Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 16

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 16

” شادی مبارک ہو Prosecutor عاریز خان”
عاریز خان جو ساڑھی میں ملبوس اکاسمہ کا ہاتھ تھامے اپنی ولیمے کا ریسیپشن اٹینڈ کر رہا تھا اور وہاں آئے مہمانوں سے مل رہا تھا جب ایک اجنبی اواز پہ نظریں گھما کے اس شخص کو دیکھا تھا لیکن اس کے لئے وہ شخص اجنبی ہی تھا جبکہ وہ اجنبی دلفریب مسکراہٹ چہرے پہ سجائے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا ۔
” لائیر اکاسمہ عاریز خان پلیز یہ فلاورز آپ کے لئے ”
” تھینک یو”
اکاسمہ اجنبی نظروں سے اسے دیکھتی بوکے تھام چکی تھی جبکہ اس کہ مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی تھی ۔
” آپ دونوں مجھے نہیں جانتے لیکن میں آپ دونوں کا بہت بڑا فین ہوں اور میں ایک جرنلسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا فوٹوگرافر ہوں، انٹرنیٹ کی دنیا میں گھومتے گھماتے، اکثر آپ دونوں کا انسٹاگرام چیک کرتا رہتا ہوں۔ ”
اکاسمہ مسکرا دی تھی جبکہ عاریز خان مسکرا بھی نہ سکا، وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
” میرا نام عدیل اکبر ہے ”
وہ پھر سے کہہ رہا تھا، اس سے پہلے عاریز کوئی جواب دیا یا سوال کرتا، خیام کے بلانے پہ وہ اس طرف متوجہ ہوا تھا اور اکاسمہ کو اپنے دوسرے پہلو میں کرتا، اس کی کمر کے گرد بازو کا گھیرا بناتا وہ مکمل عدیل اکبر کو نظرانداز کر گیا تھا جبکہ عدیل بھی اس کی اس حرکت کو غور سے دیکھتا زیر لب مسکراتا دوسری طرف چلا گیا تھا لیکن ایک گہری نظر اکاسمہ پہ ضرور ڈالی تھی جس کے ایک ہاتھ میں اب بھی بوکے موجود تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

“So My Dearest Mrs Lawyer ”
عاریز مسکراتا اس کے پیچھے کھڑا ہوا تھا جبکہ وہ کھڑکی کا در کھولے ہلکی ہلکی چلتی ہوا کو اپنے چہرے پہ محسوس کر رہی تھی۔ عاریز کے ہاتھ کا لمس اپنی کمر کے گرد محسوس کر کے، اس کی پشت بےساختہ عاریز کے سینے سے جا لگی تھی۔ اس کی گرم سانسوں کا شور اکاسمہ اپنے کان کی لو پہ محسوس کر رہی تھی، لبوں کا لمس اپنے گردن پہ محسوس کرتی وہ خود میں سمٹ گئی تھی ۔
” brave Lawyer ۔۔
کہنا چاہئے تمہیں Mr Prosecutor ”
عاریز مسکرا دیا تھا۔
” عاریز ۔۔۔ عجیب گھٹن ہے آج کے موسم میں؟؟”
وہ ٹوٹے الفاظ میں کہنے کی کوشش کرتی، اپنے پہلو میں اس کے بازو پہ اپنا ہاتھ رکھ چکی تھی جبکہ عاریز پریشان سا اس کا رخ اپنی طرف کر چکا تھا۔
” اکاسمہ ؟؟”
سانس لینے کی کوشش کرتی اکاسمہ اپنی آنکھیں کھلی رکھنے کی کوشش کرتی، کھڑکی کے قریب ہونے کی کوشش کرنے لگی جبکہ چہرے پہ پسینے کی ہلکی ہلکی بوندیں تھی ۔
” ہوا کیوں نہیں۔۔۔۔ ہ ۔۔۔ ہے ”
وہ بمشکل بول پا رہی تھی عاریز پریشان سا اپنے ہاتھ کی ہتھیلی سے اس کے چہرے پہ موجود پسینے کی بوندیں صاف کرنے لگا ۔
” hey akasma… ”
” عا ۔۔۔ ”
اس نے کہنے کی کوشش کی تھی لیکن لفظ ٹوٹ گئے تھے اس کے لبوں سے اور وہ گرنے ہی والی تھی جب عاریز نے اسے بانہوں میں تھام لیا تھا ۔
” اکاسمہ ۔ ”
☆☆☆¤¤¤¤▪︎▪︎▪︎□□■■■☆☆☆☆

” کہاں گئے تھے تم اپنی بہن کی شادی کے فنکشن سے ؟؟”
فیاض حیات چلا رہے تھے، گھڑی کی سوئیاں رات کا تین بجا رہی تھی جبکہ بارز سر جھکائے کھڑا اپنی سیاہ پڑتی آنکھوں کو کھلی رکھنے کی کوشش میں سرگرداں تھا ۔
” بتاؤ ”
وہ چلائے تھے جبکہ ملکہ قریب آئی تھی۔
” فیاض پلیز آرام سے، بچہ ہے ”
” بچہ ؟؟ یہ بچہ ہے ؟؟ کچھ مہینوں بعد اٹھارہ سال کا ہونے جا رہا ہے اور تمہیں یہ بچہ لگ رہا ہے ۔ ”
وہ اب کے ملکہ کو خشمگین نگاہوں سے دیکھتے گرجے تھے جبکہ ملکہ لب کاٹتی اپنے بیٹے کو دیکھنے لگی۔ ۔
” you have no time my dear, you have no choice . ”
اسے وہ الفاظ یاد آئے تھے۔
” come on .. you can do it just go and kill your Mom or Dad .. it’s up to you ”
وہ اب سرخ ہوتی آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ وہی دو ہستیاں، جنہوں نے اسے جنم دیا تھا اور بہت پیار سے اسے بڑا کر کے یہاں تک پہنچایا تھا تاکہ وہ اپنے ہی ماں باپ کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ ڈالے۔
” you can survive .. come on ”
” کیا ؟؟ کیا دیکھ رہے ہو اب ؟؟”
وہ پھر سے گرجے تھے اور وہ لب بھینچے تیز تیز قدم اٹھاتا اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا اور دروازہ لاک کر کے وہ ڈور کیز کھڑکی سے باہر پھینک چکا تھا اور خود دیوار سے ٹیک لگا کے وہیں بیٹھ کے اپنا سر دونوں ہاتھوں پہ گرا چکا تھا ۔
” کوئی تو مجھے بچا لو، کوئی تو مجھے بچا لو ”
وہ رو رہا تھا، کسی معصوم بچے کی طرح اپنی آنکھوں کو دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے رگڑتے رو رہا تھا ۔

☆☆☆□□□□▪︎▪︎¤¤☆☆☆☆

” پوائزن دینے کی کوشش کی گئی ہے ”
ڈاکٹر کی بات پہ وہ حیران ہوا تھا اب کون ہے جو اکاسمہ کومارنا چاہتا ہے ۔
” لیکن مجھے نہیں یاد کہ پورے فنکشن میں اکاسمہ سے کچھ کھایا ہو ”
” فوڈ پوائزننگ نہیں ہے پرازیکیوٹر عاریز خان، اس پوائزن کے لئے کسی ایسے چیز کا استعمال کیا گیا ہے جو مسلسل مسز اکاسمہ کے قریب رہی ہے اور جو ان کے breath کے ذریعے ان کی پوری باڈی کو آہستہ آہستہ اپنی لپیٹ میں لیا ہو ”
ڈاکٹر کہہ رہا تھا اور وہ پریشان نظروں سے اب بیٹھا اکاسمہ کے سوئے وجود کو دیکھ رہا تھا۔ پورے ہال کو کرائم سین قرار دے کے وہاں انویسٹیگیشن ٹیم کو بھیجا گیا تھا جو ہر چیز کو بےحد غور سے معائنہ کر رہی تھی۔ اکاسمہ پوری ایونٹ میں اس کے ساتھ ساتھ رہے تھی، اس نے کھانا بھی نہیں کھایا تھا اور نہ کسی اجنبی سے ملی تھی تو پھر ایسا کیا تھا جو اس کے باڈی میں پوائزن ٹرانسفر کر رہا تھا ۔
” میرا نام عدیل اکبر ہے ”
اسے وہ شخص یاد آیا تھا ۔
” آپ دونوں مجھے نہیں جانتے لیکن میں آپ دونوں کا فین ہوں ”
اس کے ذہن میں جھماکا ہوا تھا اور وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلا تھا ۔ اسپیشل برانچ میں موجود نرسز کو اکاسمہ کا ویڈنگ ڈریس دے کے ، اس پہ موجود ہر فنگر پرنٹ اور ہر غیر معمولی بات کا نمونہ لینے کو کہا گیا تھا، یہاں تک کہ اس ڈریس پہ لگے پرفیوم کا بھی ۔ اور اب اس کا ذہن اس فلاورز بوکے میں الجھا ہوا تھا جسے عدیل اکبر نے اکاسمہ کو تھمایا تھا ۔

▪︎▪︎▪︎¤¤¤□□□□¤¤¤▪︎▪︎▪︎

لیکن جس سوال نے پولیس ڈیپارٹمنٹ کو حیران و پریشان کر کے چھوڑ دیا تھا وہ یہ تھا کہ صابرالدین کی باڈی تو اب بھی ہاسپٹل کے اسپیشل برانچ کے سرد خانے میں رکھی ہوئی ہے تو یہ شخص کون ہے جو اسی کے انداز میں قتل کرتا پھر رہا ہے ؟؟ اکاسمہ کو پوائزن دینے کی کوشش کرنے والا عدیل اکبر کون ہے ؟ اگر قاتل کا مقصد صرف بداخلاق عورتوں کو قتل کرنا ہے تو اکاسمہ کو کیوں قتل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ؟؟ سوال بہت سے تھے لیکن جواب کی تلاش تھی انہیں۔۔
” شہریوں کو تحفظ دینے کی زمہداری آپ کے ذمہ ہے لیکن دیکھنے میں آ رہے ہیں کہ آپ کی اپنی بیوی کو تحفظ نہیں مل پا رہا، آپ کو نہیں لگتا کہ شہر کی پولیس ڈیپارٹمنٹ کمزور پڑ چکی ہے اپنے شہریوں اور اپنے ہی فیملی ممبرز کو تحفظ دینے میں؟”
جرنلسٹ سوال کر رہا تھا عاریز خان نے لب بھینچے تھے لیکن جواب تو دینا ہی تھا ۔ جب دوسرا سوال آیا تھا ۔
” اپنی وائف کو پروٹیکشن دے نہیں پائے اور یہاں ہماری بیویوں اور بہنوں کو کیا پروٹیکشن دے گا یہ آدمی؟”
” کراچی کے شہری آپ سے سوال گو ہیں لیکن لگتا ہے کہ ہمارے سوالوں کا کوئی بھی جواب ان کے پاس نہیں ہے، ان کو اہنی نیندیں حرام جو نہیں کرنی ”
جرنلسٹس مسکرانے لگے ۔
” کس بیس پہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اپنی نیندیں حرام میں کرنی ؟؟ کھبی اپ نے کی اپنی نیند حرام ایک بہترین نیوز بنانے کے لئے ؟؟ کیا آپ کھبی اپنی نیند حرام کر کے بارڈر پہ کھڑے ان فوجیوں کی فوٹیج بنانے یا ان کا انٹرویو لینے گئے یا یہ سوال کرنے گئے کہ وہ کیسا محسوس کر رہے ہیں جب سب سو رہے ہیں اور وہیں پہ ہمارے ملک کے فوجی ملک کی حفاظت کے لئے کھڑے ہیں؟؟ ہماری پولیس ڈیپارٹمنٹ جب کسی مشن پہ کام کر رہی ہوتی ہے، تب کوئی آپ میں سے اپنی نیندیں حرام کر کے آتا ہے یہ پوچھنے یا دیکھنے کہ یہی پولیس ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار کس حالت میں ہیں ؟؟ جب کسی گنہگار کو سزا دینے اور کسی بےگناہ کو انصاف دلانے کی کوشش کے لئے وکیل ساری رات جاگ کے اپنا کیس بناتا ہے، تب کوئی آتا ہے آپ میں سے اپنی نیند حرام کرنے ؟؟ ان کی فوٹیج بنانے کوئی نہیں آتا کیونکہ سب اپنی نیند سو رہے ہوتے ہیں آرام سے۔ پولیس کے ساتھ ساتھ شہریوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ کسی بھی گناہ کو روکنے کے لئے ساتھ دیں ہمارا اور غلط خبروں کو اپنی نیوز کا حصہ بنانے کی بجائے پولیس ڈیپارٹمنٹ کا ساتھ دینے کی کوشش کریں۔ آخر میں اتنا کہوں گا اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ پازیٹو کس حد تک رہ سکتے ہیں آپ ”
جرنلسٹس خاموش ہو گئے تھے جبکہ عاریز خان ان سب کے بیچ سے ہوتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا جبکہ ایک شخص نے مضبوطی سے اس کا بازو پکڑا تھا۔
” سب مرو گیں، سب مرو گیں اور کوئی بھی پوچھنے والا نہیں ہوگا، فاتحہ پڑھ لو ”
عاریز حیرت سے ابھی اسے دیکھ ہی رہا تھا جب اچانک بھیڑ میں بھگڈر مچ گئی تھی اور وہ شخص تیزی سے اس بھیڑ میں گم ہو گیا ۔ عاریز اسے ڈھونڈنے کی کوشش کرنے لگا لیکن وہ اس بھیڑ میں گم ہو کے جا چکا تھا ۔
▪︎▪︎¤¤□□■■□□¤¤▪︎▪︎

” justice for Sara.. justice for Sara ”
کورٹ کے سامنے ایک ہنگامہ برپا تھا۔ شہزاد کو گرفتار کیا گیا ہے یہ خبر آگ کی طرح پھیل چکی تھی اور کراچی کے شہری سارہ کے لئے انصاف مانگنے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ فاروق ملک کے لیے اپنے بنگلے سے نکلنا مشکل ہو گیا تھا لیکن وہ اپنے بیٹے کی رہائی کے لئے پولیس اسٹیشن ائے تھے جہاں آفیسر خیام لب بھینچے اس کے سامنے کھڑا تھا اور خشمگین نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
” اپنے بیٹے کو آپ کسی بھی قیمت پہ رہا نہیں کروا سکتے فاروق ملک، پورا شہر آپ کے بیٹے کے خلاف کھڑا ہے اور اس لڑکی کے لئے جسٹس کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں ”
” دیکھو آفیسر میرا بیٹا ابھی کے ابھی باہر ہونا چاہئے اور جن لوگوں کی تم بات کر رہے ہو وہ سب پیسے کے پجاری ہیں، ابھی پیسہ ان کے منہ مارا جائے تو وہ چپ کر کے اپنے اپنے گھر جائیں گے”
فاروق ملک غرایا تھا جبکہ خیام نے کندھے اچکائے تھے۔
” کر کے دیکھ لیں آپ یہ بھی۔ ”
” تم میرے سامنے بول رہے ہو، اتنی ہمت آ گئی ہے تم میں؟ ایک معمولی سے آفیسر ہو تم جس کی کوئی حیثیت نہیں، جسے جب میں چاہوں کہیں بھی ٹرانسفر کروا سکتا ہوں ”
وہ غرا رہا تھا، دھمکا رہا تھا لیکن خیام پہ شاید کسی بات کا اثر نہیں ہو رہا تھا تبھی مسکراہٹ اس کے چہرے پہ آئی تھی ۔
” بصد شوق، لیکن جب تک میں یہاں ہوں، شہزاد ایک مجرم ہے، قاتل ہے اور میں اسے کسی بھی قیمت پہ باہر نہیں نکالوں گا ۔ ”
” دیکھتا ہوں میں تمہیں ”
اونچی آواز میں غراتا وہ خیام کے آفس سے باہر نکلا تھا اور تیز قدم اٹھاتا وہ پولیس اسٹیشن سے باہر جا رہا تھا لیکن اپنے گرد سیکیورٹی ہونے کے باوجود، باہر شہریوں کی لمبی لائن دیکھ کے ایک لمحے کو وہ ڈر گیا تھا جو نہایت غصے اور تعصب سے اسے دیکھ رہے تھے۔
” سارہ کو انصاف دلاؤ۔۔۔ سارہ کو انصاف دلاؤ۔۔ ”
” یہ من مانی نہیں چلے گی ۔۔۔ نہیں چلے گی ۔۔۔ نہیں چلے گی ۔۔”
شور تھا اور وہ ان کے بیچ سے اپنے سیکیورٹی کے بیچ ہو کے گزرتا اپنی گاڑی تک جا رہا تھا۔ اس کے گارڈ بمشکل اسے گاڑی میں بٹھا کے خود گاڑی میں بیٹھ رہے تھے ۔
” کیا حکم ہیں سائیں ؟”
ایک گارڈ نے سوالیہ نظروں سے پیچھے سیٹ پہ بیٹھے فاروق ملک سے پوچھا تھا ۔
” اڑا دو ”
اور پھر جس تیزی سے گاڑی ان کے بیچ سے گزر کے چلی گئی تھی اسی تیزی سے گارڈ نے کال ملائی تھی۔
” حکم کی تعمیل کرو ۔ ”
اور پھر اسی بھیڑ کے بیچ وہ شخص تھا، جس کے جسم پہ وہ مواد بندھا ہوا تھا جو ایک لمحے میں سب تہس نہس کر دیتا ہے ۔
” اللہ اکبر ”
اس بھیڑ میں اونچی آواز گونجی تھی اور اس سے پہلے کہ لوگ بھاگتے یا سنبھلتے، ایک دھماکہ ہوا تھا۔ ہر طرف دھواں اور آگ کے شعلے تھے اور جلتے بھسم ہوتے جسم ۔
▪︎▪︎¤¤□□■■□□¤¤▪︎▪︎

” تم کیا کر رہی ہو ؟؟”
وہ جیسے ہی ہاسپٹل روم میں آیا، اکاسمہ کو کمرے کے بیچ و بیچ پایا جو اپنے بال باندھ رہی تھی ،نظر عاریزپہ گئی تو تیزی سے قریب آ کے اس کے گلے لگی تھی ۔
” افف عاریز مجھے یہاں سے لے جاؤ، میں بور ہو رہی ہوں یہاں، مجھے گھر جانا ہے ”
عاریز بے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے چوما تھا اور پھر نرم نگاہوں میں محبت لیے اسے دیکھنے لگا ۔
” یوں بھی کہہ سکتی ہو کہ مجھے مس کر رہی تھی یہاں ”
اکاسمہ بھی مسکرانے لگی اور آنکھوں میں شرارت لیے عاریز کو دیکھ رہی تھی جبکہ دونوں ہاتھ عاریز کی گردن کا ہار بنے ہوئے تھے۔
” مس تو میں کافی دیر سے کر رہی تھی اور اب تو اتنا بور ہو گئی کہ مجھے یہاں سے جانا ہے بس ”
” اور اگر میں چاہوں تم کچھ دن یہیں رہو ”
عاریز اس کے چہرے پہ ہاتھ کی پشت پھیرتے پوچھ رہا تھا ۔
” کھبی نہیں، ہرگز نہیں۔۔ مجھے یہاں سے جانا ہے بس اور مجھے بھوک بھی لگی ہے ۔ ہاسپٹل کا کھانا بلکل بھی مزے کا نہیں تھا ۔ چلو جلدی ”
وہ عاریز کا بازو کھینچ کے اسے اپنے ساتھ لے جانے لگی جبکہ وہ بھی مسکرا کے اس کی کمر کے گرد بازو حائل کر کے اس کے ساتھ کمرے سے باہر نکلا تھا ۔
” کیا کھانا چاہے گی میری مسز ؟؟”
” اممم ۔۔ کچھ بھی اچھا سا ، اسپائسی سا، ٹیسٹی ہو بس۔۔ ”
وہ عاریز کے ساتھ لگی مزے لیتی کہہ رہی تھی۔
” ٹھیک ہے لیکن گھر پر ہی ، باہر آج نہیں۔۔ ”
عاریز اس کے لیے گاڑی کا فرنٹ سیٹ ڈور کھولتا کہنے لگا جبکہ وہ کندھے اچکا گئی۔
” مجھے کوئی مسئلہ نہیں ”
عاریز بھی مسکرا کے ڈرائیونگ سیٹ پہ آ کے بیٹھ چکا تھا اور ساتھ ہی کال پہ آرڈر دینے لگا ۔
” ویسے تمہارے اور عفان کے بیچ مسئلہ سولو ہو گیا کہ نہیں ؟؟”
عاریز نے آبرو اچکا کے اسے دیکھا تھا جو شرارتی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
” اب تو میں بہنوئی ہوں آپ کے عفان بھائی کا، عزت تو کرنی ہی پڑے گی انہیں، چاہے دل میں گالیوں سے ہی نواز دیں ”
اکاسمہ ہنسنے لگی ۔
” گالیاں نہیں آتی میرے بھائی کو ”
وہ اترا کے کہنے لگی جبکہ عاریز مسکرانے لگا ۔
” ہاں وہ تو بس آپ کو آتی ہے محترمہ ”
اکاسمہ مسکرا رہی تھی اور پھر اس کے کندھے پہ سر ٹکا گئی ۔
” مجھے تو اور بھی بہت کچھ آتا ہے ”
” جیسا کہ ۔۔ ”
عاریز دلچسپی لیتے پوچھنے لگا ۔
” اممم ۔۔۔ وقت آنے پہ آہستہ آہستہ سب پتہ لگتا جائے گا ”
اکاسمہ اس کے بال ہاتھ سے بکھیر کے پھر سے اپنی سیٹ پہ سیدھی ہو کے بیٹھی تھی جب عاریز نے ایک بازو بڑھا کے اسے اپنے قریب کیا تھا ۔
” یہیں رہو ، اچھا لگ رہا ہے ”
اس کے بالوں پہ بوسہ دے کے وہ پھر سے نظریں روڈ پہ کر چکا تھا جبکہ اکاسمہ مسکراتی عاریز کے قریب خود کو بہتر محسوس کر رہی تھی، لب دانتوں تلے دبائے وہ بھی سامنے روڈ کو ہی دیکھنے لگی۔
▪︎▪︎¤¤□□■■□□¤¤▪︎▪︎

اس شخص سے سامنا ہوتے ہی، میں خود کو روک کیوں نہیں پاتی؟؟

اس کی حالت یوں تھی کہ اسے کہیں جائے پناہ نہیں مل رہا تھا، اسے لکھنے میں مشکل پیش آ رہی تھی، اس کی کتاب، اس کی کہانی کے سارے کردار ادھورے رہ گئے تھے اور اس میں جیسے وہ ایک شخص سانس لے رہا تھا۔ جس سے ملنے جیل، وہ ایک لکھاری کی حیثیت سے گئی تھی لیکن اسے اس شخص میں، اپنا پسندیدہ کردار سانس لیتا محسوس ہوا تھا۔
یہاں مختلف کتابوں کے ہر شیلف کے پاس رک کے، وہ کچھ سوچتی اور پھر چلنے لگتی لیکن اسے یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیوں ہے یہاں؟؟ وہ بار بار اس شخص کو دیکھنے کے لئے، اسے سننے کے لئے، اسے ملنے کے لئے، جیسے اپنی اس حالت پہ ترس کھا رہی تھی۔ تبھی ٹرن لیتے ہوئے، وہ مقابل آتے شخص کے، کشادہ سینے سے ٹکرائی تھی اور بےاختیار پلکیں اوپر کو اٹھی اور وہ پژمردہ آنکھیں کھل سی گئی تھی جیسے سانس لینے کی کوشش کر رہی ہو اب، جبکہ ازمائر شاہ زیر لب مسکرایا تھا۔ وہ اس مسکراہٹ کو سمجھ نہ سکی، وہ تو خود بےبس سا محسوس کر رہی تھی خود کو، اس شخص سے نظریں نہ ہٹا پا رہی تھی۔
” مسفرہ کیسی اپ ؟؟”
اس کے پوچھنے پہ، مسفرہ نے نظریں چرائی تھی اور پھر اسے دیکھنے لگی۔
” ٹھیک ہو گئی ہوں اب ”
اور پھر اچانک سنبھلی تھی ۔
” آپ بیمار تھی؟؟”
ازمائر شاہ پریشان نظروں سے، اسے دیکھتا پوچھنے لگا جبکہ وہ خود کو سرزنش کرنے لگی۔
” میں ٹھیک ہوں میرا مطلب یہ تھا ”
گال دہکنے لگے تو پھر سے ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔
” مجھے آپ کی کتاب چاہیے تھی، آپ ہیلپ کر دیں گی ؟”
ازمائر کے سوال پہ، وہ پھر سے چونک کے اسے دیکھنے لگی ۔
” میری کتاب پڑھنا چاہتے ہیں آپ، ازمائر شاہ ؟؟”
وہ کھوئے کھوئے انداز میں پوچھ رہی تھی جبکہ وہ اپنی کنپٹی سہلاتا مسکرانے لگا۔
” بلکل۔۔ آپ پلیز ہیلپ کر دیں، مجھے مل نہیں رہی ”
” جی ، جی بلکل ”
وہ چلتی ہوئی، ایک شیلف کے پاس جا رکی تھی اور وہاں سے ایک کتاب نکال کے، وہ مڑی تھی لیکن اپنے بلکل پیچھے کھڑے ازمائر شاہ سے، وہ ٹکرا کے، بوکھلا کے پیچھے ہوئی تھی ۔
” سوری میں نے اپ کو ڈرا دیا آئی تھنک ”
” نہیں تو، میں بس ، یہ کتاب ”
اس نے جلدی سے ہاتھ میں موجود کتاب اس کی طرف بڑھایا تھا اور اس نے مسکرا کے تھام بھی لیا تھا۔
” تھینک یو۔ ایم شیور یہ کتاب بھی آپ کی طرح بےحد خوبصورت ہوگی۔ ”
بھاری لہجے پہ، مسفرہ نے پلکیں اٹھا کے، حیران آنکھوں سے اسے دیکھا تھا لیکن وہ آگے بڑھ چکا تھا اور مسفرہ اس کی پشت دیکھے گئی۔ دل کی دھڑکنیں بڑھنے لگی اور اس شخص کی پشت سے لگ کے، اسے خود میں جذب کر لینے کی خواہش کروٹ لینے لگی ۔ وہ شخص ریسیپشن کے پاس رکا تھا اور پھر وہ مڑا تو مسفرہ نے تیزی سے نظریں چرائی تھی، دھڑکنیں کانوں میں شور مچانے لگی جبکہ چور نظروں سے اسے دیکھنے کی کوشش کرتی، وہ بوکھلا پھر سے رخ موڑ گئی ۔۔
” مسفرہ، میں ڈراپ کر سکتا ہوں آپ کو ؟؟”
گہرا سانس لیتی وہ ازمائر شاہ کو دیکھنے لگی۔ یہ شخص اس کے حواسوں کو سلب کر رہا تھا کیا وہ یہ بات جانتا تھا ؟؟
” میری گاڑی ہے لیکن ۔۔۔ ”
” تو گاڑی تک ساتھ چلتے ہیں ”
اس نے پھر سے کہا تھا اور مسفرہ سر اثبات میں ہلاتی اس کے ساتھ آگے بڑھی تھی جبکہ اس شخص کے ساتھ چلتے ہوئے، وہ خود کو ایسے محسوس کر رہی تو جیسے اس کا وجود ہوا میں تحلیل ہو رہا ہو، اس کے حواس ساتھ چھوڑ رہے ہو، پہلو میں موجود اس کا ہاتھ، تھام لینے کی خواہش میں وہ گھبرا گئی تھی کہ کہیں وہ بےاختیاری میں، اس ہاتھ کو تھام ہی نہ لے۔ چلتے چلتے اس کا ہاتھ، ازمائر شاہ کے ہاتھ سے لگا تھا اور وہ لمس جیسے اس کے وجود کو پرحرارت سا کر گیا تھا۔ گال دہکنے لگے اور وہ تیزی سے فاصلے پہ ہو گئی تھی جبکہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اس نے ازمائر شاہ کو دیکھا تھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
” اپنا خیال رکھیے گا ”
وہ مسکرائی تھی
” آپ بھی ”
اپنی بات کہہ کے، اس شخص سے نظریں چرا کے، وہ اپنی گاڑی اسٹارٹ کرنے لگی جبکہ ازمائر شاہ دو قدم پیچھے ہو کے کھڑا اسے دیکھتا رہا، جب تک اس کی گاڑی آگے بڑھی اور روڈ پہ چلتی، وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوئی۔ زیر لب مسکراتے اس نے ہاتھ میں موجود کتاب کو دیکھا تھا اور پھر سر جھٹک کے، وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تھا۔
▪︎▪︎▪︎▪︎¤¤¤¤□□□■■■■□□¤¤¤▪︎▪︎▪︎

” چلو روم میں چلتے ہیں بارز، پرائیویسی میں ”
نور نشے میں تھی اور اس دھواں ہوتے روم میں وہ اچانک سے کھڑی ہو کے بارز کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تھا، بارز نے سرخ ہوتی آنکھوں سے ادھر ادھر نظریں دورائی تھی جہاں بہت سی لڑکیاں اور لڑکے نشہ کر رہے تھے اور ساتھ میں ایک دوسرے کی بانہوں میں بےباک انداز میں لپٹے ہوئے تھے۔
” کم آن بارز”
نور نے اس کا بازو کھینچا تھا اور وہ اپنا بھاری ہوتا سر سنبھالتا اس کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا تھا لیکن وہاں لگے ہیڈن کیمرے کی آنکھ میں سب ریکارڈ ہو رہا تھا جو ایک خاص چیپ کے ذریعے ڈارک ویب میں منتقل ہو کے لائیو چل رہا تھا۔ بلیک ماسک کے پیچھے موجود وہ شخص جو دنیا کا سب سے بڑا ہیکر بننے چل نکلا تھا، جسے ہمیشہ ناکارہ انسان کا نام دے کے وجدان ملک نے تحقیر ہی کی تھی لیکن پس پردہ وہی حکان ملک ڈارک ویب کا ایک حصہ چلا رہا تھا جہاں بڑی تعداد میں وہ پیسہ کما رہا تھا۔ انسانوں کو بلیک میل کر کے، ممنوع ویڈیوز اپلوڈ کر کے، بلیک منی ٹرانسفر اور جوان لڑکے لڑکیوں کے گھناؤنے ویڈیوز کے ذریعے وہ اپنے بینک میں اتنا پیسہ بنا چکا تھا جتنا شاید وجدان ملک کے پاس بھی نہ تھا ۔
▪︎▪︎¤¤□□■■□□¤¤▪︎▪︎

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *