Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 10

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 10

اس کے قدم رک چکے تھے ، وہ حیران آنکھوں سے اپنے سامنے ان آگ کے شعلوں کو دیکھ رہی تھی جو اپنی لپیٹ میں اس گھر اور اس گھر کے مکینوں کو لے چکی تھی، ارد گرد کے موجود مکانوں میں سے لوگ نکل آئے تھے لیکن کوئی ہمت نہیں کر پا رہا تھا کہ آگے بڑھے اور اس آگ کو بجھا سکے ، شاید اب تو چیخیں بھی دب گئی ہوگی اس جلتے کچے مکان کے راکھ تلے ۔ وہ تیزی سے آگے بڑھی تھی تاکہ اپنے گھر کے مکینوں کو بچا سکے لیکن اس کی کلائی کسی نے اپنی مضبوط گرفت میں جکڑی تھی ۔ یہ وہی ماسک والا آدمی تھا جس کی آنکھیں اس رات بےحد خوفناک تھی ۔ لمحے بھر کے لئے وہ سکتے میں گئی تھی اور پھر اپنی کلائی اس کی گرفت سے چھڑانے کی تگ و دو کرنے لگی وہ ۔
” چھوڑ دو میرے کو ”
” کہا تھا ناں۔ ”
اس کی کلائی پہ اپنی گرفت مزید مضبوط کرتے وہ پھنکارا تھا ۔
” کیا کہا تھا میں نے کہ اگر کورٹ کے آس پاس نظر آئی یا اس اکاسمہ کے نزدیک بھی نظر آئی مجھے ، تو تمہارا خاندان جلا دوں گا ۔ دیکھ جل رہا ہے ، دیکھ دیکھ ”
اس پسماندہ بستی کو پوچھنے والا بھی تو کوئی نہیں تھا تبھی وہ دھڑلے سے آ کے سب جلا کے راکھ کر گیا ۔
” جانے دے میرے کو ، میری ماں ، ماں، میری بہنیں۔ ”
وہ رو رہی تھی۔
” سب جلا کے راکھ ہو چکے ہیں۔ پٹرول، ایسڈ اور پھر ماچس کی بس ایک تیلی اور سب ختم ۔۔ ”
وہ سفاکیت سے کہہ رہا تھا ، پمی کے رونے میں مزید شدت آئی تھی۔ وہ کورٹ سے سیدھا یہاں آئی تھی کہ خود کے لئے انصاف کی خوشخبری وہ اپنے گھر والوں کو سنا سکے لیکن یہاں تو سب راکھ کا ڈھیر بن چکا تھا ۔ اس شخص نے پمی کو دھکا دے کے نیچے گرایا تھا ۔
” اب جا کے ان آگ کے شعلوں میں جلتے ان بوسیدہ ہڈیوں پہ اپنی جیت کا جشن منا ۔ تجھے انصاف مل گیا ، مبارک ہو ”
وہ سفاکیت سے کہتا لمبے ڈگ بھرتا جا رہا تھا جبکہ پمی وہیں بیٹھی اپنا ماتھا پیٹتی ، اپنے بال نوچتی ماتم کناں تھی ۔
‘ جب کسی کا ریپ ہوتا ہے اور سب کہتے ہیں کہ عزت چلی گئی ، عزت چلی گئی لیکن تم خود تو اس کے پاس اپنی عزت کا جنازہ اٹھوانے نہیں گئی تھی ، زبردستی ہوئی ہے تمہارے ساتھ، عزت تو ان کی گئی ہے ، بےعزت تو وہ ہیں، وہ عزت کے دعویدار لوگ ۔ ‘
اسے اکاسمہ کے الفاظ یاد آئے تھے۔
‘ صاب وہ چار آدمی اپنی من مانی کر کے جا رہے تھے صاب اور میں، صاب میں خود کو سمیٹنا چاہتی تھی جب کوئی مجھ پہ حملہ آور ہوا صاب ، وہ نقاب میں تھا صاب ، مجھ سے زبردستی کرنے لگا ، میں چیخی ، چلائی تو وہ چاروں بھی آ گئے اور پھر صاب میرے کو نہیں یاد صاب ، پر وہ سب مجھے گھسیٹنے لگیں ، میں دیکھ نہیں پا رہی تھی صاب ، پر صاب ان میں سے ایک زخمی ہوا ، میرے کو چھوڑ کے وہ سب آپس میں لڑنے لگیں ، میں چھپ گئی صاب ، عزت تو چلی گئی تھی صاب، بس یہ جان باقی تھی وہی بچا رہی تھی صاب ، کیا کریں صاب ڈر بھی تو لگتا ہے موت سے ، بہت ڈر لگتا ہے ، وہ ماسک والا آدمی ان میں سے ایک کو مار چکا تھا اور باقی تین بھاگ گئے تھے ، وہ مجھے ڈھونڈنے لگا صاب ، اس کی آواز بہت دردناک تھی صاب، بہت بھیانک ، صاب ایک بات کہتی میں، ‘
وہ آنسو بھری آنکھوں سے عاریز کو دیکھ رہی تھی ۔
” صاب بہت اذیتناک لمحہ ہوتا ہے صاب ، جب ک ۔۔ کسی بھی gender ، چاہے عورت ہوتا یا چاہے ۔۔۔ ”
وہ خاموش ہوئی تھی اور پھر کہنے لگی تھی ۔
” یا م ۔۔ میرے جیسی کوئی ، پر صاب جب جسم اپنی مرضی کے بنا کسی درندے کے ہاتھ میں ہوتا اور پھر بہت سے درندے مل کے اپنی من مانی کرتے صاب ، تب صاب تب پورا وجود ، پورا جسم چیختی ہے صاب ، جب کپڑا اترتا ہے صاب ، اور ان درندوں میں سے ہر ایک اپنی باری کے لئے بولی لگاتا ہے ، صاب تب یہی لگتا صاب کہ گندگی میں لتھڑ رہا ہے اپنا وجود ، بدبو میں دھنس رہا ہے اپنا وجود ، صاب تب مردہ لاش بن جاتا پورا وجود اور یہی شکایت کرتا اپنے رب سے ، کہ صاب ۔۔۔ کہ اس کیچڑ سے اٹھا لے میرے اس بوسیدہ وجود کو ۔ صاب بہت مشکل ہے صاب ۔ ”
وہ رو رہی تھی جبکہ عاریز کے لب بھینچ گئے تھے ۔
” میں تیسرا مخلوق ہے صاب ، پر میرا وجود تو میرا ہے ناں، کوئی گندا ہاتھ لگائے تو صاب بہت درد ہوتا ہے ۔ بہت اذیت ہوتا ہے صاب ، میں گندا ہوچکی صاب پر اپنی بہنوں کو گندا نہیں ہونے دے گی صاب ‘
اور ابھی وہ اس آگ کے شعلوں کو دیکھ رہی تھی جس میں اس کی ماں اور دو بہنیں خاکستر بن گئی تھی ۔ کہیں سے فائر بریگیڈ کے سائرن کی آواز آئی تھی اور پھر اگ بجھانے کی کوشش ہو رہی تھی لیکن اسکی بھیگی آنکھیں ساکت ہو چکی تھی۔

☆☆☆☆¤¤¤¤¤☆☆☆☆☆

” نماز پڑھتے ہوئے حملہ آور ہوا ہے ، پیٹھ پہ وار کیا ہے۔ ”
سردار اطلاع دے رہا تھا ۔
” اور اس پہلے کہ ہم قریب جاتے ، اسی تیزی دھار چھری سے اس نے اپنے گردن کی رگ کاٹ لی ۔ ”
خیام لب بھینچے سن رہا تھا ۔
” کس کا آدمی تھا وہ ؟؟”
وہ پوچھنے لگا جبکہ سردار نے سر نفی میں ہلایا تھا ۔
” نہیں پتہ سر ، کہ وہ کون تھا اور کس کا آدمی تھا لیکن اسے ہفتہ ہوا تھا آئے ہوئے ۔ کسی سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا ۔ ”
اس کی بات پہ خیام نے سر اثبات میں ہلایا تھا اور طیب کی طرف متوجہ ہوا تھا جو ابھی آیا تھا اور اس کا منتظر تھا ۔ کانسٹیبل کو اشارہ کرتا وہ اس کمرے سے باہر نکلا تھا ۔
” کیا رپورٹ ہے طیب ؟”
” سر زخم کافی گہرا لگا ہے لیکن ہوش آ چکا ہے ۔ ”
طیب کی بات پہ سر اثبات میں ہلاتا وہ لب بھینچے گلاس وال سے باہر دیکھنے لگا ۔
” یہ وہی ہے ناں، جس کی فائل لائیر اکاسمہ کو ملا ہے ؟”
” یس سر وہی ہے ”
طیب نے جلدی سے جواب دیا تھا ۔
” ہمممم، اس کے تین سال پہلے کی پوری فائل ، ڈیٹیلز اور اس کے کیس ری اوپن کرنے کی جتنی بار اپیل مسترد ہوئی ہے ، وہ سب میری ٹیبل پہ ابھی حاضر کرو ۔ ”
وہ سنجیدگی سے کہتا اپنے آفس روم میں داخل ہوا تھا ۔
” بٹ سر، ہم آپ کو دے تو چکے ہیں۔”
طیب بولتا اس کے پیچھے آیا تھا جب خیام مڑ کے اسے بےحد سنجیدگی دیکھنے لگا۔
” سب مطلب سب ”
اور طیب نظریں چرا کے
” اوکے سر ”
کہتا اب دوسرے کیبن میں گیا تھا جہاں پڑی بہت ساری فائلز میں سے ، اسے ازمائر شاہ کی فائل ڈھونڈنی تھی ۔

☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆☆

” ایسے گھور گھور کے کیوں دیکھ رہے ہیں آپ مجھے سر ؟؟”
شازم خان جو غور سے اپنی اسٹوڈنٹ، جو اب اتفاق سے ان کی بہو ہونے کے عہدے پہ بھی فائز ہو چکی تھی، دیکھ رہے تھے ، جب اکاسمہ نظریں چراتی پوچھنے لگی جبکہ وہ نفی میں سر ہلا گئے ۔
” نتھنگ ۔۔ ”
گہرا سانس لیتے وہ کوئی فائل دیکھنے لگے ۔
” سر میں چلتی ہوں، بابا بھی آ گئے ہونگیں اسلام آباد سے ۔ ”
وہ چونکے تھے اور پھر سر اثبات میں ہلایا تھا ۔
” اللہ حافظ۔ ”
کہہ کے وہ اپنا بیگ اٹھا کے آفس سے باہر نکلی تھی ۔ شام کے سات ہو رہے تھے اور اسے جلد سے جلد گھر پہنچنا تھا کیونکہ ڈنر سب ساتھ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے آج۔ اس کے موبائل پہ کال آنے لگی جسے آفس سے نکلتے وہ ریسیو کر چکی تھی جو فیاض حیات کا تھا ۔
” بابا اسلام علیکم، میں گھر ہی آ رہی ہوں۔ ”
” مت آو گھر ”
ان کی گرجدار آواز سنائی دی تھی جبکہ اکاسمہ کے چلتے قدم رکے تھے ، سانس بند ہونے کو آئی تھی اور جسم جیسے بےجان ہو رہا تھا ۔ وہ بابا بھی کہہ نہ پائی ، دل ڈوبتا جا رہا تھا جیسے ۔
” جس بیٹی پہ اعتبار اور یقین کر کے ، پڑھایا لکھایا اور وکیل بنایا ، کیونکہ یہ خواہش تھی اس کی، اسی بیٹی نے آج سر شرم سے جھکا دیا ہے میرا ۔ ایک باپ کا اعتماد توڑ دیا ہے ۔ میرے گھر کے دروازے بند ہیں اب سے تم پہ، شرم سے سر جھکا دیا ہے میرا تم نے ۔ ذلیل کیا ہے اپنے باپ کو ”
وہ چلا رہے تھے جبکہ اس کی آنکھوں میں آنسو جمع ہونے شروع ہو چکے تھے۔
” ب ۔۔۔ بابا میں کہاں جاؤں گی ؟؟”
وہ بھرائی آواز میں بمشکل پوچھ رہی تھی ۔ الفاظ تو جیسے دم توڑ رہے تھے ۔
” اسی شخص کے پاس، جس کے ساتھ مل کے اپنے باپ کے منہ پہ کالک مل چکی ہو ۔ ”
ساتھ ہی کال ڈسکنیکٹ ہو گئی تھی۔
” بابا ۔۔ ”
لب نیم وا یوئے تھے اس کے، قدم لڑکھڑائے تو گاڑی پہ ہاتھ رکھ کے اس نے سہارا لیا تھا ، خود کو گرنے سے بچانے کے لئے ۔ اس سے بےحد محبت کرنے والے اس کے بابا کیا کہہ گئے تھے ؟؟ اپنی ہی بیٹی کو اپنے ہی گھر سے بےدخل کر دیا تھا۔ کیوں؟؟ وہ قدم اٹھانا چاہ رہی تھی تاکہ گاڑی کا دروازہ کھول سکے ، جب اچانک پیچھے سے اس کی گردن کے گرد مضبوط بازو لپیٹ لیا گیا تھا اور ایک رومال بھی اس کے منہ پہ رکھا جا چکا تھا ، وہ اپنے بےجان ہوتے وجود کو حرکت دیتی مزاحمت کرنے کی کوشش کرنے لگی لیکن بےسود ہی رہا، کیونکہ گرفت مضبوط تھی اور کچھ ہی دیر میں آنکھیں بند ہو گئی تھی اس کی اور وہ نیچے گر پڑی تھی جبکہ بلیک ماسک کے پیچھے سے وہ خوفناک مسکراتی آنکھوں کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی تھی ۔
” کہا تھا ناں، موت کا مزہ اب چھکو گی تم اکاسمہ حیات۔ ”
گہری سرسراتی اواز کی سرگوشی ہوئی تھی۔

☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆☆

” مس اکاسمہ کہاں ہے ؟؟”
عاریز خان وہاں موجود رابعہ سے پوچھ رہا تھا ۔
” سر وہ تو عصر کو ہی یہاں سے چلی گئی تھی جیسے ہی ان کا کیس ختم ہوا تھا ۔ ”
” ہممم ”
اس نے اثبات میں سر ہلاتے پھر سے اکاسمہ کے نمبر پہ کال کی تھی ، رنگ تو جا رہی تھی لیکن کوئی ریسیو نہیں کررہا تھا، لب بھینچے وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔
” کہاں ہو اکاسمہ تم ؟؟”
موبائل پہ آتے کال نے اس کی توجہ مبذول کی تھی جو شازم خان کی تھی۔
” ہیلو ڈیڈ۔ ”
” ہاں عاریز کہاں ہو تم بیٹا ؟”
انہوں نے چھوٹتے ہی سوال کیا تھا۔
” میں کورٹ میں ہوں ابھی ”
عاریز کے جواب پہ انہوں نے ہنکارا بھرا تھا۔
” جلدی میرے آفس پہنچو، میری کار خراب ہے ، ہم دونوں فیاض حیات کے گھر جا رہے ہیں۔ ”
” اس وقت؟؟”
عاریز نے حیرانی کا اظہار کیا تھا۔
” بلکل اسی وقت ، تم دونوں کی بیوقوفی میں ، میں اپنے دوست کو نہیں کھونا چاہتا ۔ جلدی پہنچو ”
وہ بےحد سنجیدہ لگ رہے تھے ، عاریز بھی مثبت جواب دیتا کال ڈسکنیکٹ کرتا ، اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تھا کہ اسے جلد سے جلد شازم خان کے آفس پہنچنا تھا لیکن وہاں پہنچ کے اس کی پہلی نظر اکاسمہ کے گاڑی کی طرف گئی جو وہیں باہر کھڑی تھی۔
” اکاسمہ کی کار یہاں ہے ؟؟”
لب بھینچے وہ کچھ سوچتا گاڑی سے باہر نکلا تھا اور بھاری قدم اٹھاتا وہ اکاسمہ کے کار کی طرف بڑھا تھا جہاں قریب ہی اسکا موبائل پڑا ہوا نظر آیا تھا اسے ۔ دھڑکتے دل کے ساتھ، منفی سوچوں کو اپنے دماغ سے جھٹکنے کی کوشش کرتا وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا تو پاس ہی اس کے بالوں میں لگا کیچر بھی گرا نظر آیا تھا ۔
” اکاسمہ ۔ ”
الفاظ اس کی زبان پہ ہی لڑکھڑا گئے تھے اور ذہن مفلوج ہو چکا تھا اکاسمہ کو خطرے میں سوچ کے ہی ۔

☆☆☆¤¤¤¤¤¤☆☆☆☆☆

” میں پوری طرح پھنس چکا ہوں یار ، کل میں دیکھ رہا تھا ، میری ویڈیو اپلوڈ ہو چکی ہے ”
بارز اپنی گردن سہلاتا پریشان لہجے میں کہہ رہا تھا جبکہ انس اسے دیکھنے لگا۔
” ک ۔۔ کیسی ویڈیو؟؟”
انس بھی ڈرتے ڈرتے پوچھ رہا تھا، کچھ دیر پہلے اس سے بھی تو ویڈیو مانگی گئی تھی اور نہ دینے کی صورت میں قتل کی دھمکی بھی دی گئی تھی ۔ بارز کی آنکھوں میں بھی خوف کی پرچھائیاں تھی ۔
” ک ۔۔ کیا تم بھی کوئی ویڈیو سینڈ کر چکے ہو انہیں؟؟”
” ک ۔۔ کیسی ویڈیو؟؟”
انس نظریں چراتے پوچھنے لگا جبکہ بارز غور سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” وہی جو مجھ سے مانگی گئی تھی ، جو وہ سب سے مانگتے ہیں، جس کے بارے میں ہم کھبی اپنے پیرنٹس کو نہیں بتا سکتے کہ ہماری کیسی ویڈیو بنا کے ہم سینڈ کر چکے ہیں”
انس لب کاٹتے خود میں سمٹ کے بیٹھ گیا تھا ۔
” ک ۔۔ کس کے ساتھ بنائی تھی وہ ویڈیو تم نے ؟؟”
بارز نظریں جھکا گیا۔
” میں ہی ہوں اس میں بس اور تم ؟؟”
وہ اب انس کو دیکھتا اس سے پوچھ رہا تھا۔
” میرے ساتھ حسن بھی تھا ۔ ”
آنکھوں میں آنسو جمع ہو گئے تھے جبکہ بارز گہرا سانس لیتا لب کاٹنے لگا ۔
” وہ لوگ اب ہم سے اور بھی بہت سے کام کروائیے گیں انس ، سارے گندے کام اور ہمیں کرنا ہوگا ورنہ ہمیں مار دیا جائے گا ”
انس اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
” مجھے ڈرگ سپلائی کا بول رہے ہیں۔ ”
بارز نفی میں سر ہلاتا انس کو دیکھ رہا تھا ۔
” اور مجھے ۔۔۔۔ ک ۔۔ کسی لڑ ۔۔۔ لڑکی سے غیر اخلاقی ویڈیو بنانے کا کہہ رہے ہیں۔ ”
” یہ ہمارے ٹاسک ہیں بارز ، جسے ہم نے اپنی آخری سانس تک پورا کرنا ہے ، ورنہ ہم مار دئیے جائے گیں ”
انس کی آواز کانپ رہی تھی۔
” اس سے بہتر ہے ہم مر جائیے ، میری بہن لائیر ہے اگر اسے میرے بارے میں پتہ چلا تو ؟؟ میرا بھائی، میرے بابا اور امی ۔ ”
وہ رونے لگ گیا تھا اور اسے دیکھتے دیکھتے انس بھی رو پڑا۔
” میرے ڈیڈ تو جوڈیشری میں ہے ، ان پہ کیا بیتے گی جب انہیں پتہ چلے گا۔ ”
اور اس بند کمرے میں ایک بیڈ پہ بیٹھا رو رہا تھا جبکہ دوسرا اس سے فاصلے پہ کارپٹ پہ بیٹھا رو رہا تھا کہ دوستوں کی باتوں میں آ کے ، اس Deep web جا کے انہوں نے اپنی پوری زندگی برباد کر دی تھی اور اب باہر جانے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا ۔

☆☆☆¤¤¤¤¤☆☆☆☆☆☆☆☆

” نہ جانے کیسی جان ہے اس کی، وہ پھر سے بچ گیا ہے ”
رخسار فاروقی چلا رہی تھی جبکہ وجدان ملک مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” اتنی جلدی تو سکون ملنا نہیں تمہیں، ہاں اتنا ہو سکتا ہے کہ کیس کچھ دنوں کے لئے ملتوی ہو جائے گا ”
رخسار لب بھینچ گئی۔
” کیس اس لائیر اکاسمہ کے ہاتھ میں ہے، وہ سب منٹ میں ٹھیک کر دے گی اور میں جیل کی ہوا کھاؤں گی، وجدان ملک کچھ کرو ”
وجدان ملک دل کھول کے ہنسنے لگا اور جب بہت سارا ہنس چکا تو اسے دیکھنے لگا۔
” کچھ نہیں ہوگا، ہم کچھ ہونے نہیں دے گیں، مسز اکاسمہ عاریز خان، فی الحال اپنی نجی زندگی کو ٹھیک کرنے کی کوشش میں ہے، اس کے ہیڈن نکاح کی خبر، فیاض حیات کو مل چکی ہے اور اب ایک جنگ کا آغاز ہے وہاں، وہ نہ جانے کب نکلے ان الجھنوں سے۔ ازمائر شاہ بھی ہاسپٹل بیڈ پہ ہے تو ابھی سب سکون ہے ”
رخسار نے اپنا سر تھام لیا۔
” یہ تو سب temporary ہے، خطرے کی سولی تو میرے سر پہ لٹک رہی ہے ناں۔”
” ہم انہیں پھر سے، کہیں اور الجھا دیں گے۔ یو ڈونٹ ووری، تمہیں ابھی میرا کام کرنا ہے ”
وجدان ملک اب سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” کیا کہنا ہے مجھے اب ؟”
رخسار جھنجھلائی تھی جبکہ وہ پراسرار انداز میں مسکرایا تھا۔
“بلیک منی ٹرانسفر، جو ادھورا رہ گیا تھا، اسے مکمل کرنا ہے اب تم نے ”
رخسار لب بھینچ گئی تھی۔
” مجھے ڈر لگ رہا ہے ”
” میں نے بتایا تھا کہ ۔۔۔ ”
وہ رک گیا تھا جبکہ رخسار اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
” تمہاری نازک سی جان اب میری مٹھی میں ہے، مجھ سے سیاست مت کھیلو، جیت نہیں سکتی تم ”
وہ خاموش ہی رہی جبکہ وجدان ملک اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
” میں چلتا ہوں اب ”
وہ لمبے ڈگ بھرتا جا رہا تھا جبکہ رخسار آنکھوں میں بیزاری لیے، اسے جاتا دیکھنے لگی۔ عجیب مشکل میں پھنس گئی تھی وہ آج کل۔ ایک طرف وہ مسفرہ جو ہر دوسرے دن اس کے سامنے آ کے، اسے اس کا ماضی یاد دلاتی ہے، دوسری طرف ازمائر جو زندہ بچ گیا اور آگے سے یہ وجدان ملک، جو اس کا خون خشک کیے جا رہا تھا۔
☆☆☆☆☆☆¤¤¤¤¤☆☆☆☆☆☆

اس کی آنکھیں دھیرے دھیرے کھل رہی تھی، پلکیں جھپکنے پہ ، پہلے سب تاریک سا محسوس ہوا تھا اور پھر بار بار پلکیں جھپکنے پہ وہ اپنے ارد گرد کا ماحول دیکھنے لگی ۔ یہ کوئی نیم تاریک کمرا تھا ، جہاں سوائے ایک روشندان کے بس ایک دروازہ تھا جو اس کمرے میں آنے جانے کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ کمرا مکمل خالی تھا ۔ اس کے دونوں ہاتھ پشت پہ بندھے ہوئے تھے اور منہ پہ ٹیپ لگا ہوا تھا ۔ وہ بمشکل خود اٹھنے کی کوشش کرتی ادھر ادھر دیکھنے لگی، اپنی پشت پہ بندھے دونوں ہاتھوں کو بار بار جھٹکا دے کے ، کھولنے کی کوشش کرنے لگی لیکن دونوں ہاتھ بےحد مضبوطی سے بندھے ہوئے تھے ۔ کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور وہ شخص اندر آیا تھا، اس کے بھاری بوت کی آواز کمرے کی خاموشی میں گونج رہی تھی، اکاسمہ اسے دیکھنے کی کوشش کرنے لگی جبکہ وہ بلیک ماسک میں موجود شخص اس کے قریب آ کے ، اس کے بےحد قریب بیٹھ چکا تھا ۔
” ویلکم خوبصورت سی چڑیا ”
وہ سرسراتی اواز میں سرگوشی کر رہا تھا جبکہ اکاسمہ سپاٹ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس شخص نے ہاتھ بڑھا کے اکاسمہ کے گال چھونے چاہے اور اکاسمہ نے نفرت سے سر جھٹکا تھا ۔
” دیکھنا چاہو گی مجھے ؟؟ کون ہوں میں ؟؟”
وہ اب پھر سے سرگوشی کر رہا تھا۔
” ایک منٹ ”
اور پھر اس نے اپنا ماسک اتارا تھا جبکہ اکاسمہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ ماسک کے پیچھے چھپے شخص کے چہرے کو اس نے پھٹی آنکھوں سے دیکھا تھا ۔

☆☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆☆

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *