The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 47
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 47
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 47
جیسے ہی اکاسمہ نے گھر میں قدم رکھا تو شام کے چھ بج چکے تھے۔ گھر میں خاموشی تھی جبکہ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی آگے بڑھنے لگی لیکن اسے رکنا پڑا۔ حیران نظروں سے اس نے لاؤنج کی حالت کو دیکھا۔
ہر طرف ٹیبل سے اٹھا کے چیزوں کو نیچے پھینکا گیا تھا۔ صوفے پہ رکھے ہوئے کشن نیچے پڑے ہوئے تھے جیسے کسی نے اپنا غصہ ان سب چیزوں پہ اتارا ہو۔
اس کی نظر حکان پہ گئی جو فرش پہ، گھٹنے پیٹ سے لگائے لیٹا ہوا تھا۔
” حکان ۔۔۔ ”
بیگ اور پیکڈ کھانے کا پیکٹ، وہیں رکھ کے، وہ تیزی حکان کے قریب آ کے، اسے دیکھنے لگی۔
” حکان ۔۔۔ حکان کیا ہوا ہے ؟؟”
اس کا چہرہ چھوتی، وہ بار بار اسے پکار رہی تھی جب حکان نے دھیرے سے آنکھیں کھول کے اکاسمہ کو دیکھنے کی کوشش کی۔
” ا۔۔۔۔کاسمہ، آہ !!! میرا سر ”
وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگا جب سر میں شدید درد کی لہر اٹھی اور وہ سر تھام کے رہ گیا۔ اکاسمہ نے اسے اٹھنے میں مدد دی۔
” اٹھو یہاں سے ”
اٹھتے ہوئے، حکان کی نظر، اردگرد بکھری چیزوں پہ گئی تو رک کے وہ اپنا سر تھام گیا۔
” یہ سب ؟؟؟ یہ ۔۔۔ میں نے کیا ہے ؟؟”
اکاسمہ نے اچھنبے سے اس کے سوالیہ چہرے کو دیکھا اور پھر بکھری چیزوں کو دیکھا۔
” مجھ سے گری ہیں۔۔ میں جب آئی تو لائٹ نہیں تھی اور ہاتھ لگنے سے، چیزیں نیچے گرتی گئی۔ تم ۔۔۔۔ اٹھو، صوفے پہ بیٹھو”
اکاسمہ نے اسے اٹھنے میں مدد دی اور اسے صوفے پہ بٹھایا۔ وہ اپنی کنپٹی سہلاتا، صوفے کی پشت پہ سر رکھ کے، آنکھیں موند گیا۔ اکاسمہ اسے پریشان نظروں سے دیکھتی، نیچے پڑی چیزوں کو اٹھاتی، جگہ پہ رکھنے لگی۔
حکان کی ہر روز بگڑتی حالت دیکھ کے، اسے گھبراہٹ ہونے لگی۔ وہ ٹھیک ہو رہا تھا، میڈیسن ٹائم پہ لے رہا تھا تو پھر ایسا کیا ہو رہا ہے جو اس کے دماغ پہ اثر ڈال رہی ہے۔
اسے اب کچھ کرنا چاہئے۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کل ہی وہ حکان کے ڈاکٹر سے ملے گی۔ وہ ایسے حکان کو روز بروز بدتر ہوتا نہیں دیکھ سکتی تھی۔ یہ اس کے لیے ناقابل قبول تھا کہ وہ اپنے شوہر کو، اپنی آنکھوں کے سامنے ختم ہوتا دیکھے۔ اس کے موبائل پہ کال آنے لگی۔
وہ بیگ سے موبائل نکال کے کان سے لگا کے سننے لگی
” ہیلو عفان ”
وہ آہستگی سے چلتی بالکونی میں گئی۔
” آواز کو کیا ہوا ہے تمہاری ؟؟”
عفان کے لہجے میں تشویش تھی۔
” نہیں، کچھ نہیں ”
وہ بےحد تھکی ہوئی سی گھر پہنچی تھی اور یہاں حکان کی خراب طبیعت نے مزید اسے پریشان کر دیا تھا۔
“ہمممم، میں نے سوچا کال کر کے بات کر لوں تم سے، ویسے تو ملاقات ہو نہیں پاتی تم سے، تو سوچا کہ کال کر لوں ”
” بہت اچھا کیا عفان۔ میں بھی تم سے بات کرنا چاہ رہی تھی، کاووس شاہ حد سے بڑھ رہا ہے، بار بار بہانے سے مجھ سے ملنے کی کوشش کرتا ہے اور ۔۔۔۔۔۔ اور مجھے عجیب میسج ریسیو ہو رہے تھے کہ عاریز کی قبر کے پاس، اسکے مرڈر کا ثبوت ملے گا اور جب میں گئی تو ۔۔۔۔وہاں ایک اور خالی قبر کھودی ہوئی ملی مجھے۔ ۔۔ یہ سب مجھے کاووس شاہ کا کیا لگتا ہے۔ اس جیسا بیہودہ اور بےشرم انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ۔”
عفان لب بھینچ گیا۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے نرم لہجے میں کہا۔
” تم پریشان مت ہو میری وکیل صاحبہ، جا کے آرام کرو، پھر بات ہوتی ہے ۔ ”
” ہمممم ٹھیک ہے ۔۔ اللہ حافظ ”
اکاسمہ کال بند کرتے اندر آئی جہاں حکان پریشان سا لاؤنج میں ٹہلتا نظر آیا اسے۔ وہ تیزی سے حکان کے پاس گئی۔
” حکان !!!”
اس نے حکان کے ہاتھ تھام کے اسے روکا۔
” بےچینی ہو رہی ہے اکاسمہ۔ دم گھٹ رہا ہے ”
پھر وہ گہرے سانس لے کے، خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
” میں self control نہیں کھونا چاہتا اکاسمہ،
Help …. help me please ”
اچانک سے وہ سر تھام کے چلایا ۔ اکاسمہ بوکھلا کے، اس کے قریب ہو کے، اسے کندھوں سے تھامنے لگی۔
” حکان ۔۔۔۔۔ ہششش، ۔۔۔۔ حکان میری طرف دیکھو ”
وہ حکان کا چہرہ اپنی طرف کر کے، اسے سکون دینے کی کوشش کرنے لگی جبکہ چلاتے ہوئے، اس نے اکاسمہ کو دھکا دے کے، خود سے دور کیا۔
” دور رہو مجھ سے اکاسمہ۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ نقصان پہنچا دوں گا تمہیں۔۔۔ پلیز دور رہو ”
وہ اچانک دیوار سے لگ کے، وہیں نیچے بیٹھتا گیا جبکہ دونوں ہاتھوں سے سر کو تھام کے، وہ وحشت بھری آنکھوں سے، اسے دیکھنے لگا۔
” تم ۔۔۔۔ تم وہی ہو نا، مجھ ۔۔۔۔ مجھ سے نفرت کرتی ہو، محبت نہیں کرتی تم مجھ سے۔۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔ عاریز خان سے محبت کرتی ہو”
وہ اچانک چیخا تھا جبکہ اکاسمہ خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” جاؤ، آہ!!!!! میں تمہیں نقصان پہنچا دوں گا۔۔۔۔ اکاسمہ جاؤ!!!!!”
وہ اب بھی چلا رہا تھا جبکہ اکاسمہ نفی میں سر ہلاتی اس کے قریب جانے لگی۔
” حکان ۔۔۔ میں محبت کرتی ہوں تم سے۔ دیکھو، یہاں دیکھو میں اکاسمہ ہوں، تمہاری اکاسمہ ۔۔۔۔ جس سے ہمیشہ تم نے محبت کی ہے، تم کبھی مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ مجھے اپنے قریب آنے دو پلیز حکان ”
وہ حکان کے قریب جاتے ہوئے،نرمی سے کہہ رہی تھی جبکہ حکان وحشت بھری سرخ آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” وہیں رکو ۔۔۔ رکو ”
وہ اچانک دھاڑا کہ اکاسمہ بھی کانپ کے رک گئی۔
” جھوٹ بول رہی ہو مجھ سے، تم جھوٹی ہو، جاؤ۔۔۔”
وہ اکاسمہ کو ہاتھ سے دھکا دیتا، خود تیزی سے بیڈ روم۔کی طرف بھاگا اور دروازہ لاک کر کے، وہ اپنا سر تھام کے چلانے لگا۔ اکاسمہ دروازہ بجانے لگی لیکن حکان نہیں کھول رہا تھا۔
اپنا موبائل اٹھا کے وہ حکان کے ڈاکٹر کو کال کرنے لگی۔
” ہ ۔۔۔ ہیلو ڈاکٹر عظیم، ح۔۔۔ حکان کو دورہ پڑا ہے، کمرے میں خود کو بند کر دیا ہے اس نے، وہ خود کو نقصان پہنچا دے گا ”
” میں نے اپ کو انجکشن دیا تھا اکاسمہ، آپ کوشش کر کے، وہ انجکشن لگائے مسٹر حکان کو، میں بھی پہنچ رہا ہوں ”
ڈاکٹر عظیم اسے آرام سے بتانے لگے۔
” ہ۔۔۔۔ ہاں ہاں یاد ہے مجھے، اوکے جلدی آئیے پلیز ”
کال بند کر کے، اس نے بھاگتے ہوئے، کبرڈ سے انجکشن اٹھایا اور کھول کے بنانے لگی پھر تیزی سے دروازے کے قریب پہنچی۔ اب حکان کی آواز نہیں آ رہی تھی۔
” ح ۔۔۔۔کان ، حکان مجھے سن رہے ہو ؟؟ ”
دوسری طرف مکمل خاموشی تھی۔
” حکان پتہ ہے کیا ؟؟ ایک دفعہ تم نے مجھے بتایا تھا کہ تم مجھ سے بےحد محبت کرتے ہو، پچھلے 8 سال سے تم نے مجھ سے بےپناہ محبت کی ہے۔ یاد ہے تمہیں، جب میں نے تم سے کہا تھا کہ میں بھی تم سے بےانتہا محبت کرتی ہوں، بےپناہ چاہتی ہوں تمہیں حکان ۔۔
حکان بہت چاہتی ہوں تمہیں، بےپناہ ، بےحد ۔۔۔ میں۔۔۔ میں جانتی ہوں کہ تم مجھے کبھی نقصان نہیں پہنچاو گے کیونکہ ۔۔۔ جن سے محبت ہوتی ہے انہیں کبھی نقصان پہنچانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، حکان پلیز مجھ سے بات کرو پلیز”
” ا۔۔۔۔ اکاسمہ”
دوسری طرف سے، حکان کی بھرائی آواز ابھری۔ اکاسمہ نے آنکھیں بند کر کے، اپنے آنسو روکنے کی کوشش کی۔
” حکان ۔۔۔ ”
” بہت ۔۔۔۔ بہت محبت کرتا ہوں تم سے۔۔۔۔ ”
حکان کی کانپتی آواز آئی ۔
” میں بھی محبت کرتی ہوں تم سے حکان، بہت زیادہ، پلیز دروازہ کھولو ۔۔۔پلیز حکان ”
اکاسمہ کی نرم آواز، اس کے دل پہ ہلکی برستی بارش کی مانند پڑ رہی تھی۔
” میں۔۔۔۔۔ نقصان پہنچا دوں گا تمہیں۔ مجھے ۔۔۔۔ ڈ۔۔۔ ڈر لگ رہا ہے ”
حکان کی آواز بےحد تھکی ہوئی تھی۔
” تم مجھے نقصان نہیں پہنچاو گے حکان، دروازہ کھولو پلیز ۔ پلیز ۔۔۔۔ پلیز حکان ”
کلک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا اور حکان باہر آیا ۔ اکاسمہ اسے دیکھ کے کھڑی ہوئی اور حکان کے سینے سے لگ کے، اس نے انجکشن اس کے بازو پہ انجیکٹ کیا۔ حکان پہلے حیران ہوا، بے یقینی سے اکاسمہ کو دیکھا جبکہ اکاسمہ اس کے نیچے گرنے وجود کو بانہوں میں بھر کے وہیں بیٹھ گئی۔ حکان کو اس نے ہمیشہ کی طرح اپنی بانہوں میں بھر رکھا تھا۔
نرمی سے اس کے بال سہلاتی، وہ اپنے امڈتے آنسو روکنے کی کوشش کرنے لگی۔ وہ اس شخص کو ٹھیک کر دینا چاہتی تھی، کیسے ؟؟ نہیں جانتی تھی لیکن وہ حکان ملک کے لیے ڈھال بن کے، اس کی مدد کرنا چاہتی تھی۔
●●●●○○○○○●●●●●○○○○○●●●●
” گڈ مارننگ ڈیڈ ”
عفان حیات کی آواز پہ موبائل چیک کرتا کاووس شاہ، اسے مسکراتی نظروں سے دیکھنے لگا جبکہ عفان، فیاض حیات سے مل کے، اب کاووس شاہ کو گھورنے لگا۔
” گڈ مارننگ brother ۔۔۔ آج صبح صبح دیدار نصیب ہو رہا ہے تمہارا، لگتا ہے دن بہت اچھے گزرنے والا ہے میرا ”
کاووس شاہ نے آنکھ ونک کرتے اسے دیکھا جبکہ وہ لب بھینچ گیا۔
” شٹ آپ ”
اس نے دانت پیسے جبکہ کاووس شاہ کندھے اچکا گیا۔
” چائے؟؟ کافی ؟؟ ناشتہ ؟؟”
” منہ بند رکھو تم ”
عفان اسے گھورتا، اب فیاض حیات کے قریب بیٹھ گیا۔
” کیسے ہیں آپ؟؟ طبیعت کیسی ہے ؟؟”
” ٹھیک ہوں، تم کیسے ہو عفان ؟؟”
” میں بھی بلکل ٹھیک ہوں، رات مما کے ہاں رکا ہوا تھا تو سوچا آج صبح آپ سے بھی مل لوں اور پھر ہاسپٹل چلا جاؤں۔”
” بہت اچھا کیا، ناشتہ ابھی لگنے ہی والا ہے ۔۔ ناشتہ کر کے جانا ”
فیاض حیات بےحد کمزور لگ رہے تھے ۔
” نہیں ڈیڈ، وہ اصل میں۔۔۔۔ ”
” ارے خطرے کی کوئی بات نہیں، ہمارا ناشتہ پاگل کتا نہیں بنا دیتا کسی کو ”
کاووس شاہ نے، عفان کی بات کاٹتے کہا جبکہ عفان اسے لب بھینچے گھورنے لگا۔
” کاووس !!”
فیاض حیات نے کمزور سی آواز میں اسے تنبیہہ کی۔
” اوکے ڈیڈ ۔۔۔ آپ دونوں باتیں کر لیں آپس میں، میں ہی چلا جاتا ہوں”
کاووس شاہ اپنی جگہ سے اٹھ کے جانے لگا جبکہ عفان نے لمبی گھوری دی اسکی پشت کو۔
باہر نکل کے، اس نے کال ریسیو کی۔
” بولو ۔۔۔ ”
اور پھر وہ دوسری طرف کی باتیں سننے لگا۔ ابرو اچکا کے، اس نے پیچھے مڑ کے، لاؤنج میں بیٹھے عفان کو دیکھا۔ عجیب تاثر ابھرا تھا اس کی آنکھوں میں۔
” ہممممم ۔۔۔ ”
نظریں پھیر کے، وہ اب سامنے دیکھتا باہر کی طرف جا رہا تھا۔
” نظر رکھو اور مجھے مزید معلومات دو ۔”
بات ختم کر کے، کال بند کرتا، وہ گاڑی میں جا کے بیٹھ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ اسے اب کیا کرنا ہے ؟؟ اسکا رخ کورٹ کی طرف تھا، اسے اکاسمہ سے ملنا تھا۔ بھلے وہ نفرت کا اظہار کرے لیکن تھی تو وہ اسکی بہن!! سگی بہن ۔۔۔
●●●●●○○○○○●●●●●●○○○○○●●●●●
” گڈ مارننگ ۔۔۔ ”
دروازہ کھولنے پہ، اسے اپنے سامنے رخسار فاروقی کھڑی نظر آئی۔ اسے اپنے کچھ دن پہلے کا خواب یاد آیا اور وہ لب بھینچ گئی ۔
” تم یہاں کیا کرنے آئی ہو رخسار ؟؟”
” اج ہماری ڈیٹ تھی ناں، تو میں گیارہ بجے کا ویٹ نہیں کر سکتی تھی، سوچا صبح صبح یہیں مل لیتی ہوں”
رخسار نے معصومیت سے کہا جبکہ مسفرہ اسے گھورنے لگی۔
“میں گھر پہ پیشنٹ نہیں دیکھتی، جاؤ یہاں سے ”
“کون ہے مسفرہ؟؟”
ازمائر کی آواز پہ وہ چونک کے مڑی۔
” کوئی نہیں، neighbors ہے ”
پھر مڑ کے رخسار کو دیکھا۔
” جاؤ یہاں سے رخسار ”
اس نے دانت پیستے کہا جبکہ رخسار مسکرانے لگی۔
” تم سے،تمہارا ہزبینڈ تو نہیں چھین رہی۔”
مسفرہ نے دروازہ بند کرنا چاہا لیکن رخسار نے اسے روک دیا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے کہ تم کب تک اپنے شوہر کو مجھ سے دور رکھ پاؤ گی ؟؟ ہر وقت کیا تم اس کے ساتھ ہوتی ہو ؟؟ سنو میں ہر رات اسے اپنے nudes سینڈ کرتی ہوں، میں کل اس کے آفس گئی تھی، اسے چھونے کی کوشش کی، یہاں، وہاں، اسکے جسم کے ہر حصے پہ۔ کیا ازمائر نے بتائی یہ بات تمہیں؟؟؟ وہ نہیں بتائے گا، کل کو شاید میرے اپارٹمنٹ آ جائے، مرد کو بہکنے میں وقت ہی کتنا لگتا ہے ؟؟ انہیں ایسی عورتوں میں زیادہ انٹرسٹ ہوتا ہے جو provoke کرے انہیں، اپنے جسم کی نمائش کر کے، انہیں تڑپائے۔ دیکھ لینا، آج رات میں تمہارے شوہر کو، اتنا اکساوں گی کہ وہ خود چلتا ہوا میرے اپارٹمنٹ آئے گا۔ ”
مسفرہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔
” میں میڈیسن continue رکھوں ڈاکٹر مسفرہ ؟؟”
مسفرہ اب بھی خاموش رہی۔
” چلو میں خود لے لوں گی، تمہارے کلینک کے فارمیسی سے ”
یہ کہہ کے وہ اب جا رہی تھی جبکہ مسفرہ گھر کے اندر داخل ہو کے، آہستہ روی سے چلتی اپنا موبائل ڈھونڈنے لگی۔
‘ رخسار فاروقی، میں نہیں جانتی کہ تمہیں دوسرے کے مردوں میں اتنی دلچسپی کیوں ہے ؟؟ کچھ عورتیں ایسی ہی فطرت کی ہوتی ہے کہ جب کوئی صرف ان کا ہو تو وہ در در دوسرے مرد کے لئے، بھٹکتی رہتی ہے اور جب وہ اس کا نہیں رہتا تو تب وہ اسکے پیچھے بھٹکتی ہے۔ رخسار فاروقی تمہارا بھی یہی مسئلہ ہے لیکن تم شاید مجھے جانتی نہیں ہو ۔ کیا تم نہیں جانتی کہ ایک سائیکیٹریسٹ جب وہ غیرمعمولی رائٹر بھی ہو، کیسے اپنا بدلہ لیتی ہے ؟؟ اس کے پاس نہ میڈیسن کی کمی ہے اور نہ ہی کسی بھی عام سین کو خاص بنا دینے کی صلاحیت۔
تم اپنے ہاتھوں خود مرو گی اب ۔۔۔ ازمائر شاہ کو مجھے مارنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی اگر وہ مجھے دھوکا دے رہا ہے تو میں زہر کا ایک گھونٹ خود پیوں گی اور دوسرا ازمائر شاہ کو دوں گی ‘
وہ اب موبائل پہ نمبر ڈائل کر رہی تھی۔
” جو میں نے کل بتایا تھا، وہی کرو ”
کال بند کر کے، وہ اب لب بھینچے ازمائر شاہ کو دیکھ رہی تھی جو آفس جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا۔
‘ مرد کو بہکنے میں وقت ہی کتنا لگتا ہے ؟؟ انہیں ایسی عورتوں میں زیادہ انٹرسٹ ہوتا ہے جو provoke کرے انہیں، اپنے جسم کی نمائش کر کے، انہیں تڑپائے۔’
اسکے ذہن میں رخسار فاروقی کی باتیں گونجنے لگی۔
‘ کیا میں ازمائر شاہ کو پہچاننے میں غلطی کر چکی ہوں؟؟ کیا سچ میں، وہ مجھے دھوکا دے گا ؟؟ نہیں!! میں نے اس شخص سے بےحد محبت کی ہے ، مجھے دھوکہ نہیں دے گا۔’
وہ اپنی سوچوں میں غلطاں تھی جب ازمائر کے لبوں کا لمس، اسے اپنے لبوں پہ محسوس ہوا، وہ چونک کے اسے دیکھنے لگی۔
” میں آفس جا رہا ہوں، تم کلینک نہیں جاؤ گی آج؟؟”
” جاؤں گی، لیٹ جاؤں گی آج ”
مسفرہ نے چونکتے ہوئے جواب دیا جبکہ ازمائر سر اثبات میں ہلاتا، زیر لب مسکرایا۔
” تو پھر شام میں ملتے ہیں”
اسے پھر سے اپنا محبت بھرا لمس سونپ کے آگے بڑھا جب مسفرہ نے اس کا بازو تھام کے اسے روکا۔ ازمائر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا جبکہ مسفرہ دیر تک اسے دیکھتی رہی۔ ۔
” کیا اب بھی محبت کرتے ہو مجھ سے ازمائر ؟؟”
” یہ کیسا سوال ہے مسفرہ ؟؟”
وہ اچھنبے سے مسفرہ کو دیکھنے لگا۔
” کیا کبھی مجھ سے محبت کی تم نے ازمائر شاہ؟؟”
مسفرہ نے دوسرا سوال کیا۔ ازمائر نے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر لیا۔
” مسفرہ؟؟ اف کورس ۔۔۔
I do love you ۔۔۔۔
میری جان۔ ”
” میرے جیسی محبت کی تم نے مجھ سے ؟؟”
نہ جانے اسے کیا ہو گیا تھا ؟؟ وہ اتنے عجیب سوال کیوں کر رہی تھی؟؟
ازمائر شاہ نے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور پھر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” جیل کی سلاخوں کے پیچھے،جب تم پہلی بار مجھ سے ملنے آئی تھی، جب تمہیں یہ لگا کہ تمہارے ناول کا وہ کیریکٹر، جس سے تم محبت کرنے لگی تھی، وہ تمہارے سامنے کھڑا ہے، اسی لمحے سے میں نے تم سے محبت کی ہے مسفرہ ۔۔۔ ”
مسفرہ ہلکا سا مسکرانے لگی جبکہ ازمائر شاہ نے اس کے بال سنوارے اور محبت بھری نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔
” آج ڈنر باہر کرے گیں، میں لینے آؤں گا تمہیں ”
مسفرہ بے اثبات میں سر ہلایا اور تھوڑا سا اوپر ہو کے، اس کی ٹھوڑی پہ اپنا محبت بھرا لمس چھوڑ کے پیچھے ہوئی۔
” میں انتظار کروں گی ”
ازمائر شاہ باہر نکلا جبکہ مسفرہ کی آنکھوں میں نمی آ ٹھہری۔ اسے بےوجہ رونا آ رہا تھا، بےوجہ اس کا دل بیٹھ رہا تھا جیسے بہت کچھ برا ہونے والا ہو، جیسے۔۔۔۔ وہ کھو دے گی ازمائر شاہ۔
پیروں میں سکت نہ رہی، تو وہیں گھٹنوں کے بل گر گئی اور پھر گھٹنوں کے گرد، اپنے بازو لپیٹ کے، وہ دیر تک خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کرتی رہی۔
●●●○○○○○●●●●●○○○○●●●●●
” ایسا کیسے ہو سکتا ہے ڈاکٹر عظیم؟؟”
اکاسمہ پریشان نظروں سے ڈاکٹر عظیم کو دیکھنے لگی۔
” میں ٹھیک کہہ رہا ہوں اکاسمہ، حکان کے بلڈ میں ان میڈیسنز کی مقدار کم ہیں جو میں نے تجویز کی ہے بلکہ ان کے مقابلے ان ڈرگز کی مقدار زیادہ ہے جو حکان کی یادداشت کو ختم کرنے اور اس کی
Dissociative Identity Disorder
کو increase کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ ”
” لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟؟ میں تو وہی میڈیسن دے رہی ہوں جو آپ نے prescription میں دی ہے ۔ ”
اکاسمہ سر تھام کے رہ گئی۔
” کوئی حکان کو ذہنی مریض بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اسکے ذہنی مسائل کو اس قدر provoke کر رہا ہے کہ وہ خود اپنی جان لینے سے دریغ نہ کرے ”
ڈاکٹر عظیم کی باتیں اس کا دل دہلا رہی تھی۔
” ایسا کون کرے گا میرے ساتھ ؟؟”
اچانک حکان کی آواز پہ دونوں چونک کے اسے دیکھنے لگے۔ اکاسمہ تیزی سے اٹھ کے، اس کے قریب آئی اور اس کا بازو تھام کے، اسے صوفے تک لانے اور بیٹھنے میں مدد دی۔ جبکہ حکان کی سوالیہ نظریں، ڈاکٹر عظیم پہ تھی۔
” وہی، جو آپ کی اس بیماری کے بارے میں جانتا ہے “
“ڈیڈ؟”
حکان کے اندازہ لگانے پہ، اکاسمہ لب بھینچ گئی۔ اس کی آنکھوں میں نفرت ابھری تھی وجدان ملک کے لئے۔
” میں تو اس شخص کے ساتھ میل جول نہیں رکھتا تو ؟؟”
وہ سوچنے لگا۔
” بات میل جول کی نہیں ہے حکان، وہ ڈرگز، کھانے کے ذریعے بھی تمہارے باڈی تک پہنچ سکتا ہے۔ کسی بھی ڈرنک یا کھانے میں ملا کے دیا جا سکتا ہے۔ مجھے کچھ میڈیسن دینی ہوگی آپ کو، جو آپ کے باڈی سے اس ڈرگ کو ختم کرنے میں helpful ہو اور ساتھ میں آپ کی mind stability کے لئے بھی میڈیسن لکھ رہا ہوں لیکن حکان پلیز تمہیں سیریس ہونا ہوگا ورنہ تمہارا دماغ ہمیشہ کے لئے مفلوج ہو سکتا ہے ”
حکان خاموش رہا جبکہ اکاسمہ پریشان نظروں سے ڈاکٹر عظیم کو دیکھنے لگی۔
” exercise on daily basis ..
انرجی شیک گھر میں بنا کے، کوشش کریں کہ باہر کے کھانے سے اجتناب کریں۔ اس سے آپ کی ہیلتھ بھی ٹھیک رہے گی اور آپ اس زہر سے بھی بچ سکو گے جو باہر آپ کاروائی دشمن آپ کو دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ مسٹر حکان، be careful …اپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتا ہوں کہ آپ کی فیلڈ کیا ہے ۔ لاکھ آپ خود کو شناخت کو چھپا کے بھی رکھےپھر بھی حکان، آپ کے دشمن، آپ تک پہنچ سکتے ہیں۔ ”
اکاسمہ کا دل کانپ رہا تھا، اس کے ہاتھوں کی لغزش، حکان کی نظروں میں آئی تو اس نے نرمی سے، اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ کی گرفت میں لے کے، ہلکا سا دبایا۔
اکاسمہ نے پلکیں اٹھا کے اسے دیکھا، اس کی آنکھیں نم تھی۔ اسکی آنکھوں میں حکان کو کھو دینے کا خوف تھا۔
” سب ٹھیک ہو جائے گا ”
حکان نرمی سے کہتا مسکرانے لگا جبکہ اکاسمہ بھی ہلکا سا مسکرا ڈاکٹر عظیم کو دیکھنے لگی۔
” ریلیکس اکاسمہ۔۔۔۔ حکان کا اور میرا ساتھ،کافی سالوں سے ہیں۔ انشاءاللہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ چلو میں چلتا ہوں،جب بھی ضرورت ہو،مجھے کال ضرور کرنا ”
اکاسمہ اثبات میں سر ہلاتی، ڈاکٹر عظیم کے ساتھ باہر تک گئی۔ حکان کے بارے میں سوال کرتی، وہ نیچے تک گئی ۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر عظیم کی گاڑی تک پہنچ گئے تھے دونوں ۔
” اکاسمہ میں ایک ہی بات کہوں گا، دھیان رکھو، اردگرد کے لوگوں پہ دھیان رکھو، آپ خود ایک وکیل ہو۔ تو اپ کو اندازہ ہوگا کہ ہر محبت اور دوستی سے پیش آنے والا انسان اتنا بھی اچھا نہیں ہوتا کہ اس پہ مکمل اعتماد کیا جا سکے۔ میں نرس کے ہاتھوں میڈیسن شام تک بھجوا دوں گا۔ ”
“تھینک یو ڈاکٹر عظیم ”
اکاسمہ ہلکا سا مسکرائی جبکہ ڈاکٹر عظیم گاڑی میں بیٹھ کے، جا چکے تو اکاسمہ بھی مڑ کے عمارت کی طرف جانے لگی جب اچانک کاووس شاہ سامنے آیا۔ اکاسمہ چونک کے رک گئی۔
” تم پھر آ گئے ”
” میں کورٹ گیا تھا، تم نہیں تھی وہاں، اپنے آفس میں بھی نہیں تھی تم ؟”
کاووس شاہ پریشان نظروں سے اسے دیکھتا کہہ رہا تھا ۔ نہ جانے اکاسمہ کی اتنی نفرت کے بعد بھی، اسے اپنی اس بہن میں، اتنی کشش کیوں محسوس ہوتی تھی۔
” دیکھو کاووس شاہ، تم میرے بابا کے بیٹے ہو، صرف میرے بابا کے بیٹے، مجھ سے اور میری فیملی سے دور رہو ”
وہ جانے لگی۔
” تمہاری اور حکان کی جان کو خطرہ ہے ”
اس نے اچانک کہا اور اکاسمہ اچانک رک کے اسے دیکھنے لگی۔
” تم میری بہن ہو اکاسمہ، تم ماننا بھی نہ چاہو، پھر بھی تم میری بہن ہو۔ اپنا موبائل دو پلیز ”
اکاسمہ اسے لب بھینچ کے دیکھ رہی تھی ۔
” موبائل دو اکاسمہ ”
اس کے ہاتھ سے جھپٹ کے موبائل لیتا، کاووس شاہ اسے دیکھنے لگا۔
” پاسورڈ؟؟”
آنکھیں گھماتی، اکاسمہ اس کے ہاتھ سے موبائل لے کے، اپنا پاسورڈ ڈالنے لگی اور پھر کاووس شاہ کی طرف بڑھایا۔ موبائل میں کچھ لکھ کے، اس نے دوبارہ سے موبائل اکاسمہ کی طرف بڑھایا۔
” یہ میرا نمبر ہے، اس کا کسی سے ذکر نہ کرنا، کسی سے بھی نہیں۔ کچھ بھی ہو اور تمہیں لگے کہ تم اب اس مسئلے سے باہر نہیں نکل پاؤ گی تو مجھے کال کرنا یا ایک میسج دے دینا، میں پہنچ جاؤں گا۔ ”
اکاسمہ اب بھی اسے سرد نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
” میں تمہیں کیوں کال کروں گی ؟؟ ہمارا گھر برباد کر لینے کے بعد، میں یہ کیوں چاہوں گی کہ تمہیں کال کروں ”
کاووس شاہ نے آبرو اچکائے اور دونوں ہاتھ پینٹ پاکٹس میں ڈالے۔
” ایک بات دھیان میں رکھو۔ تم ایک لائیر ہو لیکن تمہیں ایک detective کی طرح ہر پہلو پہ غور کرنا چاہیے۔ ایک prosecutor کی طرح ہر پہلو کو ہر اینگل سے دیکھنے کی صلاحیت رکھنی چاہیئے ۔
سی سی ٹی وی فوٹیج عام سی بات ہے۔ چیونٹی کی مانند کیمروں کی آنکھ سے تمہیں ہر سچویشن کو دیکھنا چاہئے۔
You are strong Akasma..
لیکن ہر خوبصورت نظر آنے والی چیز ضروری نہیں کہ اچھی ہو اور ہر بدصورت نظر آنے والی چیز بری “
ڈاکٹر عظیم بھی ایسے ہی باتیں کر گئے تھے اور اب کاووس شاہ بھی۔
وہ ماتھے پہ بل ڈال کے رخ موڑ کے جانے لگی جبکہ کاووس شاہ، مسکراتی آنکھوں سے اسے جاتا دیکھ رہا تھا۔ آدھے چہرے پہ ہلکی پراسرار مسکراہٹ تھی۔
●●●○○○○●●●●●○○○○○○●●●●●
” ہیلو ینگ لیڈی ”
وہ گھر میں جیسے ہی داخل ہوئی، اسے صوفے پہ ایک شخص آرام دہ انداز میں بیٹھا نظر آیا۔ رخسار بوکھلا کے چیختی پیچھے ہٹی۔
” کون ہو تم ؟؟”
” آپ کے سامنے والی بلڈنگ میں رہنے والا، آپ کا خاموش سا مداح ”
اس شخص نے للچائی آنکھوں سے، اسے سر سے پاؤں تک دیکھا جبکہ وہ نظریں چرا کے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
” تم اندر کیسے آئے؟؟”
اسے گھبراہٹ ہونے لگی۔
” آپ، جب صبح جا رہی تھی تو گاڑی میں بیٹھتے ہوئے، آپ کے ہاتھ سے یہ چابی نیچے گر گئی تھی۔ اچھا ہوا جو میں نے اٹھا لیا۔ اگر کوئی اور اٹھا لیتا تو ۔۔۔۔۔۔ نقصان ہو جاتا بہت ”
وہ اٹھ کے چلتا ہوا اس کے قریب آ رکا۔
” قریب سے تو اور بھی قاتل لگتی ہو تم مس ۔۔۔۔۔ رخسار فاروقی ”
ہلکا سا خم ہو کے، اس شخص نے اپنی سانسیں اس کے چہرے پہ چھوڑی جبکہ رخسار سر جھٹک کے پیچھے ہوئی۔
” تمہارا نام کیا ہے ؟؟”
وہ اب بھی اجنبی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” ڈاکٹر عفان حیات ۔۔۔۔”
اس نے مبہم سرگوشی کرتے کہا جبکہ رخسار کی آنکھوں میں حیرانی ابھری۔
” لائیر اکاسمہ حیات کا بھائی ؟؟”
” یس !!!”
وہ رخسار کی کمر کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے چھونے لگا جبکہ رخسار ابرو اچکا کے اسے دیکھنے لگی۔
” اسے میں کیا سمجھوں؟؟”
رخسار کے سوال پہ وہ دلکشی سے مسکرایا۔
” اجازت!!!”
لیکن رخسار کی آنکھوں میں دلکشی کو دیکھتا، وہ اسے کھینچ کے، اپنی بانہوں میں بھر گیا۔
●●●●●○○○○○●●●●●●○○○○○●●●
