Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 38

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 38

وہ پہنچ چکا تھا۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ قاتل اس کی گرفت میں ہے۔ لوکیشن اسے یہیں کا پتہ دے رہی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے موبائل کے اسکرین کو دیکھتا، آگے بڑھ رہا تھا۔ یہ کوئی نیم تاریک، کھنڈر عمارت تھی۔ جہاں اسے عجیب سی بدبو محسوس ہو رہی تھی۔ اسے کئی بار متلی کا احساس بھی ہوا تھا لیکن چونکہ اسے بار بار ٹریننگ مل چکی تھی ایسے حالات میں، اپنے حواس بجا رکھنے اور خود کو نارمل رکھنے کی۔ تبھی اس نے ماسک ناک پہ چڑھائی اور آگے بڑھتا گیا اور پھر وہ رکا تھا۔
وہ بےحد عجیب شکل کا مالک شخص تھا جو درندے کی طرح، کچے گوشت کو، دانت سے کھینچتا، چبا چبا کے کھا رہا تھا۔ اسے دیکھ کے ہی متلی ہوئی تھی لیکن مقابل بیٹھا وہ شخص، آہٹ پہ رک کے، حکان ملک کو دیکھنے لگا جبکہ اس کا منہ اور ہاتھ خون آلود تھا۔ اس نے غراتے ہوئے، منہ پہ ماسک چڑھایا تا کہ اس کا چہرہ چھپ جائے۔
” اوہ تو تم نے ڈھونڈ ہی لیا مجھے حکان ملک ”
اس کی جسامت کے مقابلے، اس کی آواز بھاری تھی۔ وہ ہاتھ جھٹکتا کھڑا ہوا اور حکان ملک کو مسکراتی آنکھوں سے دیکھنے لگا۔
” اوہ ہاں میرے بہنوئی صاحب، میری بہن سے بہت محبت کرتے ہو ویسے۔ اسکی خاطر کچھ بھی ۔۔۔”
” قانون ہاتھ میں لے کر، کتنی عورتوں کی عزت اور زندگیوں سے کھیلو گے ؟؟”
حکان ملک نے لب بھینچے اسے دیکھا تھا جو اب اپنے خون آلود ہاتھ، دیوار پہ مار کے صاف کر رہا تھا۔
” عورتیں؟؟ ساری عورتیں نہیں، تمہیں صرف اکاسمہ کی فکر یہاں کھینچ لائی ہے۔ ویسے جلاد ہی ہو تم ؟؟ مطلب جلاد تو سوال جواب نہیں کرتے، سیدھا سامنے والے کو کاٹ کے رکھ دیتے ہیں اور تم تو یہاں مجھ سے سوال جواب کرنے آئے ہو۔ لگتا ہے کہ جلاد نہیں بلکہ وکیل بن کے آئے ہو میرے پاس ۔”
وہ ہنسنے لگا۔
” جلاد کے ہاتھوں مرنے کا شوق ہے تمہیں؟؟”
حکان اپنی مٹھیاں بھینچتے غرایا جبکہ وہ ہنسنے لگا۔
” میں وہ گندگی ہوں کہ جیسے نہ کوئی مذہب قبول کرتا ہے نہ کوئی قانون اور نہ ہی میرا باپ ۔۔۔ تف!!”
وہ اب حکان کو سنجیدگی سے دیکھنے لگا۔
” کیسے مارنا چاہو گے مجھے ؟؟؟ کیسے چیر پھاڑ کرنا چاہو گے مجھے ۔ جلاد، میری بہن مجھ سے ناراض ہے، اسے کہو کہ اپنے بڑے بھائی سے ناراض نہ ہو بلکہ ہمارے ابا جان سے ناراض ہو، اس سے جا کے پوچھے کہ کیوں اس کے بڑے بھائی کو، اتنے سالوں اس سے چھپا کے رکھا گیا۔ اب میں تو تنگ کروں گا ناں اپنی چھوٹی بہن کو۔ ایک پاگل سے دو پاگل اچھے۔ عدیل حیات۔۔۔ اکاسمہ حیات۔۔۔ پاگل ۔۔۔ دماغی مریض ۔۔۔”
” شٹ اپ ”
حکان نے آگے بڑھ کے اسکی گردن دبوچ لی۔
” تم زندہ رہو گے تو ہی تم اکاسمہ کو نقصان پہنچا پاؤ گے ۔۔۔۔ ”
” ویسے اسے پتہ تمہارے راز کا ؟؟؟”
عدیل حیات بمشکل یہ کہہ کے ہنسنے لگا۔
” سوری تمہارا نام لینا بھول گیا تھا میں۔ ت۔۔۔۔ ت۔۔۔۔ تین پاگل ”
حکان ملک نے لب بھینچ لیے تھے۔ اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔ اس نے زور سے عدیل کو دھکا دیا کہ وہ زور سے پیچھے دیوار سے جا لگا اور کراہ کے رہ گیا۔ حکان نے آگے بڑھ کے،پھر سے اس کی گردن دبوچی تھی۔
” بکواس بند کرو اپنی۔ ”
وہ حیران تھا کہ سامنے کھڑا یہ قاتل، اس کے اس پوشیدہ راز کو کیسے جانتا ہے ؟؟ جبکہ وہ ہنس پڑا۔
” اوکے میں چپ، دیکھو میں چپ۔ مجھ مار دو یار، اگر میں زندہ رہوں گا تو اپنی بہن کو بتا دوں گا میرا بہنوئی ایک خطرناک ہیکر، جلاد اور وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ، کسی کو اپنے ٹین ایج ٹائم میں، ایک بھیانک موت بھی دے چکا ہے۔ کیونکہ میرا بہنوئی Dissociative identity disorder ……”
” شٹ اپ ۔۔۔ ”
وہ دھاڑا تھا اور زور سے عدیل کو دور پھینکا تھا کہ وہ اس بلند منزلہ کھنڈر عمارت کی نوک پہ پہنچ کے رکا تھا۔ حکان ملک کی آنکھیں خون چھلکا رہی تھی۔ وہ لب بھینچے، خونخوار نظروں سے، عدیل حیات کو دیکھ رہا تھا جس کی آنکھوں میں چیلنج تھا اس کے لئے۔
اس کے دماغ میں شور سا برپا تھا جیسے بہت سی آوازیں ہو، بہت سے عجیب چہرے ہو، ہر ڈراؤنا چہرہ اسے دھمکا رہا ہو۔ وہ اکاسمہ کو دیکھ دیکھ کے جینا سیکھ رہا تھا، خود کو درست کرنا سیکھ رہا تھا لیکن اس شخص نے، آج اسے پھر اس نہج پہ لا کھڑا کیا تھا۔ وہ پھر سے خود کو پرکھنے اور جاننے کی تگ و دو میں الجھنے لگ گیا تھا۔
” لگتا ہے اب تم نہیں چاہتے کہ تم مجھ سے معصوم اور بےگناہ انسان کے قاتل بنو۔ حکان ملک ۔۔۔۔
The hacker, The Executioner, The Disorder Man
امریکا کا چمچہ ۔۔۔۔۔۔ ”
حکان دھاڑتا اس کی طرف بڑھا تھا لیکن عدیل حیات خود کو اس بلڈنگ سے نیچے گرا چکا تھا۔ اس بلند منزلہ عمارت کی نوک پہ، جہاں پہلے عدیل حیات کھڑا تھا، اب حکان ملک کھڑا تھا اور حیرت سے، نیچے گرے عدیل حیات کی باڈی کو دیکھ رہا تھا۔
قصہ ختم !!
داستان ختم !!
لیکن یہاں کھڑا یہ شخص، جیسے کانپ سا گیا تھا۔ وہ، جسے اس nightmare سے باہر نکلنے میں سال لگے، جو خود کو اس قدر مضبوط بنا چکا تھا کہ اسے خوف اب خوف کھاتا تھا، وہ جو اکاسمہ کو پا کے، خود کو خوش نصیب مان رہا تھا۔وہ بےحد خوبصورت انسان، جو ہر لڑکی کا آئیڈیل تھا۔ اس وقت وہ ایک خوفناک شخص بن گیا تھا۔ اسے اپنا چہرہ خوفناک لگنے لگا۔ اپنا وجود خوفناک لگنے لگا۔ کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اکاسمہ کو اس سے نفرت ہو یا اکاسمہ اس سے خوفزدہ ہو۔

■■■■■■■■■■■□□□□□■■■■■■■■■■■

صبح اکاسمہ کی انکھ کھلی تو اسے اپنے نازک وجود کے گرد، تنگ اور بھاری سا گھیرا محسوس ہوا، اس نے دیکھنے کی کوشش کی، یہ تو اس کا بیڈ روم نہیں تھا، وہ تو رات کو اپنے بیڈ روم میں سو رہی تھی پھر یہاں وہ کیسے آئی؟؟
بوجھل گرم سانسیں اسے اپنے گردن کی پشت پر محسوس ہونے لگی، اس کے پیچھے موجود وہ شخص، اسے اپنی بانہوں میں لیے،بےحد گہری نیند سو رہا تھا۔ اکاسمہ کا دل دھک سے رہ گیا تو کیا وہ جب سوتی ہے تو اسقدر بھاری نیند ہے اس کی؟؟ کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا جب حکان اسے دوسرے کمرے سے، اس کمرے میں لایا؟؟
اس نے زور سے لات مار کے، حکان کو خود سے دور کیا اور اس پہ بھی اکتفا نہیں کیا بلکہ اسے بار بار ٹانگ سے مارتی، بیڈ سے نیچے گرا کے ہی دم لیا۔ حکان جو گہری نیند سے جاگا تھا۔ ماتھے پہ بل ڈالے، اسے دیکھتا، کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اسے کچھ سمجھ نہیں آئی۔ سوائے اس کے کہ اکاسمہ اسے غصے سے گھور رہی ہے۔
” اکاسمہ تم ٹھیک ہو؟؟”
وہ پھر سے اٹھ کے بیڈ پہ آنے لگا تا کہ اکاسمہ کو دیکھ سکے۔
” وہیں رہو ”
وہ چلائی تھی اور حکان پھر سے وہیں بیٹھ گیا۔
” چلو میں مانتی ہوں کہ میں بہت بھاری نیند سوتی ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم میرا ناجائز فائدہ اٹھاؤ ”
” ناجائز فائدہ؟؟”
حکان حیرت سے اسے دیکھنے لگا ۔ وہ تو ڈریس آپ تھی مکمل۔ پھر اسنے سر جھکا کے خود کو دیکھا، وہ بھی کپڑوں میں تھا۔ پھر کون سا فائدہ ؟؟ وہ بھی ناجائز فائدہ؟؟
” الزام ہے مجھ پہ ۔۔۔ دیکھو تو ہم تو اپنے کپڑوں میں موجود ہیں ”
اکاسمہ کا چہرہ، کان کی لو تک سرخ ہو گیا تھا۔
” کوئی رومینٹک خواب دیکھ لیا ہوگا یار ”
وہ تھکے تھکے انداز میں، اپنے بالوں میں ہاتھ چلانے لگا۔
” رومینٹک خواب اور تمہارے ساتھ؟؟ میں اپنے بیڈ روم سے یہاں کیسے آئی؟؟ ”
وہ اب زیادہ غصے سے اسے گھور رہی تھی۔
” اپنے پیروں پہ چل کے اور کیسے ؟”
حکان کا انداز بےپرواہ تھا۔
” بکواس !!!”
اکاسمہ چلائی۔
” میں خواب میں چلتی ہوں، یہ کہنا چاہتے ہو تم ”
” نہیں، تم خود آئی اور رو رہی تھی تم، تم بہت خوفزدہ تھی۔ کوئی برا خواب دیکھا تھا اور تم نے خود کہا کہ تم یہاں، میرے پاس سونا چاہتی ہو ”
حکان نے تفصیل سے بتایا۔
” میں نے ؟؟”
اکاسمہ اسے حیرت سے دیکھنے لگی جبکہ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
” لیکن ہوتا ہے یار، کوئی بڑا ایشو نہیں۔ کبھی کبھی انسان ڈر جاتا ہے خواب میں۔ تم اب ٹھیک ہو، یہی کافی ہے “،
حکان اسے نارمل انداز میں کہتا، اٹھ کھڑا ہوا۔وہ اکاسمہ کو یہ محسوس نہیں کرانا چاہتا تھا کہ وہ خوفزدہ ہے یا نیند میں چل کے، اس کے بیڈ پہ آ کے سو جانا، کوئی بہت خوفناک بات ہے کہ اسے محسوس ہی نہ ہو کہ وہ کیا کر رہی ہے۔
اکاسمہ خالی نظروں سے حکان کی پشت کو دیکھ رہی تھی جو موبائل دیکھ رہا تھا۔
وہ نیند میں کیسے چل سکتی ہے ؟؟
وہ کبھی نیند میں ایسے نہیں چلی ؟؟
پھر اچانک ایسا؟؟
اسے خوف سے جھرجھری محسوس ہوئی تھی۔
کیا اب اسے خود کو بیڈ سے باندھ کے سونا پڑے گا ؟؟
جبکہ حکان، خیام کو کال بیک کر رہا تھا
” ہاں ، میں آ رہا ہوں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ آ چکی ہے ۔ ٹھیک ہے ۔ میں آ رہا ہوں ”
کال بند کر کے، وہ اکاسمہ کو دیکھنے لگا جو اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
” وہ، عدیل حیات مر گیا کل رات ”
اسنے اکاسمہ کو نہیں بتایا کہ وہ اس وقت وہاں موجود تھا جبکہ اس کی موت کے بعد، رات کو اس نے خیام کو کال کر لیا تھا۔
اکاسمہ کا دل تیزی سے کانپنے لگا۔ وہ حیرت سے حکان کو دیکھ رہی تھی ۔ اتنی آسانی سے مر گیا ؟؟
” اکاسمہ؟؟”
حکان نے اسے آواز دی تھی لیکن وہ تیزی سے بیڈ سے اتر کے، کمرے سے نکل گئی تھی۔ وہ جب سے اٹھی تھی۔ وہ شاک میں تھی۔ کل آفس میں جو ہوا۔ وہ گھر آئی، حکان اس کے ساتھ ساتھ رہا۔ اس نے میڈیسن لی، اسے نیند آنے لگی اور وہ سو گئی اپنے بیڈ روم، اپنے بیڈ پہ۔ لیکن جب صبح انکھ کھلی تو وہ حکان کے بیڈ پہ،حکان کی بانہوں میں سو رہی تھی اور۔۔۔۔ !!!؟؟
وہ تیزی سے مڑ کے، پھر سے حکان کو مقابل جا کھڑی ہوئی تھی۔
” تم نے مجھے بانہوں میں کیوں لیا ہوا تھا ؟؟ کیا یہ بھی میں نے تم سے کہا تھا ؟؟”
وہ اب پھر سے حکان کو گھور رہی تھی۔
” ہاں، تم خود میری بانہوں میں آئی تھی۔ ”
اکاسمہ کی آنکھوں میں حیرانی ابھری تھی۔
” کم آن اکاسمہ، تم خوفزدہ تھی، میری بانہوں میں آ کے سوگئی یا میرے بیڈ پہ۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں جس میں تم اتنا سوچو۔میں ہزبینڈ ہوں تمہارا۔ محرم ہیں ہم ایکدوسرے کے لئے۔”
اکاسمہ نے ہاتھ اٹھا کے اسے روک دیا تھا مزید بولنے سے اور کمرے سے باہر نکل گئی۔ حکان لب بھینچے اسے جاتا دیکھنے لگا۔ کل کے بھیانک واقعے نے اکاسمہ کے حواس اپنی گرفت میں کر لیے تھے اور وہ اس فیز سے نکل چکی تھی لیکن اس کے دماغ کا ایک حصہ جیسے مفلوج ہو چکا تھا جیسے اس کی یادداشت کا حصہ بن کے رہ گیا ہو۔

■■■■■■■■■■■□□□□□□■■■■■■■■■■

” نیوز میں بتا رہے ہیں کہ عدیل حیات مر چکا ہے ”
انہوں نے ویڈیو کال کی تھی ملکہ کو اور انہیں اس حادثے سے متعلق بتا رہے تھے لیکن ان کا وجود بےحد تھک ماندہ لگ رہا تھا۔
” اکاسمہ میرا چہرہ تک نہیں دیکھنا چاہتی ملکہ”
” کل میں نے بھی کال کی تھی لیکن بات نہیں ہو پائی۔ شکر ہے اللہ کا، کہ جان چھوٹی میری بچی کی اس قاتل سے ”
ملکہ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور پھر نرم نگاہوں سے فیاض حیات کو دیکھنے لگی۔
” سب ٹھیک ہو جائے گا فیاض، آپ پریشان مت ہو۔ اکاسمہ آپ کی بیٹی ہے، کب تک ناراض رہے گی آپ سے بھلا۔۔۔ ٹھیک ہو جائے گی ۔۔۔ میں بات کروں گی ”
” ن نہیں، ایسے وہ سمجھے گی کہ میں نے بات کرنے کو کہا ہے۔ وہ اور بھی غصہ ہوگی”
” اچھا ٹھیک ہے، ارے اکاسمہ کی کال آرہی ہے۔ میں کال کرتی ہوں آپ کو بعد میں ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” ہیلو امی، کیسی ہے اپ؟ سوری میں نے موبائل ہی نہیں دیکھا تھا ”
اکاسمہ کال ملتے ہی کہنے لگی ۔
” کوئی بات نہیں میری جان۔ کیسی ہو؟؟ حکان کیسا ہے ؟؟”
ملکہ کے پوچھنے پہ، اس نے چور نظروں سے حکان کو دیکھا تھا جو افس جانے کے لئے تیار، اپنے لیے کافی بنا رہا تھا۔
” ٹھیک ہیں ہم ”
حکان کا ہاتھ پل بھر کے لئے رکا تھا لفظ ” ہم ” پہ۔ وہ مڑ کے اکاسمہ کو دیکھنے لگا، جو موبائل کان سے لگائے اسے ہی دیکھ رہی تھی، نظروں کے تصادم پہ، وہ تیزی سے نظریں چرا گئی۔ وہ کافی کے دو مگ لیے، ڈائننگ ٹیبل پہ آیا تھا۔ایک مگ اس نے اکاسمہ کے سامنے رکھا تھا۔
” ٹھیک ہے امی، اللہ حافظ ”
بات ختم کر کے، وہ موبائل سائیڈ پہ رکھ چکی تھی۔
” آج شام کو فیاض انکل سے ملنے جائے، کافی۔۔۔۔۔۔ ”
” نہیں۔۔۔”
اس کی بات بھی مکمل نہیں ہوئی جب اکاسمہ نے فورا مختصر جواب دے کے اسے چپ کرا دیا جبکہ خود اب کافی کے سپ لیتی، ناشتے کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔ حکان نے غور سے اسے دیکھا۔
” کال آئی تھی ان کی، کہہ ۔۔۔۔۔۔۔”
اکاسمہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
” کیا ہوا ؟؟”
حکان نے تیزی سے اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے روکا تھا ۔
” مجھے نہیں کرنا ناشتہ ”
وہ حکان کو بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔
” اچھا نہیں بات کرتے، ناشتہ کرو بیٹھ کے پلیز ”
” نہیں جانا مجھے ”
وہ ضدی انداز میں اب حکان کو دیکھ رہی تھی۔
” اوکے، بیٹھو پلیز ”
اکاسمہ خاموشی سے بیٹھ کے اب اسے گھورنے لگی۔ حکان سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتا کندھے اچکا گیا ۔
” میرا ہاتھ چھوڑ دو گے پلیز ”
طنزیہ انداز میں کہتی، اس نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ بھی چھڑایا تھا اس کی گرفت سے۔
” ہاں لے لو اپنا ہاتھ، کون سا کیس کر دیا میں نے پراپرٹی کا تمہارے اس ہاتھ پہ ”
حکان کے انداز پہ، وہ جھنجھلا ہی گئی اور جب وہ اٹھنے لگا تب اکاسمہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
” میں بھی جا رہی ہوں ”
حکان نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔کل ہی وہ بھیانک حادثہ ہوا تھا اس آفس میں اور آج وہ ایسے تیار ہو کے جا رہی تھی کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ لیکن وہ خاموش رہا۔
” اپنی گاڑی میں نہیں، میرے ساتھ جا رہی ہو ”
حکان کے کہنے پر اکاسمہ اسے گھورنے لگی۔
” کیوں نہ جاؤں اپنی گاڑی میں؟؟ وہ تو مر چکا ہے اب ”
وہ ضدی تو تھی لیکن کل سے محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ زیادہ ضدی ہورہی ہے۔
” وہ مر چکا ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اب بھی تمہارا اکیلے جانا safe ہے ۔۔ ”
مصروف سے انداز میں کہتا، اپنے بالوں بناتا وہ اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔
” چلیں ملکہ ڈان ”
اکاسمہ ناک بھوں چڑھاتی دروازے سے باہر نکلی جبکہ حکان زیر لب مسکراتا اس کے پیچھے باہر نکلا تھا۔

■■■■■■■■■■■■□□□□□□■■■■■■■■■

کورٹ میں، کٹہرے میں کھڑا وہ شخص اپنی سرخ ہوتی آنکھوں میں آنسو لیے، اپنی بیوی کو دیکھ رہا تھا جو اس سے طلاق لے کے، الگ ہو جانا چاہتی تھی اس سے ۔
اس نے الزام لگایا تھا کہ اس کا شوہر نامرد ہے اور ہر رات اپنی بیوی کو نشہ کروا کے، دوسرے مردوں کے ساتھ، اس کے جنسی تعلقات استوار کرواتا ہے۔
” یہ جھوٹا الزام لگا رہی ہے مجھ پہ، میری ساس صاحبہ۔ میں اپنی بیوی شبانہ سے بہت محبت کرتا ہوں۔ میں کیوں اسے کسی دوسرے مرد کے حوالے کروں گا ”
وہ شخص، جس کا نام عبدل تھا، روتے ہوئے کہنے لگا۔
شبانہ، اکاسمہ کو دیکھنے
لگی جو آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے تسلی دیتی اب جج کو دیکھ رہی تھی۔
” ایسا ہے تو ہم شبانہ سے پوچھ لیتے ہیں کہ وہ کیا کہتی ہے۔ ”
جج کے سر ہلانے پہ اکاسمہ، اب شبانہ کو دیکھنے لگی۔
” شبانہ، ڈرو نہیں، اور عدالت کو بتاؤ کہ تمہارا شوہر کیا کرتا ہے؟؟ ”
شبانہ نے کانپتے ہوئے، نم آنکھوں سے عبدل کو دیکھا جو اسے ہی روتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور پھر جج کو دیکھنے لگی۔
” وہ ۔۔۔۔۔”
وہ کہنے ہی لگی تھی جب عبدل نے اچانک اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا۔
” تم اب یہ کرو گی ؟؟ ایسا کرو گی میرے ساتھ شبانہ ؟؟ ارے سونے کے کنگن مانگے تھے تو نے مجھ سے، چلو میں نے ناں بول دیا پر تو میرے پہ الزام لگائے گی کہ میں مرد لاتا گھر پہ۔ میں اتنا بےغیرت ہوں کیا شبانہ ؟؟ کیا میری آنکھوں میں تجھے محبت نہیں نظر آتی؟؟ کیا وہ دن بھول گئی کہ ہم گھومنے جاتے تھے سمندر کنارے ؟؟ جب تو سمندر کے پانی میں بھیگ کے آتی تو تیرا حسن مجھے پاگل سا کر دیتا اور تیری پتلی کمر پہ پانی کی بوندیں۔۔۔۔ ”
” آرڈر، آرڈر ”
جج نے تیز آواز میں کہا جبکہ اکاسمہ، شبانہ کو دیکھنے لگی۔
” شبانہ اس کی مت سنو، وہ جھوٹ بول رہا ہے،تمہیں بہکا رہا ہے ۔۔۔ شبانہ جو سچ ہے وہ سب جج کو بتاؤ ”
شبانہ کبھی اکاسمہ کو دیکھتی تو کبھی عبدل کو۔
” میری محبت میں کون سی کمی نظر آئی تجھے؟؟؟ میں تجھ سے بےحد محبت کرتا ہوں شبانہ۔۔۔ دیکھ، دیکھ شبانہ میں رو رہا ہوں تیرے لئے۔ نہ کر، میں مر جاؤں گا تیری جدائی میں۔ دیکھ ادھر، تجھے واسطہ ہے ہماری محبت کا، ان راتوں کا، جب میں اور تو ایک ہی بستر پہ، بنا کسی لبا۔۔۔۔۔۔”
” بکواس بند کرو”
پولیس نے زور سے اسے چپت دی تھئ۔
” آرڈر، تمیز کا دائرہ بھول رہے ہو تم ۔۔۔۔ ”
جج بھی غصے میں آ گیا تھا۔
” جوڈیشری، یہ آدمی، میری کلائنٹ کو ہراس کر رہا ہے اور۔۔۔۔۔”
اس کی بات ادھوری رہ گئی جب عبدل اپنے کٹہرے سے نکل کے،تیزی سے شبانہ کے قریب آ کے، اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔
” مجھے معاف کر دے شبانہ، میں تجھے کنگن دلا دوں گا ۔ میرے پہ الزام نہ لگا، اس وکیلنی نے تجھے کیا پلا دیا ہے جو تو مجھے پہچان نہیں پا رہی۔۔۔۔”
” پیچھے ہٹو”
دو پولیس کانسٹیبل قریب آ کے، اسے پیچھےکھینچنے لگے جبکہ وہ رونے لگا۔ ایک ہنگامہ برپا ہوا تھا وہاں۔
” نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ عبدل نے کچھ نہیں کیا۔ عبدل نے کچھ نہیں کیا۔ میں بہک گئی تھی۔ اس وکیلنی کی باتوں میں آ گئی تھی۔ میرا عبدل بےقصور ہے ”
اکاسمہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
” وہ مار ڈالے گا تمہیں شبانہ ۔۔۔۔ ”
” چپ کریں بس۔۔۔ مجھے کچھ نہیں چاہئے، میں جھوٹی ہوں۔میرا عبدل بہت اچھا ہے۔۔۔ ”
وہ حیرت سے سب دیکھ رہی تھی۔ فیصلہ عبدل کے حق میں ہوا تھا۔ وہ آزاد ہو گیا تھا اور فاتح بنا وہ اکاسمہ کو مسکراتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا جبکہ شبانہ اس سے لگی، اس کے ساتھ کورٹ سے باہر جا رہی تھی۔ شبانہ کی ماں، اکاسمہ کے قریب آئی۔
” وہ مار ڈالے گا میری بچی کو ”
” آپ کی بچی نے خود یہ لکھا ہے اپنے نصیب میں۔ ”
وہ کہہ کے، گہری سانس لیتی، کورٹ سے باہر نکلی تھی۔ اس سے فاصلے پہ موجود، اس کا باڈی گارڈ عباس، اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ اسے حکان نے مقرر کیا تھا تاکہ وہ سائے کی طرح اکاسمہ کے ساتھ رہے۔
اکاسمہ کو کورٹ سے باہر آ کے رکنا پڑا کیونکہ عبدل مسکراتی آنکھوں سے، اسے دیکھتا قریب آیا تھا۔
” غلطی ہو ہی جاتی ہے، انسان ہے اب، کیا کر سکتے ہیں ۔ یہ کیس تو آپ ہار گئی، کوئی بات نہیں، دوسرا جیت لے گی آپ ”
اکاسمہ نے لب بھینچے نظریں پھیر لی۔
” چلیں دعا ہے کہ پھر کبھی ہمارا سامنا نہ ہو کیونکہ میں ایک بہت برا ۔۔۔۔”
آہستہ اس کی طرف جھک کے سرگوشی کی تھی۔
” نامرد ہوں ”
وہ پیچھے ہو کے اب شبانہ کو خود سے لگائے، اکاسمہ کو سرد آنکھوں سے دیکھتا، پیچھے جا رہا تھا جبکہ اکاسمہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ عباس جو عبدل کے، اکاسمہ کے قریب ہوتے ہی ، خود بھی اکاسمہ کے نزدیک آیا تھا، وہ بھی حیرت سے اس شخص کو دیکھتا، اب اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔
اکاسمہ کی آنکھوں میں وحشت بڑھنے لگی اور وہ جیسے ٹرانس کی کیفیت میں تھی۔
” میم۔۔۔۔۔ اکاسمہ میم ۔۔۔۔ میم”
وہ جیسے نیند سے جاگی تھی اور حیران آنکھوں سے عباس کو دیکھنے لگی۔
” آپ ٹھیک ہے ؟؟”
اس کے سوال کو نظرانداز کرتی، وہ پھر سے سامنے دیکھنے لگی۔ عبدل اپنی بیوی کو لے کے جا چکا تھا۔ سر جھٹک کے وہ کورٹ کی طرف بڑھی۔
” ہاں ٹھیک ہوں میں ”
عباس بھی اس کے پیچھے پیچھے ہی چلنے لگا۔ جب حکان سر نے کہا ہے کہ سائے کیطرح تو مطلب سائے کی طرح۔ وہ کیسے نافرمانی کر سکتا ہے؟؟

■■■■■■■■■□□□□□□□■■■■■■■■■

” اکاسمہ کیسی ہے اب ؟؟”
خیام کے سوال پہ، وہ جو فائلز دیکھتا کچھ سوچ رہا تھا، چونکا تھا۔
” ٹھیک ہے۔ پہلے سے بہتر ہے۔ میں نے عباس کو اس کا باڈی گارڈ رکھ دیا ہے۔ جو اس کے ساتھ رہتا ہے ہمیشہ ”
” ہمممم۔۔۔ ”
” ویسے، میں نے نہیں بتایا اکاسمہ کو، کہ میں وہاں موجود تھا جب وہ بلڈنگ سے نیچے کھود رہا تھا اور نہ یہ کہ، میری شناخت کیا ہے ؟؟ وہ مجھے ایک وکیل اور ہیکر ہی سمجھتی ہے تو پلیز تم بھی کچھ مت کہنا۔ ”
حکان کی بات پہ، اسنے اثبات میں سر ہلایا۔
” ڈونٹ ووری، جب تک تم نہ چاہو، میں کچھ نہیں بتاؤں گا۔ ”
خیام نے اسے تسلی دی تو وہ ہلکا سا مسکرا دیا لیکن اسکا ذہن اب بھی، اکاسمہ کے رویے پہ الجھا ہوا تھا۔ کل کے حادثے نے اس کے دماغ پہ گہرا اثر چھوڑ دیا تھا کہ وہ نیند میں چلتے ہوئے کیا کرتی ہے؟؟ یہ اسے پتہ بھی نہیں چلتا تھا۔
” ویسے، جو کام کوئی نہ کر سکا تم نے کر دکھایا ”
خیام کی بات پہ اس نے سر جھٹکا۔
” کچھ بٹنز پش کر کے، اسے ہیک کرنا تھا، ہر اس علاقے کو جہاں اس کا آنا جانا ہو اور پھر اس تک پہنچنا آسان۔ ”
حکان نے مسکرانے کی کوشش کرتے کہا۔
” لیکن بہت خاموش موت نہیں مرا وہ ؟؟ مجھے عجیب لگتی ہے اس کی موت ۔۔۔ مجھے کبھی نہیں لگا کہ وہ مر بھی سکتا ہے ”
خیام کنپٹی سہلاتے کہہ رہا تھا جبکہ حکان کندھے اچکاتا خاموش رہا۔ اس کا ذہن اکاسمہ میں الجھا ہوا تھا۔
آج رات وہ دیر تک جاگ کے، لیپ ٹاپ پہ کام کرتا رہا۔ اسے نیند بھی نہیں آ رہی تھی۔ الجھنوں میں الجھا ہوا ذہن بن چکا تھا اس کا۔ جب اچانک اس کے کانوں میں اکاسمہ کی سسکیاں آتی محسوس ہوئی تھی۔ وہ چونکا تھا۔ تیزی سے لیپ ٹاپ سائیڈ پہ رکھ کے، وہ اکاسمہ کے بیڈروم کی طرف بھاگا۔ وہ ہمیشہ بیڈ روم کا دروازہ کھلا رکھ کے سوتی تھی۔ اسنے آج تک ایک سیکنڈ کے لئے بھی، بیڈ روم کا دروازہ بند نہیں کیا تھا۔
اندر داخل ہو کے، اسے رکنا پڑا۔ حیران نظروں، شاک کی کیفیت میں وہ اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا جو بیڈ روم میں ٹہل رہی تھی جبکہ اس کے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں، ہوا میں لہراتے ہوئے، کچھ محسوس کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور وہ خود گردن ایک طرف جھکائے کچھ بڑبڑا رہی تھی۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ اکاسمہ کو اس حالت میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔
وہ نیم پاگل لگ رہی تھی۔
” اکاسمہ ۔۔۔ ”
اس نے نرمی سے آواز دی تو وہ تیزی سے بیڈ کے قریب، فرش پہ بیٹھ کے، گھٹنوں میں چہرہ چھپا گئی اور کمرہ اس کی سسکیوں سے گونجنے لگا۔ حکان اس کے قریب جا بیٹھا اور نرمی سے، ہاتھ بڑھا کے، اس کا بکھرے بال سہلانے لگا۔
” اکاسمہ ۔۔۔۔ ”
” ک ۔۔۔ اکروچ۔۔۔۔ ”
اس کی زبان سے بمشکل ادا ہوا تھا یہ لفظ ۔۔۔ پھر سر اٹھا کے، وہ حکان کو دیکھنے لگی
” مجھے گھور کے دیکھ رہے ہیں وہاں سے،مجھے بچاؤ پلیز ۔۔۔”
وہ حکان کے گلے لگی تھی۔ حکان پہلے حیران ہوا اور پھر اسے بانہوں میں بھر لیا۔
” ہشش!!! سو جاؤ اکاسمہ۔۔۔۔ تم سونا چاہتی ہو اس وقت، آنکھیں بند کرو، جب تم آنکھیں بند کر لو گی تو تمہیں کچھ نظر نہیں آئے گا۔۔۔۔ تم میری بانہوں میں محفوظ ہے اکاسمہ۔۔۔ بےحد محفوظ!!”
وہ نرمی سے، اکاسمہ کو خود سے لگائے، اس کے کان کی لو پہ سرگوشی کر رہا تھا ۔
جب وہ خود سے متعلق اپنا علاج کروا رہا تھا۔
Dissociative identity disorder۔۔۔
سے متعلق اس نے بہت سے سائٹس اور بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا تھا اور تب اس نے یہ بھی پڑھا تھا کہ نیند میں چکنے والے انسان کو، آپ اپنی نرم سرگوشی سے، پیرالائز کر سکتے ہیں۔ وہ آپ کو سنتا ہے اگر وہ نیند میں بھی آپ پہ اعتبار کرتا ہے تو !!!
وہ اب، حکان کی گردن میں، منہ چھپائے منمنا رہی تھی۔ وہ کیا بول رہی تھی؟ یہ سمجھنا مشکل تھا لیکن اس کی گرم سانسیں، اور بھیگے لب وہ اپنی جلد پہ محسوس کر رہا تھا۔ آہستہ آہستہ وہ منمناہٹ بھی ختم ہو گئی تھی اور وہ پھر سے گہری نیند میں جا چکی تھی۔
حکان نے اسے بانہوں میں بھر کے، بیڈ پہ لٹایا، اس کے اوپر کمفرٹر ٹھیک کیا اور خود صوفے پہ جا کے نیم دراز ہو کے، اس کے سوئے وجود کو دیکھنے لگا۔ اکاسمہ خطرے میں تھی۔ نیند میں چلنا، بےحد خطرناک بھی ثابت ہو سکتا تھا اس کے لئے۔
” اوہہ!!”
اس نے گہرا سانس لیتے، خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ طے کر چکا تھا کہ وہ کل ہی مسفرہ سے بات کرے گا اکاسمہ کے بارے میں۔
اپنی گردن، بےچینی سے سہلاتا، وہ اب صوفے کی پشت پہ، سر ٹکا کے آنکھیں موند گیا تھا۔

■■■■■■■■■□□□□□□□□□□□■■■■■■■

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *