرڈر ہوا ہے لیکن کال کٹ گئی ”
“اوہ، تمہیں جانا چاہئے ”
اکاسمہ کا خوف اب زائل ہو رہا تھا۔ وہ اب اکیلی نہیں تھی۔ اس کی مدد کے لئے تھا کوئی، جس پہ اس نے پہلے بھی یقین کیا تھا اور اب بھی وہ متیقن تھی کہ وہ شخص اسے بچا لے گا۔ لوگوں کے لیے ولن ہی سہی، لیکن اکاسمہ کے لئے وہ سپر مین بننے کو بھی آمادہ رہتا۔ وہ شاید کبھی بھی حکان کی بات کا یقین نہ کرتی اگر وہ خود عاریز خان میں تبدیلیاں نہ دیکھتی، پہلے وہ حیران ہوئی تھی لیکن اب وہ خوفزدہ تھی اس شخص سے اور اس گھر سے۔ اور خاص طور پہ، عاریز خان کی ان عجیب آنکھوں سے۔ وہ اس صورتحال میں کبھی بھی عاریز خان کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دے سکتی تھی۔
” پرازیکیوٹر عاریز خان ۔۔”
” ہونہہ ”
خیام کی آواز پہ وہ مڑ کے، ماتھے پہ بل ڈالے اسے دیکھنے لگا۔
” چلتے ہیں پھر؟”
” کہاں؟؟ ”
عاریز خان ناسمجھی سے پوچھنے لگا۔
” کال آئی تھی آپ کو، ”
خیام نے اسے اچھنبے سے دیکھتے کہا ۔
” ہاں، اوہ ہاں۔ ”
اس نے ایک نظر اکاسمہ پہ ڈالی، جو اسے دیکھ رہی تھی اور پھر خیام کو دیکھنے لگا۔
” چلتے ہیں پھر ”
گہرا سانس لیتا، وہ خیام کے ساتھ، گاڑی کی طرف بڑھنے لگا جبکہ اکاسمہ لب کاٹتی، دھڑکتے دل کے ساتھ، اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔ ان کی گاڑی کورٹ کے احاطے سے باہر نکلی تو ادھر ادھر دیکھتی اکاسمہ بھی، حکان کی گاڑی کی طرف بڑھی کہ اسے جلد سے جلد اپنی مشکل حل کرنی تھی اور یہ سب صرف حکان ہی کر سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس آواز کو سن رہا تھا اور پرسوچ نظروں سے خوفزدہ سی اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا۔ اکاسمہ نے اسے ویڈیو اور تصویروں کا بھی بتایا جنہیں حکان ملک نے دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ وہ صرف اکاسمہ کے خوفزدہ چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
” وہ میری ساری تصویریں اور ویڈیوز ڈارک ویب پہ اپلوڈ کر دے گا ”
آنسو لکیر کی صورت، اس کے گال پہ بہنے لگا جبکہ حکان کو لمحہ لگا تھا ڈیول بننے میں۔ اس کی آنکھیں سرد ہو چکی تھی جبکہ لب مسکرا رہے تھے۔
” اگر میں ایسا ہونے دوں گا تب ”
اس نے اکاسمہ کا موبائل، اپنے کمپیوٹر سے کنیکٹ کر دیا تھا اور وہ سیکنڈ میں ہی، اس شخص کے کمپیوٹر سسٹم میں داخل ہو چکا تھا۔ اس کے سارے پاس ورڈز ہیک کر کے، وہ ایک ایک کر کے، سارے سسٹم کو ناکارہ بنا رہا تھا۔ اس کا ہر ایک اکاؤنٹ وہ ناکارہ بنا چکا تھا جبکہ اکاسمہ بلکل اچانک رو پڑی تھی۔ حکان چونک کے اسے دیکھنے لگا۔ وہ دوسری بار اکاسمہ کو روتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ پہلی بار وہ تب روئی تھی جب یونیورسٹی لائف میں، کسی نے اس کی تصویروں کو مس یوز کیا تھا اور اب اس سیریل کلر کی وجہ سے وہ رو رہی تھی۔اکاسمہ کے آنسو اس کے لئے محترم تھے۔
” اکاسمہ ۔۔۔۔ ”
جبکہ وہ مزید بلک بلک کے رونے لگی۔
” م ۔۔۔ میرا کیا ہوگا؟؟؟ م ۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ مجھے خود سے، اپنی زندگی سے خوف محسوس ہو رہا ہے۔ وہ شخص، جس نے کل مجھ سے نکاح اس لئے کیا تاکہ میرا کیرئیر تباہ ہونے سے بچا سکے، آج وہی شخص مجھے خوفزدہ کر رہا ہے، مجھے اسی شخص سے خوف محسوس ہو رہا یے۔ کوئی مجھے قتل کرنا چاہتا ہے، کوئی مجھے ہیک کر رہا ہے آخر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں؟؟ م۔۔۔۔ مجھے ڈ ۔۔۔۔ ڈر لگ رہا ہے بہت ”
حکان موبائل اس کی طرف بڑھا چکا تھا اور اب خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” کیا تم بھول رہی ہو کہ آج شام کیا ہوا ؟؟”
اکاسمہ بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
” آج شام تم ہیلپ چاہ رہی تھی تو کیا میں نے نہیں کی اکاسمہ ؟؟ کیا تمہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ ہر بار میرا تم سے سامنا ہو جاتا ہے، ہر مشکل وقت میں۔ یہ سب اتفاق سے ہوتا ہے لیکن یہ سب خود ہی ہو جاتا ہے ۔ کیا میں اس بات کی اجازت دے سکتا ہوں کسی کو بھی، کہ تمہیں نقصان پہنچائے اکاسمہ ؟؟ ہر جگہ کوئی حادثہ ہونا، اس بات کی نشاندہی کر رہا تھا کہ کوئی تمہیں واچ کر رہا ہے تمہاری ٹائمنگ سمیت اور وہ تب ہی ممکن ہے جب آپ کے موبائل سسٹم کو ہیک کر دیا گیا ہو۔ انٹرنیشنل لیول کا ہیکر، کیا یہ چھوٹی سی بات نہیں سمجھ سکتا کہ تمہارا موبائل ہیک ہو چکا ہے ؟؟ تمہارا موبائل اور تم اب سیف ہے۔ نہ کوئی تصویر ہے نہ ویڈیو۔ اور تمہارا موبائل اب میرے موبائل سے کنیکٹ ہے تو تم جب مجھے سوچو گی بھی ، میں تمہارے سامنے حاضر ہو جاؤں گا ”
اکاسمہ ناسمجھی سی اسے دیکھنے لگی جبکہ حکان کنپٹی سہلانے لگا۔
” آئی مین کہ اب تم اکیلی نہیں ہو اکاسمہ۔ میں جان کی بازی بھی لگا لوں گا تمہارے لئے”
” کیوں؟؟”
اس نے سوں سوں کرتی ناک کے ساتھ پوچھا تب وہ کندھے اچکا گیا۔
” استاد یے آپ میری، میں اسسٹنٹ ہوں آپ کا بھئی ”
اکاسمہ مسکرانے لگی تھی اب۔ جبکہ حکان گہری نظروں سے ، اس کے چہرے پہ اس حسین امتزاج کو دیکھنے لگا۔ آنسو اور مسکراہٹ کا حسین امتزاج!!!!
” جہاں تک بات ہے عاریز خان کی تو ۔۔۔۔ ”
” کافی ا گئی ہے ”
لبنی کی مسکراتی آواز پہ دونوں چونکے تھے جبکہ کافی کے دو کپ ان کے بیچ رکھی ٹیبل پہ رکھ کے، وہ اکاسمہ کو دیکھنے لگی تو وہ تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
” میں واشروم۔۔۔۔۔ ”
” شیور، وہاں۔۔۔۔۔”
اس نے واشروم کے دروازے کی طرف اشارہ کیا اور پھر اس کی گھمبیر نظروں نے، اس کا دروازہ بند ہونے تک پیچھا کیا جب نظر لبنی پہ گئی تو ہچکچاتا، وہ کمپیوٹر اسکرین دیکھنے لگا۔
” امممممم تو یہ ہے اکاسمہ ”
” میرڈ ہے وہ ، تو پلیز مام ، کچھ مت کہنا ”
وہ اپنی ماں سے نظریں چرا رہا تھا کہ یہ جملہ کہتے ہوئے بھی، اسے اپنے دل میں درد کی ٹیسیں اٹھتی محسوس ہوئی تھی جبکہ لبنی خاموشی سے اپنے بیٹے کا جائزہ لینے لگی۔
” تمہیں دنیا بھر کی خوشیاں ملے، میرے بچے ”
حکان نے چونک کے اپنی ماں کو دیکھا اور پھر سر جھٹک کے، وہ اکاسمہ کا موبائل اٹھا کے، اس میں کچھ لکھنے لگا۔ اکاسمہ کی حفاظت کے لئے، وہ آخری حد تک بھی جا سکتا تھا بس شرط یہی تھی کہ اکاسمہ اس کا یقین کر لے اور یہ یقین وہ ہمیشہ قائم رکھنا چاہتا تھا تبھی لبنی کی طرف بنا دیکھے ہی، بھاری بوجھل آواز میں کہنے لگا۔
” مام پلیز، she is precious ”
لبنی کچھ نہیں بولی بلکہ کچھ دیر اپنے بیٹے کو دیکھتی رہی اور پھر کمرے سے باہر نکل گئی۔
《《《《《《《♡♡♡♡♡》》》》》》》
کوئی حادثہ نہیں ہوا تھا۔ عاریز خان نے لب بھینچے، اپنی سرخ ہوتی آنکھوں سے ارد گرد دیکھا تھا اور پھر سامنے آئے ٹیبل کو ٹھوکر مارتا وہ مڑا تھا جب سامنے خیام کو دیکھ کے وہ ٹھٹھک گیا۔ لب بھینچے، پھولے نتھنوں کے ساتھ، وہ گہرا سانس لیتا، خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگا جبکہ خیام اسے جانچتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
” تم ٹھیک ہو عاریز ؟؟”
” ہمممم، ہاں، ”
اس نے اپنی کنپٹی سہلائی جب خیام کی نظر اس کے ہاتھ پہ گئی، جس سے خون نکل رہا تھا۔
” عاریز بلیڈنگ ہو رہی ہے تمہارے ہاتھ سے ۔ ساجد ”
ساتھ ہی انکھ سے، اس نے ساجد کو اشارہ کیا تھا جبکہ خود عاریز کے قریب آ کے، اس کا ہاتھ دیکھنے لگا لیکن ایک لمحے کے لئے وہ چونک گیا تھا تبھی تیزی سے نظر عاریز خان کے چہرے پہ گئی تھی جہاں اس وقت بھی غصے کے آثار نمایاں تھے۔
” کسی نے مذاق کر لیا ہوگا عاریز، اس میں غصے کی کیا بات ہے ؟؟”
عاریز کو باتوں میں الجھاتا، وہ ساجد کو آنکھ سے اشارہ کر چکا تھا جو اس کے ہاتھ کا زخم چیک کرتے ہوئے، کوٹ پاکٹ سے، چھوٹی سی ٹیوب نکال کے، اس میں تھوڑا سا عاریز کا خون بھی لے چکا تھا لیب سرچ کے لئے لیکن چونکہ عاریز کا ذہن، خیام کی باتوں میں الجھا ہوا تھا تبھی اس کا دھیان نہیں گیا۔ ۔
” میں نے اکاسمہ کے ساتھ آج لیٹ نائٹ، مووی دیکھنے کا پلان بنایا تھا تو سب برباد ہو گیا، اس لیے غصہ آ رہا ہے ۔”
” امممم، پھر سہی، چلو پھر چلتے ہیں ”
ساجد پہ ایک نظر ڈال کے، تسلی ہو جانے کے بعد، گہرا سانس لیتے، وہ عاریز کے ساتھ آگے بڑھا تھا۔ ساتھ ہی ساجد کو میسج کیا ۔
” ابھی جا کے پوری بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹ بنا کے، مجھے انفارم کرو ”
اور پھر وہ کچھ سوچتا اکاسمہ کو میسج کرنے لگا۔
” کہاں ہو ؟؟”
تیزی سے جواب آیا تھا۔
” گھر جا رہی ہوں ”
” جہاں ہو، وہیں رہو اور لوکیشن سینڈ کرو مجھے، گھر نہیں جانا ”
میسج کر کے، وہ موبائل پینٹ پاکٹ میں رکھ چکا تھا تب تک عاریز گاڑی میں بیٹھ کے اسٹارٹ کرنے لگا۔ بنا خیام کی طرف دیکھے، وہ گاڑی آگے بڑھا گیا جبکہ خیام پرسوچ نظروں سے گاڑی کو اوجھل ہوتا دیکھ رہا تھا۔ کیا تھا ؟؟ ایسا کیا تھا جو وہ دیکھ نہیں پا رہا تھا ؟؟ عاریز خان کا یہ رویہ؟؟ وہ اتنے سالوں سے اس کے ساتھ تھا، اس نے کبھی عاریز کو اتنا بگڑتے نہیں دیکھا تھا تو اب ایسا کیا ہوا تھا کہ عاریز خان اس قدر بدل گیا تھا کہ وہ جو اکاسمہ کو، گرم ہوا تک لگنے نہیں دیتا تھا، اب وہ اکاسمہ کو ٹارچر کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ وہ کچھ دیر وہیں بیٹھ کے، ہر پہلو پہ غور کرتا رہا، پھر وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کے، الاسمہ کے سینڈ کیے ہوئے لوکیشن کی طرف جانے کا سوچنے لگا۔ وہ ڈرائیو کرتا ہوا بھی، عاریز خان کے رویے کو سوچ رہا تھا، جب ساجد کی کال آنے لگی۔
” ہاں ساجد ”
” سر رپورٹ 24 گھنٹے میں آئے گی بلڈ ٹیسٹ کی ”
ساجد کی اطلاع پہ اس نے ہنکارا بھرا تھا۔
” امممم ، ٹھیک ہے مجھے انفارم کر دینا ”
وہ کال ڈسکنیکٹ کرتا، اب لب بھینچے روڈ کو دیکھ رہا تھا۔ رات کے 1 بج رہے تھے۔ جب اس کے موبائل پہ عاریز کی کال آنے لگی۔
” اکاسمہ کا موبائل آف ہے، کچھ پتہ ہے کہ کہاں پہ ہے ؟؟”
” اکاسمہ؟؟ پیرنٹس کے پاس ہوگی، تم پریشان مت ہو میں عفان سے پتہ کرتا ہوں ”
وہ بات کو ٹال گیا تھا۔نہ جانے کیوں اسے محسوس ہونے لگا کہ جیسے اکاسمہ کی جان کو خطرہ ہے ہر طرف سے۔ جب اس کے موبائل پہ میسج آیا اور اس میسج کو پڑھ کے، اس کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے۔
” اکاسمہ کا موبائل ہیک ؟؟؟؟”
وہ لب بھینچ گیا کہ جس طرف بھی وہ سوچنے کی کوشش کرتا، اس کے سوچنے، سمجھنے کی صلاحیتیں محدود ہو کے رہ جاتی۔
اففففففف!!!
《《《《《《《《□□□□□□》》》》》
” ڈیم اٹ، ”
وہ شخص زور سے دھاڑا تھا۔ اس کے لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، موبائل کے سسٹم کو ناکارہ بنا کے، اس کے تمام پاسورڈز کو ہیک کر لیا گیا تھا اور یہ کھیل کون کھیل سکتا ہے اس کے ساتھ ، وہ سوچ سوچ کے پاگل ہو رہا تھا۔ اکاسمہ کے موبائل تک ساری ایکسز ختم ہو چکی تھی اس کی اور اوپر سے اس کی تمام تصویریں اور ویڈیوز بھی۔ وہ ناکارہ بن گیا تھا اب ۔اس کے ہاتھ کچھ نہیں تھا۔ وہ پھر زور سے چیخنے لگا کہ اس کے ماتھے اور گردن کی رگیں پھٹتی ہوئی محسوس ہونے لگی تھی اسے۔
” کیوں بچ جاتی ہو تم ہر بار مجھ سے۔ اکاسمہ ، اکاسمہ ۔۔۔۔۔۔ نہیں چھوڑوں گا، اب تو نہیں چھوڑوں گا، میرے فائنل پلان کا وقت آ پہنچا ہے اور اس فائنل پلان کے بعد، تم کسی کو نہیں ملو گی، صرف تمہارے ٹکڑے ملے گیں جو ہر روز تمہارے گھر والوں کو ایک ایک کر کے بھیجتا رہوں گا ۔۔۔ ”
وہ دانت پیستے غرا رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب وحشت تھی جبکہ اس کی غراہٹ، اسے اس تاریک ماحول کو خوفزدہ بنا رہی تھی۔
” جب سے تم سوار ہو میرے سر پہ، تب سے کوئی اور عورت پسند نہیں آتی، کسی اور عورت کی خوشبو میں کشش محسوس نہیں ہوتی، تمہاری خوشبو پی کے ہی، اب سکوں ملے گا ۔۔۔ آہہہہ سکون، اکاسمہ کل تمہارا آخری دن ہے، بلکل آخری ”
وہ دانت پیستے غرایا تھا اور اس وقت وہ کوئی وحشی درندہ ہی لگ رہا تھا۔ جسے بھوک ہو اور وہ بھوک مٹانے کے لئے، شکار ڈھونڈ رہا ہو۔
《《《《《《□□□□□》》》》》
