The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 36
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 36
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 36
رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا جب درد کی ٹیسوں نے اس کے ہاتھ، بازو اور اس کے پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اس کی آنکھیں نیم وا ہوئی اور وہ سسکنے لگی۔ اس کی سسکیاں حکان کے کانوں تک پہنچی، جو اس کے قریب ہی دوسرے صوفے پہ نیم دراز سو رہا تھا۔ وہ تیزی سے اٹھ کے اکاسمہ کے قریب آیا تھا۔
” اکاسمہ ؟؟”
کسی احساس کے تحت، وہ آنکھیں پوری کھول کے، خود پہ جھکے اس شخص کو دیکھنے لگی جو اس کے بال سنوارتا، اس کے بازو پہ ہلکا سا مساج دے رہا تھا۔
” پین زیادہ ہو رہا ہے کیا ؟؟ تمہیں تو ٹمپریچر ہے بہت زیادہ۔ ”
اکاسمہ بلکل اچانک اس کے گلے میں بانہیں ڈال کے، اس کی بانہوں میں سمائی تھی۔ حکان پہلے حیران ہوا۔ کس قدر دلکش احساس تھا، اس نازک وجود کا خود سے لپٹنا۔ وہ تو جیسے اس نازک وجود کی خوشبو میں کھو سا گیا تھا۔ بےساختہ اسے بانہوں میں سمیٹتا، وہ اکاسمہ کے نازک وجود کو خود میں جذب کر گیا تھا۔ اس کی نرم سانسیں، حکان کی گردن کو چھونے لگی تو وہ اپنی سانسیں روک گیا۔
اس کے نرم وجود کا دلکش لمس جب اس کے حواسوں پہ چھانے لگا تو وہ خود کو بھول گیا۔
کیا ایسا بھی ہوتا ہے ؟؟
” تم کہاں۔۔۔۔۔ تھے ؟؟ میں ۔۔۔۔ تمہیں یاد کر رہی تھی ”
مدھم سرگوشی جب حکان کے کان کی لو پہ ہونے لگی تو اس کے دھڑکنیں بےترتیب ہونے لگی۔ وہ محبت کے سفر میں تھا اور ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ عروج کی طرف پرواز کر رہا ہے لیکن !!
بلکل اچانک اکاسمہ کے دوسرے حرف نے، اسے بےاختیار زوال کی پستیوں میں گرا دیا تھا کہ وہ سنبھل ہی نہ پایا جبکہ وہ بار بار کہہ رہی تھی۔
” عا ۔۔ ریز !!! عاریز ۔۔۔۔ ”
دھڑکنیں تند ہوئی تو جیسے وہ بہکتے لمحے بھی ماند پڑ گئے اور سرد لہر سی اس کے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے کے، سب منجمد کر گئی۔ وہ اسے عاریز سمجھ رہی تھی اور وہ ؟؟؟
اے عشق!! تیرے انجام پہ رونا آیا۔۔۔
اکاسمہ اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیے، نیم وا آنکھوں سے ہنسنے لگی۔ اس کے لبوں کے کنارے پہ، اپنے بخار سے سلگتے لب رکھ کے، ان پہ اپنا لمس چھوڑا تو حکان کا پورا وجود جیسے، اس سلگتے لمس سے، سلگ اٹھا لیکن ہائے افسوس، وہ اکاسمہ کے لئے اس وقت عاریز تھا، حکان ملک نہیں۔ جسے وہ اپنے محبت بھرے لمس سونپ رہی تھی۔
” مجھے پین ہو رہا ہے عاریز ۔۔۔ دیکھو تو عاریز ۔۔۔ دیکھو تو سہی ”
بار بار ایک ہی نام کی تکرار !!
حکان اسے خود سے الگ کر کے، تیزی سے دور ہو کے اٹھ کھڑا ہوا تھا لیکن اکاسمہ کے سلگتے ہاتھوں کے لمس نے، اسے روک کے، اپنی طرف کھینچا تھا۔ وہ توازن برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے، اس پہ آ گرا تھا لیکن ساتھ ہی صوفے پہ ایک ہاتھ جما کے، اس نے خود کو روک بھی لیا تھا تاکہ اکاسمہ کو چوٹ نہ آئے لیکن اکاسمہ کا ناخن اسکے گال پہ لگنے کی وجہ سے، وہ خود زخمی ضرور ہوا تھا۔
” مت جاؤ پلیز ”
اکاسمہ پھر سے، اس کے گلے میں اپنی بانہیں ڈال کے ، سرگوشی کرنے لگی۔
” محبت نہیں کرتے کیا مجھ سے ؟؟ کرو محبت مجھ سے بس ”
حکان بنا پلک جھپکائے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ اکاسمہ کا کون سا رخ دیکھ رہا تھا جو اسے مدہوش سا کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اکاسمہ ہوش میں نہیں ہے اگر صبح وہ اسے، اس کی حرکتیں بتائے گا تو شاید وہ یقین بھی نہ کرے لیکن پھر بھی وہ مدہوش سا ہو رہا تھا۔
” عا ۔۔۔۔۔ ”
وہ جیسے ہی حکان کے گال پہ اپنے لبوں کا لمس چھوڑنے ہی لگی تھی جب حکان اس کے لبوں پہ شہادت کی انگلی رکھ کے تیزی سے پیچھے ہوا اور صوفے سے اٹھ کے، اسے پھر سے لیٹنے میں مدد دی ۔
” میں پانی لاتا ہوں تمہارے لیے ”
وہ آنکھیں موند گئی تھی جبکہ حکان تیزی سے کچن کی طرف بڑھ گیا تا کہ ٹھنڈا پانی اور پٹیاں لا کے، اکاسمہ کا بخار کم کر سکے لیکن اچانک اسکے لب مسکرانے لگے جب وہ اس لمس کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں محسوس کرنے لگا۔
” لگتا ہے اب ایک مہینے تک میں نے کوئی شاور نہیں لینا ورنہ یہ خوشبو مجھ میں باقی نہیں رہے گی ”
اور پھر خود ہی، اپنی باتوں پہ ہنستا، تیزی سے صوفے کی طرف بڑھا تاکہ اکاسمہ کے ماتھے پہ ٹھنڈی پٹیاں رکھ کے، اسکے بخار کو کم کر سکے۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
صبح اس کی آنکھ، کچن میں کھنکتے برتنوں کی آواز سے کھلی تھی۔ اچھنبے سے صوفے کی طرف دیکھ کے، اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا تھا، کچن میں اکاسمہ کھڑی نہ جانے کیا بنانے میں مصروف تھی۔ اسی لمحے کا تو منتظر تھا وہ سالوں سے، کہ اکاسمہ کو وہ اپنے گھر، اپنے کچن میں دیکھے کہ اس کا وجود، اس کچن کو مکمل سا کر دے۔
وہ اٹھ کے کچن کی طرف جانے لگا۔ سر بےحد بھاری تھا کیونکہ وہ ساری رات سو ہی نہیں پایا تھا۔ پہلے لیپ ٹاپ پہ، اپنے پروجیکٹ میں مصروف رہا اور پھر اکاسمہ کی تیمارداری میں۔
” گڈ مارننگ ”
اکاسمہ چائے بناتی، مڑ کے اسے دیکھنے لگی۔
” گڈ ۔۔۔۔۔ یہ تمہارے چہرے پہ زخم کیسا ؟؟”
حکان اپنے چہرے کو ہاتھ سے چھونے لگا پھر کچھ یاد آنے پہ زیر لب مسکرانے لگا۔
” ہاں، وہ رات کو جنگی بلی نے پنجہ مارا تھا ”
اکاسمہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے اسے گھورنے لگی۔
” جنگلی بلی ؟؟”
” کیوٹ سی جنگلی بلی ”
وہ اپنی مسکراہٹ روکتا، قریب آ کے، چائے کا کپ اٹھا کے لبوں سے لگا لیا۔
” امممم، کیا چائے بنائی ہے ۔ واہ ”
اکاسمہ اسے اب بھی گھور رہی تھی۔
” جنگلی بلی نے تمہارے ہونٹوں کو کیوں چھوڑ دیا؟؟ وہیں مارنا تھا ناں پنجہ، جو کچھ زیادہ ہی مسکرا رہے ہیں ”
حکان نے رک کے اسے دیکھا۔
” ہونٹوں کے بات ہی نہ کرو تم، وہاں تو ۔۔۔۔”
وہ بات ادھوری چھوڑ کے زیر لب مسکرانے لگا جبکہ اکاسمہ کی آنکھیں حیرت سے وا ہوئی۔
” کیا ؟؟ بات پوری کرو ”
وہ چائے کا کپ لیے جانے لگا جب اکاسمہ نے اسے شرٹ سے پکڑ کے کھینچا تھا۔
” اممممم، شہد کی مٹھاس بھی ماند پڑ جائے، اس کے سامنے تو ۔۔۔ ”
اکاسمہ اسے اب بھی گھور رہی تھی۔
” مجھے ٹمپریچر تھا تو اس کا تم ناجائز فائدہ اٹھاو گے حکان ”
حکان اسے شرارتی نظروں سے دیکھنے لگا۔
” چیک کر لینا تھا، ناجائز فائدہ زیادہ نہ اٹھا لیا ہو میں نے ”
چائے کے گھونٹ پیتا، وہ اکاسمہ کو حیران و پریشان چھوڑ کے کچن سے باہر نکلا تھا جبکہ اکاسمہ کچھ دیر اسے لب بھینچے گھورتی رہی اور پھر اس کے پیچھے ہی لاؤنج میں آئی تھی۔
” میرے گھر جا کے، میری چیزیں لانی ہے تم نے آج ”
” کیوں؟؟”
حکان سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ وہ اکاسمہ کے ساتھ ہلکا پھلکا انداز اپنائے ہوئے تھا تاکہ اسے کل کی اور بیتے دنوں کی ہر تلخی فراموش ہو سکے۔ تبھی وہ اکاسمہ کو تنگ کرنے سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔
” کیونکہ میں کہہ رہی ہوں ”
” سوری ؟؟”
حکان لیپ ٹاپ لے کے بیٹھ چکا تھا۔
” تم میرے اسسٹنٹ ہو حکان، اتنی جلدی بھول گئے ؟؟ میں نے رخسانہ سے کہا ہوا، وہ سب چیزیں تیار کر کے رکھے گی، لے کے آؤ سب آج ہی۔”
حکان نظر بھر کے اسے دیکھنے لگا۔
” کہاں کا اسسٹنٹ؟؟ میں تو ہزبینڈ ہوں آپ کا، مسز اکاسمہ حکان ملک ”
اکاسمہ نے لب بھینچ لیے تھے۔
” مجبوری میں کیے گئے نکاح کو سر پہ سوار نہ کرو تم ۔ مجھے تم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ”
وہ بدلحاظ بن گئی تھی۔
” تو کس میں دلچسپی ہے ؟؟”
حکان بھی اب اسے گھور رہا تھا ۔ اکاسمہ اسے دیکھنے لگی لیکن کچھ کہے بنا، سر جھٹک کے وہ رخ پھیر گئی تھی اور چلتی ہوئی کمرے کی طرف بڑھ گئی جو شاید بیڈ روم تھا۔ کیونکہ پہلی بار جب وہ یہاں ائی تھی تو وہ اسی کمرے میں گئی تھی جو حکان کا بیڈ روم تھا لیکن اندر آ کے، اسکے ہوش ہی اڑ گئے۔
پورے کمرے کی حالت کی ابتر تھی۔ تولیہ فرش پہ پڑا تھا۔ دو عدد جوتے نیچے پڑے ہوئے ایکدوسرے سے ناراض لگ رہے تھے۔ بیڈ پہ تکیے بکھرے ہوئے جبکہ کمفرٹر بھی آدھا اوپر بیڈ پہ اور آدھا نیچے فرش میں لٹک رہا تھا۔ کافی کا کپ ٹیبل پہ نہ جانے کتنے دنوں سے پڑا ہوا تھا۔ پیزا کا ہاف ڈبہ وہیں ٹیبل پہ پڑا اس کا منہ چڑا رہا تھا۔ شرٹس ادھر ادھر بکھرے پڑے تھے۔
” یااللہ، یہ کیا ہے ؟؟”
وہ گہرا سانس لے کے رہ گئی۔
” مجھے کیا؟؟ اسی کا بیڈ روم ہے۔ پڑا رہے ایسے ہی ”
وہ کمرے سے نکلنے کا سوچتی مڑی لیکن پھر رک گئی۔
” میں یہاں رہوں گی کیسے؟؟ دوسرے بیڈ روم میں ”
وہ عجلت میں، وہاں سے نکل کے، دوسرے کمرے کی طرف بڑھ گئی لیکن بار بار ہینڈل گھمانے پہ بھی دروازہ کھلنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔وہ مڑ کے، لیپ ٹاپ میں مصروف حکان کو دیکھنے لگی۔
” یہ روم کیوں بند ہے؟؟”
” وہ ، اس کی چابی گم گئی ہے ”
وہ لاپرواہ انداز میں جواب دیتا،چائے کا گھونٹ بھرنے لگا۔
” تو میں رہوں گی کہاں پہ ؟؟”
وہ جھنجھلائی۔
” اس بیڈ روم میں۔ تمہارا ہی تو ہے بلکہ ہمارا ”
وہ مسکرا کے کہتا، قصدا اسے دیکھنے سے گریز کر رہا تھا جبکہ وہ گھورنے لگی اس ہیکر کو۔
” کسی ہیکر نے آ کے لگتا ہے اس بیڈ روم کا نقشہ بگاڑ دیا ہے ”
اس نے چبا چبا کے لفظ ادا کیے تھے ۔
” تو وکیل صاحبہ کس دن کام آئے گی، ہیکر کو گرفتار کر کے، پورے کورٹ کو حیران کر دو ”
وہ بےساختہ کہتا، اب اپنا موبائل دیکھنے لگا۔
” اس ہیکر کو تو سزائے موت نہیں بلکہ عمر قید کی ہی سزا ملے گی اب ”
وہ تیز آواز میں کہتی، مڑ کے بیڈ روم میں جانے لگی۔
” بصد شوق، قبول ہے۔۔۔ قبول ہے ۔۔۔ قبول ہے ”
حکان شرارتی نظروں سے، اس کی پشت دیکھتے کہہ رہا تھا۔ اکاسمہ گہرا سانس لیتی، سر جھٹک کے کمرے میں آئی تھی لیکن بلکل اچانک اسے محسوس ہوا جیسے اس کا وجود بھاری سا ہو رہا ہو۔ وہ دیوار کا سہارا لیے، وہاں کھڑی رہی۔
اس رات کا لمحہ لمحہ، اسکی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا، لفظ لفظ اسکے ذہن میں گونجنے لگا تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے کوئی وحشت بھری مووی چل رہی ہو۔ وہ لب بھینچ گئی اور ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔ اسکا دل خوف سے کانپا تھا اگر حکان وہاں نہ آتا؟؟ اگر وہ حکان کو نہ مل پاتی تو ؟؟
اس نے کھلے دروازے کی طرف دیکھا تو اسے تسلی ہوئی کہ حکان ہے اسکے پاس اور وہ اسے کچھ نہیں ہونے دے گا۔ تو رات کو کیا ہوا تھا؟؟ وہ کیوں اس قدر مسکرا رہا تھا؟؟ کل رات یہاں عاریز ؟؟
نہیں!!!
اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی ۔۔۔ تو وہ خواب نہیں حقیقت۔۔۔۔ تھا ؟؟ وہ عاریز نہیں بلکہ حکان تھا!!!
یا اللہ!!!
وہ سر تھام کے رہ گئی ۔
” بدتمیز انسان ۔۔۔ بےشرم انسان ۔۔۔ ”
اسے چند مزید القابات سے نوازتی وہ سر جھٹک کے، کمرے کو صاف کرنے لگی کہ ان فضول باتوں پہ کڑھنے سے بہتر تھا کہ خود کو مصروف کر لے یا پھر اس بھیانک رات کے، بھیانک لمحوں کو یاد کرنے سے بہتر تھا کہ خود کو مصروف کر لے۔ لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس دوران حکان اس کے لئے اور اپنے لئے ناشتہ بنائے گا اور پھر اسے ناشتہ کروانے کے بعد، زبردستی میڈیسن بھی دے گا تا کہ اس کی طبیعت نہ بگڑے۔ جو بھی تھا یہ حکان ملک نامی ہیکر اتنا برا بھی نہیں تھا۔ نرم دل تھا، مہربان تھا، تنگ بھی کرتا تھا، غصہ بھی دلاتا تھا لیکن اس کی حفاظت سے وہ چوکتا نہیں تھا۔
اکاسمہ رات کی اپنی حرکتیں یاد کر کے، اسے دیکھنے سے بھی گریز کر رہی تھی اور پھر وہ ناشتے کے بعد،باہر نکل گیا تھا لیکن ریفریجریٹر پہ وہ اپنے سارے نمبرز لکھ گیا تھا اور ساتھ ہی اپنا ایک موبائل بھی گھر چھوڑ گیا تھا تاکہ اکاسمہ کے پاس رہے کیونکہ اس کا اپنا موبائل تو یہاں تھا نہیں۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
” مسفرہ ۔۔۔ تم یہاں کیوں سو رہی ہو ؟؟ ”
وہ جو صوفے پہ سو رہی تھی جب ازمائر کی آواز پہ اس کی آنکھیں کھل گئی ۔ کچھ دیر کے لئے تو سمجھنے کی کوشش کی اور جب یاد آیا تو اس کا ہاتھ جھٹک کے وہ اٹھ بیٹھی جبکہ ازمائر حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔
” کیا ہوا ؟؟”
” اب جا کے تمہیں یہ خیال آیا ہے کہ تمہاری ایک عدد بیوی بھی ہے جو نیچے لاؤنج میں ہی سو گئی ہے ”
مسفرہ اسے گھور کے دیکھ رہی تھی۔
” ہاں تو کیوں سو رہی تھی تم یہاں یار؟؟”
ازمائر کچھ نہ سمجھتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔
” یہ بھی میں بتاؤں؟؟؟ خود سے کچھ نہیں پتہ چلتا تمہیں اپنا ”
وہ لب بھینچے ازمائر کو غصہ بھری آنکھوں سے دیکھ رہی تھی جبکہ ازمائر کنپٹی سہلاتا اسے دیکھنے لگا۔
” رات کو ہماری لڑائی ہوئی تھی کیا؟؟”
مسفرہ کی آنکھوں میں حیرانی اتر آئی تھی، تو مطلب رخسار نے صحیح کہا تھا۔ وہ سیدھی ہو کے، اس کے قریب چہرہ کر کے، اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” تمہیں کچھ نہیں یاد ؟؟ کل رات کا ؟؟”
ازمائر نے ہنکارا بھرا تھا جبکہ آنکھوں میں سنجیدگی تھی۔
” تو یہ سچ تھا؟؟”
مسفرہ اپنا ہی لے کے بیٹھی ہوئی تھی۔
” کیا ؟؟”
وہ کندھے اچکا گیا۔
” تم رات کو اٹھ کے ناچ رہے تھے، پھر گول گول گھومے ہو اور پھر زیادہ مستی چڑھے تمہیں تو گلا بھی دبا دیتے ہو اگلے کا، اب میں پاگل تو ہوں نہیں جو اپنے گردن کی ہڈیاں تمہیں توڑنے کے لئے دوں ”
ازمائر کے چہرے کا رنگ بدل رہا تھا
” کیا ؟؟ کیا کہہ رہی ہو تم مسفرہ ؟؟”
” ہاں تو تمہیں کہاں یاد ہوگا، صبح اٹھ کے، رات کا اب بھول بھی جاتے ہو ”
مسفرہ سرد آہ بھر کے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کے بیٹھ گئی ۔
” تم کوئی نیا ناول لکھ رہی ہو اور اپنے کیریکٹر کو مجھ پہ پریکٹس کر رہی ہو، ہے ناں ؟؟؟ ویسے بھی تمہیں اپنے سارے کیریکٹرز مجھ میں ہی نظر آتے ہیں ”
ازمائر اب اسے گھور رہا تھا۔
” پیچھے ہٹو، مجھے چائے بنا کے پینی ہے، میرا دماغ خراب کر دیا ”
وہ اٹھنے لگی جب ازمائر نے اسے پھر سے بٹھا دیا۔
” بیٹھو یہاں تم”
” دیکھو ازمائر، میں سچ کہہ رہی ہوں، میرا گلا دباؤ گے،میرا تمہارے ہاتھ پہ دانت گاڑ دوں گی ”
مسفرہ اسے دیکھتی کہنے لگی
” کیا بکواس ہے یہ مسفرہ ۔۔۔ کس نے کی ہے یہ بکواس تم سے؟؟ ”
ازمائر جھنجھلایا تھا ۔
” تاکہ تمہیں دو گلے ایک ساتھ دبانے کا موقع مل جائے”
مسفرہ نے ابرو اچکاتے کہا تھا۔
” شٹ اپ مسفرہ ۔۔۔ کیا بکواس ہے یہ ۔۔۔ ”
مسفرہ خاموش ہی رہی اور منہ بنا کے بیٹھ گئی۔
” اچھا سنو، حکان اور اس کی وائف کو آج رات ڈنر پہ انوائیٹ کرنے کا ارادہ ہے میرا۔ باہر ہی، کسی اچھے ریسٹورنٹ میں۔ ”
” اس میسنے، سائیکو کیس سے کس نے شادی کر لی ”
مسفرہ کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے ہی تھے جب ازمائر منہ کھولے، حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔
” مسفرہ تمہیں ہوا کیا ہے ۔ پاگلوں کا علاج کرتے کرتے، لگتا ہے ان سے یہی وراثت میں مل رہا ہے تمہیں ”
” ازمائر ۔۔۔۔۔!!”
مسفرہ اسے گھورنے لگی۔
” ابھی تو شروعات ہے، مجھے تو آگے کی فکر ہو رہی ہے بس”
ازمائر تاسف سے سر ہلانے لگا۔
” مجھے لگا صحیح سلامت ہو تم ، لیکن یہاں تو پورا سین ہی ۔۔۔۔”
” بکواس۔۔۔۔۔”
اسے کندھے سے دھکا دیتی وہ کھڑی ہو کے کچن کی طرف بڑھ گئی جبکہ ازمائر ہنسنے لگا لیکن پھر اسے رکنا پڑا۔ اس کی سوچوں کا محور اب مسفرہ کی باتیں تھی۔ وہ کیا کہہ رہی تھی ؟؟ کون اسے بتا رہا ایسی باتیں؟؟
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
وہ حیرت سے اپنے سوٹ کیس دیکھ رہی تھی اور باقی چیزیں دیکھ رہی تھی جو حکان لے کے آیا تھا۔
“یہ آپ کا سارا سامان لائیر صاحبہ اور یہ آپ کا نیا موبائل ”
اکاسمہ حیرت سے، اسے دیکھتی، پیکڈ موبائل اس کے ہاتھ سے لے چکی تھی۔
” یہ سب تو بہت ہیوی ہیں۔ مجھے بلا لیتے، میں ہیلپ کر دیتی ”
” نیکسٹ ٹائم بلاؤں گا ۔۔۔ آ کے کر لینا ہیلپ ”
بےپرواہی سے کہتا، وہ اکاسمہ کے قریب سے گزر کے، صوفے پہ جا بیٹھا جبکہ اکاسمہ لب بھینچے اس کی پشت گھورنے لگی اور پھر سر جھٹک کے وہ سامان دیکھنے لگی جو حکان لے کے آیا تھا۔
حکان کے وارڈ روب میں اتنی جگہ بنا دی تھی اس نے اپنے لئے، جہاں وہ اپنے کپڑے ہینگ کر سکے لیکن !!! وہ دوسرے کمرے کو دیکھنے لگی جس کا دروازہ لاک تھا۔
‘ اگر یہ لاک نہ ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا وہ یہاں شفٹ ہو جاتی ‘
حکان کن انکھیوں سے اسے دیکھ رہا تھا جو حسرت سے اس بند دروازے کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے خود وہ دروازہ لاک کیا تھا تاکہ اکاسمہ کو اس کے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہنا پڑے۔
‘ اب اس کا کیا مطلب ہوا کہ وہ ایک کمرے میں رہے اور میں دوسرے کمرے میں !! پاگل ہوں کیا؟؟ جو اپنی بیوی کو قریب رہنے کا موقع ہاتھ سے جانے دوں ‘
وہ دل ہی دل میں خوش ہوتا مسکرانے لگا جبکہ اکاسمہ سوٹ کیس کھینچ کے بیڈ روم میں لے جانے لگی۔
” میں لے چلتا ہوں ”
اچانک اس کے قریب کھڑا، وہ سوٹ کیس کے ہینڈل پہ رکھے اکاسمہ کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ گیا۔ وہ بوکھلا کے پیچھے ہوئی تھی۔ ان آنکھوں میں خوف ابھرا اور پھر بلکل اچانک ہی سکون ۔
حکان اسے تنگ کرتا، اسے غصہ دلانے کی کوشش کرتا یا پھر معمول کے جیسا اسے ٹریٹ کرتا۔۔۔ تاکہ وہ اپنے اس خوف کے حصار سے باہر نکل سکے جو اتنے عرصے سے اس کے گرد اپنا حصار تنگ کیے، اس کے وجود سے چمٹ گیا تھا۔ ویسے تو وہ جانتا تھا کہ اکاسمہ بہت بہادر ہے لیکن پچھلی رات اس کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ ایک nightmare ہی تھا جو اکاسمہ کی آنکھوں میں خوف کی صورت محسوس ہوتا تھا جیسے ابھی ہوا۔ وہ نہ جانے کن سوچوں میں تھی کہ وہ چونکی تھی۔ آنکھوں میں خوف ابھرا تھا اور پھر سکون !!
وہ زیر لب مسکرا دیا تھا۔ یہ احساس ہی اس کے لئے کافی تھا کہ اکاسمہ حکان ملک، اس کے وجود میں سکون محسوس کرتی ہے تبھی لمحے بھر کے، خوف کے بعد بلکل اچانک سے سکون کی لہر ابھری تھی ان آنکھوں میں۔
” میں پزا آرڈر کر چکا ہوں ویسے۔۔۔ بس آ رہا ہوگا۔ تمہیں بھی پسند ہے ناں پزا ۔۔۔ اٹالین ۔۔۔۔۔”
وہ بات ادھوری چھوڑ گیا کیونکہ اکاسمہ اسے حیران آنکھوں سے دیکھنے لگی تھی اور حکان کو لگا کہ وہ لمحہ بھر کے لئے سدھ بدھ ہی کھو چکا ہے اپنا ۔ تبھی سر جھٹک کے وہ تیزی سے آگے بڑھا تھا۔
” میں۔۔۔۔ رکھ دیتا ہوں تمہارے کپڑے ”
وہ سوٹ کیس کھولتے ہوئے کہنے لگا۔
” ن ۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔ میں خود ۔۔۔۔”
اکاسمہ اسے منع کرنے کے لئے آگے بڑھی لیکن چونکہ سوٹ کیس میں رخسانہ صاحبہ نے ایسے کپڑے ٹھونس کے رکھے تھے کہ وہ مکمل بھر گیا تھا اور جھٹکے سے ہی کھل گیا۔ اس میں موجود اکاسمہ کے کپڑے اور دیگر لوازمات، فرش پہ ادھر ادھر بکھر گئے تھے۔ وہ لب بھینچ گئی جبکہ حکان نے حیرت سے اس ڈھیر کو دیکھا تھا۔
دل میں ہلکی سی گدگدی کا احساس جاگا تھا۔ مقابل کھڑی، حیران آنکھوں والی، یہ بہادر وکیل اس کی بیوی ہے، کل ہی نکاح ہوا ہے اور اٹھ سال سے وہ اس کی محبت میں گرفتار ہے۔ کس قدر حسین احساس ہے کہ وہ مکمل اس شخص کی ہے۔ اس کا نصیب ہے ۔ کس قدر خوبصورت نصیب رکھتا ہے یہ شخص!!
رات کے نصف پہر میں، وہ دلکش لمس کا احساس، جو اس کے وجود کو معتبر کر گیا تھا اور اس وقت۔۔۔۔ اس نے پہلے اکاسمہ کو دیکھا جو ہل بھی نہیں پا رہی تھی۔ اس قدر شرمندگی ہو رہی تھی اسے، مقابل کھڑے اس شخص سے کہ گال بھی سرخ پڑ گئے تھے اس کے۔
رخسانہ نے ہر چیز ہی بھر دیا تھا اس میں۔ دوسرے سوٹ کیس مر گئے تھے کیا ؟؟ اس میں نہیں رکھ سکتی یہ دیگر لوازمات؟؟
وہ دل ہی دل میں کڑھتی، نظریں چرا گئی جب حکان کو ہی ہوش ایا۔
” س ۔۔۔ سوری ۔۔۔۔ ”
خشک ہوتے حلق کو تر کرتے، وہ جھکا تھا۔
” میں رکھ دیتا ہوں سب ٹھیک سے ”
” ڈونٹ ۔۔ ”
اکاسمہ اچانک سے چلائی تھی تو حکان رک کے، اسے دیکھنے لگا جو اسے دیکھ ہی نہیں رہی تھی جبکہ ہاتھ سے دروازے کی طرف اشارہ کیا تھا۔
” نکلو تم یہاں سے ۔ ”
وہ سر کھجاتا بنا کچھ کہے، دروازے کی طرف بڑھ گیا لیکن رک کے اکاسمہ کو دیکھا تھا جو کپڑوں کے ڈھیر پر جھک رہی تھی لیکن اسے رکنا پڑا جب حکان کی اواز ابھری۔
” پزا آ جائے تو بتا دوں گا تمہیں ”
وہ لب بھینچے، بنا اسے دیکھے رخ ہی موڑ گئی جبکہ حکان نے نظر بھر کے، اس کے نازک سراپے اور گالوں کی حسین لالی کو دیکھا تھا۔ زیر لب مسکراتا وہ لاؤنج میں آیا تھا۔
” میں تمہارے قریب بھی نہیں بھٹکنے دوں گا کسی بھی nightmare کو، اکاسمہ حکان ملک”
‘ اکاسمہ حکان ملک !!’
کس قدر حسین خیال تھا جو گدگدی سا کر گیا تھا۔ دل پہ ہاتھ رکھ کے، وہ زیر لب مسکراتا، صوفے پہ ہی ڈھے گیا۔ سرد آنکھوں سے، مقابل کو دیکھنے والا، بین الاقوامی سطح کا ہیکر، ایک نازک لڑکی کے آگے، مکمل طور پہ ہار گیا تھا خود کو۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
کلفٹن سائیڈ کے اس ریسٹورنٹ میں وہ چاروں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ازمائر اور مسفرہ ان کے لئے شادی کا گفٹ بھی لائے تھے۔ جسے انہوں نے مسکراتے ہوئے قبول کیا تھا اور اب کھانا کھاتے ہوئے، وہ چاروں باتیں کر رہے تھے۔ مسفرہ بار بار اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔ جب ان کے قریب سے ایک شخص گزرا تھا جو شاید 31 یا 32 کے قریب ہی لگ رہا تھا۔
اکاسمہ کی سرسری نظر، پانی پیتے ہوئے اس پہ گئی تھی جو اکاسمہ پہ ایک مسکراتی نظر ڈال کے گزرا تھا۔
‘ آنکھیں؟؟’
اسے اچانک خیال آیا تھا۔ یہ آنکھیں اس نے کہاں دیکھی ہے ؟؟ اس نے یہ آنکھیں بےحد قریب سے دیکھی تھی لیکن کہاں؟؟
اچانک وہ چونکی تھی جب حکان کا ہاتھ اس کی پشت پہ، نرمی سے آ ٹھہرا تھا۔ وہ چونک کے حکان کو دیکھنے لگی۔
” کیا ہوا ؟؟”
چونکتے ہوئے اس کی نظریں ازمائر اور مسفرہ پہ گئی تھی اور پھر ارد گرد سے ہوتی، حکان پہ ٹھہری تھی۔
” ک ۔۔۔ کچھ نہیں ”
پانی کا گلاس رکھ کے، وہ مسکرانے کی کوشش کرنے لگی جبکہ حکان نے آبرو اچکا کے،پورے ریسٹورنٹ میں نظر دوڑائی تھی۔ جب اس کی نظریں ازمائر سے ملی تو وہ سوالیہ انداز میں، آنکھوں ہی آنکھوں میں سوال کرنے لگا جبکہ وہ نفی میں سر ہلاتے لب بھینچ گیا۔ وہ پھر سے اکاسمہ کو دیکھنے لگا جو نظریں جھکائے کھانا کھا رہی تھی اور پھر سے نظریں چاروں طرف گھوم کے واپس آئی تھی۔
” یہ ڈیزرٹ لو اکاسمہ، میرا فیورٹ ہے یہ ویسے ”
مسفرہ کی آواز پہ وہ ہلکا سا مسکراتی، اس کے ہاتھ سے ڈیزرٹ کی ڈش لینے لگی۔
” تھینک یو ۔ ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی کی طرف جاتے ہوئے، وہ حکان کے ساتھ ساتھ ہی چل رہی تھی۔ ازمائر اور مسفرہ کی کسی بات پہ مسکرا رہی تھی ۔
” پاک پاک ، پاکستان
صاف صاف ، پاکستان “
اچانک یہ الفاظ اس کے کانوں تک پہنچے تھے، اس کی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی ۔ اس کے کانوں میں سرد آواز گونجنے لگی۔ اس رات عدیل حیات سرد اور سفاک آواز میں، اس کے کان میں سنا رہا تھا۔ وہ خوفزدہ آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھتی، تیزی سے، ساتھ چلتے حکان کا ہاتھ پکڑ گئی جس نے چونک کے اکاسمہ کو دیکھا تھا جبکہ اکاسمہ ادھر ادھر دیکھتی حکان کے مزید قریب ہوئی تھی۔ حکان نے اس کا ہاتھ چھوڑ کے، اسے بازو کے گھیرے میں لے کے، خود سے لگایا تھا۔
” اکاسمہ ۔۔۔۔”
اس نے نرم سرگوشی کی تھی۔ آوازیں اب بھی آ رہی تھی۔ کچھ لڑکے گا رہے تھے۔ ساتھ ہی وہ سرد آواز بھی گونج رہی تھی جو اکاسمہ کے حواس مختل کر رہی تھی۔ جیسے پھر سے وہ nightmare شروع ہو چکا ہو۔
” جلدی، یہ۔۔۔ یہاں سے جلدی چلو۔۔۔ م ۔۔۔ مجھے نہیں سننا یہ، بند کرو اسے۔۔۔۔ ب ۔۔۔ بند کرو ”
وہ حکان کے وجود میں پناہ ڈھونڈ رہی تھی تبھی اس کے اپنے گرد، حکان کے بازو کی گرفت محسوس کر کے، وہ پرسکون ہو رہی تھی لیکن وہ یہ آواز، یہ الفاظ نہیں سننا چاہتی تھی، تبھی وہ یہاں سے جانے کے لئے جلدی کر رہی تھی۔
” ہم گاڑی تک پہنچ گئے ہیں اکاسمہ، ریلیکس”
اکاسمہ اب بھی چاروں طرف دیکھ رہی تھی۔ سانس دھنکنی کی طرح چل رہی تھی اس کی۔ ازمائر اور مسفرہ بھی پریشان ہو گئے تھے۔ حکان نے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر لیا تھا۔
” سنو، اب کوئی آواز نہیں ہے اکاسمہ، ریلیکس ”
اکاسمہ کے ہاتھ کی گرفت، اس کی شرٹ پہ سخت ہوئی تھی۔ خوفزدہ آنکھیں چاروں طرف دیکھتی، اب اپنے قریب کھڑے حکان کو دیکھ رہی تھی جو پرسکون آنکھوں میں، محبت لیے، اسے دیکھ رہا تھا۔ پھر وہ سننے کی کوشش کرنے لگی۔ اب کوئی آواز نہیں تھی۔ ہلکی ہلکی چلتی ہواؤں کا مدھم شور تھا۔ اس کی اپنی سانسوں کا شور تھا۔
” مجھے گھر جانا ہے ابھی ”
اس نے تیزی سے کہا تھا ۔
” اوکے بلکل چلتے ہیں۔ ”
وہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کے، اسے بیٹھنے میں مدد دینے لگا، سیٹ بیلٹ باندھ کے، وہ سیدھا ہونے لگا جب اکاسمہ نے اس کا بازو پکڑ لیا۔
” مت جاؤ !!”
حکان نے دھڑکتے دل کے ساتھ، ان آنکھوں میں دیکھا تھا، اس کے ہاتھ کی گرفت، اس کہ سانسوں کا لمس، ان آنکھوں کی التجا ۔۔۔۔
” میں دوسری طرف سے ڈرائیونگ سیٹ پہ آ کے بیٹھتا ہوں اکاسمہ، ریلیکس ”
وہ گاڑی کا دروازہ بند کر کے سیدھا ہوا۔
” سب ٹھیک ہے ؟؟”
ازمائر کا پریشان چہرہ اس کے سامنے تھا۔
” ہاں، طبیعت خراب ہو رہی ہے اکاسمہ کی۔ ہمیں جلد سے گھر ہی پہنچ جانا چاہیے۔ تھینک یو سو مچ یار اس زبردست ڈنر کے لئے اینڈ تھینک یو بھابی ۔۔ ”
مسفرہ ہلکا سا مسکرا دی تھی۔ حکان تیزی سے الوداعی کلمات کہہ کے، گاڑی کی طرف بڑھا تھا کہ اکاسمہ کے panic attack سے وہ ڈر گیا تھا۔ جب اس panic attack کے دوران، اکاسمہ اس کے وجود میں اپنا سکون ڈھونڈ کے، اس کے قریب آتی ہے تب حکان ملک کو اپنا آپ معتبر سا لگتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اکاسمہ کو کبھی بھی یہ لگے کہ حکان ملک کو اس کی پرواہ نہیں ہے تبھی ان لمحات میں وہ اکاسمہ کے قریب ہی رہنا چاہتا تھا۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
