The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 23
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 23
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 23
” ڈاکٹر عفان ”
” ہممم ؟؟”
جتنی ہمت مجتمع کر کے، عندلیب نے اس کا نام لیا تھا، اس کے ہنکارا بھرنے پہ سارے ہمت ہی جواب دے گئی اور وہ لب کاٹنے لگی اور اداس نظروں سے عفان نے جھکے سر کو دیکھنے لگی جو کچھ لکھنے میں مصروف تھا۔
” ہاں کہو ؟”
اس نے اچانک سر اٹھا کے پوچھا جبکہ عندلیب بمشکل آنکھوں میں آئے آنسو پیتی کچھ کہنے کی کوشش کرنے لگی ۔
” وہ خود زبردستی وہاں آیا تھا، م ۔۔۔۔ میں نے نہیں بلایا تھا اسے۔ ”
بمشکل کہتی وہ نظریں جھکا گئی۔ عفان سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کے، اسے دیکھنے لگا جبکہ وہ مجرم بنی، نظریں جھکائے کھڑی تھی۔ عفان سر جھٹک کے اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑا ہوا اور چلتا ہوا اس کے قریب ایا۔ عندلیب بھیگی پلکیں اٹھا کے اپنے مسیحا کو دیکھنے لگی جس سے وہ بےپناہ محبت کر بیٹھی تھی۔
” پھر کیا ہوا ؟؟”
عندلیب کی آنکھیں سوالیہ ہوئی تھی جبکہ وہ پینٹ پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈالے اسے دیکھنے لگا۔
” میں تو وہاں تھا نہیں عندلیب، تو آپ سے ہی پوچھوں گا کہ پھر کیا ہوا تھا ؟؟ ”
عندلیب کے لب پھڑپھڑائے تھے لیکن وہ نہ سوال کو سمجھ پائی تھی اور نہ سوال کے جواب کو سمجھ پا رہی تھی۔
” پھر یہ ہوا عندلیب کہ آپ خوفزدہ ہو گئی اس شخص سے، آپ کو لگا کہ وہ پھر سے آپ کا چہرہ جھلسا دے گا، پھر سے آپ کو نقصان پہنچائے گا۔ آپ ڈر کے خاموش رہی کیونکہ آپ بزدل ہے اور تبھی آپ خوفزدہ بھی ہے اس انسان سے، جس نے آپ کو، آپ کے چہرے، آپ کی شخصیت کو جھلسا دیا تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آپ خوفزدہ کیوں ہے عندلیب؟؟”
اس کے سوالیہ انداز پہ عندلیب نظریں جھکا گئی۔
” میری طرف دیکھیے، میں سوال کر رہا ہوں تو میری آنکھوں میں دیکھئیے آپ ”
عفان نے بلکل اچانک کہا تھا اور عندلیب تیزی سے جھکی نظریں اٹھا کے اسے دیکھنے لگی لیکن ان آنکھوں میں دیکھنا کس قدر محال تھا بالخصوص جب مقابل ڈاکٹر عفان ہو جو آنکھوں سے، دل کی راز پڑھ لیتا ہو اور اگر وہ پڑھ لیں اس کے دل کے تمام راز تو ؟؟ اگر وہ سب جان لیں تو ؟؟
” کیا کر سکتا تھا وہ ؟؟ اس کے لئے وہ جگہ نئی تھی لیکن آپ کے لئے وہ جگہ بلکل بھی نئی نہیں تھی۔ وہاں موجود ہر میڈیسن، ہر انجکشن اور ہر کیمیکل کا آپ کو پتہ ہے۔ ۔۔ پتہ ہے کہ نہیں عندلیب؟؟”
اس کے پوچھنے پہ عندلیب سر اثبات میں ہلا گئی تو عفان ہلکا سا مسکراتے، اس کی طرف خم ہوا تھا اور ان بھیگی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” کوئی بھی میڈیسن کی بوتل اٹھا کے، اس کے سر پہ دے مارنا، کوئی بھی سرنج اٹھا کے، اپنے دفاع کے لئے، اس کے ہاتھ یا جسم کے کسی بھی حصے میں مارنا اور کوئی بھی کیمیکل اٹھا کے، اس کے منہ پہ پھینکے دینا ۔۔ اتنا بھی مشکل نہیں ہے۔ کوئی پوچھتا تو آپ کہہ دیتی کہ یہ مجھے نقصان پہنچا رہا تھا اور میں خود کو ڈیفنڈ کرنے کے لئے یہ سب کیا اور سب یقین بھی کر لیتے آپ کا کیونکہ وہ تو ہے ہی مجرم اور آپ پہ ایسڈ پھینک چکا ہے تو اس کا ریکارڈ خراب ہو لیکن آپ تو وکٹم ہے تو لوگ وکٹم کی سنتے ہیں عندلیب۔ ”
وہ خاموش ہوا تھا جبکہ عندلیب حیران آنکھوں سے، اسے دیکھ رہی تھی ۔ اس وقت وہ کوئی ڈاکٹر کم لیکن اکاسمہ کی بھائی زیادہ لگ رہا تھا جو اسے، ایسی راہ دکھا رہا تھا جیسے اکاسمہ اسے سمجھایا کرتی تھی۔
” خود کو ڈیفند کرنا سیکھے، بےخوف اور نڈر ہو کے۔ ”
عفان سیدھا ہوا تھا اور اپنی کنپٹی سہلانے لگا
” آج ایک امپورٹنٹ آپریشن ہے اور آپ کو اس آپریشن کے اینڈ تک میرے ساتھ رہنا ہے ”
وہ مصروف سے انداز میں کہتا، پھر سے ٹیبل پہ رکھے نوٹ بک میں کچھ لکھنے لگا جبکہ عندلیب کے لب مسکرائے تھے۔ اتنا سادہ نظر آنے والا ڈاکٹر عفان کا یہ کریمنل روپ اس نے آج دیکھا تھا۔ پہلی ملاقات میں ملنے والا شخص، کبھی بھی اس کے اس روپ کو نہ دیکھ پائے جو آج عندلیب دیکھ چکی تھی۔وہ نظر اٹھا کے، عندلیب کو دیکھنے لگا جبکہ وہ نظریں چرا گئی تھی۔
” میں سب prepare کر لوں ”
وہ بےربطی سے کہتی، تیزی سے کمرے سے باہر نکلی تھی لیکن اس کے لب مسکرا رہے تھے۔ اس کی آنکھیں مسکرا رہی تھی ۔ اس کا وجود ہلکا سا محسوس ہو رہا تھا اور اس کا چہرہ پرسکون تھا۔ عفان کی ناراضگی اور غصے کا سوچ سوچ کے، اس کی جان نکل رہی تھی لیکن وہ ناراض نہیں تھا اور عندلیب اس بات کو لے کے، اب پرسکون سی تھی ۔
《《《《《《《《《¤¤¤¤¤¤¤》》》》》》
” گڈ مارننگ سر”
” گڈ مارننگ سر “
ان آوازوں سے پورا آفس کا ماحول بھر گیا تھا اور وہاں موجود ہر شخص کی آنکھوں میں، خوشگوار حیرت تھی جبکہ وہ اپنی ازلی پراعتماد چال میں چلتا، آفس روم کی طرف بڑھ رہا تھا۔ جھٹکے سے دروازہ کھولتا وہ اندر داخل ہوا تھا جہاں سیٹ پہ براجمان حسام شاہ اسے دیکھتا، جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا تھا اور حیران آنکھوں سے، اپنے سامنے کھڑے ازمائر شاہ کو دیکھنے لگا جو چمکتی آنکھوں میں، نفرت لیے حسام شاہ کو دیکھ رہا تھا۔
” تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟”
حسام جیسے ہوش میں آ کے اس سے پوچھ رہا تھا۔
” اپنے آفس آیا ہوں ”
ازمائر شاہ کندھے اچکاتے کہتا ہوا، ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ہاتھ کی دو انگلیوں سے، اس نے ٹیبل کو چھوا تھا اور پھر حسام کو دیکھنے لگا۔
” میرے آفس کا ذرا بھی خیال نہیں رکھا حسام بھائی”
تاسف بھرے انداز میں کہتا، وہ اپنے اسسٹنٹ کو دیکھنے لگا جو شاید ازمائر شاہ کے آنے سے زیادہ خوش تھی کیونکہ وہ ازمائر شاہ کی سیکریٹری تھی جسے حسام شاہ نے ہٹا کے، اپنی مرضی کی لڑکی کو سیکریٹری رکھا تھا جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ حسام شاہ اپنے جنسی تعلقات اس لڑکی سے بنا چکا تھا۔
” شبنم، کل تک اس آفس کا پورا فرنیچر نیا ہونا چاہئیے اور مکمل صفائی بھی ہونی چاہیے ”
” اوکے سر ”
شبنم نے مسکراتے ہوئے، سر اثبات میں ہلایا تھا۔
” یہ کیا بکواس ہے ، یہ میرا افس ہے ”
حسام چلاتا ہوا اگے آیا تھا اور ازمائر شاہ کے مقابل آ کھڑا ہوا تھا۔
” ہشششششش ”
ہونٹوں پہ شہادت کی انگلی رکھتا، ازمائر شاہ اسے وارننگ والے انداز میں دیکھنے لگا اور پھر ہاتھ بڑھا کے، وہ حسام کی شرٹ کا کالر ٹھیک کرنے لگا۔
” دوسروں کی تھالی، چاٹنے کی عادت نہ گئی آپ کی حسام بھائی ۔۔۔ ویسے ”
وہ مسکراتے ہوئے، ہاتھ شبنم کی طرف بڑھا چکا تھا جس نے تیزی سے فائل اس کے ہاتھ میں رکھ دی ۔
” اس کی ضرورت تو نہیں ہے لیکن پھر بھی سوچا دکھا ہی دوں آپ کو بھی ۔۔۔”
وہ فائل حسام کی طرف بڑھاتے کہنے لگا جبکہ سرد نظریں مسلسل حسام پہ تھی جس کی رنگت فائل پڑھتے ہوئے، متغیر ہو چکی تھی ۔
” سائن بھی آپ کے ہی ہے۔ میرا افس، مجھے واپس سونپنے کے لئے، شکریہ ادا کرنا چاہوں گا آپ کا اور ہاں، آپ کی طرح جعلی سائن کا استعمال نہیں کیا میں نے، اصلی سائن ہے جو آپ کے ہی ہے اور آپ ہی کر چکے ہیں ”
اس پہ سرد نظر ڈال کے، ازمائر شاہ آگے بڑھا تھا۔
“یو بلڈی ۔۔۔۔ ”
حسام شاہ گھوما تھا کہ ازمائر شاہ پہ حملہ آور ہو سکے لیکن دروازے کے قریب ہی موجود، دو گارڈز قریب آ کے، اسے پکڑ کے، اس کی یہ حرکت روک چکے تھے جبکہ حسام شاہ خود کو چھڑانے کی کوشش میں غرانے لگا۔یہ وہی دو گارڈز تھے جن کو ازمائر شاہ کا چمچہ کہہ کے، وہ اس آفس سے نکال چکا تھا اور ابھی وہ دونوں اس کے سامنے موجود تھے۔
” مس شبنم، احمد سے کہہ کے، یہ جگہ بھی صاف کروا دے پلیز اور کال کر کے شام تک، یہاں کا فرنیچر بھی نیو کروا دیں پلیز۔ ”
” اوکے سر شیور ”
شبنم نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا تھا اور آفس روم سے باہر نکلی تھی۔ ازمائر شاہ چلتا ہوا، گلاس وال کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا ۔ مسکراتی آنکھوں سے، وہ اونچی عمارت سے، کراچی کو دیکھ رہا تھا۔ سڑک پہ دوڑتی، ریس لگاتی گاڑیوں کو، چلتے پھرتے،بھاگتے انسانوں کی مصروف زندگی کو دیکھ رہا تھا۔
” آفس سے باہر پھینک دو انہیں۔”
سرد بھاری اواز گونجی تھی اور پھر حکم کی تعمیل ہوئی تھی۔ دونوں گارڈز حسام شاہ کو لے جا رہے تھے جو اول فول بک رہا تھا جبکہ ازمائر شاہ کی آنکھیں اور چہرہ مسکرا رہے تھے۔ وہ اپنی کھوئی ہوئی زندگی کو پا چکا تھا۔ اس کی زندگی اور اس سے متعلق ہر چیز، اب اس کے دسترس میں تھی۔ وہ ازمائر شاہ تھا اپنی جائیداد کا اکلوتا وارث۔ وہ جیل میں موجود خاموش رہنے والا ازمائر شاہ نہیں رہا تھا بلکہ وہ طاقتور تھا، وہی ازمائر شاہ، جسے آدھی سے زیادہ کراچی شہر پہ دسترس تھی۔
《《《《《《《《¤¤¤¤¤》》》》》》》》
” میرا شوہر ہماری بیٹی کو کیسے قتل کر سکتا ہے میم، وہ بیٹی ہے ہماری۔ پولیس زبردستی اٹھا کے لے گئی ہے میرے شوہر کو۔ ”
ثمرین نام کی وہ عورت روتے ہوئے بتا رہی تھی ۔ اکاسمہ سپاٹ آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ پاس بیٹھا، حکان ملک، اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا۔ ارد گرد سے بیگانہ ہو کے، جیسے وہ ہمیشہ ہی کرتا تھا کالج اور یونیورسٹی لائف میں۔
” کسی پہ شک؟؟”
ثمرین نفی میں سر ہلانے لگی۔
” وہ ہمیشہ کی طرح اپنے بیڈ روم میں تھی جب ڈنر کے لئے، میں اسے آوازیں دیتے، اوپر گئی۔ اس نے کہا تھا کہ وہ چینج کر کے آتی ہے کچن میں ہاتھ بٹانے، لیکن وہ نہیں آئی تو مجھے لگا کہ تھک گئی ہوگی اور اس خیال سے میں نے اسے آواز بھی نہیں دی لیکن جب ڈنر کے لئے، میں نے اسے آواز دی تو اس نے جواب ہی نہیں دیا۔ میرا شوہر اجمل بھی وہیں موجود تھا تو میں اوپر گئی تا کہ اس کے کمرے میں جا کے دیکھ لوں کہ میرے بلانے پہ آ کیوں نہیں رہی۔ جب دروازہ کھولا تو ۔۔۔۔ ”
وہ رک گئی تھی کہ اس سے کچھ بولا نہیں جا رہا تھا۔ اس کی آواز کانپنے لگی اور اس کی آنکھوں میں خوف ابھرا تھا۔
” و ۔۔۔وہ، م ۔۔۔۔ میری ب ۔۔۔۔ چی، آدھا حصہ بیڈ پہ اور آدھا حصہ بیڈ سے نیچے جھکا ہوا تھا۔ کسی نے زبردستی جیسے اسے ۔۔۔۔۔۔ اس ۔۔۔ اس کی گردن پہ سیاہ لائن سی بنی ہوئی تھی پ ۔۔۔ پورے چار گ۔۔۔۔ گھنٹے پہلے اسے مار دیا گیا تھا اور میں کیسی ماں ہوں کہ مجھے خبر ہی نہ ہوئی، مجھے محسوس ہی نہ ہوا کہ کچن کے اوپر جو بیڈ روم ہے وہاں ۔۔۔۔۔ میری بچی کے ساتھ موت کا کھیل رچایا جا رہا ہے۔۔۔ میں کیسی ماں ہوں اور یہاں پولیس اور قانون، بجائے قاتل کو ڈھونڈنے کے، میرے شوہر، میرے واحد سہارے کو بھی مجھ سے چھین رہے ہیں۔یہ کہاں کا انصاف ہے ؟؟ ”
وہ رونے لگی جبکہ اکاسمہ نے جھرجھری سی لی تھی اور لب بھینچے وہ ثمرین کو روتے ہوئے دیکھنے لگی جب دروازے پہ دستک ہوئی اور عاریز خان اندر آیا تھا۔ اکاسمہ اسے دیکھنے لگی۔
” عاریز ”
اپنی سیٹ سے اٹھ کے، وہ عاریز کے قریب آئی تھی۔ عاریز نے اس کے تھک ماندہ وجود کو خود سے لگایا تھا جبکہ وہیں صوفے پہ بیٹھے حکان نے لب بھینچ لیے تھے۔ آنکھوں میں سرد پن بڑھا تھا۔
” کیا ہو رہا ہے ؟؟”
وہ ثمرین اور حکان پہ نظر ڈالتا، اب اکاسمہ سے پوچھ رہا تھا تو اکاسمہ نے ثمرین کے کیس، کے متعلق معلومات دی اسے اور وہ پرسوچ انداز میں ثمرین کو دیکھنے لگا۔
” میں اپنی ٹیم کے ساتھ انویسٹیگیشن کرنے چلتا ہوں ”
” میں ۔۔۔ ”
اکاسمہ نے کہنے کے لئے لب کھولے ہی تھے جب عاریز نے اسکے لبوں پہ، شہادت کی انگلی رکھ کے، اسے کچھ کہنے سے روکا تھا۔
” تم یہیں رہو گی اور نو کریمینل کیسز”
اکاسمہ اسے گھورنے لگی تھی جبکہ عاریز اسے آنکھ ونک کرتا، ثمرین کے ساتھ باہر نکلا تھا۔ اکاسمہ منہ بنا کے سیٹ پہ جا کے بیٹھی تھی جبکہ حکان صوفے سے اٹھ کے، ٹیبل کے قریب رکھی سیٹس میں سے، ایک پہ بیٹھ گیا۔
” یہ کیس میں ہینڈل کرتا ہوں ”
اکاسمہ آبرو اچکا کے اسے دیکھنے لگی۔
” تم ابھی سیکھنے کے پروسز میں ہو ۔ کریمنل کیس کیسے ہینڈل کرو گے”
” کیس میرے نام پہ ہوگا لیکن ورک ہم دونوں مل کے کرے گیں، اگر کل کو پرازیکیوٹر عاریز خان پوچھے گا بھی تو آپ کہہ دینا کہ کیس میں ہینڈل کر رہا ہوں اور میں آپ کا اسسٹنٹ ہوں۔”
اکاسمہ لب بھینچے، پرسوچ نظروں سے، حکان کو دیکھ رہی تھی جو ریلیکس انداز میں بیٹھا اکاسمہ کو ہی دیکھ رہا تھا۔دل الگ سے کانپ رہا تھا کہ کہیں اکاسمہ اسے انکار نہ کر دے لیکن وہ مسکرائی تھی جس کا مطلب یہی ہوا کہ وہ حکان کی بات سے متفق ہے اور تبھی حکان بھی اب مکمل ریلیکس ہو چکا تھا۔ اب اکاسمہ کے مزید قریب جانے کا یہ موقع ملا تھا اسے اور وہ اس موقع کو ہاتھ سے گنوانا نہیں چاہتا تھا ۔
” آپ کو کریمنل کیس ہینڈل کرنا زیادہ پسند ہے ؟؟”
” ہاں”
اس نے سر اثبات میں ہلایا تھا اور پھر کندھے اچکا کے آنکھیں گھمائی تھی۔
” بٹ عاریز کو نہیں پسند کہ میں کوئی بھی کریمینل کیس کو ہینڈل کروں ”
” کیوں؟؟”
حکان گہری نظروں سے، اسے دیکھ رہا تھا۔
” مجھے کھونا نہیں چاہتا ہوگا ”
اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا جبکہ حکان کے لب بھینچ گئے تھے۔ اکاسمہ کے اس کی طرف دیکھتے ہی، وہ چونک کے مسکرانے لگا لیکن دل میں طوفان سے اٹھ رہے تھے۔ ایک جنگ سی چھڑ گئی تھی اس کے وجود میں اور باہر سے وہ بےحد پرسکون سا تھا۔
《《《《《《》《¤¤¤¤¤¤》》》》》》》
” تمہیں نہیں لگتا کہ اکاسمہ کا یہ اسسٹنٹ عجیب سا ہے ؟؟”
وہ بیڈ روم کو اپنی زیرک آنکھوں سے دیکھتا، اب بیڈ شیٹ کو دیکھ رہا تھا جس پہ کئی سلوٹیں تھی جب خیام کے سوال پہ اس نے کندھے اچکائے تھے۔
” خاموش طبیعت کا ہے میرے خیال سے، اکاسمہ کا کلاس میٹ رہا ہے تو اکاسمہ جانتی ہے اسے ۔ ”
” وجدان ملک کا بیٹا ہے وہ، یاد رہے یہ بات ”
خیام نے پھر سے یاد دہانی کروائی تھی۔
” عجیب بات ہے ویسے، کوئی خون نہیں، خون کا ایک قطرہ تک نہیں ہے۔۔۔ لڑکی کے کپڑوں پہ مٹی لگی ہوئی تھی لیکن یہاں مٹی کا کوئی نام و نشان نہیں ہے اور۔۔۔ ”
خیام محسوس کر چکا تھا کہ عاریز نے اس کی بات کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی ہے تبھی خاموشی سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
” ریپ کیس بھی نہیں ہے۔ کمرے کی کسی بھی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا گیا اور یہ ونڈوز۔۔۔۔ ”
وہ کچھ سوچتا ہوا کھڑکیوں کی طرف آیا تھا اور ان پہ پڑے دبیز پردے ہٹا کے، باہر دیکھنے لگا۔
” یہاں سے اندر آنے کا کوئی راستہ بھی نہیں ہے تو ؟؟؟”
عاریز پردے گرا کے، پھر سے کمرے کا جائزہ لینے لگا جبکہ خیام بیڈ شیٹ پہ پڑی سلوٹوں کو دیکھتا، پھر سے کچھ سوچنے لگا۔ یہاں تک کہ بیڈ کے دونوں طرف سائیڈ ٹیبل پہ بھی، چیزوں کو نہیں چھیڑا گیا تھا۔
” جو بھی تھا وہ باہر کے دروازے سے ہی اندر آیا تھا اور پھر وہیں سے چلا بھی گیا تھا۔ ”
عاریز جائزہ لیتا دروازے تک آیا اور کھول کے باہر نکل کے اب وہاں موجود ان تین کمروں کے دروازے دیکھنے لگا۔
” جب قاتل گھر کا ہی ہے تو اجمل ہی ہوگا ”
خیام بھی اس کے پیچھے ہی آیا تھا جبکہ عاریز ماتھے پہ بل ڈالے آگے بڑھنے لگا۔
” وہ اجمل کی بیٹی تھی ۔ وہ کیوں اپنی اٹھارہ سال کی بیٹی کو قتل کرے گا ؟؟”
وہ ایک کمرے کے دروازے کے سامنے رکا تھا۔
” شاید کسی لڑکے کے ساتھ دیکھ لیا ہو یا کچھ بھی ”
خیام نے اپنا اظہار خیال کیا تھا۔
” پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، وہ sexually کسی کے ساتھ انوالو نہیں تھی۔ ”
دروازہ کھول کے وہ اندر داخل ہوا ۔ صاف ستھرا بیڈ روم تھا۔ ایسے لگ رہا تھا کہ یہ بیڈ روم کسی کے زیر استعمال نہیں رہا بلکہ اس بیڈ روم کو سجا کے، اس کا دروازہ بند رکھا گیا ہو۔ قدم قدم چلتا عاریز کھڑکیوں تک آیا تھا۔ کھڑکی کھلی ہوئی تھی لیکن یہاں سے بھی آنے کا یا باہر جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔نہ بالکونی تھی اور نہ ہی کوئی ایسی چیز کہ جس کے ذریعے کوئی بھی آ جا سکے۔
عاریز جھانک کے نیچے دیکھنے لگا یہاں سے نیچے تک فاصلہ بھی زیادہ تھا۔ ارد گرد کے گھروں پہ نظر دوڑاتے ہوئے، اس کی نظر ایک کھڑکی پہ رک گئی جہاں سے کوئی لڑکی، اسی طرف دیکھ رہی تھی۔ عاریز کے وہاں پہ نظر ٹھہرتے ہی، وہ لڑکی تیزی سے پردے کھینچ گئ۔ عاریز حیرانی سے، اس لڑکی کے اس عمل کو دیکھنے لگا لیکن عجیب بات یہ تھی کہ پردوں کے کھینچتے ہی، وہاں ایک نوٹ نظر آنے لگا اسے۔ فاصلہ زیادہ نہیں تھا اور وہ آسانی سے پڑھ بھی سکتا تھا۔
” وہاں کوئی ہے، خونی وہیں ہے ۔ ”
اور پھر پردوں کے پیچھے سے ہاتھ نمودار ہوا تھا جو شاید اسی لڑکی کا تھا، جس نے نوٹ کے کھینچ کے پھاڑا تھا اور پھر ہاتھ اس نوٹ سمیت، پردوں کے پیچھے ہوا تھا۔عاریز لب بھینچے، گہرا سانس لیتے، پھر سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
” کیا ہوا عاریز ؟؟”
” اس گھر میں ان تینوں کے علاوہ، کوئی چوتھا بھی ہے اور وہی قاتل ہے ”
عاریز پرسوچ انداز میں جواب دیتا اب ان کھڑکیوں کو دیکھ رہا تھا جہاں سے وہ دو آنکھیں پھر سے، اسے دیکھ رہی تھی اور پھر تیزی سے پردے ہلے تھے اور آنکھیں بھی غائب ہو گئی۔
” کوئی جن بھوت ہی ہوگا ”
خیام نے کندھے اچکاتے کہا تھا جبکہ عاریز اندر آ کے، کھڑکی بند کر چکا تھا۔
“کچھ ہے، جو missing ہے۔۔۔ اس سرے کو ڈھونڈنا ہے جو اس بیڈ روم سے لنک کرتی ہے اور جو اس لڑکی صفا کے مرڈر سے لنک کرتی ہے ۔”
وہ دونوں چلتے ہوئے باہر آئے تھے اور اب تیزی سے سیڑھیاں اتر رہے تھے۔ ثمرین انہیں دیکھنے لگی۔
” ان دو پورشنز کے علاوہ کوئی تیسرا پورشن بھی ہے ؟؟”
ثمرین چونک کے اچھنبے سے ان دونوں کو باری باری دیکھنے لگی۔
” ہ ۔۔۔۔ ہاں، لیکن وہ ہمارے استعمال میں نہیں ہے۔ کئی سالوں سے بند پڑا ہے ”
” کیوں؟؟”
خیام کے سوال پہ وہ پھر سے چونکی تھی۔
” ہم تین ہی تو لوگ تھے۔ تین پورشن ہمارے لیے زیادہ پڑ رہے تھے تو ہم نے ایک پورشن بند کر دیا ۔ ”
” کہاں ہے وہ پورشن؟؟”
عاریز کے سوال پہ وہ پیچھے بنے سیڑھیوں کی طرف اشارہ کرنے لگی۔
” بیسمنٹ ”
” چلتے ہیں بیسمنٹ کی طرف ”
عاریز خان نے قدم آگے بڑھائے تھے لیکن ثمرین ہچکچاہٹ کا شکار ہوتی وہیں کھڑی رہی جب عاریز مڑ کے اسے دیکھنے لگا۔
” و ۔۔۔۔ وہاں ب ۔۔۔ بھوت ہے ۔۔۔ میں نے خود دیکھا تھا وہاں ”
اس نے ہکلاتے ہوئے جواب دیا جبکہ عاریز اور خیام اسے اچھنبے سے دیکھنے لگے۔
” ص۔۔۔ صفا کو بھی اسی نے مار دیا ہوگا ”
” تو یہ بات آپ نے پہلے کیوں mention نہیں کی ؟؟ ”
خیام کے سوال پہ وہ نم خوفزدہ آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
” مجھے لگا کہ سب ہنسے گیں مجھ پہ ”
” چلتے ہیں پھر، بھوت سے بھی مل لیتے ہیں ”
خیام سیڑھیوں کی طرف اشارہ کرتے کہنے لگا جبکہ عاریز نے اسے گھوری سے نوازا تھا تو وہ کندھے اچکا گیا اور ثمرین آگے بڑھ کے، اس دروازے پہ موجود پاسورڈ انٹر کرنے لگی اور ساتھ ہی بیسمنٹ کا دروازہ کھول گیا۔ نیم تاریکی میں ڈوبی سیڑھیاں تھی جو آخر تک جا رہی تھی۔
《《《《《《《□□□□□□》》》》》》
