Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 33

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 33

” ایم بیک!!!”

اس نے میسج کھول کے، حیران آنکھوں سے دیکھا تھا۔۔۔ !!! یہ کوئی انجان نمبر تھا۔ جس سے، اسے یہ میسج موصول ہوا تھا۔

‘ وہ بڑی آسانی سے تمہیں ہیک کر سکتا ہے، سمجھ کیوں نہیں رہی تم ؟؟’

حکان کے الفاظ، اس کے ذہن میں گونجے تھے اور وہ لب بھینچ گئی تھی۔ اس کا دھیان اب فیاض ملک کی طرف گیا تھا۔
“بابا کیوں چاہتے ہیں کہ میں حکان سے نکاح کروں؟؟ بلکل اچانک سے کیوں؟؟”
وہ سوچنے لگی۔ جب اسے پھر سے میسج ریسیو ہوا تھا۔

” کب مل رہے ہیں ہم ؟؟”

اکاسمہ کا دل ڈوب کے ابھرا تھا۔ تو وہ اب ملنا چاہتا ہے ؟؟ تو پانچ مہینے پہلے وہ کیوں اس سے ملنے نہیں آیا تھا؟؟ اب کیوں؟؟ نئی گیم ؟؟ تو مطلب نئی گیم کیا ہے اب اس کی ؟؟
اس کے موبائل پہ کال آ رہی تھی ۔

‘ کسی بھی انجان نمبر سے کال ریسیو نہیں کرنی اکاسمہ، کسی بھی نمبر سے، چاہے کتنا ہی ضروری ہو، وہ تمہیں ہیک کر لے گا ‘

انجانے میں سہی، لیکن اس کے دماغ میں حکان کی باتیں گونج رہی تھی اور وہ مسلسل اس پہ عمل بھی کر رہی تھی۔ تبھی لب بھینچے اس نے موبائل سوئچ آف کر کے، بیڈ پہ پھینک دیا تھا۔

بابا کیوں چاہتے ہیں کہ میں حکان سے نکاح کروں؟؟؟ ضرور حکان نے کہا ہوگا، بدتمیز، جاہل، کمینہ ہیکر !!!

اپنی سوچوں میں گم وہ کمرے سے باہر نکلی تھی اور یونہی چلتے ہوئے، وہ اسٹڈی کے سامنے گزرنے لگی تو اسے کچھ آوازیں ائی تھی اور ساتھ ہی اسٹڈی روم کی لائٹ بھی جلتی نظر آ رہی تھی۔ رات کے دو بج رہے تھے، اس وقت یہاں کون ہے ؟؟ وہ کچھ سوچتی آگے بڑھی، لب کاٹتی اس نے دروازے کے ہینڈل پہ ہاتھ رکھ کے گھمایا تھا تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔ وہ اندر آئی تھی۔
” بابا”
لیکن وہ صرف فیاض حیات تھے اور کوئی نہیں تھا، تو بابا کس سے بات کر رہے تھے ؟؟ کیا خود سے ؟؟
” بابا۔۔۔ “

نیند سے بوجھل مدھم آواز، جیسے اس شخص کے دل کے تار چھیڑ گئی جو اکاسمہ کے دروازہ کھولتے ہی، بک شیلف کے پیچھے چھپ گیا تھا۔
” ارے میرا بچہ آپ سوئی نہیں ابھی ؟؟”
فیاض حیات مسکرانے کی کوشش کرنے لگے جبکہ وہ سوالیہ نظروں سے چاروں دیکھتی، اب اپنے بابا کو دیکھ رہی تھی۔
” کوئی تھا یہاں؟؟ کس سے بات کر رہے تھے آپ؟؟”

بک شیلف کے پیچھے چھپے، اس ہیکر نے، اسے دیکھنے کی کوشش کی تھی جسے آج ” جنگلی بلی ” کا لقب دیا تھا اس نے۔ جتنی جنگلی وہ آج لگ رہی تھی، اس وقت اتنی ہی وہ نرم اور مہرباں سی لگ رہی تھی۔
“میں بات کر رہا تھا؟؟ کس سے ؟؟”
فیاض حیات الٹا اس سے سوال کرنے لگے جبکہ وہ شاکی نظروں سے، انہیں دیکھنے لگی۔
” بابا!!! میں نے خود سنا آپ بات کر رہے تھے۔ کوئی تھا کیا؟؟”
حکان ملک اس کے ہر انداز کو اپنی آنکھوں میں محفوظ کر رہا تھا۔
” نہیں بیٹا، کون ہوگا یہاں، اچھا یہاں آؤ میرے پاس بیٹھو”
ان کے انداز پہ اکاسمہ لب بھینچ کے رک گئی۔
” بابا پلیز، مجھے بات نہیں کرنی اس ٹاپک پہ ”
” کس ٹاپک پہ بھئی ؟؟”
فیاض حیات حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔
” وہی، جو کل کہہ رہے تھے آپ، ”
اس کا ناراض ناراض سا انداز، حکان کو اپنے دل کی گہرائیوں میں اترتا محسوس ہو رہا تھا۔
” میں نے تو کل بہت سی باتیں کی آپ سے ”
” بابا ؟؟؟ آپ دونوں نے مجھے زچ کرنے کا پلان بنا رکھا ہے ”
وہ بےاختیاری میں کہہ گئی لیکن پھر رک کے زبان دانتوں تلے دبا گئی۔
” آپ سب نے ”
حکان زیر لب مسکرانے لگا۔
” ویسے آپ کی امی بھی یہی چاہتی ہے ”
فیاض حیات کی بات پہ، وہ چونکی تھی۔
” امی تو بارز کے ساتھ امریکا میں ہیں۔ اور یہاں مجھے فورس کر رہی ہے۔ مجھے نہیں کرنا نکاح ”
اکاسمہ نے زچ ہوتے کہا۔
” لیکن کیوں بیٹا ؟؟”
فیاض حیات کے سوال پہ وہ لب بھینچ گئی۔
” کمینہ ہیکر ہے وہ ”
فیاض حیات کی آنکھوں میں حیرت اتر آئی تھی جبکہ حکان بھی بک شیلف کے پیچھے سے اسے گھورنے لگا اور اکاسمہ اپنی کنپٹی سہلانے لگی۔
” میں۔۔۔۔ بابا میں کافی بنا کے لاتی ہوں ہم دونوں کے لئے ”
وہ تیزی سے اٹھ کے باہر نکل گئی جبکہ حکان گہرا سانس لیتا، بک شیلف کے پیچھے سے باہر نکل کے آیا تھا۔ فیاض حیات اپنا چشمہ ٹھیک کرنے لگے جبکہ حکان تاسف بھرے انداز میں انہیں دیکھ رہا تھا۔
” دیکھ لیں آپ سر ”
” ارے نہیں، میری اکاسمہ ایسی نہیں ہے۔ بہت نرم مزاج کی ہے، دھیان نہیں ہوگا تو کہہ دیا ہوگا ”
حکان نے حیرانی سے انہیں دیکھا۔ اج کے کارنامے وہ بتائے مقابل بیٹھے شخص کو اور حرکتیں بھی ۔۔۔ تو ؟؟؟
” مزید عزت افزائی سے بہتر ہے میں چلا جاتا ہوں”
فیاض حیات نے بےبسی سے اسے دیکھا تھا۔
” اکاسمہ کی باتوں کا برا مت ماننا حکان، وہ بس زبان کی تیز ہے، دل کی بہت نیک بچی ہے۔ وہ شخص پھر سے آگیا ہے، بارز کو تو امریکا بھیج دیا، اور اکاسمہ کی جان خطرے میں ہیں۔ وہ اب، سب سے پہلے اکاسمہ پہ حملہ کرے گا،میری بیٹی میرا کل اثاثہ ہے، میری بیٹی کو ۔۔۔۔۔ ”
ان کی آواز بھرا گئی تھی جب حکان تیزی سے ان کے قریب جا کے بیٹھ گیا اور ان کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔
” ارے سر پلیز۔۔۔ کچھ نہیں ہوگا اکاسمہ کو۔ آئی پرامس، آپ یقین رکھئیے پلیز ”
“وہ ۔۔۔۔ و ۔۔۔۔ہ مار ڈالے گا میری بیٹی کو، جوان بیٹی کو کھونے کا حوصلہ نہیں مجھ میں۔۔۔ ”
وہ رونے لگے جب حکان نے انہیں یقین دلانے کی کوشش کی۔
” میں ہوں ناں۔ میں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔ آئی پرامس ”
فیاض حیات ممنون نگاہوں سے اسے دیکھنے لگے جبکہ حکان کی پرسوچ آنکھوں میں گہرائی تھی۔ وہ اب کیا کرنے والا ہے، یہ بس وہ خود جانتا تھا!!!

《《《《《《》《《》》》》》》》

اور صبح جب وہ آفس آئی تو کورٹ میں داخل ہوتے ہی اسے دور سے ہی خیام اور حکان نظر آئے تھے تو غصہ خود بہ خود اس کی آنکھوں میں بپھرنے لگا۔ اس نے سختی سے لب بھینچ لیے۔
” آ گئی ملکہ ڈان ”
خیام کے کہتے ہی، حکان نے بلکل اچانک سر اٹھا کے سامنے دیکھا تھا جہاں سے اکاسمہ آ رہی تھی۔
” ہماری طرف ہی آ رہی ہے ”
خیام نے دوبارہ کہا تھا جبکہ حکان جیسے ساکت تھا، وہ جو کل رات اس کے ہر انداز، ہر ادا کو آنکھوں میں محفوظ کر چکا تھا۔ اب اس کے لئے ناممکن تھا کہ وہ اکاسمہ کے لئے، اپنے دل میں امڈتے ہر انوکھے جذبے اور احساس کو تھپکی دے کے سلا سکے۔
وہ قریب آئی تھی لیکن ایسے کہ ان دونوں کو مکمل نظرانداز کر کے وہ طیب کو دیکھ رہی تھی۔
” ملکہ ڈان ۔۔۔ ”
خیام نے کہنے کی کوشش کی تھی لیکن اسے خاموش ہی ہونا پڑا جب اس نے اکاسمہ کو طیب سے کہتے سنا۔
” طیب، مجھے ضروری کام ہے تم سے، ایک کیس کے سلسلے میں جانا ہے ہمیں۔ ”
طیب تیزی سے سیدھا ہوا تھا۔
” او ۔۔۔۔ کے میم ۔۔۔ ”
ساتھ ہی کن انکھیوں سے ان دونوں کو بھی دیکھا تھا جبکہ وہ دونوں اکاسمہ کو ہی گھور کے دیکھ رہے تھے جو بےنیازی سے انہیں نظرانداز کر رہی تھی۔
” کیسا کیس ہے ویسے ؟؟”
خیام کی زبان میں کھجلی ہوئی تھی۔
” طیب ان سے کہو کہ بکواس بند رکھے اپنی ”
” اوکے، اوکے میم ”
طیب اب خیام کو دیکھنے لگا جو اپنی کنپٹی سہلا رہا تھا جبکہ حکان نے اپنی امڈتی مسکراہٹ روکی تھی۔
” چلو طیب ”
وہ مڑنے لگی جب خیام پھر سے کہنے لگا۔
” ملکہ ڈان، ہر جگہ ایسے نہیں جاتے منہ اٹھا کے۔۔۔۔۔ ”
” طیب !!!”
اکاسمہ نے دانت پیسے تھے۔
” میم وہ۔۔۔۔۔ ”
طیب کی ہچکچاہٹ پہ وہ مڑی تھی جب سامنا حکان سے ہوا جو اس کے پیچھے ہی کھڑا تھا۔ وہ تقریبا حکان سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی۔
” کیا مسئلہ ہے طیب؟؟”
” تمہارا کیا مسئلہ ہے ملکہ ڈان ؟؟؟ منہ بنا کے گھوم رہی ہو کل سے تم، اور یہ طیب میرا اسسٹنٹ ہے، کہاں لے کے جا رہی ہو تم اسے؟؟؟ میری پرمیشن کے بنا؟؟”
اکاسمہ نے لب بھینچے خیام کو دیکھا تھا ۔
” تم جو غیروں کے ساتھ مل کے مجھے بھول گئے ہو، اس پہ روشنی ڈالو گے ؟؟”
حکان اس کی آنکھوں کا اشارہ سمجھ گیا تھا تبھی کہنے لگا۔
” دیکھو اکاسمہ۔۔۔۔ ”
” چپ رہو تم ”
وہ سرد انداز میں غرائی تھی جبکہ حکان لب بھینچ گیا تھا۔ کس قدر نفرت تھی اس کی آنکھوں میں۔ حکان کا دل جیسے سکڑ سا گیا تھا۔ وہ کسی کو بھی دیکھے بنا وہاں سے واک آؤٹ کر گیا تھا۔
” یہ کیا بدتمیزی ہے اکاسمہ؟؟”
خیام ماتھے پہ بل ڈالے اسے دیکھ رہا تھا۔
” تم سب ایک ہو چکے ہو، سب مل کے میرے خلاف بابا کو بھڑکا رہے ہو۔ میں خود جا سکتی ہوں۔ بات مت کرنا اب مجھ سے ”
وہ غصے سے کہتی، منہ موڑ کے وہاں سے جانے لگی
” اکاسمہ یار ”
خیام کو دکھ ہوا تھا، اس کی آنکھوں میں نمی دیکھ کے۔ اس نے افسوس سے طیب کی طرف دیکھا تھا۔ وہ بھول گیا تھا شاید کہ اکاسمہ کا دل بےحد نازک ہو چکا ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں پہ وہ ہرٹ ہو جاتی ہے۔
غصے میں لب بھینچے، آنکھوں کی نمی کو پیچھے دھکیلتی، وہ کورٹ سے باہر نکلی تھی، ماتھے پہ بل ڈالے، بنا کسی طرف دیکھے وہ آگے بڑھ رہی تھی۔ اسے بار بار خیام پہ، حکان پہ، اپنے بابا پہ اور خود پہ غصہ آ رہا تھا۔ تن فن کرتی وہ گاڑی تک پہنچی ہی تھی جب کسی نے بےاختیار بلکل اچانک اسے بازو سے جکڑ کے، اپنی طرف کھینچتے ہوئے خود سے لگایا تھا جبکہ وہ اس شخص کے چوڑے سینے سے جا ٹکرائی تھی۔ ابھی وہ سنبھلی بھی نہیں تھی کہ ایک گاڑی تیز رفتاری سے ان کے قریب سے گزری تھی اور آگے جا کے، اس کے ٹائر زور سے چڑچڑائے تھے۔
اس شخص کے مردانہ کلون کی خوشبو، اس کے نتھنوں میں گھسی تو اس کے حواس لمحہ بھر کے لئے مختل ہوئے تھے۔
” اکاسمہ۔۔۔۔”
مبہم سرگوشی پہ اس نے چونک کے سر اٹھایا تھا، وہ حکان ملک تھا، جو اسے بازوؤں کے گھیرے میں لیے، پریشان نظروں سے، اسے دیکھ رہا تھا۔ حکان نے نظر اٹھا کے، پھر سے روڈ کی طرف دیکھا وہ گاڑی اب نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی۔

‘ میں ہوں نا اکاسمہ، ضروری تو نہیں کہ میں تمہارے پاس ہوں، زندہ ہوں یا نہیں ہوں، لیکن میں ہوں، ہر جگہ، ہر لمحہ!!! تمہاری حفاظت کے لئے’

اس کے کانوں میں عاریز کے الفاظ گونجے تھے جو رات کے کسی پہر، چپکے سے، اس کے خواب کے کسی گوشے میں آ کے، اس سے کہہ گیا تھا۔ وہ خالی نظروں سے حکان کو دیکھ رہی تھی جو اب پھر پریشان نظروں سے اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا۔
” تم ٹھیک ہو اکاسمہ؟”
وہ بےاختیاری میں، اکاسمہ کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر کے سوال کر رہا تھا جبکہ اکاسمہ جو اسے ہی خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی، بےساختہ اس سے الگ ہوئی اور نظریں چرا کے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ اس نے کچھ نہیں کہا تھا اب کے حکان سے ۔ سر جھٹک کے وہ گاڑی کا دروازہ کھولنے والی تھی جب حکان نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کے اسے روکا تھا۔
” اس کار میں نہیں اکاسمہ پلیز ”
حکان کے لہجے میں التجا تھی کہ شاید اسے ڈر تھا کہ اکاسمہ پھر سے ضدی بن جائے گی اور اس سے لڑ کے، اس گاڑی میں بیٹھ جائے گی۔ اکاسمہ نے تیزی سے اپنا ہاتھ کھینچا تھا۔
” کار کو اچھی طرح سے examine کرو ۔۔۔ رائٹ ناو ”
وہ کسی سے کہہ رہا تھا لیکن اکاسمہ رخ پھیر گئی تھی وہ نہیں دیکھ رہی تھی کہ کس سے کیا کہہ رہا ہے وہ ؟؟

‘ ایم بیک ‘

اس کے ذہن کے پردے پہ یہ الفاظ ابھرے تھے۔ اس کی آنکھیں چاروں طرف دیکھنے لگی۔ وہ آ گیا تھا تو اب کے ؟؟ اب کے کون سی چال چلنے والا تھا ؟؟ اب کے کون سی گیم کھیلنے والا تھا؟؟ اب تو بارز بھی نہیں تھا تو ؟؟ سیدھا ٹارگٹ وہ خود ہے اس وقت ؟؟؟
” چلیں؟؟:”
وہ چونکی تھی اور بنا کچھ کہے حکان کے ساتھ آگے بڑھی تھی۔ کیوں؟؟ کیوں کر رہا تھا یہ شخص؟؟ کیوں اس کی حفاظت کر رہا تھا؟؟ عاریز کے قاتل تک پہنچانا چاہتا ہے مجھے اور حفاظت بھی کرتا ہے لیکن کیوں؟؟ بابا سے کیوں بات کی اس نے نکاح کی ؟؟ جانتا ہے ناں کہ میں عاریز خان کی بیوہ ہوں تو ؟؟
اس کا ذہن مختلف سوچوں کی آماجگاہ بن گیا تھا۔ کبھی کوئی خیال، تو کبھی کوئی خیال ۔ وہ بےچین ہو رہی تھی۔ اس نے تیزی سے نظریں اٹھا کے حکان کو دیکھا تھا۔
” و ۔۔۔ وہاں چلیں؟؟”
حکان اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
” مجھے عار۔۔۔۔یز ۔۔۔۔ ”
وہ خاموش ہو کے دوسری طرف دیکھنے لگی۔
” چلتے ہیں۔۔ ”
حکان نے بس اتنا کہا تھا اور گاڑی کا رخ موڑا تھا جبکہ اکاسمہ گاڑی کی ونڈ اسکرین سے باہر دیکھ رہی تھی۔ وہ لب کاٹتی نہ جانے کیا کچھ سوچ رہی تھی۔

《《《《《《《》》》》》》》

” بابا آپ نے یہ بات مجھے پہلے کیوں نہیں بتائی ؟؟”
عفان مسلسل کمرے میں ٹہل رہا تھا۔ اس کے ہر انداز سے پریشانی جھلک رہی تھی۔
” میں خوفزدہ ہو گیا تھا۔ مجھے لگا سب ٹھیک کر دونگا میں۔ لیکن بیٹا وہ غائب ہو گیا تھا مجھے لگا کہ بارز کو امریکا بھیجنے کے بعد، اب وہ بارز کا پیچھا چھوڑ دے گا تو وہ ہمارا بھی پیچھا چھوڑ دے گا لیکن وہ تو اکاسمہ ۔۔۔”
ان کی آواز کانپ گئی تھی۔ وہ خاموش ہو گئے تھے لیکن ہولے ہولے کانپ رہے تھے ۔ عفان رک گیا تھا۔ وہ اب فیاض حیات کو دیکھ رہا تھا جن کے جھریوں زدہ چہرے پہ خوف کی پرچھائیاں تھی۔
” بابا ریلیکس، وہ کچھ نہیں کر سکتا اکاسمہ کے ساتھ”
اس کی آواز نرم تھی۔
” ن ۔۔۔ نہیں، وہ سب سے بدلہ لے گا، میرے گھر کے ہر ایک فرد سے، عفان پہلے بارز ٹارگٹ تھا لیکن اب اکاسمہ ہے اور میں اکاسمہ کو کیسے بچاؤں ؟؟ کیسے ؟؟ میری بچی ”
وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگے جب عفان تیزی سے ان کے قریب بیٹھ کے، ان کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے چکا تھا۔
” بابا کیا ہو گیا ہے ؟؟ کہاں ہیں میرے وہ اسٹرونگ بابا،جن کو دیکھ کے مجھے بلکہ ہم سب کو وائبز ملتی تھی۔ آپ رو رہے ہیں؟؟ اکاسمہ کو کچھ نہیں ہوگا، وہ اپ کی بیٹی ہے، آپ ہی کے جیسے اسٹرونگ اور بریو۔ ”
” ایسا کیا گناہ ہو گیا ہے مجھ سے ماضی میں کہ مجھے یاد نہیں آ رہا لیکن اس کی سزا بھگت رہا ہوں ”
وہ روتے روتے اب سوچنے لگے جبکہ عفان لب کاٹتا ان کے چہرے کو دیکھنے لگا۔
” اس وقت اکاسمہ کہاں ہے ؟؟”
” کسی کیس کے سلسلے میں گئی ہے”
فیاض حیات نے جواب دیا ۔
” دیکھ لیں، وہ اب بھی دوسروں کے کیس سولو کر رہی ہے، اتنی بہادر ہے میری بہن اور آپ یہاں بیٹھے اس بلیک میلر کی باتوں سے ڈر رہے ہیں ”
عفان نے تاسف سے سر ہلاتے کہا تھا۔
” عاریز کا حال ہمارے سامنے ہیں عفان،مت بھولو کہ کیسے اسے مارا گیا تھا، جس طرح سے اکاسمہ کو کڈنپ کیا گیا اور پھر جس طرح سے اس پہ اپنے ہزبینڈ کے مرڈر کا الزام لگا تھا۔ نہیں بھولا میں کچھ اور شازم خان، بیٹے کی موت کے صدمے سے وہ آج تک کومہ میں ہیں۔ میں۔۔۔۔۔ میں کیا کروں۔ ”
فیاض حیات تیزی سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ عفان خاموشی سے انہیں دیکھ رہا تھا جن کے ہر عمل میں بےچینی تھی۔
” بابا ؟؟”
عفان ان کے پیچھے ہی آ کھڑا ہوا جو کانپتے ہاتھوں سے ٹیبل کے دراز میں کچھ ڈھونڈ رہے تھے۔
” وہ ۔۔۔۔ وہ تم عفان۔۔۔ تم بات کرو اکاسمہ سے، ت۔۔۔۔ تمہاری بہن ہے ناں، تمہاری بات مانتی ہے کہ ۔۔۔۔ کہ وہ ح ۔۔۔۔ حکان نے نکاح کر لے۔۔۔ پ ۔۔۔ پلیز وہ ب ۔۔۔ بات مان جائے اپنے بابا کی، مجھے اپنی بچی کو محفوظ ہاتھوں میں دینا ہے ۔ وہ سنبھال لے گا سب ، وہ حفاظت کرے گا اکاسمہ کی۔۔۔۔ اسے ۔۔۔۔ عفان اسے ”
وہ کانپ رہے تھے ۔ عفان نے انہیں خود سے لگایا تھا ۔ اولاد کا معاملہ تھا، وہ بھی لاڈلی بیٹی کا ۔ کس قدر کمزور لگ رہے تھے۔ عفان کا دل ڈوب گیا تھا۔
” اچھا، اچھا میں بات کرتا ہوں۔ آپ پلیز ریلیکس کریں بابا پلیز۔۔ ”
” ہمممم ، میں۔۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ”
فیاض حیات خود کو مضبوط دکھانے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ اندر سے توڑ پھوڑ کا شکار ہو رہے تھے وہ۔ عفان ان کا بیٹا تھا، ان کا سہارا۔ وہ اپنی اولاد میں سے، کسی کو بھی نہیں کھونا چاہتے تھے۔ بڑی محبت سے بڑا کیا تھا اپنی اولاد کو،کیسے وہ سہہ سکتے تھے کہ ان میں سے، کسی ایک کو بھی کچھ ہو۔
اچانک ٹیبل پہ موجود ان کا موبائل بجنے لگا۔ ان کی آنکھوں میں خوف ابھرا تھا ۔ انہوں نے تیزی سے عفان کی طرف دیکھا تھا جس نے آگے بڑھ کے موبائل کان سے لگایا تھا۔
” فیاض حیات صاحب بات کر رہے ہیں ؟؟”
دوسری طرف سے سوال ہوا تھا۔
” جی !!”
عفان کے جواب پہ دوسری طرف سے کہا گیا۔
” شازم خان کو ہوش آ چکا یے، میں نے سوچا کہ آپ کو انفارم کر دوں “

《《《《《》《《》》》》》《《》》

” ایک اور قتل !!!”
نیوز کاسٹر نے جیسے ہی کہنا شروع کیا، عدیل حیات نے فورا ٹی وی بند کر دیا۔
” ان کی بکواس ہی نہیں ختم ہوتی ”
گردن کو دائیں بائیں حرکت دیتا، وہ اب اٹھ کے لاؤنج میں ٹہلنے لگا۔
” پکڑ میں تو آ نہیں رہا میں تم لوگوں کے، اور بکواس دیکھو ان کی ”
گہرا سانس لیتا وہ اب مسکرانے لگا۔
” تھی ویسے کمال کی ۔ لیکن کیا کرے بدکردار تھی تو مار دیا سالی کو، عیش کر کے۔ یہ عیاشی بھی کیا چیز ہے ۔ ”
وہ اب گلاس وال کے سامنے کھڑا، روشنیوں کے اس شہر کو دیکھ رہا تھا۔ آسمان پہ رات کی تاریکی چھائی ہوئی تھی جبکہ پورا شہر جیسے رنگ برنگے روشنیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔
” بدکرداری بہت خراب چیز ہے، بہت غلط۔ اس کے لئے تو میں نے اپنی ماں کو بھی معاف نہ کیا پر کیا کرے، میرا باپ بھی تو چھوڑ گیا تھا سالی کو، آگ کہاں بجھاتی، کہیں تو بجھانی تھی اور میں نے ۔۔۔۔۔ آج کا ہی دن تھا، آج کی ہی تاریخ۔۔۔۔۔ لیکن میری بہن!!!!!”
وہ لب بھینچ کے خاموش ہو گیا۔
” فیاض حیات !!!”
اس نے دانت پیسے تھے۔
” تجھے یاد دلانا پڑے گا کہ تو نے کیا گل کھلائے تھے جس کی سزا تیری وجہ سے، میری ماں، اور اس شہر کی ہر تیسری عورت کاٹ رہی ہے ۔ مزہ آ رہا ہے خوف کو مرتا دیکھ کے لیکن مزہ ۔۔۔۔ آہ!!!! مزہ تو تب آئے گا جب تو میرے سامنے آ کے، اپنی ہی بیٹی کی عزت اور زندگی کی بھیک مانگے گا اور تب ۔۔۔۔۔۔۔ فیاض حیات تب تیرے کشکول میں ڈالنے کے لئے، میرے پاس سوائے تیری بیٹی کی موت کے، کچھ نہ ہوگا۔ بہن کھویا ہے میں نے بہن۔ ”
وہ اچانک سے چیخا تھا ۔

《《《《《《《《《》》》》》》》》

” تم سوئی نہیں!!”
مبہم سرگوشی پہ وہ ہلکا سا مسکرانے لگی۔ بالکونی میں بیٹھی وہ کب سے منتظر تھی اپنی سوچوں میں گم۔ ہلکی ہلکی چلتی ہوائیں اس کے بالوں سے اٹھکھیلیاں کھیل رہی تھی۔ جب عاریز کی مبہم سرگوشی نے اسے چونکایا تھا اور وہ مسکرانے لگی۔
” تم سونے نہیں دے رہے تھے۔ ”
آہستہ آواز میں کہتی وہ عاریز کو دیکھنے لگی جو زیر لب مسکراتا اسے دیکھ رہا تھا۔
” محبت تو نہیں ہو گئی ملکہ ڈان کو ؟؟”
“تمہارے بعد، محبت جیسے لفظ کی حیثیت بھی مٹ گئی ہے، دل کو پھر کبھی کوئی ایسا لمس نہیں چھو پائے گا، جو دھڑکنوں کو تمہارے نام کی طرح باندھ دے۔
تمہارے بعد، شاید محبت پھر سے ممکن نہ ہو۔”
وہ گم صم سی مبہم لہجے میں کہہ رہی تھی۔
” محبت ایک بےحد انوکھا اور دلکش لمس ہے، اکاسمہ۔ یہ کوئی گناہ نہیں، بلکہ یہ تو ایک پاکیزہ جذبہ ہے جو کبھی بھی، کسی بھی وقت، اور کسی سے بھی ہو سکتا ہے۔ محبت، اکاسمہ، ایک ایسا انمول اور دلکش احساس ہے جو روح کو چھو لے تو زندگی میں روشنی بھر دے۔ یہ گناہ نہیں، یہ تمام حدوں اور قیود سے آزاد ہے، اور جس دل میں اترے، اسے جینے کا ایک نیا مقصد دے جاتا ہے۔ ”
اکاسمہ اسے سن رہی تھی۔
” تمہیں بھی ہو سکتی ہے محبت، تم قیدی نہیں ہو، تم پابند نہیں ہو، تم آزاد ہو، ہر قید سے ازاد”
” دل بھر گیا ہے کیا مجھ سے؟؟”
اکاسمہ سوال کر رہی تھی جبکہ وہ زیر لب مسکرانے لگا۔
” ملکہ ڈان کی ناراضگی مول کے، کون سا مجھے سکون ملنا ہے ”
اس کے موبائل پہ کال آنے لگی تو وہ چونک کے پاس رکھا موبائل دیکھنے لگی۔
Unknown Number!!
وہ لب بھینچ گئی۔ مڑ کے دیکھا تو عاریز کہیں نہیں تھا، اس کی آنکھیں نم ہونے لگی جبکہ دل میں غبار سا بھرنے لگا ۔ اس نے جھٹکے سے کال ریسیو کی تھی۔
” کون ہو تم ؟؟ چاہتے کیا ہو تم ؟؟ کیوں جان نہیں بخش رہے ؟؟ میرا سب چھین کے، اب ؟؟ اب کیا چاہتے ہو تم ۔۔۔ ”
وہ چلائی تھی جبکہ دوسری طرف سے مکمل خاموشی تھی
” بکواس کرو درندے ؟؟”
وہ چلائی تھی۔
” تم سے ملنا ضروری سا ہو گیا ہے اب ”
بھاری اواز پہ وہ لب بھینچ گئی تھی جبکہ دھڑکنیں تیز ہونے لگی۔
” کب مل رہے ہیں؟؟”
” تم جیسا بزدل انسان مجھ سے ملنے کی بات کر رہا ہے ؟؟ سامنا کرنے سے ڈرتے ہو، نقاب پہ نقاب چڑھا کے گھومتے ہو تاکہ تمہاری اصل شناخت چھپی رہے تو ؟؟ تم کیا ملو گے ”
اکاسمہ نے دانت پیستے کہا تھا جبکہ وہ مسکرانے لگا۔
” میرا اصلی چہرہ دیکھنے کی سکت نہیں ہے تم میں اکاسمہ حیات۔ ویسے کبھی سوچا تم نے ؟؟ اکاسمہ حیات اور عدیل حیات۔۔۔ ہم میں کوئی رشتہ بھی ہو سکتا ہے ”
” تم جیسا درندہ، قاتل، ریپسٹ سے میرا کوئی رشتہ کبھی نہیں ہو سکتا ”
اکاسمہ کی بات وہ ہنسنے لگا۔
” درندہ ؟؟ قاتل ؟؟ ریپسٹ؟؟ وہ تو میں ہوں، سو ہوں، مانتا بھی ہوں۔ اپنے گھر میں جھانک کے دیکھو شاید کوئی سالوں سے خود کو پوشیدہ رکھ رہا ہو اپنی اولاد سے۔ ”
” بکواس بند کرو ”
اکاسمہ چیخی تھی ۔
” اچھا چلو میں چپ۔ چلو ملتے ہیں۔ آمنے سامنے بات کرتے ہیں۔ کیا پتہ تمہیں موقع مل جائے مجھے قتل کرنے کا ”
اس کے چہرے پہ زہریلی مسکراہٹ تھی۔
” کب؟؟”
” ابھی ”
” کہاں؟؟”
” واٹس ایپ چیک کرو ”
اور کال ڈسکنیکٹ ہوئی تھی۔ اکاسمہ تیزی سے واٹس ایپ کھول کے، اس کا سینڈ کی ہوئی لوکیشن دیکھنے لگی۔

《《《《《《《《《》》》》》》》

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *