Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 09

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 9

.
” صاب میرے کو نہیں معلوم ، میں نے کسی کو نہیں قتل کیا صاب ، میرا تو ، صاب میرا تو ”
وہ کہتے کہتے لب بھینچ گئی ، نظریں جھکا گئی تھی کہ اسے اپنی اپ بیتی بتاتے ہوئے بھی شرم محسوس ہو رہی تھی کہ مبادا ان آنکھوں میں وہ تمسخر نہ دیکھ لیں اپنے لئے ۔ عاریز خان سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا جو اس کے آفس روم میں، ٹیبل کے دوسری طرف کرسی پہ بیٹھی سر جھکا گئی تھی، چہرے پہ پریشانی عیاں تھی ۔
” دیکھو پمی ، وہاں جو کچھ بھی ہوا تم مجھ پہ اعتماد کر کے بتا سکتی ہو ، وہاں ایک قتل ہوا ، ٹھیک اسی ٹائم، جب تم وہاں موجود تھی۔ میں نہیں کہہ رہا کہ تم نے قتل کیا ہے لیکن دیکھا ہوگا تم نے ، کچھ تو دیکھا ہوگا ”
وہ سنجیدگی سے بات کر رہا تھا جبکہ پمی لب کاٹتی نظریں جھکا گئی تھی ۔
‘ کدھر بھاگ رہی ہو تو ۔ ‘
بھاری اواز گونجی تھی اور وہ خود کے بکھرتے وجود کو سنبھالتی بھاگنا چاہتی تھی لیکن وہ بھاگ نہیں پا رہی تھی۔ ہر طرف خون تھا، سیاہ سیال مادے جیسا خون ۔
” پمی ۔۔ ”
آواز پہ وہ چونک پھر سے اس دنیا میں واپس آئی تھی۔
” بتاؤ مجھے وہاں کیا ہوا تھا؟”
عاریز پوچھ رہا تھا اور وہ لب کاٹتی اسے دیکھ رہی تھی۔
” میں جانتا ہوں تم وہیں تھی لیکن تم چھپا رہی ہو کچھ ”
” صاب میں غریب انسان ہے ، میرے کو کچھ نہیں معلوم صاب ، میرے سے غلطی ہو گئی جو میں اس میڈم کے پاس گئی ۔ میرے کو کچھ نہیں پتہ ”
وہ رونے لگی ، اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا ۔ عاریز گہرا سانس لیتا سیٹ پہ پیچھے ہو کے بیٹھ گیا تھا۔ کہیں نہ کہیں اس کا بھی ہاتھ تھا لیکن وہ چھپا رہی تھی، وہ بتا نہیں رہی تھی۔ کیوں؟؟
” جا سکتی ہو تم ۔ ”
پمی رونا چھوڑ کے اب عاریز کو دیکھ رہی تھی، دل تیزی سے دھڑک رہا تھا، لب بار بار کچھ کہنے کے لئے وا ہو رہے تھے لیکن پھر لب بھینچ لیتی ۔ عاریز اسے ہی دیکھ رہا تھا اور پمی اپنے آنسو صاف کرتی ، کانپتے ہاتھ کرسی کے ہینڈل پہ رکھ کھڑی ہوئی تھی اور اپنی کانپتی ٹانگوں پہ اپنے وجود کا بوجھ ڈالتی وہ تقریبا خود کو گھسیٹتی دروازے تک گئی تھی ۔
“میرے کو چھوڑ دو ۔۔ ”
وہ فریاد کر رہی تھی جبکہ وہ بلیک ماسک میں موجود شخص اس کے جسم پہ حاوی ہوتا کوئی درندہ لگ رہا تھا ۔
سر جھٹک کے اس نے مڑ کے پیچھے عاریز خان کو دیکھا تھا جو ابھی بھی پرسوچ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
‘ تمہیں نوچ نوچ کے ختم کروں گا ۔ ”
پھر سے آواز گونجی تھی اور وہ لب کاٹنے لگی ، مڑ کے وہ پھر سے ٹیبل تک آئی تھی۔
” صاب وہاں چار آدمی نہیں تھے صاب ۔ ”
اس نے اچانک کانپتی آواز میں کہا تھا ۔
” وہاں اس ، ایک اور آدمی بھی تھا ، جس۔۔ جس کا چہرہ چھپا ہوا تھا ۔ ”
عاریز خان اس کی طرف مکمل متوجہ ہو چکا تھا ۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” تمہاری آنکھوں کو کیا ہو رہا ہے بارز ؟؟”
ناشتہ کرتے ہوئے اکاسمہ غور سے اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی، جس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی اور جلد کی رنگت بھی زردی مائل ہو چکی تھی جبکہ آنکھوں کے نیچے کی جلد سیاہ ہوئی پڑی تھی۔ وہ مزید سر اپنی پلیٹ پہ جھکا گیا۔ ۔
” مجھے کیا ہونا ہے ؟؟ بس اسٹیڈیز تھوڑی ٹف ہے ۔ ”
” تو ٹھیک سے دھیان دو اپنی ہیلتھ پہ ۔ ”
اکاسمہ اسے غور سے دیکھ رہی تھی ، اس سے پہلے وہ مزید سوال کرتی جب عفان ناشتے کی ٹیبل پہ آیا تھا اور اکاسمہ اس کی طرف متوجہ ہو چکی تھی ۔
” عفان ، عندلیب کا آپریشن کب ہے ؟؟”
اپنے لئے چائے بنتا عفان رک کے اسے دیکھنے لگا جبکہ بارز نے اپنی جان خلاصی پہ صد بار شکر کیا ۔
” اس ویک کے اینڈ تک ۔ ”
” ہمممم ، آج کورٹ میں اس کی پیشی ہے کیس کے حوالے سے ۔ ”
اکاسمہ ایک نظر بارز پہ ڈال کے عفان کو بتانے لگی ۔
” اچھی بات ہے ۔ ”
عفان بھی ہلکا سا مسکرایا تھا ۔
” دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے اج ۔ بس اس جاوید کو سزا مل جائے۔ ”
اکاسمہ نے دانت پیستے کہا تھا ۔
” اس کا بھائی پولیٹیکس میں ہے ۔ اتنی آسانی سے وہ سزا نہیں پانے دے گا اپنے بھائی کو ۔ ”
عفان کا انداز تاسف بھرا تھا ۔
” انہی سیاستدانوں کی وجہ سے تو ملک کے عام شہریوں کی زندگی برباد ہوئی پڑی ہے ۔ ”
اکاسمہ لب بھینچے کہہ رہی تھی ۔
” بلکل ۔ ”
عفان کی بات پہ اس نے توجہ نہیں دی تھی وہ بارز کو دیکھ رہی تھی جو اپنا بیگ اور بکس سنبھالتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
” اللہ حافظ بارز ۔ ”
وہ جو خاموشی سے جا رہا تھا جب اکاسمہ نے الفاظ پہ زور ڈالتے اسے متوجہ کروایا تھا اور وہ رکا تھا ، سب پہ ایک نظر ڈالی تھی اور الوداعی کلمات کہہ کے وہ جا رہا تھا اب ۔
” ناشتہ کرو تم دونوں۔ باتیں بعد میں کرنا ”
ملکہ کی آواز پہ وہ چونکی تھی ۔
” امی ، بابا کب آئیں گے ؟ کچھ بتایا انہوں نے ؟؟”
وہ جلد سے جلد فیاض حیات کو اپنے نکاح کے بارے میں بتا دینا چاہتی تھی۔
” کہہ تو رہے تھے کہ آج شام تک آ جائیں گے ۔ ”
ملکہ اس کی پلیٹ دوسرا پراٹھا رکھتی کہنے لگی ۔
” ارے امی ۔۔ میں نہیں کھا سکتی ۔ ”
وہ جھنجھلائی تھی۔ ۔
” چپ اور کھاؤ ، آج سارا دن تمہارا کورٹ میں گزرے گا ، مصروفیت میں بھوک لگے گی اور تم کھانا بھی نہیں کھاؤ گی چلو جلدی کھاؤ۔ ”
ملکہ کے ڈانٹنے پہ وہ منہ بنا کے عفان کو دیکھنے لگی جو مسکرا رہا تھا ۔
” امی عفان کا آج آپریشن ہونا ہے ۔ اس کو بھی دو کھلائیں۔ ”
” ارے ۔۔ ”
عفان اسے دیکھ کے رہ گیا جبکہ ملکہ مسکراتے ہوئے اس کے پلیٹ میں بھی دوسرا پراٹھا رکھ گئی اور اکاسمہ ہنسنے لگی ۔

☆☆☆☆¤¤¤¤☆☆☆☆

” میری کلائنٹ کو دھمکانے کے ساتھ ساتھ ؟ یہ شخص مجھے بھی دھمکی دے چکا ہے اور یہ دھمکی آمیز کاغذ مجھے اپنی کار میں ملا تھا ۔ ”
وہ کاغذ کا ٹکڑا جج کے سامنے رکھ چکی تھی جو وہ عاریز سے لے چکی تھی جبکہ جاوید حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
” میں نے نہیں لکھا کوئی کاغذ ۔ یہ جھوٹ بول رہی ہے ۔ ”
اکاسمہ نے لب بھینچے اسے دیکھا تھا جبکہ جج نے ایک کڑی نظر اس پہ ڈالی تھی اور اس کا وکیل مومن ظہیر اسے چپ رہنے کا اشارہ کرنے لگا ۔
” یہ جھوٹ بول رہی ہے ۔ ”
وہ پست آواز میں کہتا مومن ظہیر کو دیکھ رہا تھا جبکہ وہ اشارے سے جاوید کو چپ رہنے کا کہنے لگا ۔
” آپ continue کریں مس اکاسمہ ۔ ”
جج اکاسمہ کی طرف متوجہ ہو چکے تھے ۔
” تھینک یو جج صاحب ، جس طرح سے کورٹ میں میری کلائنٹ کو ڈرا دھمکا کے اس شخص نے اپنا بیان بدلنے پہ مجبور کیا تھا اور کورٹ نے اسی شخص کے حق میں فیصلہ سنا دیا تھا اور اب میں ہائی کورٹ میں اپنی کلائنٹ کی اپیل لے کے حاضر ہوئی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ آپ ضرور نظر ثانی کریں گے ۔ یور آنر ، پاکستان کیا پوری دنیا میں ایسڈ اٹیکس کی تعداد لاکھوں کروڑوں میں ہیں اور زیادہ تر تعداد میں وکٹمز خواتین کی ہیں۔ پاکستان میں ہر سال 1000 سے بھی زیادہ ایسڈ اٹیک کے کیسز دیکھے جا رہے ہیں اور اگر ہم صرف کراچی شہر کی بات کریں تو سو سے بھی زائد کیسز تو صرف ہمارے شہر کی کراچی کی ہے۔ ایک مرد جب عورت کی طرف سے انکار سنتا ہے تو اپنی جھوٹی مردانگی وہ اس عورت پہ ایسڈ پھینک کے دکھاتا ہے لیکن شاید وہ مرد یہ نہیں جانتا کہ تب اس عورت کے وجود پہ کیا بیت رہی ہوتی ہے جو پہلے صرف پانی کے بوند کی طرح محسوس ہوتی ہے لیکن اگلے ہی سیکنڈ وہ burn ہونے لگتا اور اس وکٹم کو اپنی اسکن جلتی اور کسی سوکھے پتے کی طرح کھرچتی محسوس ہوتی ہے اور پھر اس کا چہرہ ، اس کی ناک ، اس کے گال اور جہاں جہاں ایسڈ کی قطرے پہنچے ہیں، وہی وہی سے اسکن پھیلنا شروع ہو جاتا ہے ، اس ایسڈ وکٹم کا صرف چہرہ نہیں جلتا بلکہ اس کی پوری زندگی جل کے راکھ ہو جاتی ہے ، اس سے جڑے سارے رشتے راکھ ہو جاتے ہیں۔ میری کلائنٹ عندلیب کو نہ صرف جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس ایسڈ اٹیک سے بلکہ مینٹلی بھئ ٹارچر کیا گیا ، کھبی ان کے گھر پہنچ کے ، میری کلائنٹ کے گھر کو ان کی فیملی سمیت جلانے کی دھمکی دی گئی تو کھبی روڈ پہ سب لوگوں کے بیچ میری کلائنٹ کو چادر اتار کے پھینک دینے کی دھمکی دی گئی ہے ۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ جاوید کو مجرم قرار دے کے اس شخص کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے ۔ ”
وہ اپنی بات کہہ کے اب جج کو دیکھ رہی تھی۔
” اوبجیکشن یور آنر ”
مومن ظہیر کہنے لگا جبکہ جج نے ہاتھ اٹھا کے اسے کچھ بھی کہنے سے روکا تھا ۔
” پاکستان لاء انڈر سیکشن 336B ملزم جاوید کو تمام ثبوتوں کے مدنظر مجرم قرار دیا جاتا ہے اور دس سال قید با مشقت اور ساتھ ہی پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھرنے کی سزا سنایا جاتا ہے اور انڈر سیکشن 506 ، محترمہ وکیل صاحبہ اکاسمہ حیات کو دھمکی آمیز خط لکھنے کی صورت میں دو سال قید با مشقت اور دو لاکھ جرمانہ بھرنے کی سزا سنائی جا رہی ہے ۔ ”
اپنی بات کہہ کے جج اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے ، اکاسمہ مسکراتی ہوئی عندلیب کے قریب آئی تھی جو آنکھوں میں آنسو لیے اسے ہی دیکھ رہی تھی جبکہ جاوید سخت نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا ۔ عادل لب بھینچے اپنے وکیل مومن ظہیر کو دیکھ رہا تھا ۔
” ہم سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے ۔ کیس کلوز نہیں ہونے دے گیں ”
وہ کہہ رہا تھا۔
” چھوڑو وکیل ۔ تمہیں میں نے اپنے بھائی کو بچانے کے لئے ہائیر کیا تھا اور دیکھ لو ہوگئی سزا میرے بھائی کو ۔ ”
اکاسمہ ایک نظر ان پہ ڈال کے ، عندلیب اور اس کی ماں عافیہ کے ساتھ باہر آئی تھی۔
” میں کن الفاظ میں شکریہ ادا کروں آپ کا بیٹا، میری بچی کو انصاف دلا کے ہم پہ آپ نے بہت بڑی مہربانی کی ہے ۔ ”
وہ رو رہی تھی جبکہ اکاسمہ نے انہیں رونے سے روکا تھا ۔
” آپ پلیز مت روئیے ۔ میرا کام ہی یہی ہے انصاف دلانا اور عندلیب کو انصاف دلا کے میں اپنے رب کے سامنے سرخرو ہوئی ہوں۔ ”
وہ مسکرا کے کہہ رہی تھی جب سرد آواز پہ اسے مڑنا پڑا ۔
” ایسے آسانی سے سب ختم نہیں ہونے دوں گا میں، اپنے بھائی کو انصاف ضرور دلاؤں گا میں۔ ”
عادل سرد آنکھوں میں نفرت لیے اسے دیکھ رہا تھا ۔
” بادل کے گرجنے اور برسنے میں بہت فرق ہوتا ہے Mr Politician عادل ۔ ”
اکاسمہ نے بنا ڈرے جواب دیا تھا جبکہ عادل لب بھنیچ گیا تھا۔ اکاسمہ ان دونوں کے ساتھ آگے بڑھی تھی جبکہ عادل اپنے بھائی کو دیکھنے لگا ۔
” تمہیں میں نکال لاؤں گا باہر ۔۔ تم فکر نہ کرو ۔ ”
اسے تسلی دیتا عادل بھی لمبے ڈگ بھرتا کورٹ سے باہر جا رہا تھا۔

▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎

” کیونکہ یہ میں نہیں ، بلکہ میرے اور آپ کے سامنے رکھے یہ سارے حقائق کہہ رہے ہیں کہ ازمائر شاہ کے کیس کو ری اوپن کیا جائے ۔ اس کی وہ بیوی زندہ ہے جس کی قتل کے الزام میں وہ پچھلے تین سال سے جیل میں بند ہے ۔ ”
مسفرہ مضبوط لہجے میں کہتی اب خیام کو دیکھ رہی تھی جو بےحد غور سے ان فائلز اور تصاویر کو دیکھ رہا تھا۔
” یہ عورت اپنا نام بدل کے ، پورے پاکستان اور پوری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے اور آپ سب آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں اور بار بار اس کے کیس ری اوپن ہونے کی اپیل کو مسترد کر رہے ہیں۔ ایسا کیسے کر سکتے آپ؟؟ پولیس آفیسر کو ایسا تو نہیں ہونا چاہئے لیکن واہ رے قسمت ، می بھول گئی تھی کہ یہ پاکستان ہے اور یہ پاکستان کا موجودہ قانون ہے ، جس میں کسی بھی انسان کو اپنے انصاف کی جنگ لڑنے کی بلکل بھی اجازت نہیں یے ۔ ”
وہ بھی بولنا شروع ہوئی تو بولتی گئی ۔ خیام نے لب بھینچے اسے دیکھا تھا ۔
” آپ خاموش رہے گی کچھ دیر کے لئے محترمہ ”
مسفرہ آنکھیں گھماتی خاموش ہو گئی تھی جبکہ خیام کی نظریں پھر سے فائل پہ تھی وہ بےحد دھیان سے کیس کو دیکھ رہا تھا اور پھر نظر اٹھا کے مسفرہ کو دیکھنے لگا۔
” جس وقت ان کا کیس ری اوپن ہونے کی اپیل آئی تھی تو میں نہیں تھا اس سیٹ پہ ”
” تو اب ؟؟”
وہ سوالیہ نظروں سے خیام کو دیکھ رہی تھی۔
” ہممم ۔۔۔ کیس کو ری اوپن کیا جائے گا ۔ یو ڈونٹ ووری ۔ ”
خیام ہلکا سا مسکرا کے کہتا فائل بند کر کے اپنے سامنے ہی ٹیبل پہ رکھ چکا تھا ۔
” یہ فائل بند تو کر دی ہے آپ نے لیکن مجھے امید ہے کہ پھر سے اوپن ضرور ہوگی میرے جانے کے بعد بھی ۔ ”
مسفرہ نے بےحد سنجیدگی سے سپاٹ آواز میں کہا تھا۔
” آپ کو اس قدر شک ہے مجھ پہ؟”
وہ حیرانی سے اس محترمہ کو دیکھ رہا تھا۔
” شک تو مجھے اپ کی پوری ٹیم پہ ہے ۔ شک کیا کہ مکمل یقین ہے کہ یہاں آنے والے کسی بھی انسان کو بنا کسی تحقیق کے مجرم قرار دے دیا جاتا ہے اور پھر اسے پھانسی کے پھندے تک لے جانے میں دیر بھی نہیں لگاتے ۔”
وہ تلخ ہو رہی تھی جبکہ خیام اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
” سر ۔ ”
طیب دروازے پہ دستک دیتا تیزی سے اندر آیا تھا اور جو اطلاع ملی تھی اس پہ دونوں ہی چونکے تھے ۔
” ازمائر ۔۔ ”
زیر لب اس کا نام لیتی مسفرہ نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھ لیا تھا۔

▪︎☆☆☆☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎

” آہہمم ”
وہ جو کیفے ائیریا میں بیٹھی، ائیر فونز کان سے لگائے، بہت غور سے اپنے سامنے رکھی فائل دیکھ رہی تھی جبکہ پاس پڑے کافی کے مگ سے دھواں بھی اڑ رہا تھا جس کی مدھم خوشبو سے، اکاسمہ کو اپنے اعصاب پرسکون ہوتے محسوس ہو رہے تھے۔ عاریز اسے ڈھونڈتا یہی آیا تھا، کچھ دیر یونہی کھڑا اسے دیکھتا رہا جو لگتا تھا بےحد مصروف ہے لیکن کھنکھارنے پہ بھی وہ متوجہ نہ ہوئی تھی تو ہاتھ ٹیبل پہ رکھ کے، اس نے ہلکا سا بجا کے اسے متوجہ کرانا چاہا۔ وہ چونک کے اوپر دیکھنے لگی لیکن سامنے عاریز کو دیکھ کے، آنکھوں کا رنگ ہی بدلا تھا اس کے۔ ان آنکھوں میں ان کہے سے احساس پنپنے لگے جبکہ عاریز کی گھمبیر نگاہیں اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھی۔
” تم کب آئے ؟؟”
تیزی سے نظریں چراتی، وہ کان میں لگے ائیر فونز اتار کے، سائیڈ پہ رکھ چکی تھی اور فائل بھی بند کر چکی تھی جبکہ عاریز اس کی کارروائی دیکھتا مسکرا دیا تھا۔ یہ پہلی بار ہو رہا تھا کہ اکاسمہ اس کے آنے پہ، یوں اپنے سارے کام سائیڈ پہ رکھ رہی تھی۔ وہ مسکراتا ہوا اس کے سامنے والی کرسی پہ بیٹھ گیا۔
” ابھی کچھ دیر پہلے، جب تم اس فائل کو بےحد غور سے دیکھ رہی تھی ”
اکاسمہ نے ایک اچٹتی نظر بند فائل پہ ڈالی تھی اور پھر اسے دیکھنے لگی۔
” کافی پیو گے ؟؟”
” ہاں کیوں نہیں ”
اس نے کندھے اچکائے تھے
” تو منگواو اپنے لئے ”
اپنی بات کہہ کے، وہ مسکراہٹ چھپانے کے لئے، کافی کا مگ لبوں سے لگا گئی جبکہ عاریز نے پہلے حیران آنکھوں سے اسے دیکھا تھا اور پھر مسکرا کے ایک گہری نگاہ اس پہ ڈالی تھی۔
” ویسے میں کانگریجولیشنز کہنے آیا تھا تمہیں، کیس جیت گئی تم”
اکاسمہ مسکرانے لگی۔
” مجھے تو جیتنا ہی تھا، میں ہارنے والوں میں سے نہیں ہوں ”
عاریز کھل کے مسکرایا تھا۔
” بلکل مائی ڈئیر کاغذی بیوی ”
اکاسمہ اسے شاکی نظروں سے دیکھنے لگی اور پھر ایک ابرو اچکا کے اسے دیکھا تھا۔
” آج کل taunt کرنا بھی سیکھ چکے ہو تم ”
” آپ کی نزدیکیوں کا اثر ہے اب ”
عاریز کی بات پہ اکاسمہ اسے گھورنے لگی۔
” زبان قینچی کی طرح چلنے لگی ہے مسٹر Prosecutor کی تو ”
عاریز ہنسنے لگا تھا جب اکاسمہ کے موبائل پہ کال آنے لگی جسے اس نے تیزی سے کان سے لگایا تھا۔
” ملکہ ڈان، کیسی ہو ؟ فائل اسٹڈی ہو گئی آپ کی ؟؟”
خیام نے چھوٹتے ہی پوچھا تھا کیونکہ سامنے مسفرہ بیٹھی اسے ہی گھور رہی تھی جبکہ اکاسمہ نے ایک نظر بند فائل پہ ڈالی تھی اور پھر اپنے نیلز کھرچنے لگی۔
” ہاں کر چکی ہوں اسٹڈی۔ ”
عاریز اچھنبے سے اسے ہی دیکھ رہا تھا اب پھر سے خیام کس مشکل میں اسے ڈال رہا تھا۔
” تو کیا بنے گا اب ؟؟”
خیام کے پوچھنے پہ وہ اپنے مخصوص انداز میں، اپنے بالوں کی ایک لٹ کو، شہادت کی انگلی پہ لپیٹنے لگی۔
” مجھے کیا ملے گا جب میں یہ کیس جیت گئی تو ؟؟”
عاریز ہاتھ کی مٹھی بنا کے، اس پہ ٹھوڑی ٹکا کے، محویت سے اس کی اس ادا کو دیکھ رہا تھا۔
” اپنا ہینڈسم دوست تو تمہیں سونپ ہی چکا ہوں ”
خیام کی بات پہ، اس نے مسکراتی نظروں سے اپنے سامنے بیٹھے عاریز کو دیکھا تھا۔
” وہ خود کو، خود ہی سونپ چکا مجھے، تم نے کچھ نہیں کیا ”
اس نے آنکھیں گھمائی تھی۔
” اچھا سنو، تم انویسٹیگیشن کر رہے ہو اور جو نیو رپورٹس اور evidence ملے ہیں، ان کے مطابق میں کل ہی کیس ری اوپن ہونے کی ایپلیکیشن دے رہی ہوں جیسے ہی وہ پاس ہو جائے گا، کیس کو سپریم کورٹ تک لے جانے کے راستے صاف ہوتے جائیں گے۔ ”
” میری ملکہ ڈان ۔۔۔ خوش رہو ”
اکاسمہ مسکراتے ہوئے موبائل رکھ کے، عاریز کو دیکھنے لگی۔
” کیا کرنے والی ہو اب ؟؟”
عاریز بےحد سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ اکاسمہ نے آبرو اچکا کے فائل اس کے سامنے کر دی تھی اور ساتھ ہی بالوں کو جھٹکا تھا۔
” ہمممم ازمائر شاہ ”
وہ فائل بند کر کے، پھر سے اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔
” میں سوچ رہا تھا آج شام کو تمہارے گھر آئے میں اور ڈیڈ ”
” کیوں کیوں؟؟”
اکاسمہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
” انکل سے بات کرنے، ”
عاریز نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔
” ابھی نہیں ”
اکاسمہ نے تیزی سے کہہ کے، فائل اپنی طرف کھینچا تھا جبکہ وہ حیرت سے اکاسمہ کو دیکھنے لگا۔
” کیا بہتر نہیں ہے کہ ہمارا یہ کیس جلدی سے سولو ہو، اس سے پہلے کہ کہیں اور سے انہیں اس بات کی خبر ملے ”
” ابھی نہیں، میں خود پہلے بات کروں ڈیڈ سے ”
وہ نظریں چراتی، کہنے لگی۔
” لیکن کیوں اکاسمہ ؟؟ کل کو انہیں کسی اور سے پتہ چلے تو ان کو دکھ ۔۔”
عاریز کو اب بھی حیرت ہو رہی تھی اس پہ۔ جبکہ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
” کہا ناں ابھی نہیں، میں خود بات کروں گی ان سے ”
عاریز نے لب بھینچ لیے تھے۔
” اور اب تو کہاں جا رہی ہو ؟؟”
اکاسمہ نے مڑ کے ایک نظر اسے دیکھا تھا۔
” اپنے افس، مجھے کیس پہ کام کرنا ہے ۔۔ ”
منہ بنا کے کہتی وہ مڑی تھی اور تیز تیز قدم اٹھاتی وہاں سے جانے لگی جبکہ عاریز خان کی گہری نگاہیں اس کے تعاقب میں تھی۔ کیا چل رہا تھا اس کے دماغ میں، عاریز یہ سمجھنے سے قاصر تھا۔

●●●○○○○●●●|●○○○○||

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *