Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 30

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 30

آئینے کے سامنے کھڑی وہ خود کو مسلسل دیکھ رہی تھی۔ اس کی متورم آنکھیں، سرخ ناک واضح نظر آ رہے تھے۔ چہرے کی رنگت زردی مائل ہو چکی تھی۔ بال بکھرے، چہرے کے اطراف پہ پڑے ہوئے تھے۔ چہرے سے ہوتی، اس کی اداس آنکھیں اپنی گردن اور کندھے پہ گئی تھی۔ اس کا وجود بلکل اچانک سے کانپا تھا۔ دل بےاختیار ڈوب کے ابھرا تھا۔ وہ بھیانک رات جیسے اس کے وجود کو تاریک کر گیا تھا اور وہ شخص جیسے مردہ بنا گیا تھا اسے، اپنی درندگی سے ۔ اسے مکروہ سا لگنے لگا تھا اپنا ہی وجود۔
ہاتھ بڑھا کے، اس نے اپنی شرٹ نیچے کی تھی کندھے سے، اس کے کندھے پہ زخم کے واضح نشان تھے۔ اسے خود سے کراہیت سی محسوس ہوئی تھی۔ کیسے وہ شخص، بنا اس کی مرضی کے، اس کے وجود پہ، اہنا تسلط جما سکتا ہے۔ کیسے وہ اجازت دے سکتی کسی اور کو، کہ اس کے وجود کو، اس کی مرضی کے خلاف چھوئے۔ وہ تیزی سے اپنی جلد، ہاتھ سے رگڑنے لگی جیسے لگا ہوا کوئی کیچڑ یا کوئی سیاہی صاف کر رہی ہو۔ اس کی آنکھوں میں عجیب وحشت پھیل رہی تھی کہ اس کے متورم آنکھوں کی سیاہی، جیسے اس کے گالوں تک پھیلنے لگی۔ وہ چلائی تھی۔ یہ داغ صاف کیوں نہیں ہو رہا تھا۔ وہ تیزی سے باتھروم کی طرف بھاگی۔ شاور کا ٹھنڈا پانی کھول کے، وہ اس پانی کے نیچے کھڑی ہو چکی تھی۔
ٹھنڈے پانی کی پھوار، اس کے وجود کو سرد کرنے لگی تو سانس لینے میں اسے آسانی محسوس ہونے لگی۔ آنکھیں موندے وہ دیر تک شاور میں بھیگتی رہی وہ اب مزید اس داغ، اس زخم کو نہیں دیکھنا چاہتی تھی تبھی آنکھیں موند گئی تھی کہ سب غائب سا محسوس ہوا۔
” اکاسمہ ۔۔۔۔ ”
مبہم سرگوشی، گالوں پہ ہلکا سا، اپنا اپنا سا لمس۔ وہ بےساختہ آنکھیں کھول گئی۔ ان آنکھوں میں حیرت ابھری تھی۔ وہ مہربان آنکھیں اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کا ہاتھ، اکاسمہ کے گال چھو رہا تھا۔
” عا۔۔۔۔ ریز ”
اس کے لب نیم وا ہوئے تھے ۔ اس لمس نے، اکاسمہ کے نم لبوں کو چھوا تھا۔
” جان عاریز ۔”
اکاسمہ کی آنکھیں بھیگنے لگی۔ وہ بھیگی آنکھیں مسکرانے لگی۔
” یہ کیا حال بنا دیا ہے تم نے اپنا اکاسمہ ؟؟ کیا مجھے اس اکاسمہ سے محبت ہوئی تھی؟؟”
وہی لہجہ، وہی آنکھیں، وہی باتیں۔ اکاسمہ پرسکون ہو رہی تھی۔
” مجھے ۔۔۔۔ ن۔۔۔۔ نفرت ہو رہی ہے خود سے عا۔۔۔۔ریز ”
” اس میں قصور تمہارا تو نہیں تھا اکاسمہ۔ ”
اس کے بھیگے بال، شہادت کی انگلی سے چھوتا، وہ نظر بھر کے اسے دیکھ رہا تھا۔
” میں مردار ہو چکی ہوں ”
اس نے سسکی بھری تھی۔
” ہشششششش ”
اس کے لبوں کو چھوتا، وہ اکاسمہ کو خاموش کرا گیا۔
” تم وہی ہو، پہلے جیسی اکاسمہ، جب کورٹ کے باہر، اس مجرم کو ڈرا رہی تھی، میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے، مجھے باتیں سنانے والی اکاسمہ “۔
” تمہیں سب یاد ہے ”
اکاسمہ ہنس پڑی تھی ۔
” تم مکمل ازبر ہو مجھے ۔ اب نہیں رو گی، نہ خود کو ملامت کرو گی۔ مسکراؤ گی اب۔ بزدل نہیں بلکہ نڈر بن کے رہو گی۔ کسی سے نہ ڈرنے والی، خوف کو مات دینے والی۔ انصاف کے لئے لڑنے والی اکاسمہ ۔ ”
اکاسمہ اس شخص کو دیکھ رہی تھی جبکہ وہ جھکا تھا اور اکاسمہ کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے۔ اکاسمہ نے آنکھیں موند لی تھی اور پھر سب خالی خالی سا محسوس ہوا تھا اسے۔
” عاریز۔”
اس نے تیزی سے آنکھیں کھول دی تھی۔ اب وہاں کوئی نہیں تھا۔ اس کی آنکھیں چاروں طرف اس شخص کو تلاش کرنے لگی ۔ وہ نہیں تھا اب۔ خالی باتھروم تھا اور شاور کے نیچے بھیگتی ہوئی وہ۔ اس میں مزید سکت نہ رہی تھی۔ تبھی وہ گھٹنوں کے بل نیچے گری تھی۔ اس کے رونے میں شدت آئی تو اس کا پورا وجود کانپنے لگا۔ لیکن بلکل اچانک وہ خاموش بھی ہوئی تھی۔ اس نے لب بھینچ لیے تھے۔ وہ اب نہیں روئے گی۔ وہ اب اس شخص کو ڈھونڈے گی۔ اس قاتل کو، اس درندے کو۔ اس کو اب وہ خود موت کے گھاٹ اتارے گی۔
” میں موت دوں گی تمہیں۔ میں جانتی ہوں کہ مجھے کیسے ڈھونڈنا ہے اب تمہیں۔ میں بدلہ لوں گی۔ ”
وہ اب پھر سے پرانی اکاسمہ بننے لگی تھی لیکن اس بار وہ انتقام بن کے اپنی زندگی گزارے گی جب تک کہ وہ اس قاتل کو، موت کے گھاٹ نہ اتار دے۔

《《《《《《《《》》》》》》》》》》

” تم اوپر جا کے چیک کرو خیام۔ میں ہوں یہاں ”
اس دن وہ دونوں نیچے آئے تھے۔ اس عورت نے کہا تھا کہ اس گھر کے تہ خانے میں بھوت ہے۔لیکن یہاں کوئی بھوت تو انہیں نظر نہیں آیا البتہ اوپر انہیں کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا تو خیام کو اوپر بھیج کے، وہ تہ خانے کے ان کمروں کو چیک کرنے لگا۔ یہاں تقریبا تین کمرے تھے اور بڑا ہال تھا۔ ساتھ ہی ملحق کچن اور باتھروم بھی تھے۔ وہ ایک کمرے سے نکل کے، دوسرے کمرے میں گیا تو اسے رکنا پڑا۔ حیرت سے وہ اپنے مقابل کھڑے اس شخص کو دیکھنے لگا جو مکمل اس کے ہی ہوبہو تھا۔
” سرپرائز !!!!!”
وہ شخص مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا جبکہ عاریز حیرت سے، اپنے ہی کاربن کاپی کو دیکھ رہا تھا جو اس کے جیسا نظر آ رہا تھا جبکہ سوٹ بھی اسی کے جیسا پہنا ہوا تھا۔
” ہم شکل !!!”
اس شخص نے آنکھ ونک کی تھی لیکن اس سے پہلے کہ عاریز کچھ کہہ پاتا، اچانک پیچھے سے، اس کی پیٹھ پہ چاقو گھونپ دیا گیا تھا۔ وہ حیران سا پیچھے پلٹا تھا۔ بلیک ماسک کے پیچھے، دو آنکھیں واضح نظر آ رہی تھی جو وحشیانہ انداز میں مسکرا رہی تھی۔ اب کے دوسرا چاقو، اس کے سینے میں گھونپا گیا تھا۔ خون کا ابال سا، عاریز کے منہ سے نکلا تھا، جو اس کی گردن سے ہوتا، اس کی شرٹ کو آلودہ کرتا، اس کے سینے سے نکلتے خون کے ساتھ، جا ملا تھا۔
” تو اب تمہارا یہ ہم شکل جائے گا تمہاری جگہ پہ۔ پیاری سی اکاسمہ کے پاس ۔ ”
بلیک ماسک والے نے آنکھ ونک کی تھی جبکہ عاریز کے دل پہ بوجھ سا اترنے لگا۔ اکاسمہ کا مسکراتا چہرہ اس کی آنکھوں میں ابھرنے لگا۔ جب پیٹھ پہ گھونپے گئے چاقو پہ، وہ شخص، جو اس کا ہم شکل ماسک پہنے ہوئے تھا۔ اپنی گرفت مضبوط کی اور پوری قوت سے، وہ چاقو سے اس کی جلد چیرنے لگا۔درد سے وہ بلبلایا تھا۔ جب آگے سے بھی، بلیک ماسک والے شخص نے، چاقو پہ اپنی گرفت مضبوط کی اور وہ نیچے گرا تھا۔
” عاریز!!!!”
خیام نے آواز دی تھی اسے۔ وہ دروازے کی طرف، اپنی بند ہوتی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کرنے لگا لیکن بےسود!! اس کی سانسیں دم توڑ رہی تھی۔
” جاؤ جلدی، ”
وہ ہم شکل تیزی سے، کمرے سے باہر نکلا تھا اور لمحہ لمحہ، عاریز کی سانسیں مدھم پڑتی، اس کے جسم کا ساتھ چھوڑنے لگی۔ منہ کے بل وہ وہیں زمین پہ گر گیا تھا جبکہ بلیک ماسک کے پیچھے وہ دو آنکھیں اب سرد انداز میں، اسے گھور رہی تھی۔

《《《《《《《》》》》》》》》

” کوئی کہتا ہے، صابر الدین مر گیا تو کوئی کہتا ہے کہ عدیل حیات ۔۔۔ لیکن کوئی یہ نہیں جانتا کہ ماسک در ماسک، پردہ در پردہ، وہ کون ہے جو تمہارے ہی اپنوں کا دشمن بنا بیٹھا ہے، یہاں تک کہ تم بھی نہیں ”
اس کے ہونٹوں پہ زہریلی مسکراہٹ تھی۔ اس دن کیا ہوا تھا، کیسے عاریز خان کو قتل کر دیا گیا اور کس طرح سے، آذر رحمان نامی، اس شخص کو عاریز کا ماسک پہنا کے، خیام کے پاس بھیجا تھا۔ اس سب کو یاد کر کے وہ ہنسنے لگا۔
” لیکن افسوس، افسوس، اکاسمہ پھر بھی بچ گئی۔ پھر بھی۔۔۔۔۔ بچ گئی ”
اس نے دانت پیسے تھے۔
” عجیب ڈھیٹ ہڈی ہو تم بھی اکاسمہ، ہر بار بچ نکلتی ہو، ہر بار۔۔۔۔۔ آہ!!!”
کمپیوٹر اسکرین پہ آگے پیچھے تصویریں چل رہی تھی۔
فیاض حیات
ملکہ
عفان
بارز
اکاسمہ
اور یہ ۔۔۔۔۔۔۔ ” حکان ملک ”
اس نے زیر لب نام دہرایا تھا۔
” تمہاری کیا حقیقت ہے اب ؟؟؟ وجدان ملک کا بیٹا، حکان ملک ۔۔۔ امممممم، اسے بڑی ہمدردی ہے لائیر اکاسمہ سے، اممممم ”
وہ کمپیوٹر اسکرین کو غور سے دیکھتا، آبرو اچکائے کچھ سوچ رہا تھا۔

” آج کی بریکنگ نیوز، کراچی شہر کے کلفٹن ایریا میں، ایک اور اپنی نوعیت کا دل دہلا دینے والا مرڈر، ایک عورت کو بڑی بےدردی سے ریپ کر کے، اسے قتل کر دیا گیا ہے اور ہمیشہ کی طرح اس عورت کی گردن پہ ” خط قرمز” لکھا گیا ہے ۔۔۔ کون ہے وہ ؟؟ آخر کیسے پتہ چلے ؟؟ ہماری پولیس اور ہمارا قانون کیا کر رہا ہے ؟؟ انصاف کب ملے گا شہریوں کو ؟؟ کیا وہ اتنا ہوشیار ہے کہ کسی کی بھی پہنچ نہیں ہے اس تک ؟؟ یا پھر جب ہم میں سے ہر ایک، اپنوں کا موت سہہ لینے کے بعد، جب انصاف کی امید چھوڑ دے گیں تب پولیس کچھ کرے گی ۔۔۔۔۔ “

ٹی وی پہ نیوز بتا رہے تھے جبکہ وہ شخص اس نیم تاریک کمرے میں بیٹھا ہنس رہا تھا۔ اس ہنسی میں جیت کا نشہ تھا۔
” جب میں نے اپنی سگی ماں پہ رحم نہیں کیا تو ؟؟؟ دوسری عورت پہ کیوں رحم کروں گا ؟؟ پاک پاک پاکستان، صاف صاف پاکستان۔ یہ میرا شہر کراچی ہے، اسے ہر بدکردار عورت کی غلاظت سے پاک کر دوں گا میں۔ ”
ان آنکھوں میں اب سرد چمک تھی۔ لیکن سوال یہ تھا کہ اگر عورت غلاظت ہے تو وہ اس عورت کے قریب ہی کیوں جاتا ہے ؟؟؟ اس کی عزت سے کیوں کھیلتا ہے ؟؟ جب اس کے لئے عورت ذات غلاظت کا ڈھیر ہیں۔ !!!!

《《《《《《《《》》》》》》》》

” سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آگے پیچھے، ہمارے سامنے اتنے کردار آئے ہیں، ہر ماسک کے پیچھے نیا چہرہ اور نئی شناخت۔ سمجھ یہ نہیں آ رہی کہ اس سب کو ہینڈل کون کر رہا ہے ؟؟ کون ؟؟ ”
سینئیر پرازیکیوٹر، حسان جلیل پر سوچ نظروں سے، اپنے سامنے بکھرے تمام فائلز کو دیکھتے کہہ رہے تھے جبکہ خیام اپنی کنپٹی سہلانے لگا۔
” سیریل کلر ہے، عورتوں کو پرتشدد انداز میں قتل کر رہا ہے، یہ سمجھ آ جاتی ہے لیکن اکاسمہ سے اس کا کیا تعلق ہے، یہ سمجھ سے بالاتر ہے ”
حسان جلیل نے لب بھینچ لیے تھے۔
” ہممممم، یہی تو ۔۔۔ یہ جو قتل ہوا ہے اس رات، کیا نام ہے ، عدیل حیات، اس نے اکاسمہ کو زہر دینے کی بھی کوشش کی تھی، ایک دفعہ۔ ”
” اس کا اصل نام آذر رحمان ہے لیکن وہ خود کو عدیل حیات کیوں کہہ رہا تھا اب تک۔ یہ ایک معمہ ہے ”
خیام نے یاد دہانی کروائی تھی۔
” ہممممم، ذاکر خان ؟؟ اس نے بھی تو جیل میں خودکشی کر لی تھی؟؟”
حسان جلیل اپنے سامنے فائلز کو دیکھتے مصروف انداز میں کہہ رہے تھے جبکہ خیام پر سوچ نظروں سے، ان کے جھکے سر کو دیکھنے لگا۔
” یس سر ۔ ۔۔۔۔ سر یہ آذر خان کون ہے ؟؟”
حسان نے نظر اٹھا کے خیام کو دیکھا تھا۔
” اسے اگنور کرو۔ وہ تھوڑا زیادہ اوور قسم کا بندہ ہے ۔ اس سے معاملات میں نہ ہی پڑا کرو۔ جو مسئلہ ہو مجھ سے ڈسکس کر لینا۔ ”
” یس سر، بٹ وہ لائیر اکاسمہ کو تنگ کرنے کی مزید کوشش کرے گا ”
خیام نے اپنا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
” میں بات کر لوں گا ۔ ڈونٹ ووری ۔ ”
خیام خاموش رہا ۔
” یہ دیکھو خیام ۔ ذاکر خان، صابرالدین، عدیل حیات۔۔۔ آذر رحمان، یہ وہ لوگ ہیں جن کی شناخت تو زیر سوال ہیں لیکن یہ تینوں کی اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ ان سب کو ہینڈل کرنے والا کوئی ایسا شخص ہے جس کی پہنچ دور دور تک ہے۔ جو بلکل کسی سیٹلائیٹ کی طرح ہر طرف جال بنا کے پھیلا ہوا ہے۔ اس شخص کو ڈھونڈنے کے لئے، ہم اس کے چیلوں تک پہنچنا پڑے گا لیکن مشکل یہ ہے کہ اس کا ہاتھ لگا ہر چیلہ یا خودکشی کر لیتا ہے یا پھر قتل ہو جاتا ہے۔ ”
خیام کا دھیان بارز کی طرف گیا تھا لیکن خاموش رہا۔ اکاسمہ اور اس کی فیملی ویسے بھی کٹھن وقت سے گزر رہی تھی، اس وقت اب بارز کو اس کیس میں گھسیٹنا، مزید ان کے لئے مشکل ایجاد نہ کر دیں،تبھی وہ خاموش رہا۔ پیچیدہ صورتحال تھی کہ جس کا کوئی سرا ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔

《《《《《《《《《》》》》》》》》

” کہاں جا رہے ہو بارز ؟؟”
بارز جو بیگ اٹھائے باہر جا رہا تھا جب اچانک اکاسمہ نے پوچھا تو وہ رک کے اکاسمہ کو اپنی سرخ آنکھوں سے دیکھنے لگا۔
” کالج ”
اکاسمہ قریب آ کے غور سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔
” پھر کہاں جاؤ گے ؟؟”
بارز ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔
” گھر یا پھر دوستوں کے ساتھ لنچ کرنے ۔ کیوں؟؟”
اکاسمہ کچھ دیر اسے غور سے دیکھتی رہی اور پھر سر جھٹک کے، کندھے اچکا کے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
” ساتھ میں لنچ یا ڈنر کریں ہم ؟؟ ہم۔دونوں؟؟”
وہ پھر سے بارز کو دیکھنے لگی جیسے اس کے چہرے کے تاثرات سے کچھ جاننے کی کوشش کر رہی ہو۔ بارز جواب سوچ رہا تھا جب اکاسمہ مسکرانے لگی۔
” بہت گھٹن ہے، دل چاہ رہا ہے کہ اپنے بھائی کے ساتھ کہیں باہر بیٹھ کے، کچھ دیر باتیں کروں اور اسی بہانے تمہارے ساتھ وقت بھی گزار لوں۔ ویسے بھی کورٹ نہیں جا رہی میں کچھ عرصہ کے لئے۔ ”
بارز اپنی بہن کی اداس آنکھیں دیکھتا، نہ جانے کیوں شرمندہ سا ہو گیا تھا۔ اس سب میں، کہیں نہ کہیں اس کا بھی قصور شامل تھا لیکن وہ مجبور تھا، بےحد مجبور۔ قید تھا وہ اس شخص کی گرفت میں۔
گہرا سانس لیتا، وہ مسکرانے کی کوشش کرنے لگا۔
” ضرور، ڈنر پہ چلیں گے ”
اکاسمہ نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا تھا۔
” تھینک یو۔ ”
بارز بھی آگے بڑھ گیا تا کہ وہ کالج جا سکے جبکہ لب کاٹتی اکاسمہ تیزی سے صوفے کی طرف بڑھی تھی۔ اپنا چھوٹا سا بیگ پہن کے، ماسک ناک پہ چڑھا کے، وہ بال سمیٹتی تیزی سے باہر نکلی تھی۔ بارز کی موٹر بائیک گیٹ سے باہر نکل رہی تھی، اکاسمہ بھی تیزی سے گاڑی میں بیٹھ کے، گاڑی اسٹارٹ کے، اس کے پیچھے ہی، گیٹ سے باہر نکلی تھی۔ اب وہ بارز کے موٹر بائیک کا پیچھا کر رہی تھی اور کچھ منٹ بعد، ایک اور گاڑی بھی اس کا پیچھا کرنے لگی۔ وہ عباس کی گاڑی تھی جسے حکان ملک نے اس کی حفاظت کے لئے تعین کیا تھا۔
اپنے کمرے میں موجود، حکان ملک نے، اس chip سے منسلک اپنا لیپ ٹاپ آن کر لیا تھا۔ وہ chip جو اکاسمہ کے موبائل میں کنکٹ تھا اور وہ جانتا تھا کہ کچھ بھی ہو اکاسمہ کبھی اپنے موبائل کے بنا کہیں نہیں جاتی۔ کنکٹ ہوتے ہی، اکاسمہ کی ساری انفارمیشن اس کے سامنے آگے پیچھے آنے لگی۔ اس کی لوکیشن سمیت۔ اس نے لب بھینچ لیے تھے ۔ یہ لڑکی اب کیا کرنا چاہ رہی تھی۔ موت کے منہ سے بمشکل باہر آئی تھی وہ ابھی۔ کیا اسے خوف نہیں محسوس ہوتا ؟؟ وہ نہیں ڈرتی کیا کسی سے ؟؟
” کیا ہو تم اکاسمہ؟؟ اتنی بےخوف؟؟ اتنی نڈر ؟؟ اتنی بہادر لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی ”
وہ زیر لب بڑبڑاتا، کان میں موجود آلے کو شہادت کی انگلی سے، سہلایا تھا ۔
” یس سر ؟”
” عباس، بلکل گاڑی کے ساتھ ساتھ رہنا ہے، کہیں نہیں جانا تم نے، لیکن ایسے کہ اسے شک نہ ہو اور اگر کچھ بھی گڑبڑ محسوس ہو، فورا سے ہینڈل کرنا اور مجھے انفارم کر دینا”
” اوکے سر”
حکان ملک کے لہجے میں نمایاں پریشانی کو عباس بخوبی محسوس کر سکتا تھا۔ کچھ نہ کہتے ہوئے بھی، وہ زیر لب مسکرایا تھا کہ اپنے اس جلاد نما باس کی محبت کو وہ بھی سمجھ سکتا تھا جو صرف اکاسمہ کے لئے تھی۔

《《《《《《《》》》》》》》》》》

” کہاں ہو تم ؟”
عفان نے چھوٹتے ہی پوچھا تھا جبکہ وہ گہرا سانس لے کے رہ گئی۔
” گھر میں گھٹن ہو رہی تھی تو باہر آئی ہوں”
” کہاں ہو تم ؟؟”
عفان نے اپنا سوال دہرایا تھا جبکہ وہ گاڑی کے شیشے سے نظر آتے بارز کو گھور رہی تھی۔
” بیچ پہ ”
اس نے جھوٹ بولتے ہوئے، ماسک چہرے پہ چڑھایا تا کہ بارز اسے پہچان نہ سکے۔
” کیوں کرتی ہو ایسا تم اکاسمہ ؟؟”
عفان کے لہجے میں بےبسی تھی ۔ اکاسمہ خاموش رہی۔
” اکاسمہ میں اپنے فیملی ممبرز میں سے کسی کو نہیں کھونا چاہتا، کیوں نہیں سمجھتی تم اکاسمہ۔ اگر تمہیں۔۔۔۔ ”
” مجھے کچھ نہیں ہوتا عفان، میں ڈھیٹ ہڈی ہوں بس مجھ سے متعلق لوگوں کو احتیاط برتنی چاہئے۔ ”
اس کا لہجہ بےحد سپاٹ تھا۔ بارز موٹر بائیک اسٹارٹ کر رہا تھا جب اکاسمہ بھی گاڑی اسٹارٹ کرنے لگی۔
” میں کال کرتی ہوں بعد میں۔ ”
یہ کہہ کے، اس نے موبائل بند کر کے، دوسری سیٹ پہ پھینکا اور خود جیسے ہی گاڑی آگے بڑھانا چاہتی تھی جب اچانک کار کی ونڈو میں ایک سر نمودار ہوا۔
” بی بی جی ۔۔۔۔ ”
وہ بلکل اچانک سے چلائی تھی جبکہ وہ بھکاری مسکرانے لگا۔
” پیسہ دے دو ۔ ”
” ٹوٹے نہیں ہے بابا۔ ”
اکاسمہ دل پہ ہاتھ رکھ کے، اس سے جان چھڑاتی کہنے لگی۔ جب اچانک اسٹئیرنگ پہ اس نے اپنا ہاتھ دھرا تھا اور سرد آنکھوں سے اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔
” وہ سیریل کلر، کوئی عام قاتل نہیں ہے، وہ تمہارا دشمن ہے، بہت بڑا دشمن۔ ایک ایک کر کے وہ تمہارے ساتھ، ہر ایک کو اپنے جال میں پھنسا رہا ہے۔ ایسی چال چلا کے، وہ تم سمیت سب کو بھیانک موت دے گا کہ ۔۔۔ ”
” اے چل ادھر سے ”
اچانک اسے گردن سے، جکڑ کے عباس سائیڈ پہ کر گیا تھا۔
” پورا راستہ بلاک کر دیا ہے، چل ادھر سے ”
اکاسمہ حیرت سے اس بھکاری کے لباس میں موجود شخص کو دیکھ رہی تھی۔
” حق اللہ حق، اللہ کے بندوں کی مدد کر دے، حق اللہ حق ۔۔۔۔”
وہ ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا جبکہ اکاسمہ ساکت ہو چکی تھی۔ وہ سن سی، ساکت آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی جو دور جاتے ہوئے بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔ اکاسمہ کا پورا وجود کانپ کے رہ گیا۔

《《《《《《《《》》》》》》》》》

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *