The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 03
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 03
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 3
اکاسمہ اندر آئی تھی اور ایک فائل شازم خان کے سامنے رکھتی ، خود سینے پہ دونوں ہاتھ باندھ کے انہیں دیکھنے لگی جبکہ بات کرتا عاریز اسے دیکھ کے رک چکا تھا۔ شازم خان سوالیہ نظروں سے اکاسمہ کو دیکھ رہے تھے ۔
” آپ نے کہا تھا کہ جب بھی کوئی کیس مجھے ملے تو آپ سے ڈسکس کروں ۔ ”
” ہممممم ”
وہ ہنکارا بھر کے فائل دیکھنے لگا جبکہ عاریز ایک نظر اسے دیکھ کے ، اپنی کنپٹی سہلاتا سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کے بیٹھ گیا تھا۔
” یہ کیس لڑو گی ؟؟”
شازم خان کی سوالیہ نظروں میں حیرت تھی ۔
” موڈ تو یہی ہے میرا ”
اپنے ازلی ضدی انداز میں وہ کہنے لگی ۔
” ایک عورت کا اپنے ہزبینڈ پہ الزام کہ وہ ہر دوسری تیسری عورت سے جنسی تعلق کے بعد اسے قتل کر دیتا ہے ۔ تم خود لڑو گی یہ کیس ؟؟”
شازم خان کہہ کے ایک نظر اپنے بیٹے کو دیکھ کے اکاسمہ کو دیکھنے لگے ۔
” وہ عورت خود آئی ہے میرے پاس کیس دائر کرنے ”
” یہ کب آئی تھی اپ کے پاس ؟؟”
اس پوری گفتگو میں عاریز نے بھی اپنا حصہ ڈالا تھا کیونکہ اس کے دماغ میں کچھ دن پہلے ہوئے مرڈر کا جھماکا ہوا تھا جبکہ اکاسمہ ایک نظر اسے دیکھ کے ، ٹیبل پہ جھک کے فائل کو دیکھنے لگی ۔
” 18 جنوری کو ۔ ”
” ہممم ، میں دیکھ سکتا ہوں
If you don’t mind ”
وہ فائل کی طرف اشارہ کرتے کہنے لگا ۔
” یس شیور۔ ”
وہ فائل عاریز کی طرف بڑھا چکی تھی اور سوالیہ نظروں سے شازم خان کو اشارہ کر کے اس کا پوچھنے لگی جبکہ وہ مسکرا کے کندھے اچکا گئے تھے ۔
” آپ نے کیا ریسپانس دیا اس کیس سے متعلق ؟؟”
عاریز کے سوال پہ وہ چونک کے اسے دیکھنے لگی اور پھر کندھے اچکا گئی ۔
” آف کورس، پازیٹو ”
وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا۔
” اس خاتون سے میں ملنا چاہوں گا ۔ ”
اکاسمہ اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی اسے روکنے ۔
” آپ کیوں ملنا چاہے گیں؟؟”
” کیونکہ میں ایک Prosecutor ہوں ”
اس نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا ، پہلے وہ چونکی تھی اور پھر آنکھیں گھمائی تھی۔
” اور وہ میری کلائنٹ ہے ۔ ”
عاریز ایک نظر اسے دیکھتا دروازے کی طرف بڑھا تھا ، اکاسمہ نے ایک نظر گھور کے اس کی پشت کو دیکھا اور اس کے پیچھے ہی باہر نکلی ۔
” میں بھی تمہارے ساتھ ہی جاؤں گی مسٹر Prosecutor ، کیونکہ وہ میری کلائنٹ ہے اور ایز آ لائیر مجھے اس کے پاس ہونا چاہیے during investigation ”
عاریز خاموش ہی رہا اور لمبے ڈگ بھرتا وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تھا جبکہ اکاسمہ بھی اس کے ساتھ ہی گاڑی میں بیٹھی تھی۔
” چور یا ڈاکو تو ہو نہیں، جو مجھے کڈنیپ کرو گے ”
بیٹھتے ہی اس کی زبان نے بھی گوہرافشانی کی تھی ۔
” آپ ہمیشہ زیادہ بولتی ہے یا جب جب پریشان ہوتی ہے تو زیادہ چلتی ہے زبان آپ کی ؟”
گاڑی اسٹارٹ کرتے اس نے سنجیدگی سے پوچھا تھا جبکہ اکاسمہ نے ایک گھوری اسے سر سے پاؤں تک دی تھی۔
” ایک لائیر بولے گی نہیں تو اسے کورٹ میں سنے گا کوئی کیسے ؟؟”
وہ خاموش ہی رہا جبکہ اکاسمہ بھی منہ بنا کے سامنے روڈ پہ بھی دیکھنے لگی ۔۔
☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆▪︎▪︎
” سر یہ رپورٹس ہے اس خاتون کی ۔ جس کا مرڈر ہوا ہے ”
طیب اس کے سامنے فائل رکھتا کہنے لگا ، خیام نے ایک نظر اسے دیکھ کے فائل اٹھا کے دیکھی تھی اور حیرت سے طیب کو دیکھنے لگا ۔
” یہ تو ؟؟ ”
” یس سر ، اس خاتون کے ریلیشنز تھے دو مردوں کے ساتھ ۔ اور اس کے ہزبینڈ کو یہ بات معلوم نہ تھی، ایون مرڈر ہونے سے پہلے بھی جنسی تعلق قائم ہوا ہے اور پھر اچانک سے اسے موت دی گئی ہے ۔ ”
طیب نے خلاصہ بتایا۔
” اور یہ دو مرد کون تھے ؟؟ کچھ پتہ چلا؟”
خیام پرسوچ انداز میں پوچھنے لگا۔
” انویسٹیگیشن چل رہی ہے ۔ اس خاتون کے موبائل کو چیک کیا جا رہا ہے ۔ بہت جلد ان دونوں کا پتہ چل جائے گا ۔ ”
طیب بتا رہا تھا جب خیام کی نظر اس رات والی لڑکی پہ پڑی جو اس کے کمرے میں آ رہی تھی۔
” یہ یہاں کیا کر رہی ہے ؟”
خیام کے ابرو اچکا کے کہنے پہ طیب نے بھی مڑ کے دیکھا تھا جبکہ وہ اندر آ چکی تھی۔
” میرا نام مسفرہ ہے مسفرہ فرقان ، میں ایک رائٹر ہوں اور مجھے آپ کے سیل میں بند کچھ قیدیوں سے ملنا ہے ”
اس رات کا کوئی شائبہ تک نہ تھا اس میں، بےحد پراعتماد انداز میں بات کر رہی تھی وہ ۔ خیام نے ایک نظر طیب کو دیکھا تھا جو مسکراہٹ دباتا کمرے سے ہی باہر نکل گیا تھا جبکہ وہ پھر سے مسفرہ کو دیکھنے لگا۔
” کیوں ؟؟”
” مجھے اپنے ناول کے لئے کچھ مواد اکٹھا کرنا ہے ”
وہ سنجیدہ نظروں سے عینک کے پیچھے سے اسے دیکھتی کہہ رہی تھی جبکہ وہ کندھے اچکا گیا ۔
” سیل میں بند قیدیوں سے کون سا مواد مل جانا آپ کو ؟؟”
” وہ میرا کام ہے ، آپ کو اپنا دماغ لڑانے کی بلکل بھی ضرورت نہیں ہے ، آپ اریجمنٹس کروا دیجئے ”
خیام نے گھور کے اس خبطی لڑکی کو دیکھا تھا۔
” لیکن میں آپ کو اس بات کی پرمیشن بلکل بھی نہیں دے سکتا۔ ”
” جانتی تھی میں کہ ایسا ہی ہوگا تبھی میں یہ لائی ہوں اپنے ساتھ ۔ ”
وہ ایک پیپر اس کے سامنے رکھتی کہنے لگی ، خیام نے پہلے اسے اور پھر اس پیپر کو دیکھا تھا اور پھر ایک بھرپور گھوری اس پہ ڈالی تھی ۔ ساتھ ہی انٹر کام پہ طیب کو اندر بلایا ۔
” یس سر ؟”
” ان میڈم کو ہمارے سیل کے قیدیوں سے ملنے کا شوق ہیں ، ملوا دیجئیے ”
خیام نے تپتے لہجے میں کہا تھا جبکہ مسفرہ نے آنکھیں گھمائی تھی اور پیپر ٹیبل پر سے چھیننے کے انداز میں لیتی طیب کے ساتھ آگے بڑھی تھی۔
” آپ ناول لکھتی ہے آئی تھنک ؟”
طیب چلتے ہوئے پوچھ رہا تھا جبکہ وہ سر اثبات میں ہلانے لگی ۔
” میں نے سنا تھا آپ کا نام ۔ ”
اس کے پھر سے کہنے پہ مسفرہ نے مسکرانے پہ ہی اکتفا کیا ۔ ایک کمرے کا دروازہ کھولا گیا جو شاید ملاقاتیوں کا ہی کمرہ تھا کیونکہ وہاں ٹیبل اور کرسیاں رکھی گئی تھی ۔ مسفرہ ادھر ادھر دیکھتی اندر آئی تھی ۔
” اب آپ بتائیے کہ کیا کرنا ہے مجھے ؟؟”
طیب کے پوچھنے پہ مسفرہ اسے دیکھنے لگی ۔
” مجھے کچھ قیدیوں سے ملنا ہے ۔”
” میل یا فی میل ؟؟”
طیب نے ہاتھ میں موجود رجسٹر پہ ایک نظر ڈالتے کہا تھا۔
” دونوں۔ ”
مسفرہ نے مختصر جواب دیا تھا ۔
” آپ بیٹھیے میں لے کر آتا ہوں ”
مسفرہ اثبات میں سر ہلاتی ایک کرسی کھینچ کے بیٹھ گئی تھی جو اس خاموش کمرے کے سکوت میں ایک لمحے کے لئے ارتعاش کا سبب بنا تھا۔ طیب جا چکا تھا اور وہ موبائل بیگ سے نکال کے ٹیبل پہ رکھ کے کچھ سوچنے لگی۔ دل بےطرح دھڑک رہا تھا کیونکہ یہ پہلی دفعہ ہی تھا کہ وہ یوں منہ اٹھا کے پولیس اسٹیشن آئی تھی، وہ بھی قیدیوں سے ملنے ۔ اب یہ تجربہ کیسا رہے گا ، وہ یہی سوچ رہی تھی جب آہٹ پہ اس نے دروازے کی سمت دیکھا تھا جہاں سے ایک شخص اندر آ رہا تھا ، بکھرے بال ماتھے پہ تھے اور چہرے پہ ہلکی بیئرڈ اس وجیہہ مرد پہ جچ رہے تھے لیکن اس وجیہہ چہرے پہ اداسی کا موسم بھی چھایا ہوا تھا ۔ وہ آہستہ روی سے چلتا اس ٹیبل کے دوسری طرف رکھی کرسی کھینچ کے بیٹھ گیا۔ کمرے کی خاموشی میں ایک بار پھر ارتعاش سا پیدا ہوا تھا اور پھر خاموشی چھا گئی تھی۔ مسفرہ اسے ہی اپنی عینک کے پیچھے سے دیکھ رہی تھی۔ جب طیب نے ایک فائل اس کے سامنے ٹیبل پہ رکھی ۔
” یہ فائل ہے اور یہ ہمارے سیل کا سب سے زیادہ خاموش رہنے والا ، اپنے کام سے کام رکھنے والا ، عبادت گزار انسان ہے ۔ ”
مسفرہ نے اثبات میں سر ہلاتے فائل کھولی تھی۔
“- میں باہر ہوں ”
طیب کہتا کمرے سے باہر نکلا تھا۔ کمرے میں پھر خاموش چھائی تھی بس دو سانس لیتے وجود کے سانسوں کا ہلکا ہلکا شور تھا ۔
” محمد ازمائر خان۔ ”
مسفرہ کی آواز گونجی تھی لیکن وہ پھر بھی خاموشی سے سر جھکائے رہا ۔
” وائف کے مرڈر کیس میں آپ تین سال سے یہاں ہے ۔ شک کی بنیاد پہ ۔۔ ”
رک کے اس نے حیرت سے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا تھا جو سر جھکائے بیٹھا ہوا تھا ۔
” صرف شک کی بنیاد پہ آپ تین سال سے یہاں ہے ؟؟ کسی نے کیس اوپن کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ آپ نے کوئی لائیر سے رابطہ کیا ”
اس کی آواز میں حیرت پنہاں تھی جبکہ ازمائر کے وجود میں کوئی حرکت نہیں ہوئی تھی ۔ وہ ویسے ہی بیٹھا ہوا تھا بس سانس لے رہا تھا ۔
” میں ایک رائٹر ہوں، ناولز لکھتی ہوں میں، میرے بہت سے ناولز لوگ شوق سے پڑھتے ہیں۔ اس بار میں نے کچھ الگ لکھنے کا فیصلہ کیا ۔ تو سوچا کہ یہاں کے انسانوں پہ لکھوں گی ”
اور پہلی بار ازمائر نے سر اٹھا کے اسے دیکھا تھا، چہرے پہ زخمی مسکراہٹ تھی ۔
” لکھنے سے کیا یہاں رہنے والے بےگناہ انسانوں کی سزا ختم ہو جائے گی ؟؟ یا کم کر دی جائے گی ؟؟”
مسفرہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی اور جب بولی تو آواز میں کرب تھا ۔
” میرے بابا اپنی بےگناہی ثابت کرتے کرتے پھانسی کے پھندے پہ پہنچ گئے اور پھر سچائی کی ہار ہوئی اور جھوٹ اور دھوکے کی جیت ہوئی ، جو میرے بابا کو مجھ سے چھین کے لے گئے ۔ ”
ازمائر نے اس کی آنکھوں میں نمی کو واضح دیکھا اور پھر نظریں جھکا گیا ۔
” مجھے آپ کی اسٹوری جاننی ہے ”
وہ پھر سے کہہ رہی تھی ۔
” میری اسٹوری میں ایسا کچھ نہیں جو کسی کی توجہ حاصل کر سکے ، شاید تبھی سالوں سے وہ فائلز کے بیچ کہیں گم ہو گئی ہے ۔ ”
اس کا لہجہ بےحد سادہ تھا، اواز میں کوئی تلخی تھی ، نہ کوئی طنز ۔ پھر بھی مسفرہ کو اس کا نظریں جھکا کے بات کرنا متوجہ کر گیا تھا۔
” کیا پتہ میرے جان لینے سے وہ فائل پھر سے کھول دی جائے۔ ”
ازمائر نے بنا کچھ کہے اپنا سر جھٹکا تھا ، نظریں ابھی بھی جھکی ہوئی تھی۔
” میری نماز کا وقت ہو رہا ہے، مجھے چلنا چاہئے ”
وہ آہستگی سے کہتا اپنی جگہ سے اٹھنے لگا ، مسفرہ نے بےحد مرعوب انداز میں اس کی جھکی نظروں کو جھکا تھا ۔
” ایک شخص جو اپنے مقابل بیٹھی عورت سے نظریں جھکا کے بات کرتا ہو ، وہ شخص کھبی مرڈر کا مرتکب نہیں ہو سکتا ۔ ”
اپنی پشت پہ مسفرہ کی آواز سنی تھی اس نے ، قدم رکے تھے لیکن پل بھر کے لئے اور پھر وہ بنا کوئی ردعمل ظاہر کیے کے دروازہ کھول کے کمرے سے باہر نکلا تھا جبکہ مسفرہ پرسوچ نظروں سے اس بند دروازے کو دیکھتی رہی جہاں سے وہ گیا تھا اور طیب اندر آیا تھا۔ مسفرہ سر جھٹک کے کھڑی ہوئی تھی۔
” میں چلتی ہوں اور۔۔۔ ”
ساتھ ہی وہ فائل بھی اٹھائی تھی۔
” یہ میں آپ کو کل واپس کروں گی ”
” بلکل بھی نہیں میم ، خیام سر کو تو دیکھا ہے ناں آپ، رولز کے اگینسٹ ہے ۔ ”
طیب کی بات پہ اس نے کچھ دیر لب بھینچے طیب کو دیکھا تھا اور پھر فائل ٹیبل پہ رکھی تھی۔
” کل یہی فائل مجھے دوبارہ چاہئے ہوگی۔۔۔ کہہ دینا اپنے اس خیام سر سے ۔ ”
منہ بنا کے کہتی وہ کمرے سے جانے لگی جبکہ طیب زیر لب مسکراتا اسے جاتا دیکھتا رہا ۔
” ان پہ تو مجھے کرش ہو گیا ہے ”
دل پہ ہاتھ رکھ کے اس نے زیر لب کہا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” تم ہراس کر رہے تھے میری کلائنٹ کو ”
اس عورت کے گھر سے دونوں نکل رہے تھے جب اکاسمہ شاکی نظروں سے اسے دیکھتی لب بھینچے کہنے لگی ۔ وہ خاموش ہی رہا ۔
” میں تم سے کچھ کہہ رہی ہوں ”
اس کی تیز اواز پہ عاریز رک کے اسے سنجیدہ نظروں سے دیکھنے لگا ۔
” آپ کو نہیں لگتا کہ وہاں جب ہم بات کر رہے تھے تو بہت کچھ غیر معمولی محسوس ہو رہا تھا ۔ ”
اکاسمہ رک کے سوچنے لگی اور پھر عاریز کو دیکھنے لگی ۔
” بات کرتے ہوئے اس خاتون کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔ ”
عاریز اس کے دیکھنے پہ کہنے لگا جبکہ وہ کندھے اچکا گئی ۔۔
” ہاں تو وہ ڈری ہوئی تھی۔ ”
” اس کے چہرے پہ زخم کے گہرے نشان تھے ، جنہیں وہ میک اپ کے پیچھے چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ مطلب وہ ہم سے بھی کچھ چھپا رہی ہے ۔ اگر اس کے ہزبینڈ نے اسے بھی مارنے کی کوشش کی ہو اور اس کے چہرے پہ یہ زخم آئے ہیں تو وہ تم سے کیوں چھپا رہی ہے ؟؟؟ اپنے ہزبینڈ کے اگینسٹ وہ یہ کیوں نہیں بتا رہی کہ اس پہ ہاتھ اٹھا چکا ہے وہ ”
اکاسمہ حیرت سے اسے دیکھتی سر اثبات میں ہلانے لگی ۔ عاریز گاڑی کی طرف بڑھا تو اکاسمہ بھی اس کے پیچھے تیزی سے آئی تھی۔
” تو اب ہمیں کیا کرنا ہے ؟؟”
وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی جبکہ عاریز گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا ۔
” تین دن پہلے ایک عورت کا مرڈر ہوا ہے اور ایک ہفتے پہلے ایک عورت اور مرد کا ، دونوں کو ایک ہی انداز میں قتل کیا گیا ہے ۔ اس کا ہزبینڈ کہاں ہے ، ہمیں یہ ڈھونڈنا ہے پہلے ”
وہ گاڑی ڈرائیو وے پہ ڈال چکا تھا جبکہ اکاسمہ سوچتی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی ۔
” کھانا کھا لیا جائے، بھوک لگی ہوگی اپ کو ”
عاریز کی آواز پہ وہ سوچوں سے باہر آئی تھی اور سر اثبات میں ہلایا تھا۔ اب کے تھوڑا غور سے اس نے عاریز کی طرف دیکھا تھا ۔ بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس ، بارعب شخصیت کے ساتھ، پراعتماد وجیہہ چہرے پہ زیرک اور سنجیدہ آنکھیں، ہلکی ہلکی بیئرڈ جو اس پہ جچ بھی رہی تھی جبکہ آنکھوں کا رنگ ہیزل براؤن تھا ۔ جب اس کا اچھی طرح سے جائزہ لے چکی تو گہرا سانس لیتی وہ سامنے روڈ پہ دیکھنے لگی ۔
☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆
وہ کوئی اکاؤنٹ ہیک کر چکا تھا اور اب منتظر نگاہوں سے بیٹھا سارا ڈیٹا اس سسٹم سے اپنے سسٹم میں ٹرانسفر ہوتا دیکھ رہا تھا، اس کے چہرے پہ بڑی دلکش مسکراہٹ تھی۔ آنکھوں میں گہری چمک تھی ۔ نیچے سے کچھ شور سا سنا دیا اور گہرا سانس لیتا وہ جان چکا تھا کہ وجدان ملک کو پھر سے کوئی دورہ پڑا ہے تبھی سر جھٹک کے وہ کمپیوٹر اسکرین سے ایک سیکنڈ کے لئے بھی نظریں دور نہیں کر رہا تھا۔
” ڈن ۔۔ ”
جوش سے کہتا وہ تیزی سے اپنا لیپ ٹاپ اور باقی ساری چیزیں بیگ میں رکھنے لگا ۔ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے رک کے اس نے ہاتھ بڑھا کے وارڈ روب سے ایک شرٹ کھینچ کے پہنی تھی۔ اپنے بال انگلیوں سے بنا کے وہ خود پہ پرفیوم چھڑکتا مڑا تھا، اپنا لیپ ٹاپ بیگ اٹھا کے وہ کمرے سے باہر نکلا تھا کہ اسے جلد سے جلد اہنی مطلوبہ جگہ پہ پہنچنا تھا جب سیڑھیاں اترتے ہوئے ، وجدان ملک کی نظر اپنے سپوت پہ پڑی تھی۔
” لو آ گیا برخوردار ۔ ”
حکان اسے بنا دیکھے باہر کی طرف بڑھا تھا۔
” انداز دیکھو ہمارے سپوت کے ، اپنے ڈیڈ پہ نظر کرم نہیں ڈالے گیں آپ؟؟ کب سے منتظر ہیں ہم ۔ ”
وجدان ملک اسے غضبناک نظروں سے گھورتے کہہ رہے تھے جب لبنی تیزی سے اپنے بیٹے کے پاس آئی تھی۔
” کہاں جا رہے ہو بیٹا۔ کھانا تو کھا کے جاؤ ”
حکان نے ایک سپاٹ نظر وجدان ملک پہ ڈالی تھی اور پھر اپنی ماں کو دیکھنے لگا ۔
” ان کے طعنے کافی ہے میرے لنچ کے لئے ”
یہ کہہ کے وہ تیزی سے باہر کی طرف بڑھا تھا جبکہ وجدان ملک عجیب انداز میں ہنسنے لگا ۔
” یہ دیکھو ، دیکھو یہ باپ سے بات کرنے کا طریقہ ہے ۔ ” لبنی اسے دیکھ کے ، سر جھٹک کے آنکھیں گھماتی اپنا کلچ اٹھا کے باہر کی طرف بڑھی تھی۔
” کہاں ملکہ عالیہ ؟؟”
” کام سے جا رہی ہوں ”
سرد لہجے میں کہتی وہ جا چکی تھی جبکہ وجدان ملک صوفے پہ پھیل کے بیٹھ چکا تھا ۔ نخوت سے سر جھٹکتا وہ کچھ سوچ رہا تھا جبکہ چہرے پہ تمسخر تھا ۔
☆☆☆☆¤¤¤¤▪︎▪︎▪︎▪︎¤¤☆☆☆
عندلیب جیسے ہی کچن سے نکلی تو سامنے صوفے پہ جاوید کو براجمان دیکھ کے وہ ایک لمحے کے لئے دہل کے رک گئی تھی اور پھر اگلے ہی لمحے خود پہ قابو پاتی وہ نظریں دوڑانے لگی۔ اس کی ماں اور دونوں بہن بھائی فاصلے پہ ہی بیٹھے ہوئے تھے ۔ اکرم اور حمنی کے چہرے پہ خوف کے سائے تھے جبکہ عافیہ لب بھینچے جاوید کو دیکھ رہی تھی۔
” شاباشی دینے آیا تھا میں تمہیں، ڈرو نہیں ”
جاوید مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
” بہت ذہین بیٹی ہے آپ کی عافیہ آنٹی ۔ ”
عندلیب نے نفرت سے منہ پھیرا تھا جبکہ جاوید اپنی جگہ سے اٹھ کے اس کے قریب آیا تھا اور گہری نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔
” ٹریٹمنٹ کروا رہی ہو اپنے چہرے کا ۔۔ ؟؟ ”
” کیوں آئے ہو یہاں؟؟”
وہ غصے سے پھنکاری تھی جبکہ آنکھوں میں نفرت تھی اس کے لئے۔
” کہا ناں تمہیں شاباشی دینے ۔ اس وکیل صاحبہ کا چہرہ دیکھنے لائق تھا ۔ بہت مزہ آیا۔ ”
وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔
” ایسے ہی رہنا اب ، جب تم میری بات مانتی رہو گی تو میں تمہاری بات مانتا رہوں گا اور سب ٹھیک ہوتا رہے گا ۔ ”
عندلیب اس پہ تھوک کے پیچھے ہوئی تھی جب جاوید نے آگے بڑھ کے اس کا منہ دبوچا تھا ۔ پیچھے سے اکرم اور حمنی اپنی بہن کو اس کی گرفت میں دیکھتے رونے لگے تھے ۔
” اے چپ ۔۔ ”
جاوید کی دھاڑ نے انہیں خاموش کرایا تھا ۔ عافیہ اٹھ کے ان کے قریب آئی تھی اور اپنی بیٹی کا منہ اس کی گرفت سے آزاد کرا کے جاوید کا ہاتھ جھٹکا تھا ۔ اور پھر ہاتھ جوڑ کے اس کے سامنے کھڑی ہو گئی ۔
” اللہ کا واسطہ ہے ، ہم پہ رحم کر ، بخش دے ہماری جان ، کیوں میری بیٹی کے پیچھے پڑ گئے ہو ، سب تو چھین لیا اس بدنصیب کا اور کیا باقی رہ گیا ہے ۔ تمہیں اللہ کا واسطہ ہے چھوڑ دے ہمیں، بس کر دے ”
وہ ہاتھوں پہ سر رکھ کے رو رہی تھی جب عندلیب نے آگے بڑھ کے انہیں بانہوں میں بھر لیا ۔ جاوید لب بھینچے انہیں ہی دیکھ رہا تھا جب عندلیب نے بھیگی آنکھوں میں نفرت لیے اسے دیکھا تھا ۔
” تمہارے خلاف ہر فائل اور ہر کیس بند کر چکی ہوں میں جاوید، لیکن ایک فائل اور کیس ہمیشہ میرے رب کے دربار میں کھلی رہے گی ، جس کا نتیجہ بہت بھیانک ہوگا ۔ ”
وہ نفرت سے پھنکار رہی تھی جبکہ جاوید لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا ، عافیہ کی باتوں کے بعد اس کے پاس کہنے کے لئے کچھ بچا ہی نہیں تھا۔
” جاؤ یہاں سے ۔ ”
وہ چلائی تھی جبکہ اکرم اور حمنی نے مزید ایکدوسرے کو زور سے تھاما تھا کہ ڈر اور خوف سے دونوں کانپ رہے تھے ۔
وہ سر جھٹک کے اس گھر سے باہر نکل گیا جبکہ اس کے جاتے ہی کونے میں بیٹھے دونوں بچے دوڑتے ہوئے اپنی ماں اور بہن سے لپٹ گئے تھے ۔ عندلیب نے ان کا سب کو بازوؤں کے گھیرے میں بھر لیا تھا ۔
” میں تم لوگوں کو کچھ نہیں ہونے دوں گی ۔ ”
” آپی ڈر لگ رہا ہے ”
یہ آٹھ سال کا اکرم تھا ۔ عندلیب نے جھک کے اس کے ماتھے پہ بوسہ دیا تھا۔
” میں ہوں ناں میری جان، کچھ نہیں ہوگا تمہیں۔ ”
عافیہ آنسو پونچھتی ان تینوں کو دیکھنے لگی اور پھر بھیگی آنکھوں سے عندلیب کو دیکھنے لگی ۔
” میں تمہاری حفاظت نہیں کر پائی عندلیب ، مجھے معاف کردو بیٹا۔ ”
ان کی آواز کانپ رہی تھی، عندلیب نے ان کے ہاتھوں پہ بوسہ دیا تھا ۔
” آپ ہمارے لئے بہت کچھ کر رہی ہے امی ، ایسے نہ کہیں، آپ عظیم امی ہے ہمارے لئے ”
” امی بھوک لگی ہے ”
دس سال کی حمنی کہنے لگی تو عافیہ اسے دیکھتی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی۔
” ابھی لاتی ہوں کھانا میری بچی ”
وہ کچن کی طرف بڑھ گئی تھی جبکہ اکرم اور حمنی کو بیٹھے رہنے کا کہہ کے وہ اٹھ کے باہر کا دروازہ بند کرنے گئی کہ شام ہونے لگی تھی، اس کی بستی میں موجود مکانات کے بلب روشن ہو چکے تھے اور دروازے بند ہو چکے تھے ۔ شاید ان کے کچے دروازوں کی کنڈیاں چڑھا کے وہ خود کو امان میں محسوس کرتی تھی۔ تلخی سے مسکراتی وہ بھی دروازہ بند کر گئی اور کچن کی طرف بڑھی تھی تاکہ عافیہ کی مدد کر سکے وہ ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رپورٹس خیام کے سامنے ٹیبل پہ تھی جبکہ ڈاکٹر درمکنوں اس کے سامنے بیٹھ چکی تھی۔
” تینوں باڈیز پہ سیم فنگر پرنٹس ہیں ، سوچنے والی بات ہے کہ قاتل گلوز کا استعمال کیوں نہیں کرتا ؟”
خیام لب بھینچے غور سے ہر رپورٹ کو دیکھ رہا تھا ۔
” شاید جان بوجھ کے وہ ایسا کرتا ہے کیونکہ قاتل ہمیں الجھانا چاہتا ہے تاکہ ہم اس تک نہ پہنچ سکے ”
” کیا مطلب ؟؟”
درمکنوں اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی جبکہ وہ گہرا سانس لیتا فائل بند کر کے اسے دیکھنے لگا۔
” تاکہ ہم آس پاس ہی الجھے رہیں اور ہر ایک پہ شک کر کے اس کے فنگر پرنٹس ایگزامن کرتے پھرے اور قاتل کو موقع ملے ایک اور مرڈر کرنے کا ۔ ”
” ہمممم ۔”
درمکنوں نے آبرو اچکا کے گہرا سانس لیا تھا ۔
” مطلب کیس بہت پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے ”
” ہو جانے دو پیچیدہ ، کہیں نہ کہیں تو وہ قاتل چوکے گا ، کوئی غلطی تو ضرور کرے گا اور تب ہم اسے پکڑے گیں۔ ”
خیام پرسوچ انداز میں کہہ رہا تھا اور پھر سر جھٹک کے وہ رپورٹس کی فائل لیتا اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
” اینی وے تھینک یو ، میں چلتا ہوں پھر ”
درمکنوں بھی کھڑی ہو چکی تھی ۔
” ہممم بائے ۔ ”
لیکن کچھ فاصلے پہ جا کے وہ رکا تھا اور پھر مڑ کے وہ درمکنوں کے قریب آیا تھا جبکہ درمکنوں اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
” میں بتانا بھول گیا تھا تم پہ یہ بلیو کلر بےحد سوٹ کر رہا ہے ”
اپنی کنپٹی کھجاتا خیام کہتا اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ، جہاں پہلے حیرت ابھری تھی اور پھر وہ آنکھیں مسکرائی تھی۔ درمکنوں بھی مسکرا کے نظریں پھیر چکی تھی۔
” تھینک یو۔ ”
نظر بھر کے درمکنوں کے سراپے کو دیکھتا وہ پھر سے مڑا تھا اور فائل لیے عجلت میں ہاسپٹل کے احاطے سے باہر نکل رہا تھا اور ساتھ ہی عاریز کو کال کرنے لگا۔ ۔
” کہاں ہو عاریز؟؟”
شام کے سائے بھی پھیل رہے تھے وہ ادھر ادھر دیکھتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا ۔
” Cafe Aylanto .. ”
عاریز نے جواب دیا تھا ۔
“میں بھی وہیں آ رہا ہوں۔ ”
کہتے ساتھ ہی کال بند کر کے وہ گاڑی میں بیٹھ چکا تھا اور گاڑی ڈرائیو وے پہ ڈال دی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
کراچی کی پررونق سڑکوں میں سے یہ ایک سڑک تھی، لیکن جہاں وہ لڑکی اپنے سرخ لباس میں، سرخ ہی میک اپ کے ساتھ کھڑی تھی، وہ انہی جیسی عورتوں کے لئے تھی جہاں وہ عورتیں یا لڑکیاں اپنے لئے شکار پھنساتی اور چند پیسوں کی خاطر اپنا جسم بیچتی تھی ۔ اس لڑکی کے پاس ایک گاڑی آ کے رکی تھی تو وہ کار کے ونڈو کی طرف جھکی تھی ۔
” چل ۔ ”
وہ ادھیڑ عمر کا آدمی تھا جو کہہ رہا تھا جبکہ وہ قیمت پوچھنے لگی ۔
” کتنا دے گا ؟ ”
” 100 روپے ”
وہ شخص کہتا ادھر ادھر دیکھ بھی رہا تھا جبکہ اس لڑکی نے ہاتھ سے اس کے سینے پہ مارا تھا۔
” اتنے پہ تو میں تجھے اپنے قریب نہ آنے دوں، کنجوس نکل ادھر سے ”
” نخرے نہ کر چل ۔ ”
وہ اس لڑکی کو گھورنے لگا جبکہ وہ پیچھے ہوئی تھی۔
” جا ادھر سے ۔۔ ”
غصے سے چلا کے کہتی ، وہ دوسری طرف چلی گئی جبکہ وہ ادھیڑ عمر کا شخص گاڑی لے کے چلا گیا اور کچھ دیر بعد ایک بائک اس کے قریب آ رکی تھی۔
” چل ۔۔ ”
اس شخص نے اپنے چہرے پہ ماسک چڑھایا تھا ۔
” کتنا؟؟”
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی کوشش کرتی پوچھ رہی تھی ، نیم تاریکی میں اس کی سرد آنکھیں ٹھیک سے نظر بھی نہیں آ رہی تھی۔
” جو تو کہے ، چل اب ”
اور وہ لڑکی مسکراتی اس کے پیچھے بائیک پہ بیٹھ چکی تھی۔
☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆
