The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 46
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 46
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 46
وہ، عباس کے ساتھ قبرستان میں موجود تھی۔ عباس محتاط نظروں سے چاروں طرف دیکھتا، اکاسمہ کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا جبکہ اکاسمہ لب بھینچے، اپنی سوچوں میں گم آگے بڑھ رہی تھی لیکن قریب پہنچنے پہ اسے چونک کے رکنا پڑا۔ اس نے حیران آنکھوں سے، اپنے قریب کھڑے عباس کو دیکھا، وہ بھی حیرت سے سامنے ہی دیکھ رہا تھا۔
اکاسمہ نے آگے بڑھنا چاہا لیکن عباس نے ہاتھ اٹھا کے، اسے آگے بڑھنے سے روک دیا اور خود محتاط انداز میں، ریوالور ہاتھ میں لے کے، آگے بڑھا۔
عاریز خان کی قبر کے قریب ہی، ایک اور قبر کھودی گئی تھی جو خالی تھی۔ اکاسمہ بھی آگے بڑھ کے، اس خالی کھودی گئی قبر میں جھانکنے لگی۔ جب اچانک اس کے موبائل پہ میسج ایا۔
[ ویلکم ٹو دا ہیل مسز اکاسمہ حکان ملک لیکن بہت جلد اکاسمہ ہی کہلائی جاؤ گی کیونکہ اس کھودی گئی خالی قبر کا اصل مالک بہت جلد یہیں آنے والا ہے ]
اکاسمہ نے لب بھینچے سر اٹھا کے چاروں طرف دیکھنا شروع کیا لیکن یہاں کوئی نہیں تھا۔
” میم یہاں سے چلنا چاہئے اپ کو ۔ یہاں خطرہ بھی ہو سکتا ہے آپ کو ”
عباس تیزی سے کہتا، اس کے قریب آیا تھا جب دوسرا میسج بپ بجا۔
[ حکان ملک محبت بھئ عجیب ہے ویسے، ایسے تمہاری حفاظت کے لئے باڈی گارڈز رکھے ہوئے ہیں اور اپنے لئے کچھ نہیں، ،،،،،، کوئی حادثہ اس کے ساتھ بھی تو ہو سکتا ہے، بریک فیل، فائرنگ، بمب بلاسٹ، کچھ بھی ]
اکاسمہ کی آنکھوں میں خوف ابھرا تھا۔ وہ کانپتے ہاتھوں تیزی سے حکان کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔ اس کی انگلیاں کانپ رہی تھی موبائل اسکرین پہ۔
[ آپ کے مطلوبہ نمبر سے فی الحال رابطہ ممکن نہیں ہے، برائے مہربانی بعد میں کوشش۔۔۔]
کال ڈسکنکٹ کر کے وہ دوبارہ کال کرنے لگی لیکن اب بھی نمبر بند تھا۔
” ح ۔۔۔۔ حکان ۔۔۔۔ حکا۔۔۔۔ن”
کانپتی آواز میں بولتی، وہ تیزی سے مڑی۔ اس کے قدم چلتے ہوئے لڑکھڑا رہے تھے۔ عباس تیزی سے آگے آیا تھا۔
” میم کیا ہوا ہے؟؟”
” حکا۔۔۔۔ن۔ حکان ۔۔۔ کو کچھ نہ ہو ”
وہ اب دھڑکتے دل اور کانپتے وجود کے ساتھ بھاگنے لگی۔ عباس بھی لب بھینچے اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔
” حکان کہاں ہے ؟؟؟ حکان ۔۔۔۔ حکان کو کال نہیں جا رہی ہے ۔۔۔۔ ”
وہ بار بار کانپتی آواز میں بولتی جا رہی تھی۔ عباس نے گاڑی تک پہنچ کے، گاڑی کا دروازہ اس کے لئے کھول دیا۔
” میں۔۔۔ نہیں بیٹھ سکتی، مجھے۔۔۔ گھٹن ہو رہی ہے، مجھے ح۔۔۔کان کے پاس جانا ہے ۔۔۔۔ اس کا فون نہیں لگ رہا۔۔۔”
بھیگی آنکھوں سے، وہ سر نفی میں ہلاتی، وہ آگے بڑھنا چاہتی تھی جب عباس نے اس کا راستہ روک لیا۔
” ریلیکس، کچھ نہیں ہوا، ہم وہیں جا رہے ہیں۔ حکان سر کے پاس۔ آپ پلیز گاڑی میں بیٹھیے میم پلیز ”
عباس نے بمشکل اسے گاڑی میں بٹھایا اور خود تیزی سے ڈرائیونگ سیٹ پہ آ کے بیٹھا۔ گاڑی اسٹارٹ کرتا، وہ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے،راستے میں حکان ملک کو کال کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن اس کا نمبر مسلسل بند آ رہا تھا۔
بیک ویو مرر میں اکاسمہ کا خوف سے سفید پڑتا چہرہ دیکھتے، وہ لب بھینچ گیا۔ نہ جانے کیا ہو رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ حکان ملک کے دشمن موجود ہیں لیکن اس قدر بڑی تعداد کا، اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ دشمن اس حد تک جائے گا کہ اس کی قبر کھود دے گا اور اکاسمہ کو دھمکی آمیز میسجز بھیجے گا۔
بیس منٹ بعد،گاڑی ایک عمارت کے سامنے جا رکی، جہاں سے حکان ملک، بلیک شرٹ اور گرے پینٹ میں ملبوس باہر نکل رہا تھا، اس نے آنکھوں پہ سیاہ گلاسز لگائے ہوئے تھے، اس کے ساتھ ایک اور شخص بھی تھا، جس سے وہ کوئی بات کر رہا تھا ۔ گاڑی میں موجود عباس اور اکاسمہ نے ایک ساتھ ہی اس طرف دیکھا۔عباس نے سکون کا سانس لیا جبکہ اکاسمہ گاڑی سے نکل کے، تیزی سے اس کی طرف دوڑی اور بنا کچھ کہے، حکان کے سینے سے جا لگی۔
اس کے کانپتے وجود کو،بانہوں میں بھرتا، حکان ملک پہلے حیران ہوا اور پھر سوالیہ نظروں سے، سامنے سے آتے عباس کو دیکھنے لگا جس کے چہرے پہ تشویش تھی۔
” آپ کال ریسیو نہیں کر رہے تھے سر۔ ”
اس نے مختصر جواب دیا۔ حکان نے لب بھینچے، ساتھ کھڑے ساحد یزدانی کو دیکھا تھا جو اسے الوداعی نظروں سے دیکھتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
” گاڑی گھر لے کے جاؤ ”
عباس کو حکم دیتا، وہ اکاسمہ کو بانہوں کے گھیرے میں لیے، پھر سے عمارت کی طرف چلنے لگا۔ عمارت میں داخل ہو کے،وہ اکاسمہ کو لیے، لفٹ میں داخل ہوا، لفٹ کچھ دیر نیچے کی طرف جا کے رکا تو حکان اسے لیے باہر نکلا۔
یہ بیسمنٹ تھی۔ اکاسمہ، اس تمام کے بیچ حیران سی چاروں طرف دیکھتی رہی۔
بیسمنٹ کافی بڑی جگہ تھی۔ جہاں تین کمرے تھے ، دو بڑے ہال تھے۔ کوریڈور تھے۔ حکان اسے لیے ایک کمرے میں داخل ہوا۔ دروازہ بند کرتا، وہ اکاسمہ کو دیوار سے پن کرتا، خود اس پہ جھک کے، اس کی حیران آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” کیا ہوا ہے مسز اکاسمہ حکان ملک کو ؟؟”
اکاسمہ جو خود کو، حکان ملک کے زیر تاثیر محسوس کر رہی تھی، وہ اب دھڑکتے دل اور بوجھل آنکھوں سے، سیاہ شرٹ میں موجود اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو اپنی سیاہ گلاسز اتار چکا تھا۔ اس کی شرٹ کے آستین فولڈ تھے، جس کی وجہ سے، اس کے بازوؤں کی رگیں پھولی ہوئی نظر آ رہی تھی جو اکاسمہ کے دل میں، انوکھی خواہشیں پیدا کر رہی تھی۔
” ہئی، کیا ہوا ہے ؟؟”
بھاری بوجھل سرگوشی پہ، وہ بوجھل ہوتی پلکیں اٹھا کے، اسے دیکھنے لگی۔ پہلے وہ خوفزدہ تھی، جب باہر حکان کے سینے سے لگی، تب بھی وہ خوف کے زیر اثر تھی، جب وہ اس بلڈنگ میں داخل ہوئی حکان کی ہمراہی میں، تب وہ حیران سی سب دیکھ رہی تھی اور اب جب حکان کے قریب تھی تو اب اس شخص کے قربت کی چاہ اسے مدہوش سا کر رہی تھی۔
” یہ ۔۔۔ کون سی جگہ ہے ؟؟”
کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو ادھر ادھر نظریں دوڑاتی سوال پوچھ بیٹھی۔
” یہ، وہ جگہ ہے جہاں ہم دونوں کی سانسوں کا شور صرف ہمیں ہی سنائی دیتا ہے، باقی سب ساؤنڈ پروف ہے۔ ”
اکاسمہ کی دھڑکنیں پل بھر میں معدوم ہوئی اور پھر اتھل پتھل ہونے لگی۔
” اب تو خوفزدہ نہیں ہو ؟؟”
حکان نے سرگوشی کی جبکہ وہ نفی میں سر ہلاتی، سر پیچھے دیوار پہ ٹکا گئی جیسے بہت تھکی ہوئی ہو۔ آنکھیں موند کے اس نے گہرا سانس لیا۔
” کوئی مجھے کچھ دنوں سے عجیب میسجز بھیج رہا ہے حکان اور آج ۔۔۔۔ ”
وہ آنکھیں کھول کے حکان کو دیکھنے لگی۔
” آج لگا کہ ۔۔ میں نے تمہیں کھو دیا ہے۔۔۔ میں بہت تھکن محسوس۔۔۔۔”
گہرا سانس لیتی، وہ وہیں دیوار سے ٹیک لگائے نیچے گرنے والی تھی جب حکان نے اسے بانہوں میں بھر لیا، اکاسمہ نے اس کی گردن میں دونوں بازو حائل کر دیے، حکان اسے گود میں لیے، صوفے پہ بیٹھ گیا۔ اکاسمہ نے اس کے سینے پہ سر رکھا۔
” تمہارا موبائل کیوں سوئچ آف ہے ؟؟”
” یہاں ہمارے اسپیشل موبائل ہی کام کرتے ہیں، باقی کے موبائل سوئچ آف ہی شو ہوتے ہیں۔ ”
حکان نرمی سے بتا رہا تھا جبکہ اس کے ہاتھ کی انگلیاں، اکاسمہ کے بال سنوار رہی تھیں۔
” یہ کیسی جگہ ہے ؟؟”
اکاسمہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
” موبائل دو اپنا مجھے ”
حکان نے الٹا سوال کیا تو اکاسمہ نے خاموشی سے اپنا موبائل اسے دے دیا۔ حکان ماتھے پہ بل ڈالے موبائل میں دیکھنے لگا اور اپنے موبائل سے کسی کو کال کیا۔
” یہ نمبر اور میسجز کو ٹریس کرو جو میں نے تمہیں سینڈ کیے ہیں۔پوری انفارمیشن مجھے چاہیے آج ہی ۔ “
موبائل سائیڈ پہ رکھ کے، وہ اب اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا۔
” چلو ڈنر کرتے ہیں ”
” لیکن میرے سوال کا جواب مجھے نہیں ملا ابھی تک ”
اکاسمہ سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگی۔
” بتاتا ہوں ”
اکاسمہ کے کان کی لو کو،لبوں کے بیچ پکڑ کے، اپنی باپ کہتا، وہ اکاسمہ کی پھر سے دھڑکنیں منتشر کر گیا جبکہ حکان اس کی کمر کے گرد، بازو باندھ کے، اس کے ساتھ کمرے سے باہر نکل رہا تھا۔
■□□■□□■□□■□□■□□■□□■□□■
” کیوں کر رہی ہو تم یہ سب مسفرہ ؟؟”
مسفرہ جو اپنی کتاب لکھنے میں مصروف تھی، چونک کے، سر اٹھا کے، اپنے سامنے بیٹھے ازمائر شاہ کو دیکھنے لگی جو لب بھینچے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
اس کا دل ڈوب کے ابھرا تھا۔
کیا جاننا چاہ رہا ہے مقابل بیٹھا یہ شخص ؟؟
اسے کیسے معلوم ہوا کہ میں کیا کرنا چاہ رہی ہوں؟؟
” کیا کر رہی ہوں میں؟؟”
ازمائر شاہ کے لبوں پہ خفیف سی مسکراہٹ ابھری تھی۔
” ڈے ٹائم کلینک اور رات کے اس وقت کتاب لکھنے میں مصروف۔ کیا میرے لئے وقت نکالنا تمہارے لئے بہت مشکل ہے یا ۔۔۔۔ ”
” یا ؟؟”
مسفرہ نے تیزی سے سوال کیا۔
” یا تم نہیں چاہتی کہ میرے ساتھ اپنا وقت گزارو مسفرہ ؟”
مسفرہ نے تیزی سے آنکھیں چرائی۔
” نہیں، ایسا کچھ نہیں ہے۔ مجھے لگا کہ تم بزی ہو تو شاید میرے لئے وقت نہ ہو تمہارے پاس ۔ ”
مسفرہ نے ہلکا سا مسکرانے کی کوشش کرتے کہا جبکہ ازمائر گہرا سانس لیتے، اٹھ کے، اس کے قریب، بلکل سامنے بیٹھا۔
” تمہیں یہ کیوں لگا مسفرہ ؟؟ کیا میرے کسی عمل سے تمہیں یہ لگا کہ میں تمہارے ساتھ وقت نہیں گزارنا چاہتا ؟؟ کیا میں نے کبھی تم سے دور ہونے کی کوشش کی ؟؟ جب سے میں نے رخسار کا میٹر تم سے ڈسکس کیا ہے تب سے تک بلکل مختلف بن چکی ہو ”
مسفرہ کی آنکھوں میں عجیب تاثر ابھرا، رخسار کے ذکر پہ۔ اس نے پین اور نوٹ بک سائیڈ پہ رکھ دیے اور ازمائر کو دیکھنے لگی۔
” میں کیوں مختلف ہونگی ازمائر ؟؟ میں وہی عام سی مسفرہ ہوں ”
” تم عام نہیں، خاص ہو مسفرہ ۔ کیونکہ تم میری محبت، میری بیوی ہو۔ خود کو عام کہہ کے کیا پروف کرنا چاہ رہی ہو تم ؟؟”
ازمائر اس کے چہرے کو غور سے دیکھ رہا تھا لیکن مسفرہ کے چہرے پہ کوئی اتار چڑھاؤ نہیں تھا بلکہ وہ سپاٹ سی تھی، بنا کوئی تاثر بدلے۔
مسفرہ نے کندھے اچکائے۔
” یہ تو بہت ۔۔۔۔۔”
اچانک دروازے پہ بیل ہونے لگی اور مسفرہ کی بات ادھوری رہ گئی۔ بیل مسلسل بجتی جا رہی تھی۔ ازمائر نے گہرا سانس لیتے، خود کو پرسکون رکھنے کی کوشش کی جبکہ مسفرہ لب کاٹتی اسے دیکھ رہی تھی۔
” اس وقت کون ہو سکتا ہے ؟؟”
مسفرہ نے اچانک کہا۔ ازمائر ابرو اچکا کے اسے دیکھنے لگا۔
” ایسے کہہ رہی ہو جیسے تم جانتی نہیں ہو ”
مسفرہ کی آنکھیں گہری ہوئی جب اس نے ازمائر کے معنی خیز چہرے کو دیکھا ۔
ازمائر ایسے کیوں کہہ رہا تھا ؟؟
ازمائر سر جھٹک کے کھڑا ہوا اور آگے بڑھ کے اس نے دروازہ کھول دیا۔ رخسار جو بیل پہ ہاتھ رکھ کے، جیسے ہٹانا بھول گئی تھی، حیران آنکھوں سے ازمائر کو دیکھنے لگی جو پرسکون انداز میں، دونوں ہاتھ، ٹراؤزر کے پاکٹس میں ڈالے، اسے دیکھ رہا تھا
” ازما۔۔۔۔ ئر۔۔۔۔ میں آ گئی ”
رخسار کی آنکھوں میں عجیب دیوانگی تھی جب وہ ازمائر کو دیکھتی قریب آئی۔ مسفرہ بھی پیچھے فاصلے پہ کھڑی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
” میں نے تمہیں منع کیا تھا رخسار، آج ہی منع کیا تمہیں، تم کیوں آئی ہو یہاں؟؟”
ازمائر کا لہجہ سپاٹ تھا جبکہ رخسار بےباک آنکھوں میں نمی لیے اسے دیکھ رہی تھی۔
” کیونکہ ۔۔۔۔ میں رہنا نہیں چاہتی تمہارے بغیر، دیکھو میں پاگل سی بن چکی ہوں۔۔۔ مسفرہ ۔۔”
وہ اب مسفرہ کو دیکھ رہی تھی
” مجھے ادھار دے دو یہ شخص پلیز ”
مسفرہ دھک سے رہ گئی ۔ وہ اس سے کیا مانگ رہی تھی؟؟
ازمائر بھی مڑ کے مسفرہ کو دیکھنے لگا جس کے چہرے پہ عجیب ہی تاثرات تھے۔ رخسار نے ازمائر کے ہاتھ تھام لیے۔
” میں اس شخص سے بہت محبت کرتی ہوں،کیسے چھین سکتی ہو مجھ سے، میرا شوہر، مجھے واپس کر دو ازمائر شاہ۔ ”
مسفرہ دھک سے رہ گئی ۔وہ ازمائر کی طرف سے ردعمل کی منتظر تھی لیکن ازمائر شاہ کسی ردعمل کا اظہار کیوں نہیں کر رہا تھا؟؟
وہ بھی۔۔۔ وہ بھی رخسار کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں؟؟
نہیں!!!
ہرگز نہیں!!!
وہ اب وحشت زدہ آنکھوں سے ازمائر کے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔
” مسفرہ تم سو جاؤ، میں آتا ہوں کچھ دیر میں ”
یہ کہہ کے، وہ رخسار کو لیے،گھر سے باہر نکلا تھا مسفرہ کا دل پسلیوں میں تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اسے پروفیسر حماد کی باتیں یاد آ رہی تھی لیکن وہ ان سب پہ یقین نہیں کرنا چاہتی تھی۔
وہ نہیں آزمانا چاہتی اپنے شوہر کو۔
نہیں۔
تیزی سے آگے بڑھ کے، اس نے ازمائر کا بازو تھام لیا۔ ازمائر اسے اچھنبے سے دیکھنے لگا۔
” مت جاؤ ”
” کیوں مسفرہ ؟؟ کیا تم یہ نہیں چاہتی تھی؟؟ اتنی زیادہ محنت کی تم نے، مجھے آزمانے کے لیے، مجھے رخسار کے ساتھ ہی جانا ہے اب ”
ازمائر کی سرد اوازگونج رہی تھی۔ اس کی آنکھیں بےحد سرد تھی۔ مسفرہ کانپ کے رہ گئی۔
” ازمائر نہیں پلیز۔ میں غلط تھی، مت جاؤ پلیز۔ رک جاؤ، میں تمہاری بیوی ہوں، ”
” رخسار بھی میری بیوی یے اور میں اج کی رات، اس کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں، تم جا کے سو جاؤ ”
اپنا بازو، مسفرہ کے ہاتھ سے جھٹک کے، وہ رخسار کو لیے آگے بڑھ گیا جبکہ مسفرہ پاگلوں کی طرح اس کے پیچھے بھاگنے لگی۔
” ازمائر، ازمائر رکو پلیز ۔۔۔ ازمائر ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جھٹکے سے، اس کا دماغ جاگا اور پھر وہ خود بھی جاگ گئی۔ ہوش کی دنیا میں قدم رکھتے ہی، اس نے تیزی سے سر اٹھایا، وہ لکھتے لکھتے سو گئی تھی۔ اسنے چاروں طرف نظر دوڑائی۔ ازمائر نہیں تھا۔اس کا دھک سے رہ گیا۔
پسینے سے تر ماتھے کو چھوتی، وہ جیسے اب بھی خواب کے زیر اثر تھی۔ وہ عجلت میں اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور دروازے کی طرف بھاگی۔
” ازمائر۔۔۔۔ ازمائر ۔۔۔”
وہ ہذیانی انداز میں چلا رہی تھی۔ اسکا جسم کانپ رہا تھا ۔ماتھے اور گردن پہ پسینے کے قطرے تھے جبکہ آواز میں عجیب وحشت تھی۔
” ازمائر ۔۔۔۔ ”
وہ پھر سے چلائی تھی۔ ازمائر سیڑھیوں کے قریب آتا، اوپر دیکھنے لگا جبکہ سیڑھیاں اترتی مسفرہ، اس کی بانہوں میں گر کے، شدت سے، اس کے گلے لگ گئی۔
” از۔۔۔۔ مائر ”
ازمائر نے پریشان ہوتے، اس کے نازک کانپتے وجود کو بانہوں میں بھر کے، اسے پرسکون کرنے کی کوشش کی تھی۔
” مسفرہ ؟؟ کیا ہوا ہے ؟؟”
“کہاں تھے۔۔۔۔ تم ؟؟”
مسفرہ نے تھکے تھکے انداز میں سرگوشی کی
” بھول گئی تم ؟؟ میں کافی بنانے آیا تھا یہاں، تم لکھ رہی تھی تو میں نے کافی کا پوچھا تم سے اور وہی بنا رہا تھا ”
مسفرہ خوفزدہ آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
” بہت محبت کرتی ہوں تم سے ازمائر شاہ، چھوڑ۔۔۔۔۔ کے مت جانا پلیز مجھے”
ازمائر اسے پریشان نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
” میں کہاں جاؤں گا یار؟؟ چھوڑو سب، گیپ لو، کچھ مت لکھو۔ آؤ کافی پیتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں ”
ازمائر اس کی کمر پر ہاتھ رکھے، اسے اپنے ساتھ لے جا رہا تھا جبکہ مسفرہ خوفزدہ نظروں سے چاروں طرف کا جائزہ لے رہی تھی۔وہ خوفزدہ تھی، وہ اپنے خواب سے ڈر گئی تھی، وہ اپنے شوہر کو کھونے سے ڈرتی تھی۔
مانا کہ وہ رخسار کو سبق سکھانا چاہتی تھی لیکن ۔۔۔۔
وہ اپنے شوہر کو کھو دینے کی ہمت نہیں رکھتی تھی۔
وہ دھڑکتے دل کے ساتھ، ازمائر کو دیکھ رہی تھی۔ جو کافی کے مگ میں، آئس ڈال رہا تھا۔
اسے یاد تھا کہ اس شخص سے، اس نے کس قدر پاگل پن کی حد تک محبت کی تھی اور اب بھی کرتی تھی۔
کیا ہو جاتا، اگر ازمائر، رخسار کا نمبر بلاک کر دیتا؟؟
کیا ہو جاتا اگر ؟؟؟
اگر وہ رخسار کے میسجز نہ دیکھا کرے۔
رخسار کو پاگل بنانے کے چکر میں، وہ خود پاگل ہو رہی تھی اب۔
■■□■■□■■□■■□■■□■■□■■□■■
” ہیلو خیام، مجھے تم سے بہت امپورٹنٹ بات کرنی ہے ”
گاڑی ڈرائیو کرتے، اس نے خیام کو کال کی۔
“ہاں ملکہ ڈان بولو؟؟”
خیام فائل سائیڈ پہ رکھ کے، اچھنبے سے اس کی بات سننے لگا کال پہ۔
” عاریز خان کے کیس کی دوبارہ سے انویسٹیگیشن کرنا چاہتی ہوں۔ ”
” کیا ؟؟ کیوں اکاسمہ؟؟۔ سب ظاہر ہو تو چکا ہے کہ قاتل عاریز کا مرڈر کر کے،اپنے ہی ساتھی کو، عاریز کا ماسک پہنا کے، ہمارے بیچ بھیجا تھا۔ کیوں خود کو خطرے میں ڈال رہی ہو؟؟ تمہارے چاروں اطراف خطرہ ہے”
خیام نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
” خطرہ ہے؟؟ تو ؟؟ ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے بیٹھ جاؤں؟؟ عاریز کی موت ایکسیڈنٹ نہیں ہے کہ میں دل کو تسلی دے کے بیٹھ جاؤں۔ مرڈر کیس ہے،مرڈر ہوا ہے عاریز کا۔ لوگ کہتے ہیں کہ قاتل کو مار دیا گیا ہے لیکن نہیں خیام، میرا دل نہیں مانتا کہ قاتل مر چکا ہے۔ خیام وہ لوگ اب حکان ملک کو بھی مار دینا چاہتے ہیں۔
مجھے کسی کا میسج آتا ہے کہ عاریز خان کے قاتل کا ثبوت، اس کی قبر کے پاس ہے اور جب میں جاتی ہوں تو عاریز کی قبر کے قریب ہی، دوسری خالی قبر کھودی گئی ہے، جہاں۔۔۔۔۔ حکان ملک کو دفنانے کی دھمکی ملتی ہے مجھے۔ اسے میں کیا سمجھوں؟؟ خیام کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ سب غلط ہو رہا ہے ”
اکاسمہ کی آواز بھرا گئی۔ خیام نے لب بھینچ لیے۔
” کہاں ہو تم ؟؟”
اس کا لہجہ ایسا تھا جیسے اکاسمہ کے سامنے ہار مان لیا ہو۔
” میں واٹس ایپ پہ لوکیشن سینڈ کرتی ہوں، جلدی آنا ”
” اوکے ملکہ ڈان ”
۔۔۔۔۔۔
کال بند کر کے، اکاسمہ موبائل سیٹ پہ پھینک کے، جیسے ہی مڑتی ہے، گاڑی کے شیشے کے قریب، اسے کاووس شاہ نظر آتا ہے۔
” واٹ دا۔۔۔۔۔،”
دانت پیس کے، وہ گاڑی کا دروازہ کھول کے باہر نکلتی ہے۔
“مجھے لگا کہ گاڑی خراب ہے یا پھر بےہوش ہو گئی ہو”
کاووس شاہ کے پرسکون انداز پہ، اکاسمہ نے دانت پیسے۔
” تم میرا پیچھا کیوں کر رہے ہو کاووس شاہ؟؟”
” ارے نہیں، تم غلط سمجھی ہو۔ تم تو میری بہن ہو اور بھائی کا فرض ہوتا ہے اپنی بہن کی حفاظت کرنا۔ ”
کاووس شاہ کے انداز بیاں پہ اسنے دانت کچکچائے۔
” آئی نو حکان ملک کی بیوی کو کوئی کچھ نہیں کر سکتا لیکن کب کیا ہو جائے، اس کی گارنٹی کیسے دے سکتا ہوں میں ”
اکاسمہ خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” عاریز خان کے قبر کے قریب تم نے ہی خالی قبر کودی ہے ؟؟”
“وہاٹ؟؟ میں ایسا کیوں کروں گا ؟؟ ”
کاووس شاہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“جب سے تم ہماری زندگیوں میں آئے ہو تب سے عجیب واقعات ہو رہے ہیں۔ میرے موبائل پہ عجیب میسجز آنا، میرے اور حکان کے بیچ دراڑ ڈالنے کی کوشش کرنا۔ ان سب کو کیا سمجھوں میں کاووس شاہ۔ میرے بابا کو اپنے قبضے میں کر چکے ہو، عفان سے لڑ بھی چکے ہو تم، امی کو غصہ دلا کے، تم نے اپنی بیوقوفی ظاہر کر دی ہے۔ اب بھی میں تم پہ شک نہ کروں؟؟
ابھی بھی تم ڈرامہ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہو لیکن تمہاری چال میرے سامنے نہیں چل سکتی۔”
کاووس شاہ کو اس کے انداز پہ ہنسی آئی اور تبھی وہ ہنسنے لگا جبکہ اکاسمہ نے لب بھینچ لیے۔ وہ غصے سے کاووس شاہ کوگھور رہی تھی۔
“میں نہ کوئی ڈرامے باز ہوں اور نہ میں ڈرامے بازیاں کرتا ہوں۔ میں سامنے سے وار کرتا ہوں جیسے کہ سامنے آ کے میں نے یہ اعلان کیا کہ فیاض حیات میرا باپ ہے ۔ ”
اسنے بات کرتے ہوئے کندھے اچکائے۔
” خالی قبر کھود کے، عجیب دھمکی آمیز میسجز کرنا میری سرشت میں نہیں۔ ”
” یہ تو وقت بتائے گا کہ تم کتنے پانی میں ہو ”
اکاسمہ نے لب بھینچ ہے دوسری طرف دیکھنا شروع کیا جہاں سے گاڑی آ رہی تھی اور آکے، اسی کے سامنے رکی۔ اندر سے خیام باہر نکل کے، اکاسمہ کے قریب آیا۔
” تم ٹھیک ہو ملکہ ڈان ؟؟ ”
” ہمم ٹھیک ہوں۔ ”
وہ ایک نظر خیام کو دیکھ کے، اب کاووس شاہ کو دیکھنے لگی۔
” تمہارے خلاف ایک ثبوت بھی ہاتھ لگ جائے تو تم جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی سڑو گے ”
اکاسمہ کی بات پہ وہ خاموش رہا۔ اپنی گاڑی وہیں چھوڑ کے،وہ اکاسمہ کی گاڑی میں جا کے بیٹھ گیا جبکہ لب بھینچے وہ ونڈ اسکرین سے نظر آتے کاووس شاہ کو دیکھنے لگا جو پینٹ پاکٹس میں ہاتھ ڈالے انہیں دیکھ رہا تھا۔
” انکل بھی نہ جانے کتنے شوقین مزاج تھے۔مطلب ہماری زندگیوں میں بس اس کاووس شاہ کی کمی تھی جو پوری ہوتی نظر آ رہی ہے ”
اکاسمہ نے لب بھینچے، گاڑی کو جھٹکے سے،اس کے قریب سے گزارتی، آگے بڑھا لے گئی کہ اس کے ٹائر اتنی شدت چڑچڑائے کہ کاووس کو دو قدم پیچھے ہونا پڑا۔
ایسا لگ رہا تھا کہ اس کی پوری زندگی، اکاسمہ کا غصہ دیکھتے گزر جائے گی۔
■■□■■□■■□■■□■■□■■□■■□■■
” پتہ کرو کہ ایسا کون سا دشمن نکل آیا ہے حکان ملک کا جو ہمارے لیے ہی راستے صاف کر رہا ہے۔ ”
وجدان ملک،مسکراتی آنکھوں سے اپنے اسسٹنٹ کبیر کو دیکھ رہا تھا ۔
” ایک اور نیوز بھی ہے کہ میم اکاسمہ، پھر سے عاریز خان کے مرڈر کیس کی انویسٹیگیشن کرنا چاہتی ہے اور اس کے لئے وہ خیام کے ساتھ، قبرستان بھی گئی ہے”
” اس خالی قبر میں حکان ملک کو بھی پھینک دے اور پھر اپنے دونوں شوہروں کی ایک ساتھ کرتی پھرے انویسٹیگیشن ”
یہ بول کے، وجدان ملک ہنسنے لگا جبکہ کبیر بھی مسکرانے لگا۔ ۔
” مجھے آ کے دھمکی دیتی ہے اب وقت بتائے گا اسے جب حکان ملک خود اسے اپنے ہاتھوں سے مارنے کی کوشش کرے گا۔ پاگل، خبطی، دو شخصیتوں کا شکار مردار ۔۔۔۔ ”
کبیر کو ایک لمحے کے لئے حیرت ہوئی ۔جیسا بھی ہو یہ شخص اپنے ہی بیٹے کے بارے میں ایسے بات کر رہا تھا۔ وہ ایسے اپنے بیٹے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انتہائی ڈراؤنا لگ رہا تھا۔
” چلو، جا کے دیکھتے ہیں کہ میری بہو کس قسم کی انویسٹیگیشن کر رہی ہے ”
وہ ہنستے ہوئے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور کبیر کے ساتھ آفس سے باہر نکلا۔
تقریبا بیس منٹ کی مسافت کے بعد، وہ قبرستان پہنچ گیا تھا۔ کبیر کے ساتھ چلتا ہوا، وہ اکاسمہ کے قریب آ رکا تھا ۔
” وجدان ملک کی بہو اور یوں قبرستان میں، اپنے پہلے شوہر کی موت کے ثبوت ڈھونڈنے میں خاک چھان رہی ہے ”
اکاسمہ اور خیام نے مڑ کے اسے دیکھا۔
” بھئی کبیر، میری بہو کے لئے کولڈ ڈرنک لے کر آؤ ”
وہ اب مزاحیہ انداز میں اپنے اسسٹنٹ سے کہنے لگا۔
” ویسے زندہ موجود شوہر کو اکیلے چھوڑ کے،یہاں مردہ شوہر کی چھان بین کر رہی ہو۔ جانتی بھی ہو کہ عجیب دو شخصیتوں کا شکار مریض ہے وہ۔ کسی کے ہاتھوں دھوکہ کھا گیا اور اس کی بیماری بڑھ گئی تو بیٹھی رہنا تم، دو دو قبروں کی چھان بین کرنے “
خیام اچھنبے سے اکاسمہ کو دیکھنے لگا جبکہ اکاسمہ نے لب بھینچ لیے تھے۔ دانت پیستی، وہ اس مصیبت کو اسی خالی قبر میں پھینک دینا چاہتی تھی لیکن وہ بس سرد آہ بھر کے رہ گئی۔
” آپ جیسا گھٹیا باپ بھی ہوگا کوئی؟؟ دھیان رہے آپ اس وقت میرے شوہر کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور میں یہ بتا چکی ہوں کہ اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹائے گیں تو میں وہ سب انٹرنیٹ پہ اپلوڈ کر دوں گی، جب کے ثبوت مٹانے میں، آپ کو 48 گھنٹے لگے تھے۔یاد ہے ؟؟”
اکاسمہ نے ابرو اچکا کے چیلنج بھری آنکھوں سے اسے دیکھا تھا جبکہ وجدان ملک نے لب بھینچ کے، اسے ناگواری سے دیکھا۔
” تم مجھ سے ٹکراؤ گی ؟”
” میری اتنی جرات مائی ڈئیر فاڈر ان لاء۔۔۔ میں تو آپ کی یادداشت چیک کر رہی تھی ۔ ”
اکاسمہ نڈر تھی، ملکہء ڈان۔۔۔
صحیح تو کہتا تھا خیام ۔۔۔
” خیام۔۔ اپنی کزن کو سمجھاؤ کہ میں کس قسم کا آدمی ہوں اور مجھے وکالت کرتے ہوئے کتنا عرصہ ہو چکا ہے۔ میں کل کی آئی اس نئی وکیل کو، وکالت کی الف بے، بہت اچھے سے سکھانا جانتا ہوں ”
وہ خیام کو دیکھتے کہہ رہا تھا جب اچانک اکاسمہ ہنسنے لگی۔ وجدان ملک اسے اچھنبے سے دیکھنے لگا۔
” ارے میں یہاں خود کھڑی ہوں، آپ خیام سے کیوں کہہ رہے ہیں؟؟ مجھ سے کہئیے۔ میں آپ سے وکالت کی الف بے،بصد شوق سیکھنا چاہوں گی۔ ”
وہ دو قدم وجدان کے قریب ہوئی تو وہ بےاختیار دو قدم ہیچھے ہوا۔ ۔
” میں بار بار یاد نہیں دلاؤں گی کہ میرا ٹیمپر جلدی آؤٹ ہو جاتا ہے۔ کل ایک پریس کانفرنس منعقد ہوگا جو میں کرواؤں گی ۔ وہاں ملاقات ہوتی ہے پھر
My Dear Father In Law ”
” کیا بکواس کر رہی ہو ؟؟ کیسا پریس کانفرنس؟”
وجدان ملک بگڑا تھا جبکہ اکاسمہ کندھے اچکا کے مسکرانے لگی ۔
” سرپرائز ہے ۔۔۔ ”
سرگوشی کرتی، وہ پیچھے ہو کے خیام کے پاس آ کھڑی ہوئی۔
” فی الحال میں تھوڑا بزی ہوں تو کل ملتے ہیں پریس کانفرنس میں۔ ”
اسے ہاتھ ہلاتی، وہ پھر سے خیام کے ساتھ اپنے کام میں لگ گئی جبکہ وجدان ملک لب بھینچے اس کی پشت گھور رہا تھا اور پھر سر جھٹک کے، شیطانی نظروں سے، اس نے اپنا موبائل لے کے، چپکے سے، اس کی تصویر بنائی اور اسے حکان ملک کو واٹس ایپ کر دیا اس کیپشن کے ساتھ۔
[ لگتا ہے تمہاری ابھی تک، اپنے پہلے شوہر کو نہیں بھولی۔
You Poor Boy ]
وہ اب مسکراتے ہوئے وہاں سے اپنی گاڑی کی طرف جا رہا تھا۔ کبیر، جو اکاسمہ کے نڈر انداز سے خوشگوار حیرت میں مبتلا تھا، چونک کے وجدان ملک کے پیچھے پیچھے چلنے لگا
جبکہ آفس میں موجود حکان ملک نے، واٹس ایپ کھول کے، وجدان ملک کی طرف سے آئی اکاسمہ کی تصویر، جو وہ عاریز خان کے قبر کے قریب کھڑی ہے اور اس کیپشن کو دیکھ کے آگ بگولا ہو گیا۔ اس نے اپنے لب بھینچ لیے۔ اکاسمہ اسکے پیٹھ پیچھے کیا کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ جو پہلے سے ہی، سر درد کی شکایت کر رہا تھا اور عجیب سوچوں کا شکار ہو رہا تھا۔ اس تصویر اور کیپشن نے، تیل پہ جلتی کا کام کیا۔
تیز آواز میں چلاتا، وہ ایک ہی جھٹکے سے، پورا ٹیبل الٹ چکا تھا ۔۔
