The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 48
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 48
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 48
گاڑی کو فل اسپیڈ پہ کر کے، گیٹ عبور کرتی، وہ فل اسپیڈ کے ساتھ، اندر آ کے، اس نے گاڑی کو جھٹکے سے روکا ۔ گاڑی سے نکل کے، لب بھینچے اس نے وہاں موجود گارڈز پہ نظر ڈالی۔ اس ایک سرد نظر نے، ان گارڈز کو پیچھے ہٹنے اور نظریں جھکانے پہ مجبور کر دیا تھا۔
” یہ تو حکان صاحب کی بیوی ہے ”
سب بڑبڑاتے، اپنی جگہ ساکت ہو گئے۔ جب اچانک اکاسمہ، ہاتھ میں موجود راڈ سے، پاس پڑے، نفاست سے رکھے گملوں پہ وار کرتی، توڑ پھوڑ کرنے لگی۔ پاس بنا گلاس وال، جو سوئمنگ پول کو، اس حصے سے الگ کر رہا تھا، راڈ کے وار سے اسے بھی توڑ دیا۔ شیشے چکنا چور ہو کے، نیچے گر پڑے۔
گارڈز پریشان نظروں سے اسے دیکھنے لگے جبکہ وہ آگے بڑھتی، دروازے کے شیشے بھی توڑ چکی تھی۔
” سیکیورٹی۔۔۔۔ سیکیو۔۔۔۔۔ ر۔۔۔۔۔ ٹی”
وجدان ملک جو چلاتے ہوئے آ رہا تھا۔ اکاسمہ کو سامنے دیکھ کے، حیرت سے گنگ ہو گیا جبکہ اس کے ساتھ موجود لبنی بھی حیرت سے اکاسمہ کو دیکھنے لگی۔
” اکاسمہ، بیٹا ۔۔۔۔ ”
جبکہ اکاسمہ اسے نظرانداز کرتی، وجدان ملک کو سرد نظروں سے گھور رہی تھی۔ ہاتھ میں موجود راڈ کو مضبوطی سے تھامے، وہ آگے بڑھی اور وجدان ملک بوکھلا کے پیچھے ہٹنے لگا۔
” ک ۔۔۔ کیا کر رہی ہو ا ۔۔۔ کاسمہ ۔۔۔۔ ”
لیکن اس نے زور سے اندر اتے، شیشے کے ٹیبل پہ زور سے راڈ کو مارا اور تمام شیشے ٹوٹ کے بکھر گئے۔
” اکاسمہ۔۔۔۔ د ۔۔۔ دیکھو ۔۔۔۔ میں پولیس کو بلوا دوں گا ”
“کیا کریں گے آپ؟؟”
اکاسمہ زور سے، دیوار پپ لگا آئینہ توڑ کے چلائی۔ لبنی حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ وجدان ملک بوکھلا کے پیچھے ہوتا، صوفے سے جا لگا۔
” پولیس کو بلوائے گیں؟؟ کیوں؟؟ کیسی شرمناک حرکت۔۔ گھر کی بہو کو پولیس کے حوالے کریں گے ۔۔۔ ”
اس کے چہرے پہ سرد مسکراہٹ تھی جبکہ آنکھوں میں نفرت۔
” میرے الفاظ یاد ہے آپ کو ؟؟ وجدان ملک ؟؟ آپ کو کیا لگتا ہے کہ میرے الفاظ کھوکھلے ہیں آپ کے کردار کی مانند ؟؟ میں جو کہتی ہوں وہ کرتی نہیں ہوں؟؟ یہی لگا آپ کو ؟؟ ہے ناں ”
وہ اب وجدان ملک کے مقابل کھڑی، حقارت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” دیکھو ۔۔۔۔ اکاسمہ ہم ۔۔۔۔۔ مل بیٹھ کے بات ۔۔۔”
اس کی بات ادھوری رہ گئی جب اکاسمہ نے زور سے ہاتھ میں موجود راڈ زمین پہ دے ماری۔
” نہیں کرنی مجھے بات، آپ جیسے دوغلے انسان سے، جو اپنے بیٹے کی جان کا دشمن ہے۔ مجھے تو شک ہے کہ حکان آپ کا سگا بیٹا ہے ؟؟؟ میں حکان ملک کی بیوی ہوں۔ اپنے شوہر کی حفاظت کے لئے، میں ہر حد پار کر سکتی ہوں، ہر حد ۔۔۔۔
مجھ سے دشمنی کریں گے تو پچھتائے گیں وجدان ملک۔ میرے دل میں ذرہ برابر جو عزت تھی وہ بھی ختم ہو چکی ہے اور اب بس یہی کرنا باقی ہے کہ آپ کے کردار کی پوری داستان انٹرنیٹ پہ اپلوڈ کر دوں۔ ”
لبنی حیرت سے اب وجدان ملک کو دیکھنے لگی۔
“کیا کیا ہے تم نے میرے بیٹے کے ساتھ ؟؟ ک ۔۔۔ کیا ہوا ہے حکان کو ؟؟”
” بتائیے آپ؟؟ کیا ہوا ہے حکان کو اور کیا کیا ہے آپ نے حکان کے ساتھ ؟؟ ”
اکاسمہ مسکراتی سرد آنکھوں سے وجدان ملک کو دیکھنے لگی جو بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکا تھا۔
” میں۔۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا ”
” میں بتا دیتا ہوں۔ اپنے ہی بیٹے کے کھانے میں زہر ملا کے دے رہے ہیں تا کہ حکان مکمل پاگل ہو جائے اور ان کو سکون مل سکے۔”
اکاسمہ کے الفاظ نے لبنی کو شاکڈ کر دیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ وجدان ملک اپنے بیٹے سے نفرت کرتا ہے لیکن اتنی نفرت، کہ اس کی جان ہی لے لیں۔
” حکان کی تمام میڈیکل رپورٹس مجھے بھیجنے سے لے کے، حکان کو دھمکی آمیز ای میلز اور حکان کے کھانے میں ڈرگز ملانے تک ۔۔۔۔ اتنے نفرت آمیز کام کر چکے ہیں آپ کے شوہر نامدار ۔ ”
” ن ۔۔۔ نہیں ۔ میں نے نہیں کیا ایسا، میں۔۔۔۔ میں کیوں ڈرگز دوں گا ۔۔۔۔ پاگل ہو گئی ہے یہ لڑکی ۔۔۔”
وجدان بوکھلاتے ہوئے لبنی سے کہہ رہا تھا جب لبنی نے اسے تھپڑ مار دیا اور وہ خاموش ہو گیا۔
” خوف خدا کرو وجدان ملک، خوف خدا ہے تم میں کہ نہیں؟؟ اپنے ہی بیٹے کے قاتل بن رہے ہو تم، اتنی نفرت کس لئے ؟؟ آخر کس لئے اتنی نفرت ”
لبنی چلا رہی تھی جبکہ اکاسمہ گہرا سانس لیتی، قدم قدم پیچھے ہٹتی گئی۔ اچانک اسے بےحد تھکن کا احساس ہونے لگا تھا۔ وہ خود کو گھسیٹتی، وہاں سے باہر نکل رہی تھی۔ باوجود اس قدر مضبوط ہونے کے، اس وقت اس کی آنکھوں میں آنسو تھے،
بمشکل سانس لینے کی کوشش کرتی، وہ باہر نکلی۔ کس قدر تھکن تھی کہ اس کے کندھے جھک سے رہے تھے۔ اسے جیسے سہارے کی ضرورت تھی، مضبوط سہارے کی۔ وہ دھندلانے آنکھوں سے، لڑکھڑاتی، گاڑی کے قریب پہنچی۔
” اکاسمہ ۔۔۔۔۔ ”
اس بھاری آواز پہ دھڑکن رک گئی۔ سانس مدھم پڑنے لگی۔ اس نے تیزی سے مڑ کے دیکھنے کی کوشش کی لیکن وہ وجود اسے اپنی بانہوں میں بھر چکا تھا اور اس خوشبو کو محسوس کرتی، اکاسمہ نے مضبوطی سے اس کی گردن میں اپنے بازو حائل کر دیے تھے۔
اس کے تنے اعصاب نرم پڑنے لگے۔
اس کے وجود پہ سکون سا اترنے لگا۔
اسے اپنی تھکن ختم ہوتی محسوس ہوئی۔
” مجھے ۔۔۔۔ یہاں سے لے چلو حکا۔۔۔۔ن ”
حکان نے کئی بار، اس کے سر اور پیشانی پہ لب رکھ کے، اسے اپنے محبت بھرے لمس سے سکون سا پہنچایا۔ اسے بانہوں کے گھیرے میں لیے، وہ گاڑی کی طرف مڑا۔ عباس نے تیزی سے گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔ حکان نے نرمی سے، اسے گاڑی میں بٹھایا اور پیچھے مڑ کے، سخت نظروں سے گارڈز کو دیکھا۔
” اکاسمہ کی کار، گھر تک پہنچاؤ۔”
” اوکے سر ۔۔۔”
ایک گارڈ تیزی سے اس گاڑی کی طرف بڑھا جسے اکاسمہ لے کر آئی تھی۔ اسی نے ہی حکان کو کال کر کے،یہاں آنے کے لئے کہا تھا۔ دونوں گاڑیاں آگے پیچھے گیٹ سے بھی نکلی تھی جبکہ سڑک کنارے موجود ایک سیاہ رنگ کی گاڑی میں بیٹھا، وہ شخص ایک نمبر ڈائل کرنے لگا۔
” دونوں گاڑیاں آگے پیچھے جا چکی ہے سر۔مس اکاسمہ نے یہاں آ کے،توڑ پھوڑ کر کے،کافی ہنگامہ کیا اور پھر حکان ملک آ کے، مس اکاسمہ کو ساتھ لے گئے۔ ”
” ہمممممم۔۔۔ ”
کاووس شاہ کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے۔ اس نے سنا تھا کہ اکاسمہ بےحد بہادر اور مضبوط ہے اور آج اس بات کی تصدیق بھی ہوگئی ۔
اس کے لبوں پہ خفیف سی مسکراہٹ آ ٹھہری۔
□□■■□□■■□□■■□□■■□□■■□□■■□□
وہ تھکی تھکی سی صوفے پہ بیٹھی ہوئی تھی جب حکان اس کے لئے چائے بنا کے لایا اور اس کی طرف بڑھایا۔ اکاسمہ نے اداس نظریں اٹھا کے اسے دیکھتے ہوئے چائے کے مگ کو تھام لیا۔ اسے اس وقت چائے کی بہت طلب بھی ہو رہی تھی۔
حکان بھی اپنا مگ لیے، اس کے قریب ہی صوفے پہ بیٹھ گیا کہ اس کا ہاتھ اکاسمہ کے کھلے بالوں میں، انگلیاں چلانے لگا۔ اکاسمہ نے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا۔
” تمہیں برا لگا حکان ؟؟”
حکان نے نفی میں سر ہلایا لیکن آنکھوں میں سنجیدگی تھی۔
” کیوں کرتی ہو یہ سب اکاسمہ ؟؟ ”
اکاسمہ کا دل ڈوب کے ابھرا تھا۔ اس کی آنکھیں بھیگنے لگی۔ ۔
” خود کو خطرے میں ڈال دینا کہاں کی عقلمندی ہے اکاسمہ؟؟”
اکاسمہ خود کو رونے سے روکتی، کندھے اچکا گئی۔
” محبت کرتی ہوں ناں تم سے، بس اس لیے۔ ”
حکان نے گہرا سانس لیتے، لب بھینچ لیا۔
” لیکن اکاسمہ، میں یہ نہیں چاہتا کہ تم خود کو خطرے میں ڈال دو۔ ”
” ک۔۔۔ کوئی تمہیں نقصان پہنچائے، تمہیں اذیت دے، تمہیں مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے تو مجھے بیٹھ کے تماشا دیکھنا چاہئے؟؟ میں تمہاری حفاظت کے لئے ہر حد پار کر سکتی ہوں ”
اکاسمہ بھرائی آواز میں کہی رہی تھی۔ حکان کی آنکھوں میں حیرانی آئی۔ اس نے قریب ہو کے، اکاسمہ کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔
” میری جان، تمہاری حفاظت میری ذمہ داری ہے، میری حفاظت تمہاری ذمہ داری نہیں ہے”
” کیوں؟؟”
” کیونکہ تم میری بیوی ہو، میری محبت ہو، یہ میرے لئے ناقابل برداشت ہے کہ میری بیوی، میری خاطر اپنی جان خطرے میں ڈال دیں۔ اکاسمہ یہ صحیح نہیں ہے ”
حکان کو اس کی فکر ہو رہی تھی۔ وہ کیسے سمجھائے اب اس لڑکی کو ۔ اکاسمہ اس کے قریب ہو کے، اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ کے، اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” کیا صحیح ہے اور کیا صحیح نہیں ہے، مجھے یہ جاننا ہی نہیں ہے حکان۔ میں نہیں بھول سکتی وہ اذیت، جو تمہارے وجود میں دیکھتی ہوں میں۔ حکان میں کسی سے خوفزدہ نہیں ہوں۔ کوئی تمہیں اذیت پہنچائے گا، میں اس کی روح کھینچ لوں گئ ”
حکان نے اپنی مسکراہٹ دبانے کی کوشش کی جبکہ گہری آنکھوں میں بےپناہ محبت تھی۔ آٹھ سال ان عورت سے محبت، گھاٹے کا سودا نہیں رہا تھا اس کے لئے۔ کیونکہ جب وہ پسندیدہ عورت مکمل اس کے تقدیر میں جب لکھ دی گئی تھی تو خالص ہی لکھی گئی۔ یہ اللہ کی طرف سے تھا اور جب اسے، بدلے میں اس شخص سے محبت ہوئی تو اس قدر شدت تھی اس محبت میں۔ کہ کبھی کبھی اسے لگتا کہ شاید اس کی اپنی محبت، اکاسمہ کی محبت کے مقابلے کم پڑ جائے۔
” وہ تو آج دیکھ لیا تھا میں نے، ایک سیکنڈ کے لئے تو میری روح بھی کھنچ گئی ”
اکاسمہ حیرت سے اس کی شرارت بھری آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” چائے پیو، ٹھنڈی ہو جائے گی ”
حکان نے اس کے چائے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ پھر بھی مسکراتی آنکھوں سے حکان کو دیکھتی رہی ۔
” کیا ہوا؟؟”
حکان کے سوال پوچھنے پہ، وہ سر نفی میں ہلاتی، اس کے سینے پہ سر رکھ کے، آنکھیں موند گئی۔
” میں کل رات سے نہیں سوئی حکان، ابھی تمہاری بانہوں میں سونا چاہتی ہوں۔ ”
آخر میں اس کی آواز بوجھل ہوئی ۔ حکان نے محبت بھرے انداز میں، اس کی پیشانی پہ اپنے لب رکھے۔
” تو پھر ٹھیک ہے، میری بانہوں میں سو جاؤ ”
حکان اسے بانہوں میں لیے، وہیں صوفے پہ، اکاسمہ کے ساتھ لیٹ گیا کہ وہ بھی تھکاوٹ محسوس کر رہا تھا۔ وہ جو میڈیسن، رات کے وقت لے رہا تھا، اسے لینے کے بعد، نیند کی زیادہ طلب ہوتی اسے اور ابھی تو اس کی راحت جاں بھی، اس کے بانہوں میں تھی تو نیند کیسے نہ آتی۔
□□■■□□■■□□■■□□■■□□■■□□■■□□
” عاریز خان کو قتل کرنا اتنا مشکل نہیں تھا میرے لئے کبھی۔ وہ اچھا prosecutor تھا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ ہوشیار نہیں تھا۔ اب ایسے سیدھے سادے بندے کا قانون سے کیا لینا دینا ”
عفان کی مسکراتی آنکھوں میں سفاکی کی جھلک تھی۔
” لیکن مجھے یہ ماننا پڑے گا کہ حکان ملک زیادہ ہوشیار ہے، اس لئے اس کو زیر کرنا تھوڑا مشکل ہے۔ اور اوپر سے محترمہ اکاسمہ، جو بات کی تہہ تک نہ پہنچے، وہ چھوڑتی نہیں ہے ”
اس کے چہرے پہ سرد تاثرات تھے۔
” فیاض حیات کی بیٹی ہے، میری بہن ہے تو مجھ پہ گئی ہے ”
اب وہ مسکرا رہا تھا جبکہ دوسرے صوفے پہ بیٹھا ذکریا آفندی اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔
” ہاں اسے قتل کرنا بہت آسان رہا ہمارے لئے۔ مزہ تو تب آیا جب وہ حیرت سے تمہیں دیکھ رہا تھا ۔ ”
وہ ہنسنے لگا۔
” نفرت کرتا تھا میں اس سے، شدید نفرت۔ اسے اکاسمہ کے ساتھ دیکھ کے، خون کھولتا تھا میرا۔ ”
عفان آنکھوں میں سفاکی لیے دانت پیس رہا تھا۔
” سنا ہے کل وجدان ملک کے ولا پہ حملہ کر دیا تھا اکاسمہ نے ۔۔ اس کے گھر کی ساری چیزیں توڑ دی تھی ”
ذکریا یاد کرتے ہوئے بتانے لگا۔ عفان کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔
” اپنے شوہر کو بچانے میں لگی ہوئی ہے، اور اس کا یہ گھر بکھر چکا ہے۔ ماں باپ الگ، بھائی، بھائی کا دشمن ”
” ہاں تو انہیں کیا معلوم تھا کہ اولاد کے نام پہ، وہ اس ناگن کا بیٹا پال رہے ہیں، جو اس کے لئے ماضی کا ایک سیاہ گناہ رہا ہے، اسے تو یہ بھی یاد نہیں کہ وہ تو اس عورت کے بستر پہ کبھی گیا ہی نہیں، یہ تو نشہ دے کے اسے پھنسایا گیا تھا اور اسی ناگن کا بیٹا، اس کے گھر میں پل رہا یے، اپنے اور ملکہ کی اولاد سمجھ کے پال رہے تھے تمہیں وہ، جبکہ اس کا اپنا ہی خون، اپنی ہی اولاد، کسی غیر کے ہاتھوں پلا ہے۔ ”
ذکریا مسکرا کے بتا رہا تھا جبکہ عفان نے جبڑے بھینچ لیے تھے۔
” ہاسپٹل میں exchange کرنا کون سا مشکل کام ہے لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اتنے سال گزر جانے کے بعد یہ بندہ کہاں سے آ گیا ؟؟ کاووس شاہ !!!”
وہ اب پراسرار نظروں سے ذکریا کو دیکھنے لگا۔
” ڈی این اے رپورٹ بھی ساتھ لایا ہے ثبوت کے طور پہ ۔۔۔۔ بہت ہی چالاک نکلا یہ کاووس شاہ، نہ جانے کس کے ہاتھوں پروان چڑھا ہے جو اس قدر ہوشیار ہے ”
” لگتا ہے اس کو دیکھ کے، کہ اکاسمہ کا ہی سگا بھائی ہے ”
ذکریا نے مسکراتے ہوئے کہا جبکہ عفان بھی طنزیہ مسکرانے لگا۔
” لیکن افسوس وہ نہیں جانتی کہ کاووس شاہ ہی اس کا سگا بھائی ہے اور میں پرایا۔۔۔۔ ایک اجنبی آدمی، جس نے ان کے اپنے بیٹے کو چھینا اور پھر پورے خاندان کو بکھیر کے رکھ دیا۔ چہ چہ چہ !!”
” چلو اچھا ہے، اپنے ہی بہن کے ہاتھوں مارا جائے گا ۔۔ ”
ذکریا نے اپنی کنپٹی سہلاتے کہا۔ ۔
” نہیں، اکاسمہ کو کچھ نہیں ہونا چاہئے ”
عفان ایکدم سے چونکا۔
” تمہیں کیا فائدہ مل جائے گا اکاسمہ سے ؟؟ تم تو اس کے بھائی ہی ہو ۔” ۔
ذکریا اسے دیکھ رہا تھا۔
” ہممممم، افسوس ہی یہی ہے کہ وہ میری بہن ہے۔ لیکن خیر ۔۔۔۔۔ ادا خانم کا بدلہ تو پورا ہو جائے گا۔ جس طرح سے فیاض حیات نے اسے دھتکارا تھا، وہ بدلہ لے چکی ہے۔ ملکہ کی خاطر، اس نے میری ماں کو ٹھکرا دیا۔ وہ صرف میری ماں کا ناچ دیکھنے آتا تھا اور جب وقت آیا کہ وہ شخص میری ماں کو اپنائے، وہ کسی دوسری عورت سے شادی کر کے، عزت بھری زندگی گزارنے لگ گیا۔ ہونہہ !!
ویسے عجیب ہی صورتحال ہے۔ فیاض حیات کا اپنا بیٹا کہیں اور پلا بڑھا اور اس کی دشمن کا بیٹا، جو اس کا اپنا خون ہے ہی نہیں، اسکے اپنے گھر میں پلتا رہا تا کہ آگے چل کے، اس سے بدلہ لے سکے۔ “
عفان کا ذہن مفلوج تھا، وہ عورت جو ناگن کی طرح فیاض حیات کے ماضی سے چمٹ چکی تھی، ایسا لگتا تھا کہ جیسے فیاض حیات کے ماضی کو، اس کی شخصیت کو وہ بھلا ہی نہیں پائی تھی اور تبھی وہ اس کی شادی کے بعد بھی، بدلے کی آگ میں اس قدر جھلستی رہی تھی کہ ایک نومولود بچے پہ بھی رحم نہ کیا لیکن سوال یہ تھا کہ کاووس شاہ کو کیسے علم ہوا کہ فیاض حیات کا بیٹا ہے وہ؟؟
اسے دیکھ کے فیاض حیات بھی ایسے خاموش تھا کہ اپنے ماضی کے سیاہ گناہوں کو یاد کرنے کی ہمت بھی نہیں تھا اس میں۔ وہ اتنا جانتے تھے کہ ادا خانم کے کوٹھے پہ جایا کرتا تھا وہ،لیکن اسے یہ یاد نہیں تھا کہ وہ کبھی ادا خانم کے بستر پہ گیا بھی ہے کہ نہیں۔
عفان اتنی مماثلت نہیں رکھتا تھا ان سے، جتنی کاووس شاہ رکھتا تھا ایسے لگتا کہ جیسے فیاض حیات کی جوانی ان کے سامنے کھڑی ہو۔
انہوں نے ملکہ سے بےحد محبت کی تھی۔ باوجودیکہ، جوانی میں ان کے قدم لغزش کھا گئے تھے لیکن ملکہ سے محبت ہو جانے کے بعد، فیاض حیات نے سب گناہ چھوڑ دیے تھے اور ملکہ سے شادی کر کے، اپنی زندگی شروع کر دی تھی ۔ ملکہ بھی ان کے ماضی کو جانتی تھی لیکن انہوں نے بھی فراموش کر دیا تھا اور فیاض حیات کو، ان کے ماضی سمیت قبول کر کے، ان پہ یقین کر کے، ان کی زندگی میں شامل ہو گئی تھی لیکن اب ۔۔۔ کاووس شاہ کے آنے، آگے پیچھے اس قدر ہنگامے کے بعد، کہ جن میں نہ صرف ان کے بچوں کی زندگی میں خطرے میں پڑ چکی تھی بلکہ کاووس شاہ اچانک آ کے، گھر، جائیداد پہ غاصب ہو گیا تھا۔ یہ سب ملکہ کو اس قدر توڑ چکی تھی کہ سالوں رہنے کے ساتھ رہنے کے بعد، اب علیحدگی کا فیصلہ کر لیا تھا۔
●●○○●●○○●●○○●●○○●●○○●●○○●●
” ملکہ ۔۔۔۔ ”
وہ جو بوریت سے بچنے کے لئے، کچھ کتابیں خریدنے آئی تھی جب اچانک جانی پہچانی آواز پہ، بےچینی سے مڑ کے دیکھا۔ وہاں کوئی اور نہیں، بلکہ فیاض حیات کھڑے تھے۔ ملکہ کی آنکھوں میں خوشگوار حیرت ابھری تھی اور پھر بلکہ اچانک، سردمہری چھائی تھی کہ لب بھینچے مڑ کے، وہ جانے لگی جب فیاض حیات نے ان کا ہاتھ تھام کے روکا۔
” رک جاؤ پلیز ملکہ ”
کس قدر منت اور بےچینی تھی ان کے لہجے میں، جو ملکہ کے دل میں اتر سے گئے لیکن پھر بھی سردمہر بنی، وہ فیاض حیات کو دیکھنے لگی
” کیوں رک جاؤں؟؟ فیاض حیات ؟؟ ہمارے بیچ کچھ رہا بھی ہے ؟؟”
” ہم اب بھی شادی شدہ ہیں ملکہ۔ ہم اب بھی ایکدوسرے سے محبت میں ہیں ۔ کیا تم یہ محسوس نہیں کر سکتی کہ ہم دونوں ہی ایکدوسرے کے بنا نامکمل ہے ”
ملکہ گہرا سانس لے کے رہ گئی۔ وہ کیسے نہ جان پاتی ؟؟ وہ نہ صرف جانتی تھی بلکہ محسوس بھئ کرتی تھی۔ بےچینی صرف فیاض حیات کے وجود کا حصہ نہیں بنی تھی بلکہ ملکہ کے وجود میں بھی یہ احساس پنپ رہا تھا جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔
” میرا ماضی تو تمہارے سامنے ہی تھا، تم نے تو پھر بھی مجھے اپنا لیا تھا۔ اب ایسا کیا ہوگیا ہے ملکہ، جو اس قدر نفرت کرتی ہو مجھ سے ؟؟”
” کیا تم نہیں جانتے فیاض؟؟ کہ اب ایسا کیا ہو گیا ہے ؟؟ مجھے کیا معلوم تھا کہ تمہارے ماضی کے گناہوں کا پلندہ، یوں آ کے، میری اولاد کی زندگیوں کا غاصب بن جائے گا۔ میری اولاد کی زندگیاں غیرمحفوظ ہے اور یہ سب تمہاری وجہ سے ہے فیاض میں ہر چیز پہ سمجھوتہ کر سکتی ہوں لیکن اپنی اولاد کے معاملے میں، مجھ سے نہ کسی سمجھوتے کی امید رکھی جائے اور نہ ہی کسی رعایت کی امید۔ یہ سب تمہاری وجہ سے ہو رہا ہے فیاض ۔ تم خود گنہگار ہو ”
ملکہ اب انہیں سخت نظروں سے گھور رہی تھی جبکہ وہ نظریں چرا گئے۔ ملکہ لب بھینچے رخ موڑ گئی۔ ۔
“میرا پیچھا مت کرنا اب پلیز ” ۔
وہ آگے بڑھ گئی جبکہ فیاض حیات یونہی کھڑے رہ گئے کس قدر تہی داماں ہو چکے تھے کہ کوئی نہیں تھا ان کے ساتھ ۔ اولاد ساتھ چھوڑ گئی تھئ، بیوی نفرت بھرے اظہار کے بعد چھوڑ گئی، دونوں بیٹے ایکدوسرے کی جانوں کے دشمن اور وہ پریشان سے، ان سب کے بیچ یہ سوچ رہے تھے کہ کیا بڑھاپے میں یہ سب دیکھنا ضروری تھا جو وہ یوں اپنے گناہوں کی سزا بھگت رہے تھے۔
●●●○○○●●●●○●●●●●●○○○○●●●
لیپ ٹاپ پہ مسلسل کام کرتے، اس نے تھک کے، اپنی اکڑی ہوئی گردن کو، سیدھا کیا اور مڑ کے اکاسمہ کو دیکھنے لگا جو اپنی اسٹریپڈ شارٹ بلیک نائٹی میں ملبوس، اپنے گیلے بالوں میں انگلیاں چلاتی، ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی خود کو دیکھ رہی تھی۔
اس کے گیلے بالوں کی نمی، اس کی گردن، کندھے اور کندھے سے نیچے آتی جلد کو نم کر رہے تھے۔ اسے بلکل اچانک اپنا گلا خشک ہوتا محسوس ہوا۔ شارٹ نائٹی کے نیچے سے نظر آتی، اس کی سفید ٹانگیں، اس کی دھڑکنیں منتشر کر گئی تھی۔
اپنی بیماری کی وجہ سے، اسے ہمیشہ یہی لگتا کہ وہ کبھی زیادہ وقت، اکاسمہ کے ساتھ گزار ہی نہ پایا تھا اور اکاسمہ کو دیکھ کے، اسے ہمیشہ یہی لگتا کہ جیسے ابھی بھی وہ مکمل اکاسمہ کو خود میں جذب نہ کر پایا ہو ۔
” اگر مجھے دیکھنے سے فرصت مل گئی ہو تو ۔۔۔۔”
بات ادھوری چھوڑ کے، وہ حکان کو دیکھنے لگی۔
” اپنی دھڑکنوں پہ لگام لو۔ ”
” کیوں ؟؟”
اس نے بےساختہ سوال کیا جبکہ اکاسمہ کندھے اچکا گئی۔ ۔
” کیونکہ ڈاکٹر نے کہا کہ تمہاری ہیلتھ کے لئے ٹھیک نہیں ہے تو اس لئے ہم تمہارے ٹھیک ہونے تک فاصلہ رکھیں گے ”
” کیا ؟؟”
وہ جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا لیکن اکاسمہ کی حیران آنکھوں میں دیکھ کے، اسے رکنا پڑا جبکہ اپنی کنپٹی سہلاتا، وہ اپنی گردن سہلانے لگا اور پھر سے اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔ ۔
” ڈاکٹر نے یہ نہیں کہا کہ ایسے کپڑے پہن کے، شوہر کے سامنے جانا بھی ممنوع ہے ”
” کیا مطلب؟؟”
اکاسمہ نے آبرو اچکا کے اسے دیکھا۔
” یہ ۔۔۔۔ ”
حکان نے بھی ابرو اچکا کے، اس کے ڈریسنگ کی طرف اشارہ کیا۔ اکاسمہ نظریں نیچے کر کے خود کو دیکھنے لگی اور پھر حکان کو دیکھا۔
” تو تمہارا مطلب ہے کہ میں اب نائٹی بھی نہ پہنوں؟؟”
برا سا منہ بناتے، وہ بالکل برش کرنے لگی ۔
” نہیں، بلکل بھی نہیں ۔ تم مجھے provoke کرنے کی کوشش کر رہی ہو ایسے۔۔۔۔ ایسے کپڑے پہن کے”
حکان اس کے نازک سراپے سے، نظریں چراتے کہنے لگا۔
” میں تو پہنوں گی۔”
بال جھٹک کے، وہ بیڈ پ جا کے لیٹ گئی ۔ حکان بھی بیڈ پہ آ کے، اسے بانہوں میں بھر چکا تھا۔ اسکی گردن پہ، اپنے بہکتے لمس بکھیرتا، وہ آنکھیں موند گیا۔ ۔
” ڈس از ناٹ فئیر اکاسمہ” ۔
” آئی نو، بٹ تمہاری ہیلتھ زیادہ ضروری ہے حکان، تمہیں ٹھیک ہونا ہے، اپنی میڈیسن ٹائم پہ لے کے۔ میں تمہیں ٹھیک ہوتے دیکھنا چاہتی ہوں حکان ”
اکاسمہ، اس کی طرف رخ کر کے،نرمی سے، اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی جبکہ حکان بوجھل ہوتی آنکھوں سے، اسے دیکھنے لگا۔ اس کے ہاتھ، اکاسمہ کی گال پہ تھے، جسے وہ نرمی سے سہلا رہا تھا۔
” I miss you Akasma ”
بوجھل بھاری لہجہ تھا جبکہ اکاسمہ مسکرانے لگی۔ قریب ہو کے، حکان کی آنکھوں پہ لب رکھ کے، وہ پیچھے ہو کے، اسے دیکھنے لگی۔ ۔
” miss you too ..
سو جاؤ حکان۔۔۔ جتنی زیادہ نیند لو گے، اتنی ہی جلدی ٹھیک ہوگے۔ ہمیں کوئی ایکدوسرے سے الگ نہیں کر سکتا ۔ ”
” بلکل بھی نہیں، میں کسی کو اس کی اجازت نہیں دوں گا کہ ہمیں ایکدوسرے سے الگ کریں اکاسمہ ”
اس کی آواز بوجھل ہو رہی تھی۔ چونکہ وہ ٹیبلیٹس وہ رات کے وقت لیتا، ان میں نیند کا اثر زیادہ تھا، تبھی اس پہ نیند کا غلبہ آنے لگا۔ اکاسمہ کو دیکھتے دیکھتے، اس کی آنکھیں بند ہونے لگی۔ اکاسمہ مسکراتی آنکھوں سے، اس کی بند پلکوں کو دیکھ رہی تھی جب پاس رکھا، اس کا موبائل وائبریٹ ہوا
وہ چونک کے دیکھنے لگی۔ عباس کا نمبر تھا۔
” ہممممم ؟؟”
حکان کو سوئے چہرے کو دیکھتے، اس نے موبائل کان سے لگایا۔
” میم اکاسمہ، میں نے ساری سیکیورٹی اور ہر کیمرے کا فوٹیج چیک کیا ہے۔ حکان سر کو کافی میں ڈرگز ملا کے دیا جاتا تھا اور۔۔۔۔۔ میم یہ سب کرنے والی کوئی اور نہیں بلکہ حکان سر کی اچھی دوست ایرسا کرتی تھی۔”
اکاسمہ کی آنکھوں میں سردمہری ابھری تھی۔ اس نے سختی سے لب بھینچ لیے۔
” اوکے، تھینک یو۔ ”
کال بند کر کے،موبائل سائیڈ پہ رکھ کے، وہ چھت کو گھورنے لگی۔ اس کی آنکھوں میں سرد نفرت کا طوفان برپا تھا۔ اس نے دانت پیس لیے تھے ۔
اب وہ جانتی تھی کہ اسے کل آفس جا کے، پہلا کام کیا کرنا ہے۔
□□□□□□□■■■■■■■□□□□□□□□□
