Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Red Line Chapter 04

The Red Line

خط قرمز

از قلم ملائکہ رفیع

Episode 4

” آپ میڈیسن ٹائم پہ لے رہی ہے مس عندلیب ؟؟”
ڈاکٹر عفان کے سوال پہ اس نے تیزی سے سر اثبات میں ہلایا تھا لیکن آنکھوں کا جھوٹ وہ پڑھ چکا تھا۔
” کوئی خاص کورس کر رکھا ہے ؟؟”
” کیا مطلب؟؟”
عندلیب سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔
” جب آپ میڈیسن لے رہی ہے تو کچھ تو فرق آ ہی جانا چاہیے تھا ناں؟”
اس نے عفان سے نظریں چرائی تھی اور اسکارف سے مزید اپنا آدھا جھلسا ہوا چہرہ چھپانے کی کوشش کرنے لگی۔
” کیوں جھوٹ بول رہی ہے آپ مس عندلیب؟؟ جانتی ہے ناں کتنے ضروری ہے یہ میڈیسن؟؟”
عفان اس کی جھکی پلکوں کو دیکھتا کہہ رہا تھا، وہ جان سکتا تھا عندلیب کے ذہن کو ، کہ کس اسٹیج سے گزر رہی ہے وہ ، ایک خوبصورت لڑکی جو ہمیشہ خود کو آئینے میں دیکھ کے مسکراتی تھی ، بار بار ہر رنگ میں خود کو دیکھتی اپنی تعریف کرتی ، اچانک سے اس کی دنیا بدل گئی ، اس کی شخصیت بدل گئی ہے ، وہ اپنے آدھا جھلس زدہ چہرے کو دیکھتی ہے تو کیا محسوس ہوتا ہے اسے ۔
” عندلیب۔ ”
اس کی نرم آواز پہ عندلیب نے بھیگی پلکیں اٹھائی تھی۔ عفان نے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا تھا جو اس کے ٹیبل پہ رکھا ہوا تھا جبکہ عندلیب نفی میں سر ہلاتی اپنے لب کاٹنے لگی ۔
” حمنی بیمار تھی تو اتنے ہی پیسے تھے کہ اس کے میڈیسن لیے جا سکے تبھی میری میڈیسن رہ گئی ۔ ”
وہ کہتی پھر سے پلکیں جھکا گئی تھی جبکہ عفان لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا۔
” اب کیسی طبیعت ہے حمنی کی ؟ ”
” اب ٹھیک ہے ”
اس نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔
” کیا کرتی ہے آپ ؟؟ آئی مین جاب ؟؟”
وہ پھر سے پوچھ رہا تھا جبکہ وہ نفی میں سر ہلانے لگی ۔
” مجھ جیسی کو کون جاب دے گا ، امی لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے تو کچھ ہو پاتا ہے ۔ آپ سے کچھ کہوں؟؟”
” جی بلکل ۔”
عفان اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
” آپ اور اکاسمہ میم میرے لئے بہت کچھ کر چکے ہیں، میرا خیال چھوڑ دیں اب ، میں ساری زندگی ایسی ہی رہوں گی ، یہی میرا نصیب ہے ۔ ”
بات کرتے ہوئے وہ اب بھی عفان کو نہیں دیکھ رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ عفان کے ماتھے پہ بل پڑ رہے ہی اس کے الفاظ سے۔
” دیکھئیے مس عندلیب آپ کی ٹریٹمنٹ بہت ضروری ہے اور کون کہتا ہے کہ آپ ساری عمر ایسے ہی رہے گی ؟؟ آپ کا نصیب یہ نہیں ہے مس عندلیب، خود کو برا کہنا اور ناامید ہونا چھوڑ دیں پلیز ۔ آپ نے خود کو پروف کرنا ہے مس عندلیب، پوری دنیا کو اور اس شخص کو ، کہ آپ ہار ماننے والوں میں سے نہیں ہے ۔ آپ کھبی ہار نہیں مانے گی ، کسی سے بھی نہیں، اپنی سوچوں سے بھی نہیں۔ ”
عندلیب لب کاٹتی اسے دیکھ رہی تھی۔
” میری اسسٹنٹ کی حیثیت سے کام کرے گی آپ ، یہاں اس ہاسپٹل میں ۔۔ ”
عندلیب حیرت سے اسے دیکھنے لگی ۔
” ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟؟ ”
” کیوں نہیں ہو سکتا ؟؟”
عفان نے آبرو اچکائے تھے جبکہ وہ نظریں چرا گئی ۔
” میرا مطلب ہے کہ آپ کو پرابلم ہوگی ۔۔ ”
” مجھے بلکل بھی پرابلم نہیں ہوگی ، آپ کو جو پےمنٹ ملے گی ، اس سے آپ با آسانی اپنی میڈیسن لے پائے گی ۔ ”
عفان ایسے بات کر رہا تھا جیسے ہر مسئلے کا حل موجود ہوتا ہے اگر انسان چاہے تو ۔ جبکہ عندلیب نظریں چراتی ہچکچا رہی تھی ، جسے عفان نوٹ کر چکا تھا۔
” کچھ کہنا چاہ رہی ہے آپ عندلیب؟؟”
خشک لبوں کو زبان سے تر کرتی وہ عفان کو دیکھنے لگی۔
” یہاں سب مجھے دیکھے گیں، طرح طرح کے سوال کریں گے ، آپ کو تنگ کریں گے ، میں یہاں سب کی نظریں خود پہ کیسے ۔۔۔”
وہ بات ادھوری چھوڑ گئی ۔
” آپ، آپ خود ہے عندلیب ، آپ کو کھبی فرق نہیں پڑنا چاہیے عندلیب، ہمارے ارد گرد کیا ہو رہا ہے ؟ ہمیں کون کیسے دیکھ رہا ہے ؟؟ ہم کسی کی آنکھوں میں اپنا عکس کیوں دیکھے عندلیب؟؟ میں جانتا ہوں کہ یہ وقت آپ کے لئے بہت مشکل ہے ، شیشے میں بھی دیکھتے ہوئے آپ کو خوف محسوس ہوتا ہے لیکن عندلیب اس خوف کو آپ ختم کر سکتی ہے ، بار بار خود کو شیشے میں دیکھ کے ، بار بار خود کو ایکسپٹ کر کے ، بار بار خود کو یہ یقین دلا کے ، کہ آپ بہت کچھ کر سکتی ہے ، آپ کو سب کرنا آتا ہے ، آپ خود کو بدل سکتی ہے ، اپ اسٹرونگ ہو سکتی ہے ، آپ نظرانداز کر سکتی ہے لوگوں کو، کیونکہ آپ چاہتی ہے کہ خود بدلے ، آگے قدم بڑھائے، اپنا ٹریٹمنٹ ہونے دیں ، آپ کو دوسروں کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے عندلیب، آپ خود اپنا سہارا ہے ۔ ”
عندلیب بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی جو اسے مضبوط بنا رہا تھا ، جس کے الفاظ سہارا بن رہے تھے ، زخموں پہ مرہم بن رہے تھے ، روح کو سنوار رہے تھے اس کے،
” م۔۔۔ میں ٹھیک ہونا چاہوں تو ؟؟ تو میں ٹھیک ہو سکتی ہوں؟؟ م ۔۔ میرا چہرہ ۔۔۔ ”
وہ اپنے چہرے کو ہاتھ سے چھونے لگی جبکہ عفان اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا اور دیوار پہ لگے آئینے کے پاس جا کھڑا ہوا تھا ۔
” آئیے پلیز ”
وہ لب کاٹتی عفان کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پہ مہربان مسکراہٹ تھی اور پھر دیوار پہ لگے آئینے کو دیکھ کے وہ لمحے بھر کو کانپی تھی، اس نے دنوں، ہفتوں، مہینوں سے شیشے میں خود کو دیکھنا چھوڑ دیا تھا لیکن اب ، وہ پھر سے عفان کو دیکھنے لگی وہ ابھی بھی منتظر نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا لیکن چہرے پہ مہربان مسکراہٹ ویسے ہی ٹھہری ہوئی تھی اور پھر وہ کانپتے ہاتھ کرسی کے ہینڈل پہ رکھ کے ، اس پہ اپنا بوجھ ڈالتی اٹھنے لگی ۔ وہ اٹھ چکی تو قدم بھاری لگنے لگے کہ قدم اٹھانا مشکل لگا تھا اسے ، لیکن خود کو بدلنے کے لئے اسے کوئی قدم تو اٹھانا ہی تھا اور وہ خود کو تسلی دیتی ، خود میں ہمت مجتمع کرتی پہلا قدم اٹھا چکی اور پھر دوسرا اور پھر تیسرا اور یونہی چلتی ہوئی وہ دیوار پہ لگے آئینے کے سامنے کھڑی تھی لیکن خود کو دیکھنے سے گریز کر رہی تھی۔
” عندلیب، آنکھیں کھول کے خود کو دیکھیے ”
عفان کی اواز پہ اس کے لب کانپنے لگے ، اس کے ہاتھ اور پھر اس کا پورا وجود ۔دل بھاری ہو رہا تھا، سانسوں کا تسلسل بھی بےترتیب ہوتا جا رہا تھا اور پھر آنکھیں کھول کے اس نے خود کو دیکھا تھا ۔ نہ جانے کتنے مہینوں بعد وہ خود کو دیکھ رہی تھی، آنکھوں میں نمی ٹھہر گئی تھی ۔ یہ وہی چہرہ تھا جسے ایسڈ کے بعد پہلی بار جب اس نے دیکھا تو چلائی تھی ، چیخی تھی ، شیشہ توڑ دیا تھا اور چلا چلا کے رو رہی تھی اور آج وہ بےحد بدل گئی تھی ، اس کے دو آپریشن ہو چکے تھے جس سے اس کی اسکن زیادہ نہیں تو کافی حد تک بہتر ہوئی تھی اور اب مزید آپریشن بھی ہونے تھے اس کے ۔ وہ خود کے چہرے پہ اس بدلاؤ کو دیکھ رہی تھی جو عفان اسے دکھانا چاہ رہا تھا اور پھر سرگوشی ہوئی تھی۔
” اب سے روز خود کو آئینے میں دیکھا کریں، آتے جاتے ، بنا کسی بہانے کے، صبح خود کو سنوارتے ہوئے اور رات کو اپنی اسکن پہ آئنمنٹ لگاتے ہوئے ، یا کھبی شام میں خود کو مسکراتے ہوئے ، اب خود کو دیکھنے کے بہانے ڈھونڈے، کیونکہ آپ بدل رہی ہے ”
وہ کہہ رہا تھا اور عندلیب رو دی تھی۔ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے وہ رو رہی تھی۔
” رو لیا کریں، رونے سے آنکھیں خوبصورت ہو جاتی ہے ”
عفان کی سرگوشی پہ وہ رونا چھوڑ کے اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ مسکرا کے اپنی ٹیبل کے پاس آیا تھا اور ایک چیک میں کچھ لکھ کے اس کے سامنے رکھا تھا ۔
” یہ آپ کی پہلی پیمنٹ، جائیے اور اپنی میڈیسن لے لیں۔ ”
وہ چیک عندلیب کی طرف بڑھاتا کہہ رہا تھا جبکہ عندلیب حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” یہ ؟؟ میں نے تو ابھی کام بھی اسٹارٹ نہیں کیا ”
” یہ ایڈوانس ہے ، میں ایڈوانس پے کرنا زیادہ پسند کرتا ہوں ۔ ”
عفان کی بات پہ اس نے نظریں جھکائی تھی اور لب کاٹتی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ٹیبل کے قریب آئی تھی ۔ کانپتے نازک ہاتھ آگے بڑھائے تھے وہ چیک لینے کے لئے اور پھر اپنے ناتواں وجود کو ہمت بندھاتی وہ چیک لے چکی تھی۔
” مت بھولیے عندلیب، آپ خوبصورت ہے اور آپ بدل رہی ہے ”
عفان کہہ رہا تھا ، عندلیب نے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا تھا ۔
” آپ خود دیکھ چکی ہے ابھی ۔ ”
وہ مسکرا کے پیچھے دیوار پہ لگے شیشے کی طرف اشارہ کرنے لگا اور وہ لب کاٹتی پھر سے نظر جھکا گئی تھی ۔

¤¤▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎¤¤¤¤¤

” ہائے گائز ۔ ”
آواز پہ دونوں نے چونک کے اوپر دیکھا تھا جہاں اکاسمہ حیات کھڑی مسکرا رہی تھی اور دونوں نے لب بھینچے ایکدوسرے کو اور پھر اسے دیکھا تھا ۔ اپنی انویسٹیگیشن چھوڑ کے خیام سیدھا ہوا تھا ۔
” تم یہاں کیا کر رہی ہو ملکہ عالیہ ؟؟”
” میں دیکھنے آئی ہوں کہ کچھ ملا کہ نہیں میری کلائنٹ کے قاتل ہزبینڈ کے خلاف ؟؟”
وہ ادھر ادھر تانک جھانک کرتی کہنے لگی ۔
” آپ سے کس نے کہا ہے کہ وہی قاتل ہے ؟؟”
اب کے عاریز اسے سنجیدگی سے دیکھتا پوچھنے لگا جبکہ وہ کندھے اچکا گئی۔
” مجھے ایسے ہی وائبز آ رہی ہے ”
عاریز اسے لب بھینچے دیکھ رہا تھا جبکہ خیام نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا ۔
” پاکستان لاء کی ڈان ، بات یہ ہے کہ تمہیں یوں منہ اٹھا کے یہاں نہیں آنا چاہئے تھا ، کیس میں تمہیں انوالو کر کے تمہاری انویسٹیگیشن بھی کر سکتے ہیں ”
” کیوں کرے گیں ایسا ؟؟ میں نے کیا کیا ہے ؟؟”
اسکا منہ بن گیا تھا خیام کے یوں کہنے پہ ۔
” پتہ کروا لو ، شاید تمہاری کزن نے لاء پڑھی ہی نہ ہو ”
عاریز سپاٹ لہجے میں کہتے منہ پھیر گیا جبکہ اکاسمہ نے اس کی پشت گھوری تھی اور پھر خیام کو گھورتی وہ چلتی اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی۔
” ڈگری لے چکی ہوں میں اپنے لاء کی ، دیکھنے کا دل کریں تو میرے گھر آ کے دیکھ لینا۔۔
You Mr Prosecutor ..
اور اپنے ڈیڈ سے جا کے پوچھ لیں ، ایک سال سے ان کے ساتھ کام کر رہی ہوں میں اور ویسے بھی تم سے کھبی پوچھا میں نے کہ Mr Prosecutor تم پہ مجھے شک ہے ”
وہ عاریز کو گھورتی لفظ لفظ چبا کے بول رہی تھی جبکہ عاریز خاموش ہی رہا۔
” میری کلائنٹ کا کیس ہے میرے پاس، جو اس قاتل سے لنک کرتی ہے اور ایم ہنڈریڈ پرسنٹ شیور کہ یہی قاتل ہے ۔ ”
خیام اس کے قریب آیا تھا ۔
” میری پیاری سی ڈان کزن بس کردو ، میری ملکہ عالیہ چلو یہاں سے ۔ ”
” مس اکاسمہ حیات،
According to law , as a lawyer you don’t have the right to come here ,
یہ کرائم سین ہے جہاں آپ جج کی اجازت کے بنا نہیں آ سکتی اور اگر آپ کو اپنی کلائنٹ کی کیس کے لئے evidence چاہئے تو آپ پولیس سے لے سکتی ہے ، آپ لائیر ہے ہوپ سو کہ آپ کو سمجھ آ گئی ہو ”
عاریز اس کی آنکھوں میں دیکھتا سنجیدگی سے کہہ رہا تھا جبکہ اکاسمہ اپنی غلطی ماننے کے بجائے اسے گھور رہی تھی ۔
” انتہا درجے کی مغرور اور بدتمیز انسان ہو ، باپ پہ تو گئے ہی نہیں ہو ۔ ”
خیام اس کا بازو تھام کے اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا جبکہ اکاسمہ اسے اب گھورنے لگی ، عاریز سر جھٹک کے اپنے کام میں مصروف ہو چکا تھا اور شاید اکاسمہ نہیں جانتی تھی کہ یہاں سے جانے کے بعد اس کی زندگی میں ایک نیا طوفان آنے والا ہے اور نہ سنجیدہ سے عاریز کو پتہ تھا کہ اکاسمہ کے ساتھ ساتھ اس کی زندگی بھی بدلنے والی ہے ۔

☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆☆☆

وجدان تصویروں کو دیکھتے مسکرا رہا تھا جو آج شام کو ہی اس کے ہاتھ لگی تھی جبکہ اس کا خاص آدمی رضوان پاس کھڑا مسکرا رہا تھا۔
” ہممم تو اب وکیل صاحبان جائیں گے کرائم سینز پہ ، یہ تو لاء کے اگینسٹ ہے ، کیا یہ نہیں معلوم ہمارے پیارے فیاض حیات کی بیٹی کو ؟”
وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا جبکہ آنکھیں شرر بار تھی ۔
” سر ، جج کو جب یہ سب دکھایا جائے تو ؟؟ فیاض حیات کی بیٹی کرائم سینز میں اس لئے گئی تھی تاکہ وہ اپنی کلائنٹ کی مدد کر سکے وہاں موجود evidence کو چھیڑ چھاڑ کر کے اپنی کلائنٹ کے حق میں سارا کیس کرنے کے لئے ”
رضوان اپنی بتیسی کی نمائش کرتا کہہ رہا تھا جبکہ وجدان ملک ہنسنے لگا ۔
” بلکل ، بلکل یہی ہوگا ، شازم خان کا بیٹا عاریز خان بھی سب کی نظروں میں آ جائے گا اسے ایک لاپرواہ Prosecutor سمجھا جائے گا ۔ ویری گڈ ، ویری گڈ ”
وہ ہنسنے لگا تھا اب ۔ جب اس کے موبائل پہ کال آنے لگی اور اس نے ریسیو کر لی تھی ۔
” ہیلو فاروق صاحب کیسے کال کیا؟”
” وجدان ملک بہت خوش لگ رہے ہو ، لگتا ہے کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے ”
فاروق مسکراتے ہوئے کہنے لگا جبکہ وجدان ملک ہنسنے لگا۔
” بہت خوش ہوں، بات ہی کچھ ایسی ہے فیاض حیات سے بدلہ لینے کا وقت آن پہنچا ہے اب ”
فاروق بھی ہنس پڑا تھا ۔
” میں تو کہتا ہوں کہ تم یہ قانون چھوڑ کے میرے ساتھ سیاست میں آ جاؤ ”
” نہیں بھئی ، میں یہیں ٹھیک ہوں، کہئے کیسے کال کی ؟؟”
وجدان سر نفی میں ہلاتے کہہ رہا تھا۔
” وہ مال جس کا انتظار تھا ، کراچی پہنچ چکی ہے اور گودام میں منتقل ہو رہی ہے ، سوچا آپ کو بھی انفارم کر دوں۔ ”
فاروق کے کہنے پہ وہ ہنسنے لگا ۔
” ارے واہ، آج تو وجدان ملک کا دن ہے ، خوشخبری پہ خوشخبری ، واہ ”
فاروق بھی ہنس پڑا تھا ۔
” بھئی فاروق آج تو جشن ہونا چاہئے پھر تو ، کیا خیال ہے ؟؟”
وجدان کے کہنے پہ وہ سر اثبات میں ہلانے لگا ۔
” یہ تو میرے دل کی بات کہہ دی ، لیلی کو بھی انوائیٹ کر لیں گے ، جشن تو شراب اور شباب کے بنا نامکمل ہے ، کیا کہتے ہیں آپ وجدان ملک ؟”
فاروق کے ذومعنی بات پہ وہ ہنس پڑا تھا۔
” بلکل فاروق صاحب، ہم تو حاضر ہیں لیلی ہو یا شینا ”
وجدان کی بات پہ اس نے قہقہہ لگایا تھا اور کال ڈسکنیکٹ کر کے وہ رات میں ہونے والے جشن کے لئے اپنے خاص آدمی کو ہدایات دینے لگا ۔
” رضوان یہ سب تم پرویز خان کی ٹیبل پہ جا کے رکھ دو ۔ ”
وہ تصویریں رضوان کو دیتا کہنے لگا اور وہ بھی بتیسی کی نمائش کرتا وہ پیکٹس اٹھا کے اس کے آفس روم سے باہر نکلا تھا ۔
” ایک تیر سے دو شکار۔ ”
وجدان ملک کے چہرے پہ زہرخند مسکراہٹ تھی ۔

☆☆☆☆☆☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆☆

” کیوں آئی ہے آپ مجھ سے ملنے ؟؟”
ازمائر سنجیدگی سے سپاٹ لہجے میں پوچھ رہا تھا جبکہ مسفرہ پرسوچ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” آپ جانتے تو ہیں کہ میں کیوں آئی ہوں پھر یہاں؟”
ازمائر نے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا تھا۔
” کیوں؟؟”
” مطلب آپ نہیں جانتے کہ میں کیوں یہاں آئی ہوں؟”
مسفرہ ہلکا سا مسکراتی ، نظریں ترچھی کرتی پوچھنے لگی اور ازمائر نظریں چرا گیا ۔
” آپ کے ناول میں میری کہانی لکھ لینے سے ، آپ کی کتاب اچھی پرائس میں بک جائے گی کیونکہ انسانوں کو پسند آتا ہے مجبوریوں کو پڑھنا، دھوکے اور جھوٹ کو پڑھنا لیکن آپ کے الفاظ، آپ کا ناول قانون کے کام نہیں آئے گا کھبی ”
مسفرہ خاموشی نظروں سے اسے دیکھتی رہی اور پھر گہرا سانس لیا تھا ۔
” میں آج اپنے ناول کے لئے آپ کے پاس نہیں آئی ازمائر ۔ ”
اس کی زبان سے اپنا نام پہلی بار سن کے وہ چونکا تھا، اچھنبے سے اسے دیکھا تھا اور پھر نظریں پھیری تھی ۔
” میں شاید وہ انصاف ہی ہوں جو آج تین سال بعد تمہاری دعاؤں کے بعد تمہارا نصیب بنی ہو ۔ ”
مسفرہ نرمی سے کہہ رہی تھی ۔
” آپ کا وقت نہیں ضائع کرنا چاہتا میں مس ”
وہ سر جھٹک کے وہاں سے جانے کے پر تول رہا تھا۔
” مسفرہ ، مسفرہ نام ہے میرا ”
مسفرہ کے عجلت سے تصحیح کرنے پہ وہ تھم کے اسے دیکھنے لگا ۔ مسفرہ بھی منتظر نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔
” جس عورت کے مرڈر کیس میں، میں یہاں قید ہوں، اسے میگیزین میں زندہ دیکھ کے لمحے بھر کے لئے میں ٹھٹک گیا تھا اور پھر کیس ری اوپن کرنے کے لئے درخواست کی تھی جو رد ہو گئی، تب سے انسانیت ، اس ملک اور اس قانون سے یقین اٹھ چکا ہے میرا ۔ ”
اس کے لہجے میں بےحد آزردگی تھی ۔
” کون تھی وہ عورت ؟؟ کیا ہوا تھا؟؟”
مسفرہ پوچھنے لگی ۔
” میری بیوی تھی وہ ۔”
اس نے آہستگی سے جواب دیا تھا ۔
” نفرت کرتی تھی آپ سے ؟؟”
مسفرہ کے سوال پہ وہ نظر اٹھا کے اسے دیکھنے لگا ۔
” بےپناہ محبت اور اعتبار ، اکثر مقابل کو بےوفا کر دیتے ہیں۔ ”
مسفرہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی ۔
” ہزبینڈ سے نفرت اور دوسرے مرد کی محبت میں گرفتار عورت سے آپ کیا امید رکھ سکتی ہے مس مسفرہ ؟؟”
اس نے پھر سے کہا تھا ۔ مسفرہ خاموش ہی رہی ، وہ کیا کہتی اسے کچھ سمجھ نہیں آئی۔ سر جھٹک کے ازمائر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔ کرسی کھینچنے پہ کمرے کی خاموشی میں ارتعاش سا ہوا تھا اور پھر قدموں کی چھاپ ابھری تھی، وہ جا رہا تھا ، مسفرہ دیکھ رہی تھی اسے ، وہ بکھرا بکھرا سا لگا تھا اس لمحے اسے ۔
” نام کیا تھا اس کا ؟؟”
اپنی کرسی سے اٹھتے مسفرہ نے سوال کیا تھا ، ازمائر رک کے مڑا تھا اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔
” رخسار فاروقی ۔ ”
یک لفظی جواب دیا تھا اس نے ۔
” اس نام سے ہے آج کل وہ ۔ ”
مسفرہ کے چہرے پہ اطمینان پھیلا تھا اور ازمائر پھر سے مڑ کے دروازے تک گیا تھا جبکہ مسفرہ یہ نام ذہن نشین کر کے اب مطمئن تھی ، وہ ڈھونڈ لے گی اسے ، اسے یقین تھا ۔

☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆☆☆

” بڑی ٹیڑھی ہے یہ وکیل صاحبہ تو ، پھر سے نوٹس بھیج دیا ۔ ”
عادل غصے سے دانت پیستا کمرے میں آیا تھا جب صوفے پہ نیم دراز جاوید اسے دیکھنے لگا ۔
” کیا ہوا ہے بھائی ؟؟ کیوں اتنا غصہ ہے؟؟ ”
عادل نے پیپر ٹیبل پہ اس کے سامنے پھینکا تھا ۔
” کچھ پتہ بھی ہے الیکشن ہونے والے ہیں اور اب پھر سے تم نیوز میں ہائے لائٹ ہوگے اور اثر میری ساکھ پہ پڑے گا ”
وہ غصے سے تنے اعصاب کے ساتھ غرا رہا تھا جبکی جاوید وہ نوٹس دیکھ رہا تھا ۔
” ہائی کورٹ میں اپیل ۔ ”
وہ زیر لب بڑبڑایا تھا جبکہ عادل سخت نظروں سے اپنے بھائی کو گھور رہا تھا ۔
” کہا بھی کہ قصہ تمام کر اس لڑکی کا اور اس وکیل کا ”
” اس سے کیا ہوگا ؟؟ تب ہائے لائٹ نہیں ہوں گا ؟؟ کہ ایک لڑکی پہ ایسڈ پھینک اس کا قاتل بھی بن گیا اب اور ساتھ میں اس وکیل کا بھی ۔ ”
جاوید نے جلے بھنے انداز میں اپنے بھائی کو دیکھا تھا جبکہ عادل صوفے پہ بیٹھ کے لب بھینچے کچھ سوچنے لگا ۔
” یہ اس لڑکی کا کام نہیں ہے ، یہ اسی وکیل صاحبہ کی کارستانی ہے ۔ ”
جاوید نوٹس ٹیبل پہ پھینکتے کہنے لگا۔
” تو سر پہ سجا لوں اس نوٹس کو میں اب؟؟ یا جا کے انکار کردوں کہ نہیں صاحب یہ میرا بھائی نہیں ہے ، لاتعلق ہو چکا ہوں میں اس سے ۔ ”
عادل جھنجھلا کے غرایا تھا جبکہ جاوید اسے گھورنے لگا ۔
” بھائی سے بھی زیادہ امپورٹنٹ ہو گیا یہ پولیٹکس ؟؟”
” ہاں ، تم نے بہت نام کما لیا ناں میرے لئے ، میری شہرت اور سیاست خطرے میں پڑ گئی ۔ ”
عادل کو مزید غصہ چڑھا تھا ۔
” تو جا کے خرید لیں کرسیاں، اپ کے لئے کیا مشکل ہے کسی کو بھی خرید لینا ۔ ”
جاوید اسے مشورہ دے رہا تھا ، جس پہ عادل نے بھرپور گھوری دی تھی اسے ۔
” دماغ تیرا میرے معاملے میں بڑا چلتا ہے ، اپنے معاملات میں دماغ سو جاتا ہے تمہارا یا گھاس چڑنے جاتا ہے ”
جاوید اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
” اس وکیل صاحبہ کے دماغ ٹھکانے لگتا ہوں میں۔ ”
” بیٹھ یہیں، پورے میڈیا کے سامنے تجھے ننگا کر دے گی وہ ، جان تو گئے ہوگیں اسے ، تم چپ رہو بس ، میں وکیل سے بات کرتا ہوں۔ ”
جاوید پھر سے بیٹھ چکا تھا جبکہ عادل اسے سخت نظروں سے دیکھتا اب موبائل پہ نمبر ڈائل کرنے لگا ۔

☆☆☆☆¤¤¤¤¤☆☆☆☆

” اسلام علیکم ورحمتہ اللہ ”
جرنلسٹ صابرالدین کی آواز پہ وہ گاڑی سے نکلتی مڑ کے اسے دیکھنے لگی ۔ وہ ایک مذہبی گھرانے کا انسان تھا ۔ جس کی عمر تیس کے لگ بھگ تھی ۔
” وعلیکم السلام، کیسے ہیں آپ؟”
اکاسمہ بھی خوش اخلاقی سے پوچھنے لگی ، کیونکہ وہ کافی قابل جرنلسٹ تھا اور اکثر یہاں آفس آتے ہوئے اس کا سامنا ہو جاتا تھا کیونکہ قریب ہی آج نیوز کے آفس میں وہ جاب کرتا تھا ۔
” الحمد اللہ، آپ کیسی ہے ؟؟”
وہ بھی پوچھنے لگا ۔
” میں بھی ٹھیک ہوں ۔”
کندھے اچکا کے کہتی وہ گاڑی کی چابی بیگ میں رکھنے لگی جبکہ صابرالدین کی نظروں نے اس کا اوپر سے نیچے تک جائزہ لیا تھا۔ بلیو جینز پہ ، گھٹنوں سے اوپر شرٹ پہنی ہوئی تھی اس نے ، ہائی ہیل شوز میں مقید اس کے سفید پاؤں بےحد نازک لگ رہے تھے جبکہ شرٹ سے ہم رنگ اسکارف اس نے اپنے گلے میں بندھا ہوا تھا ، کندھے تک آتے بال ہمیشہ کی طرح کھلے ہی رکھے تھے ۔
” استغفراللہ ”
کہہ کے اس نے نظریں پھیری تھی جبکہ اکاسمہ اچھنبے سے اسے دیکھنے لگی۔
” مجھ سے کچھ کہا آپ نے ؟؟”
” نہیں، نہیں میں سوچ رہا تھا کہ کیا ہی اچھا ہو کہ کراچی شہر کا چھپہ چھپہ عورتوں کے لئے حجاب رائج ہو جائے ، بےحیائی روک دی جائے ”
اکاسمہ اس کا مفہوم نہ سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلانے لگی اور پھر سر جھٹک کے اپنے آفس کے بلڈنگ کی طرف رخ کیا تھا ۔
” ایم گیٹنگ لیٹ ۔ ”
اور بنا اس کا جواب سنے اکاسمہ اندر کی طرف بڑھ گئی تھی کہ اس شخص سے سامنا ہونے پہ اسے ہمیشہ عجیب ہی محسوس ہوتا ، جبکہ صابرالدین اسے جاتا دیکھتا رہا تھا اور پھر گہرا سانس لیتا اپنے آفس کی طرف بڑھنے لگا ۔
وہ جیسے ہی آفس پہنچی ، ٹیبل پہ اپنا بیگ رکھتی اس کی نظر ٹیبل پہ رکھے ایک خاکی رنگ کے پیکٹ پہ پڑی تھی ۔ اس کے ماتھے پہ بل پڑے تھے ، پیکٹ اٹھا کے اس نے دونوں اطراف دیکھے اور پھر کھول کے اس نے ایک کاغذ باہر نکالا تھا جو کہ ایک نوٹس تھا ۔ اس کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئی تھی، وہی ہوا تھا جس کا کل عاریز بتا رہا تھا اسے، نوٹس آیا ہوا تھا اس کے خلاف کمپلین ہوئی تھی کہ جج کی اجازت کے بنا وہ کرائم سین پہ دیکھی گئی ہے اور evidence کو مٹانے کی اور چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کی ہے ، اسی لئے اکاسمہ حیات کو کچھ ٹائم کے لئے وکالت سے دور رکھا جائے اور ان کے خلاف ایکشن لیا جائے ۔
لب بھینچ کے اس نے غصے سے وہ نوٹس ٹیبل پہ پٹخا تھا ، اب کیا ہونے والا تھا اس کے ساتھ ؟؟ بنا کچھ سوچے اس نے تیزی سے خیام کا نمبر ڈائل کیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” قاتل اس عورت کا شوہر نہیں ہے جس کا کیس اکاسمہ حیات ہینڈل کر رہی ہے ”
عاریز خان کی بات پہ وہ چونکا تھا ۔
” وہ کیسے ؟؟”
” جس جس پہ ہمیں شک تھا اور جس جس کا ہم فنگر پرنٹ لے چکے ہیں ، وہ ان چاروں باڈیز کے فنگر پرنٹس سے میچ نہیں کر رہی ۔ ”
عاریز خان کی بات پہ خیام نے ہنکارا بھرا تھا ۔
” اور تم نے نوٹ کیا کہ اس بار باڈی پہ ہی ” خط قرمز ” لکھ کے گردن پہ کراس لگایا گیا ہے اور مرڈر بھی ہر اس عورت کا ہو رہا ہے جو یا اپنے ہزبینڈ کو چیٹ کر رہی ہے یا بدکردار ہے ۔۔۔”
خیام کی بات ادھوری رہ گئی تھی جب اس کے موبائل پہ کال آنے لگی ۔
” اوہ میری ڈان کی کال ہے ”
وہ اپنی مسکراہٹ دباتا کال ریسیو کر چکا تھا ۔
” ہیلو ۔ ”
” میرے اگینسٹ نوٹس آیا ہے خیام ”
اس نے چھوٹتے ہی کہا ۔
” کیسا نوٹس ؟؟”
خیام اچھنبے سے پوچھنے لگا اور ساتھ ہی عاریز کو دیکھنے لگا جو سوالیہ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
” مجھے انویسٹیگیشن کے لئے کورٹ بلایا گیا ہے اور وکالت سے دور رہنے کا کہا جارہا ہے ، اب یہ کیا ہے ؟؟”
وہ جھنجھلائی تھی ۔
” میں وہیں آ رہا ہوں ”
خیام اسے کہتا کال ڈسکنیکٹ کر چکا تھا جبکہ اکاسمہ سر تھام کے وہیں بیٹھ چکی تھی ، دل کر رہا تھا ابھی جا کے سب کا سر اور منہ توڑ دیں۔
” جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا ہے ، کورٹ سے نوٹس آیا ہے اکاسمہ کے اگینسٹ ”
خیام پریشانی سے کہتا اپنا موبائل اور گاڑی کی کیز اٹھاتا کھڑا ہو چکا تھا۔
” میں بھی چلتا ہوں ”
عاریز بھی اس کے ساتھ ہی باہر نکلا تھا ۔

☆☆☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆▪︎▪︎▪︎

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *