The Red Line By Malaika Rafi readelle50056 The Red Line Chapter 20
No Download Link
Rate this Novel
The Red Line Chapter 20
The Red Line
خط قرمز
از قلم ملائکہ رفیع
Episode 20
” گڈ آفٹر نون۔۔۔ ”
وہ دونوں جو مسکراتے ہوئے کورٹ سے باہر آ رہے تھے جب اچانک بھاری آواز پہ رکنا پڑا انہیں۔ حکان ملک مسکراتی آنکھوں سے انہیں دیکھتا کھڑا تھا جبکہ وہ دونوں اجنبی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے ۔
” میں لائیر حکان ملک ہوں، کل ہی جواین کیا ہے ۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے آپ کو دیکھ رہا تھا تو سوچا کہ اتنی بہادر لائیر کا حق بنتا ہے کہ ان کی بہادری کے لئے، کچھ تعریفی کلمات کا استعمال کروں ”
اکاسمہ ایک نظر عاریز خان کو دیکھتی مسکرا دی تھی اور سر اثبات میں ہلاتی حکان ملک کو دیکھنے لگی
” تھینک یو مسٹر حکان ۔۔۔ ”
” ایکسکیوز می سر ۔۔۔”
احمر ایک فائل لیے وہیں پہنچا تھا۔
” یہ کچھ key words ملے ہیں مجھے۔ بارز کا موبائل سسٹم اور لیپ ٹاپ کا ہر سسٹم ہیک ہو چکا ہے کہ سامنے والے نے اس کے تمام سسٹمز پہ دسترسی حاصل کر رکھی ہے ”
حکان ملک نے لب بھینچ لیے تھے جبکہ نظریں اکاسمہ پہ تھی جس کے چہرے پہ پریشانی اور گھبراہٹ تھی۔ وہ پریشان نظروں سے عاریز خان کو دیکھ رہی تھی۔
” تو اب ؟؟”
” سارا ڈیٹا سیو کر کے، دونوں سسٹمز ڈیمیج کر دو ”
احمر کو سنجیدگی سے کہتا وہ اب اکاسمہ کو دیکھنے لگا ۔
” ڈونٹ ووری ”
اسے بازو کے گھیرے میں لیے وہ دونوں آگے بڑھے تھے جبکہ حکان ملک لب بھینچے سرد نگاہوں سے ان دونوں کو جاتا دیکھ رہا تھا۔ جس طرح سے وہ عاریز خان کے بازو کے گھیرے میں تھی۔ اسی قدر اس کا وجود بھی کسی آگ میں جھلستا محسوس ہو رہا تھا اسے۔
” میری باری بھی آ ہی جائے گی اور تب عاریز خان پہ تمہاری پرچھائی بھی نہیں پڑنے دوں گا۔ اکاسمہ حکان ملک بن جاؤ گی۔ میری ملکیت، صرف اور صرف میری ملکیت “
《《《《《《《《》》》》》》》
” ب بات سنو ”
رخسار فاروقی پریشان نظروں سے، جیل کے اس کمرے میں موجود، نگینہ کو پریشان نظروں سے پوچھنے لگی جبکہ وہ سر سے پاؤں تک رخسار کو گھورتی، منہ ٹیڑھا کرتی، غصے سے اب اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی
” بھونکو ”
پہلے ہی مرحلے پہ، رخسار کی ہمت ڈھے گئی تو وہ آگے کیا کہتی۔ لب کاٹتی وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
” بول بھی ابے سالی ؟؟”
اس کی تیز آواز پہ رخسار چونک کے اسے دیکھنے لگی۔
” آ ۔۔۔ آپ وہاں واشروم گئی تھی ناں ؟”
“ہاں تو ؟؟”
” تو ۔۔۔۔۔ مجھے واشروم جانا تھا ”
خود میں ہمت مجتمع کرتی وہ کہنے لگی تو کمر پہ دونوں ہاتھ رکھ کے، نگینہ اسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگی۔
” تو جا ۔۔۔ میرے کو کیا بول رہی ہے ؟؟ راستہ بند ہے کیا؟؟ جو مجھے کھلوانے کا بول رہی ہے تو ”
اس کی بات کا مطلب سمجھ کے، رخسار اندر تک کانپ گئی تھی۔
” میں کھلوا دیتی ہوں ”
نگینہ نے آنکھ مارا تھا جبکہ وہاں موجود قیدی عورتیں ہنسنے لگی جبکہ رخسار لب کاٹنے لگی۔
” صاف کر دیں پلیز ۔۔۔ واش ۔۔۔ واشروم ”
” اچھا کر دیتی ہوں صاف ۔ ”
وہ کندھے اچکا کے کہتی سر اثبات میں ہلانے لگی اور بلکل اچانک اس نے تین چار عورتوں کو اشارہ کیا تھا اور خود آگے بڑھی تھی
” چل آ جا، صاف کر دوں ”
رخسار گہرا سانس لیتی، اس کے پیچھے چلنے لگی۔ واشروم کے سامنے پہنچ کے، وہ رک کے اب رخسار کو دیکھنے لگی جب واشروم سے ایک عورت ہاتھ میں پانی بھرنے والا برتن لیے باہر نکلی تھی اور نگینہ کے ہاتھ میں دیا تھا ۔ اس سے پہلے رخسار کچھ سمجھ پاتی، نگینہ اس برتن میں موجود پانی اس کے منہ پہ پھینک چکی تھی۔ رخسار چیختی پیچھے ہوئی تھی۔ وہ بدبودار پانی اس کا چہرہ، اس کے کپڑے بھگو چکا تھا جب نگینہ نے اسے بالوں سے جکڑ کے، جھٹکا دیتے، اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔
” ہو گیا صاف واش روم ”
آخری لفظ کو کھینچ کے کہتی وہ زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھنے لگی۔
“ابھی تو صرف اپنے گندے پانی سے نہلایا ہے تجھے، اگلی باری، پورا غوطہ دوں گی تجھے سوئمنگ پول میں۔۔۔دفع ہو ”
اسے زور سے دھکا دیتی وہ آگے بڑھی تھی جبکہ رخسار دیوار سے لگ گئی تھی۔ اس کی ساتھی عورتیں بھی جا چکی تھی ۔ رخسار کو اپنے وجود سے گندگی کی بو آنے لگی اور وہ چیختے ہوئے رونے لگی ۔ دونوں ہاتھوں سے خود کو رگڑتی وہ رو رہی تھی۔ کیسے صاف کرے خود کو اب وہ۔ روتے ہوئے وہ تیزی سے دوسری طرف بھاگی تھی کہ اس سے یہ بو اور گندگی برداشت نہیں ہو پا رہی تھی ۔
《《《《《》》《《》》》》》《《《《
کلینک سے باہر آتے آتے اسے شام ہو چکی تھی۔ چونکہ موسم بدل رہا تھا تبھی پانچ بجتے ہی گہری شام کا گمان ہوتا تھا۔ بیگ سے گاڑی کی چابی نکالنے کی کوشش کرتی وہ گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی جب بلکل اچانک کسی نے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ کے، اسے کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ قدرے خاموش جگہ پہ لے گیا تھا اور اسے درخت سے پن کرتے وہ اب مسفرہ کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جو اپنے بچاؤ کے لئے، ہر ممکن کوشش کر چکی تھی۔
” مسفرہ، سائیکاٹریسٹ اور مصنفہ ۔۔۔۔ ”
بھاری سرد سرگوشی ابھری تھی۔ ساتھ ہی ہاتھ بھی اس کے منہ پر سے ہٹا لیا تھا۔ وہ تگ و دو چھوڑ کے اب اس آواز کو پہچاننے کی کوشش کر رہی تھی۔
” میری بات غور سے سنو، ازمائر شاہ سے دور رہو گی۔ اس سے نہ بات کرو گی اور نہ ہی ملو گی۔ مار تو دونوں کو ہی دوں گا لیکن افسوس تمہیں رہے گا کہ تم تو مری ہی مری، وہ بھی مر گیا ”
” کون ہو تم؟”
بلیک ماسک کے پیچھے سے، مسفرہ صرف اس شخص کی آنکھیں ہی دیکھ پا رہی تھی جن کا رنگ گرے تھا اور جو بےانتہا سرد تھی۔
” شیطان ۔۔۔۔ ”
سرد سرگوشی اور مسفرہ کی آنکھوں میں حیرانی ابھری تھی۔ یہ آواز کہاں سنی ہے اس نے ؟؟ بظاہر لگ رہا تھا کہ آواز کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہے یہ شخص، لیکن پھر بھی اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ یہ آواز سن چکی ہے، لیکن کہاں؟؟
” کیسے جانتے ہو مجھے؟؟ کون ہو تم ؟؟ میں جانتی ہوں نا تمہیں؟”
مسفرہ بجائے خوفزدہ ہونے کے، اس شخص کو مسلسل گھورتی، اسے پہچاننے کی کوشش کر رہی تھی۔
” کراچی کی آبادی بہت بڑی ہے اور اس اتنی بڑی آبادی میں اب بہت لوگ ایکدوسرے سے شباہت رکھتے ہونگے تو کیا سب کو جانتی ہو تم مسفرہ میڈم ”
آواز مزید سرد اور خشک ہوئی تھی ۔
” تم سے جو کہا ہے، وہ کرو۔ ازمائر شاہ سے دور رہو، وہ ایک سائیکو ہے، دماغی مریض ہے۔ تم اس کے قریب گئی بھی تو، تمہیں موت کے کنویں میں گرنے سے کوئی نہیں بچا پائے گا”
شہادت کی انگلی، مسفرہ کے ماتھے پہ بار بار رکھتا، اسے تنبیہہ کر رہا تھا۔
” اور وہ ازمائر شاہ بھی مر جائے گا ۔ اس کی موت تو ہے ہی، میرے ہاتھوں لیکن تمہاری موت بھی یے میرے ہاتھوں ”
مسفرہ درخت میں مزید دھنس گئی تھی کہ وہ شخص جیسے اس کے وجود پہ حاوی ہوتا، اس کے قریب ہو رہا تھا ۔
” میں کون ہوں؟؟ رائٹ ؟؟ ”
وہ اب سوالیہ نگاہوں سے مسفرہ کے ہونق بنے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
” میں سیریل کلر ہوں، میں وہی دماغی مریض اور سیریل کلر ہوں جس کے پیچھے پورے کراچی شہر کی، پولیس ڈیپارٹمنٹ پاگل ہے اور میں مسفرہ کے پیچھے پاگل ”
وہ آنکھ ونک کرتا پیچھے ہوا تھا جبکہ مسفرہ نے رکی سانس بحال کی تھی اور اب آنکھوں میں حیرانی اور خوف لیے اسے دیکھ رہی تھی جو اب اسے الوداعی انداز میں ہاتھ ہلاتا جا رہا تھا ۔ ۔
” سیریل کلر ؟؟؟”
خشک لبوں پہ زبان پھیرتی، وہ دل پہ ہاتھ رکھ کے، خود میں ہمت مجتمع کرتی، اس خاموش جگہ سے آگے بڑھنے کے لئے، قدم بڑھانے کا سوچنے لگی۔
‘ سیریل کلر، پتہ نہیں کون ہے؟؟ جو پہلے ریپ کرتا ہے اور پھر قتل اور پھر ہر عورت کے چہرے پہ، اپنی کامیابی کا نشان بھی چھوڑ جاتا ہے، اس کی جلد چیر کے، ایک کراس بناتا ہے اور خط قرمز لکھتا ہے۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ اس کے چکر میں دو آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتار چکا ہے لیکن ایسے لگتا ہے کہ جیسے، وہ کوئی جادوگر ہے جو اپنے جادوئی عمل سے، وہاں سے غائب ہو کے، کسی اور کو بھیج دیتا ہے ۔۔۔ ‘
وہ چل رہی تھی اور اس کے کانوں میں آوازیں گونج رہی تھی ۔
‘ ریپ اور پھر بھیانک موت ‘
اس نے جھرجھری لی تھی اور تیزی سے گاڑی تک پہنچ کے، وہ اپنی گاڑی میں بیٹھی کہ اسے جلد سے جلد یہاں سے نکلنا تھا لیکن اچانک کسی نے، اس کی گاڑی کا دروازہ جکڑا تھا اور مسفرہ کی سامنے والے کو دیکھ کے، چیخ ابھری تھی ۔
《《《《《《《《《》》》》》》》》
بارز کمرے میں ٹہل رہا تھا۔ اس کا جسم ٹوٹ رہا تھا۔ اس کے دماغ کی شریانیں منجمد ہو رہی تھی۔ اسے اپنی سانسیں بوجھل لگ رہی تھی۔ سترہ سالہ بارز اس وقت کوئی ٹین ایج لڑکا نہیں، بلکہ کوئی ذہنی مریض لگ رہا تھا جس کے وجود میں اضطراب بھر دیا گیا ہو۔ نہ موبائل تھا، نہ لیپ ٹاپ۔ کچھ بھی نہیں تھا اس کے پاس۔ کیا کرے ؟؟ کہاں جائے؟؟ اس اضطراب کو کیسے کم کرے جو لمحہ لمحہ اس کے ناتواں وجود کو، اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔
وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلا تھا۔ رات کے اس وقت سب سو رہے تھے اور وہ جاگ رہا تھا۔ اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں رگڑتا وہ آگے بڑھ رہا تھا۔ لاؤنج میں کوئی نہیں تھا۔ ادھر ادھر اندر کو دھنسی ہوئی، سیاہ آنکھوں سے، دیکھتا وہ دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے ؟؟ کیا کرنا چاہئے ؟؟ لیکن فی الحال اس گھٹن سے خود کو باہر نکالنا تھا اسے۔
دروازہ کھول کے وہ باہر نکلا تو تازہ ہوا کا جھونکا اس کے چہرے پہ پڑا جو اس کے بوسیدہ وجود کے سارے حسیات بیدار کر گیا ۔ اضطراب بڑھا تو اس نے قدم باہر رکھ لیے اور یونہی قدم قدم چلتا وہ میں گیٹ سے باہر نکلا تھا۔ یونہی ادھر ادھر دیکھتا، وہ آگے بڑھ رہا تھا۔ رات کے اس وقت، خاموشی ہونے کے باوجود بھی، اکا دکا گاڑی اس سڑک سے گزر جاتی تھی اور اس خاموش ماحول میں ایک ارتعاش سا پیدا ہوتا۔ چند قدم ہی وہ آگے گیا تھا جب اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے پیچھے ہیں جو اس کے قدموں سے قدم ملا کے چل رہا ہے۔ وہ رکا اور پیچھے مڑا جہاں بلیک ماسک میں موجود وہ بلند قد مرد اسے مسکراتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ بارز پہچان گیا تھا کہ وہ کون ہے تبھی اس کی آنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں ابھری تھی اور اضطراب بڑھا تو پورا وجود کانپنے لگا۔
” ڈرو نہیں بارز، میں ملنے آیا ہوں تم سے بس”
اس کی آواز ابھری تھی جبکہ بارز اب بھی کانپ رہا تھا۔
” ک ۔۔۔ کیوں؟؟”
اسے محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے ٹانگوں کی سکت ختم ہو رہی ہے اور وہ گر جائے گا۔
” و ۔۔۔ وہ زبردستی لے گئے سب۔ م ۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا، ک ۔۔۔ کچھ نہیں ”
وہ شخص ایک ہی جست میں، اس کے قریب پہنچا تھا۔
” ہشششششش ”
شہادت کی انگلی اس کے لبوں پہ رکھتا، وہ بارز کو خاموش رہنے کا اشارہ دے چکا تھا۔ اب اپنے ہاتھ سے بارز کے بال سنوار رہا تھا ۔
” کیا حالت بنا دی ہے تم نے اپنی بارز۔ ۔۔۔ یہ سب کیا ہے ؟؟ یہ بکھرے بال، یہ سیاہ پڑتی آنکھیں اور تم ۔۔۔ کانپ کیوں رہے ہو ؟؟ ہشششششش ریلیکس رہو۔ جو ہو گیا سو ہو گیا، ریلیکس ”
وہ کہہ رہا تھا اور بارز خوفزدہ آنکھوں سے، اسے دیکھ رہا تھا۔
” میں نے تمہیں معاف کر دیا بارز، بخش دی تمہاری غلطی ۔۔۔۔ لیکن ”
بارز جو اسے سن رہا تھا لفظ، لیکن پہ اٹک گیا تھا۔
” تمہارا پورا ڈیٹا ڈیلیٹ کر رہا ہوں، تم سے اب کوئی گیم نہیں۔ جی لو اپنی زندگی خوشی سے، لیکن ۔۔۔۔۔ ایک ڈیل کرتے ہیں ”
وہ ایک چپ، اپنے جیکٹ کے پاکٹ سے نکال کے، اب بارز کو دیکھ رہا تھا۔
” تم نے اب خود کو بدلنا ہے، خود کو سب کے سامنے بےحد اچھا ثابت کرنا ہے کہ تم بدل چکے ہو، اچھے انسان بن چکے ہو، کالج جاتے ہو، اب پڑھائی کرتے ہو تا کہ سب کو لگے تم میں اب کوئی برائی نہیں ہے اور سارے برے کاموں سے دستبردار ہو چکے ہو لیکن تمہیں میرے لئے کام کرنا ہوگا، بےحد آسان کام، اس کام کے بدلے، تمہیں بہترین معاوضہ ملے گا، تمہاری زندگی تمہیں واپس ملے گی۔ یہ چپ ۔۔۔۔ ”
وہ اب ہاتھ میں موجود چپ بارز کو دکھا رہا تھا ۔
” اپنی بہن اور بہنوئی کے گھر جاؤ گے اور یہ چپ ان کے گھر میں، کہیں بھی فٹ کر دو گے جہاں تمہیں اسان لگے۔ یہ بےحد آرام سے فٹ ہو جاتا ہے۔ چاہے لاؤنج میں، ٹیبل کے نیچے، صوفے کے نیچے، دیوار پہ لگی کسی پینٹنگ کے پیچھے، کہیں بھی۔ بس یہی کام ”
” یہ۔۔۔ یہ کیا ہے ؟؟”
بارز نے اچانک پوچھا تھا کہ اب خوف زائل ہو چکا تھا اور اضطراب بھی کم ہو چکا تھا اس کے وجود کا۔
” سوال کرو گے اب مجھ سے بارز ”
اس نے بےحد نرمی لیکن سپاٹ لہجے میں کہا تھا جبکہ بارز چپ ہو گیا کہ خوف تو اب بھی تھا اسے۔
” یہ لو، سنبھال کے رکھو اور اکاسمہ کے گھر جا کے، تمہیں یہ کرنا ہوگا اور ۔۔۔۔ ”
وہ جیب سے ایک چیک بھی نکال کے اس کی طرف بڑھا چکا تھا۔
” تمہارا معاوضہ ۔۔”
بارز نے اس پہ موجود رقم کو حیرانی سے دیکھا تھا اور پھر اس بلیک ماسک والے کو۔
” لے لو، تمہارا انعام ہے ”
بارز نے کانپتے ہاتھوں سے، وہ چیک کا ورق تھاما تھا جب اس نے بارز کا کندھا تھپتھپایا۔
” اب خاموشی سے گھر جاؤ اور سکون سے سو جاؤ، موت کا فرشتہ راستہ بھول گیا تھا تو اب موت کا خطرہ بھی ٹل چکا ہے اور موت کا فرشتہ بھی اپنی راہ بدل چکا ہے بس جان بخشی کے بدلے میں، تمہیں یہ کرنا ہوگا ۔ ”
بارز نے خوفزدہ آنکھوں سے اسے دیکھا تھا جو کندھے اچکا کے، پینٹ پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈالتا پیچھے ہوا تھا۔
” کام کر کے، بتانا مجھے۔ میں تمہیں کبھی بھی، کہیں بھی مل سکتا ہوں۔ سرپرائز ملاقاتیں ہوگی اب سے۔ ”
وہ اب وہاں سے جا رہا تھا جبکہ بارز وہیں سڑک کنارے ڈھے گیا تھا۔ اس میں اٹھنے، چلنے کی سکت نہ تھی تو وہ گھر تک کیسے پہنچ پاتا۔ وہ خاموشی سے وہیں سڑک کنارے بیٹھ کے، چلتی پھرتی گاڑیوں کو دیکھ رہا تھا۔ وہ ایک پاتال سے نکل کے، دوسرے پاتال میں گر گیا تھا۔ پاتال در پاتال، کہ جہاں سے نکلنا اب ناممکن تھا اس کے لیے ۔ وہ کون تھا بلیک ماسک کے پیچھے لیکن اس کی دنیا، سیال مادے کی طرح اسے اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا جہاں تاریکی تھی۔ مکمل تاریکی !!!
《《《《《《《《《《《》》》》》》
