The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 06
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 06
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 6
9:00 am
وہ ابھی ابھی کورٹ پہنچی تھی اور تیز تیز قدم اٹھاتی وہ آگے بڑھ رہی تھی، اسے جلد سے جلد اپنی فائلز ہائی کورٹ میں پیش کرنی تھی، جب اچانک پیچھے سے اس کا بازو تھاما گیا تھا ، وہ رک کے تیزی سے مڑی تھی، عاریز خان اس کے سامنے ہی کھڑا تھا۔
” یہاں کیا کر رہی ہو؟”
وہ جانچتی نظروں سے اکاسمہ کے چہرے کو دیکھ رہا تھا جبکہ اکاسمہ نے بےساختہ اپنا بازو اس کی گرفت سے آزاد کرا کے آنکھیں گھمائی تھی ۔
” یہ بھی کرائم سین ہے کیا؟”
ابرو اچکا کے پوچھا گیا تھا جبکہ عاریز خان نے اس کے انداز پہ لب بھینچ لیے تھے ۔
” میرا مطلب ہے اتنی صبح ۔ ”
” اوہ میرے کاغذی شوہر مجھ سے یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ میں ان سے پوچھ کے ادھر ادھر جایا کروں۔ ”
ایک تو صبح فیاض حیات کو نا پا کر وہ مایوس ہوئی تھی کیونکہ وہ اسلام آباد گئے ہوئے تھے اور اکاسمہ ان سے بات نہ کر پائی تھی اور اوپر سے ان Prosecutor کی انویسٹیگیشن۔ چھوٹی سی ناک چڑھا کے اس نے اپنے سامنے کھڑے اس سنجیدہ سے Prosecutor کو سر سے پاؤں تک دیکھا تھا ۔
” یہ تو تمہارا گڈ لک ہے ، اسی بہانے نکاح ہو گیا مجھ سے تمہارا لیکن I warn you Mr Prosecutor … ”
اپنی شہادت کی انگلی اٹھا کے اسے دیکھنے لگی ۔
” میرے معاملات سے دور رہو ۔۔ میرے کاغذی شوہر۔ ”
لفظ لفظ چبا کے کہتی اس نے چھوٹے قدم رکھتی، اس کی طرف آتی عندلیب کو دیکھا تھا اور سر جھٹک کے آگے بڑھنا چاہا جب عاریز نے اس کا بازو پکڑ کے ، اسے اپنے مقابل کھڑا کیا تھا اور خود اس کی آنکھوں میں سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا ۔
” آپ کے معاملات سے دور رہا تو یہ بھی یاد رہے کہ میں معاملات سے کس قدر فاصلہ رکھتا ہوں۔ ”
سپاٹ آواز میں کہتا وہ جھٹکے سے اس مغرور وکیل کا بازو چھوڑ چکا تھا اور لمبے ڈگ بھرتا اپنے آفس روم کی طرف جانے لگا جبکہ اکاسمہ نے اس کی پشت گھوری تھی اور پھر کندھے اچکا کے وہ عندلیب کی طرف بڑھی تھی ۔
” کیوں کر رہی ہے اپ یہ سب اکاسمہ ؟”
عندلیب نے آتے ہی پوچھا تھا جبکہ اکاسمہ نے آنکھیں گھمائی تھی کہ ایک خبطی انسان سے جان چھوٹی تو دوسری اس کے سامنے کھڑی تھی۔
” دیکھو صبح صبح میرا دماغ خراب مت کرو تم سب مل کے ۔ ”
منہ بنا کے کہتی وہ اسے اشارہ کر کے ساتھ ساتھ چلنے لگی جبکہ عندلیب کی سوئی اب بھی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔
” میری فیملی کو آگ لگانے کی دھمکی دے گیا ہے وہ مجھے ”
” یہی تم اب جج کے سامنے بھی کہو گی ۔ ایسے ہی تو وہ پھنسے گا ”
اکاسمہ کے انداز پہ عندلیب رک گئی تھی جبکہ اکاسمہ بھی رک کے اسے دیکھنے لگی ۔
” کیا ہے اب ؟؟”
کندھے اچکا کے پوچھا گیا تھا اور پھر خود ہی جواب دینے لگی ۔
” عفان تم لوگوں کو ایک سیف جگہ منتقل کر تو چکا ہے ، جہاں وہ کھبی نہیں پہنچ سکتا تو اب کیا مسئلہ ہے ؟؟”
“میرے لئے کیوں اتنا سب کر رہی ہے آپ اکاسمہ ؟؟ آپ کی جان کو بھی تو خطرہ ہے ”
عندلیب کے چہرے پہ پریشانی رقم تھی۔
” ہممم کیوں کر رہی ہوں؟؟ کیونکہ میں ایک بہت قابل وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھی لڑکی بھی ہوں اور ایک لڑکی کے حق کے لئے میں ہی لڑوں گی ناں۔ اور دوسری بات میں کسی سے نہیں ڈرتی، جو بادل گرجتے ہیں وہ برستے کھبی بھی نہیں ہے ، میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا وہ ایسڈ کی دکان، اب چلو چلو ، زیادہ ٹائم ویسٹ کر رہی ہو میرا تم ”
اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے، ہلکا سا تھپتھپا کے وہ آگے بڑھی تھی جبکہ عندلیب بھی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے ساتھ چلنے لگی ۔ اس بات سے بےخبر کہ اس سے فاصلے پہ کھڑا عاریز خان پینٹ پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈالے اسے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔ صبح یہاں آتے ہوئے اپنی گاڑی سے نکلتے ہوئے اس کی نظر اکاسمہ کی پارکنگ میں کھڑی گاڑی پہ گئی تھی ، جہاں کوئی کاغذ کا ٹکڑا رکھا ہوا ملا تھا اسے ، ادھر ادھر نظر دوڑاتا اس نے بےحد احتیاط سے ، کونے سے اس کاغذ کو اٹھا کے پڑھا تھا ۔
” موت کو قریب سے دیکھنا چاہو گی اکاسمہ حیات۔”
لب بھینچے اس نے پھر سے ادھر ادھر نظر دوڑائی تھی اور پھر اس کاغذ کو کوٹ پاکٹ میں رکھتا ، وہ لمبے ڈگ بھرتا تیزی سے کورٹ کی طرف بڑھا تھا اور اب کھڑا وہ اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا جس کی جان کو خطرہ تھا ۔
☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆☆
ازمائر اپنے سامنے پیپرز دیکھتا اب مسفرہ کو دیکھنے لگا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی، وہ لب بھینچ کے پھر سے نظریں جھکا کے پیپرز کو دیکھنے لگا ، جہاں پوری معلومات لے رکھی تھی مسفرہ نے ۔
” کیوں کر رہی ہے آپ مسفرہ ؟؟”
وہ اب سنجیدگی سے مسفرہ کو دیکھ رہا تھا ۔
” کیونکہ میں اپنے بابا کو نہ بچا سکی اس جھوٹے الزام سے ، اس بےعزتی کی موت سے ، شاید تب میں اتنی طاقتور نہ تھی، تب میرا قلم کچھ لکھنے کے لائق نہ تھا لیکن اب میں طاقتور ہوں، میں لکھتی ہوں ، میں لکھ سکتی ہوں، میں اپنے الفاظ سے اب کسی کو بھی نجات دلا سکتی ہوں، تبھی میں یہ سب کر رہی ہوں، ایسے ہی میں نجات دلا سکتی ہوں آپ کو اور شاید یہی وہ راستہ ہو کہ میں اپنے بابا کو انصاف دلا سکوں، شاید ایسے ہی میں پرسکون ہو سکوں ”
وہ کہہ رہی تھی، آنکھوں میں نمی ٹھہری تھی جبکہ ازمائر غور سے اسے دیکھ رہا تھا، جس کے چہرے پہ اپنے بابا کے ذکر پہ کرب پھیلا تھا ۔
” کیا ہوا تھا آپ کے بابا کو ؟؟ کیا الزام لگا تھا ؟؟”
وہ پوچھنے لگا جبکہ اس کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ پھیلی تھی ۔
” ان پہ بلیک منی اور ان کے بزنس پارٹنر کے قتل کا گھناؤنا الزام لگایا گیا تھا ۔ ”
” کس نے لگایا تھا ؟؟اور کیوں؟؟”
وہ پھر سے پوچھنے لگا جبکہ مسفرہ کے چہرے پہ سرد تاثرات ابھرے تھے ۔
” ایڈووکیٹ وجدان ملک ۔ ”
اس کا لہجہ نہایت سرد تھا ۔
” ایک ایسا سفاک انسان کہ جس کی سفاکیت سے کئی بےگناہ انسانوں کی زندگی برباد ہو چکی ہے ۔ ”
ازمائر اسے دیکھے گیا لیکن خاموش ہی رہا ۔
‘ تمہاری بیوی میرے آفس آئی تھی مجھ سے تعلقات بنانے، سوچا تمہیں بتا دوں ‘
وجدان ملک کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے تھے ۔
” ازمائر ؟؟”
مسفرہ کی آواز پہ وہ چونکا تھا ۔
” میں چلتی ہوں۔ ”
وہ کہہ کے اٹھنے لگی جبکہ ازمائر بنا کچھ کہے اسے دیکھتا رہا۔ وہ جا رہی تھی لیکن ازمائر ابھی بھی خاموش تھا ۔ اس کے گرد مکمل سکوت تھا ، خاموشی تھی لیکن اس کے اندر بےحد شور تھا ، ایک سرد جنگ تھی جیسے ۔
☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆
” او بیٹھ جا تو ، کب تک پوچھتی رہے گی میڈم کا ، آ جائے گی ”
وہاں کھڑا گارڈ اسے جھڑک چکا تھا جب وہ پانچویں بار اکاسمہ کا پوچھنے اس کے قریب آئی تھی اور پھر اپنا وجود چادر میں چھپاتی ، وہ پھر سے وہاں پڑے بنچ پہ جا کے بیٹھ چکی تھی، وہ صبح آٹھ بجے سے وہاں آئی تھی اور اب بارہ بج رہے تھے ، اس بنچ پہ کب سے بیٹھی اس کی کمر اکڑ گئی تھی لیکن اسے ملنا تھا اکاسمہ سے اور وہ اس سے ملے بنا نہیں جانا چاہتی تھی۔ سر جھکائے وہ اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔
” سلام میڈم۔ ”
گارڈ کی آواز پہ اس نے چونک کے سر اٹھایا تھا ، اکاسمہ پہ نظر پڑی تو تیزی سے اٹھ کے اس کے قریب آئی تھی لیکن وہ تب تک اندر جا چکی تھی اور گارڈ اسے خشمگین نگاہوں سے دیکھتا اس کے سامنے کھڑا ہوا تھا کہ اس کے اندر جانے کے راستے مسدود کر چکا تھا جبکہ وہ بےبس آنکھوں سے اس گارڈ کو دیکھنے لگی ۔
” میرے کو ملنا ہے وکیل صاحبہ سے ۔ بات کرنی ہے ”
وہ منت کر رہی تھی جبکہ وہ شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے اسے پیچھے دھکیلنے لگا ۔۔
” پیچھے ، پیچھے جا کے بیٹھ وہاں ”
گارڈ اس انداز میں بات کر رہا تھا جیسے وہ کوئی اچھوت ہو ۔
“بہت ضروری ہے میرا ملنا ۔ ”
وہ پھر سے منت کرنے لگی ۔ ویران آنکھوں میں بےبسی اور نمی تھی جبکہ وہ گارڈ بےحد بےرحم تھا ۔
” بیٹھ ادھر جا کے۔ ”
وہ سر جھکا کے پھر سے بنچ پہ جا کے بیٹھ چکی تھی ، ایک بےبس نظر پھر سے اس آفس کے بند دروازے پہ ڈالی تھی اور پھر سر جھکا کے گود میں رکھے اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی ۔ نہ جانے کب تک اسے انتظار کرنا تھا ، یہی سوچتے ایک گھنٹہ بھی گزر گیا تھا جب افس کا دروازہ کھلا اور اکاسمہ باہر نکلی تھی اور اس سے پہلے وہ آگے بڑھتی، وہ اٹھ کے اکاسمہ کے قریب آئی تھی۔
” میڈم۔۔۔ ”
” اے چلو ادھر جاؤ ”
گارڈ نے غصے سے اسے جھڑکا تھا جبکہ اکاسمہ نے ایک سخت نظر گارڈ پہ ڈالی تھی اور وہ خاموش ہو کے نظریں جھکا گیا ۔
” میڈم جی ، میں پمی ہے ”
اس کی ہمت بندھی تو جلدی سے اکاسمہ کو اپنا نام بتایا ۔ اکاسمہ اسے دیکھنے لگی۔
” بولیے کیا ہوا ہے پمی ؟؟ کیوں ملنا تھا آپ کو مجھ سے ؟؟”
شاید زندگی میں پہلی بار کسی نے اس سے بےحد عزت سے بات کی تھی، اس کی آنکھیں بھیگ گئی تھی ۔
” میرے کو مدد چاہئے ، میں ہر جگہ گئی ، سب نے بنا کچھ پوچھے دھکا دے کے نکال دیا میرے کو ۔ ”
آنسو اس کے گال پہ پھسلے تھے ۔
” صبح سے یہاں بیٹھی ہے میں، یہ میرے کو اپ سے ملنے نہیں دے رہا ، میڈم جی میرے کو مدد چاہئے ، انصاف چاہیئے میرے کو ”
اکاسمہ نے لب بھینچے بھرپور گھوری سے گارڈ کو نوازا تھا ۔
” تمہیں تو میں بعد میں دیکھتی ہوں۔ ”
وہ گھبرا کے نظریں جھکا گیا اور اکاسمہ پمی کی طرف مڑی تھی۔
” چلیے ۔ ”
وہ پمی کو لیے آفس میں داخل ہوئی تھی، اسے کرسی پہ بیٹھنے کا کہہ کے وہ پانی کا گلاس اس کے سامنے رکھتی ، خود بھی اپنی سیٹ پہ بیٹھی تھی ۔
” ہممم بتاؤ، میں سن رہی ہوں ۔ ”
” میڈم جی ، میں transgender ہوتی ہے ، عیسائی ہے میں ۔ میں ٹیکسی چلاتی ہے ، اپنی دو بہنوں کی عزت محفوظ رکھنے کی خاطر ، میں دو وقت کی عزت کی روٹی کے لئے محنت کرتی ہے ۔ میری ٹیکسی میں ہر روز کچھ نیا اور انوکھا لوگ دیکھنے کو ملتا ہے ، کراچی شہر کتنا بڑا شہر ہے اور ویسے ہی یہاں ہر طرح کے لوگ بھی دیکھتی ہے میں ، ایک دن تین آدمی میری ٹیکسی میں ایک لڑکی کو زبردستی لے جانا مانگتا ، میں نے اس لڑکی کو بچایا اور ان کو ٹرافیک پولیس کے حوالے کر دیا پر میڈم جی ، 25 دسمبر کی رات کو وہ چار آدمی تھے ، میرے کو ، میڈم جی میرے کو ”
وہ کہتے کہتے رک گئی تھی اور نظریں شرم سے جھکا گئی ۔ ڈر رہی تھی کہ یہ بھی ہنس دے گی ۔
” کیا ہوا تھا 25 دسمبر کی رات کو ؟؟”
” میرے پہ ہنسے گی تو نہیں؟؟”
وہ بھیگی آنکھوں سے اکاسمہ کو دیکھنے لگی جبکہ وہ غور سے اسے دیکھتی نفی میں سر ہلانے لگی ۔
” میرے کو ریپ وکٹم بنا دیا ان چار درندوں نے ”
اکاسمہ کی آنکھوں میں حیرت در آئی تھی اور چہرے پہ سردمہری تھی ۔
” آپ کو ہنسی نہیں آئی؟؟”
پمی حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” کیا اس بات پہ مجھے ہنسی انی چاہیئے تھی ؟؟”
اکاسمہ کے سوال پہ ، اس کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ پھیلی تھی ۔
“جس کے پاس گئی ، سب ہنس پڑے کہ تیرا ریپ کون کرے گا ؟؟دھکے دے کے نکال دیا ، انصاف نہیں ملا میرے کو ، سب ہنسنے لگے میرے پہ ، میری چادر کھینچنے لگے ، مجھے طرح طرح کے نام دینے لگے کہ ہم جیسیوں کا ریپ وکٹم ہونا ایک بہت بڑا گھٹیا مذاق ہوتی ہے میڈم جی ، پر میڈم جی ہم اور ہماری عزت مذاق نہیں ہوتا ، ہم بھی تو اللہ کی مخلوق ہے ، تیسری مخلوق ہی سہی ، پر انسان تو ہے ناں ۔۔ کسی نے آپ کا بتایا کہ آپ بہت رحمدل اور اچھی وکیل ہے ، جتنے پیسے چاہئے ، میں دے گی آپ کو ، کچھ بھی کر کے ، بس مجھے انصاف چاہئے ”
وہ کہتے کہتے رو پڑی تھی جبکہ اکاسمہ لب بھینچے اسے دیکھ رہی تھی۔ قانون کے رکھوالے ہی جب بےبس انسانوں کا مذاق بنانے لگے تو وہ بےبس انسان کس کے پاس جائے ، مدد مانگے ۔
” کون کون سے پولیس اسٹیشن گئی تھی؟؟”
اس کے سوال پہ پمی بھیگی آنکھیں اٹھا کے اسے دیکھنے لگی ۔
” ت ۔۔۔ تین چار پولیس اسٹیشن تھے ”
” کسی نے ایف آئی آڑ درج نہیں کی ؟؟”
وہ پھر سے سوال کر رہی تھی جبکہ پمی سر نفی میں ہلانے لگی ۔
” سب مذاق بناتے گئے ، میری چادر اتار کے ، مجھ پہ ہنسنے لگے ، کوئی میرا جسم چھونے لگا اور گندی گندی باتیں کرنے لگے اور پھر دھکا دے کے نکال دیا ۔ ”
وہ ہچکیوں کے بیچ رک رک کے بتا رہی تھی جبکہ اکاسمہ کا دل جیسے کوئی مٹھی میں بند کر رہا تھا ۔
” میڈم جی ، کوئی بھی اپنی مرضی سے ریپ وکٹم نہیں بنتا ۔ میں اپنے کو صاف کرتے کرتے تھک گئی ، ایسا لگتا میرے کو کہ پانی کی بوندیں میری گندگی کو صاف نہیں کر پا رہی جو میرے اس وجود پہ لگی ہے ۔ ”
اکاسمہ نے گہرا سانس لیا تھا ، آنکھیں نم ہوئی تھی اس کی ، تبھی تیزی سے پلکیں جھپکتی وہ اپنا موبائل ٹیبل پہ رکھ کے اسے دیکھنے لگی ۔
“جو جو ہوا ہے تمہارے ساتھ ، سب بتاتی جاؤ، جہاں جہاں گئی، جس جس نے جیسا برتاؤ کیا ہے تمہارے ساتھ ، سب بتاؤ مجھے ۔ تمہیں انصاف ضرور ملے گا ، میں دلاؤں گی تمہیں انصاف ۔ تم بیان دو اپنا ، میں ریکارڈ کر رہی ہوں ”
پمی بھیگی آنکھوں سے اکاسمہ کو دیکھتی گہرا سانس لیتی بتانا شروع ہو چکی تھی جبکہ اکاسمہ غور سے اس کے چہرے پہ پھیلے کرب ، خوف ، ڈر کو دیکھ رہی تھی۔
☆☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆
اس کاغذ کے ٹکڑے کو خیام ماتھے پہ بل ڈالے دیکھ رہا تھا جبکہ عاریز اسے ۔
” ہماری ڈان کو پتہ ہے اس بات کا ؟؟”
خیام نظر اٹھا کے اسے دیکھتا پوچھ رہا تھا جبکہ وہ نفی میں سر ہلانے لگا۔
” وہ کورٹ کے اندر جا چکی تھی جب اس کی گاڑی پہ مجھے یہ پیپر ملا اور وہ پریشان ہو جاتی، تبھی نہیں بتایا ”
” ہممم ۔۔ کون ہو سکتا ہے یہ ؟؟”
خیام پرسوچ انداز میں ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔
” میں آج ہی ایک خفیہ ایجنٹ کا بندوبست کر چکا ہوں جو آتے جاتے اکاسمہ کی خبر رکھے گا اور اسے بنا بتائے اس کے ساتھ ساتھ رہے گا ۔ ”
اپنی کنپٹی سہلاتا عاریز کہنے لگا جبکہ خیام اثبات میں سر ہلاتا مسکرانے لگا۔
” ماشاءاللہ اتنی کئیر بیوی کی ۔ ”
عاریز سر نفی میں ہلاتا مسکرانے لگا۔ ۔
” بیوی ۔۔؟؟ وہ تو مجھے اپنا کاغذی شوہر کہتی ہے ۔ ”
” وہاٹ۔۔ ؟؟”
خیام ہنسنے لگا ۔۔
” میری ڈان کزن ۔ کاغذی بیوی ہو گئی مطلب وہ تمہاری ۔ ”
وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا جبکہ عاریز بھی مسکرانے لگا ۔
” بکواس بند کرو تم اب ۔ ”
دروازے پہ دستک دے کے طیب اندر آیا تھا ۔
” سر ابھی ابھی ایک انفارمیشن آئی ہے کہ موسی کالونی کے قریب ایک زیر تعمیر عمارت میں دو آدمیوں کی لاشیں ملی ہیں جو پچھلے تین دن سے وہیں پڑی ہے ۔ ”
” تین دن تک کوئی گیا ہی نہیں اس عمارت میں، عجیب ۔ گاڑی نکالو چلتے ہیں۔”
خیام کے کہتے ہی طیب تیزی سے باہر نکلا تھا جبکہ خیام عاریز کو دیکھنے لگا ۔
” دیکھ لیتے ہیں جا کے ، چل رہے ہو تم بھی ۔ ؟”
” بلکل ”
اثبات میں سر ہلاتا عاریز بھی اٹھ کھڑا ہوا تھا اور خیام کے ساتھ آگے پیچھے باہر نکلے تھے ۔ اس عمارت کو ہر طرف سے سیل کر دیا گیا تھا۔ وہاں جانے پہ پتہ چلا کہ وہاں دو قتل نہیں ہوئے بلکہ 25 دسمبر کو بھی وہاں ایک قتل ہوا تھا اور جہاں سڑی ہوئی بوسیدہ باڈی ملی تھی، اس کے سرہانے لکھا ہوا تھا ۔
” merry Christmas”
انویسٹیگیشن کرتے ہوئے عاریز کی نظر فاصلے پہ گئی تھی جہاں مٹی سے اٹی ہوئی ایک زنانہ شرٹ بھی ملی تھی ، قریب جانے پہ پتہ چلا کہ وہ پھٹی ہوئی شرٹ ہے اور ایسا لگ رہا ہے جیسے زبردستی کھینچ کے کسی کا ڈریس پھاڑ کے پھینکا گیا ہے لیکن یہاں تین لاشیں تھی اور تینوں ہی مرد کی تھی، دو لاشیں تین دن پہلے کی لگ رہی تھی جبکہ ایک لاش 25 دسمبر کی رات سے یہاں پڑی ہوئی تھی جس کے سرہانے میری کرسمس لکھا گیا ہے ۔
” فی میل شرٹ؟؟”
خیام نے قریب آ کے اچھنبے سے دیکھتے کہا تھا ۔
” ہممم لیکن یہاں لاش ایک مرد کی ہے اور یہ شرٹ ؟؟”
عاریز زیرک نگاہوں سے چاروں طرف دیکھتا کہہ رہا تھا جب اس کی نظر اس لاش سے کچھ فاصلے پہ جا کے رک گئی جہاں اسے کچھ نشان نظر آ رہے تھے ، ایسا لگ رہا تھا جیسے بہت سے لوگوں کی مدبھیڑ ہوئی ہو وہاں۔ وہ قدم اٹھاتا تھوڑا قریب گیا تھا اور قریب جانے پہ وہاں کئی قدموں کے نشان نظر آ رہے تھے جو عجیب سمتوں میں بنے ہوئے تھے ۔
” 25 دسمبر کو کچھ تو ہوا تھا یہاں، لیکن کیا؟؟”
عاریز زیر لب بڑبڑا رہا تھا جبکہ آنکھوں میں سوچوں کا جال بنا ہوا تھا۔ خیام نے ہاتھ کے اشارے سے ٹیم کو یہاں آ کے ہر چیز کو نوٹ کرنے کا کہا ، عاریز کو دیکھا جو پرسوچ نظروں سے چاروں طرف دیکھ رہا تھا اور پھر اس لاش کی طرف بڑھا جس کا گلا کسی نوکیلی چیز سے کاٹا گیا تھا ۔ وہ نہایت گل سڑ گیا تھا اور اسے لیبارٹری ٹیسٹ کے لئے بھیجنے کا حکم صادر کرتا وہ باقی دو لاشوں کو دیکھنے لگا ۔ ریوالور کی گولی لگنے سے یہ دونوں مرے تھے ۔
” آفیسر خیام۔۔ ”
عاریز کی اواز پہ وہ پیچھے مڑ کے دیکھنے لگا۔
” آس پاس کے لوگوں سے معلومات حاصل کریں کہ 25 دسمبر سے بارہ جنوری تک کتنے لوگ یہاں آتے جاتے رہے ہیں؟؟ کس کس کو یہاں آتے اور جاتے دیکھا گیا ہے ؟؟ یہ زیر تعمیر عمارت کس کی ہے اور اتنے دنوں تک اس کی تعمیر کیوں رکی ہوئی تھی ؟؟ ان باڈیز کی بھی شناخت کروا کے پوری انفارمیشن فائل میری ٹیبل پہ رکھ دو ۔ تبھی کچھ سمجھ آئے گی کہ 25 دسمبر کی رات یہاں کون کون تھا اور اس کے بعد کیا ہوا ہے اس عمارت میں؟”
خیام اثبات میں سر ہلانے لگا ۔
” یہی ہوگا لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ سب اس سیریل کلر سے لنک کرتا ہو ۔ ”
عاریز اثبات میں سر ہلاتا اس عمارت کے چار اطراف پہ نظر دوڑانے لگا ۔
” وہ صرف عورتوں کا قتل کرتا ہے ، وہ بھی مخصوص عورتوں کا، یہ کوئی اور کہانی ہے ۔ ”
“ہمممم ۔۔۔ ٹھیک ہے ، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ؟”
خیام نے بھی اثبات میں سر ہلایا تھا ۔ اب لیبارٹری ٹیسٹ کا رزلٹ آنے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا تھا ۔
☆☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆☆
” تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟”
ہاسپٹل کے اسپیشل برانچ میں شہزاد کو دیکھ کے درمکنوں چونکی تھی اور اچھنبے سے اسے دیکھتی پوچھنے لگی جبکہ وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا اس کے قریب آیا تھا ۔
” تم سے ملنے آیا تھا ”
وہ مسکرا رہا تھا جبکہ وہ ابھی بھی آبرو اچکائے اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی۔
” تمہیں یہاں آنے کی پرمیشن کس نے دی ؟؟ ”
” تمہارے بھائی کو یہاں آنے سے کون روک سکتا ہے ؟؟”
وہ مسکرا رہا تھا اور ہمیشہ کی شکی مزاج درمکنوں اسے شک بھری نگاہوں سے دیکھتی ، اس کا بازو پکڑ کے اسے وہاں سے باہر لے گئی تھی جبکہ شہزاد کی نظریں گلاس وال کے اس پار ہی بھٹکتی رہی ۔
” آئندہ یہاں مت آنا اور اب کہو کیسے آنا ہوا ؟”
شہزاد منہ بنا کے نظریں پھیر گیا جبکہ درمکنوں کی نظریں اپنے بھائی کے چہرے پہ تھی۔
” میں گھر ہی جا رہا تھا تو رات ہو رہی تھی، سوچا تمہارے ساتھ کہیں چل کے ڈنر کر کے گھر جاتے ہیں ساتھ میں ۔ ”
شہزاد اپنے آنے کی وجہ بتانے لگا تو درمکنوں نے کندھے اچکائے تھے ۔
“مجھے بھی بہت بھوک لگی ہے تو پھر چلتے ہیں، میں اپنے روم سے بیگ لے کے آتی ہوں اپنا ”
” ٹھیک ہے میں کار میں ویٹ کر رہا تمہارا ”
درمکنوں اثبات میں سر ہلاتی اپنے روم کی طرف بڑھی تھی جبکہ شہزاد ادھر ادھر دیکھتا کوریڈور سے ہوتا ہاسپٹل کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھنے لگا ، ساتھ میں اس نے کسی کو کال بھی کی تھی جبکہ درمکنوں کی نظریں اس کا ہی پیچھا کر رہی تھی اور پھر اس نے ریسیپشن پہ موجود جوزف کو بلایا تھا۔
” آئندہ مسٹر شہزاد یہاں آئے تو انہیں یہیں روک کے مجھے انفارم کریں، اسپیشل برانچ میں کسی کو جانے کی پرمیشن نہیں ہے ، چاہے وہ میرا بھائی ہی کیوں نہ ہو ”
” اوکے میم ”
جوزف نے اثبات میں سر ہلایا تھا اور درمکنوں قدم بڑھاتی ہاسپٹل کے بیرونی دروازے کی طرف جانے لگی جبکہ موبائل پہ بات کرتا شہزاد ، درمکنوں کو آتے دیکھ کال ڈسکنیکٹ کر چکا تھا۔ درمکنوں مسکراتی اس کے قریب آئی تھی۔
” کہاں چلیں؟؟”
” جہاں تم کہو ”
شہزاد نے مسکرا کے فرنٹ سیٹ ڈور اس کے لئے اوپن کیا تھا اور وہ مسکرا کے گاڑی میں بیٹھ چکی تھی ۔ شہزاد بھی دوسری طرف سے ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھ چکا تھا۔
” آج کا ڈنر تمہارے بھائی کی طرف سے ہیں۔ ”
” واؤ، مطلب کسی expensive جگہ کا سوچنا پڑے گا ۔ ”
درمکنوں ہنس پڑی تھی۔
” کچھ بھی کہہ سکتی ہو ، سوچ سکتی ہو ۔
I am okay with it . ”
شہزاد کے کہنے پہ درمکنوں بھی مسکرا دی تھی کہ شہزاد جیسا بھی تھا ، درمکنوں اہنے بھائی سے بےحد پیار کرتی تھی اور ویسے ہی شہزاد کو بھی اپنی اس شکی مزاج بہن سے محبت تھی ۔
☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆
ان تین چار پولیس اسٹیشن میں جس جس نے جو جو حرکت کی تھی پمی کے ساتھ، ان سب کو وہ نوٹس بھجوا چکی تھی اور اب Prosecutor حسام سرحدی کے آفس میں وہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھی ہوئی تھی۔ حسام سرحدی اپنے سامنے رکھی فائل کو پڑھتا اب اکاسمہ کو دیکھ رہا تھا ۔
” ان سب کو نوٹس بھجوا چکی ہے آپ صرف اس کی بات سن کے ۔ ”
گلاس وال سے باہر بیٹھی پمی کی طرف اشارہ کرتا وہ کہہ رہا تھا جبکہ وہ اثبات میں سر ہلانے لگی ۔ ۔
” میری کلائنٹ ہے وہ اور ان سب کے خلاف شکایت کی ہے میری کلائنٹ نے ۔ ”
” اور آپ نے یقین کر لیا ؟؟”
حسام لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا۔
” کیا مطلب؟؟ میں لائیر ہوں اور وہ اپنا کیس لے کے میرے پاس آئی ہے ۔ ”
اکاسمہ کو غصہ آنے لگا تھا اب ۔
” کس پولیس اسٹیشن میں آپ کی کلائنٹ نے اپنی شکایت درج کی ہے؟؟ 25 دسمبر کی رات کو اپ کی کلائنٹ کے ساتھ زیادتی ہوئی اور وہ آپ کے پاس اب آ رہی ہے ؟؟ اتنے ٹائم سو رہی تھی اپ کی کلائنٹ”
حسام کے انداز پہ اکاسمہ نے لب بھینچے اپنے غصے پہ قابو پانے کی کوشش کی تھی، ورنہ دل چاہ رہا تھا منہ توڑ دے اس کا ۔
” جب پولیس اسٹیشن کا آفیسر، کانسٹیبل اسے جنسی طور پہ ہراس کرے گا ، اس کا مذاق بنائے گا تو وہاں کس کے پاس وہ اپنی شکایت درج کرے گی ، آپ بھی کمال کرتے ہیں Prosecutor حسام ”
” ایک transgender سے کسی مرد کو کیا دلچسپی ہو سکتی ہے اور یہاں بات چار مردوں کی ہو رہی ہے ”
حسام نے بات کرتے کرتے غصے سے گلاس وال کے باہر اس وجود کو دیکھا تھا اور پھر اکاسمہ کو ۔
” اس کا کیس لڑیں گی آپ اکاسمہ ، اس کا جو ۔۔ ”
اکاسمہ سے بات کرتے کرتے وہ شخص اس مخلوق کی طرف آنکھ سے اشارہ کرتے چپ ہو گیا جبکہ شیشے کے پار بیٹھی پمی ، جو انہیں دیکھ رہی تھی ، خود میں ہی سمٹ گئی ۔
” جو ایک transgender ہے ، بولیے، بات مکمل کریں اپنی، تو کیا ہوا اگر وہ transgender ہے ؟؟ Transgender انسان نہیں ہوتے؟؟ ان کا دل نہیں ہوتا ، ان کی روح نہیں ہوتی ، ان کی فیلنگز نہیں ہوتی ، ان کا جسم نہیں ہوتا ؟”
اکاسمہ غصے سے چلائی تھی۔
” ان کا ریپ نہیں ہوتا؟؟ وہ ریپ وکٹم نہیں بنتی ؟؟”
” آپ جانتی ہے کہ اس وقت کہاں بیٹھی ہے آپ اور کس سے بات کر رہی ہے ”
حسام غصے سے اسے گھور رہا تھا جب وہ کھڑی ہوگئی تھی۔
” جانتی ہوں کہ کس سے بات کر رہی ہوں، قانون کے رکھوالے ہی جب ایسی بات کرے گیں تو ہم دوسروں سے کیا شکایت کریں۔ مجھے لگا آپ اچھے انسان ہے تو آپ کوآپریٹ کریں گے لیکن میں غلط تھی۔ اس قانون کا کچھ بن ہی نہیں سکتا ”
وہ غصے سے بنا کوئی لحاظ کیے اپنی بات کہتی دروازے کی طرف بڑھی تھی ، جب سامنے عاریز سے سامنا ہوا جو سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ وہ لب بھینچے نظریں پھیر کے اس کے پہلو سے ہوتی آفس سے باہر نکلی تھی ، عاریز اب سوالیہ نظروں سے حسام کو دیکھ رہا تھا۔
” آئیے Prosecutor عاریز ، آپ بھی سن لیں اپنی مسز کی باتیں ۔ ”
وہ پیپرز اپنے سامنے سے ہٹاتا کہنے لگا۔
” کیا کیا ہے میری مسز نے Prosecutor حسام ”
اس کا لہجہ سپاٹ تھا ۔
” اپنی کلائنٹ کو لے کے آئی ہے جس نے پورے پولیس اسٹیشن کے اگینسٹ شکایت کی ہے ، زیادتی اس کے ساتھ 25 دسمبر کی رات کو ہوئی ہے اور آئی اب ہے انصاف مانگنے ۔ ”
حسام بیزاری سے کہہ رہا تھا جبکہ عاریز کا ذہن 25 دسمبر میں الجھ گیا تھا ۔
” 25 دسمبر۔ ۔۔”
وہ زیر لب بڑبڑایا تھا اور تیزی سے آفس سے باہر نکلا تھا۔متلاشی نظریں اکاسمہ کو ڈھونڈ رہی تھی اور تیز قدم اٹھاتا وہ بیرونی دروازے کی طرف جا رہا تھا ۔
” اکاسمہ ۔۔ ”
وہ گاڑی میں بیٹھ رہی تھی جب عاریز کی اواز پہ وہ رک کے اسے دیکھنے لگی جو اس کے قریب آ رہا تھا۔
” بات کرنی ہے آپ سے ”
” کہو ؟”
ابرو اچکا کے وہ پوچھ رہی تھی جبکہ عاریز نے اس کا بازو تھاما تھا۔
” میرے آفس چلتے ہیں ”
اسے لیے وہ کورٹ کی طرف بڑھا تھا ۔
” میں خود بھی چل سکتی ہوں ”
اکاسمہ اپنا بازو اس کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کرتی کہنے لگی جبکہ وہ اکاسمہ کی بات نظرانداز کر چکا تھا بہت خوبصورت انداز میں اور اکاسمہ نے آنکھیں گھمائی تھی لیکن خاموش رہی ۔
☆☆☆☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆
بارز ہمیشہ کی طرح اپنے بیڈ روم میں بیٹھا لیپ ٹاپ پہ گیم کھیل رہا تھا جب اچانک اس کے دماغ میں کیا سمایا کہ اس نے ایک ویب سائٹ اوپن کرنے کا سوچا تھا ۔ وہ سترہ سال کا تھا عفان اور اکاسمہ سے چھوٹا تھا ۔ گھڑی پہ رات کے گیارہ بج رہے تھے، گہرا سانس لیتا وہ Tor browser پہ جا کے وہ Dark web کا لنک انٹر کرنے لگا جو اسے اپنے کسی دوست سے ملا تھا ۔
” تم یہ چیک کرو ، اس پہ تمہیں ہر طرح کے ویڈیوز اور ایڈونچر ملے گا ”
” یار سنا ہے ڈینجرس ہے ؟؟”
” کچھ بھی نہیں ہوتا ، میں جو سمجھاؤں تم ویسے ہی کرتے جاؤ اور پھر انجوائے کرو ایک نئی دنیا کو ، نئے لوگو کو ، وہاں سے Deep Web میں جا سکتے ہو تم ، جو بہت بڑی دنیا ہے ، جس میں کرائمز ہیں، ویڈیوز ہیں، افف کیا ویڈیوز ہوتی ہے یار، گیمز ہیں بہت سی ۔۔ ”
وہ بارز کو سمجھا رہا تھا اور اب منتظر نگاہوں سے وہ لیپ ٹاپ اسکرین کو دیکھنے لگا ۔ کچھ لمحوں کے لئے اس کے لیپ ٹاپ کی اسکرین تاریک ہوئی تھی اور پھر کچھ کمپیوٹر کوڈز آنا شروع ہوئے تھے جو گرین کلر میں تھے ، جس میں وہ access چاہ رہے تھے اس کی پرسنل انفارمیشن پہ ، اس کے آئی ڈی کارڈ اور اس سے متعلق ہر چیز پہ ۔ وہ حیران و پریشان دیکھتا رہا کیونکہ یہ سارا پروسز لیپ ٹاپ پہ خود ہی آگے پیچھے چل رہا تھا اور پھر اس کے سامنے کچھ ٹاپکس آ چکے تھے جنہیں وہ غور سے دیکھ رہا تھا۔ لیپ ٹاپ اسکرین عام دنوں سے ابھی بےحد مختلف لگ رہی تھی ۔
“Welcome to Dark Web ”
اور پھر وہ اپنے دوست کی بات پہ عمل کرتا دوسرے سائٹ میں جانے لگا جسے کہتے ہیں Deep web ، جو ہمارے مکمل انٹرنیٹ ورلڈ کا 96% حصہ ہوتے ہیں جہاں وہ سب ہوتا ہے جو illegal ہوتے ہیں۔
بلیک منی ، بلیک بازار، جسم فروشی ، انسانی اعضاء کی خریدوفروخت ، جرائم ، ڈرگ مارکیٹنگ، چائلڈ ابیوز، ویڈیوز ، ہتھیار، جعلی ڈاکومنٹس، کریڈٹ کارڈ نمبرز ، جو کسی کے بھی Dark Web میں داخل ہوتے ہی ان کے کریڈٹ کارڈز پہ access حاصل کر کے ، انہیں ہیک کر دیا جاتا ہے۔
وہ Deep Web میں قدم رکھا چکا تھا ، بنا یہ جانے کہ کل کو اس کی زندگی میں کیا طوفان آنے والا ہے اس کے اس اقدام سے ۔
☆☆☆☆¤¤¤¤¤☆☆☆▪︎☆☆
