Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 22

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 22

” عندلیب ”
اپنے نام کی پکار پہ، وہ جو سرنج اور میڈیسن ڈھونڈ رہی تھی، اس کے ہاتھ رکے تھے۔ اچھنبے سے پیچھے مڑ کے وہ جاوید کو دیکھنے لگی جبکہ ہاتھ میں موجود سرنج پہ، اس کی گرفت بھی سخت ہو چکی تھی۔ اپنے سامنے اس عندلیب کو دیکھ کے، جاوید کی آنکھیں حیرانی سے کھلی رہ گئی تھی۔
” عن۔۔۔د۔۔۔۔۔لیب”
زیر لب جس طرح سے وہ بڑبڑایا تھا اس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ عندلیب کا چہرہ دیکھ کے اسے حیرانی ہوئی تھی۔ وہ ایسڈ کے جو گہرے نشان اس کے چہرے پہ چھوڑ چکا تھا وہ اب مندمل ہو رہے تھے۔ چہرے کی جلد، پہلے کی نسبت صاف ہو چکی تھی۔ گلابی پن اب بھی موجود تھا لیکن پہلے کی نسبت صاف تھی جلد۔
” ارے واہ، چہرہ بھی ٹھیک ہو چکا ہے تمہارا تو۔ مجھے لگا تھا کبھی نہیں صاف ہوگا لیکن یہاں تو ”
وہ مسکرا رہا تھا جبکہ عندلیب ادھر ادھر دیکھتی اب اسے دیکھ رہی تھی۔
” کیوں آئے ہو یہاں؟”
” میں؟؟ ہاں میں۔۔۔۔”
وہ اپنی کنپٹی سہلانے لگا اور پھر کچھ سوچ کے پھر سے عندلیب کو دیکھنے لگا۔
” میری بہن یہاں ایڈمٹ ہے سفینہ، تم نے دیکھا تو ہوگا۔۔ اس پہ ایسڈ اٹیک۔۔۔۔۔۔ ہوا ہے ”
جاوید کے الفاظ تھے یا کوئی سیسہ۔ وہ لڑکھڑا کے پیچھے ہوئی تھی اور ٹیبل سے جا لگی، سرنج اور میڈیسن نیچے گر گئے تھے جبکہ وہ حیرانی سے جاوید کا چہرہ دیکھ رہی تھی جو خاموش تھا اور مسلسل عندلیب کو دیکھ رہا تھا۔
” عندلیب دھیان سے ۔ ”
قریب ہوتے، اس نے عندلیب کو سنبھالنے کی کوشش کی تھی کہ بلکل اچانک دروازہ کھلا اور ڈاکٹر عفان اندر آیا لیکن ان دونوں کو ایکدوسرے کے بےحد قریب دیکھ کے، وہ حیرت سے رکا تھا۔ عندلیب بوکھلا کے، خود کو جاوید سے دور کرنے کی کوشش میں، مزید سرنج نیچے گرا گئی۔
” میں یہ سب ۔۔۔۔ ڈاکٹر ع۔۔۔۔ فان”
وہ بول بھی نہیں پا رہی تھی کہ جاوید جیسے اس پہ سوار ہو رہا تھا۔ عفان لب بھینچے قریب آیا تھا اور جاوید کا کالر جکڑ کے، اسے دھکا دے چکا تھا ۔
” تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟”
” میں تو بس، عن۔۔۔۔ دلیب سے بات ۔۔۔۔۔۔ ”
جاوید نے کہنے کی کوشش کی تھی لیکن عفان اس کی بات کاٹ گیا۔
” دفع ہو جاؤ یہاں سے ”
جاوید پیچھے کھڑی عندلیب پہ نظر ڈالتا، کمرے سے باہر نکل گیا تھا جبکہ ڈاکٹر عفان نے مڑ کے، ایک قہر آلود نظر عندلیب پہ ڈالی تھی اور پھر سر جھٹک وہ قریب ہوا تھا، عندلیب سانس روک گئی لیکن عفان اپنے مطلوبہ سرنج اور میڈیسن لے کے، بنا اس کی طرف دیکھے، جھٹکے سے مڑا، اور دروازہ کھولتا، وہاں سے چلا گیا جبکہ اپنی رکی سانس بحال کرتی عندلیب، یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ آخر ہوا کیا بلکل اچانک میں، یہ سب کیا تھا ؟؟ جبکہ دروازے کے باہر کھڑی، گلاس وال سے، اس منظر سے لطف اندوز ہوتی، ڈاکٹر مہوش اب مسکرا رہی تھی۔

” ہونہہ، خود کو آسمان سے اتری حور سمجھنے والی، عندلیب صاحبہ، بتاتی ہوں تمہیں میں اب، کہ ڈاکٹر عفان کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کرنے والی کا کیا حال ہوتا ہے “

زہر آلود نظروں سے، شیشے کے پار عندلیب کو دیکھتی، وہ سوچ رہی تھی کیونکہ وہی تھی جو عندلیب اور جاوید کو دیکھ کے، عفان کو بلانے گئی تھی تاکہ وہ آئے اور اپنی نظروں سے یہ سارا منظر دیکھ لے اور پھر سب اس کی پلان کے مطابق ہی ہوا تھا۔

《《《《《《《《¤¤¤¤》》》》》》》》

” لائیر اکاسمہ ۔۔۔ ”
وہ جو تیزی سے کورٹ کی طرف جا رہی تھی جب اسے اپنے آواز کی پکار پہ رکنا پڑا۔
” میرا نام ذاکر خان ہے۔ ”
وہ اڈھیر عمر کا مرد، اس کے قریب آتا کہہ رہا تھا جبکہ وہ اچھنبے سے اس شخص کو دیکھنے لگی ۔
” جی کہئیے ۔۔ ”
” میں ایک کیس کے سلسلے میں آیا ہوں آپ کے پاس، بہت مشکل میں ہوں۔ کیا ہم بات کر سکتے ہیں؟؟”
وہ مسلسل اکاسمہ کو دیکھتا کہہ رہا تھا۔ اکاسمہ نے کندھے اچکائے تھے۔
” بلکل آئیے ”
وہ کورٹ کی طرف اشارہ کرتی کہنے لگی۔
” وہاں نہیں”
ذاکر خان نے تیزی سے کہا تھا جبکہ اکاسمہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
” یہاں وہ قانون ہے جو مجھے کبھی انصاف نہ دلا سکا، کبھی میری سنی نہیں اس قانون نے اور میں خود سے یہ عہد کر چکا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے اب میں کبھی اس قانون کی طرف قدم نہیں بڑھاؤں گا۔ آپ کے بارے میں بہت سنا تھا تو سوچا کہ آپ سے مل کے، میں اپ سے اپنا کیس ڈسکس کروں۔ ”
اکاسمہ لب بھینچ گئی ۔
” دیکھئیے ایسا کچھ نہیں۔ قانون سب کے لئے ایک جیسا ہی ہے اور یہاں موجود ہر شخص تمام شہریوں کے لیے ہی کام کر رہا ہے ”
” پلیز اکاسمہ ”
ذاکر خان کچھ دیر اس عمارت کو دیکھتا رہا اور پھر اکاسمہ کو نم آنکھوں سے دیکھنے لگا۔
” نہیں جا سکتا میں وہاں، بلکل بھی نہیں ۔ ہم ۔۔۔۔۔ ”
وہ مڑ کے اپنی گاڑی کی طرف اشارہ کرنے لگا۔
” وہاں چل کے بات کر سکتے ہیں لائیر اکاسمہ ؟؟”
اکاسمہ اچھنبے سے وہاں کھڑی گاڑی کو دیکھنے لگی جو سیاہ رنگ کی تھی اور کورٹ کے احاطے سے باہر تھی جب اچانک لائیر یونیفارم میں موجود شخص، اس کے قریب ہو کے، مکمل اس کے اور ذاکر خان کے بیچ کھڑا ہوا تھا جبکہ گلاسز کی پیچھے موجود مسکراتی آنکھیں اکاسمہ پہ تھی ۔ اکاسمہ دو قدم پیچھے ہو کے اسے دیکھنے لگی۔
” میں اپ کو ڈھونڈ رہا تھا لائیر اکاسمہ۔ چلیے جلدی کریں، یہاں کیوں کھڑی ہے آپ؟”
” ایکسکیوز می مسٹر، میں کیس ڈسکس کر رہا ہوں ان سے اپنا ”
ذاکر خان سائیڈ پہ ہو کے، اسے دیکھنے لگا۔
” مجھے مسٹر لائیر حکان ملک کہتے ہیں اور آپ کو لائیر اکاسمہ سے اپنا کیس ڈسکس کرنا ہے تو ان کے آفس میں آ کے، کیس ڈسکس کریں۔ بیچ راستے میں کون ڈسکس کرتا ہے مسٹر ذاکر خان ”
حکان ملک نے بظاہر مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
” تمہیں میرا نام کیسے پتہ ؟؟”
ذاکر خان چونکا تھا جبکہ حکان نے کندھے اچکائے تھے۔
” کل نیوز میں بتا رہے تھے تو سن لیا تھا، اب جاؤ یہاں سے اور پھر کبھی کیس ڈسکس کرنا ہو تو آفس آنا، یہاں نہیں ”
سرد آنکھوں سے وہ ذاکر خان کو دیکھتا بہت کچھ باور کرا رہا تھا۔ اکاسمہ نے دونوں پہ ایک نظر ڈالی تھی اور پھر سر جھٹک کے، وہ کورٹ کی طرف جاتی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ ان دونوں کی گفتگو میں اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
” لائیر اکاسمہ، ایسے کیسے چھوڑ کے آ گئی آپ مجھے وہاں ”
اکاسمہ کے ساتھ چلتے ہوئے وہ کہہ رہا تھا ۔
” کیوں تم کوئی دودھ پیتے بچے ہو، جو وہ تمہیں اٹھا کے لے جاتا۔ قد تو تمہارا اس سے کئی گنا اونچا ہی ہے ”
حکان زیر لب مسکرایا تھا۔
” پھر بھی، میں تو وہاں آپ کو ڈیفنڈ کر رہا تھا ”
اکاسمہ رک کے اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ بھی خاموش ہو گیا تھا۔
” میں خود کو ڈیفنڈ کرنا جانتی ہوں اور تم کون ہو؟؟ جو آج کل بہت سامنے آ رہے ہو میرے ؟؟”
جانچتی نظروں سے، وہ حکان کو دیکھتی سوال کر رہی تھی جبکہ وہ ہلکا سا مسکرایا تھا اکاسمہ کے یوں تفتیشی سوال پہ۔
” میں اپ کو جانتا ہوں کئی سال سے لیکن آپ مجھے نہیں جانتی یا شاید جانتی ہے لیکن بھول گئی ہے ۔”
اکاسمہ نے کندھے اچکائے تھے۔
” میں حکان ملک ہوں۔ آپ ہی کے کلاس میں ہوا کرتا تھا۔ لاء کالج میں ہم ساتھ رہے تھے اور پھر یونیورسٹی بھی ۔ میں سب کی نظر میں آتا تھا بس آپ کو ہی نظر نہیں آیا کبھی ”
اس کا لہجہ عجیب سا ہو گیا تھا جیسے دل پہ یاسیت سی چھا گئی ہو۔ اکاسمہ اسے گھورنے لگی اور ذہن مختلف سوچوں میں الجھتا جا رہا تھا ۔
” میں نے آپ کے لئے نوٹس بھی بنائے تھے۔ ”
اکاسمہ نے اس کی یاد دہانی کرانے پہ، آبرو اچکائے تھے۔
” تو نوٹس کے بدلے فیور چاہئے تمہیں کوئی؟؟”
اکاسمہ نے گھور کے سوال کیا تھا جبکہ وہ مسکرانے لگا۔
” ہاں ”
گہری نگاہوں کا تسلسل، اکاسمہ کے سراپے پہ تھا۔ وہ آنکھیں پہلے حیران ہوئی اور پھر گھورنے لگی جب حکان کے دل میں خیال ایا۔

‘ ہاں تم چاہئے ہو اکاسمہ، ہمیشہ کے لئے، ایک سال نہیں، دو سال نہیں، پورے سات سال سے، بس تمہاری تمنا ہے مجھے ۔ ‘

لیکن اپنی ہی سوچ پہ، وہ سر جھٹک گیا۔
” ایسے لوگوں سے دور رہے اکاسمہ، اگر کسی کو کیس ڈسکس کرنا ہو تو وہ آپ کے آفس آئے گا، بیچ راستے، کورٹ سے باہر بات نہیں کرے گا آپ سے۔یہ مت بھولیے کہ صابرالدین اب بھی زندہ ہے ۔ ”
اکاسمہ کی آنکھوں میں حیرانی بڑھی تھی۔
” نیوز میں دیکھا تھا۔ وہ شخص اپنی بلیک کار کی طرف اشارہ کر رہا تھا لیکن ان سیاہ شیشوں کے پیچھے، گاڑی لاک کر کے، وہ کیا کچھ کر سکتا ہے یہ سوچ ہی کافی ہے اپنی حفاظت کے لئے ”
اس کی بات پہ اکاسمہ نے جھرجھری لی تھی۔ ۔
” میں اس کی گاڑی میں نہیں جا رہی تھی۔ ”
اس نے منہ بنایا تھا لیکن اندر دل بےساختہ سکڑا تھا۔
” جانتا ہوں کہ آپ نہیں جائے گی کبھی۔ لیکن میں آپ کو بتانا اپنا فرض سمجھتا ہوں لائیر اکاسمہ، آپ اور میں کلاس فیلو رہے ہیں۔ بھلے آپ کو کچھ یاد نہ ہو لیکن مجھے تو یاد ہے یہ سات سال ”
اس کی زبان سے بےساختہ ادا ہوا تھا آخری لفظ۔ اکاسمہ چونکی تھی جبکہ وہ کندھے اچکا گیا اپنی بات کا اثر زائل کرنے کے لئے۔
” میرا مطلب ہے کہ سات سال بھی ہوگئے واؤ ”
اکاسمہ اسے گھور رہی تھی۔
” کام کر لیں آپ اب لائیر حکان ملک ”
اپنی بات کہہ کے وہ جانے لگی جب حکان پھر سے قدم اس کے ساتھ بڑھانے لگا۔
” وہی کر رہا ہوں، اس فیلڈ میں آپ سینئر ہے مجھ سے، تو میں آپ کا اسٹوڈنٹ ہوں ”
اکاسمہ نے آنکھیں گھمائی اور تیز قدموں سے چلنے لگی جبکہ حکان زیر لب مسکرایا تھا۔
” اوہ یاد ایا، حکان ملک ”
بلکل اچانک وہ رک کے حکان کو دیکھنے لگی ۔
” تم وہی ہو، ایکزیکلی تم وہی ہو جسے کمپیوٹر کے تمام کوڈز پہ دسترس تھی اور تم ۔۔۔۔ تم نے ہی ہیک کروایا تھا وہ اکاؤنٹ، جس نے میری تصویروں کا مس یوز کیا تھا۔تم وہی ہو ناں؟”
حکان کی آنکھیں حیران ہوئی تھی اور پھر مسکرانے لگی۔ زیر لب مسکراتے سر اثبات میں ہلایا تھا۔
” آپ کو یاد بھی آیا تو کیا ہی یاد آیا۔ اس بات کو میں کبھی یاد نہیں کرنا چاہتا تھا ویسے۔ ”
” تھینک یو۔۔۔ اینڈ گریٹ ٹو سی یو ہیئر۔۔۔ میں نے عاریز کو بتایا تھا یہ۔اب تمہیں ملواؤں گی عاریز سے۔ کہ یہ ہیں وہ اچھا انسان یہ ہے حکان ملک، جس نے میری زندگی کو نجات دلایا تھا ”
وہ کہہ رہی تھی جبکہ حکان لب بھینچ گیا تھا۔ وہ ویسا نہیں تھا جیسا وہ سمجھ رہی تھی۔ وہ تو قاتل تھا بہت سے لوگوں کا۔ وہ برا انسان تھا، بہت زیادہ برا انسان۔
سر جھٹک کے، وہ تیز قدم اٹھاتے، وہاں سے جانے لگا جبکہ اکاسمہ نے حیران آنکھوں سے، اس کی اس حرکت کو دیکھا تھا۔
‘ وجدان ملک نے، مجھے اچھا انسان رہنے ہی کب دیا اکاسمہ حیات۔ میں برا بنتا گیا اور اس قدر برا بن گیا کہ برائیوں کے دلدل میں دھنستا چلا گیا۔ تمہارا بھائی بھی میرا شکار بن چکا ہے۔ ایم سوری اکاسمہ ‘

《《《《《》》》¤¤《《《》》》》》

” صاب، ہماری زندگیاں محفوظ نہیں ہے، ہم کہاں جائے ”
عاریز اور خیام وہاں موجود لاش کو دیکھ رہے تھے جبکہ ان کی ٹیم ارد گرد کے کا جائزہ لے رہی تھی جب ایک اٹھارہ سال کی لڑکی روتی ہوئی وہاں آئی تھی۔ عاریز اور خیام نے چونک کے، اسے دیکھا تھا۔
” یہ یہاں کیا کر رہی ہے؟”
عاریز کے سوال پہ، خیام اپنی ٹیم کو دیکھنے لگا۔ دو کارکن تیزی سے آگے بڑھے تھے کہ اس لڑکی کو وہاں سے لے جا سکے۔ اس لڑکی کی آنکھوں بےپناہ خوف تھا جسے عاریز بےحد غور سے دیکھ رہا تھا۔
” صاب میں اپنی فیملی کا پیٹ بھرتی ہوں، یہ کام کر کے۔ کل کو مجھے بھی ایسے ہی قتل کر دیا گیا تو کون سہارا بنے گا میری فیملی کا۔ ”
وہ دو کارکن اسے لے جا رہے تھے جبکہ وہ روتے ہوئے کہے جا رہی تھی۔ عاریز نے گہری سانس لیتے خیام کو دیکھا تھا اور پھر اس لاش کو۔ جسے ہمیشہ کی طرح قتل کے، اس کے چہرے پہ ” خط قرمز ” کا نشان بنا دیا گیا تھا ۔

” صابرالدین کے جیسے ہزاروں چہرے بدل کے آتا ہے وہ سیریل کلر ہمارے بیچ اور پھر وہی کرتا ہے جو اس کا دل چاہتا ہے اور ہم اسے نہ پہچان پاتے ہیں اور نہ پکڑ پاتے ہیں اور اگر پکٹ بھی لے تو وہ کوئی اور نکل آتا ہے۔ تو کیا حقیقت ہے اس سیریل کلر کی ؟؟ کون ہے یہ سیریل کلر در حقیقت ؟؟ کون ؟؟”

عاریز خان کہہ کے، لب بھینچ گیا جبکہ خیام اسے دیکھنے لگا۔
” نہیں سمجھ آ رہا کچھ بھی۔ سب دھندلا رہا ہے۔ کوئی پوائنٹ ہے جو ہم مس کر رہے ہیں لیکن کیا ؟؟ ”
” کوئی پوائنٹ ہے جو ہمارے بیچ ہی ہے لیکن ۔۔۔۔۔ ہم دیکھ نہیں پا رہے ہیں خیام۔ ”
عاریز ادھر ادھر دیکھتا، آگے بڑھ رہا تھا۔ اس کا ذہن الجھا ہوا تھا۔ اس نیم آباد علاقے کے اس کھنڈر میں یہ سب ہوا تھا ۔
ریپ، مرڈر، اور پھر وہ نشان اس لڑکی کے چہرے پہ۔
” صابرالدین، عدیل اکبر ۔۔۔۔۔ اور اب کون ؟؟ کون ؟؟”
خیام اس کی پشت دیکھ رہا تھا۔ اس کی اپنی سوچیں الجھی ہوئی تھی۔ کوئی سرا ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔ وہ پھر سے اس لاش کو دیکھنے لگا۔ وہ جھکا تھا، اور جھک کے، بےحد غور سے، وہ اس لاش کا معائنہ کرنے لگا اور پھر ۔۔۔۔۔ اس کی نظر گردن کے قریب جلد پہ رک گئی تھی۔ جہاں دانتوں کے نشان تھے لیکن وہاں کچھ اور بھی تھا۔ وہ غور سے دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کے چھونے کی کوشش کی تھی۔ وہ کوئی رنگ تھا۔ کوئی لپ اسٹک تھی ۔
” لپ اسٹک؟؟؟”
وہ زیر لب بڑبڑاتا اوپر دیکھنے لگا جہاں عاریز فاصلے پہ کھڑا رخ پھیرے ہوئے تھا ۔
” پرازیکیوٹر عاریز ”
اس کی پکار پہ، عاریز مڑ کے اسے دیکھنے لگا اور پھر قدم اس لاش کی طرف بڑھنے لگا لیکن قریب جانے پہ، اس نے بھی اچھنبے سے، اس لڑکی کے گردن پہ، لپ اسٹک کے اس نشان کو دیکھا تھا جو اس کی گردن پہ موجود تھے اور حیران آنکھوں سے، خیام کو دیکھنے لگا۔

《《《《《《《《¤¤¤¤¤¤》》》》》》》

” میرا بینک اکاؤنٹ آہستہ آہستہ ڈاؤن ہوتا جا رہا ہے کیوں؟؟؟ کیا وجہ ہے ؟؟”
وہ پریشان سا بار بار اپنی کنپٹی سہلا رہے تھے جبکہ لبنی سوالیہ نظروں میں پریشانی لیے انہیں دیکھ رہی تھی۔
” ڈاؤن؟؟ کیسے ؟؟ ”
” کوئی ہے لبنی، کوئی بہت بڑا دشمن جو پیٹھ پیچھے سے وار کر رہا ہے۔ میرے بینک اکاؤنٹ سے پیسے وہ اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر رہا ہے ”
لبنی کی آنکھوں میں حیرت ابھری تھی۔
” ک ۔۔۔ کیسے ؟؟۔ ”
وجدان ملک اضطراری انداز میں اٹھ کے لاؤنج میں ٹہلنے لگا جبکہ لبنی کی پریشان آنکھیں ان پہ تھی۔
” کوئی مجھے بلیک میل کر رہا ہے، میری ویڈیو فوٹیج مجھے سینڈ کر رہا ہے۔ میرے اکاؤنٹ کا پیسہ اس کی دسترس میں جا رہا ہے ۔ مجھے کنگال کر رہا ہے۔ وہ جو کوئی بھی ہے شاید بہت طاقتور ہے۔ ”
” ہاں بھئی، جو وجدان ملک جیسے ہوشیار لائیر کو دھوکا دے، اسے بلیک میل کریں تو سوچئے وہ کوئی طاقتور ہی ہو سکتا ہے ۔۔ میرا جیسا کوئی کمزور انسان کے بس کی بات کہاں ”
اچانک حکان وہاں آیا تھا۔ وجدان ملک لب بھینچ کے اسے دیکھنے لگا۔
” تم میرے سامنے مت آیا کرو اور یہ کیا ۔۔۔۔ ”
وہ حکان ملک کو حقارت بھری نظروں سے دیکھنے لگا جو ابھی تک لائیر یونیفارم میں ملبوس تھا۔
” اس یونیفارم کی حرمت کا ہی خیال کر لو ۔۔۔ تمہارے ناپاک جسم پہ یہ یونیفارم کچھ زیادہ سوٹ نہیں کر رہا ”
” یہ کیسی باتیں کر رہے ہو تم وجدان ”
لبنی تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی جب حکان نے ہاتھ اٹھا کے انہیں کچھ کہنے سے روکا تھا اور خود دو قدم آگے بڑھ کے، وجدان ملک کے مقابل کھڑا ہوا تھا جبکہ آنکھیں شدت ضبط سے سرخ ہو رہی تھی۔
” اس یونیفارم کی حرمت کا پاس تو آپ سے ہی سیکھا ہے میں نے وجدان ملک۔ میرا ناپاک جسم تو تمہارے ہی ناپاک وجود کا حصہ ہے۔ ”
وجدان ملک کی آنکھوں میں خوف ابھرا تھا جس طرح سے حکان کے خوبرو چہرے کی رگیں پھولنا شروع ہوئی تھی لیکن اس خوف کو زائل کرنے کے لئے، اس نے پیچھے ہو کے حکان کو دھکا دیا تھا۔
” پیچھے ہٹو تم، باپ سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے تمہیں۔ ”
حکان اب مسکرا رہا تھا لیکن بےحد پراسرار انداز میں۔
” لٹ رہے ہو تم وجدان ملک۔ کوئی تمہیں تمہارے تمام سیاہ کردار سمیت لوٹ رہا ہے۔ اب تو جھکنا سیکھ لو کہیں ایسا نہ ہو کہ ٹوٹ کے دو حصوں میں بٹ جاؤ اور۔۔۔۔۔۔۔ ”
وہ خاموش ہوا تھا جبکہ سرخی مائل آنکھیں مسلسل وجدان ملک پہ تھی ۔ جن سے وجدان ملک کو آج خوف محسوس ہو رہا تھا ۔
” کل اپنا سوشل میڈیا یاد سے چیک کر لینا وجدان ملک۔ ”
سرد آواز میں کہتا، وہ وجدان ملک کو چیلنج کرتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا کہ ایک لمحے کے لئے لبنی بھی ڈر گئی تھی اور تبھی تیزی سے آگے بڑھ کے، اس نے حکان کا بازو تھاما تھا۔
” حکان، چلو یہاں سے۔۔۔ چلو ”
لبنی اسے اپنے ساتھ لے جا رہی تھی ۔ وجدان ملک کا پورا وجود زلزلوں کی زد میں آ چکا تھا جب حکان نے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے پھر سے اس کی طرف دیکھا تھا اور وجدان ملک کو لگا کہ اب کے وہ گر جائے اور اپنے پیروں پہ کھڑا رہنے کے لئے، انہیں اب کسی سہارے کی ضرورت پڑنے لگی ہے۔

‘ کل اپنا سوشل میڈیا یاد سے چیک کر لینا وجدان ملک’

اس کے کانوں میں حکان کی آواز گونجی تھی اور وہ اس بار کانپ کے رہ گیا تھا۔ حکان ملک سے آج اسے خوف محسوس ہوا تھا۔ جس کی تذلیل کرنے کا کوئی لمحہ وہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔ آج اسی حکان ملک سے وہ ڈر گیا تھا۔

《《《《《《《¤¤¤¤¤¤》》》》》》》》

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *