Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 32

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 32

وہ پچھلے ادھے گھنٹے سے یہاں کلفٹن میں تھی۔ عدیل حیات کی بتائی ہوئی جگہ پہ، وہ آٹھ بجے ہی پہنچ گئی تھی لیکن اب پچھلے آدھے گھنٹے کے انتظار کے بعد بھی، اس شخص کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ اکاسمہ نے اچھی طرح سے اطمینان کر لیا تھا ۔ تین چار ویڈیوز بھی دیکھ لی تھی، چاقو کو اپنی شرٹ کے سلیوز میں رکھنا اور اسے استعمال کرنے کا۔ لیکن یہاں تو سرے سے ہی، اس شخص کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ وہ لب بھینچے واپس جانے کے لئے مڑی ہی تھی جب اس کی نظر وہاں بنچ پہ رکھے اس کارٹون کیریکٹر پہ پڑی جو وہ بارز کے موبائل میں موجود گیم میں دیکھ چکی تھی۔
دل میں خوف سا ابھرا تھا کہ شاید وہ شخص اب اس سے آنکھ مچولی کا کھیل کھیلنا چاہ رہا ہے اور اب اسے بھی قتل کرنا چاہتا ہے تبھی خوفزدہ آنکھیں چاروں طرف دیکھنے لگی لیکن اسے کچھ محسوس نہیں ہوا تھا تبھی اس کارٹون کیریکٹر سے آواز ابھری تھی۔
” تھینک یو سو مچ گیم کھیلنے کے لئے۔
Now be ready for next level … I will be back soon ”
اکاسمہ غور سے اسے دیکھنے لگی۔ اسے اپنی حالت پہ ترس آنے لگا۔ وہ شخص، بھیانک قاتل اسے دھوکہ دے گیا تھا۔ اسے نہ آنا تھا اور نہ وہ آیا لیکن وہ کہہ رہا ہے کہ وہ پھر سے آئے گا!!! کب ؟؟
” ڈیم اٹ ”
وہ چلائی تھی۔

《《《《《《《《》》》》》》》》

پانچ مہینے بعد :

گہرا سانس لیتی، وہ اپنے سامنے کھڑی اس عمارت کو دیکھنے لگی۔ جہاں ماضی کی بہت سی خوبصورت یادیں دفن تھی اور کچھ بدصورت بھی !!
اس کے وہاں قدم رکھتے ہی، ایک ایک کر کے، دفن ہوئی ہر یاد، جاگنے لگی اور اس کے گرد منڈلانے لگی۔ اس کی آنکھیں نم ہوئی تھی۔
” be brave ملکہ ڈان میری ”
مبہم سرگوشی!!
وہ چونک کے ادھر ادھر دیکھنے لگی کوئی نہیں تھا لیکن وہ انوکھا سا احساس تھا اس کے گرد، جو ہمیشہ اس شخص کے ہونے سے ہوتی تھی۔ ان پانچ مہینوں میں، اس نے ہر سائٹ چیک کی تھی، ہر جگہ وہ کر سکتی تھی، اس نے تلاش کرنے کی کوشش کی تھی عدیل حیات کو۔ اب تو وہ خود منظر عام پر آیا تھا لیکن پھر غائب ہو گیا، اور یہ پانچ مہینے اس نے صرف عدیل حیات کی تلاش میں گزارے تھے کہ کوئی کلیو ہاتھ لگ جائے لیکن بےسود!!
بھاری پڑتے قدم اٹھاتی، وہ آگے بڑھی تھی۔ سیڑھیاں چڑھتے، سانس بوجھل پڑنے لگی تو ایک گہرا سانس لے کے، اپنی سانسوں کو ہموار کرنے کی کوشش کی تھی اور پھر آگے بڑھنے لگی۔ وہ قدم قدم آگے بڑھتی جا رہی تھی جتنا اعتماد اس کے چہرے پہ چھلک رہا تھا، اتنا ہی وہ اندر سے توڑ پھوڑ کا شکار ہو رہی تھی لیکن ہر ڈرار کو پھر سے جوڑتی، وہ آگے بڑھ رہی تھی جب اسے ایک دروازے کے سامنے رکنا پڑا۔ آنکھیں بےساختہ نم ہوئی تھی۔ دل بےاختیار ڈوب کے ابھرا تھا۔ لب کاٹتی وہ اس دروازے کے سامنے کھڑی رہی۔
” اکاسمہ، اندر آ جاؤ یار”
بھاری اواز دروازے کے پار سے سنائی دی اور وہ بےاختیار لبیک کہہ کے، دروازہ کھول کے اندر آئی تھی لیکن اسے رکنا پڑا۔ لبوں پہ دھیمی مسکان مدھم پڑی تھی جبکہ نم آنکھوں کی دھندلاہٹ کو پیچھے دھکیلتی، وہ سامنے سیٹ پہ بیٹھے اس شخص کو دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔ یہ کون تھا ؟؟ یہ تو۔۔۔ یہ تو عاریز خان نہیں تھا۔
” یس ؟؟؟؟”
وہ سوال کرتا، اب سوالیہ نظروں سے، اسے دیکھ رہا تھا جبکہ وہ بےتاثر آنکھوں سے چاروں طرف دیکھتی، پھر سے اسے دیکھنے لگی۔ دل چاہ رہا تھا کہ آگے بڑھ کے، اس شخص کو بالوں سے جکڑ کے، باہر پھینک دے لیکن خود کو تسلی دیتی، خود کو روکنے کی کوشش کرتی، وہ جیسی آئی تھی، بلکل ویسے ہی نکل بھی گئی۔ اپنے پیچھے پرازیکیوٹر فیضان جہانگیر کو حیران و پریشان چھوڑ کے۔
” یہ ، یہ کون ہے یہ ؟؟”
خیام کے آفس میں لب بھینچے آ کے وہ اب دانت پیستی چلائی تھی جبکہ خیام گہرا سانس لے کے رہ گیا۔
” آپ آ گئی ملکہ ڈان ۔ ویلکم بیک ”
لیکن اکاسمہ کی گھوری پہ، وہ سنبھل کے، اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا۔
” پرازیکیوٹر فیضان جہانگیر ہے۔ نیا آیا ہے لیکن اچھا انسان ہے۔ ”
” بھاڑ میں جائے اس کی اچھائی، لیکن وہ عا ۔۔۔۔ عاریز کے آفس میں ہی کیوں ؟؟”
وہ آنسو روکنے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ خیام اسے دیکھ کے رہ گیا۔
” اکاسمہ، وہ آفس تو بند کر کے نہیں رکھ سکتے تھے نا، کسی نہ کسی کو آنا ہی تھا وہاں۔ ”
” تم کہنا چاہ رہے ہو کہ عاریز کی جگہ ۔۔۔ ہے ناں۔۔۔۔ آہ”
آنسو اس کی آنکھوں میں جمع ہونے لگے۔
” یہ مطلب نہیں ہے یار، ”
خیام نے کہنے کی کوشش کی تھی۔
” تم بھی بھول گئے اسے، ہے ناں ”
” یار اکاسمہ ۔۔۔۔ ”
لیکن وہ ان سنی کر کے مڑ کے دروازے تک گئی اور پھر رک کے خیام کو دیکھنے لگی۔
” کب سے ہیں نیا پرازیکیوٹر یہاں؟؟”
” چار مہینے س۔۔۔۔۔ ”
خیام نے کہنے کی کوشش کی۔
” اوہ، ”
آنسو اس کے گال بھگو گئے تھے۔
” تو وہاں عاریز کی بکھری خوشبو کی مٹ چکی ہے اب ”
خیام نے بےبسی سے لب بھینچ لیے تھے۔ جب دروازہ کھلنے پہ، فیضان جہانگیر اندر آیا تھا۔ اکاسمہ پہ نظر پڑی تو اس کی بھیگی آنکھوں نے اسے چونکایا تھا جبکہ ان بھیگی آنکھوں میں سرد مہری نے تو مزید اسے چونکایا تھا۔ وہ سرد نظر اس پہ ڈال کے، سر جھٹکتی باہر نکلی تھی جبکہ فیضان سوالیہ نظروں سے خیام کو دیکھنے لگا۔
” عاریز۔۔۔۔ ”
” اوہ، تو لائیر اکاسمہ ہیں ”
فیضان سمجھ جانے والے انداز میں سر ہلا گیا جبکہ خیام نے کندھے اچکائے تھے۔
” خیر آپ یہاں؟؟ کوئی کام تھا ؟؟”
” اوہ ہاں، ”
وہ کچھ یاد آنے پہ ٹیبل کے قریب گیا تھا جبکہ خیام بھی مکمل اس کی طرف متوجہ ہوا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” پرازیکیوٹر عاریز خان کے لئے بےحد افسوس ہے مجھے ”
وہ جو کوئی فائل غور سے دیکھتی، بنچ پہ بیٹھی ہوئی تھی جب اچانک فیضان بھی اس سے فاصلے پہ بیٹھ گیا۔ اکاسمہ نے چونک کے اسے دیکھا اور پھر سے آنکھیں سرد ہوئی تھی۔
” ہممممم ۔۔۔۔”
” ایم سوری، لیکن میں بات کر کے آفس چینج کردوا دوں گا۔ آئی پرامس ”
” اس کی ضرورت نہیں ”
کس قدر سپاٹ اور بےتاثر تھی اس کی آنکھیں۔ فیضان نے سوچا تھا۔ عاریز خان اس کا کلاس فیلو اور بہت اچھا دوست رہا تھا۔
” آپ جائیں گے تو کوئی اور آ جائے گا اس آفس میں۔ تو پھر کیا ضرورت ہے ان سب کی۔ ”
فیضان لب بھینچ گیا جبکہ وہ دوبارہ سے فائل دیکھنے لگی۔
” عاریز میرا بہت اچھا دوست اور کلاس فیلو رہا ہے۔ ”
اکاسمہ نے لب بھینچ کے گہرا سانس لیا تھا۔
” آپ کو کسی بھی ہیلپ کی ۔۔۔۔ ”
” نہیں، مجھے کسی ہیلپ کی ضرورت نہیں ہے۔ ”
اپنا فائل اٹھا کے، وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی جب سامنا حکان سے ہوا ۔ جس شخص سے گریز کی کوشش کر رہی تھی، وہی سامنے آ گیا تھا۔
” ناٹ آگین۔”
وہ حکان کو نظرانداز کر کے، جانے لگی جب حکان تیزی سے قریب آتا، اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔
” نکاح کر لیتے ہیں اکاسمہ ”
اس کے بلکل اچانک کہے الفاظ، سیال مادے کی طرح اس کے وجود کو بھسم کر گئے تھے۔ اور بنا کچھ سوچے، اس نے رک کے، حکان کو تھپڑ مار دیا تھا جبکہ وہ لب بھینچے اسے دیکھنے لگا۔ اس نے نہ ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کی تھی اور نہ ہی اپنے چہرے کو چھونے کی۔
” کیا بکواس کی تم نے ؟؟ تم بس اس انتظار میں تھے کہ عدت پوری ہو جائے اور اپنا مقصد پورا کر لوں میں بھی ۔ جیسے میں تو تیار ہی بیٹھی ہوں تمہاری ہاں میں ہاں ملانے کے لئے۔ ”
” یہ ضروری ہے اکاسمہ، پلیز ”
حکان اب بھی مسلسل اسے دیکھ رہا تھا۔
” شٹ اپ، ایک لفظ نہیں ۔ ”
وہ غرائی تھی اور پھر اسے سرد نفرت بھری نظروں سے دیکھتی، اس کے پہلو سے ہوتی، گزرتی چلی گئی تھی۔ جبکہ حکان کی نظروں نے اس کا دور تک تعاقب کیا تھا۔
اسے فیاض حیات کے الفاظ یاد آئے تھے جب انہوں نے حکان سے، نظریں چراتے، بےبسی سے کہا تھا۔
” میری بیٹی سے نکاح کر لو بیٹا، پلیز ”
حکان حیران ہوا تھا۔
” میں اپنی بیٹی کی حفاظت نہیں کر پا رہا، پلیز بیٹا ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گہرا سانس لیتا وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ اکاسمہ کی ناراضی مول لے چکا تھا وہ۔ اب کیا کرے گا؟؟ اس کی آنکھوں میں نفرت بھی دیکھ چکا تھا وہ۔ وہ جانتا تھا کہ اکاسمہ یہی کرے گی، لیکن اس کے پاس آپشن نہیں تھا اور نہ کوئی ایسا موقع تھا کہ وہ کسی رومینٹک ڈیٹ پہ اکاسمہ کو لے جا کے، اسے پروپوز کرتا ۔ وہ تو قتل کر دیتی ۔ اس وقت بھی قتل کرنے کا سوچ رہی ہوگی محترمہ!!
ملکہ ڈان !!
پاکستان لاء کی ڈان !!
افففففف!!
پینٹ پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈالے، وہ بھی آگے بڑھا تھا۔

《《《》》》》》》》》《《《《》》

لیکن رات کو جب فیاض حیات کے بلانے پہ، وہ اسٹڈی میں گئی تب وہ بےحد سنجیدہ نظر آ رہے تھے لیکن ان کی آنکھوں میں چھپا خوف اکاسمہ کی آنکھوں سے چھپا ہوا نہیں تھا۔ اکاسمہ کا دل ڈوب سا گیا تھا۔ اپنے ڈیڈ سے محبت کرنے والی اکاسمہ کو کہاں گوارا تھا کہ وہ اپنے ڈیڈ کو پریشان دیکھے۔
” بابا کیا ہوا ہے ؟؟”
” میرا بچہ ۔۔۔ ”
فیاض حیات نے بےحد محبت سے، اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا جبکہ اکاسمہ نے ان کے ہاتھ تھام کے، لبوں سے لگایا تھا۔
” بابا سب ٹھیک تو ہے ؟؟”
” امممم بلکل سب ٹھیک ہے ۔ میرا دل اپنی بچی سے باتیں کرنے کا کر رہا تھا اس لئے یہاں بلایا ہے ”
اکاسمہ مسکرانے لگی ۔
” آج دن کیسا رہا کورٹ میں؟؟”
اکاسمہ کو اچانک حکان ملک کے الفاظ اور اس کی آنکھیں یاد آئی تھی۔ پھر سر جھٹک کے وہ فیاض حیات کو دیکھنے لگی
” اچھا تھا ۔ ”
” اکاسمہ بچے، مجھے آپ سے بات کرنی تھی ”
فیاض حیات ٹھیک سے بیٹھتے کہنے لگے جبکہ اکاسمہ ان کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
” جی بابا کہئیے”
” عفان ماشاءاللہ سے منگنی ہو چکی ہے اور اپنی لائف کو بنا بھی چکا ہے۔ اگرچہ یہ منگنی کافی ایمرجنسی میں ہوئی ہے لیکن پھر بھی وہ اب سکون سے ہے۔ بارز بھی سدھر ہی رہا ہے۔ اسے اسٹڈیز کے لئے امریکا بھیج دیا ہے تا کہ یہاں سے دور رہے اور اب ہیں آپ۔۔۔ اکاسمہ بیٹا”
اکاسمہ کا دل ایک لمحے کے لئے رہا اور پھر چلنے لگا جبکہ نظریں فیاض حیات پہ تھی۔
” زندگی بہت کٹھن اور مشکل ہے۔ ہماری سوچ سے بھی زیادہ۔ میرا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کب چلتی سانس رک جائے۔ ”
” بابا ۔۔۔۔”
اکاسمہ نے انہیں روکا تھا جبکہ آنکھیں پل بھر میں بھیگ گئی تھیں۔
“نہیں بیٹا کہنے دو مجھے۔یہی سچ ہے ہم انسان جب بوڑھے ہونے لگ جائے تو ہماری سانسوں کا کچھ بھروسہ نہیں رہتا بیٹا۔ اسی لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ۔۔۔۔ نکاح کر لیں بیٹا ”
” بابا !!!!”
اکاسمہ انہیں اچھنبے سے دیکھنے لگی جبکہ فیاض حیات کی آنکھیں بھیگ گئی۔
” حکان ملک بہت اچھا انسان ہے۔ میری اس سے کافی دفعہ بات ہوئی ہے۔ وہ مجھے بہت بھلا انسان معلوم۔ہوتا ہے۔خیام نے بھی اس کی کافی تعریف کی ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ اس بارے میں سوچو بیٹا۔ ۔۔۔ ”
اکاسمہ نے لب بھینچ لیے لیکن خاموش رہی۔ اس کے اندر غصے کا طوفان سا اٹھا تھا لیکن اسے کیا کرنا تھا یہ وہ خود جانتی تھی اس لئے فیاض حیات کے سامنے وہ خاموش ہی رہی۔
” سوچ کے مجھے اپنا فیصلہ سنا دینا لیکن زیادہ وقت نہیں لینا سوچنے میں بیٹا، بوڑھی ہڈیاں ہیں،کچھ بھروسہ نہیں ان کا ”
” بابا ۔۔۔۔۔ !!!!”
اکاسمہ نے تڑپ کے انہیں دیکھا تھا اور پھر اپنے کمرے تک اتے، اس نے ہر پہلو سے اپنے بابا کے رویے اور ان کی باتوں کے بارے میں سوچا تھا۔ کیوں کر رہے تھے وہ ایسی باتیں؟؟ کیا ہوا تھا ؟؟ اور پھر اس کا دھیان حکان ملک کی طرف گیا اور تب سارا معاملہ سمجھ آ گیا۔ حکان کو بہت شوق لگا رہتا اس کی حفاظت کرنے کا اور تبھی اس نے بابا سے کہا ہوگا بلکہ بات کی ہوگی نکاح کے لئے۔
” تمہیں تو میں چین سے رہنے نہیں دوں گی حکان ملک ۔۔۔ تم بس اب کل کا ویٹ کرو ”
اسنے دانت پیسے تھے۔

《《《《《《《《》》》》》》》

” گڈ مارننگ مائی رومینٹک وائف ”
وہ جو ناشتہ بنانے میں مصروف تھی جب ازمائر نے پیچھے سے آ کے، اس کی کمر کے گرد دونوں بازو حائل کر کے، اسے اپنے قریب کیا تھا۔ مسفرہ نے مسکرا کے، سر اس کے کندھے پہ رکھ کے، نظریں پھیر کے، اسے دیکھا تھا۔
” گڈ مارننگ مائی ڈئیر ہزبینڈ ”
اس کے لبوں پہ محبت کی مہر ثبت کر کے، ازمائر مسکرانے لگا
” میری رائٹر وائفی کیا کر رہی ہے ویسے ”
” ناشتہ بنا رہی ہے جاں پناہ ”
مسفرہ بھی اسی کے انداز میں جواب دیتی، چائے دم پہ رکھنے لگی جبکہ ازمائر نے اس کے ہاتھ تھام کے لبوں سے لگائے تھے۔
” یہ ہاتھ ناشتہ بناتے کہاں اچھے لگتے ہیں۔ ان میں قلم دو تا کہ وہ اپنے جاں پناہ کو لکھے ”
مسفرہ ہنسنے لگی جبکہ ازمائر نے اسے بانہوں میں اٹھا لیا تھا ۔
” اررررے، کیا کر رہے ہو ازمائر، چائے گر جائے گی ”
مسفرہ کھلکھلاتی، اس کے بازوؤں میں موجود کہہ رہی تھی جبکہ ازمائر نے اسے بانہوں میں اٹھائے، دو راؤنڈز لگائے تھے، تو پورا کچن گول گھومتا محسوس ہوا تھا۔
” میرا سر، ازمائر !!!!”
ازمائر اسے لیے لاؤنج میں آیا تھا اور اسے صوفے پہ لٹا کے، خود بھی وہیں، اس کے برابر لیٹ گیا۔
” اتنی نازک سی ہیں میرے رائٹر وائفی۔ ”
مسفرہ مسکرانے لگی اور اس کے کندھے پہ سر رکھ کے، اس کی شرٹ کے بٹن سے کھیلنے لگی۔
” اتنا زور سے گھماو گیں تو یہی لگے گا ناں کہ پوری دنیا ہی گھوم گئی ہے مجھ پہ ”
” اوہ یہ جاں پناہ آپ سے معذرت چاہتا ہے ”
ازمائر کی بات پہ وہ ہنسنے لگی جبکہ ازمائر نے اسے بازو میں اٹھا کے، خود پہ گرایا تھا جبکہ وہ ازمائر کے سینے سے لگ کے، حیران آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
” یہ آج صبح صبح تمہیں ہو کیا گیا ہے ازمائر ”
” وہی جو تم جیسی حسن کی دیوی کو دیکھ کے ہونا چاہیے ”
ازمائر نے اس کے لب پہ لب رکھ کے، اسے مسکراتی آنکھوں سے دیکھا تھا جبکہ مسفرہ اس کے بالوں میں نرمی سے انگلیاں چلانے لگی۔
” جاں پناہ مجھے بہت بھوک لگی ہے، اگر اجازت ہو تو میں ناشتہ بنا دوں؟”
” بلکل، میں خود لے چلتا ہوں آپ کو کچن تک ۔۔ ”
ازمائر اٹھتے ہوئے کہنے لگا جبکہ مسفرہ فورا اسے پیچھےگرا کے دور ہوئی تھی۔
” بلکل بھی نہیں۔ مجھے گول گول گھومنے کا بلکل بھی شوق نہیں ہے ۔ ”
” ارے !!!”
ازمائر نے مصنوعی حیرت سے اسے دیکھا تھا جبکہ وہ ہنستے ہوئے، تیزی سے، اٹھ کے اس سے دور ہوئی تھی۔
” اچھا چلو دونوں مل کے بناتے ہیں ناشتہ ”
ازمائر بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا جبکہ مسفرہ نے بےساختہ اس کے گال پہ لب رکھ کے، اسے آنکھ ونک کی تھی ۔
” اچھااااااا!!!”
ازمائر نے اسے جیسے ہی تھامنا چاہا۔ مسفرہ بےساختہ پیچھے ہو کے، اسے صوفے پہ دھکا دے کے، دوڑی تھی ۔ ازمائر پہلے حیران ہوا اور پھر مسکراتا اس کے پیچھے ہی دوڑ پڑا تھا ۔ زندگی بلکل اچانک سے خوبصورت ہو گئی تھی ازمائر کے لئے۔ مسفرہ کے سنگ، زندگی کا ہر لمحہ دلکش لگنے لگا تھا !!!!

《《《《《《《《》》》》》》》》

دھڑام سے دروازہ کھلا اور اکاسمہ کڑے تیور لیے اندر آئی تھی۔ دروازہ زور سے اپنے پیچھے بند کرتی، وہ قریب آئی تھی۔ ابھی حکان اس کے تیوروں سے سنبھلا بھی نہیں تھا جب ٹیبل پہ رکھی کافی کا کپ اٹھا کے، اس نے زور سے، حکان کے چہرے پہ پھینکا تھا۔ شکر ہے کہ کافی ٹھنڈی تھی ۔ گلاس پھینک کے، وہ قریب آ کے، ٹیبل پہ ایک ہاتھ رکھ کے، اس کی طرف خم ہوئی تھی۔
” کیا بکواس کی ہے تم نے بابا سے ”
وہ زور سے چلائی تھی جبکہ حکان کندھے اچکا گیا۔
” یہی کہ ۔۔۔۔۔ ”
اس کی بات بھی مکمل نہیں ہوئی تھی جب اکاسمہ نے زور سے ہاتھ ٹیبل پہ مارا۔
” مجھے معلوم ہے، بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بہت شوق ہے تمہیں میری حفاظت کا، تو یوں کرو کہ ایک ٹرسٹ کھول لو اور ہر لڑکی سے نکاح کر لو، کیونکہ تم نے ان کی حفاظت کرنی ہوتی ہے۔ ”
” نہیں مجھے تو صرف تم سے ۔۔۔”
اسنے پھر سے کہنے کی کوشش کی۔
” چپ کرو تم ۔۔۔۔ ”
لیکن بات کاٹ دی گئی۔ حکان اس کے بگڑے تیور، بےحد قریب سے دیکھ رہا تھا۔ غصے سے تنے اس کے نقوش، غصیلی آنکھیں، چہرے کے اطراف پہ بکھری آوارہ لٹیں، وہ مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔
” میرے بابا مجھے بےحد عزیز ہے۔ میں نہیں جانتی کہ تم نے ان سے کیا کہہ کے، انہیں مجبور کیا ہے کہ وہ مجھ سے تمہارے اس سو کالڈ۔۔۔۔۔ نکاح کے لئے مان جائے بٹ لسن، مجھے تم میں رتی برابر انٹرسٹ نہیں ہے اس لیے اپنا دماغ سیٹ کر لو اور آئندہ بابا سے اس ٹاپک پہ بات نہیں کرنا۔ از ڈیٹ کلئیر مسٹر حکان ملک ؟؟؟”
ساتھ ہی زور سے ہاتھ ٹیبل پہ مار کے وہ پیچھے ہوئی تھی۔
” اگر کچھ بھی کلئیر نہ ہوا ہو مجھے تو ؟؟”
وہ جو جانے والی تھی، حکان کی بات پہ رک کے، مڑ کے اسے آبرو اچکا کے دیکھنے لگی جبکہ وہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے، گہری نگاہوں سے اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا۔
” اتنی خوبصورت لڑکی سے، نکاح کے لئے کون کافر انکار کرے گا ”
اکاسمہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی جبکہ حکان اس کی حالت کو دلچسپی سے دیکھتا محفوظ ہو رہا تھا۔
” ڈیم اٹ ۔۔۔۔ ”
اکاسمہ کہنے والی تھی جب حکان نے ہاتھ اٹھا کے اسے کچھ کہنے سے روکا تھا اور خود اپنی جگہ سے اٹھ کے، اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ پینٹ پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈالے، وہ براہ راست اکاسمہ کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
” اگر تم چاہتی ہو کہ عاریز خان کے قاتل تک پہنچ سکو تو تمہیں مجھ سے نکاح کرنا ہوگا۔ ”
الفاظ جیسے بم کی مانند اکاسمہ کے وجود میں اترے تھے.”اگر تمہیں عاریز خان کے قاتل تک پہنچنا ہے، تو تمہیں مجھ سے نکاح کرنا ہوگا!”
اس کے الفاظ زہر میں ڈوبے تیر کی طرح دل کو چیرتے ہوئے نکلے۔ اُس کی گہری آنکھیں جیسے رازوں کا سمندر ہوں، ہر لفظ میں ایک غیر متوقع شرط چھپی ہوئی تھی۔ لمحہ گویا تھم سا گیا، کمرے کی دیواریں بھی شاید یہ بےرحم پیشکش سن کر ساکت ہوگئی تھیں۔ لیکن حکان کی آواز میں عجیب سا سکون تھا، مگر اُس سکون کے پیچھے چھپے خطرے کو نظرانداز کرنا ممکن نہ تھا۔
وہ طیش کے عالم میں ہاتھ اٹھا کے، اسے تھپڑ مارنے لگی تھی جب حکان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس کی کلائی کو اپنی گرفت میں لیتا، اسے کھینچ کے اپنے قریب کر گیا تھا کہ اس کی پشت، حکان کے سینے سے جا لگی تھی۔
” ہشششششش ”
اس کے کان کی لو پہ مبہم سرگوشی ہوئی تھی جبکہ اکاسمہ خود کو اس کی گرفت سے آزاد کرانے کی کوشش کرنے لگی۔
” کیا فائدہ، میں اپنی مرضی سے تمہیں آزاد کروں گا تو حوصلے سے بات سنو میری۔ ”
” چھوڑو مجھے باسٹرڈ ”
اس نے دانت پیسے تھے۔
” جنگلی بلی لگ رہی ہو اس وقت ”
حکان محفوظ ہوتے، اسے چڑانے لگا جبکہ وہ بپھر ہی گئی تھی۔
“انتہا درجے کے کمینے ہو۔ افسوس پہچان کیوں نہیں پائی تمہیں میں ”
” world’s most dangerous Hacker …
کو پہچاننا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ”
حکان کو جیسے اجازت نامہ مل گیا ہو اکاسمہ کو تنگ کرنے کا، زچ کرنے کا، جب سے فیاض حیات نے اس سے، اکاسمہ سے نکاح کی بات کی تھی۔
” میری بات پہ غور ضرور کرنا آج رات بیڈ پہ جا کے۔ آفر اچھی ہے میری۔ قاتل سے بھی دو ہاتھ کر لو گی اور ساتھ میں ایک عدد ہینڈسم نوجوان کی بیوی بننے کا چانس بھی مل جائے گا ۔ یہ آفر لائف ٹائم گارنٹی کے ساتھ ۔۔۔۔ آؤچ”
اکاسمہ نے اس کے ہاتھ پہ دانت گاڑے تھے، تبھی اس کی بات ادھوری رہ گئی تھی اور اکاسمہ بھی اس کی گرفت سے آزاد ہو گئی تھی۔
” جنگلی بلی ہو تم، دیکھو خون نکل رہا ہے ”
اکاسمہ لب بھینچے اسے گھور رہی تھی جبکہ وہ اپنے ہاتھ کی پشت دیکھ رہا تھا جہاں اکاسمہ کے دانتوں کے نشان تھے ۔
” اتنا گہرا زخم، کہیں میں مر تو نہیں رہا ؟؟ زہر والے دانت نہ ہو تمہارے۔ کچھ پتہ بھی نہیں چلتا۔ الرجی ہو گئی مجھے تو؟؟ میں مر گیا تو ؟؟ تم تو شادی کے بعد مجھے کچا چبا ۔ ۔۔۔”
اکاسمہ جو اس کے ڈرامے دیکھ رہی تھی ۔ اس کے اکاسمہ کی طرف دیکھنے پہ، لب بھینچ گئی۔
” شٹ اپ ۔ ”
وہ چیخی تھی اور ساتھ ہی مڑ کے،دروازے زور سے کھول کے باہر نکلی تھی جبکہ باہر نکل کے دروازہ بھی زور سے بند کیا تھا۔
” آرام سے،دیواروں پہ زلزلہ آ رہاہے ”
پیچھے سے حکان کی آواز ابھری جسے اس نے مکمل طور پہ ان سنی کر دیا اور سامنے سے گزرتے لوگوں کو بھی اس نے نظرانداز کر دیا۔ اسے اس شخص پہ بےحد غصہ آ رہا تھا کہ اس کا بس نہیں چل رہا تھا۔ اسکی گردن سے کاٹ کے رکھ دے اسے۔
” اکاسمہ !!!”
خیام کے بلانے پہ وہ لب بھینچے مڑی تھی۔
” بھاڑ میں جاؤ تم بھی ”
وہ چلائی تھی۔

《《《《《《《》》》》》》》》》》》

” ایم بیک!!!”

اس نے میسج کھول کے، حیران آنکھوں سے دیکھا تھا۔۔۔ !!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *