Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 34

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 34

” میں نے ۔۔۔۔ م ۔۔۔ میں نے اپنا بیٹا کھویا ہے، یہ ۔۔۔ ک ۔۔ کیسا انصاف ہے کہ گناہ تم کرو اور سزا مجھے ملے ۔ ”
شازم خان کو جب سے ہوش آیا تھا وہ ایسی ہی باتیں کر رہا تھا۔ ان کی آواز، ان کا لہجہ دکھ اور پچھتاوے سے بھرا ہوا تھا۔
” وہ میری اولاد کو بھی قتل کرنے کی راہ ڈھونڈ رہا ہے ۔ عاریز تو میری بھی اولاد تھی شازم۔ کیوں کر رہے ہو ایسی باتیں ”
فیاض حیات کا لہجہ بکھرا ہوا تھا جبکہ شازم ملامت بھری نظروں سے انہیں دیکھ رہے تھے۔
” مر تو میرا بیٹا گیا فیاض، تمہاری اولاد زندہ و سلامت ہیں۔ برباد تو میں ہوا، تمہارا کیا گیا ؟؟ عیاشی بھی تم نے کی اور اب بھی سکون سے ہو”
” سکون ؟؟ تم اسے سکون کہہ رہے ہو شازم؟؟ میرا سکون ہی نہیں یے کہیں۔ وہ مجھے چیلنج کر چکا ہے، میری اولاد اس کے ٹارگٹ پہ ہے اور میں کچھ نہیں کر پا رہا، نہ اس کی شکل کا پتہ ہے مجھے اور نہ اس کے ٹھکانے کا۔ نقاب پہ نقاب چڑھا کے آتا ہے اور کام تمام کر کے، وہ سب کے بیچ سے گزر کر چلا بھی جاتا ہے۔ ”
فیاض حیات کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں جبکہ شازم لب بھینچے انہیں دیکھ رہے تھے۔
” اللہ کرے اس کا ٹارگٹ نشانے پہ لگے تو تمہیں بھی اولاد کی موت کا غم ملے۔ میری دعا ہے یہ ۔۔۔۔ ”
فیاض نے ان کے منہ پہ ہاتھ رکھا تھا۔
” ایسے مت کہو شازم، سب میں نے کیا ہے، اس میں میری بچی کا کیا قصور۔ ایسے مت کہو، چپ کرو ”
شازم نے جھٹکے سے ان کا ہاتھ ہٹایا تھا۔
” قصور میرے بیٹے کا تھا جو تمہاری بیٹی کے چنگل میں پھنس گیا اور اپنی جان کھو بیٹھا۔ جاؤ یہاں سے ”
فیاض کرسی پہ ڈھے گئے۔
میں نے کچھ نہیں کیا شازم، وہ سب مذاق تھا، یہ تو تم بھی جانتے ہو کہ بس ٹائم پاس تھا ”
ان کی آواز پست تھی۔
“ٹائم پاس نہیں فیاض، زنا تھا، ایک لڑکی سے زنا، اپنی بیوی سے بیوفائی اور ایک عورت کی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھانا ۔ ”
فیاض ادھر ادھر دیکھنے لگے۔
” چپ کرو پلیز۔ وہ اس کی رضامندی سے ہوا تھا۔ ”
” گناہ، گناہ ہوتا ہے، زنا، زنا ہوتا ہے چاہے رضامندی سے ہو یا زبردستی ”
شازم یہ بات کہہ کے رخ پھیر گئے جبکہ فیاض خاموش یو گئے۔ ان کے پاس مزید الفاظ نہیں تھے کچھ کہنے کے لئے۔ وہ خاموشی سے سامنے دیوار کو دیکھنے لگے۔ رات کے اس پہر ہر طرف خاموشی تھی لیکن طوفان ان کے وجود میں تلاطم مچائے ہوئے تھا۔

■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■

” گڈ نائٹ سائیکیٹریسٹ مسفرہ ازمائر شاہ ”
وہ جو کلینک سے نکلنے کا سوچ رہی تھی جب اسے ایک نسوانی آواز پہ رکنا پڑا۔ مڑ کے دیکھا تو وہ رخسار فاروقی تھی جو مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟؟”
مسفرہ نے ماتھے پہ بل ڈالتے پوچھا تھا جبکہ وہ کندھے اچکا گئی۔
” علاج کروانے آئی ہوں اپنا ”
” مجھے ابھی گھر جانا ہے ”
مسفرہ نے اسے نظرانداز کرتے آگے بڑھنے کی کوشش کی جب وہ اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
” جانتی ہوں کہ آپ کو اپنے گھر جانا ہے، ازمائر شاہ تمہارا منتظر ہے لیکن جب کبھی ایمرجنسی ہو تو لیٹ بھی جایا جا سکتا ہے ”
مسفرہ نے ماتھے پہ بل ڈالے،لب بھینچے اسے دیکھا تھا۔
” تم تو جیل میں تھی ”
” ہاں سزا ختم ہو گئی۔ بہت برے دن دیکھے وہاں میں نے، میرے اعصاب اس قدر کمزور پڑ چکے ہیں مسفرہ کہ مجھے علاج کی ضرورت ہے ”
رخسار کمرے میں ٹہلتی کہہ رہی تھی۔
” تو جاؤ کسی بھی اچھے سائیکیٹریسٹ کے پاس، کراچی میں سائیکیٹریسٹ کی کمی نہیں ہے۔ میرے پاس کیوں آئی ہو ”
مسفرہ اسے سپاٹ نظروں سے دیکھنے لگی۔
” تم میرے ایکس ہزبینڈ کی برانڈ نیو، اکلوتی وائف ہو تو تم میرے سیچویشن کو بہتر سمجھ سکو گی”
رخسار کے انداز پہ اسے غصہ آنے لگا۔
” مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔ ”
وہ یہ کہہ کے جانے لگی جب رخسار نے آگے بڑھ کے اسے روکا تھا۔ مسفرہ کا دل اچانک سے کانپا تھا لیکن خود کو مضبوط دکھانے کی کوشش کرتی، اسے سرد نظروں سے دیکھنے لگی۔
” کیا بدتمیزی ہے رخسار ”
” سو سوری، بٹ پلیز میرا علاج کروا دیں سائیکیٹریسٹ مسفرہ پلیز ”
رخسار معصوم سی شکل بنا کے بولی۔
” مجھے نہیں کرنا تمہارا علاج، ہٹو سامنے سے ”
وہ کہہ کے تیزی سے آگے بڑھی لیکن رخسار کے اگلے جملوں نے اس کے قدم روک دیے۔ وہ حیرت سے مڑ کے، رخسار کو دیکھنے لگی۔
” میں سچ کہہ رہی ہوں۔ ازمائر کے ساتھ رہتے ہوئے تمہیں محسوس نہیں ہوا، کبھی کبھی وہ عجیب حرکتیں کرتا ہے، جیسے آدھی رات کو نیند سے جاگ کے گول گول چکر لگاتا ہے، ناچتا ہے کبھی کبھی۔ پہلے میں بہت ڈر گئی تھی لیکن بعد میں،مجھے سمجھ آ گئی کہ یہ اس کی کوئی بیماری ہے۔صبح یاد نہیں رہتا کہ وہ رات کو کیا کر چکا یے۔ ایک رات تو میرا گلا بھی دبایا تھا۔ میں بہت ڈر گئی تھی، مجھے لگا کہ میری گردن کی ہڈیاں ٹوٹ جائے گی لیکن میں نے بہت مشکل سے خود کو بچا لیا۔ پھر میں حسام کے قریب ہوتی گئی کیونکہ وہ اکثر میری ہیلپ کر دیتا، ایک دفعہ اس سے بچایا بھی تھا مجھے۔ لیکن اب تو حسام بھی نہیں رہا تمہیں کون بچائے گا ؟؟”
مسفرہ کی آنکھوں میں غصہ جھلکنے لگا۔
” شٹ اپ، دفع ہو جاؤ یہاں سے۔ ویسے اب سمجھ آیا کہ ازمائر کی اسی بیماری کا فائدہ اٹھا کے تم حسام کے بیڈ کی زینت بن گئی کیونکہ ازمائر کو کہاں یاد رہتا کہ رات کو کیا ہوا تھا یا یہ کہ اس کی بیوی رخسار فاروقی، اپنے شوہر کے بیڈ پہ ہے یا اسکے بھائی کے بیڈ پہ۔ ”
مسفرہ کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ رینگ گئی جبکہ رخسار نے غصے سے لب بھینچ لیے۔ تب تک گارڈ بھی آ چکا تھا۔
” ڈاکٹر صاحبہ، ازمائر صاحب آئے ہیں اور آپ کا ویٹ کر رہے ہیں گاڑی میں ”
” ان کو بھی باہر تک چھوڑ کے، گیٹ بند کر لیجیے گا ”
مسفرہ تمسخرانہ انداز میں رخسار کو سر سے پاؤں تک دیکھتی آگے بڑھی تھی جبکہ رخسار نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لی۔ جب بہت دیر تک وہ ٹس سے مس نہ ہوئی تب گارڈ کو ہی اسے متوجہ کرنا پڑا۔
” چلئیے میں آپ کو باہر تک چھوڑ دوں ۔۔ مجھے گیٹ بھی بند کرنا ہے ”
” میں خود چل سکتی ہوں”
وہ غصے سے کہتی، تن فن کرتی باہر نکل گئی تھی جبکہ گارڈ نے اسے اچھنبے سے دیکھتے کندھے اچکائے تھے۔

■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■

” تم یہاں کیوں آئے ہو وجدان ملک ؟؟”
لبنی نے اسے ماتھے پہ بل ڈالے سر سے پاؤں تک گھورا تھا جبکہ وہ مسکرانے کی کوشش کرتا، گھر میں داخل ہوا تھا۔
” میرے بیٹے کا گھر ہے، میں تو آؤں گا”
” بیٹا ؟؟ ہونہہ ”
لبنی استہزائیہ ہنسی، ہنس دی تھی۔
” بیٹا ۔۔۔۔۔!!! کبھی جاننے کی کوشش بھی کی ہے بیٹے کو ”
وجدان ملک لب بھینچ کے، افسردہ نگاہوں سے لبنی کو دیکھنے لگا۔
” بہت حقیر ہو چکا ہے اپنے ضمیر کے آگے، مزید مت کرو لبنی پلیز ”
لبنی گہرا سانس لیتی، نظریں پھیر گئی جب وجدان اس کے قریب آیا تو وہ بوکھلا کے پیچھے ہوئی تھی اور اچھنبے سے اس شخص کو دیکھنے لگی جس کے چہرے پہ غرور کا شائبہ تک نہ تھا بلکہ آنکھوں میں مہربانی تھی اور چہرے پہ سکوت ۔
” آج نیا سال شروع ہونے والا ہے لبنی اور میں چاہتا ہوں کہ اپنے پچھلے تمام سالوں میں، تمہارے ساتھ جن جن بدسلوکیوں کا میں مرتکب ہوا ہوں۔ ان کی معافی مانگ کے، تمہارے ساتھ نئی زندگی کا آغاز کروں۔ جانتا ہوں کہ میرا ہر عمل قابل تلافی نہیں ہے اور نہ ہی قابل معافی لیکن لبنی بہت کمزور اور ناتواں پڑ چکا ہوں، وہ گھر مجھے کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔ وہ بیڈ روم، وہ بیڈ، اس گھر کا کونا کونا تمہاری پرچھائیوں سے بھرا پڑا ہے لیکن تم نہیں ہو لبنی۔ پلیز ۔۔۔۔۔۔ ”
وہ خاموش ہو گیا تھا جبکہ لبنی اسے دیکھنے لگی سپاٹ نظروں سے۔
” اب کیا کرنے والے ہو وجدان ؟؟ اب کون سا پلان بنا رہے ہو مجھے رسوا کرنے کا ”
” نہیں نہیں لبنی، قسم لے لو۔ مجھے تمہاری یاد آ رہی تھی۔ ”
لبنی کا دل زور سے دھڑک کے مدھم پڑا تھا۔ یہ عورت ذات بھی نا، مرد کی ذرا سی توجہ اس کہ دھڑکنیں بےترتیب کر دیتی ہے، اس کے ہر روپ کو نکھار دیتی ہے۔ وہ خاموشی سے نظریں چرا گئی جبکہ وجدان نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا ۔
” چلو لبنی، اپنے گھر چلتے ہیں، ہمارا گھر۔ تمہارے بنا وہ گھر اور اس گھر کا مکین ادھورا ہے۔ ”
لبنی اب بھی خاموش رہی جب وجدان اس کے سامنے ہاتھ جوڑتا، اس کے قدموں میں بیٹھ گیا جبکہ لبنی بدک کے پیچھے ہوئی تھی۔
” یہ آپ کیا کر رہے ہیں وجدان، اٹھیے پلیز ”
” معاف کر دو پلیز ”
وجدان یونہی بیٹھے، سر اٹھا کے اسے دیکھنے لگا ۔
” آپ اٹھیے تو ”
لبنی کو اس کا یوں قدموں میں بیٹھنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
” نہیں پہلے معاف کر دو ”
وجدان کے ضدی انداز پہ وہ آہ بھر کے رہ گئی۔
” اونہو، وجدان، اچھا معاف کر دیا، اٹھیے اپ، ایسا اچھا نہیں لگ رہا”
وجدان مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تھا جبکہ لبنی اس سے نظریں چرانے لگی جب بےساختہ وجدان نے اسے خود سے لگایا تھا۔ وہ ابھی سنبھلی بھی نہیں تھی جب وجدان نے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے۔ لبنی اندر تک جیسے پرسکون ہوئی لیکن ساتھ میں حیرانی بھی اس کے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔
” بہت چاہتا ہوں تمہیں لبنی ”
وہ اس وقت اعتراف محبت کر رہا تھا جبکہ لبنی مزید حیرانی سے اسے دیکھنے لگی۔ اس کا شوہر کیا کہہ رہا تھا۔ یہ اس قدر بدل کیوں گیا تھا ؟؟ ایسا کیا ہو گیا اس شخص کی زندگی میں کہ اس قدر بدل گیا ہے لیکن اس وقت سوائے حیرانی کے، اس کے ہاتھ کچھ نہیں آیا تھا ۔

《《《《》》》》》》》》》》《》》

اس کے بتائے ہوئے ایڈریس پہ پہنچ کے، وہ ادھر ادھر دیکھتی آگے بڑھنے لگی۔ اس زیر تعمیر عمارت میں واحد یہی فلور تھا جو تھوڑا بہت بنا ہوا تھا لیکن بےحد عجیب انداز میں، کہ اکاسمہ کو چلتے ہوئے ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی ہارر مووی کے سیٹ پہ آ گئی ہو۔ اس کا دل کانپ رہا تھا جبکہ ہر اٹھتا قدم بھی لرز رہا تھا لیکن کانپتے دل کو تھپکی دیتی وہ آگے بڑھ رہی تھی کہ آج اس قاتل سے، اس درندے سے سامنا ہونا ہی تھا۔
” ہیلو اکاسمہ ۔۔۔۔”
سرد، بھاری سرگوشی پہ، ابھی وہ پلٹنے ہی والی تھی جب کسی نے اس کی گردن کے حساس رگ پہ، اپنے ہاتھ کی دو انگلیاں رکھ دی اور اس کے گرتے وجود کو، بازوؤں میں تھام لیا۔
اندھیرا چھٹنے لگا تو اپنے بازوؤں میں اسے جکڑن کا احساس ہونے لگا۔ ذہن بیدار ہونے لگا تو آنکھیں نیم وا ہو کے، ہلکی ہلکی روشنی کو دیکھنے کی کوشش کرنے لگی لیکن اس کے بازوؤں میں جکڑن کا احساس کیوں تھا؟؟ اس کے ذہن نے بیدار ہو کے، کام کرنا شروع کیا تب اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھی۔ وہ اس بلند منزلہ عمارت کے، اس 6th فلور پہ، بالکونی سے لٹک رہی تھی، اس کے دونوں ہاتھ رسیوں سے جکڑ کے، بالکونی سے باندھ دیے گئے تھے جبکہ وہ خود، بالکونی سے لگی، لٹک رہی تھی۔ اس نے نیچے دیکھنے کی کوشش کی تو آنکھیں تاریک ہونے لگی۔ اگر وہ یہاں سے گر جائے گی ؟؟ تو ؟؟ وہ کئی ٹکڑوں میں بٹ کے، بےجان گوشت کا لوتھڑا بن جائے گی۔
” ہ ۔۔۔۔ ہیلپ !!!”
اس کی زبان سی سسکی ادا ہوئی تھی۔
” ارے تم جاگ گئی اکاسمہ ”
وہ ماسک کے پیچھے موجود تھا اور اسے آنکھ مار کے، سامنے کی بالکونی سے دیکھ رہا تھا۔ یہاں دو عمارتیں زیر تعمیر تھیں جو ایکدوسرے کے آمنے سامنے تھیں۔ اکاسمہ خوفزدہ آنکھوں سے، اسے دیکھنے لگی۔
” چہ، چہ افسوس ہو رہا ہے تمہارے بابا جان کے لیے، جوان بیٹی کی موت، اس نئے سال کے آغاز میں، وہ کیسے برداشت کر پائے گیں؟؟؟ پہلے جوان داماد کی موت اور اب اپنی ہی بیٹی کی موت ۔۔۔ ”
وہ سرد آواز میں، مسکراتی آنکھیں لیے کہہ رہا تھا۔
” بکواس بند کرو۔۔۔ قاتل، درندے، بزدل، ڈرپوک۔۔۔ اب بھی تم ماسک میں ہو، اب بھی تم میں ہمت نہیں ہے کہ اپنی اصلیت دکھا سکو مجھے۔ ”
وہ مکروہ ہنسی ہنسنے لگا۔
” بہادر لڑکی ہو، تبھی میں نے سوچا کہ نو ریپ، نو کوئی گندی حرکت تم سے۔ بس صرف موت، بنا درد دیے، آسان سی موت چنی تمہارے لئے۔ آخر کو تم سے قریبی رشتہ ہے میرا،کیسے ناپاک کر سکتا ہوں اس قریبی رشتے کو۔ ”
اکاسمہ خود کو کھولنے کی کوشش میں ہاتھ پاؤں مارنے لگی۔ اس کے بازو تھک چکے تھے،جامد ہو چکے تھے۔
” ارے ایسی بھی کیا جلدی مرنے کی۔ تھوڑا سکون سے، ارام سے مر لینا تم۔ پہلے ایک سیکنڈ۔۔۔”
وہ موبائل اٹھا کے اب اس کی ویڈیو بنانے لگا۔
” اب یہ ویڈیو جائے گی تمہارے بابا جان حضور کو۔ ارے ہاں میں بتانا بھول گیا، ہمارے بابا جان حضور کو۔۔۔ اب تو مرنے ہی لگی ہو تم تو چلو حقیقت سے آگاہ کر دیتا ہوں تمہیں تو مس اکاسمہ حیات، ہمارا خونی رشتہ ہے آپس میں، فیاض حیات کی بدولت۔ ارے بھئی ہم دونوں بہن بھائی ہیں۔ ”
اکاسمہ حیران آنکھوں سے دیکھ رہی تھی اس شخص کو، جو اس کی ویڈیو بنا رہا تھا۔
” حیران مت ہو یار، آرام سے بتاتا ہوں، پہلے ویڈیو بنا کے، نیو ائیر گفٹ تو سینڈ کر دوں ہمارے تمہارے بابا جان کو ۔۔۔۔ تو !!! یہ دیکھئیے ابا حضور، یہ رہی میری پیاری سی بہنا اور آپ کی پیاری سی بیٹی، اکاسمہ حیات۔”
اکاسمہ کی حیران آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئی۔
” سوچا مرنے سے پہلے، ان کا آخری دیدار کر لو آپ بھی۔ بہت خوبصورت اور پیاری بچی ہے، دیکھ لیں ایسے لٹکی ہوئی کتنی خوبصورت لگ رہی ہے ۔۔۔۔ اوپس نیچے گرے گی تو !!! ایک سیکنڈ”
وہ موبائل فون پہ اب انگلیاں چلا رہا تھا اور ویڈیو سینڈ کر لینے کے بعد، اب وہ اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا۔
” اچھا تو۔۔۔۔ ایک سیکنڈ”
وہ ریلنگ پہ دونوں بازو رکھ کے جھکا تھا۔
” ویسے آپس کی بات ہے، ہمارے ابا حضور نہایت ہی رنگین مزاج کے تھے۔ جج کو ایسا ہونا تو نہیں چاہیئے ویسے، لیکن خیر ۔۔۔۔ ناجائز اولاد ہونا بھی قابل فخر بات ہوتی ہے۔ ارے بھئی، سکوت کے لمحوں میں ہوئے، جنسی تعلقات بنا کسی محرم رشتے کے، آہہہہ!!! ”
” بکواس بند کرو ”
اکاسمہ چیخی تھی جبکہ وہ ہنسنے لگا۔ اکاسمہ کی آنکھیں جلنے لگی۔ اس کا بابا جان کیسے ؟؟ نہیں یہ جھوٹ ہے۔
” ڈی این اے رپورٹ ٹیسٹ کے مطابق، میں فیاض حیات کا وہ ناجائز بیٹا ہوں جو اس نے میری اس بدذات ماں سے، جنسی تعلقات بنانے کے نتیجے میں آیا ہوں لیکن، لیکن مرد ہوتا ہی دھوکا ہے، خاص طور پر جب وہ قانون کا رکھوالا ہو۔ میری ماں اس سے ناامید ہوئی تو دوسرے مرد سے تعلقات بنا لیے۔۔۔ پھر تیسرے،چوتھے، نہ جانے کتنے مرد!!”
وہ خاموش ہوا۔ اسکی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی جبکہ ان میں نمی نمایاں تھی۔
” میری ایک بہن تھی، وہ مر گئی۔ فیاض حیات کو اپنی ناجائز اولاد سے کہاں محبت رہی ہوگی اور میری twin sister مرد گئی۔۔۔ وہ رو رہی تھی، بلک بلک کے اور پھر مر گئی لیکن میں اس گندی دنیا میں زندہ رہ گیا شاید اس لئے زندہ رہ گیا کہ اس شہر کراچی کو تمام گندی عورتوں سے پاک کر دوں اور تبھی ۔۔۔۔۔۔ میں نے سب سے پہلے اپنی اس ۔۔۔۔۔ اس مردار ماں کو مردار کر دیا۔ اس کے ٹکڑے کر دیے، بہت سارے ٹکڑے۔ پھر۔۔۔ ان ٹکڑوں سیاہ لفافوں میں بھر بھر کے، فریزر میں رکھتا گیا اور پھر اس ۔۔۔۔۔ نا ۔۔۔۔ سور کے گوشت کے ٹکڑوں کو، ہر رات ک ۔۔۔۔ کتوں کے آگے ڈالتا گیا۔ وہ مزے سے، چبا چبا کے کھاتے گئے اور میں ہنستا گیا، ہنستا گیا۔۔۔۔ اور پھر ہر اس مردار عورت کو قتل کرتا گیا جو ناسور بن چکی تھی اس شہر کے لیے۔ لیکن اب کے، انہیں میں نے ٹکڑوں میں نہیں کاٹا بلکہ عبرت کا نشان بناتا گیا ۔۔۔ تاکہ دنیا دیکھے ایسی بدذات، بدکار عورتوں کا انجام اور دیکھو ۔۔۔ ”
وہ قہقہہ لگانے لگا جبکہ اکاسمہ دم بخود اسے سن رہی تھی، دیکھ رہی تھی۔
” مجھے آج تک کوئی پکڑ نہ سکا، کیونکہ ۔۔۔۔۔ میری اصلیت سے سب ناواقف ہیں۔ ہر ماسک کے پیچھے نیا چہرہ، کون ہے کس ماسک کے پیچھے، یہ کوئی نہیں جانتا ”
” عاریز کو کیوں ۔۔۔۔ م ۔۔۔ مرڈر کیا ؟؟”
اکاسمہ نے بمشکل الفاظ ادا کیے تھے۔
” ارے دیکھو تو، کیسے آواز کانپ رہی ہے تمہاری۔ اتنی محبت کرتی تھی تم عاریز سے؟؟ مجھے دکھ ہوا اسے مارنے کا لیکن پھر تم تک، تمہارے قریب پہنچنے کا کوئی راستہ بھی تو نہیں تھا۔ اوہ ہاں یاد آیا وہ تو شازم خان کا بیٹا ہے ناں اور شازم خان ہمارے بابا کا دوست ۔ تو جیسی صحبت، ویسا ہی دوست ۔۔۔ ”
مکروہ مسکراہٹ اس کی آنکھوں میں تھی۔
” خیر ۔۔۔۔”
وہ سیدھا ہو کے دونوں ہاتھ جھٹکنے لگا۔
” بہت باتیں ہو گئی تو اب 12 بھی ہونے والے ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ تم نئے سال کے آغاز میں مرو،بلکہ میں چاہتا ہوں کہ اسی سال کے آخر لمحوں میں اپنی آخری سانسیں لیتی مرو تاکہ کوئی یہ افسوس نہ کرے کہ ہائے بیچاری سال کے شروع میں مر گئی،بلکہ یہ کہے سال کے آخر میں مر گئی بیچاری۔ ”
وہ ہنستے ہوئے، اس بلڈنگ سے اب دوسرے بلڈنگ میں جا رہا تھا جبکہ اکاسمہ جو ابھی اپنے بابا کی حقیقت سے سنبھلی بھی نہیں تھی جب وہ اسکے قریب پہنچا اور ایک چاقو بھی اس کے ہاتھ میں موجود تھا۔
“یہ مجھے تمہارے پینٹ پاکٹ سے ملا، دیکھو تو ”
وہ ہنسنے لگا جبکہ اکاسمہ اوپر اسے دیکھنے کی کوشش کرتی، ہاتھ پاؤں مارنے لگی۔
” ن ۔۔۔ نہیں عدیل، نہیں ”
جبکہ وہ چاقو اب ایک رسی پہ رگڑنے لگا۔
” آہ، اکاسمہ تمہاری آنکھوں میں خوف دیکھ رہا ہوں میں۔۔۔ تمہیں بچانے اب کون آئے گا ؟؟ پچھلے دو سال سے بیتاب ہوں تمہیں موت دینے کے لئے، اور اب آہہہہ تمہارا چیپٹر کلوز ہو رہا ہے ۔ یہاں اس ویرانے میں کوئی نہیں ہے جو تمہیں سن سکے۔ ”
وہ ہنسنے لگا۔ رسی کھل چکی تھی۔ اکاسمہ کی چیخ ابھری جبکہ ایک بازو ابھی تک رسی میں بندھا ہوا تھا وہ خوفزدہ سی، دوسرے ہاتھ سے اس رسی کو تھام گئی اور عدیل حیات کو دیکھنے لگی جو قہقہہ لگا رہا تھا۔
” دوسرا رہنے دیتا ہوں جب جان نکلے گی اور بازو شل ہو کے، گوشت سے جدا ہو، تمہارے جسم سے جدا ہونے لگے گا تب تم گرو گی نیچے اور ایسی بھیانک موت کا مزہ ہی بہت خوب ہے ”
وہ چاقو وہیں پھینکتا، دور ہوا تھا۔
” ہیپی نیو ائیر اکاسمہ سسٹر، گڈ نائٹ”
وہ مسکرا رہا تھا جبکہ آسمان رنگ برنگی روشنیوں سے بھر گیا تھا۔ نیا سال شروع ہو رہا تھا اور سب اس نئے سال کا جشن منا رہے تھے۔کتنی عجیب سی بات ہے کہ اس شہر کے شہری نیا سال منا رہے تھے لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس کھنڈر عمارت کے پیچھے، ایک عورت اپنی موت کے لمحے گن رہی ہے۔
” رکو۔۔۔۔ عدیل حیات رکو ”
وہ چلانے لگی لیکن وہ اب جا چکا تھا۔

■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■

” نہیں۔۔۔۔ نہیں ”
فیاض حیات چلائے تھے جبکہ شازم خان اچھنبے سے انہیں دیکھنے لگے جو موبائل کو دیکھتے ہوئے چیخ رہے تھے۔
” کیا ہوا فیاض؟؟”
” م ۔۔۔۔ میری ۔۔۔۔ میری بچی ۔۔۔۔ ا ۔۔۔۔ کاسمہ”
وہ چیخ چیخ کے روتے ہوئے، موبائل شازم خان کو دکھانے لگے جبکہ وہ حیران آنکھوں سے، اس ویڈیو کو دیکھ رہا تھا جو عدیل حیات نے انہیں سینڈ کی تھی۔
” ا ۔۔۔ اکاسمہ !!!”
وہ بول نہیں پا رہے تھے۔ جو بھی تھا وہ ان کے بیٹے کی بیوی رہ چکی تھی، ان کی بیٹے کی پسند ۔
فیاض ملک اپنے سینے کو ہاتھ سے مسلتے ہوئے، رو رہے تھے جبکہ انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کریں؟؟ کہاں جائے؟؟ کہاں ہے ان کی بیٹی۔
” اکاسمہ ۔۔۔۔ اکاسمہ ”
وہ زمین پہ بیٹھتے چلے گئے لیکن پھر تیزی سے اٹھ کے موبائل، شازم خان کے ہاتھ سے جھپٹتے، اس نمبر پہ کال کرنے لگے جس سے یہ ویڈیو سینڈ ہوئی تھی ۔

[ آپ کا مطلوبہ اس وقت بند ہیں۔ برائے مہربانی کچھ دیر بعد کوشش۔۔۔۔۔۔]

” نہیں، نہیں۔۔۔۔۔ یااللہ نہیں!!!!! ”
وہ کانپتے ہوئے چلائے تھے۔ شازم خان نے بمشکل اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے، فیاض حیات کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا۔
” فیاض، فیاض۔۔۔۔ ہوش کرو ۔۔۔۔ ایسے نہیں ہو سکتا کچھ، ہوش کرو ۔۔۔ راہ ڈھونڈتے ہیں ”
” ش ۔۔۔۔ شازم میں گنہگار ہوں،میری بچی تو بےگناہ ہے، اسے مارنے والا ہے وہ۔ وہ ۔۔۔۔ وہ قاتل ہے، س۔۔۔۔ سیریل ک ۔۔۔ کلر ۔۔۔۔ سفاک ہے وہ ۔۔۔۔ میری بچی ۔۔۔ شازم ۔۔۔ شازم مجھے بتاؤ میں۔۔۔ میں کیسے بچاؤں اپنی ب ۔۔۔۔ بچی۔۔۔۔۔۔۔ ح ۔۔۔۔ حکان ۔۔۔۔حکان ”
ان کی کانپتی انگلیاں اب حکان کو کال کرنے لگی جبکہ شازم خان اچھنبے سے انہیں دیکھنے لگے۔ اسی دوران عفان بھی آ چکا تھا۔
” بابا کیا ہوا ہے ؟؟ ”
عفان ان دونوں کی دگرگوں حالت دیکھ کے پریشانی سے قریب آیا تھا۔
” ا۔۔۔۔ کاسمہ ۔۔ ا ۔۔۔۔ اکاسمہ ”
وہ سینے پہ ہاتھ رکھ کے، نیچے گرے تھے۔
” بابا ۔۔۔۔۔ ”
عفان چلایا تھا۔ شازم بھی وہیں صوفے پہ ڈھے گئے تھے۔

■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■

” اکاسمہ کا موبائل گھر پہ ہے تو ۔۔۔۔ ”
وہ ابھی اکاسمہ کی لوکیشن دیکھ کے، سوچ ہی رہا تھا جب اس کے واتس ایپ پہ، فیاض حیات کی سینڈ کی ہوئی ویڈیو آئی تھی اور اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا جبکہ سرد آنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں ابھری تھی۔ وہ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور ساتھ ہی ازمائر کو کال کرنے لگا۔
” ایک ویڈیو سینڈ کر رہا ہوں۔ ٹریس آؤٹ کرو کہ کہاں کی ہے۔ جلدی، ہری اپ ۔۔۔ رائٹ ناؤ ”
وہ تقریبا چیخا تھا جبکہ خوف سے اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ گاڑی میں بیٹھ کے وہ دوسری کال ملانے لگا۔
” عباس ابھی کے ابھی مجھے اکاسمہ کی لوکیشن پتہ کر کے بتاؤ۔ ابھی تو ابھی ”
موبائل سیٹ پہ پھینکتا، وہ گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا لیکن خیال آتے ہی،وہ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے خیام کو کال کرنے لگا۔
” ہیلو حکان۔۔۔۔”
” اکاسمہ کی جان خطرے میں ہیں۔ وہ سیریل کلر کے قبضے میں ہیں۔ ”
” وہاٹ؟؟”
اسکرین پہ دوسرے نمبر سے کال آ رہی تھی ۔
” میں بات کرتا ہوں ”
وہ خیام کی کال کاٹ کے، دوسری کال سننے لگا۔
” عباس بولو ؟؟”
“سر۔۔۔۔ ”
” بولو ؟؟”
حکان ایکدم سے چلایا تھا۔
” سر ۔۔۔۔ کراچی کینٹ ایریا میں ایک باڈی ملی ہے ۔ جس کا چہرہ کھرچ دیا گیا ہے لیکن۔۔۔۔۔ اس کے ہاتھ میں و ۔۔۔۔ واچ ہے جو آپ نے میم اکاسمہ کو ۔۔۔۔۔ ا۔۔۔۔ ور ان کے یونیفارم کا آئی ڈی کارڈ پڑا ملا ہے جس پہ لکھا ہے ۔۔۔
Lawyer : Akasma Hayat “

گاڑی کے ٹائر زور سے چڑچڑائے تھے اور گاڑی اپنی لائن سے ہٹ کر، پاس پارک کی ہوئی گاڑی سے جا لگی تھی۔ اس کا سر اسٹئیرنگ سے لگا تھا، آنکھیں نیم بند ہو کے کھلی تھی، وہ سیدھا تو ہو چکا تھا لیکن اسکی ساکت آنکھیں سامنے دیکھ رہی تھی جبکہ ان میں بینائی جیسے ختم ہو چکی تھی۔ دل ساکت ہو گیا تھا جبکہ سانسیں تھمنے لگی۔ وہ جیسے پیرالائز ہو چکا تھا۔ گاڑی کی ساکت فضا میں موبائل فون دوبارہ سے شور مچانے لگا لیکن اس کی دنیا، اس کا وجود ساکت ہو چکا تھا۔ وہ جو آٹھ سال سے، خود کو اس کے قابل بنانے کے لئے سرگرداں تھا۔۔۔ آج وہ اسے ہی ہار گیا تھا۔ اس کی قابلیت کا کیا؟؟ جب ۔۔۔۔۔ جب وہ اسے ہی ہار گیا !!!
موبائل فون کا شور برپا تھا جو اب اس کے حواسوں پہ کچوکے لگانے لگا۔ کانپتے ہاتھوں اس نے موبائل اٹھا کے، کان سے لگایا تھا۔ دوسری طرف ازمائر تھا۔

■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *